مندرجات کا رخ کریں

بری امام سرکار

ویکی‌وحدت سے
نظرثانی بتاریخ 22:39، 11 جولائی 2026ء از Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) (Saeedi نے صفحہ امام بری سرکار کو بری امام سرکار کی جانب منتقل کیا)
(فرق) → پرانا نسخہ | تازہ ترین نسخہ (فرق) | تازہ نسخہ ← (فرق)
بری امام سرکار
پورا نامشاہ عبد الطیف
دوسرے نامشاہ عبد الطیف کاظمی
ذاتی معلومات
پیدائش1617ء
پیدائش کی جگہموضع کرسال تحصیل چکوال ضلع جہلم، پاکستان
وفات1117ھ
وفات کی جگہاسلام آباد
مذہباسلام، سنی

بری امام سرکار، جن کا اصل نام شاہ عبدالطیف اور امام بری سرکار(خشکی کےامام)، لقب سے ہی معروف ہیں۔سلسلہ نسب اسطرح ہے:حضرت سیدعبدالطیف امام برّی بن سید محمود بن سید حامد بن سید بودلہ بن سید شاہ سکندرالی ٰ آخرہ۔ آپ کا سلسلۂ نسب حضرت امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔آپ کےوالدِ ماجد سید سخی محمود کاظمی علیہ الرحمہ اپنے وقت کے ولیِ کامل تھے۔(ان کا مزار پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں آبپارہ کے مقام پر ہے)۔

تاریخِ ولادت

آپ کی ولادت 1026ھ،مطابق 1617ء کو موضع کرسال تحصیل چکوال ضلع جہلم(پاکستان) میں ہوئی۔

تحصیلِ علم

ابتدائی تعلیم وتربیت والدِگرامی کے زیرِ سایہ ہوئی۔ مزید علم حاصل کرنے کے لیے آپ کوغورغشتی ضلع کیمل پور بھیجا گیا۔ جو اس زمانے میں علم کا مرکز تھا۔ وہاں آپ نےتفسیر، حدیث، فقہ، منطق اور ریاضی وغیرہ علوم کی مکمل تحصیل کی۔

اس کے علاوہ علم ِطب بھی حاصل کیا۔ ظاہری علوم حاصل کرنے کے بعد آپ کشمیر، بدخشاں، مشہد، نجف اشرف،کربلامعلیٰ،بغداد،بخارا،مصر،دمشق کی سیروسیاحت کرتے رہے پھر وہاں سے مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ تشریف لے گئے اور حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی۔

بیعت وخلافت

سلسلہ عالیہ قادریہ میں حیات المیر کےدست پر بیعت ہوئےاورمجاہدات کےبعدخلافت سےمشرف کیے گئے۔

سیرت وخصائص

قطب الاقطاب، امام الاولیاء،قدوۃ الصلحاء،شیخ الاتقیاء،عارفِ شریعت وطریقت وحقیقت،واصل باللہ حضرت شاہ عبداللطیف المعروف امام بری سرکار ۔ حضرت امام بری اپنے عہد کے عظیم اور مشہور اولیاء میں سے ہیں۔

آپ کا تعلق سلسلہ قادریہ سے ہےآپ کی زندگی میں زہد اور جذب بہت نمایا ں ہے آپ کی بزرگی اور عظمت کا چرچا عام ہے۔اللہ جل شانہ کچھ بندوں کو خصوصی نوازتا ہے،اور ان کوشروع سے ہی اپنی ذات کے لئے منتخب فرمالیتا ہے۔

ان ہستیوں میں سے ایک عظیم ہستی حضرت امام بری کی ذاتِ گرامی ہے۔آپ پر بچپن سے ہی ولایت کے آثار نمایاں تھے۔آپ کا بچپن عام بچوں سے قطعاً مختلف تھا۔ بچپن ہی میں آپ کا رحجان زہد وتقویٰ ترکِ دنیا اور مذہب کی طرف مائل تھا۔

گاؤں کے دیگر بچوں سے مل کر نہیں کھیلتے تھے، بلکہ اپنے مویشیوں کو لےکر گاؤں سے دور نکل جاتے تھے، اور علیحدگی میں بیٹھ کر عبادت ِالہٰی میں مشغول ہوجاتے اور مویشی ادھر ادھر چرتے رہتے اور شام کو انہیں جمع کرکے واپس گھر لے جاتے۔

بچپن میں کبھی جھوٹ نہیں بولا، نہ کسی کوگالی دی ،اور نہ کبھی غیبت کی، اور شرارت سے ہمیشہ دور رہتے تھے۔ آپ کے اس رحجان اور مالکِ حقیقی سےعشقِ صادق کا نتیجہ یہ ہوا کہ آپ چھوٹی سی عمر میں اللہ کےمحبوب بن گئے اور آپ کی زبان میں ایسی تاثیر پیدا ہوگئی تھی جو بات منہ سے نکالتے پوری ہوجاتی تھی۔

حالت ِجذب سے پہلے آپ نے "چور پور" میں قیام کی جو بعد میں آپ کی برکت سے"نورپور شاہاں" کے نام سے مشہور ہوا۔ یہاں آپ نے رشد و ہدایت کا سلسلہ احسن طریقہ سے شروع کیا۔

دینِ مبین کو منظم انداز میں جاری کرنے کے لیے دروس کا سلسلہ شروع کیا۔آپ کی روحانیت و علم کی شہرت سن کر دور درازسے لوگ آپ کے درس میں شرکت کے لیے آیا کرتے تھے۔

آپ نے اپنی درسگاہ میں طلباء کے لیے ان کی خوردنوش کا بھی انتظام کررکھا تھا۔ جس کےاخراجات اللہ تعالیٰ اپنے خزانوں سے پورے کرتا تھا۔ آپ ایک عالم باعمل تھے۔ حقیقت و طریقت آپ پر روز روشن کی طرح عیاں تھی۔ نوجوانوں کی زندگی او ر ان کے تخیل کی رفعت و پابندی آپ کی تربیت پر منحصر تھی۔

آپ کی زندگی اتباع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کامل نمونہ تھی۔ آپ نے پوٹھوہار کے خطہ میں رشد وہدایت کے و ہ چراغ روشن کیےکہ تمام علاقے کی کایا ہی پلٹ گئی۔ آپ نے بے لوث دینی خدمات سرانجام دیں۔

آپ کے دمِ قدم سے کفر اور ظلمتوں کے بادل چھٹ گئے ۔ آپ نے لوگوں کوجہاں اخلاقی، اسلامی اور مذہبی تعلیم دی۔ وہاں تصوف اور روحانیت کے جام بھی لٹائے ۔آپ ایک انقلاب آفریں ہستی تھے۔

آپ کی نادر روزگار درسگاہ نے اسلام کو بہت ترقی دی، آپ نے اسلام کی حقیقی خدمت کرکے خدا کی رضا حاصل کی۔ آپ کی تبلیغ سےسینکڑوں غیرمسلم دولتِ اسلام سے مشرف ہوئے۔اسی طرح اس وقت کے حکمرانوں کے عوام پرظلم وستم کے خلاف آپ کی آوازایک اثر رکھتی تھی۔

اورنگ زیب عالمگیر آپ سےملاقات کے لئے حاضر ہواتھا، اس وقت آپ درسِ قرآن دے رہے تھے۔لیکن آپ نے اپنے درس کو جاری رکھا۔وہ کھڑےہوکر سنتارہا۔

اس نے آپ کواپنی طرف متوجہ کرنے کےئے پڑھا:اطیعو اللہ واطیعوالرسول والی الامرمنکم۔آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا: ہم اللہ جل شانہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں مستغرق ہیں،ہمیں "اولی الامر "کی فرصت ہی نہیں ہے۔

شہزادہ عالمگیر آپ کی خودداری،اور دینداری سے متاثرہوئے۔آپ نے اسے پورے ہندوستان کے بادشاہ بننے کی خوشخبری دی،اور ساتھ یہ نصیحت بھی فرمائی کہ اللہ کی زمین پر اللہ کانظام قائم کرنا ،اور مخلوقِ خدا پر ظلم نہ کرنا،رزقِ حلال کھانا حرام سے بچنا۔

(بادشاہ بننے کے بعدعالمگیر نےان تمام باتوں پر عمل کیا) آخر میں جب وہ نذرانہ دینے لگے،تو آپ نے فرمایا: ہمیں ان سکوں کی ضرورت نہیں ہے،اس ملک میں بھوکے بہت ہیں ان کو دےدینا۔

یہ تھے ہمارے اسلاف اولیا اللہ جن کی زندگی کاایک ایک باب روشن ہے۔لیکن اس وقت بقول مفکرِ اسلام علامہ محمد اقبال علیہ الرحمہ زاغوں کے تصرف میں ہیں عقابوں کے نشیمن۔جو شاہینوں کے نشیمن تھے ،آج وہاں پہ گرگسوں نے قبضے جمالیے ہیں۔

اسلام آباد: قطب الاقطاب حضرت سید شاہ عبدالطیف کاظمی المعروف امام بری نے آج (1438ھ)سے تین سو اکیس سال پہلے ارشاد فرمایا تھا کہ نور پور پوٹھوہار (موجودہ اسلام آباد )کا یہ خطہ ایک دن نہ صرف فرزندانِ توحید کا مرکز بلکہ عالی شان چمکتا دمکتا شہر بن جائے گا اور اس کا چرچا پوری دنیا میں ہوگا ۔

حضرت امام بری سرکار کی یہ پیش گوئی سچ ثابت ہوئی اور یہاں اسلام آباد کے نام سے ایک شہر آبادہوگیا جو آج مملکت خداداد پاکستان کا دار الحکومت ہی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی سطح پر ایک ارب سے زائد مسلمانوں کے ترجمان کے عظیم شرف سے ہمکنار بھی ہے ۔

ربِّ ذوالجلال سے دعاہے کہ پروردگارِعالم !اسلام آباد کو اسم با مسمیّٰ بناکراس مملکتِ خدادادکو نظام ِمصطفیٰ کا گہوارہ بنائے۔

علمی سرگرمیاں

حضرت سید شاہ عبدالطیف المشہد ہی کاظمی المعروف بری امام سرکار برصغیر پاک و ہند کے ان اولیاء کرام اور صوفیاء کرام میں شامل ہیں جنہوں نے مغل بادشاہ جہانگیر کے عہد میں اس خطے کو نور اسلام سے منور کیا ۔

آپ1617 اور 1026ہجری میں ضلع چکوال کے علاقے چولی کرسال میں پیدا ہوئے آپ کے والد گرامی کا اسم مبارک سید سخی محمود بادشاہ کاظمی اور والدہ ماجدہ کا نام سیدہ غلام فاطمہ کاظمی تھا آپ کے والد گرامی بھی ایک ولی تھے بری امام سرکار نے ابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی سید محمود بادشاہ سے حاصل کی۔

آپ نے فقہ و حدیث اور دیگر علوم اسلامی کی تعلیم نجف اشرف عراق میں حاصل کی۔ سید محمود بادشاہ جو نجف اشرف سے فارغ التحصیل تھے نے اپنے بیٹے کی تعلیم و تربیت میں کوئی کسر نہیںچھوڑ ی تھی۔

حضرت سید شاہ عبدالطیف المشہدی کاظمی نے مقدس اسلامی شہروں نجف اشرف مشہد مقدس میں مختلف علما سے دینی علوم کے علاوہ روحانی فیض بھی حاصل کیا۔جب ایران و عراق کے بارہ سال کے طویل سفر کے بعد آ پ سید کسراں میں واپس آئے تو آپ کی کشف و کرامات کا تذکرہ ہر طرف ہونے لگا ۔

لوگ دور دراز علاقوں سے بری سرکار کی خدمت اقدس میں حاضری د یتے اور آپ کی تعلیم و تبلیغ وعظ و نصیحت اور پند و نصائح سے فیض یاب ہوتے۔ کچھ عرصہ یہاں گزارنے کے بعد بری سرکار نے اس وقت کے ضلع راولپنڈی کے شمالی علاقے کا رخ کیا اور باغ کلاں ( موجودہ آبپارہ مارکیٹ اسلام آباد ) میں اقامت پذیر ہوئے۔

آپ سادات کے ایک مایہ ناز گھرانے کے چشم و چراغ تھے۔ آپ کا شجرہ نسب تاجدار امامت حضرت علی المرتضی سے ہوتے ہوئے امامت کے ساتویں تاجدار امیر بغداد حضرت امام موسی کاظم سے جا ملتا ہے۔

خطہ پوٹھوہار کی بزرگ ہستی بری امام سرکار نے آج سے ساڑھے تین سو سال پہلے ارشاد فرمایا تھا کہ نور پور پوٹھوہار ( اسلام آباد ) کا یہ خطہ ایک دن نہ صرف فرزندان توحید کا مرکز بلکہ عالی شان چمکتا دمکتا شہر بن جائے گا اور اس کا چرچا پوری دنیا میں ہوگا۔

حضرت بری امام سرکار کو قطب الاقطاب اور ولی اللہ کا مقام حاصل ہوا۔ یہ مقام تصوف میں بڑی کاوشوں محنتوں اور عشق حقیقی سے حاصل ہوتا ہے۔ آپ نے فقہ اور حدیث کی تعلیم نجف اشرف سے حاصل کی اور اس کے بعد آپ مقدس مقامات کی زیارت کیلئے مکہ معظمہ مدینہ منورہ کربلائے معلی اوردوسرے اسلامی ممالک میں تشریف لے گئے ، بری امام کا یہ سفر بارہ سال پر محیط ہے۔

آپ مستقلاً وہاں ولی کامل حضرت حیات المیرسے بیعت تھے۔ انہیں بری امام کا لقب ان کے مرشد حضرت حیات المیر ہی نے عطاء کیا تھا۔ اللہ تعالی نے اپنے ولیوں کی تعریف قرآن مجید میں ان الفاظ کے ساتھ کی ہے۔ ترجمہ : بے شک اللہ تعالی کے ولیوں کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہونگے "دوسری جگہ ارشاد ہے کہ جس نے میرے کسی ولی کی مخالفت کی میری طرف سے اس کے خلاف اعلان جنگ ہے۔

جس طرح اللہ تعالی کاقانون جن و انس میں جاری و ساری ہے انسانوں میں بھی اللہ تعالی کی طرف سے بعض لوگوں کو مخصوص اختیارات تفویض کرکے مقرر کیے جاتے ہیں۔

ایک مرتبہ آپ کہیں سفر پر جا رہے تھے اور آپ کا مرید خاص مٹھا شاہ بھی اس سفر میں آپ کے ہمراہ تھے۔ ابھی آپ نے چار کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا ہوگا کہ اچانک جنگل سے چند ڈاکو نکلے اور انہوں نے لوٹنے کی غرض سے آپ کا راستہ روک لیا مگر جونہی ان کی نظر آپ کے چہرہ مبارک پر پڑی اور انہوں نے آپ کی گفتگو سنی تو جرائم سے ہمیشہ کیلئے تائب ہوگئے اور اسی وقت آپ کے ہاتھ پر بیعت کرکے آپ کے مرید بن گئے۔

آپ نے یہیں اقامت اختیار کرکے تبلیغ کا کام شروع کردیا اور اس طرح چور پور میں اسلام کے نور کی روشنی پھیلا کر اسے ہمیشہ کیلئے نُور پور بنا دیا۔ یہ وہی نور پور شاہاں ہے جہاں آج آپ کا مزار مبارک ہے اور ہزاروں لوگ یہاں اپنی عقیدتوں کا اظہار کرنے آتے ہیں۔

حضرت بری امام سرکار نے علوم ظاہری اور باطنی حاصل کرنے اور روحانی منازل طے کرنے کے بعد ضلع ہزارہ میں قیام کیا اور آپ نے سید محمد کی دختر نیک اختر بی بی دامن خاتون سے نکاح کیا آپ کے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی مگر کچھ عرصہ بعد آپ کی زوجہ محترمہ بھی دنیا سے رخصت ہوگئیں۔

بری امام سے مراد ہے بر و بحر یعنی پہاڑوں بیانانوں دریاؤں ندیوں چشموں اور ایسی تمام آب گاہوں کے متولی جنہوںنے یاد الہی میں تند و تیز ہواؤں اور موسمی حالات سے بے نیاز دن رات چلہ کشی کی ۔ حضرت بری امام سرکار کی عبادات و کرامات پاک و ہند میں مشہور ہیں۔

سب سے بڑی کرامت یہ ہے کہ آپ نے دو مغل شہزادوں کی بالخصوص تربیت کی اور دینی روحانی اصلاح کرکے ایک شہزادے کو راہ سلوک کی دنیا میں گم کردیا اور اس کا نام آپ نے شاہ حسین رکھا۔

اس کے علاوہ نور پور شاہاں کے قریب ایک مقام ہے جس کا نام لوئی دندی ہے یہاں بیٹھ کر حضرت بری امام اکثر عبادت الہی میں مصروف رہے جب آپ عبادت میں مصروف ہوتے تو ایک جن آ کر آپ کو پریشان کرنے لگا اور آپ کی عباد ت میں خلل ڈالنے لگا۔

جب وہ کسی صورت باز نہ آیا تو آپ نے اس جن سے نجات کیلئے دعا کی اور وہ جن وہیں پتھر بن گیا ۔حضرت شاہ عبدالطیف کاظمی المعروف بری امام سرکار نے 91 سال کی عمر میں 1117 ھ،بمطابق 1708 کو دنیا سے پردہ فرمایا،اور نورپور شاہاں میں سپرد لحد کیا گیا۔

جہاں آپ کا مزار مبارک عقیدت مندوں کیلئے مرجع خلائق ہے۔ گذشتہ سال وفاقی وزیر خزانہ محترم اسحاق ڈار نے عرس کی افتتاحی تقریب کا افتتاح کیا تھا امسال بھی امید یہی ہے کہ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار ہی یہ سعادت حاصل کریں گے[1]۔

وصال

آپ رحمۃ اللہ علیہ نے 1117ھ، میں وفات پائی۔ آپ کامزارشریف اسلام آباد میں زیارت گاہ خاص و عام ہے [2]۔

حضرت بری امام کی کرامات

جب ایران و عراق کے بارہ سال کے طویل سفر کے بعد آپ سید کسران میں واپس آئے تو آپ کی کشف و کرامات کا تذکرہ ہر طرف ہونے لگا جس کی وجہ سے آپ کی شہرت ہر سو پھیل گئی لوگ دور دراز علاقوں سے بری سرکار کی خدمت اقدس میں حاضری دیتے اور آپ کی تعلیم و تبلیغ ٗ و عظ و نصیحت اور پند و نصائح سے فیض یاب ہوتے ۔

کچھ عرصہ یہاں گزارنے کے بعد بری سرکار نے اس وقت کے ضلع راولپنڈی کے شمالی علاقے کا رخ کیا اور باغ کلاں ( موجودہ آبپارہ مارکیٹ اسلام آباد ) میں اقامت پذیر ہوئے ۔

باغ کلاں کے باشندوں نے عزت و احترام کے ساتھ آپ کا خیر مقدم کیا اور کچھ اراضی بطور نذرانہ عقیدت پیش کی ۔ بری امام کاظمی نے کچھ عرصہ یہاں قیام کیا اور تبلیغ دین میں مصروف رہے یہاں بسنے والے سب لوگ آپ کے حلقہ ارادت میں شامل ہوگئے یہاں پر آپ سے کئی کرامات ظاہر ہوئیں ۔

ان ہی دنوں کا واقعہ ہے کہ ایک روز آپ عبادت الہی میں مشغول تھے ٗ توجہ کے ارتکاز کی وجہ سے آپ کو پتہ ہی نہ چل سکا کہ کس وقت آپ کے مویشی زمیندار کے کھیت میں گھس گئے اور انہوں نے ساری فصل تباہ کر دی ۔

فصل کا مالک شکایت لے کر آپ کے والد بزرگوار سید محمود شاہ کے پاس آیا ۔ آپ کے والد زمیندار کے ہمراہ آپ کے پاس آئے اور سرزنش کی کہ آپ کی بے توجہی کی وجہ سے زمیندار کی ساری فصل برباد ہوگئی ہے اس پر تھوڑی دیر آپ خاموش رہے ۔

آپ کے والد نے انہیں مزید ڈانٹا جب آپ کے والد نے اچھی طرح سرزنش کرنے کے بعد خاموشی اختیارکی تو آپ نے بڑے سکون کے ساتھ آہستہ سے سر اوپر اٹھایا اور نہایت ٹھہرے ہوئے انداز میں گویا ہوئے ۔

ابا جی ذرا فصل کی طرف تو دیکھئے ٗ جونہی آپ کے والد محترم نے فصل کی طرف دیکھا وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ چند لمحے پہلے جو فصل تہس نہس تھی اب ایک سر سبز و شادات کھیت کی صورت میں لہلہاتی ہوئی نظر آ رہی تھی ۔ یہ دیکھنا تھا کہ زمیندار کی حالت عجب ہوگئی وہ آپ کے قدموں میں گر کر گڑگڑا کر معافی مانگنے لگا ۔

موجودہ پاکستان کے ایک علاقہ جسے چوروں اور رہزنوں کی بدولت چور پور کا نام دے دیا گیا آپ کا گزر ہو رہا تھا۔ ابھی چار کلومیٹر کا فاصلہ ہی طے کیا ہو گا کہ اچانک جنگل سے چند ڈاکو نکلے اور انہوں نے لوٹنے کی غرض سے آپ کا راستہ روک لیا۔

قدم رک گئے، ڈاکوئوں نے چاروں طرف سے گھیر لیا۔ آپ نے چہرہ مبارک جیسے ہی اوپر اٹھایا ڈاکوئوں کی ٹانگیں کانپنے لگ گئیں، آپ نے نرمی کے ساتھ گفتگو کا سلسلہ شروع کیا، آپ کی و نصیحت جاری رہی اور ڈاکوئوں کے دل پگھلتے گئے، دل کی دنیا بدل گئی۔

وہ جو کل تک کشت و خون ، لوٹ مار پر خوش ہوتے، اپنے سابقہ گناہوں پر نادم تھے، آنکھوں سے آنسوئوں کی جھڑیاں جاری ہوجھڑیاں جاری ہو گئیں، گناہوں سےتائب ہونے کے بعد ڈاکوئوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور آپ کے مریدین میں شمار ہو گئے۔

یہ ولی کامل کوئی اور نہیں بلکہ حضرت امام بری سرکار تھے اور چور پور کے نام سے مشہور یہ علاقہ آج پاکستان کا وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ہے۔یہ بری امام سرکار کی کرامت ہی تھی کہ چور پور سے نور پور شاہاں اور پھر وفاقی دارالحکومت کا درجہ حاصل کرنے کے بعد یہ علاقہ اسلام آباد کہلایا جانے لگا۔

یہ علاقہ چوروں اور اسلام دشمنوں سے آباد تھا لیکن آپؒکے رشد وہدایت سے چور گناہوں سے تائب ہوگئے۔

یہ روایت بہت معروف ہے کہ اسلام آباد کے نام کی وجہ تسمیہ آپؒ کی دعا کی قبولیت بنی حضرت بری امام سرکار نے 17ویں صدی میں جب یہاں ولایت کا پودا نصب کیا توارشاد فرمایا تھا کہ لوگو جان لو کہ نور پور پوٹھوہار ایک دن توحید کا مرکز بنے گا۔وقت نے آپ کی پیش گوئی سچ کر دکھائی اور آج یہاں پاکستان کا نواں بڑا شہر آباد ہوچکاہے[3]۔

ڈاکٹر حمید شہریاری کا اسلام آباد میں بری امامؒ کے مزار کا دورہ

حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر حمید شہریاری ، سیکرٹری جنرل مجمعِ جهانی تقریبِ مذابِ اسلامی نے بدھ کی صبح اسلام آباد میں واقع حضرت بری امامؒ کے تاریخی و روحانی مزار کا دورہ کیا۔

اس موقع پر انہوں نے مزار کے سجادہ نشین و متولی سے ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے مختلف مذہبی، ثقافتی اور سماجی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ ملاقات میں امتِ مسلمہ کے درمیان اتحاد و اخوت، مختلف اسلامی مکاتبِ فکر کے مابین ہم آہنگی، مذہبی مقامات کے علمی و روحانی کردار، اور بین المذاہب و بین المسالک روابط کے فروغ جیسے اہم موضوعات زیرِ بحث آئے۔

ڈاکٹر حمید شہریاری نے بری امامؒ کی دینی، روحانی اور اصلاحی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ برصغیر کے عظیم صوفیاء نے محبت، اخوت، رواداری اور اخلاقِ حسنہ کے ذریعے اسلام کی حقیقی تعلیمات کو عام کیا، اور آج بھی ان کی تعلیمات امتِ مسلمہ کے لیے اتحاد اور باہمی احترام کا مؤثر ذریعہ ہیں۔

اس موقع پر مزار کے متولی نے ڈاکٹر شہریاری کی آمد پر خیرمقدم کیا اور مجمعِ جهانی تقریبِ مذابِ اسلامی کی جانب سے اسلامی وحدت اور بین المسالک ہم آہنگی کے لیے کی جانے والی علمی و عملی کاوشوں کو سراہا۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس قسم کے روابط سے پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک کے دینی و علمی اداروں کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہوگا۔

دورے کے اختتام پر ڈاکٹر حمید شہریاری نے حضرت بری امامؒ کے مزار پر حاضری دی، فاتحہ خوانی کی، دعا کی اور امتِ مسلمہ کے اتحاد، عالمِ اسلام کے امن و استحکام اور پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے لیے خصوصی دعا بھی کی[4]۔

سو سال پہلے بری امام کا عرس کیسے منایا جاتا تھا؟

شروع میں ان کے سالانہ عرس کی تقریبات پانچ روزہ ہوتی تھیں جو پنجابی مہینہ ویساکھ کے پہلے عشرے کے اتوار سے شروع ہو کر جمعرات تک جاری رہتی تھیں۔ موجود ہ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی خصوصی توجہ سے بری امام کے مزار پر ایک کمپلیکس تعمیر کیا گیا۔

ایوان صدر اور وزیراعظم ہاؤس سے چند سو گز کے فاصلے پر مدفون صوفی بزرگ شاہ عبد الطیف المعروف بری امام کے تین روزہ سالانہ عرس کا آغاز 15 اگست سے ہو چکا ہے۔

پوٹھوہار میں ایک روایت ان کی نسبت سے زبان زد عام ہے کہ ’یہاں ایک شہر بنے گا جو عالم میں انتخاب ٹھہرے گا لیکن پھر ایک روز خطرناک زلزلے سے نیست و نابود ہو جائے گا۔‘

معلوم نہیں کہ اس روایت میں کتنی صداقت ہے کیونکہ اس زمانے میں راقم کم کم تھے اور راوی زیادہ تھے۔

شروع میں ان کے سالانہ عرس کی تقریبات پانچ روزہ ہوتی تھیں جو پنجابی مہینہ ویساکھ کے پہلے عشرے کی اتوار سے شروع ہو کر جمعرات تک جاری رہتی تھیں۔

یوں یہ عرس ہر سال اپریل کے آخری عشرے میں آتا تھا۔ چونکہ پنجاب میں گندم کی کٹائی ختم ہوتے ہی میلے ٹھیلے شروع ہو جاتے تھے تو اسی مناسبت سے بری امام کا عرس بھی ویساکھ میں ہی منایا جاتا تھا۔

2005 میں بری امام کے مزار پر خودکش حملہ ہوا جس کی وجہ سے اگلے 17 سال یہ عرس نہیں منایا گیا۔

تاہم موجودہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے گذشتہ سال اس عرس کو ویساکھ کی بجائے پاکستان کے یوم آزادی سے منسوب کر دیا اور اب یہ ہر سال 15 سے 17 اگست تک منایا جائے گا۔

امریکی سابق سیکریٹری خارجہ ہلیری کلنٹن نے اکتوبر 2009 میں اپنے دورہ پاکستان کے دوران اس وقت کے پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک کے ہمراہ بری امام کے مزار کا دورہ کیا تھا۔

بری امام کون تھے؟

بری امام 1617 میں چکوال کے قصبے چولی کرسال میں پیدا ہوئے اور انہوں نے 91 سال کی عمر میں اسلام آباد کے قصبے چور پور میں وصال فرمایا جس کے بعد یہ قصبہ چور پور سے نور پور شاہاں کے نام سے پکارا جانے لگا، کیونکہ کہا جاتا ہے کہ اس صوفی بزرگ کے مزار پر وقت کے بادشاہ حاضری دیا کرتے تھے۔

محمد حسیب قادری کی کتاب ’سیرتِ بری امام سرکار‘ میں ان کے حالات زندگی کے بارے میں لکھا گیا ہے۔ بری امام کا سلسلہ نسب بغداد میں مدفون صوفی بزرگ شیخ عبد القادر جیلانی سے ملتا ہے اور آپ کے آباؤاجداد عراق سے نقل مکانی کر کے ہندوستان آئے تھے اور چکوال میں سکونت اختیار کر لی تھی۔

سفر سے واپسی پر حجرہ شاہ مقیم میں ایک بزرگ حضرت سید جمال اللہ المعروف بالا پیر سے روحانی فیض حاصل کیا۔ باغ ِ کلاں واپس آئے تو والدین نے شادی کر دی۔ آٹھ سال تک اولاد ہی نہیں ہوئی۔

پھر ایک بیٹی پیدا ہوئی جو بچپن میں ہی وصال فرما گئی اور جس کے بعد آپ کی زوجہ محترمہ بھی اللہ کو پیاری ہو گئیں۔

بیٹی اور بیوی کی وفات کے بعد آپ مکمل تارک ِدنیا ہوگئے۔ مارگلہ کے پہاڑوں کے دامن میں واقع نیلاں ندی میں طویل عرصہ کھڑے ہو کر چلہ کشی کی جس عرصے کو ان کے راوی بارہ سال بتاتے ہیں۔

پھر آپ نے مارگلہ پہاڑوں کے دامن میں ایک جگہ لوئی دندی کو اپنے لیے چنا اور وہیں عبادت و ریاضت میں مشغول رہنے لگے۔ آپ کی تبلیغ کی وجہ سے اردگرد کے علاقوں میں اسلام تیزی سے پھیلا۔

تبلیغی سرگرمیاں

آپ تبلیغ دین کے لیے قریبی علاقوں کے تواتر کے ساتھ دورے کرتے تھے۔ جہاں جہاں آپ کا قیام رہا آج بھی وہ جگہیں بری امام کی بیٹھکوں کے نام سے منسوب ہیں جو پورے پوٹھوہار کے ساتھ کشمیر اور ہزارہ میں پھیلی ہوئی ہیں۔

بری امام کا لقب انہیں ان کے پیر حضرت بالا پیر قادری نے عطا کیا تھا اور کہا تھا کہ تم اس ’بر‘ یعنی خشکی کے ٹکڑے کے امام ہو جو بعد میں بری امام ہو گیا۔

روایت ہے کہ آپ کی خدمت میں مغل بادشاہ اورنگزیب بھی حاضر ہوئے تھے اور آپ نے ہی اس کو بادشاہ بننے کی بشارت دی تھی۔

بری امام پر ڈالیوں کی آمد اور رقص و سرود کے مناظر:

انڈیا کے نامور شاعر، افسانہ و ناول نگار کرتار سنگھ دگل جو کہ 1917 میں دھمیال راولپنڈی میں پیدا ہوئے تھے، انہیں انڈیا کا اعلیٰ ترین سول ایوارڈ پدما بھاشن بھی ملا تھا اور وہ انڈیا کے ایوان بالا کے ممبر بھی رہے۔

ان کی خود نوشت Whom To Tell My Tale جس کا اردو ترجمہ ’کس پہ کھولوں گنٹھڑی‘ کے نام سے ریختہ پر موجود ہے۔

اس میں وہ بری امام کے عرس کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہیں۔ ’پنڈی سے کوئی دس کوس دور نورپور میں ہر برس بری امام کا میلہ لگتا تھا جو کئی روز تک رہتا تھا۔ اس میلے میں ملک بھر سے گانے والیاں حاضر ہو کر اپنی چوکی بھرتیں۔

’گانے والیاں آتیں تو تماش بین بھی آتے۔ نور پور کی چہل پہل دیکھنے والی ہوتی۔ ہر آنگن مہمانوں سے بھرا ہوا ہوتا۔ شہر کے اندر اور باہر کھلی جگہوں پر رنگ برنگے شامیانوں کا جھرمٹ سا لگا رہتا۔

’دن رات گانے والیوں کی تانیں، ناچنے والیوں کے گھنگھروں کی جھنکار آس پاس گونجتی رہتی۔‘

کرتار سنگھ دگل لکھتے ہیں کہ ’جب میں اپنے مسلمان دوست کے ساتھ پہلی بار بری امام کا میلہ دیکھنے گیا تو شام کے دھندلکے چھا رہے تھے ہر طرف تنبو ہی تنبو لگے تھے۔ اسی دن راولپنڈی سے جلوس اور ڈالیاں آرہی تھیں۔

’بے حد بھیڑ تھی۔ یا بری امام کے نعرے لگاتے، قوالیاں گاتے ہوئے مرد پاؤں میں گھنگھرو باندھ کر ناچتے، جلوس جب درگاہ کے نزدیک پہنچا تو تنبوؤں کے دونوں طرف لگی ہوئی بتیاں جگ مگ جگ مگ کرنے لگیں۔

’بگڑے ہوئے پٹھان، مستی میں جھومتے پوٹھوہاری جاٹ، نشے میں دھت زمیندار، ہر آدمی کے ہاتھ میں لاٹھی تھی۔ ہر دوسرے آدمی کے گلے میں پستول تھا یا کندھے پر دونالی بندوق۔

’ہوٹلوں پر لوگ ٹوٹ ٹوٹ پڑتے۔ کہیں پر کبابوں کی خوشبو، کہیں بریانی کی سگندھ، کہیں پر فالودہ قلفی، کہیں پر جلیبیاں اور اندرسے۔ قدم قدم پر پان کی دکانیں قدم قدم پر سگریٹ اور بیڑی کے خوانچے۔

’ابھی ہم میلے کا پورا چکر بھی نہیں لگا پائے تھے کہ گھنگھرؤں کی جھنکار اور گیتوں کے بول کی تانیں سنائی دینے لگ پڑیں۔ ہر اڈے پر شام کی حکمرانی کسی خاص تماش بین کی ہوتی تھی۔ لیکن گانا سننے کے لیے کوئی بھی آسکتا تھا۔

’ویل‘ دے سکتا تھا لیکن جس کسی نے گانا سننے والی کی شام کو اپنے نام کیا ہوتا، محفل میں زیادہ تر اسی کی چلتی تھی۔ اس کی مرضی کے گیت گائے جاتے۔ اس کی مرضی کا ناچ ہوتا۔ تماش بین بے شک ’ویلیں‘ دیتے لیکن شام کے مالک کی برابری کوئی نہیں کر سکتا تھا۔‘[5]۔

حوالہ جات

  1. سید مشرف کاظمی، امام بری سرکار حضرت سید شاہ عبدالطیف مشہدی کاظمیؒ-شائع شدہ از: 11 اگست 2024ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 11جولائی 2026ء
  2. تذکرہ اولیائے پاکستان۔تذکرہ مشائخِ قادریہ۔فیضانِ بری امام
  3. حضرت شاہ عبداللطیف المعروف امام بری سرکار رضی اللہ عنہ -اخذ شدہ بہ تاریخ: 11 جولائی 2026ء
  4. بازدید دکتر شهریاری از زیارتگاه بری امام اسلام آباد-شائع شدہ از: 8 دی 1400ش-اخذ شدہ بہ تاریخ: 11 جولائی 2026ء
  5. سجاد اظہر، سو سال پہلے بری امام کا عرس کیسے منایا جاتا تھا؟ -16اگست 2024ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 11 جولائی 2026ء