مندرجات کا رخ کریں

احمد سرہندی الفاروقی

ویکی‌وحدت سے
احمد سرہندی الفاروقی
پورا نامشیخ احمد سر ہندی
دوسرے ناممجدد الف ثانی
ذاتی معلومات
پیدائش971 ق
پیدائش کی جگہشہر سرہند ہندوستان
وفات464 ھ
وفات کی جگہلاہور پاکستان
اساتذہکمال‌ الدین کشمیری، یعقوب کشمیری صرفی، ابن حجر مکی، عبدالرحمن بن فهد مکی
شاگردآدم البنوری، میر محمد نعمان البدخشی، شیخ تاج‌الدین الهندی صاحب الرساله التاجیة
مذہباسلام، سنی
اثرات
  • المکتوبات الربانیة
  • آداب المرید
  • أثبات النبوة

احمد سرہندی الفاروقی، 971ھ میں ہندوستان کے شہر سرہند میں پیدا ہوئے۔ سبحۃ المرجان کے مصنف لکھتے ہیں: "ہندوستان میں حضرت عمر فاروق کی نسبت رکھنے والے دو ایسے عظیم افراد پیدا ہوئے جن کی مثال نہیں ملتی؛ ایک تصوف کے میدان میں حضرت احمد سرہندی ہیں اور دوسرے حکمت و ادب کے میدان میں ملا محمود۔" [1]۔

ولادت اور تعلیم و تربیت

احمد سرہندی نے ابتدائی تعلیم اپنے والد کی آغوشِ تربیت میں حاصل کی۔ عربی علوم کی بنیادی کتابیں اپنے والد ہی سے پڑھیں۔ کم عمری ہی میں قرآنِ کریم حفظ کر لیا اور مختلف علوم و فنون کی متعدد کتابیں پڑھیں۔

بعد ازاں سیالکوٹ تشریف لے گئے، جہاں انہوں نے کمال الدین کشمیری سے، جو عبدالحکیم سیالکوٹی کے استاد تھے، معقولات کی متعدد کتابیں پڑھیں۔ علمِ حدیث میں انہوں نے یعقوب کشمیری صرفی، ابن حجر مکی اور عبدالرحمن بن فہد مکی سے حرمین شریفین میں حدیث کی سماع کی، اور حدیث، تفسیر اور اصولِ فقہ میں سندِ اجازت حاصل کی۔

انہوں نے اپنے والد سے سلسلۂ قادریہ اور سلسلۂ چشتیہ کی تعلیم و تربیت حاصل کی اور دونوں سلاسل میں خلافت و اجازت سے سرفراز ہوئے۔ والد کی حیات ہی میں ظاہری علوم کی تدریس کرتے اور باطنی علوم کی تحصیل میں مشغول رہتے تھے۔ اسی زمانے میں انہوں نے متعدد رسائل تصنیف کیے، جن میں درج ذیل قابلِ ذکر ہیں:

  • رسالہ التہلیلیہ
  • رسالہ رد الروافض
  • رسالہ اثبات النبوۃ

والد کے انتقال کے بعد حج کی نیت سے روانہ ہوئے۔ جب دہلی پہنچے تو حضرت خواجہ محمد باقی باللہ سے ملاقات کی۔ صرف دو دن بعد ان کے ہاتھ پر بیعت کی اور سلسلۂ نقشبندیہ کی تعلیم حاصل کی۔ ایک ماہ اور چند دن کے اندر خواجہ محمد باقی باللہ نے انہیں خلافتِ نقشبندیہ عطا کی۔ اس کے بعد وہ اپنے وطن واپس آئے اور سلسلۂ نقشبندیہ کی تعلیم و اشاعت میں مصروف ہوگئے۔

افکار و نظریات

ان کے افکار پر فلسفیانہ مباحث کا اثر نمایاں تھا، تاہم انہوں نے وحدت الشہود کے نظریے کو اختیار کیا [2]۔

وہ ان علماء پر تنقید کرتے تھے جو بدعت کو "حسنہ" اور "سیئہ" میں تقسیم کرتے تھے۔ ان کے نزدیک ہر بدعت گمراہی تھی اور سنت کی پیروی کو بنیادی حیثیت حاصل تھی۔ انہوں نے متعدد ایسے اعمال کا ذکر کیا جنہیں وہ بدعت قرار دیتے تھے، مثلاً:

  • صلاۃ الرغائب
  • صلاۃ الغوثیہ
  • عرس
  • میلاد
  • عاشورہ کی بعض رسومات

اسی طرح وہ قبروں سے متعلق بعض رسوم، رائج فاتحہ خوانی اور تدفین کے بعد اذان کو بھی بدعت شمار کرتے تھے۔

انہوں نے قبروں پر جانور ذبح کرنے کی سخت مخالفت کی اور اسے شرک قرار دیا۔ ان کے بقول:

"بہت سے جاہل لوگ اپنے بزرگوں، صالحین اور اولیاء کے نام پر جانور قبروں پر لے جا کر ذبح کرتے ہیں، حالانکہ یہ اسی قسم کی قربانی ہے جیسی مشرک لوگ جنات کو خوش کرنے یا ان کے غضب سے بچنے کے لیے پیش کرتے تھے۔" [3]۔

اسی طرح انہوں نے ان لوگوں کی بھی تردید کی جو یہ دعویٰ کرتے تھے کہ عقل، انبیاء اور وحی سے بے نیاز ہو کر تمام حقائق تک پہنچ سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا: "عقل یقیناً حجت ہے، لیکن وہ کامل اور جامع حجت نہیں ہے۔"

تصانیف

احمد سرہندی کی اہم تصانیف درج ذیل ہیں:

  • المکتوبات الربانیۃ (تین جلدوں میں)
  • آداب المرید
  • اثبات النبوۃ
  • اثبات الواجب
  • تعلیقات العوارض
  • المبدأ والمعاد
  • المعارف اللدنیۃ
  • المکاشفات الغیبیۃ [4]۔

دیگر علماء کی نظر میں

خواجہ محمد باقی باللہ ان کے بارے میں فرماتے ہیں: "ہمارے جیسے ہزاروں ستارے مٹ جائیں گے، لیکن ان کے آفتابِ علم و عرفان کی روشنی ہمیشہ باقی رہے گی۔ اگر ان کے استاد کی طرف سے صرف یہی ایک گواہی موجود ہوتی تو بھی ان کی عظمت و فضیلت کے لیے کافی تھی۔"

علامہ عبدالحکیم سیالکوٹی بھی ان کی بے حد تعریف کرتے تھے، ان کے مخالفین کی سخت تردید کرتے اور انہیں دوسری ہزاری کے مجدد قرار دیتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلے انہیں "مجددِ الفِ ثانی" کا لقب دینے والے بھی یہی تھے۔

ممتاز خلفاء اور مرید

ان کے معروف مریدوں اور خلفاء میں درج ذیل شخصیات شامل ہیں:

  • آدم بنوری
  • میر محمد نعمان بدخشی
  • شیخ تاج الدین ہندی، مصنف "الرسالۃ التاجیۃ"

حوالہ جات

  1. الزرکلی, خیر الدین (أیار 2002 م). الأعلام - ج 7 (الطبعة الخامسة عشر). بیروت: دار العلم للملایین. صفحة 184
  2. الحدائق الوردیة فی حقائق أجلاء النقشبندیة، عبدالمجید بن محمد بن محمد الخانی، ص 180
  3. مکتوبات السرهندی، (41/35)
  4. إسماعیل البغدادی - هدیة العارفین - ج5 ص 165