حامد الحق
حامد الحق | |
---|---|
![]() | |
دوسرے نام | مولانا حامد الحق حقانی |
ذاتی معلومات | |
یوم پیدائش | 26مئی |
پیدائش کی جگہ | خیبر پختونخوا ضلع نوشہرہ پاکستان |
یوم وفات | 28فروری |
وفات کی جگہ | اکوڑہ خٹک |
مذہب | اسلام، سنی |
مناصب | جمعیت علمائے اسلام کا سربراہ |
حامد الحق مولانا حامد الحق حقانی ایک پاکستانی سیاست دان اور اسلامی اسکالر ہیں جہنوں نے 2002سے 2007 تک پاکستان کی 12 ویں قومی اسمبلی کے ارکان کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ وہ اپنے والد سمیع الحق کے قتل کے بعد جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ بن گئے تھے۔ انہیں جمعہ 28 فروری 2025ء کو جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کی مسجد میں ایک خودکش دھماکے میں نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں وہ شہید ہو گئے۔
سوانح عمری
وہ 26 مئی 1968ء کو اکوڑہ خٹک میں پیدا ہوئے اور انہوں نے دینی تعلیم دارالعلوم حقانیہ ہی سے حاصل کی۔ اکوڑہ خٹک خودکش دھماکے میں شہید نائب مہتمم دارالعلوم حقانیہ مولانا حامد الحق حقانی، مولانا سمیع الحق شہید کے بڑے صاحبزادے تھے۔ وہ 26 مئی 1968ء کو اکوڑہ خٹک میں پیداہوئے اور انہوں نے دینی تعلیم دارالعلوم حقانیہ ہی سے حاصل کی۔
تعلیم
سمیع الحق حقانی کی پہلی بیوی کے دوسرے بیٹے حامد الحق نے اپنی دینی اور دنیاوی تعلیم اپنے دادا مولانا عبدالحق سے مدرسہ کے احاطے میں واقع حقانیہ ہائی اسکول سے حاصل کی۔ انہوں نے نوشہرہ ڈگری کالج سے اسلامیات میں بیچلرز مکمل کیا اور 80 کی دہائی کے آخر میں پنجاب یونیورسٹی سے ماسٹرز کیا، شہید حامد الحق نے سیاسی کیرئیر کا آغاز 1985 میں جمعیت علمائے اسلام (س) کے طلبہ ونگ اسلامی جمعیت طلبہ سے بطور سیکریٹری جنرل کیا۔
تعلیمی سرگرمیاں
خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ کی جہانگیرہ تحصیل کے قصبے میں واقع مشہور دارالعلوم حقانیہ کے نائب مہتمم اور جمیعت علما اسلام س کے سربراہ مولانا حامدالحق حقانی جمعہ کی نماز کے بعد مدرسے کی مرکزی مسجد میں ہونیوالے خودکش دھماکے میں شہید ہوگئے ہیں۔ نومبر 2018 میں اپنے والد اور دارالعلوم حقانیہ کے سربراہ مولانا سمیع الحق کے قتل کے بعد مولانا حامد الحق حقانی نے جمعیت علما اسلام (س) کی باگ ڈور سنبھالی تھی، مولانا سمیع الحق کو راولپنڈی میں ان کی رہائش گاہ پر متعدد بار چاقو کے وار کرکے قتل کیا گیا تھا۔
نوشہرہ کے قریب واقع اکوڑہ خٹک میں دارالعلوم حقانیہ کو مولانا عبدالحق حقانی نے ستمبر 1947 میں قائم کیا تھا، جس کی سربراہی بعد میں مولانا سمیع الحق کے ذمہ آئی، افغان جنگ کے دوران بیشتر افغان طلبا نے اسی مدرسے سے تعلیم حاصل کی اور بعد میں تحریک طالبان کی بنیاد رکھی۔ ذرائع کے مطابق مقتول مولانا حامد الحق حقانی اس پاکستانی وفد کا حصہ تھے، جنہیں عنقریب افغان طالبان سے مذاکرات کے لیے افغانستان جانا تھا۔
مولانا کا دورۂِ افغانستان اور پختونخوا کے حالات
دارالعلوم حقانیہ گزشتہ کئی برسوں سے تنازعات میں گھرا رہا ہے، خاص طور پر ان الزامات کی وجہ سے کہ اس کے کچھ طلبا سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل سے منسلک تھے، لیکن مدرسے نے اس مقدمے میں ملزمان کے ساتھ کسی قسم کے تعلق سے انکار کیا تھا۔ بی بی سی کے مطابق، دارالعلوم حقانیہ کے قابل ذکر سابق طلبا میں امیر خان متقی، عبداللطیف منصور، مولوی احمد جان، ملا جلال الدین حقانی، مولوی قلم الدین، عارف اللہ عارف، اور ملا خیر اللہ خیرخواہ جیسی نمایاں طالبان شخصیات شامل ہیں[1]۔
سیاسی سرگرمیاں
مولانا حامد الحق حقانی ایم ایم اے کے ٹکٹ پر 2002ء سے 2007ء تک قومی اسمبلی کے رکن بھی رہے۔ مولانا سمیع الحق کی 2018ء میں شہادت کے بعد وہ جمعیت علما اسلام (س) کے سربراہ اور دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے نائب مہتمم منتخب ہوئے، ان کے چچا مولانا انوار الحق دارالعلوم حقانیہ کے مہتمم ہیں۔
مولانا حامد الحق حقانی کے دادا مولانا عبدالحق حقانی قومی اسمبلی کے رکن رہے اور وہ عملی سیاست میں سرگرم تھے جبکہ ان کے والد مولانا سمیع الحق ایوان بالا کے رکن رہے اور نئے مذہبی اتحادوں کے قیام کے حوالے سے انھیں ملکہ حاصل تھا.
دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے قیام میں بھی ان کا بڑا کردار تھا جنہوں نے اس سے قبل 2001ء میں امریکا کے افغانستان پر حملے کے بعد کے حالات میں دفاع افغانستان کونسل قائم کی تھی جس کے بعد کی شکل ایم ایم اے کی صورت میں دینی جماعتوں کے انتخابی کے طور پر سامنے آئی۔ مولانا حامد الحق حقانی نوشہرہ ہی سے 2002ء میں ایم این اے منتخب ہوئے اور 2007ء تک انہوں نے اس نشست سے اپنے حلقہ کی عوام کی نمائندگی کی[2]۔
دوستوں کے دوست مولانا حامد الحق حقانی سے وہ پہلی ملاقات
ضلع نوشہرہ کے قصبے اکوڑہ خٹک میں واقع دارالعلوم حقانیہ میں خود کش دھماکے کے نتیجے میں مولانا حامد الحق حقانی جان سے چلے گئے، انڈپینڈنٹ اردو کے صحافی عبداللہ جان کی ان سے پہلی ملاقات کی روداد۔ 90 کی دہائی کے وسط میں ایک موسم گرما کی بات ہے۔ میں پشاور میں انگریزی اخبار ’دی نیوز انٹرنیشنل‘ سے منسلک تھا اور دوپہر کو دفتر کی لابی میں بیٹھا اخبار بینی میں مصروف تھا۔ دفتر کے مرکزی دروازے کی جانب کوئی با آواز بلند سلام کہتا ہے۔ سر اٹھا کر دیکھا تو باریش چہرے پر مسکراہٹ سجائے، سفید شلوار قمیض اور کریم کلر کی واسکٹ میں ملبوس، سر پر پگڑی اور کندھے پر دھاری دار رومال رکھے ایک شخص تیزی سے صوفوں کی طرف بڑھتا نظر آیا۔
میرے قریب پہنچ کر وہ دبلا پتلا شخص مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھاتے ہوئے گویا ہوتا ہے: ’عبداللہ جان صاحب میرا نام حامد الحق ہے۔‘ یہ میری مولانا حامد الحق حقانی سے پہلی ملاقات تھی، جو آج ضلع نوشہرہ کے قصبے اکوڑہ خٹک میں اپنے مدرسے دارالعلوم حقانیہ میں خودکش دھماکے میں جان سے چلے گئے۔ پہلی ملاقات کے بعد مولانا حامد الحق کے ساتھ کئی نشستیں ہوئیں، جن میں انہیں ہمیشہ نہایت ملنسار، شفیق، مرنجا مرنج، خوش گفتار اور دوستوں کا دوست پایا۔
گہری مسکراہٹ اور اکثر اوقات ایک دلفریب ہنسی ان کے چہرے پر سجی رہتی۔ ان کی شخصیت میں ایک پارے جیسی بے تابی تھی۔ میری طرح مولانا حامد الحق بھی پشتو کے علاوہ ہندکو بھی روانی سے بولتے اور سمجھتے تھے اور مجھ سے ہمیشہ ہندکو میں ہی کلام کرتے۔ ان کی عادات اور مشاغل سے بالکل بھی اندازہ نہیں لگایا جا سکتا تھا کہ وہ اتنے بڑے باپ مولانا سمیع الحق کے برخوردار ہیں۔ دوستوں اور ہم عصروں کی محافل میں بیٹھتے تو ’یاروں کے یار‘ بن جاتے، جب کہ بزرگوں کے ساتھ گفتگو میں سنجیدگی اور احترام کو پوری طرح ملحوظِ خاطر رکھتے تھے۔
صحافیوں سے تعلق اور دوستی رکھنے کی عادت شاید انہیں اپنے مرحوم والد سے ورثے میں ملی تھی۔ نوشہرہ یا اکوڑہ خٹک تو ان کا اپنا علاقہ تھا، وہ پشاور اور اسلام آباد کے صحافیوں کے ساتھ بھی اچھی سلام دعا رکھتے تھے۔ 1968 میں اکوڑہ خٹک میں پیدا ہونے والے مولانا حامد الحق، مولانا سمیع الحق کے پہلی بیوی سے سب سے بڑی اولاد تھے۔ انہوں نے دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک سے حدیث اور قرآن کریم کی تفسیر کے مضامین میں ڈگریاں حاصل کر رکھی تھیں۔
بعض ذرائع کے مطابق مولانا حامد الحق حقانی اُس پاکستانی وفد کا بھی حصہ بننے جا رہے تھے، جس نے عنقریب افغان طالبان سے مذاکرات کے لیے افغانستان جانا تھا۔ وہ ہمیشہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان غلط فہمیوں کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتے رہتے اور دونوں پڑوسی ملکوں میں موجود عدم اعتماد کی فضا کو دور کرنے کی ضرورت پر زور دیتے تھے۔
مولانا حامد الحق حقانی ان چند لوگوں میں شامل تھے، جنہوں نے 2021 میں کابل کے سقوط کے بعد دنیا اور پاکستان سے طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے اور افغانستان کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کا مطالبہ کیا تھا[3]۔
مولانا سمیع الحق کے صاحبزادے جے یو آئی (س) کے قائم مقام امیر مقرر
مولانا سمیع الحق کے بغیر ہم یتیم ہوگئے ہیں، سب عہدیداران پرانے عہدوں پر بحال رہیں گے، مولانا حامد الحق۔ فوٹو: جیو نیوز اسکرین گریب نوشہرہ: جمعیت علماء اسلام (س) کی مرکزی شوریٰ نے مولانا سمیع الحق کے صاحبزادے مولانا حامد الحق کو پارٹی کا قائم مقام امیر نامزد کردیا۔ جے یو آئی (س) کی مرکزی شوریٰ کا اجلاس اکوڑہ خٹک میں ہوا جس میں مولانا سمیع الحق کے سیاسی جانشین کے ناموں پر مشاورت کی گئی۔
اس موقع پر شوریٰ نے مولانا سمیع الحق کے صاحبزادے حامد الحق کو قائم مقام امیر بنانے کی منظوری دی۔ مولانا حامد الحق کا کہنا تھا کہ مولانا سمیع الحق کے بغیر ہم یتیم ہوگئے ہیں، سب عہدیداران پرانے عہدوں پر بحال رہیں گے۔ مولانا سمیع الحق قاتلانہ حملے میں شہید ہوگئے
مولانا حامد الحق نے اپیل کی کہ مولانا سمیع الحق کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے۔ جامعہ دارالعلوم حقانیہ، جے یو آئی (س) کی مجلس شوریٰ اور حقانی خاندان کا پالیسی بیان میں کہنا تھا کہ مولانا سمیع الحق بین الاقوامی اور عالمگیر شخصیت تھے اور انہوں نے افغان جہاد کے تمام ادوار میں نمایاں کردار ادا کیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مغربی دنیا اور افغان حکومت نے مولانا سمیع الحق کو ”فادر آف طالبان“ کا لقب دیا تھا۔ جامعہ دارالعلوم حقانیہ کے پالیسی بیان کے مطابق عظیم سانحہ کے بعد عالم اسلام میں دکھ اور غم کی لہر دوڑ گئی ہے، افغان چینلز، خصوصاً سوشل میڈیا پر مولانا سمیع الحق کیخلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ بیان میں کہنا ہے کہ مولانا سمیع الحق شہید کی کسی سے ذاتی دشمنی اور عناد نہیں تھا اور ان کی شہادت اندرونی مسئلہ نہیں بلکہ افغانستان، بھارت ارو بیرونی عناصر کی سازشیں بہت حد تک شامل ہیں۔
دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے اعلامیے کے مطابق مولانا کی شہادت کو گروہی یا ذاتی تنازع کا نام دینا انتہائی بے بنیاد ہے، کچھ عناصر اور حلقے نااہلی چھپانے کیلئے حقائق کے منافی، بے بنیاد اور متضاد بیانات جاری کررہے ہیں لہٰذا مکمل تحقیقات کے بعد کسی نتیجے پر پہنچنے تک ایسے بیانات سے گریز کیا جائے اور مولانا شہید کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ یاد رہے کہ جمعیت علما اسلام (س) کے امیر مولانا سمیع الحق کو 2 اکتوبر کو اسلام آباد میں ان کی اپنی رہائش گاہ میں چھریوں کے وار کر کے قتل کردیا گیا تھا[4]۔ == دھماکے میں شہید ہونے والے مولانا حامد الحق کون تھے؟ == مولانا حامد الحق ممتاز عالم دین سمیع الحق حقانی کے صاحبزادے تھے، جنہیں ’بابائے طالبان‘ بھی کہا جاتا تھا، جنہیں 2018 میں قتل کر دیا گیا تھا، جس کے بعد حامد الحق نے پشاور سے 60 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع وسیع و عریض مدرسے میں بطور نائب مہتمم انتظام سنبھالا تھا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق دارالعلوم حقانیہ پاکستان کے بڑے اور پرانے مدارس میں سے ایک ہے، جہاں تقریباً 4 ہزار سے زائد طلبہ رہائش پذیر ہیں، جنہیں مفت تعلیم کے ساتھ کپڑے اور کھانا بھی دیا جاتا ہے، دارالعلوم حقانیہ کی ویب سائٹ کے مطابق کئی سرکردہ طالبان رہنما بشمول حقانی نیٹ ورک کے رہنما سراج الدین حقانی نے مدرسے سے تعلیم حاصل کی۔
وہ نومبر 2002 سے 2007 تک قومی اسمبلی کے رکن رہے اور 2018 میں اپنے والد کے قتل کے بعد جے یو آئی (س) کے چیئرمین مقرر ہوئے۔ مولانا حامد الحق دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین بھی رہے، جو کئی سالوں سے غیر فعال ہے، یہ کونسل بنیادی طور پر جماعت الدعوۃ اور اہل سنت والجماعت کی چھتری تلے بنایا گیا تھا، دفاع پاکستان کونسل کا قیام 2011 میں پاک-افغان سرحد پر امریکی افواج کے ہاتھوں پاکستانی افواج کی شہادت کے ردعمل میں کیا گیا تھا، تاہم یہ 2018 میں بانی مولانا سمیع الحق کے قتل کے بعد غیر فعال رہی۔ شہید مولانا حامد الحق کی قیادت میں 2023 میں دوبارہ دفاع پاکستان کونسل وجود میں آئی، جس نے مبینہ طور پر سیاست دانوں کی طرف سے ’قومی مفادات‘ کو نقصان پہنچانے کی ’سازشوں‘ سے خبردار کیا۔
مذہبی سفارت کاری
گزشتہ برس مولانا حامد الحق نے ’مذہبی سفارت کاری‘ کے ایک حصے کے طور پر افغانستان جانے والے پاکستانی علماء کے ایک وفد کی قیادت کی تھی، جہاں انہوں نے طالبان رہنماؤں سے ملاقات کی تھی، دورے کے بارے میں بات کرتے ہوئے مولانا حامد الحق نے بتایا تھا کہ اس سے اسلام آباد اور کابل کے درمیان عدم اعتماد کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔ انڈیپینڈنٹ کو 2021 میں انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مدرسہ حقانیہ نے امریکی اور افغان سفیروں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے وزیر اعظم کی میزبانی بھی کی تھی، جبکہ ان کے والد نے خطے میں مفاہمت اور امن لانے کے لیے پاکستان، افغانستان اور طالبان کے درمیان اہم ثالثی کا کردار ادا کیا ۔
مولانا حامد الحق نے انٹرویو میں کہا تھا کہ ’بہت سارے لوگ ہیں جو ہمیں الزام دیتے ہیں اور ہمیں دہشت گردی کی یونیورسٹی کہتے ہیں کیونکہ وہ اسلام کے خلاف ہیں، ہمیں ایک دہشت گرد تنظیم کا کیمپس قرار دے کر وہ لوگوں کو ہم سے اور اسلام سے خوفزدہ کرنا چاہتے ہیں۔‘ 2021 میں ڈیلی ٹائمز کے ساتھ ایک اور انٹرویو میں انہوں نے زور دیا تھا کہ پاکستان کو ’صورتحال کو مستحکم کرنے‘ کے لیے کوششیں تیز کرنے کی ضرورت ہے، مزید کہا تھا کہ اگرچہ پاکستان نے بہت کچھ کیا ہے، لیکن اسے اب بھی دہشت گرد گروپوں کی بحالی کو روکنے کے لیے ایک طویل مدتی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ شہید مولانا حامد الحق نے کہا تھا کہ ہمیں انٹیلی جنس پر مبنی پالیسیاں، مضبوط انسداد دہشت گردی قانونی فریم ورک اور غیر مراعات یافتہ لوگوں کی شکایات کو دور کرنے کی ضرورت ہے[5]۔
اکوڑہ خٹک کی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکا، 4 افراد جاں بحق
اکوڑہ خٹک کی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکا، 4 افراد جاں بحق دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے دوران دھماکے سے متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ مہر خبررساں ایجنسی کے مطابق، ڈی پی او نوشہرہ عبدالرشید کا کہنا ہے کہ امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئی ہیں، دھماکے میں جے یو آئی س کے سربراہ مولانا حامدالحق بھی زخمی ہوئے۔
مولانا حامد الحق کے بیٹے ثانی حقانی نے تصدیق کی ہے کہ دھماکے کے وقت سیکڑوں افراد مسجد میں موجود تھے اور دھماکے میں 4 سے 5 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ملی ہیں جبکہ درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ سینٹرل پولیس آفس پشاور کے مطابق مدرسہ حقانیہ اکوڑہ خٹک میں دھماکا نماز جمعہ کے بعد ہوا، مدرسہ حقانیہ اکوڑہ خٹک میں دھماکے کی نوعیت کا پتہ لگایا جا رہا ہے[6]۔
پاکستان ہرطرف سے دشمنوں کے نشانے پر ہے
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ اور دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین و نائب مہتمم جامعہ دارالعلوم حقانیہ مولانا حامدالحق حقانی نے کہا ہے کہ قادیانیوں کو کافر قرار دینے میں مولانا عبدالحق اور مولانا سمیع الحق کا کردار قابل تحسین اور قابل تقلید ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے خوشحال خان لائبریری اکوڑہ خٹک میں مولانا عبدالحق کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
کانفرنس کا اہتمام جمعیت طلبہ اسلام پاکستان کے نوجوانوں نے مولانا سمیع کی سربراہی میں کیا تھا۔ کانفرنس کی صدارت جامعہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے مہتمم اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے مرکزی نائب صدر مولانا انوار الحق حقانی نے کی۔ جبکہ مولانا حامد الحق حقانی‘ مسلم لیگ (ض) کے سربراہ اعجاز الحق اور مولانا سید محمد یوسف شاہ مہمان خصوصی تھے۔ مولانا حامد الحق حقانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پاکستان ہرطرف سے دشمنوں کے نشانے پر ہے[7]۔
وفات
خود کش حملہ آور دوڑتا ہوا مولانا حامد الحق کی طرف آیا،عینی شاہدین آج بعد نماز جمعہ اکوڑہ خٹک میں معروف عالم دین مولانا حامد الحق حقانی کی شہادت کے حوالے سے عینی شاہد کا بیان سامنے آگیا۔ دھماکے کے وقت جائے حادثہ پر موجود عینی شاہد اسد اللہ نے وی نیوز کو بتایا کہ دھماکہ نماز کی فوراً مسجد کے ایک کونے میں گیٹ کے قریب ہوا۔
عینی شاہد کے مطابق اس وقت مولانا حامد الحق نماز کے بعد باہر نکل رہے تھے کہ اساتذہ کے لیے مختص گیٹ سے ایک بندہ دوڑ کر آیا اور جوں ہی حامد الحق سے ملنے لگا ایک زور دار دھماکہ ہوا۔
رد عمل
قائد ملت جعفریہ پاکستان
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کی دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں ہونے والے خود کش حملے کی شدید مذمت قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کی سانحہ میں جاں بحق ہونے والے نمازیوں اور طلباء پر گہرے دکھ کا اظہار
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کی جانب سے ایک مرتبہ پھر دہشتگردانہ حملوں پر گہرے دکھ کا اظہار عوام کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ترجیح ہے جامع حقانیہ اکوڑہ خٹک کی دین کیساتھ اتحاد امت کیلئے گراں قدر خدمات ہیں،
مولانا حامد الحق اور ان کے خاندان کی اتحاد امت کیساتھ دین کیلئے غیر معمولی خدمات ہیں قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی کی زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی[8]۔
شبیر حسن میثمی
شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سیکرٹری جنرل علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی شبیر حسن میثمی نے مدرسہ حقانیہ اکوڑہ خٹک میں دھماکے سے شہید ہونے والوں کے لیے مغفرت اور زخمیوں کی صحت یابی کے لیے اللہ سے دعاگو ہیں۔ تکفیری دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا جائے۔ ملت جعفریہ کو مزید تیاری و ہوشمندی کی ضرورت ہے امریکہ افغانستان میں دوبارہ داخل ہونے کے در پر ہے اور ایک سازش کے تحت امریکہ ، جی ایچ کیو و تکفیری داعش مخالف اہلسنت والجماعت برادران کو نشانہ بنایا جارہا ہے جیسا کہ 2002 میں مشہور دیوبندی عالم دین کو امریکہ مخالف فتویٰ دینے پر گرومندر کراچی میں خودکش دھماکے میں شہید کردیا گیا تھا
مشہور شاعر راحت اندوری نے فرمایا تھا
لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں
یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے
ملک بھر میں تمام باشعور اہلسنت و شیعہ علما کو فوری مل کر تکفیری دہشت گردوں کیخلاف پالیسی تشکیل و عملی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ پاراچنار کے مسائل حل ہوں ورنہ حق اور شیعوں کیلئے آواز بلند کرنے والے دیوبندی علما کی شہادت کے بعد یہ فتنہ ملک بھر میں اسی طرح پھیلے گا جس کا مظاہرہ ہم نے افغانستان میں امریکہ کے داخل ہونے پر 2002 سے 2019 کے درمیان دیکھا ۔ ہم شیعیان علی ع اپنے اہلسنت برادران کے دکھ درد میں برابر کے شریک ہیں اور ہم ہر قسم کی مدد کیلئے تیار ہیں[9]۔
حوالہ جات
- ↑ خود کش حملہ آور دوڑتا ہوا مولانا حامد الحق کی طرف آیا،عینی شاہدین- شائع شدہ از: 28 فروری 2025ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 28 فروری 2025ء۔
- ↑ شہید مولانا حامد الحق حقانی کی زندگی پر ایک نظر- شائع شدہ از: 28 فروری 2025ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 28 فروری 2025ء۔
- ↑ عبد اللہ جان، ’دوستوں کے دوست‘ مولانا حامد الحق حقانی سے وہ پہلی ملاقات- شائع شدہ از: 28 فروری 2025ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 28 فروری 2025ء۔
- ↑ مولانا سمیع الحق کے صاحبزادے جے یو آئی (س) کے قائم مقام امیر مقرر- 4 نومبر 2018ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 28 فروری 2025ء-
- ↑ دھماکے میں شہید ہونے والے مولانا حامد الحق کون تھے؟- شائع شدہ از: 28 فروری 2025ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 28 فروری 2025ء۔
- ↑ اکوڑہ خٹک کی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکا، 4 افراد جاں بحق- شائع شدہ از: 28 فروری 2025ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 28 فروری 2025ء۔
- ↑ پاکستان ہرطرف سے دشمنوں کے نشانے پر ہے‘ مولانا حامد الحق- 8 ستمبر 2020ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 28 فروری 2025ء۔
- ↑ قائد ملت جعفریہ کی دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں ہونے والے خود کش حملے کی شدید مذمت-شائع شدہ از: 28فروری 2025ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 28 فروری 2025ء
- ↑ دارالعلوم حقانیہ میں دہشتگردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، علامہ شبیر حسن میثمی- شائع شدہ از: 28 فروری 2025ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 28 فروری 2025ء