مندرجات کا رخ کریں

محمد عثمان مروندی

ویکی‌وحدت سے
محمد عثمان مروندی
پورا ناممحمد عثمان مروندی
دوسرے ناملعل شہباز قلندر
ذاتی معلومات
پیدائش1143ء
پیدائش کی جگہایران آذربائیجان کے قصبہ "مَروَند"
وفات1274ء
یوم وفات21 شعبان
وفات کی جگہسندھ پاکستان
مذہباسلام، سنی

محمد عثمان مروندی، جو لعل شہباز قلندر (1177ء تا 1274ء) سے مشہور ہے جن کا اصل نام سید عثمان مروندی تھا، سندھ میں مدفون ایک مشہور صوفی بزرگ ہیں۔ ان کا مزار سندھ کے علاقے سیہون شریف میں ہے۔ وہ ایک مشہور صوفی بزرگ، شاعر، الٰہیات دان، فلسفی اور قلندر تھے۔ ایران کے شہر مرند میں پیدا ہوئے۔ وہ حضرت شهباز لعل قلندر کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ مرند کے معزز "سید کبیر" خاندان میں پیدا ہوئے۔ آپ فارسی کے ممتاز صوفی بزرگ، شاعر، صاحبِ علم، صاحبِ کرامت درویش تھے اور آپ کا کلام عرفانی رنگ لیے ہوئے ہے۔ آپ ایک ایسے ایرانی صوفی ہیں جو ایران میں نسبتاً کم معروف ہیں، جبکہ برصغیر میں "قطب العارفین" کے لقب سے پہچانے جاتے ہیں۔ ۶۲۲ہجری میں آپ نے مشرق کی جانب ہجرت کی اور ملتان میں قیام فرمایا۔ بعد ازاں ۲۱ شعبان ۶۷۳ ہجری کو، تصوف کی خدمت اور برصغیر میں اسلام کی اشاعت کے لیے ایک طویل زندگی وقف کرنے کے بعد، آپ نے وفات پائی [1].

باب الاسلام سندھ

ساتویں صدی ہجری کی ایک دوپہر ڈھل رہی تھی کہ درویشوں کا ایک قافلہ مختلف علاقوں میں نیکی کی دعوت دیتا ہوا باب الاسلام سندھ کے ایک علاقے میں پہنچا۔ ان دنوں باب الاسلام سندھ برائىوں اور بدکارىوں کى آماجگاہ تھا۔ ہر طرف گناہوں کا دور دورہ تھا[2]۔

اس علاقے میں خاص طور پر کفر و شرک اور فحاشی وبدکاری عام تھی ۔بعض علاقے تو ایسے تھے کہ جہاں مسلمانوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی۔دینی معلومات نہ ہونے کے باعث لوگ زندگى کے ہر شعبے مىں بے راہ روى اور معاشرتى برائىوں کا شکار تھے ۔

لوگوں کى اَخلاقى حالت اَبتر تھی اسی وجہ سے جگہ جگہ ”برائی کے اڈے“ قائم تھے ۔ درویشوں کا یہ قافلہ ايك ایسے محلے میں ٹھہرا جہاں ہر طرف چہل پہل تھی ۔شام ڈھلتے ہی چراغ روشن ہونے لگے ، شام نے رات کا لبادہ اوڑھا تو گانے بجنے لگے ، عورتیں سرِعام گناہ کی دعوت دینے لگیں، اوباش نوجوان گناہوں کے بھنور کی طرف کھنچتے چلے جارہے تھے ۔

یادِ الہی میں مگن درویش یہ دیکھ کر بہت پریشان ہوئے اور اپنے اميرِ قافلہ سے عرض کرنے لگے : حضور! یہاں قیام کرنا ہمارے لیے مناسب نہیں، کہیں اور چلتے ہیں یہ تو بہت ہی بُری جگہ ہے ۔

امیرِقافلہ نے فرمایا : ہم یہاں اپنی مرضی سے نہیں آئے بلکہ بھیجے گئے ہیں۔ امیرِقافلہ کا جواب سُن کر درویش مطمئن ہو گئے ۔جوں توں رات گزری ، صبح گناہوں کا بازار سرد پڑ چکا تھا۔

اگلی رات درویش یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ بازار میں کل جیسی رونق نہ تھی۔ دوسری طرف برائی کے اڈوں پر بھی اوس پڑ چکی تھی، جو بھی آتا محلے میں داخل ہوتے ہی الٹے پاؤں واپس لوٹ جاتا ۔

اب تو یہ معمول ہی بن گیا، بازار کی رونقیں ختم ہونے لگیں۔ ایک دن ساری عورتیں جمع ہوئیں اور کہنے لگیں : جس دن سے یہ درویش یہاں آئے ہیں ہمارا تو کاروبار ہی ٹھپ ہو گیا ہے ۔

انہیں یہاں سے نکالو ورنہ ہم تو بھوکے مر جائیں گے ۔ چنانچہ وہ ان درویشوں کے پاس آئیں اور کہا : بابا ”آپ صوفی لوگ ہیں یہاں آپ کا کیا کام ، یہ گناہوں کی جگہ ہے ، یہاں سے چلے جائیں آپ کی وجہ سے ہمارا کام بند ہو رہا ہے “۔

درویشوں کے امیرِ قافلہ نے فرمایا : ’’ہم یہاں جانے کے لیے نہیں آئے ، اب تو ہمارا مزار بھی یہیں بنے گا۔ البتہ اگر تمہیں کوئی مسئلہ ہے تو تم یہاں سے چلی جاؤ ۔‘‘امیرِ قافلہ کا جواب سن کر انہیں پریشانی لاحق ہوگئی۔

چونکہ بڑے بڑے زمىندار اور رؤسا یہاں تک کہ خود راجہ بھی ان گناہوں میں شریک تھا لہذا انہوں نے راجہ کو شکایت کر دی۔ راجہ نے اپنے سپاہیوں سے کہا : درویشوں سے کہو یہاں سے چلے جائیں ورنہ انہیں زبردستی نکال دیا جائے گا۔

تبلیغی سرگرمیاں

راجہ کا حکم پاتے ہی سپاہی درویشوں کے قافلے کی طرف روانہ ہوئے ابھی قریب بھی نہ پہنچے تھے کہ اچانک انکے پاؤں زمین نے پکڑ لیے ۔ سپاہیوں نے قدم اٹھانے کے لیے بہت جتن کیے مگر بے سود۔

انہوں نے واپس پلٹنے کی کوشش کی تو زمین نے پاؤں چھوڑ دیے ۔ سپاہی گھبرا کر واپس لوٹ گئے ۔ وہ عورتیں حیرت میں ڈوبی یہ منظر دیکھ رہی تھیں انکے دل کی دنیا زیروزبر ہوگئی اور وہ دلی طور پر اس بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی معتقد ہوچکی تھیں، بے ساختہ اس بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ (جو کہ اس قافلے کے امیر بھی تھے )کے قدموں میں گر کر تائب ہوگئیں اور دائرہ اسلام میں داخل ہوگئیں۔

ان کی دیکھا دیکھی مرد بھی ان بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے دستِ حق پرست پر تائب ہو کر دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے [3]۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ بلند رتبہ درویش کون تھے ؟ جی ہاں! یہ کوئی اور نہیں بلکہ بابُ الاسلام سندھ کی پہچان حضرت لعل شہباز قلندر سیّدمحمدعثمان مَروَندی کاظمی حنفی قادری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی تھے اور دوسرے درویش آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے مرید اور خادم تھے ۔

آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے سیہون شریف ضلع دادو بابُ الاسلام سندھ تشریف لا کرکفروشرک کے گھٹاٹوپ اندھیروں میں بھٹکنے والوں کواسلام کے پاکىزہ اُصُولوں سے روشناس کراىا۔

اس ظُلمت کدے مىں اسلام کى شمع روشن کی۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی آمد سے بابُ الاسلام سندھ میں اسلام کى روشنی پھیلتی چلی گئی۔ لوگ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی پُرتاثیر دعوت پر جوق درجوق دائرہ اسلام میں داخل ہونے لگے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے احکامات اور سرکاردوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی میٹھی میٹھی سنتوں کی روشنی میں زندگی بسرکرنے لگے ۔سُطُورِذیل میں نیکی کی دعوت کے عظیم داعی ، مُبَلِّغِ اسلام حضرت لعل شہباز قلندر سید محمد عثمان مَروَندِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکے مختصر حالات زندگی پیش کیے جاتے ہیں۔

ولادت اور سلسلہ نسب

حضرت سیدنا لعل شہباز قلندر محمد عثمان مَروَندی ساداتِ کرام کے مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، کی ولادتِ باسعادت مشہور قول کےمطابق ۵۳۸ھ بمطابق 1143ء میں آذربائیجان کے قصبہ ’’مَروَند‘‘ میں ہوئی [4]۔

اسی مناسبت سے آپ کومَروَندِی کہا جاتاہے ۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا نام سید محمد عثمان ہے جبکہ آپ اپنے لقب ’’لعل شہباز‘‘ سے مشہور ہیں [5]۔

اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کو اس قدر حسن و جمال عطا فرمایا تھا کہ آپ کی پیشانی کے نورکے سامنے چاندنی بھی مات تھی ۔حضرت علامہ مولانا میر سید غلام علی آزاد بلگرامی فرماتے ہیں : ’’ آپ کاسلسلہ نسب تیرہ واسطوں سے حضرت سیدناامام جعفر صادق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ تک پہنچتاہے ۔

سلسلہ نسب

سلسلۂ نسب یوں ہے : سیدعثمان مروندی بن سید کبیر بن سید شمس الدین بن سیدنورشاہ بن سیدمحمودشاہ بن سیّد احمد شاہ بن سیّد ہادی بن سیّد مہدی بن سیّدمنتخب بن سیّدغالب بن سیّد منصوربن سیّداسماعیل بن سیدناامام محمدبن جعفر صادق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہم [6]۔

قلندر کہنےکی وجہ

آپ سلسلہ قلندریہ سے بھی تعلق رکھتے تھے اسی لئے آپ کو قلندر کہا جاتا ہے ۔برِصغیر میں سلسلہ قلندریہ نے حضرت شاہ خضر رومی (مُتَوَفّٰی ۵۹۹ھ)سے شہرت پائی [7]۔

قلندر کون ہوتاہے ؟

قلندر خلافِ شرع حرکتیں کرنے والے کو نہیں کہا جاتا، جیسا کہ فی زمانہ بے نمازی ، داڑھی چٹ ، خلافِ شرع مونچھیں، عورتوں کی طرح لمبے لمبے بال ، ہاتھ پاؤں میں لوہے کے کَڑے پہننے والے لوگ کہتے پھرتے ہیں کہ ہماری تو قلندری لائن ہے ،

مَعَاذَ اللہ، حالانکہ صوفیائے کرام کی اصطلاح میں قلندر شریعت کے پابند کو ہی کہا جاتا ہے چنانچہ مصنفِ کُتُبِ کَثِیرہ، خلیفۂ مفتیٔ اعظم ہند فیضِ مِلَّت حضرت علامہ مولانا مفتی فیض احمد اویسی رضوی نقل فرماتے ہیں : ’’قلندر وہ ہے جو خلائقِ زمانہ سے ظاہری اور باطنی تجربہ حاصل کر چکا ہو، شریعت و طریقت کا پابند ہو ۔ ‘‘ مزید فرماتے ہیں : ’’دراصل صوفی اور قلندر ایک ہی ذات کا نام ہے [8]۔

القاب کی وجہ تسمیہ

آپ عَلَیْہ کے چہرۂ انور پر لال رنگ کے قیمتی پتھر ’’ لعل“ کی مانندسرخ کرنیں پھوٹتی محسوس ہوتی تھیں اسی مناسبت سے آپ ”لعل“کے لقب سے مشہور ہوئے جبکہ ”شہباز“ کا لقب بارگاہِ امامِ حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے عطا ہوا۔

چنانچہ منقول ہے کہ ایک رات آپ کے والدِ ماجد حضرت سیدنا کبیرالدین امام ِعالی مقام حضرت سیدنا امام حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی زیارت سے فیض یاب ہوئے ، سیّدُناامام حسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا : ہم تمہیں وہ شہباز عطا کرتے ہیں جو ہمیں ہمارے نانا جان ، رحمتِ عالَمیان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم سے عطا ہواہے ۔

اس بشارت کے بعدحضرت لعل شہبازقلندر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الصَّمَد کی ولادت ہوئی اور آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ ولایت کے اعلیٰ مراتب پر فائز ہوگئے [9]۔

بچپن اور ابتدائی تعلیم

آپ کا ابتدائی سلسلۂ تعلیم والدِ گرامی کے زیرِ سایہ تکمیل پایا۔ چونکہ والدین پرہیز گاری اور زیورِ علم سے آراستہ وپیراستہ تھے اس لیے بچپن ہی سے آپ والوں کی محبتیں اورصحبتىں مىسر آئىں۔ جس کے نتیجے میں فُىُوض و بَرکات اور علمِ دىن کے گہرے نُقُوش آپ کی لوحِ قلب پر مُنَقَّش ہوئے ۔ یوں بچپن ہی میں نىکی اور راست بازى آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا شِعار بن چکی تھی [10]۔

حفظِ قرآن اور مسائلِ دینیہ

اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کو غیرمعمولی قوّتِ حافظہ سے نوازا تھا۔ آپ نے جونہی پڑھنے کی عمر میں قدم رکھا تو آپ کو علاقے کى مسجد مىں دینِ اسلام کی ابتدائی تعلیم کے حصول کے لیے بھیجا گیا۔

والدہ ماجدہ کی دلی خواہش تھی کہ میرا بیٹا خوب علم دین حاصل کرے ۔ چنانچہ آپ نے والدہ ماجدہ کی خواہش کوعملی جامہ پہنانے کے لیے اپنے گاؤں کى مسجد میں ابتدائی تعلیم کا آغاز کیا۔

آپ چونکہ مادرزاد ولی تھے لہذا جلد ہى آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے قرآن پاک پڑھنے کے ساتھ ساتھ ابتدائى دىنى مسائل بھى سىکھ لىے ۔ چھ برس کى عمر تک دىن کے چىدہ چىدہ مسائل اور نماز روزہ اور طہارت کے بارے مىں ضرورى مسائل سے آپ کو مکمل طور پر آگاہى حاصل ہوچکى تھى۔

سعادت مند والدین کی مدنی تربیت نے قرآن پاک حفظ کرنے کا شوق وجذبہ بیدار کیا تو سات سال کى عمر مىں قرآن مجىد بھی حفظ کرلىا۔ اس کے بعددیگر علومِ دینیہ کی تحصیل میں مصروف ہو گئے اور بہت جلد مُرَوَّجہ عُلُوم و فُنُو ن کے ساتھ ساتھ عربى اور فارسى زبانوں مىں بھى مہارت حاصل کرلى [11]۔

والدین کا داغِ مفارقت

دستورِ قدرت ہے کہ جسے جتنا بلند مقام عطا کیاجاتا ہے اتنی ہی آزمائشوں اور امتحانات سے گزارا جاتا ہے ۔ حضرت سیدنا لعل شہباز قلندر کے امتحان کا وقت آچکا تھا۔ ایامِ زیست(زندگی کے دنوں) کی گنتی اٹھارہ سال کو پہنچی تو والد ماجد داغِ مَفارقت دے گئے ، ابھی یہ زخم تازہ تھا کہ دو سال بعد والدہ ماجدہ بھى داعیٔ اَجَل کو لبیک کہہ گئیں۔

چنانچہ آپ مزید علمِ دین کے شوق میں گھربار چھوڑ کر راہ خدا عَزَّ وَجَلَّکے مسافر بن گئے اور علمائے کرام کى بارگاہ سے وراثت ِانبیاء یعنی علم اور صوفیائے کرام کی بارگاہ سے خزینۂ روحانیت جمع کرنے میں مصروف ہو گئے [12]۔

حضرت لعل شہباز قلندر سنی تھے

حضرت سیّدنا لعل شہباز قلندر صحیح العقیدہ سُنی اورحنفی المذہب تھے ۔آپ نے ساری زندگی اہلِ سنّت کے جلیل القدر علمائے کرام اور مشائخِ عُظّام ہی کے ساتھ دوستی اور نشست وبرخاست رکھی نیزان ہی کے ساتھ سفر بھی فرمائے ۔حضرت سیّدنالعل شہباز قلندر اپنی ایک نعتیہ غزل کے آخری مصرع میں اپنا عقیدہ یوں بیان فرماتے ہیں :۔

عثمان چو شد غلام نبی و چہار یار

امیدش از مکارم عربی محمد است

یعنی : عثمان جب ہوگئے حضور نبیٔ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کے چاروں یاروں(حضرت صدیق اکبر، حضرت عمرفاروق، حضرت عثمان غنی اور حضرت علی المرتضٰی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ )کے غلام۔۔۔ اُس کو امید ہے محمدِ عربی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کے اخلاق و عادات سے [13]۔


حضرت سیدنا عثمان مروندی المعروف لعل شہباز قلندر علم و حکمت کی دولت سمیٹتے سمیٹتے جب کربلائے معلی پہنچے توحضرت سیدنا امام موسىٰ کاظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی اولاد سے ایک بزرگ حضرت سیدنا شىخ ابواسحاق سید ابراہىم قادری کے دستِ اَقدس پر بیعت ہوئے اور تقرىباً ۱۲ماہ تک پیرومرشدکے زیرِسایہ سلوک کی منزلیں طے فرماتے رہے ۔

پیرومرشد حضرت سیدنا ابراہیم قادری کی نظرِ ولایت نے جب اس بات کا مشاہدہ کیا کہ یہ اب مریدِ کامل بن کر طریقت کی اعلیٰ منزلیں طے کرچکے ہیں تو انہوں نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو خرقۂ خلافت و اجازت سے نوازا اور خدمتِ دین کے لیے راہِ خدا میں سفر کرنے کی ہدایت فرمائی [14]۔

بعض سیرت نگاروں نے لکھا کہ آپ حضرت سیدنا شیخ بہاؤالدین زکریا ملتانی سہروردی كے مریدو خلیفہ تھے [15]۔

مرشد کےحکم پرعمل

آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے مرشدِ کریم نے چونکہ خدمت ِ دین کے لئے کوئی خاص منزل متعین نہ فرمائی تھی اس لئے آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پیرو مرشد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے فرمان پر لبیک کہتے ہوئے اَن دیکھے راستوں پر نکل کھڑے ہوئے اور شہر بہ شہر گاؤں بہ گاؤں نیکی کی دعوت کی دھومیں مچانے میں مصروف ہوگئے [16]۔

ہمعصروہمسفر

حضرت سیدنا لعل شہباز نے نیکی کی دعوت عام کرنے کے لئے مختلف اولیائے کرا م کے ساتھ مدنی قافلوں میں سفر کیا۔جن اولیائے کرام اور صوفیائے عُظَّام کى صحبتوں سے فیض یاب ہوئے اور راہِ خداکے مسافر بنے ۔

ان میں سَرِ فہرست :

  • حضرت سیدنا شىخ فرىدالدین گنج شکر
  • حضرت سیدنا بہاؤ الدىن زکرىا ملتانى
  • حضرت سیدنا مخدوم جہانىاں جلال الدىن بخاری (صوفیاء کی اصطلاح میں ان تین اور چوتھے حضرت لعل شہباز قلندر کو چار یار کہتے ہیں ۔
  • حضرت سیدنا شىخ صدرالدىن عارف کا نام ِ نامی اسم ِ گرامی شامل ہے[17]۔

مزارات پر حاضری

حضرت سیّدنالعل شہباز قلندرطریقت کی منازل طے کرنے میں مصروف تھے اور اس دوران اپنے اپنے وقت کے برگزیدہ اولیائے کرام سے روحانی فیض حاصل کرنے کے لئے انکے مزارات پر حاضری بھی دیتے رہتے چنانچہ مشہد شریف میں حضرت سیّدناامام علی رضا اور کوفہ (بغداد) میں امام الائمہ، سِراجُ الاُمَّۃ، ابوحنیفہ نعمان بن ثابت کے مزارِ اَقدس پر حاضری دے کر فُیُوض وبَرَکات حاصل کئے [18]۔

غوثِ پاک کے مزار پر

حضرت سیّدنالعل شہباز قلندررَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ پیرانِ پیر روشن ضمیر حضور غوثِ اعظم محی الدین سید ابومحمدعبدالقادر جیلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیکے مزار شریف پر حاضر ہوئے ، مراقبے کے دوران آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کو سیّدناغوثِ اعظم کی زیارت ہوئی ، سیّدنا غوثِ پاک رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا : عثمان !اب مکہ مُعَظَّمہ چلے جاؤاور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے گھر کی زیارت کرو [19]۔

سفرِ حج اور فکرِ مدینہ

لعل شہباز قلندر نے مشہورومعروف علماواولیاسے اِکتِسابِ علم و روحانیت کے بعد آقائے دوجہاں، سردار انس و جاںصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے درِپاک پر حاضری کا ارادہ فرمایا۔ چونکہ حج کے ایام قریب تھے لہٰذااِحرام باندھا اور چل پڑے ۔

لعل شہباز قلندر پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا خوف غالب تھا یہاں تک کہ جب آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سفرِ حج پر روانہ ہو رہے تھے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خُفیَہ تدبیر کا خیال آگیا اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ یوں فکرِ مدینہ فرمانے لگے : ’’اے عثمان! تم سواری پر سوار حجِ بیتُ اللہکے لیے جارہے ہو اور عنقریب تمہارا جنازہ بھی روانہ ہو گا۔تم نے آخرت کے لیے کیا توشہ تیار کیا ہے ؟اسی خوفِ خداکے ساتھ بیتُ اللہ شریف پہنچے ، حج کی سعادت پائی اور انوارِ الہی کی بارش سے خوب مستفیض ہوئے ۔( سیرت حضرت لعل شہباز قلندر، ص۷۲)

زیارتِ مدینہ

حجِ بیتُ اللہسے مُشَرَّف ہونے کے بعدمدینہ منورہ میں نبیٔ محترم، شفیعِ مُعَظَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہِ مُحتَشَم میں حاضر ہوئے اورعشق ومحبت میں ڈوب کر اپنے پیارے آقا و مولیٰ محمد مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر خوب خوب درود و سلام کے گجرے نچھاور کیے [20]۔

منقول ہے کہ روضۂ رسول پر حاضر کیا ہوئے جد ا ہونے کو جی ہی نہ چاہتا تھا، لہذا گیارہ ماہ تک درِرسول پر حاضر رہے ۔اگلے سال پھر حج کی سعادت پائی اور ہندوستان کا سفر اختیار فرمایا۔بَرِصغیر پاک و ہند میں آپ کی منزل سیہون شریف ضلع دادو باب الاسلام سندھ تھی چنانچہ آپ پہلے مرکزالاولیاء لاہور تشریف فرما ہوئے ۔

قلندر اور باب الاسلام آمد

حج کے بعد سرکاردوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے درِاقدس پر حاضر ہوئے اور وہیں سے ہندوستان کے لیے رختِ سفر باندھا چنانچہ وہاں سے عراق پہنچے اور کچھ عرصہ وہیں قیام فرمایا پھر تبلیغ قرآن و سنّت کا عظیم فريضہ سرانجام دیتے ہوئے بلخ ، بخارا اور مختلف علاقوں سے ہوتے ہوئے باب الاسلام سندھ مىں جلوہ فرما ہوئے

آپ کی عادتِ کریمہ تھی کہ ایک جگہ قیام نہ فرماتے بلکہ اکثرمدنی قافلے کے مسافر رہتے چنانچہ آپ نے مدینۃ الاولیاءملتان، مرکز الاولیاء لاہور اور پھر ہندوستان کے دیگر شہر اجمیر، گرنار، گجرات ، جونا گڑھ، پانی پت، کشمىر وغیرہ کا سفر اختیار فرمایا اور خوب نیکی کی دعوت کی دھومیں مچائیں[21]۔

اجمیر شریف حاضری

آپ ے تقریباً چالیس دن تک اجمیر شریف میں سلطان الہند حضرت سیّدنا خواجہ معین الدین سید حسن چشتی کے مزارِ پُر انوارکے سائے میں قیام فرمایا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہیہاں عبادتِ الٰہی میں مصروف رہتے اور باطنی فیوض و برکات سے مالا مال ہوتے [22]۔

سندھ کا مقدر جاگ اٹھا

ان دنوں برصغیر ہندوستان کے مختلف اطراف میں اولیاء و صوفیائے کرام شمعِ اسلام روشن کیے ہوئے تھے ۔ وسطِ ہند اور جنوبى پنجاب مىں چشتى سلسلے کے بزرگ توحىد ورسالت کادرس دے رہے تھے اور خاندانِ سہروردیہ کا فیضان دہلی تا ملتان پھیلا ہوا تھامگر ابھی تک باب الاسلام سندھ فیوض و برکات سے خاص حصہ نہ رکھتا تھا۔

لعل شہباز قلندرپانی پت میں حضرت سیدنا بوعلی قلندرکے پاس پہنچے تو انہوں نے باب ا لاسلام سندھ کو نوازنے کی استدعا کی اورفرمایا : ’’ہند میں تین سو قلندر ہیں ، بہتر ہو گا کہ آپ (باب الاسلام) سندھ تشریف لے جائیں ۔‘‘آپ کے مشورے پر حضرت لعل شہباز قلندر باب الاسلام سندھ تشریف لے آئے [23]۔

دشتِ شہباز

لعل شہباز نے جب باب الاسلام سندھ کی طرف رخت سفر باندھا تو راستے میں مکران مىں وادى پنج گورکے قریب قیام فرمایایہاں ہزاروں مکرانى بلوچوں نے آپ کے دست حق پرست پر توبہ کی اور شمع اسلا م کے پروانے بن گئے ۔ یہ میدان آج بھى آپ کے لقب کی نسبت سے ’’دشتِ شہباز‘‘ کہلاتا ہے ۔ یہاں کے مقامی لوگ آج بھی آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی عقیدت اور محبت کا دم بھرتے نظر آتے ہیں [24]۔

ضعیف العمری میں بھی قافلے

آپ ضعیفُ العمر ی کے باوجود صحت مند اور چاک و چوبند تھے ۔ منقول ہے کہ جب آپ سىہون تشرىف لائے تو اس وقت آپ کى عمر سو سال سے کچھ زائد تھى، اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہآخری ایام میں بھی حسبِ عادت نیکی کی دعوت عام کرنے کے لیے سفر فرماتے تھے [25]۔

علماکاادب

آپ علم کے بہت ہی قدردان تھے نیز اہلِ علم کے مقام ومرتبے کا لحاظ فرمایاکرتے تھے ۔ نماز کى امامت بہت کم فرماتے ، ہمىشہ ىہ کوشش رہتی کہ پاس موجود علمائے کرام مىں سے کوئى امامت کروائے [26]۔

علمی مقام اور تدریس

آپ زبردست عالمِ دین تھے ۔ لِسانیات اور صرف و نحومیں آپ کو یدِ طولیٰ حاصل تھا۔فارسى اور عربى پر کامل دَسترَس رکھتے تھے نیزآپ زبردست شاعربھی تھے ۔آپ نے کچھ مضامىن پر کتابىں بھى لکھى ہىں جن میں سے صرف صغیر قسم دوئم، اجناس اور میزان الصرف کےبارے میں کہا جاتا ہے کہ اُس دورکے مدارس کے نصاب میں بھی شامل تھىں [27] ۔

آپ مدرسہ بہاؤ الدىن (مدینۃالاولیاء ملتان شریف) میں فارسى اور عربى میں تدریس کے فرائض بھی انجام دیتے رہے ۔

سىہون شرىف مىں مدرسہ’’فقہ الاسلام‘‘ تھا جس کے بارے میں منقول ہے کہ وہ آپ نے قائم فرمایا تھا جبکہ ایک دوسرى رواىت میں ہے کہ یہ مدرسہ پہلے سے قائم تھا البتہ آپ نے اس کی تعمیر وترقی میں اہم کردار ادا کیا یہاں تک کہ آپ کے دور میں اس جیساعالى شان مدرسہ پورے باب الاسلام سندھ مىں نہ تھا۔

تِشنگانِ علم دُوردراز سے علم کی پیاس بجھانے سیہون آتے یہاں تک کہ اسکندرىہ (مصر)جىسے دور دراز علاقے سے طلبہ اس مدرسہ مىں تحصىلِ علم کے لىے حاضر ہوتے تھے ۔

یہ وہ دور تھا کہ سیہون باب الاسلام سندھ علم و علما کا مرکز تھا اور حضرت لعل شہباز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ علما کى اس کہکشاں مىں مثلِ آفتاب تھے [28]۔

سجادہ نشین

آپ کے سجادہ نشین آپ کے محبوب مریدوخلیفہ حضرت سیدنا علی سرمست ہوئے ۔ آپ کے بارے میں منقول ہے کہ جب قلندر بغداد شریف سے باب الاسلام سندھ تشریف لائے تو آپ بھی ان کے ساتھ تشریف لائے تھے ۔ آپ کے وزىر مشہور تھے [29]۔

اشعار

رسيدم من به دريايي كه موجش آدمي خوار است

نه كشتي اندر آن دريا نه ملاحي،عجب كار است

شريعت كشتيي باشد طريقت بادبان او

حقيقت لنگري باشد كه راه فقر دشوار است

چو آبش جمله خون ديدم،بترسيدم ازین دريا

به دل گفتم چرا ترسي، گذر بايد كه ناچار است

ندا از حق چنين آمد مگر ترسي زجان خود؟

هزاران جان مشتاقان درين دريا نگونسار است

بگفتم من همي آيم كه هستم من چو غواصان

چه ترسم از نهنگاني كه گل پيوسته با خار است

ايا عثمان مروندي سخن با پرده داري گو

نيابي در جهان ياري، جهاني پر ز اغيار است [30].

بارانِ رحمت کا نزول

منقول ہے کہ ایک بار سىہون شرىف اور اس کے اردگردکے علاقوں مىں شدید قحط پڑا یہاں تک کہ کھانے کى کوئى چىز دور دور تک دکھائى نہ دىتى، نہریں خشک ہوگئىں، کنوئىں سوکھ گئے ، پانى کاملنا دشوار ہوگیا۔

قحط کی وجہ سے اس قدر خوفناک صورت حال ہوگئى کہ زندہ بچنے کى کوئى امىد دکھائى نہ دىتى تھى۔ آخر کار اہلِ علاقہ اکٹھے ہو کر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکى خانقا ہ کے گرد جمع ہوئے اور فریاد کرنے لگے ۔

حضرت لعل شہباز قلندر نے امربالمعروف اور نہی عن المنکر(نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا) کا فريضہ سرانجام دیتے ہوئے فرمایا : تم سب لوگ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کى بارگاہ مىں گناہوں سے سچی توبہ کرو اور مىرے ساتھ دعا مانگو۔

لوگوں نے فوراً اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہِ عالی میں اپنے گناہوں کى معافى مانگی اور توبہ استغفار کرنے لگے ۔ آپ نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں دعاکے لیے ہاتھ دراز کردیے اور بارش اور خوشحالی کی دعاکی۔ کہا جاتا ہے کہ ابھى حضرت لعل شہباز قلندر مانگ کر اپنے حجرہ مبارکہ مىں داخل بھى نہ ہونے پائے تھے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کى دعا کو قبولیت سے مشرف فرمایا اور رحمت کی بوندیں برسنیں لگیں۔

اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فضل وکرم اور حضرت سیدنا لعل شہباز قلندرکی قبولیتِ دعا کی خوشی میں لوگوں نے کھانے پکاکر غربا و مساکىن مىں تقسىم کىے ۔ حضرت سیدنا لعل شہباز نے نمازِ عشاء کى ادائىگى کے بعد اجتماعِ ذکرونعت کا اہتمام فرمایا اور لوگوں نے مل کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر کىا اور حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذات گرامی پر خوب درود و سلام پىش کىا [31]۔

مسواك سایہ داردرخت بن گئی

گرمیوں کے دن تھے ، سورج پوری آب وتاب کے ساتھ چمک رہا تھااور حضرت لعل شہباز قلندر اپنى خانقاہ کے صحن مىں وضو فرمارہے تھے ۔ ایک عقیدت مند نے دھوپ کى تپش کو دىکھتے ہوئے عرض کی : حضور! ہم اس جگہ پر اىک ساىہ دار درخت لگائىں گے تاکہ آنے والے اسکے سائے مىں آرام پائیں۔

آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے وضو سے فراغت کے بعد ایک مرید کو اپنى مسواک دىتے ہوئے فرماىا : اسے یہاں زمىن مىں گاڑ دو۔حکم کی تعمیل کرتے ہوئے مسواک زمىن مىں گاڑ دی گئی۔ اگلے ہى دن اس مسواک مىں ہری ہری شاخىں نمودار ہوگئىں اور چند دنوں مىں دىکھتے ہى دىکھتے ىہ چھوٹى سى مسوا ک اىک تناور ساىہ دار درخت بن گئی [32]۔

دم کرنے سے مریضوں کی شفایابی

منقول ہے کہ حضرت سیدنا لعل شہبازقلندرمحمدعثمان مَروَندی جس مریض کے لیے دستِ دعا بلند فرمادیتے فوراً صحتیاب ہو جاتا۔ آپ ہقرآن کریم کی چند آىات مبارکہ تلاوت فرماتے اور پانى پر دم کرکے مریض کو پلانے اور آنکھوں پر لگانے کا حکم فرماتے ۔

نتیجۃً فوری طور پرمرىض میں صحت ىابی کے آثار نمودار ہوجاتے ۔آپ کے دم کرنے کا طریقہ یہ تھا کہ سورۃالفاتحہ، سورۃ الفلق، سورۃ الناس اور کلمۂ طیبہ بالترتیب ایک ایک بار پڑھتے ، اسکے بعدخلفائے راشدىن رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے وسىلہ جلىلہ سے مرىض کى شفاىا بى کے لىے بارگاہِ الہٰى عَزَّ وَجَلَّ مىں دعا کرتے ۔

کہتے ہیں کہ آج بھی اگر کوئی آپ کے مزار پر حاضر ہوکر آپ کے اىصالِ ثواب کے بعد اسی طرح بالترتیب سورۃالفاتحہ، سورۃ الفلق، سورۃ الناس اور کلمہ طیبہ پڑھ کر خلفائے راشدىن کے وسىلہ سے دعا کرتا ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل وکرم سے اس کى دعا قبول ہوجاتى ہے ا ور پروردگار عالم اسے شفائے کاملہ عطا فرماتا ہے [33]۔

آخری کلمات

جب حضرت سیدنا لعل شہباز قلندر کا آخری وقت آیا تو آپ کی زبان سے ادا ہونے والے آخری کلمات یہ تھے : مىرا کوئى ساتھى نہىں ہے ، مىرا عمل مىرا ساتھ کىادے گا، مىرا سب سے بڑا سہارا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کى ذات بابرکات ہے ، مىرے ساتھى اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب حضور سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، آپ کےصحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ہىں۔

حضرت سیدنا لعل شہباز رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہکے ان کلمات سے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماورصحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانبالخصوص خلفائے راشدین رِضْوَانُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے محبت و عقیدت کا پتا چلتا ہے ۔( شان قلندر، ص۳۲۲وغیرہ)

وفات

آپ نے ۲۱شعبان المعظم۶۷۳ ھ میں داعیٔ اجل کو لبیک کہا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ آپ نے جس جگہ وصال فرمایاوہیں آپ کا روضہ مبارکہ تعمیر ہوااس کی تعمیر سب سے پہلے سلطان فیروز تغلق کے زمانے میں ہوئی پھر وقتاًفوقتاً سرزمین ہند پر حکمرانی کرنے والے سَلاطین واُمَرَاء مزارِ پُراَنوار پر حاضر ہوتے رہے اوراس کی تَزئِین وآرائش میں حصہ ڈال کر دین و دنیا کی سعادتیں لوٹتے رہے[34]۔

حوالہ جات

  1. عبدالحسین‌ زرین‌‌كوب‌، دنبالۀ جست‌ و جو در تصوف‌ ایران‌، تهران‌، ۱۳۶۲ش‌
  2. تعارف حضرت سیدنا شہباز قلندر -شائع شدہ از: 25 مارچ 2022ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 9 جولائی 2026ء
  3. اللہ کے ولی ، ص۳۴۰، اللہ کے خاص بندے عبدہ، ص۵۳۳، شانِ قلندر، ص۲۸۸ بتصرف
  4. اللہ کے خاص بندے عبدہ، ص۵۲۳
  5. شان قلندر، ص۲۶۴ملخصاً
  6. لب تاریخ سندھ مخطوط، ص۹ بحوالہ تذكره اولياءِ سندھ، ص٢٠٦
  7. اقتباس الانوار، ص۶۶
  8. قلندر کی شرعی تحقیق، ص۶ بتصرف
  9. اللہ کے خاص بندے عبدہ، ص۵۲۲بتغیر
  10. شان قلندر، ص۲۶۸بتغیر
  11. اللہ کے خاص بندے عبدہ، ص۵۲٥ بتصرف
  12. اللہ کے خاص بندے عبدہ، ص۵۲۶ بتصرف
  13. اللہ کے خاص بندے عبدہ، ص۵۲۷
  14. شان قلندر و غيره، ص۲۷۰بتغیر
  15. خزینۃ الاصفیاء ، ۴/ ۷۹، تذكره حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانی، ص١١١
  16. آداب مرشد کامل، ص : ۱۹۸ملتقطاً
  17. معیار سالکان طریقت (سندھی)، ص ۴۲۴، تذکرہ اولیاءِ سندھ، ص۲۰۶ بتغیر
  18. اللہ کے خاص بندے عبدہ، ص۵۲۹
  19. سیرت حضرت لعل شہباز قلندر، ص۷۲
  20. اللہ کے خاص بندے عبدہ، ص۵۲۹
  21. اللہ کے خاص بندے عبدہ، ص۵۲۹بتصرف
  22. شان قلندر، ص۲۷۹بتغیر
  23. تحفۃ الکرام (مترجم)، ص ۴۲۹، تذكره اولياءِ سندھ، ص٢٠٦
  24. شان قلندر، ص۲۸۲وغیرہ
  25. اللہ کے خاص بندے عبدہ، ص۵۲۳
  26. شان قلندر، ص۳۰۲وغیرہ
  27. سیرت پاک حضرت لعل شہبازقلندر وغيره، ص۲۴ بتغیر، وغیرہ
  28. شہبازِ ولايت، ص۲۵ بحوالہاللہ کے خاص بندے عبدہ، ص۵۳١
  29. سیرت پاک حضرت لعل شہبازقلندر، ص۹۰
  30. سیدمرندی، تاریخ مرند و آثار سیدمرندی -شائع شدہ از:6 اردیبہشت 1391ش-اخذ شدہ بہ تاریخ:9 جولائی 2026ء
  31. شان قلندر، ص۳۱۱وغیرہ
  32. شان قلندر، ص۳۱۳وغیرہ
  33. شان قلندر، ص۳۱۵وغیرہ
  34. حدیقۃ الاولیاء (سندھی)، ص۹۹، معیار سالکانِ طریقت سندھی)، ص ۴۲۵