مندرجات کا رخ کریں

خرم مراد

ویکی‌وحدت سے
خرم مراد
دوسرے نامعلامہ حافظ خادم حسین رضوی
ذاتی معلومات
پیدائش1932ء
یوم پیدائش19ا ستمبر
پیدائش کی جگہہندوستان ریاست بھوپال
وفات1996 ء
یوم وفات19 دسمبر
مذہباسلام، اہل سنت
مناصبجماعت اسلامی پاکستان کے رکن

خرم مراد، (3 نومبر 1932 - 19 دسمبر 1996)، ایک پاکستانی عالم اور جماعت اسلامی کے رکن تھے۔ خرم مراد اسلام کے موضوع پر کئی کتب کے مصنف ہیں۔ خرم مراد نے جماعت اسلامی پاکستان کے اسٹوڈینٹ ونگ، اسلامی جمیعت طلبہ کے ناظم اعلی (صدر) رہے۔ بعد میں خرم مراد نے جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر (نائب صدر) اور بنگلہ دیش میں امیر (صدر) کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وہ اسلامک فاؤنڈیشن لیسٹر، برطانیہ کے ٹرسٹی اور سابق ڈائریکٹر جنرل رہے اور ترجمان القرآن، لاہور، پاکستان کے مدیر تھے۔

ابتدائی زندگی اور تعلیم

خرم مراد 3 نومبر، 1932ء کو وسطی ہندوستان کی ایک مسلم ریاست بھوپال میں پیدا ہوئے۔ ان کا سلسلۂ نسب مظفر نگر اور سہارنپور سے ملتا ہے۔ انھوں نے میٹرک کرنے کے بعد سنہ 1947ء میں بھوپال میں واقع حمیدیہ کالج میں داخلہ لیا۔ ان کا خاندان سنہ 1948ء میں پاکستان ہجرت کر گیا۔ کراچی میں آباد ہونے کے بعد خرم مراد نے ڈی جے سائنس کالج میں داخلہ لیا۔ اپنی انٹرمیڈیٹ تعلیم مکمل کرنے کے بعد، انھوں نے کراچی یونیورسٹی کے بیچلر آف سول انجینئرنگ پروگرام میں شرکت کی، جہاں سے انھوں نے 1952ء میں گریجویشن کیا۔ سنہ 1958ء میں، انھوں نے یونیورسٹی آف منیسوٹا، امریکا سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ ڈگری حاصل کرنے کے بعد انھوں نے پاکستان روانہ ہونے سے قبل ایک مختصر مدت کے لیے اسی یونیورسٹی میں تدریس کے شعبہ سے وابستہ ہوئے۔

عجز و انکسار کا پیکر، محبت و مو¿دت کی تصویر، شفقت و خدمت کی مثال، شیریں سخن اور سراپا اخلاق محترم المقام خرم جاہ مراد سابقہ نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان کی پوری زندگی ایک کھلی کتاب کی مانند ہے۔ ضروری ہے کہ ہر محب وطن پاکستانی اس کتاب زیست کا مطالعہ کرے اور دورِ حاضر کی اس عظیم شخصیت کو اپنے لئے رول ماڈل بنائے۔ خرم مراد ایک ایسی تاریخ ساز شخصیت تھے، جنہوں نے شروع سے ہی قرآن مجید کو سمجھ کر اس کی دعوت کو قبول کر کے اپنی ساری زندگی قرآن کا پیغام اور رب کائنات کا پیغام عام کرنے کے لئے وقف کر دی۔

تعلیمی سرگرمیاں

وہ سینکڑوں کتابوں کے مصنف اور پیشہ کے لحاظ سے انجینئر تھے، دین حق کی خاطر اپنا گھر بھی چھوڑا، دنیا کے کئی ممالک بنگلہ دیش، سعودی عرب، برطانیہ، امریکہ جہاں بھی گئے اپنے مخاطبین کو تیار کیا اور زندگی، وقت، صلاحیت اور مال و جان سب کچھ اللہ کی راہ میں لگا کر اللہ کی رضا اور جنت کے حصول کا راستہ اختیار کرنے کا درس دیتے رہے۔

رب کائنات نے اپنے گھر مسجد حرام کی توسیع کے وقت (1975ئ) میں خرم مراد کی خدمات بطور انجینئر قبول کیں، جو اُن کے لئے بہت بڑا اعزاز تھا۔ وہ ہر وقت متحد اور متحرک رہنے والے ایک عظیم معلم، رہنما اور مصنف تھے۔ لاہور میں علم(ILM) کی بنیاد پروفیسر خورشید احمد، عابد ایچ۔ کے شیروانی اور اپنے صاحبزادے ڈاکٹر حسن صہیب مراد کے ہمراہ رکھی، جو اب ملک کی ایک بہت بڑی یونیورسٹی(UMT) کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ میرا تعلق خرم مراد سے مارچ1995ءمیں قائم ہوا، مَیں بطور صحافی اور سابق طالب علم رہنما اُن کی خدمات سے کافی واقف تھا۔ اُن کی محبت، شفقت اور خلوص نے مجھے اُن کے ساتھ تعلیمی میدان میں کام کرنے پر مائل کیا، مَیں نے تقریباً ڈیڑھ سال کا عرصہ اُن کے ساتھ گزارا۔

عرب کے ایک نامور شاعر اشجع بن عمر سلمی نے جو اشعار اپنے باپ کی موت پر مرثیہ کے طور پر لکھے تھے۔ وہ اشعار آج میری زبان پر جاری ہیں اور ان اشعار کے مصداق میرے مربی و محسن خرم مراد کی17سال قبل اس جہان فانی سے عالم جاودانی کی طرف کوچ کا منظر پیش کرتے ہیں۔ مَیں آج اکیسویں صدی کے دوسرے عشرے کے آغاز پراپنے محسن خرم مراد مرحوم کی ہستی کا تصور کرتا ہوں، تو مجھے دور دور تک کوئی ایسا رجل رشید دکھائی نہیں دیتا ہے، جو مجھے نئی نسل کی تعلیم و فلاح اور تربیت کے گر بتائے اور ان کی شخصیت میں خود اعتمادی کا نکھار پیدا کرے۔

انیسویں صدی نے بڑے بڑے قد آور لوگ پیدا کئے اور بیسویں صدی، بڑے لوگوں کو کھا گئی، آج تو ہم ان کی فوٹو کاپیاں ہیں۔ حقیقی انسان کہاں ہے، مجھے تو اُن آدمیوں کی بھیڑ میں ایک بھی خرم مراد دکھائی نہیں دیتا۔ ہاں یاد آیا کہ ہومر بھی تو کہتا ہے کہ انسان پیدا نہیں ہوتا، آدمی پیدا ہوتا ہے۔ انسان کو تہذیب بناتی ہے، انسان کو تمدن بناتا ہے، انسان کو مادر علمی بناتی ہے، انسان کو خرم مراد جیسے عظیم انسان کی صحبت بناتی ہے۔ غالب بھی تو اِسی خیال کو یوں بیان کرتا ہے:

بسکہ مشکل ہے ہر ایک کام کا آساں ہونا

آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

خرم مراد بے شمار محاسن کا مجموعہ تھے۔ وہ بظاہر ایک انسان دکھائی دیتے تھے، مگر وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے، ایک ادارہ تھے، علم وہنر کا چشمہ صحافی تھے۔ وہ تصنیف و تالیف کا بہت بڑا مرکز تھے۔ مجھے ان کے قریب رہ کر کام کرنے کا موقع ملا تھا،وہ تعلق خاطر اب تک موجود ہے۔ مَیں نے ایک دن بھی اُن کے اخلاص میں تبدیلی کا عنصر نہیں دیکھا۔ وہ اندر اور باہر سے بالکل ایک تھے۔

اُن کا ظاہر و باطن یکساں تھا۔ آج بڑے سے بڑے انسان کے پاس چند لمحات گزار کر دکھا دیں، آپ کو اس کی پُرکشش شخصیت کا ملمع بہت جلد اترتا ہوا دکھائی دے گا۔ واقعی ابو الکلام آزاد نے بجا کہا تھا کہ” قریب رہنے سے عقیدتوں کے قلعے مسمار ہو جاتے ہیں“.... بات ہو رہی تھی اس عرب شاعر کے بارے میں ، جو مرثیہ اس نے اپنے باپ کی موت پر لکھا تھا: وہ خرم مراد کی یاد میں ان کے مداحوں کی نذر کرتا ہوں۔

ترجمہ: ابن سعید گزر گیا، جبکہ مشرق اور مغرب میں کوئی جگہ ایسی نہیں رہی، جہاں اس کا کوئی نہ کوئی مداح نہ ہو۔ جب تک کہ وہ قبر میں دفن نہیں کیا گیا، مَیں نہیں جانتا تھا کہ لوگوں پر اس کے کس قدر احسانات ہیں، گویا اس کے سوا دنیا میں نہ کوئی زندہ گندمی مرا ہے اور نہ کسی پر نوحہ کہا گیا ہے۔ سرسید احمد خان کی موت پر ایک یورپین فاضل خا تون نے بھی انگریزی زبان میں چند اشعار ترتیب دیئے ہیں۔ آپ یقین جانیں ان اشعار میں بھی مجھے خرم مراد کی ہستی کی یاد آتی ہے۔

ایک تناور درخت جہاں کھڑا تھا، وہاں گر پڑا۔ اس کی سایہ دار شاخیں جو چاروں طرف دور تک جھومتی تھیں، صحت بخش شبنم ان سے ٹپکتی تھی اور انہوں نے کثرت سے بیج بکھیرے تھے، اُن کے سایہ میں بنجر زمین اصلاح پا گئی۔ بیج پھوٹ نکلے، شگفتہ و شاداب پھول کھلنے لگے اور خوب صورت نونہالوں نے، جو طاقت اور حسن سے آراستہ تھا، اس ویران ریگستان کو گلزار بنا دیا۔ روﺅ! اب شاہانہ درخت کے لئے کہ اجل نے اس کو گرا دیا ہے۔ غم کرو، مگر امید کے ساتھ، کیونکہ اس کی ہری بھری کھیتیاں جو اس کی سالہا سال کی محنت کا ثمر ہیں، اس کی قبر کے گرد لہلہا رہی ہیں، جن نونہالوں کو اس نے اپنی چھاﺅں میں پرورش کیا تھا، وہ پھول رہے ہی اور پھبک رہے ہیں۔ یہ نونہال بھی اِسی کی مانند زندہ رہیں گے تاکہ ویرانے کو گلزار بنا جائیں۔

آج ان کا لگایا ہوا پودا ایک تناور درخت ہی نہیں بنا، بلکہ ثمر بار، شجر بار اور شجر سایہ دار کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ خرم مراد کے سعادت مند صاحبزادے ڈاکٹر حسن صہیب مراد ایکٹر یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی اس چمن کی باغبانی اپنے خون جگر سے کر رہے ہیں۔ خرم مراد کی مراد ہر دم جواں اور ہر دم تعمیر و ترقی کی منازل طے کرتی رہے گی۔ ڈاکٹر حسن صہیب مراد کی جواں سال قیادت میں یہ بامراد کارواں اپنی منزل مراد پر پہنچ کر ہی دم لے گا اور دنیا جان لے گی کہ اخلاص کا درخت اپنے فیوض و برکات خلق خدا پر کس طرح بے دریغ نچھاور کرتا ہے اور اِسی صورت میں خرم مراد کا نام اور کام ہمیشہ زندہ رہے گا:

یہ کون لوگ اندھیروں کی بات کرتے ہیں

ابھی چاند تیری یاد کے ڈھلے بھی نہیں

اللہ کی خوشنودی کا حصول اور اس کے بندوں سے محبت ہی دراصل زندگی کی معراج ہے۔ کوئی شبہ نہیں کہ خرم مراد اس کے حصول میں کامیاب ہوئے۔ اللہ تعالیٰ اُن کے درجات میں مزید اضافہ فرمائے، آمین۔ آیئے ہم سب مل کر خرم مراد کی روشن زندگی کے اوراق پلٹتے ہیں، انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور ان کی خدمات کو آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں:

مرنے والے مرتے ہیں فنا ہوتے نہیں

وہ حقیقت میں کبھی ہم سے جدا ہوتے نہیں[1]۔

کیریئر

انھوں نے 1955 سے 1957 تک این ای ڈی انجینئرنگ کالج میں بطور لیکچرر کام کیا۔ ملک کے ایک قابل ذکر انجینئر کے طور پر، انھوں نے مشرقی پاکستان میں اس وقت کی مشہور کنسلٹنسی فرم کے چیف انجینئر اور ریزیڈنٹ ڈائریکٹر کے طور پر اپنی خدمات انجام دیں۔ دوران ملازمت انھوں نے پاکستان کے علاوہ ایران اور سعودی عرب میں بڑے تعمیراتی منصوبوں میں اپنی خدمات فراہم کیں۔ اس سلسلے میں انھوں نے مکہ مکرمہ کے توسیعی منصوبے میں حصہ لیا۔

حوالہ جات

  1. ↑ خرم مراد:ملک و ملت کے محسن-شائع شدہ از: 10جون 2014ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 7 نومبر 2026ء