مندرجات کا رخ کریں

ہندوستان

ویکی‌وحدت سے
هندوستان
سرکاری نامبهارت
پورا نامهند، هندوستان، بهارت، انڈیا
طرز حکمرانیوفاقی جمهوریه
دارالحکومتنیو دهلی
آبادی۱٬۳۶۵٬۳۸۰٬۰۰۰
سرکاری زبانهندی، انگلش
کرنسیروپیہ

بھارت یا ہِندوستان جنوبی ایشیا کا ایک ملک ہے جس کا دارالحکومت نئی دہلی ہے۔ بھارت کے شمال مغرب میں پاکستان، شمال میں چین، بھوٹان، نیپال اور تبت، اور شمال مشرق میں میانمار (برما) اور بنگلہ دیش واقع ہیں۔

ملک کے مغربی حصے کو بحرِ عمان اور خلیجِ بنگال سے، جبکہ جنوبی حصے کو بحرِ ہند سے سمندری سرحدیں ملی ہوئی ہیں۔ بھارت کا کل رقبہ 3,402,873 مربع کلومیٹر ہے، جس کی بنا پر یہ دنیا کا ساتواں سب سے بڑا ملک ہے۔

ملک کا زیادہ تر علاقہ ہموار اور نشیبی ہے، اور شمال میں واقع ہمالیہ کا پہاڑی سلسلہ اس بات کا باعث بنا ہے کہ شمالی ایشیا کی طرف نمی اور بارش والے بادل نہ جا سکیں۔ اسی وجہ سے بھارت ایک نمی والا، بارشوں سے بھرپور اور زرخیز زمین رکھنے والا ملک ہے، جو اسے ایک بہت بڑی آبادی کو اپنے اندر سمونے کے قابل بناتا ہے۔

تاریخ

جغرافیایی محل وقوع

ہندوستان جنوبی ایشیا میں واقع ہے اور اس کا دارالحکومت دہلی نو ہے۔ ہندوستان کے شمال مغرب میں پاکستان، شمال میں چین، بھوٹان، نیپال اور تبت، اور شمال مشرق میں میانمار اور بنگلہ دیش کے ساتھ سرحدیں ہیں۔ اس کے علاوہ ہندوستان کی مشرق میں بنگال کی خلیج، مغرب میں عمان کا سمندر، اور جنوب میں بحرِ ہند کے ساتھ آبی سرحدیں ہیں۔

ہندوستان کا رقبہ ۳,۲۸۷,۲۶۳ مربع کلومیٹر ہے (دنیا کا ساتواں سب سے بڑا ملک)۔ زیادہ تر ہندوستانی علاقے ہموار اور میدانی ہیں اور شمال میں واقع ہمالیہ کی پہاڑیاں نمی اور بارش کے بادلوں کو شمالی ایشیا میں داخل ہونے سے روکتی ہیں، جس کے نتیجے میں ہندوستان ایک زیادہ بارش والا، مرطوب اور زرخیز زمین والا ملک بن گیا ہے۔ شاید اسی وجہ سے یہ ملک بہت بڑی آبادی کو اپنی سرزمین میں جگہ دینے کے قابل ہوا ہے۔

ہندوستان میں پانی کا ۹۲ فیصد سے زیادہ استعمال آبپاشی کے لیے ہوتا ہے، جو ۱۹۷۴ میں تقریباً ۳۸۰ مربع کلومیٹر تھا اور پیش گوئی کے مطابق ۲۰۲۵ تک یہ ۱,۰۵۰ مربع کلومیٹر تک پہنچ جائے گا، جو صنعتی اور گھریلو استعمال کے برابر ہے۔

ہندوستان کے آبی وسائل میں دریا، نہریں، پانی کے ذخائر، جھیلیں اور بحرِ ہند کے مشرقی و مغربی ساحل شامل ہیں، اور یہ چھوٹے خلیجوں کے ساتھ مل کر مچھلی پکڑنے کے شعبے میں چھ ملین سے زیادہ لوگوں کو روزگار فراہم کرتے ہیں۔ ہندوستان دنیا میں چھٹے نمبر پر مچھلی پیدا کرنے والا ملک ہے اور دنیا میں دیسی مچھلی پیدا کرنے والا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے۔ ہندوستان میں حیوانی زندگی بہت متنوع ہے اور یہاں بڑے جانوروں جیسے ایشیائی ہاتھی، ہندی ایک سینگ والا گینڈا اور شیر کے مسکن ہیں۔ یہاں ۲۰۰۰ سے زائد پرندے کی اقسام اور تین قسم کے مگرمچھ بھی پائے جاتے ہیں۔

ہندوستان کے قدرتی وسائل میں کوئلہ (ذخائر کے لحاظ سے دنیا میں چوتھے نمبر پر)، لوہا، مینگنیز، میکا، بکسائٹ، ٹائٹینیم، کرومائٹ، قدرتی گیس، ہیرے، خام تیل، چونا پتھر اور تھوریم شامل ہیں (تھوریم کے سب سے زیادہ ذخائر کیرالہ کے ساحل پر ہیں)۔ ہندوستان کے تیل کے ذخائر ممبئی کے ساحل (مہاراشٹر)، گجرات اور مشرقی آسام میں واقع ہیں، جو ملک کی اندرونی ضروریات کا ۲۵٪ سے زیادہ پورا کرتے ہیں۔[1]

زبان

ہندوستان میں لسانی تنوع شاید کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ ہے۔ یہاں ۴۲۸ زبانیں پائی جاتی ہیں، جن میں سے ۴۱۵ زبانیں زندہ اور استعمال ہوتی ہیں جبکہ ۱۳ زبانیں آج کل منسوخ ہو چکی ہیں۔ ہندوستان کے آئین میں ہندی زبان (جو ہند و ایرانی یا ہند و یورپی زبانوں کی شاخ سے تعلق رکھتی ہے) کو پورے ملک کی سرکاری زبان قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، ۲۰۰۵ میں ہندوستان کے مختلف ریاستوں میں سرکاری زبانوں کی تعداد ۲۲ تک پہنچ گئی، جن میں شامل ہیں: ہندی، اردو، آسامیز، اوریہ، بنگالی، سنسکرت، سندھی اور دیگر۔[2]


سنسکرت اور تامل ہندوستان کی بنیادی اور روایتی زبانیں سمجھی جاتی ہیں اور اس خطے کی طویل تاریخ میں فارسی اور انگریزی نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ طویل عرصے تک برطانیہ کی نوآبادیاتی حکمرانی اور انتظامی امور کا زیادہ تر انگریزی میں انجام دینا اس بات کا سبب بنا کہ انگریزی زبان بہت سے ہندوستانیوں کے لیے دوسری زبان بن گئی۔

اس ملک کی چھ بڑی زبانیں ہیں: ہندی، بنگالی، تیلگو، مراٹھی، تامل اور اردو، جنہیں ہر ایک زبان سے ۵۰ ملین سے زیادہ لوگ بولتے ہیں۔ ۱۲۲ زبانیں ایسی بھی ہیں جنہیں ایک ملین سے زیادہ لوگ بولتے ہیں۔ ہندوستان کے پاس کوئی قومی زبان نہیں ہے، ہندی اور انگریزی دونوں سرکاری زبانیں ہیں۔[3]


ہندوستان میں استعمال ہونے والی زبانیں دنیا کی چار بڑی لسانی گروہوں سے تعلق رکھتی ہیں: ہند و یورپی، دراوڑی، آسترا-آسیائی، اور تبتی-میانماری۔ فارسی زبان اس سے پہلے کہ ہندوستان برطانیہ کی نوآبادی بنے، اس ملک کی دوسری سرکاری زبان اور ثقافتی و علمی زبان سمجھی جاتی تھی۔ تاہم، ۱۸۳۲ میں انگریزی نوآبادیاتی دور کے بعد بتدریج فارسی کی جگہ لے گئی۔

فارسی زبان غزنویوں کے دور میں ہندوستان پہنچی۔ اس وقت فارسی ادب، شاعری، ثقافت اور علم کی زبان تھی۔ سلطان محمود غزنوی کے شمالی ہندوستان پر حملے کے بعد فارسی ثقافت اور ادب لاہور تک پہنچا۔ گورکانی سلطنت کے قیام کے ساتھ، فارسی زبان ہندوستان میں اپنی بلندی کو پہنچی اور سرکاری زبان کے طور پر پورے ملک میں پھیل گئی۔ اس خاندان کے اثر سے فارسی زبان کی ترقی اس حد تک ہوئی کہ نہ صرف عام لوگوں کی روحانی زندگی کا حصہ بنی بلکہ درباری زبان بھی بن گئی۔ اس دوران بہت سے فنکار، ادیب اور شاعر ایران سے ہندوستان ہجرت کرنے لگے۔[4] ہندوستان میں فارسی زبان کے بڑے شاعروں میں بیدل دہلوی، امیر خسرو دہلوی اور فارسی ادبی روایت کے "ہندی اسٹائل" کے شاعری کے حامل شاعر شامل ہیں۔ دیگر مشہور فارسی زبان کے شاعروں میں علامہ اقبال لاهوری بھی شامل ہیں۔[5]

حکومتیں اور مذہب

ہندوستان مختلف مذاہب اور مذہبی فرقوں کا ایک امتزاج ہے، جن میں زیادہ تر ہندومت، اسلام اور بدھ مت سے ماخوذ ہیں۔ عوام کی اکثریت ہندو (برہما) ہے اور اسلام اس ملک کا دوسرا سب سے بڑا مذہب ہے۔ تقریباً ۸۲٫۱٪ لوگ ہندو مذہب کے پیروکار ہیں اور تقریباً ۱۲٫۹٪ مسلمان ہیں۔ ہندوستان میں ۲٫۳٪ سے زیادہ عیسائی اور ۲٫۱٪ سکھ بھی رہتے ہیں۔ اگرچہ ہندوستان بدھ مت کی جائے پیدائش ہے، مگر یہاں کے بدھ مت پیروکار صرف تقریباً ۰٫۸٪ ہیں۔

اس کے علاوہ جین مت کے پیروکار بھی ۰٫۸٪ ہیں اور زرتشتی، یہودی، بہائی اور دیگر مذاہب کے پیروکار مجموعی طور پر ۰٫۴٪ ہیں۔ تاہم، ہندوستان احمدیہ فرقہ اور ایرانی بہائی و زرتشتی مذاہب کی سب سے بڑی عالمی آبادی کا حامل ملک ہے۔ مسلمان زیادہ تر دہلی، مغربی بنگال اور شمال مغربی علاقوں میں رہتے ہیں اور کشمیر میں وہ اکثریت بناتے ہیں۔ اس لحاظ سے، ہندوستان دنیا میں انڈونیشیا اور پاکستان کے بعد سب سے بڑی مسلم آبادی والا ملک ہے۔

زرتشتی ہندوستان کے اہم مذہبی اقلیتوں میں شامل ہیں، جنہیں پارسی کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ عرب حملے کے ابتدائی پانچ صدیوں میں ایران سے ہندوستان ہجرت کر گئے اور زیادہ تر گجرات اور مہاراشٹر کے مختلف علاقوں میں بمبئی کو مرکز بنا کر آباد ہیں۔ اگرچہ ان کی آبادی ۲۰۰ ہزار سے کم ہے، مگر وہ ہندوستان کی تقریباً ۱۷٪ معیشت میں حصہ رکھتے ہیں۔

ہندوستان دنیا میں مسلمانوں کی دوسری (یا تیسری) بڑی آبادی رکھتا ہے۔ اگرچہ ملک کی کل آبادی میں صرف ۱۵٪ سے کم مسلمان ہیں، لیکن ملک کی بڑی آبادی کی وجہ سے یہ تعداد بہت زیادہ ہے اور انڈونیشیا اور شاید پاکستان کے علاوہ دیگر مسلم اکثریتی ممالک سے زیادہ ہے۔

اسلام کا ہندوستان میں آغاز پہلی صدی ہجری کے آخر میں ہوا، جب ساسانی سلطنت کا زوال ہوا۔ اسلام کا پھیلاؤ محمود غزنوی کے پنجاب میں فتوحات کے دوران جاری رہا اور گورکانی حکومت کے دور میں اس نے عروج حاصل کیا۔ ۱۹۴۷ میں کئی مسلم اکثریتی ریاستوں نے محمد علی جناح کی قیادت میں برطانوی ہند سے آزادی حاصل کی اور پاکستان کے قیام میں شامل ہوئیں۔ ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا مسلم آبادی والا ملک ہے، انڈونیشیا اور پاکستان کے بعد۔

ہندوستان کے تقریباً ۷۰٪ مسلمان سنی مکتب حنفی سے تعلق رکھتے ہیں اور باقی شیعہ ہیں۔ لکھنؤ، جو ہندوستان کے اہم شہروں میں شمار ہوتا ہے، وہاں شیعہ اثنا عشری کا مرکزی مقام ہے، جہاں مساجد اور حسینیہ جات موجود ہیں۔ ہندوستان بھر کے شیعہ دینی، علمی اور سیاسی امور کے لیے اس مرکز سے رجوع کرتے ہیں۔ محرم اور دیگر شیعہ مناسبتوں کے مواقع پر یہاں ہر سال عزاداری کے پروگرام منعقد ہوتے ہیں۔ ہندوستان میں تقریباً ۳۵٪ مسلمان شیعہ ہیں، جن میں اکثریت اثنا عشری اور معمولی تعداد اسماعیلیہ فرقے کی ہے۔

مسلمانوں نے ہندوستان میں اپنے عروج کے دور میں متعدد عمارتیں اور یادگاریں تعمیر کیں، جن میں تاج محل سب سے نمایاں ہے۔ دہلی کی اسکول آف ڈیزائن اینڈ آرکیٹیکچر کے پروفیسر راساتیش گروور کے مطابق تاج محل، جو آگرہ میں واقع ہے، اسلامی فنِ تعمیر کی عظمت اور عالمی تاریخ میں اس کے عروج کا ایک بہترین نمونہ ہے اور ہندوستان کے سیاحتی مقامات میں شامل ہے۔

ہندوستان کی آزادی کے وقت اکثر مسلمان متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے اور پاکستان ہجرت کر گئے۔ جو رہ گئے، انہیں معاشرتی و اقتصادی لحاظ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ہندو انتہا پسند گروہوں کی جانب سے جاری اشتہارات اور مسلم قیادت کی نصیحتوں کے باعث مسلمانوں نے کانگریس پارٹی کو ووٹ دیا تاکہ سماجی اور مذہبی تحفظ حاصل ہو۔

مسلمانوں کے ہندو معاشرے کے ساتھ مسلسل تعلقات نے ان کی رسوم و رواج پر اثر ڈالا، جس کے نتیجے میں مسلمانوں میں ذات پات کے نظام پر یقین پیدا ہوا اور اعلیٰ طبقے کے لوگ نچلے طبقے کے لوگوں کو کمتر سمجھتے ہیں، خاص طور پر شادی بیاہ اور دیگر سماجی رسومات میں۔ یہ اثرات مذہبی شناخت اور سماجی روایات پر مرتب ہوئے۔ لباس، رسومات اور عبادات میں یہ اثرات واضح ہیں۔ اگرچہ ابتدا میں استعمار کے اثرات کے بعد مسلمانوں نے منفی ردعمل دیا، مگر بعد میں اپنے بچوں کو نوآبادیاتی اسکولوں میں بھیجنا شروع کیا اور امیر طبقے کے لوگوں نے حجاب ترک کر دیا، جس سے بعض سماجی برائیاں بھی پھیلیں۔

کربلائے ہند جلالپور میں شہیدِ امت کی یاد میں مجلسِ چہلمِ کا انعقاد،اتحادِ امت اور بیداریِ شعور کا ولولہ انگیز پیغام؛

کربلائے ہند جلالپور کے تاریخی مقام بڑی درگاہ میں عالمِ اسلام کی عظیم روحانی و فکری شخصیت حضرت آیت اللہ شہید سید علی خامنہ ایؒ کی یاد میں مجلسِ چہلم کا نہایت باوقار اور روح پرور انعقاد کیا گیا،

جس میں پوروانچل کے مختلف علاقوں سے علماء، دانشوران، سماجی و سیاسی شخصیات اور عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ یہ تعزیتی اجتماع اتحاد، اخوت، بیداریِ امت اور شہیدِ امت کے فکری مشن سے تجدیدِ عہد کی ایک مؤثر مثال بن کر سامنے آیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جلالپور،امبیڈکرنگر/ عالمِ اسلام کی عظیم روحانی و فکری شخصیت حضرت آیت اللہ شہید سید علی خامنہ ای رضوانُ اللہ تعالیٰ علیہ کی یاد میں جلالپور کے تاریخی مقام بڑی درگاہ میں ایک باوقار اور روح پرور تعزیتی جلسہ بعنوان مجلس چہلم منعقد ہوا

جس میں نہ صرف مقامی بلکہ پوروانچل کے مختلف علاقوں سے علماء ، دانشوران ، سماجی و سیاسی شخصیات اور عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

رہبرِ امت کی قربانیاں اور فکر آج بھی امتِ مسلمہ کے لیے مشعلِ راہ ہیں: نمائندہ ولی فقیہ ہند

یہ جلسہ اپنے منفرد پس منظر، اتحاد و اخوت کے پیغام اور فکری و ملی ہم آہنگی کی عمدہ مثال بن کر سامنے آیا۔

پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جس کی سعادت مولانا حیدر مہدی کریمی اور قاری احمد قاسمی نے حاصل کی۔ ان کی پرسوز آوازوں نے مجمع پر روحانی کیفیت طاری کر دی اور مجلس کو ایک مقدس فضا عطا کی۔

مجلس چہلم کی نظامت پروفیسر عباس رضا نیر صدر شعبۂ اردو لکھنؤ یونیورسٹی نے انجام دی۔ ان کی مدلل گفتگو اور مربوط اندازِ پیشکش نے پورے پروگرام کو ایک مضبوط ربط فراہم کیا، جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔

اس موقع پر ہندو دھرم سے سوامی سارنگ کی شرکت خصوصی طور پر قابلِ ذکر رہی، جنہوں نے رہبرِ معظم سے اپنی قلبی محبت، عقیدت اور انسانیت کے تئیں ان کے کردار کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا۔ انہوں نے اپنے تعزیتی کلمات میں بین المذاہب ہم آہنگی اور انسان دوستی کے اعلیٰ اصولوں کو اجاگر کیا جس نے سامعین کے دلوں کو چھو لیا۔

مترجم کی حیثیت سے مولانا تقی حیدر نقوی نے نمائندہ ولی فقیہ ہند کے بیانات کو خوبصورت انداز میں منتقل کیا جس سے مہمان خصوصی کا پیغام ہر طبقے تک بآسانی پہنچا۔ تعزیتی کلمات پیش کرنے والوں میں مولانا محمد محسن پرنسپل وثیقہ عربی کالج فیض آباد ،

مولانا فضل ممتاز جونپور ، مولوی نجیب اللہ خطیب مسجد کرامتیہ جلالپور، مولانا حسن مہدی واعظ جلالپور، مولانا مہدی حسن واعظ جلالپور اور مولوی فضل المنان رحمانی (شاہی امام ٹیلے والی مسجد لکھنؤ ) شامل رہے جنہوں نے اپنے اپنے انداز میں رہبرِ امت کی خدمات ، افکار اور مظلومانہ شہادت کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

پروگرام کے مہمانِ خصوصی نمائندۂ ولی فقیہ ہند حجۃ الاسلام و المسلمین ڈاکٹر عبد المجید حکیم الٰہی تھے جنہوں نے اپنے جامع خطاب میں رہبرِ معظم کی سیاسی بصیرت، دینی خدمات اور امتِ مسلمہ کے لیے ان کی قربانیوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

انہوں نے بیان کے دوران مصائب کربلا کا ذکر بھی ذکر کیا جس نے ماحول کو رنج و الم سے بھر دیا اور حاضرین اشکبار ہو گئے۔

اسٹیج پر جلالپور سمیت پوروانچل کے متعدد جید علماء، معززین اور سماجی شخصیات موجود رہیں۔ ساتھ ہی مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کی شرکت نے اس پروگرام کو ہمہ گیر اور متحدہ پیغام کا حامل بنا دیا۔

جلسے کے پس منظر میں جو خوبصورت اور معنی خیز منظرنامہ پیش کیا گیا، اس میں ایک طرف دینی و روحانی علامت تھی تو دوسری جانب استقامت، قربانی اور جدوجہد کی جھلک نمایاں تھی۔

یہ پس منظر دراصل اس بات کی عکاسی کر رہا تھا کہ رہبرِ امت کی زندگی عبادت ، قیادت اور مزاحمت کا حسین امتزاج تھی، جس نے امت کو بیداری، شعور اور استقلال کا درس دیا۔

دوران مجلس مولانا ڈاکٹر رئیس حیدر واعظ جلالپوری نے اسٹیج پہ موجود تمام علمائے کرام، جوانان ملت جعفریہ، سامعین، منتظمین، پولس انتظامیہ، سیاسی پارٹیوں کے نمائندگان سمیت تمام مہمانان گرامی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا

اور امید ظاہر کی کہ اس طرح کے پروگرام آئندہ بھی اتحادِ امت اور بیداریٔ شعور کا ذریعہ بنتے رہیں گے۔

یہ تعزیتی اجلاس نہ صرف ایک یادگار پروگرام ثابت ہوا بلکہ اس نے یہ پیغام بھی دیا کہ شہیدِ امت کی فکر اور ان کا مشن آج بھی زندہ ہے اور امتِ مسلمہ کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا[6]۔

قم المقدسہ میں ہندوستانی طلاب کے 14 موکب ایرانی عوام کی خدمت میں مصروف، اخوت اور بے مثال یکجہتی کا تاریخی منظر

اسلامی جمہوریہ ایران کو درپیش موجودہ جنگی صورتحال کے دوران قم المقدسہ میں جو مناظر دیکھنے میں آئے، وہ نہ صرف غیر معمولی بلکہ امتِ مسلمہ کی بیداری، ہمدردی اور باہمی ربط کی ایک زندہ اور عملی تصویر بن گئے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کو درپیش موجودہ جنگی صورتحال کے دوران قم المقدسہ میں جو مناظر دیکھنے میں آئے، وہ نہ صرف غیر معمولی بلکہ امتِ مسلمہ کی بیداری، ہمدردی اور باہمی ربط کی ایک زندہ اور عملی تصویر بن گئے ہیں۔

ایک طرف ایران کی مسلح افواج اور دفاعی ادارے ملک کے دفاع میں مصروف ہیں، تو دوسری جانب عوام، علماء اور مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے طلاب میدانِ عمل میں اتر کر اپنی ذمہ داری ادا کرتے نظر آرہے ہیں۔

انہی دلنشین اور ولولہ انگیز مناظر میں سب سے نمایاں کردار ہندوستانی طلاب اور مؤمنین کا ہے، جنہوں نے قم کی سرزمین پر خدمت و یکجہتی کی نئی تاریخ رقم کر دی۔

حوزہ نیوز کے نمائند کے مطابق قم المقدسہ میں مقیم ہندوستانی علماء، طلاب اور مختلف دینی و سماجی تنظیموں نے ایرانی عوام کے ساتھ عملی اظہارِ یکجہتی اور ان کے حوصلے بلند کرنے کے لیے شہر کے مختلف علاقوں میں متعدد موکب قائم کیے ہیں،

جن کی تعداد تقریباً چودہ تک پہنچ چکی ہے۔ یہ اقدام نہ صرف اپنی نوعیت کے اعتبار سے منفرد ہے بلکہ پہلی مرتبہ اس وسعت کے ساتھ ہندوستانی طلاب کی اجتماعی اور منظم خدمت بھی دیکھنے میں آئی ہے۔

قم المقدسہ میں ہندوستانی طلاب کے 14 موکب ایرانی عوام کی خدمت میں مصروف، اخوت اور بے مثال یکجہتی کا تاریخی منظر

قم المقدسہ میں ہندوستانی طلاب کے 14 موکب ایرانی عوام کی خدمت میں مصروف، اخوت اور بے مثال یکجہتی کا تاریخی منظر

موکبوں کی فہرست

ان موکبوں میں “موکب اباعبدالله الحسین علیہ السلام” جو مجمع علماء و طلاب ہندوستان کے زیر اہتمام قائم کیا گیا ہے، مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ “موکب ہیئت حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا” (خاکفرج، کوچہ ۱۳)، “موکب فلاح فاؤنڈیشن” (چہارراہ نواب) جو مغربی بنگال کے طلاب کی جانب سے قائم کیا گیا،

“موکب عشاق الحسین علیہ السلام” طلاب مدرسہ امام خمینی فلک جہاد “موکب ہندیہ” جو مدرسہ شہابیہ کے سامنے قائم ہے، “موکب مؤسسہ یادبود امام خمینیؒ کارگل” چہار راہ غفاری پر علماء و طلاب کشمیر اور طلاب مدرسہ القائم” کی جانب سے خیابان موسی صدر کوچہ ۲۹ و نیروگاہ توحید پر طلاب مدرسہ ثقلین سمیت دیگر موکب شامل ہیں۔

ہر موکب اپنی جگہ خدمت، نظم و ضبط اور اخلاص کی ایک الگ داستان سناتا دکھائی دیتا ہے۔

ان موکبوں میں نہ صرف زائرین اور راہگیروں کی خدمت کے لیے شربت، چائے، پانی اور کھانے پینے کی اشیاء فراہم کی جا رہی ہیں بلکہ موجودہ نازک حالات میں عوامی حوصلہ افزائی، دلی تسلی اور اخوتِ اسلامی کا پیغام بھی عام کیا جا رہا ہے۔

دن رات جاری رہنے والی یہ خدمات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ خدمتِ خلق صرف ایک وقتی جذبہ نہیں بلکہ ایک شعوری اور دینی فریضہ سمجھ کر انجام دیا جا رہا ہے۔

قم کی شاہراہوں اور گلی کوچوں میں یہ منظر خاص طور پر توجہ کا مرکز بنا رہا

قم کی شاہراہوں اور گلی کوچوں میں یہ منظر خاص طور پر توجہ کا مرکز بنا رہا کہ ہندوستان کے مختلف علاقوں، خصوصاً مغربی بنگال، کشمیر، کارگل، اتر پردیش اور دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے طلاب اور مؤمنین ایرانی عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے نظر آئے۔

ان کے چہروں پر عزم، زبان پر دعائیں اور ہاتھوں میں خدمت کا جذبہ اس حقیقت کی عکاسی کر رہا تھا کہ ایران کے ساتھ ان کا تعلق محض تعلیمی یا وقتی نہیں بلکہ گہری دینی، روحانی اور قلبی وابستگی پر مبنی ہے۔

حوزہ نیوز کے نمائندہ سے گفتگو کرتے ہوئے ان موکبوں میں خدمات انجام دینے والے طلاب کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں سب سے بڑی ذمہ داری خدمتِ خلق، حوصلہ افزائی اور اتحادِ امت کو مضبوط کرنا ہے۔

ان کے مطابق، ایران اس وقت جس آزمائش سے گزر رہا ہے، اسے صرف ایک ملک کا مسئلہ نہیں سمجھا جا سکتا بلکہ یہ پوری امتِ مسلمہ کی مشترکہ آزمائش ہے، جس میں ہر مسلمان خود کو شریک محسوس کرتا ہے۔

موکبوں کے منتظمین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ خدمت کا سلسلہ وقتی نہیں بلکہ حالات کے پیش نظر آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔ ان کے بقول، دنیا کو یہ واضح پیغام دینا ضروری ہے

کہ اسلامی جمہوریہ ایران تنہا نہیں ہے، بلکہ دنیا بھر کے مسلمان، خصوصاً برصغیر کے مؤمنین، ہر مشکل گھڑی میں اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔

قم المقدسہ میں ہندوستانی طلاب کے یہ موکب درحقیقت صرف خدمت کے مراکز نہیں بلکہ اتحاد، اخوت، ایثار اور بیداری کے ایسے روشن مینار بن چکے ہیں جو پوری دنیا کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ جب امتِ مسلمہ ایک ہو جائے تو کوئی طاقت اسے تنہا نہیں کر سکتی[7]۔

حوالہ جات

  1. Datt, Ruddar & Sundharam, K.P.M. , "۷", Indian Economy, p. 90٬97٬98٬100
  2. قانون اساسی هند، بخش ۱۷، ماده ۳۴۳
  3. https://fa.wikipedia.org/wiki
  4. ملا احمد تتوی، آصف خان قزوینی (۱۳۸۲). تاریخ الفی. اول. تهران: شرکت انتشارات علمی فرهنگی. ص. ۱به نقل از https://fa.wikipedia.org/wiki
  5. وبگاه دوستداران ایران در هند
  6. رہبرِ امت کی قربانیاں اور فکر آج بھی امتِ مسلمہ کے لیے مشعلِ راہ ہیں: نمائندہ ولی فقیہ ہند-شائع شدہ از:20 اپریل 2026ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 20 اپریل 2026ء
  7. قم المقدسہ میں ہندوستانی طلاب کے 14 موکب ایرانی عوام کی خدمت میں مصروف، اخوت اور بے مثال یکجہتی کا تاریخی منظر-شائع شدہ از: 21 اپریل 2026ء-اخذ شدہ بہ تاریخ:22اپریل 2026ء