احتشام الحق تھانوی
| احتشام الحق تھانوی | |
|---|---|
![]() | |
| دوسرے نام | مولانا احتشام الحق تھانوی |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 1915 ء |
| یوم پیدائش | 15مئی |
| پیدائش کی جگہ | قصبہ تھانہ بھون (یو۔ پی، بھارت ) |
| وفات | 11اپریل |
| یوم وفات | 1980ء |
| وفات کی جگہ | پاکستان سندھ |
| مذہب | اسلام دیوبندی، سنی |
| مناصب |
|
احتشام الحق تھانویخطیب پاکستان مولانا احتشام الحق تھانوی (پیدائش: 15 مئی 1915ء — وفات: 11 اپریل 1980ء) تقسیم ہندوستان سے قبل اور بعد ازاں پاکستان کے مشہور نامور خطیب، عالم، فقیہ اور محقق تھے۔ وہ دار العلوم دیوبند سے فارغ التحصیل عالم تھے اور 1980ء تک پاکستان کے علما کے حلقوں میں اُن کی موجودگی بطور نمائندہ کے تسلیم کی جاتی تھی۔
سوانح عمری
عالم دین قصبہ تھانہ بھون (یو۔ پی، بھارت ) میں پیداہوئے۔ دارلعلوم دیوبند سے دینی علوم میں سند فضیلت لی۔ تحریک پاکستان میں سرگرم حصہ لیا۔ 1948ء میں کراچی آ گئے اور جیکب لائن میں مسجد تعمیر کرائی۔
تعلیم
حافظ قرآن اور خوش الحان قاری تھے۔ 1948ء میں ٹنڈوالہہ یار (سندھ) میں دیوبند کے نمونے پر ایک دارلعلوم قائم کیا۔ مدراس (ہندوستان) میں، جہاں سیرت کانفرنس میں شرکت کے لیے گئے تھے۔ دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کیا۔
اللہ تعالی نے آپ کو بے پناہ کمالات سے نوازا تھا، آپ کی تلاوت اور شعر خوانی میں عجیب حسن پایا جاتا تھا کہ سامع مسحور ہوجاتا تھا۔ ان کی تلاوت قرآن شبکہ پر دستیاب ہے۔
15مارچ 2019ء کو سانحہ کرائسٹ چرچ (نیوزی لینڈ) مسجد میں 50مسلمانوں کی شہادت کے بعد ہونے والے نیوزی لینڈ پارلیمنٹ کے اجلاس کے شروع میں آپ کے فرزند مولانا نظام الحق تھانوی نے قرآن کی تلاوت کا شرف حاصل کیا یہ نیوزی لینڈ کی تاریخ کا پہلا موقع تھا۔
آج میڈیا کی ترقی کے دور میں میڈیا میں موجود اسلام پسند لوگ خطیب پاکستان کے افکار کو اپنی نیک کوششوں سے میڈیا پر لاکر زیادہ سے زیادہ مستفید ہوسکتے ہیں.
اس دنیائے فانی میں بے شمار لوگ آئے اور اپنی مدت حیات پوری کرکے چلے گئے، مگر ایسے خوش نصیب کم ہی ہوں گے جو عوام الناس کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں، ایسا ہی ایک نام خطیب پاکستان حضرت مولانا احتشام الحق تھانوی کا ہے۔
مولانا احتشام الحق تھانویؒ 1915 میں کیرانہ ضلع مظفر نگر (یوپی انڈیا) میں پیدا ہوئے، آپ کے والد محترم کا نام حضرت مولانا ظہور الحق تھا، آپ کا نسب سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملتا ہے۔
آپ نے حفظ قرآن اٹاوہ میں مکمل کیا، فارسی تعلیم مدرسہ عربیہ میرٹھ سے حاصل کی، ابتدائی عربی تعلیم مشہور دینی درسگاہ مظاہر علوم سہارنپور میں حاصل کی اور اس کے بعد درس نظامی کی تعلیم کی تکمیل کے لیے 1930میں دنیا کی معروف دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند میں داخل ہوئے اور وہاں سے 1937 میں فراغت حاصل کی اور 1937 میں ہی پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل کی سند حاصل کی،
دوران تعلیم کسی بھی قسم کی سیاست سے دور رہے اور تمام تر توجہ اپنی تعلیم پر صرف کی۔ احتشام الحق تھانوی کے اساتذہ ان کے ذوق حصول تعلیم سے خوش تھے، مولانا کا روحانی و نسبی تعلق حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ سے تھا۔
تبلیغی سرگرمیاں
مولانا احتشام الحق نے 1939سے نئی دہلی میں اپنی تبلیغی سرگرمیوں کا آغاز کیا، اسی زمانے سے حضرت کی نامور سیاسی شخصیات سے بھی ملاقات رہی جن میں خان لیاقت علی خان، خواجہ ناظم الدین اور سردار عبدالرب نشتر وغیرہ جیسے بڑے نام شامل ہیں۔
23 مارچ 1940 کو جب قرارداد پاکستان منظور ہوئی تو مولانا اشرف علی تھانوی نے دو قومی نظریے کی بنیاد پر اس قرارداد کا خیرمقدم کیا اور حصول پاکستان کی کوششوں میں پیش پیش افراد کے عقائد و اعمال کی اصلاح کی خاطر مجلس دعوۃ الحق کی بنیاد رکھی۔ حضرت 1930سے اگست1947 تک اللہ کے فضل سے اسی مجلس دعوۃ الحق میں تبلیغی خدمات سرانجام دیتے رہے۔
اس دوران مولانا کو 1945 کے الیکشن میں شرکت کے لیے نوابزادہ خان لیاقت علی خان کی جانب سے پیغام موصول ہوا جس پر حضرت نے معذرت کرلی اور سیاست میں براہ راست شرکت سے دور رہے۔
حضرت نے پاکستان کی حمایت میں جابجا تقریریں کیں اور دینی مقصد سے متعلق پاکستان کا تصور پیش کرتے رہے مگر اس کے باوجود اپنے اکابر کے مشورے پر انھوں نے نہ کبھی الیکشن میں حصہ لیا اور نہ کسی سیاسی جماعت میں شرکت قبول کی۔
انھوں نے 1940 سے 1947 تک صرف تبلیغی جدوجہد میں اپنا وقت صرف کیا۔9اگست 1947 میں جب تقسیم پاک و ہند کی منزل قریب آگئی تو مولانا کراچی تشریف لائے اور کچھ عرصے بعد جیکب لائن کے اسی علاقے میں تشریف لائے جہاں آج جامع مسجد تھانوی واقع ہے، جو اس وقت ایک چھوٹی مسجد ہوتی تھی۔
تعلیمی سرگرمیاں
حضرت مولانا احتشام الحق تھانوی نے ہندوستان سے آئے بے یارومددگار مہاجرین کی آبادکاری میں نوابزادہ خان لیاقت علی خان کے ساتھ مل کر اہم کردار ادا کیا۔
مولانا احتشام الحق تھانویؒ نے پاکستان میں دارالعلوم دیوبند اور جامعہ ازہر کی طرز کے پہلے پاکستانی مدرسے دارالعلوم ٹنڈوالٰہ یار میں جید علمائے کرام کو جمع فرمایا، آج جو پاکستان بھر میں مدارس دینیہ نظر آتے ہیں وہ حضرت ہی کے لگائے ہوئے درخت دارالعلوم ٹنڈوالٰہ یار کی شاخیں ہیں۔
قادیانیت کے خلاف جد وجہد
جب 1952 میں فتنہ قادیانیت اٹھا تو اس میں بھی مولانا احتشام الحق تھانوی نے مرکزی کردار ادا کیا، قادیانیت کے خلاف مولانا احتشام الحق تھانوی نے تمام مکاتب فکر کے جید علما جن میں مولانا عبدالحامد بدایونی، مفتی جعفر حسین مجتہد، مولانا محمد یوسف کلکتوی اور مولانا لال حسین اختر کے ساتھ مل کر آل پارٹیز مسلم کانفرنس بلائی اور اس کانفرنس میں طے کیا گیا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔
اسی تحریک کی بنیاد پر بالآخر 1974 میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا۔ آج قادیانیوں کو اقلیت قرار دلوانے کا سہرا کچھ لوگ اپنے سر باندھتے ہیں جو سراسر غلط ہے۔
مولانا احتشام الحق تھانوی نے 1952 اور 1956 کی دستور ساز میں بھی اپنے دینی منصب کے لحاظ سے اہم کردار ادا کیا۔ اپنی مسلسل محنت اور انتھک کوششوں کو جاری رکھتے ہوئے 1956 کا آئین پاس کرانے میں کامیابی حاصل کی۔
گوکہ یہ دستور سابقہ متفقہ دستور نہیں تھا مگر یہ دستور کافی حد تک اسلامی تھا اور اسی دستور کے تحت لفظ اسلام پاکستان کا جزو بنا اور پورا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہوگیا، جب کہ اس سے قبل صرف جمہوریہ پاکستان ہی کہا جاتا تھا۔پاکستان میں رویت ہلال کمیٹی کے قیام میں بھی مولانا احتشام الحق تھانویؒ نے کلیدی کردار ادا کیا۔
جب ایوب خان کے دور حکومت میں عائلی کمیشن تشکیل دیا گیا تو مولانا تھانوی اس کمیشن کے واحد عالم رکن تھے۔
مولانا نے عائلی کمیشن میں اختلافی نوٹ لکھا اور اس کے خلاف آواز حق بلند کی تو حکومت نے چاند کے مسئلے کو اسلامک ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر فضل الرحمن اور محکمہ موسمیات کے حوالے کردیا، جب خطیب پاکستان نے اس کے خلاف آواز اٹھائی تو حضرت کو 29 فروری 1967 میں قید و بند کی صعوبتیں اٹھانا پڑیں۔
مگر مولانا نے کبھی حق گوئی اور صداقت سے منہ نہ موڑا۔وفاق المدارس عربیہ پاکستان کی بنیاد رکھنے میں بھی مولانا احتشام الحق تھانوی نے مرکزی کردار ادا کیا، جس کا مقصد مدارس دینیہ کی شیرازہ بندی، درس و تدریس، نظم و نسق اور نصاب کتب و تربیت کا طریقہ کار وضع کرنا تھا۔
انھوں نے ریڈیو پاکستان پر ایک عرصے تک عوام الناس کی اصلاح کی خاطر درس قرآن اور درس حدیث کا سلسلہ جاری رکھا اور اخبارات میں قرآن کریم کی تفسیر کا سلسلہ جاری رکھا۔ مولانا احتشام الحق تھانوی 26 مارچ 1980 کو کراچی سے دہلی روانہ ہوئے اور وہاں سے دیوبند گئے اور وہاں سے تھانہ بھون اور بھارت کے مختلف شہروں کا تبلیغی دورہ کیا۔
مولانا تقریباً پچیس سال بعد مدراس تشریف لے گئے تھے اور متعدد شہروں میں وہاں کی انتظامیہ نے جلسے اور دیگر پروگرامز منعقد کیے تھے۔
خطیب پاکستان کے مداحوں اور عشاق نے حضرت کے روحانی علوم و فیوض سے خوب استفادہ کیا اور 3 اپریل سے 10 اپریل تک خطیب پاکستان کو روز و شب مصروف رکھا، 10 اپریل 1980 کو بعد نماز عشا ایک عظیم الشان سیرت کانفرنس منعقد ہوئی۔
جس میں مولانا کے سحر انگیز بیان نے اہل مدراس کے ایمان کو نئی جلابخشی، یہ خطاب اور عام اجتماع مولانا احتشام الحق تھانوی کی زندگی کا آخری خطاب اور آخری اجتماع بھی ثابت ہوا اور 11 اپریل 1980، نماز جمعہ کی تیاری میں مصروف تھے کہ اچانک حضرت کو دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔
مولانا احتشام الحق تھانوی کا جسد خاکی خصوصی پرواز سے دہلی سے کراچی لایا گیا۔ خطیب پاکستان کا مدفن جامع مسجد تھانوی جیکب لائن کے پہلو میں واقع ہے۔آج میڈیا کی ترقی کے دور میں میڈیا میں موجود اسلام پسند لوگ خطیب پاکستان کے افکار کو اپنی نیک کوششوں سے میڈیا پر لاکر زیادہ سے زیادہ مستفید ہوسکتے ہیں
اور عوام الناس کو بھی استفادہ کے موقع مل سکتا ہے، نئی نسل کو حضرت مولانا احتشام الحق تھانوی کے پیغام حق سے آگاہ کیا جائے، جس سے نئی نسل آج کے فتنوں کے دور میں علمائے حق کو پہچان سکے اور علمائے سُو کے فتنوں سے بچ سکے[1]۔
فلسطین اور کشمیر کے لیے جد و جہد
میرے عظیم والد ماجد خطیب پاکستان مفسر قرآن حضرت مولانا احتشام الحق تھانوی کو آج مسلمانان پاکستان سمیت پوری امت مسلمہ سے جدا ہوئے 46 سال ہوگئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔
حضرت مولانا احتشام الحق تھانوی معدودے چند کے علاوہ دنیا بھر میں 90۔95 فیصد حضرات و افراد کی نظر میں بے حد محبوب مقام رکھتے ہیں اور آج بھی سینہ بہ سینہ دادا و نانا اور بیشتر والدین کے ذریعے پوتوں اور نواسوں کے دلوں میں ان کی محبت و عقیدت منتقل ہوچکی ہے۔
حضرت مولانا کی شخصیت اور اللہ کی ودیعت کردہ درجنوں خوبیاں اور اوصاف نیز اخلاق حسنہ اور معاشرتی دینی و دنیاوی سیرت و کردار کا کماحقہ‘ احاطہ کرنے کے لیے بلا جھجک اس لفظ کا سہارا لینا پڑتا ہے کہ ’’جوئے شیر لانے‘‘ کے مترادف لگتا ہے۔
بہت سے لکھنے والے اس نصف صدی میں لکھ کر چلے گئے لیکن آج بھی ان کی ہردلعزیز شخصیت کا حق ادا نہ کرسکے۔۔ عاشقوں اور عقیدتمندوں کا لکھا ہوا ایک ایک حرف میرے خاندان اور نسل نو کے سینوں کا تمغہ اور سروں کا تاج ہے۔
لیکن مَیں حضرت مولانا احتشام الحق تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا ساتویں نمبر کا بیٹا، 56 سال سے ہنوز ان کے پابہ قدم رہ کر یہاں تک پہنچنے والا (عندالخلق والعوام) سمجھا جانے والا قبول صورت جانشین ’’اللہم استقِم‘‘تنویر الحق تھانوی کو قلم اٹھانے کی سعادت ملی ہے۔
میں آج اپنے والد محترم کی ہمہ گیر شخصیت پرکچھ اس انداز سے لکھنے کی کوشش کروں گا کہ 46 سالہ اس جدائی کے دوران کوئی بھی نہیں لکھ پایا۔۔ شاید۔ قارئین محترم! 46 سالہ جدائی اور محرومی نعمت کے اس طویل عرصہ میں احقر کے سامنے حضرت کی جانشینی کے عوض بیشتر ثمرات و قدرے مضرّات کا ایک بے کراں ہجوم ہے کہ آج 68 سالہ عمر میں قویٰ واعضاء کے انحطاط اور کمزوری ونا توانی کی جملہ کیفیات کے ہوتے ہوئے بھی ایک ایک ذرہ صاف صاف نظر آجاتا ہے الحمدللہ۔
لیکن مَیں صرف اور صرف ثمرات کا دامن تھامے رکھنے کی کوشش کروں گا۔ اس 46 سالہ جانشینی کے دوران آج تک بھی 90۔95 سال کے عمر رسیدہ حضرات سمیت ادھیڑ عمر 50-40 سال کی عمروں تک تو سب تقریباً وہ لوگ تھے یا یقینا اب بھی بقید حیات ہوں گے،
کہ جنہوں نے حضرت مولانا احتشام الحق تھانویؒ کو خوب خوب دیکھا ہوگا، 50 سال والوں کے سامنے توسنی سنائی باتیں ہوں گی کیونکہ 50 سال والا تو، بہ وقت وصال 4 ہی سال کا ہوگا جس کے سامنے سب کچھ دھندلا ہی ہوسکتا ہے۔
غرضیکہ ہر شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے کراچی سمیت پاکستان بھر میں اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں (امریکہ و کینیڈا) کے علاوہ، جو بھی بزرگ ملے، زیادہ تر تو حلیے لباس وضع قطع اور سب سے اہم عطیۂ خداوندی یعنی انداز تلاوت قرآن سے پہچان گئے، بہت سے ایسے بھی ملے کہ قدرے سوالات اور بات چیت کے نتیجے میں پہچان گئے، اور پھر پُرتپاک انداز میں چونک کر واہ واہ اور عش عش کر اٹھے کہ اوہو! اتنی بڑی ہستی کی اولاد ہیں آپ؟
لیکن میرے قارئین بھائیو اور بہنو! بلامبالغہ لکھ رہا ہوں کہ سب کا یہ کہنا ہوتا تھا اور ہوتا ہے کہ ارے صاحب! ہمیں یاد ہے کہ جیکب لائن مسجد میں مولانا احتشام الحق تھانویؒ شب قدر میں لائٹس آف کرکے جو دعا کراتے تھے، آپ کے والد ، وہ لا الٰہ الاّ اللہ کے اشعار، مزہ آجاتا تھا کیا آواز تھی دلوں پر اثر کرجاتی تھی، اور صاحب ! قرآن پڑھنے کا انداز بھی بڑا منفرد تھا وغیرہ وغیرہ، سن کے فوری طور پر خوشی ہوتی
لیکن کچھ دیر کے بعد ملال اور احساس کمتری سا ہونے لگتا تھا وہ اس طرح کہ یار بس! مولانا احتشام الحق تھانوی کی فقط یہی ایک خوبی تھی بس گلا اور ترنم اور آواز کی چاشنی بس! اور کچھ نہیں۔
برا نہ مانیے گا جہاں آپ نے ملک پاکستان کے مایہ ناز گلوکار اور گویّوںکی آواز اور گائیکی کو پسند کیا اُسی زمرے میں اتنی بڑی ہستی حضرت مولانا احتشام الحق تھانوی کو بھی مختص و محدود کردیا۔
جبکہ تحریک پاکستان میں حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی رہنمائی میں قائد اعظم محمد علی جناح کے شانہ بہ شانہ کام کیا۔ قیام پاکستان کے کٹر حامی و خیرخواہ تادم آخر رہے۔ سالمیت پاکستان کے لیے کیا کچھ نہیں کیا؟ 1951ء میں تمام مکاتیب فکر کے جید علماء کو جمع کرکے اسلامی نظام کے نفاذ کی سہولت کے لیے 22 بنیادی نکات مرتب کیے۔
1957ء میں محرک اعظم بن کر ابھرے اور وفاق المدارس کی تنظیم بنائی۔ غرضیکہ ایک طول طویل فہرست ہے جو آج بھی لکھنے والوں کی تحریروں میں مل جائیں گی۔ آخر میں مَیں پاکستان کے پڑھے لکھے طبقوں کو سچائی کا آئینہ دکھانا چاہوں گا کہ
مولانا احتشام الحق تھانوی کی فراست ایمانی‘ مبنی برحقیقت پیشین گوئیاں ظالم و جابر حکمرانوں کے غیر اسلامی اور غیر شرعی اقدامات کی ڈٹ کر مخالفت اور ارباب سیاست کے ہر 5 سال بعد غیرفطری جوڑ توڑ اور نفاذ اسلام کی آڑ میں جمہوریت کی بربادی پر قوم کو وقت سے پہلے آگاہ کرنا، ایک موقع پر پوری قوم کو آگاہ کردینا کہ یہ ۹ پارٹیوں کا اتحاد افغانستان کے ساتھ مل کر سرحد و بلوچستان کو علیحدہ کرکے گریٹر پختونستان بنانے کی سازش ہے ۔
کیا آج یہ بات 50 سال کے بعد ایک حقیقت نہیں بن چکی۔ نام نہاد جہاد افغانستان کو پہلے دن سے مولانا احتشام الحق تھانویؒ کی دوربین نگاہوں نے یکسر مسترد کردیا تھا۔ میرے والد حضرت مولانا احتشام الحق تھانویؒ کٹر پاکستانی تھے، تمام عمر وہ کشمیر فلسطین، برما اور ایتھوپیا کے مظلوم مسلمانوںکی آزادی اور بعض فوجی حکومتوں سے اختلاف کے باوجودافواج پاکستان کے لیے ہمیشہ ہمیشہ دعا خیر کرتے رہے[2]۔
خطابت
مولانا احتشام الحق تھانویؒ دنیائے اسلام میں ایک بلند پایہ عالمِ دین اور مایہ ناز خطیب کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے، اب ان جیسا حق گو، جری عالم پوری دنیا میں نظر نہیں آتا، وہ بہت سی خوبیوں کے مالک تھے، لوگ کہہ دیتے ہیں کہ تھانوی نہ تھے،
بلکہ کیرانوی تھے، اوّل تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، کیرانے کا فاصلہ تھانہ بھون کی طرف سے صرف دس میل کا ہے اور یہ کوئی فرق نہیں ہوتا، دوسرے ان کی والدہ جو حکیم الامت مجدد الملت مولانا اشرف علی قدس سرہ کی علاتی بہن تھیں وہ تھانہ بھون کی تھیں اور بحکم ’’ابن اخت القوم منہم‘‘(قوم کی بہن کا بیٹا بھی انہیں میں سے ہوتا ہے) پھر بھی تھانوی ہوگئے، تیسرے یہ کہ نسبت جیسے وطن سے ہوتی ہے، علم و فضل سے بھی ہوتی ہے۔
چوتھے وطن ہی کی نسبت لی جائے تو میں خود اس کا شاہد ہوں کیونکہ وطن دراصل وہ نہیں ہوتا، جہاں کوئی پیدا ہو یا جہاں جائیداد رکھتا ہو، جب کہ سفر میں پیدا ہونے والوں اور غریبوں کا بھی کوئی نہ کوئی وطن ہوتا ہے اور یہ ضروری نہیں کہ جو باپ کا وطن ہو، وہی وطن ہو بلکہ اصل وطن وہ ہے، جہاں آدمی مستقل بودوباش کی نیت کرلے اور جہاں اس کی قصر نماز جائز نہیں۔
مولانا تھانوی ؒ نے دہلی کی ملازمت کے زمانے میں خود مجھ سے کہہ دیا تھا کہ تھانہ بھون میں میرے لئے مکان دلوادو، میں اب یہاں ہی رہا کروں گا، اگرچہ موقع نہ مل سکا، اس لئے نیت کے اعتبار سے وطن تھانہ بھون بنالیا تھا، اس لئے بھی وہ تھانوی ہوگئے تھے،
پانچویں یہ کہ حضرت حکیم الامت تھانویؒ کی مجلس میں یہ طے ہوا کہ پاکستان میں کام کرنے والے یہی لوگ ہوں گے، جو آج کل نئی دہلی میں کام میں لگے ہوئے ہیں۔ سب سے اہم کام نئی دہلی میں تبلیغ کرنا ہے، اگر یہ اسلام پر جم گئے، تو پورے پاکستان کے لئے یہ تبلیغ نعمت ثابت ہوگی۔
یہ طے ہونے پر حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نے 1940ء میں مولانا احتشام الحق مرحوم کو نئی دہلی کے لئے خانقاہ امدادیہ اشرفیہ تھانہ بھون سے ایک مبلغ مقرر کرکے کام میں لگادیا اور پاکستان کے بڑے بڑے وزراء اور حکام میں جو کچھ اثر اسلام کا دیکھا گیا ہے،
جیسے لیاقت علی خان، سردار عبدالرب نشتر، خواجہ ناظم الدین اور محمد علی جناح (وغیرہم) کا دینی رجحان صرف تھانہ بھون کی وجہ سے تھا کیونکہ حضرت حکیم الامتؒ نے مجلس دعوۃ الحق کے نام سے علماء کی ایک تنظیم اعلیٰ حکام کی تبلیغ کے لیے تشکیل دی تھی اور مولانا احتشام الحق صاحب بھی اسی مجلس کے پروگرام کے مطابق نئی دہلی میں تبلیغ دین کا کام کررہے تھے۔
۲۲ نکاتی دستور، دینی مدارس کا قیام یعنی 1949ء میں سندھ میں دارالعلوم الاسلامیہ (اشرف آباد) ٹنڈوالٰہ یار، دارالعلوم دیوبند کی طرز پر متبادل کے طور پر پاکستان کا سب سے پہلا دینی مدرسہ شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ کی خواہش کے مطابق حضرت مولانا احتشام الحق تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے معاصرین کے ساتھ مل کر قائم فرمایا تھا [3]
اور دینی مسائل پر اہم اجتماعات وغیرہ جو نمایاں کارنامے نظر آرہے ہیں یہ سب تھانہ بھون کا کام ہے اور اسی تھانوی جماعت کے حضرات کی کاوشوں کا نتیجہ ہے تو مولانا چونکہ خانقاہ تھانہ بھون کے مبلغ تھے اس لئے بھی تھانوی کہلاسکتے ہیں بلکہ وہ سب لوگ بھی جنہوں نے حضرت حکیم الامت تھانویؒ کا اثر قبول کیا وہ سب تھانویؒ کہلاسکتے ہیں۔
پھر بھائی بہن کے واسطہ سے بھی داماد بھی اپنے داماد ہوتے ہیں ان کے نواسہ داماد اور پوتا داماد بھی اپنے ہیں تو حکیم الامت تھانوی کے حقیقی بھائی منشی اکبر علی صاحب مرحوم کی نواسی سے مولانا کی شادی ہوئی ہے تو ان کے نواسہ داماد قرار پائے تو حضرت حکیم الامت کے بھی نواسہ داماد ہوئے معلوم نہیں اس میں خلجان کیوں پیدا ہوا ہے۔
یہ اعتراضات گویا اس بات کی دلیل ہیں کہ مولانا میں (ان زباں زدِ عام خرافات کے علاوہ از تنویر) کوئی عیب نہ تھا، نہ ہے۔ تھانوی کہلانا اور حکیم الامت کا داماد لکھ دینا کوئی عیب نہیں، وہ تھانوی بھی پکے تھے اور حکیم الامت کے نواسہ داماد بھی پکے تھے۔ ویسے بھی مولانا ایک کریم النفس انسان تھے، وہ اخلاق کریمانہ میں یکتائے عالم تھے، ہمارے نزدیک مولانا احتشام الحق تھانوی مرحوم کی شخصیت شک و شبہ سے بالاتر تھی انہوں نے عمر بھر دین اسلام کی بے لوث خدمت انجام دی ہے۔ دارالعلوم الاسلامیہ ٹنڈوالہ یار سندھ اور جامع مسجد جیکب لائن کراچی مولانا کی عظیم یادگار ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے[4]۔
اصلاح معاشرہ میں ان کا کردار
آپ نے اپنی زندگی میں سیکڑوں جلسوں سے خطاب کیا، لاکھوں افراد کی اصلاح کی۔ خطیب الامت ، حافظ، الحاج مولانا احتشام الحق تھانوی ان علما حق میں سے تھے جن کا علم و فضل زہد و تقویٰ اور خلوص وللہیت ایک امر مسلمہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
آپ اپنے دور کے محدث، مفسر، مدبر، محقق، متکلم اور مایہ ناز خطیب تھے،آپ قصبہ کیرانہ ضلع مظفر نگر کے رئیس خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے والد مولانا ظہور الحق تھا نوی ایک بڑے زمیندار، متقی اور اپنے زمانے کے جید عالم تھے۔
حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی سے بیعت تھے آپ کی والدہ مولانا اشرف علی تھانوی کی حقیقی بہن تھیں اور بڑی عابدہ زاہد خاتون تھیں۔ آپ اسی دینی علمی گھرانے میں 1915 میں شہر اٹاوہ میں پیدا ہوئے۔
پھر ہوش سنبھالتے ہی اپنے ماموں حکیم الامت تھانوی کی خدمت میں تھانہ بھون آگئے اور دس بارہ سال ہی کی عمر میںہی کی زیرنگرانی قرآن مجید حفظ کیا۔ پھر انھی کے حکم پر مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور میں داخل ہوئے۔
اور مولانا عبداللطیف اور مولانا محمد ذکریا صاحب کاندھلوی کی خصوصی شفقت و عنایت کا مرکز بنے رہے، اعلیٰ تعلیم کے لیے مرکز علوم اسلامیہ دارالعلوم تشریف لے گئے اور 1937 میں حدیث و تفسیر، فقہ و کلام، منطق و فلسطہ اور دیگر علوم دینیہ کی تعلیم درجہ اول میں پاس کرکے سند فراغت حاصل کی۔
آپ کے اساتذہ میں مولانا سید حسین احمد مدنی ، علامہ شبیر احمد عثمانی، مولانا اعزاز علی امروہیؒ، مفتی اعظم مولانا محمد شفیع دیوبندیؒ اور علامہ محمد ابراہیم بلیادیؒ شامل ہیں۔
دیوبند سے فراغت کے بعد آپ نے الٰہ آباد یونیورسٹی اور پنجاب یونیورسٹی سے فاضل اور مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا۔ اپنے اساتذہ اور بزرگوں کے حکم پر دینی و تبلیغی خدمات میں مصروف ہوگئے۔
آپ کی تبلیغی خدمات کا آغاز دہلی کی جامع مسجد سے ہوا جہاں آپ باقاعدہ امامت کے ساتھ ہر جمعہ خطاب دیتے۔ اس میں مرکز کے سرکاری ملازمین کے علاوہ مرکزی اسمبلی اور کونسل آف اسٹیٹ کے ممبران بڑی تعداد میں شریک ہوتے ان ارباب حکومت میں لیاقت علی خان مرحوم، خواجہ ناظم الدین، مولانا ظفر علی خان، مولوی تمیزالدین، سردار عبدالرب نشتر، سر عبدالعلیم غزنوی اور سر عثمان وغیرہ حضرات بڑے ذوق و شوق سے شریک ہوتے تھے۔
آپ نے مولانا اشرف علی تھانوی کی قائم کردہ مجلس دعوت الحق کے پروگرام کے مطابق جدید تعلیم یافتہ طبقہ میں اور بالخصوص حکومت ہند سے متعلق سرکاری ملازمین اور اعلیٰ حکام میں تبلیغی خدمات انجام دیں۔ پھر شبیر احمد عثمانی کی قائم کردہ جمعیت علما السلام میں شامل ہوگئے جو تحریک پاکستان کے حامی علما پر مشتمل تشکیل کی گئی تھی۔
تحریک پاکستان میں کردار
علامہ شبیر احمد عثمانی ، ظفر احمد عثمانی، مفتی محمد شفیع دیوبندی، مولانا اطہر علی سلہٹی اور دیگر اکابرین کے شانہ بشانہ تحریک پاکستان کے حق میں دورہ فرماتے رہے اور سرحد کا ریفرنڈم کامیاب کروایا۔
پھر 1947 میں قیام پاکستان سے آٹھ روز قبل علامہ عثمانی کی معیت میں کراچی تشریف لائے اور مہاجرین کی آبادکاری میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور ملک و قوم کی خدمات انجام دیتے رہے، پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد سب سے بڑا اور اہم کام اس کے دستور کی ترتیب و تشکیل کا مسئلہ تھا جس کے لیے ان حضرات نے یہ خدمات انجام دی تھیں۔
قیام پاکستان کے فوراً بعد اس مہم کا آغاز حضرت علامہ عثمانی کی زیر قیادت ہوا اور اس میں سب سے اہم کردار مولانا احتشام الحق تھانوی کے حصے میں آیا، چنانچہ اس مقصد کے لیے مولانا موصوف نے بھارت کا سفر کیا اور منتخب جید علما اور مفکرین میں سے علامہ سید سلیمان ندوی، مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندی، مولانا سید مناظر احسن گیلانی اور ڈاکٹر حمید اللہ کو پاکستان لائے۔
ان حضرات نے علامہ عثمانی کی نگرانی میں اسلامی دستور کے اصول پر ایک دستوری خاکہ تیار کیا جو مرکزی اسمبلی میں قرارداد مقاصد کے نام سے منظور ہوا۔ اس کے علاوہ دوسرا اہم کام دینی تعلیم کی اشاعت کا تھا اور علامہ عثمانی نے پاکستان میں بھی دارالعلوم دیوبند کی طرز پر ایک مرکزی درسگاہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے قیام کی ذمے داری بھی حضرت مولانا تھانوی مرحوم کے سپرد کی گئی۔
مولانا موصوف نے اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کے ساتھ باحسن وجوہ ان خدمات کو انجام دیا اور حیدر آباد سندھ کے مضافات میں ٹنڈو الٰہ یار کے مقام پر ایک عظیم الشان مرکزی دارالعلوم قائم کیا جس میں اکابر مدرسین کو جمع کیا۔ ہزاروں افراد ملک و بیرون ملک سے یہاں سے فارغ التحصیل ہو کر دینی خدمات میں مصروف ہیں اس کے علاوہ جیکب لائن کراچی میں ایک مسجد تعمیر کرائی۔ اس کے ساتھ ساتھ کراچی اور دوسرے علاقوں میں متعدد دینی مدرسے اور مکتب قائم کیے، جہاں سے قرآن و حدیث کی آواز بلند ہو رہی ہے۔
ان کی ساری زندگی ملک و ملت اور اسلام کی خدمت میں گزری۔ آپ نے ہر چیلنج کا مقابلہ کیا۔ 1951 میں جب اسلامی دستور کے مسئلے میں ارباب حکومت کی طرف سے علما کو چیلنج دیا گیا کہ اسلامی فرقوں کے درمیان باہم افاق و اتحاد نہیں ہے تو اس نازک موقع پر حضرت مولانا کی ذات گرامی تھی
جس نے اپنی جدوجہد اور خداداد صلاحیتوں سے ہر مکتب فکر کے جید علما کو اپنی قیام گاہ پر جمع کیا اور متفقہ طور اسلامی مملکت کے بائیس بنیادی اصول مرتب کرکے حکومت کو پیش کیے۔ مولانا نے آیندہ کے لیے یہ منہ بند کردیا کہ علما میں اتفاق نہیں۔ آپ نے اتفاق و اتحاد کی یہ ایک مثال قائم کردی اور یہ نادر کارنامہ ہمیشہ تاریخ میں یادگار رہے گا۔
آپ نے اپنی زندگی میں سیکڑوں جلسوں سے خطاب کیا، لاکھوں افراد کی اصلاح کی، پاکستان و ہندوستان کے علاوہ ایران، افغانستان، برما، انڈونیشیا، فلپائن، امریکا، برطانیہ، بنگلہ دیش، افریقہ اور سعودی عرب وغیرہ ممالک میں تبلیغی خدمات انجام دیتے رہے۔ عرصہ تک ریڈیو پاکستان سے درس قرآن دیتے رہے جس کا کوئی معاوضہ نہیں لیا۔ ملک کے چپے چپے پر آپ کی آواز گونجی مگر کسی سے کوئی ہدیہ یا نذرانہ وصول نہیں کیا۔ آپ کی مسحور کن اور دلکش آواز اور خطابت نے ہزارہا دلوں کو تڑپایا۔
اسی طرح مفتی اعظم مولانا محمد شفیع فرمایا کرتے تھے کہ مولانا احتشام الحق کے بعد کسی کی تقریر کی ضرورت نہیں رہتی وہ مجمع پر چھا جاتے ہیں۔
ایک دفعہ مدرسہ اشرفیہ سکھر کے جلسے میں مولانا احتشام الحق کی تقریر کے بعد منتظمین جلسہ نے برکت کے لیے مفتی اعظم رحمۃ اللہ سے تقریر کے لیے اصرار کیا تو انھوں نے فرمایا کہ کیوں مخمل میں ٹاٹ کا پیوند لگانا چاہتے ہو؟
بہرحال مولانا موصوف خطابت کے بادشاہ تھے اور اس وقت خطیب اعظم اور خطیب الامت تھے۔ آپ اپنی دوسری صفات کے علاوہ اخلاق و عادات میں اسلاف کا نمونہ تھے۔ زہد و تقویٰ اور علم و فضل کا پہاڑ تھے۔
مولانا مفتی رشید احمد لدھیانوی مہتمم مدرسہ اشرف المدارس کراچی فرماتے ہیں کہ مولانا مرحوم کو اللہ تعالیٰ نے سب سے بڑی دولت یہ عطا فرمائی تھی کہ حق گوئی میں آپ کے لیے کبھی کوئی امر مانع نہ ہوا آپ جبل استقامت تھے مال و منصب کی پیش کش قریب سے قریب تر تعلق بڑے سے بڑے شہسوار گھٹنے ٹیک دیتے ہیں۔ ان میں سے کوئی امر بھی آپ پر کبھی شہ بھر بھی کوئی اثر نہ کرسکا۔
آپ نے 11 اپریل 1980 بروز جمعہ وفات پائی۔ لاکھوں عقیدت مندوں نے اپنے محبوب رہنما کی نماز جنازہ پڑھی اور آپ ہی کی جامع مسجد جیکب لائن کے صحن کے ایک حصے میں تدفین عمل میں آئی۔ دنیائے اسلام کے علما و صلحا اور زعما ملت نے آپ کی وفات کو عالم اسلام کا عظیم نقصان قرار دیا[5]۔
وفات
خطیب پاکستان کے مداحوں اور عشاق نے حضرت کے روحانی علوم و فیوض سے خوب استفادہ کیا اور 3 اپریل سے 10 اپریل تک خطیب پاکستان کو روز و شب مصروف رکھا، 10 اپریل 1980ء کو بعد نماز عشا ایک عظیم الشان سیرت کانفرنس منعقد ہوئی۔
جس میں مولانا کے سحر انگیز بیان نے اہل مدراس کے ایمان کو نئی جلابخشی، یہ خطاب اور عام اجتماع مولانا احتشام الحق تھانوی کی زندگی کا آخری خطاب اور آخری اجتماع بھی ثابت ہوا اور 11 اپریل 1980ء کو نماز جمعہ کی تیاری میں مصروف تھے کہ اچانک حضرت کو دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔
حوالہ جات
- ↑ خطیب پاکستان مولانا احتشام الحق تھانوی-شائع شدہ از: 12 اپریل 2015ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 19 اگست 2026ء
- ↑ مولانا احتشام الحق تھانوی کٹر پاکستانی-شائع شدہ از: 11 اپریل 2026ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 20 اگست 2026ء
- ↑ از قلم تنویر الحق 7-7-21
- ↑ مولانا احتشام الحق تھانویؒ-شائع شدہ از: 11 اپریل 2025ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 19 اگست 2026ء
- ↑ حضرت مولانا احتشام الحق تھانویؒ-شائع شدہ از: 11 اپریل 2021ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 20 اگست 2026ء
