مندرجات کا رخ کریں

احمد سرہندی الفاروقی

ویکی‌وحدت سے
احمد سرہندی الفاروقی
پورا نامشیخ احمد سر ہندی
دوسرے ناممجدد الف ثانی
ذاتی معلومات
پیدائش971 ق
یوم پیدائش26 جون
پیدائش کی جگہفتح گڑھ سرہند ہندوستان
وفات1624ء
یوم وفات10 دسمبر
وفات کی جگہسرہند-فتح گڑھ، ہندوستان
اساتذہکمال‌ الدین کشمیری، یعقوب کشمیری صرفی، ابن حجر مکی، عبدالرحمن بن فهد مکی
شاگردآدم البنوری، میر محمد نعمان البدخشی، شیخ تاج‌الدین الهندی صاحب الرساله التاجیة
مذہباسلام، سنی
اثرات
  • المکتوبات الربانیة
  • آداب المرید
  • أثبات النبوة

احمد سرہندی الفاروقی، 971ھ میں ہندوستان کے شہر سرہند میں پیدا ہوئے۔ سبحۃ المرجان کے مصنف لکھتے ہیں: "ہندوستان میں حضرت عمر فاروق کی نسبت رکھنے والے دو ایسے عظیم افراد پیدا ہوئے جن کی مثال نہیں ملتی؛ ایک تصوف کے میدان میں حضرت احمد سرہندی ہیں اور دوسرے حکمت و ادب کے میدان میں ملا محمود۔" [1]۔

ولادت اور تعلیم و تربیت

احمد سرہندی نے ابتدائی تعلیم اپنے والد کی آغوشِ تربیت میں حاصل کی۔ عربی علوم کی بنیادی کتابیں اپنے والد ہی سے پڑھیں۔ کم عمری ہی میں قرآنِ کریم حفظ کر لیا اور مختلف علوم و فنون کی متعدد کتابیں پڑھیں۔

بعد ازاں سیالکوٹ تشریف لے گئے، جہاں انہوں نے کمال الدین کشمیری سے، جو عبدالحکیم سیالکوٹی کے استاد تھے، معقولات کی متعدد کتابیں پڑھیں۔ علمِ حدیث میں انہوں نے یعقوب کشمیری صرفی، ابن حجر مکی اور عبدالرحمن بن فہد مکی سے حرمین شریفین میں حدیث کی سماع کی، اور حدیث، تفسیر اور اصولِ فقہ میں سندِ اجازت حاصل کی۔

انہوں نے اپنے والد سے سلسلۂ قادریہ اور سلسلۂ چشتیہ کی تعلیم و تربیت حاصل کی اور دونوں سلاسل میں خلافت و اجازت سے سرفراز ہوئے۔ والد کی حیات ہی میں ظاہری علوم کی تدریس کرتے اور باطنی علوم کی تحصیل میں مشغول رہتے تھے۔ اسی زمانے میں انہوں نے متعدد رسائل تصنیف کیے، جن میں درج ذیل قابلِ ذکر ہیں:

  • رسالہ التہلیلیہ
  • رسالہ رد الروافض
  • رسالہ اثبات النبوۃ

والد کے انتقال کے بعد حج کی نیت سے روانہ ہوئے۔ جب دہلی پہنچے تو حضرت خواجہ محمد باقی باللہ سے ملاقات کی۔ صرف دو دن بعد ان کے ہاتھ پر بیعت کی اور سلسلۂ نقشبندیہ کی تعلیم حاصل کی۔ ایک ماہ اور چند دن کے اندر خواجہ محمد باقی باللہ نے انہیں خلافتِ نقشبندیہ عطا کی۔ اس کے بعد وہ اپنے وطن واپس آئے اور سلسلۂ نقشبندیہ کی تعلیم و اشاعت میں مصروف ہوگئے۔

مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی

مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی (1564ء۔1625ء) امت مسلمہ کےاُن علماء وشیوخ میں سے تھے جن کی دینی وملی خدمات کی وجہ سے ہندوستان میں دینِ اسلام کو حیاتِ نو ملی اور ان کی تعلیمات و جدو جہد نے اسلامی نشاۃ ثانیہ میں اہم کردار ادا کیا ۔

اگرچہ ان کا عہد سولہویں صدی کی آخری ربع سے شروع ہو کر سترہویں صدی عیسوی کے پہلے ربع میں ختم ہوگیا تھا مگر ان کی تعلیمات وفیضان کے اثرات اب تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

ان کا اصل نام احمد تھا۔ سن 1564ء میں سرہند شریف (ریاست پٹیالہ بھارت ) میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد شیخ عبد الاحد اپنے عہد کے نامور عالم دین اور صاحبِ نسبت بزرگ تھے ۔

انہوں نے اپنے والد سے مروجہ تعلیم حاصل کی اور مشہور محدث شیخ محمد یعقوب صرفی کشمیری سے حدیث پڑھی۔ نقشبندی سلسلے کے عظیم بزرگ خواجہ باقی باللہ کے ہاتھ پر بیعت کی اور ان سے خرقہ خلافت پایا ۔

اور اس راہ میں اس قدر ترقی کی کہ نقشبندی مجددی سلسلے کے بانی ہوئے۔ وہ اپنے عہد کے سب سے بڑے عالم اور سب سے بڑے شیخ تھے اسی لیے انہیں اسلامی تاریخ کے الف ثانی (2Nd Malinum)کا مجدد تسلیم کیا گیا۔

انہوں نے نصف صدی تک اسلام کی او رملت اسلامیہ کی بے پناہ خدمات سر انجام دیںاور اسلام کے روشن وخوشنماچہرے سے وقتی کثافات واثرات ختم کر کے سچے اور اصلی اسلام کو نمایاں تر کرکے پیش کیا۔ ان کی وفات 1625ء میں ہوئی۔

مجددی عہد کے عمومی حالات

اُس دور میں ہندوستان پر مغلیہ اقتدار نصف النہار پر تھااور مغل حکمران اکبر اعظم کا زمانہ تھا۔ اکبر ایک آزاد خیال ، اسلام بیزار اوربے دین قسم کا بادشاہ تھا۔ اس پر بچپن ہی سے ایرانی مذہبی اثرات کا "غلبہ تھا وہ عیش عشرت کا دلدادہ تھا۔

اس نے کئی ہندو عورتوں سے شادیاں کررکھی تھیں جس کی وجہ سے اس پر ہندو مذہب کے اثرات بھی ہوگئے تھے ۔ عمر کے ایک خاص حصے میں اس پر وحدتِ ادیان کا بھوت سوار ہوگیا تھااور اس نے دینِ اسلام کے مقابلے میں دینِ الہی کا تصور پیش کیا۔


بادشاہ کی لامذہبی سوچ کی وجہ سے دربارِ سرکار میں ہندو اور ایرانی فرقہ کے امراء کا غلبہ ہو گیا تھااور عموما انہی کا زور چلتا تھا۔ اگرچہ دربار میں کچھ سنی العقیدہ امراء بھی تھے مگر حالات نے انہیں بے بس کر دیا تھا۔ اسی لیے اسلامی شعائر و عبادات کی پابندی اٹھ گئی تھی ۔

نماز روزہ کا کوئی احترام نہ تھا، مگر ہندووانہ عقائد کا احترام موجود تھا۔ گائے کو مقدس جانور کا درجہ دے کراس کا ذبیحہ اور قربانی ممنوع قرار دے دی گئی تھی۔ ہندوئوں سے جزیہ (ٹیکس ) معاف کردیاگیاتھا۔

ہندو اورایرانی اثرات کے اختلاط نے مسلمانوں کے عقائد میں مشرکانہ عقائد و رسوم کی بنیاد رکھ دی تھی او ر مسلما ن انبیاء ؑ وصالحین سے وہی معاملات کرنے لگے تھے جو ہندو اپنے بتوں سے کرتے تھے۔

اس صورت حال میں بعض علما"ءسو نے اہم کردار ادا کیا اور ان خرافات کو ہوا دی۔ اس کے علاوہ بعض غلط کار صوفیا نے بھی اسلام کے نظامِ سلوک وعرفان میں غیر اسلامی نظریات کی آمیزش کردی تھی۔

مجددی جدو جہد او رخدمات

مجدد نے ان تمام خرافات کے خلاف بھر پور جدوجہد کی ۔ انہوں نے اپنے عہد کے دیگر علمائے حق کو ساتھ ملاکر بادشاہ کو راہِ راست پر لانے کی کوشش کی۔ علماء سو سے ملاقاتیں کرکے انہیں سمجھانے اور ہندو غلبہ سے بچانے کی سعی کی ۔

اس سلسلے میں ان کی خدمات اور کارہا ئے نمایاں کی فہرست بہت طویل ہے تاہم مندرجہ ذیل عنوانات پر ان کی جدو جہد خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔

  1. (مسلمانانِ ہند کے عقائد کی اصلاح مشرکانہ عقائد و رسوم کی بیخ کنی اور توحید ِخالص وسنت ِصحیحہ کی دعوت و ترویج۔
  2. ہندو غلبے کے اثرات کا مقابلہ۔
  3. مغل بادشاہوں کی مذہبی پالیسیوں کی تردید و مذمت۔
  4. جہانگیر کی تخت نشینی اور اسلامی قوانین کی بحالی۔
  5. علمائے سو کے اثرو رسوخ کے خاتمے کی کاوشیں ۔
  6. امرائے مملکت کی اصلاح۔
  7. تصوف و سلوک کی اصلاح۔
  8. مسلم اقدار کا تحفظ اور غلبے کی جدو جہد۔
  9. بدعات کا خاتمہ۔
  10. ان تمام امور میں مجدد کی خدمات تفصیل کی متقاضی ہیں۔ اس لیے ان پر تفصیلی بحث حسب ذیل ہے۔

اصلاحِ عقائد اور توحید خالص کا احیاء

ہندو چونکہ اکثریت میں تھے اور مسلمانوں کی تعداد ان کے مقابلے میں بہت کم تھی ۔ اس لیے قدرتی طور پر اقلیت پر اکثریت کے اثرات پڑتے ہیں ۔ ہندوستان کے مسلمان حکمرانوں نے مسلمانوں کی دینی اصلاح وتربیت کے عنوان پر مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ انہیں مسلمانوں کی دینی اصلاح و تربیت سے سرے سے کوئی دلچسپی ہی نہ تھی۔

ادھر غلط کار صوفیوں اور علمائے سو نے بھی خلافِ شریعت عقائد کی اشاعت میں اہم کردارادا کیا۔ مسلمانوں میں اکثریت ان لوگوں کی تھی جو ہندو سے مسلمان ہوئے تھے۔ چونکہ اکثر صوفیا خود بھی اسلام کی حقیقی تعلیمات سے کما حقہ آگاہ نہ تھے۔

اس لیے ان کے ہاں نو مسلموں کی اصلاح و تربیت کا کوئی نظام نہ تھا۔ بالعموم لوگ مسلمانوں کے سیاسی غلبے اور مادی غلبے کے پیش نظر تبدیلئ مذہب کرلیتے ، مگر وہ صوفیا کو وہی حیثیت دے لیتے جو اس سے قبل بتوں کو دے رکھی تھی۔

وہی غیر اللہ سے استمداد و اعانت ، ان سے خوف و خشیت ، نفع و نقصان کی امیدیں، ان کی ندا و پکار اور نذرو منت، اہلِ قبور کو سجدہ و طواف، خدا کے حقوق بندوں کو دے دیئے گئے تھے ۔

نیز علمائے سو نے غیر اسلامی رسوم پھیلا دی تھیں۔ مجدد صاحب نے اِن مشرکانہ عقائد و رسوم اور عبادات کے خلاف زبردست تحریک چلائی اور مسلمانوں میں توحیدِ خالص اور سنتِ ثابتہ کا شعور پیدا کیا۔

اس باب میں ان کی خدمات اس قدر تاریخ ساز ہیں کہ اسلامی ہندوستان کی تاریخ کے تما م مؤرخ اس اعتراف پر مجبور ہیں کہ مجدد نے اسلام کو تمام غیر اسلامی آلائشوں اور آمیزشوں سے پاک کرکے اور عجمی نظریات کا قلع قمع کرکے پیغمبری اسلام کی صاف اور واضح صورت پیش کردی۔

اور یہی وجہ ہے کہ مجدد آج چار سو سال بعد بھی مسلمانوں میں ایک سند اور اتھارٹی سمجھے جاتے ہیں۔ مجددی تعلیمات کا نچوڑ یہ ہے کہ قرآن دین کا سر چشمہ ہے اور توحید قرآن کا مرکزی موضوع اور عقیدہ ہے اور پیغمبر کے بغیر دین پر عمل نہیں ہو سکتا۔ ہر وہ چیز جو قرآن سے باہر ہے وہ عقیدہ نہیں اور ہر وہ عمل جو پیغمبر کی سنت نہیں وہ عمل نہیں۔

ندو غلبے کے اثرات کامقابلہ

مغل بادشاہ اکبر کی بے راہ روی کے باعث سرکار دربار اور معاشرے میں ہندو غلبے کے جو اثرات پیدا ہو گئے تھے،مجدد نے دوسرے علمائے حق کے ساتھ مل کر ان کے خاتمے کی بھر پور جد و جہد کی۔ انہوں نے دربار کے مسلمان امراء اور عام مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ ہندوئوں سے کم سے کم تعلق رکھیں اور ان سے ملنے جلنے میں اجتناب برتیں۔

صرف انتہائی ضرورت کے وقت ہی ان سے میل جول رکھیں۔ انہوں نے یہ تحریک پیدا کی اور حکمرانوں پر زور دیا کہ ہندوستان کے ہندو حربی کافر ہیں اور مسلمانوں نے یہاں باقاعدہ جنگیں کر کے غلبہ و اقتدار اور تسلط حاصل کیا ہے ۔

ہندوئوں نے باقاعدہ سامانِ جنگ اور فوج کے ساتھ لشکرِ اسلام کی مزاحمت کی ہے۔ اس لیے ہندوستان کے ہندوئوں سے جزیہ وصول کرنا حکومت پر فرض ہے۔ اگرچہ مجدد صاحبؒ کی تحریک کے خاطر خواہ نتائج نہ بر آمد ہوئے تاہم ہندوئوں کو تنبہ ضرور ہو گیا کہ ایسی صورتِ حال پیش آسکتی ہے کہ ان سے اسلامی قوانین کے مطابق جزیہ وصول کیا جائے۔

مغل بادشاہوں کی مذہبی پالیسیوں کی مذمت

تاریخی حقیقت یہ ہےکہ اکبر نےہندوستان کو مسلمانوں کی برتری ختم کرکے اس کو دارالاسلام سے سیکولرسٹیٹ (لادینی ریاست)بنادیاتھا۔ اس کی اس پالیسی سے ہندوستان اور مسلمانوں کے مفادات کو جو نقصان پہنچا اس کا ازالہ آج تک نہیں ہو سکا بلکہ صدیوں نہ ہو سکے گا۔

مجدد نے اکبر آباد میں قیام کے دوران اکبر کے دینِ الہی کے شہ دماغوں نے اور خالقوں ابوا لفضل اور فیضی کی مجالس میں بارہا شرکت کی اور ان کو سمجھا نے کی کوشش کی کہ اسلام اور کفر کا ملغوبہ تیار کرنے سے کچھ حاصل تو نہ ہو سکے گا ، البتہ اسلام کو زبردست نقصان پہنچے گا۔

ان کی سوچی سمجھی رائے تھی کہ بر صغیر میں مذہبی تصادم کا حل مذہبی رواداری ہے ۔ ان کے ساتھ امتزاج و اختلاط نہیں، مگر ابو الفضل اور فیضی قائل نہ ہوئے تاہم انہوں نے اپنی کاوشوں سے دربار کے بعض امراء اور حق گو علماء کو ہمنوا بنالیا ۔

عوام پر بھی خاطر خواہ اس کا اثر ہوا اور اکبر کی مذہبی پالیسیوں کے خلاف ایک موثر حلقہ ضرور تیار ہوا جسے محسوس بھی کیا گیا۔

جہانگیر کی تخت نشینی اور اسلامی قوانین کی بحالی

1603 ء میں اکبرکا انتقال ہوا تو سیکولر ذہن رکھنے والے اور ہندوامراء نے شہزادہ خردکو نیا بادشاہ بنانے کی کوشش کی مگر مغل دربار کے نقشبندی سلسلے سے وابستہ امراء کا اثر آڑے آیا اور ان امراء نے جہانگیر کو بادشاہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا ۔

ان امراء نے مجدد کے ایما پر جہانگیر سے عہد لیا کہ بادشاہ بننے کے بعد وہ اسلامی قوانین بحال کردے گا، چنانچہ جہانگیر نے بادشاہ بننے کے بعد جو احکامات جاری کیے ان کے مطابق اسلامی قوانین بحال کردیئے گئے۔ شراب کی بندش، مساجد کی تعمیر کی اجازت اور اشاعتِ اسلام کی سرکاری حوصلہ افزائی بھی خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔

علمائے سو کے اثر و رسوخ کے خاتمے کی کاوشیں

مجدد معاشرے کے بگاڑ او ر مسلمانوں کے عقائد و اعمال میں خرابی کی ذمہ داری ان علماء پر ڈالتے تھے جنہوں نے دنیاوی مال وزر کی خاطر عوام الناس کو گمراہ کیا ۔ یہ لوگ غلط عقائد اور قرآن و سنت سے متصادم اصولوں کو دین ٹھہراتے تھے۔

اور اپنے باطل نظریات کے فروغ کے لیے بادشاہ کو بھی ورغلاتے تھے۔ مجددؒ نے عوامی سطح پر ان علماء کا زبردست محاسبہ کیا اور اپنے حلقہ اثر کے امراء کو بار بار تاکید کرتے کہ بادشاہ کو ان غلط کار مولویوں اور پیروں سے دور رکھنے کی برابر کوششیں کرتے رہیں۔

عموما علماء اور صوفیا عموما بادشاہوں اور امیروں سے دور رہ کر یہ تاثر دیتے ہیں کہ انہیں دنیا والوں سے کوئی سروکار نہیں مگر مجددؒ امراء کی اہمیت سے واقف تھے وہ خوب جانتے تھے کہ ملک کے بڑے لوگوں کی اصلاح کا اثر عوام پر ضرور پڑتا ہے، چنانچہ انہوں نے شروع ہی سے اکبری عہد کے بعض صحیح الفکر امراء سے برابر رابطہ رکھا ۔

جس کی وجہ سے بہت سے امراء نقشبندی سلسلے سے وابستہ ہوگئے۔ انہی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ اکبر جیسے مذہب بیزار بادشاہ کی اصلاح ہو سکی اور آخر وقت میں اس کے خیالات بدل گئے ۔ نیز جہانگیر کی تخت نشینی ہوسکی، جس نے ملک میں اسلامی قوانین کو رائج کردیا تھا۔ امراء کی اصلاح کی کوششیں بار آور ثابت ہوئیں ۔

انہی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ جس تخت پر اکبر جیسا بادشاہ بیٹھا تھا ۔ ہندواور ایرانی امراء کاغلبہ تھا پچاس سال بعد اسی تخت پر اورنگ زیب عالمگیر جیسا صحیح الفکر اور راسخ العقیدہ بادشاہ بھی بیٹھا جس نے قرن اول کے مسلمان خلفاء کی یاد تازہ کردی۔

تصوف او ر اہلِ تصوف کی اصلاح و تجدید

اہل تصوف نے اسلامی تصوف میں غیر اسلامی نظریات کی جو آمیزش کردی تھی اس کے مسلمانوں کے عقائد اور اعمال پر بہت گہرا اثرا پڑا۔ ہندوستان چونکہ مہبط وحی (حرمین مکہ ومدینہ)سے بہت دو رتھااور یہا ں اسلام متعارف بھی صوفیا کے ذریعے ہواتھا۔

صوفیا بالعموم دین و شریعت کے تقاضوں سے نا بلد ہوتے ہیںاور خود کو شرعی پابندیوں سے آزاد سمجھتے ہیں ۔ ہندوستا نآنے والے صوفیا کی بڑی تعداد اسماعیلہ اور بواطنہ پر مشتمل تھی جو بلادِ اسلامیہ میں اپنے مخصوص نظریات کی جگہ نہ پاکر ہندوستان آگئے تھے۔

شیخ محی الدین ابن عربی کا نظریہ ہمہ اوست یا وحدت الوجود انہی صوفیوں کے ذریعے ہندوستان آیا تھا، پھر ان لوگوں نے جو لُٹ مچائی اس سے دین اسلام کا حلیہ اور اس کانقشہ ہی تبدیل ہوگیا۔

دنیا دار علماء کی مادی ضرورتوں کی تسکین بھی انہی صوفیا سے ہوتی تھی اس لیے وہ بھی ان کے ہمنوا بلکہ دست وبازو ہو گئے تھے۔ مجدد ؒ چونکہ خود تصوف کی وادیوں کے رمز شناس اور ان راہوں کے مسافر تھے اور تصوف و سلوک میں بہت اعلی مقام رکھتے تھے ،

اس کے ساتھ ساتھ دین و شریعت کے سب سے بڑے عالم تھے، اس لیے انہوں نے صوفیانہ نظریات کو دین و شریعت کی عدالت میں پیش کرکے ان تمام غیر اسلامی نظریات کو الگ کردیا جن کی اسلامی تصوف میں آمیزش ہو گئی تھی۔

انہوں نے وحدت الوجود کے مقابلے میں وحدت الشہود کا فلسفہ پیش کیا اور اسلامی تصوف کو نکھیر کر پیش کردیا۔ مجددؒ نے تصوف و طریقت کو شریعت کے تابع کردیا اور شریعت کی پابندی نہ کرنے والے صوفیا کو اسلام کا باغی قرار دیا۔

مسلم اقتدار کے غلبہ و بقا کی کوششیں

اکبر کی رواداری اور بے مذہبی نے ہندوئوں میںجو بیداری پیدا کردی تھی، مجددؒ نے اس خطرے کو بہت پہلے محسوس کرلیا تھا اور انہوں نے اپنے مکتوبات کے 'ذریعے مسلمان امراء اور فوجی جرنیلوں کو اس خطرے سے خبردار کیا اور ان پر مسلسل زوردیا کہ مسلم اقتدار کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ ہندو امراء اور جرنیلوں پر کڑی نظر رکھی جائےورنہ ہندوستان دار الاسلام کی بجائے دار الکفر بن جائے گا۔

بدعات کا رد اور سنت کا احیا

مجدد نے علمائے سو اور بےدین صوفیا کی پھیلائی ہوئی بدعات کے قلع قمع کے لیے سنت نبوی کی تعلیم و اشاعت اور پابندی پر خاص زور دیا۔ انہوں نے اپنے عہد میں رواج پا جانے والے تمام افکار و نظریات اور عبادات کا قرآن و سنت کی روشنی میں جائزہ لیا اور ان تمام اختراعات کی شدت سے مخالفت کی جن کا عہدِ نبوی میں کوئی وجود نہ تھا۔

انہوں نے اس امر کی مسلسل تبلیغ کی کہ بدعات در حقیقت پیغمبرِ اسلام پر بد اعتمادی اور آپ سے بغاوت کا نام ہے ۔ انہوں نے بعض حلقوں کے اس فلسفہ کو رد کردیا جو بدعات کو حسنہ اور سیئہ کے خانوں میں تقسیم کرتے تھے ۔

ان کا کہنا تھا کہ جب پیغمبر نے ہر بدعت کو گمراہی قرار دیا ہے تو پھر بدعت میں حسن اور اچھا ئی ہو ہی نہیں سکتی۔

گرفتاری

مسلمہ حقیقت یہ ہے کہ مجدد عہد ِ جہانگیری میں بہت بڑی مذہبی طاقت بن گئے تھے۔ امراء و عوام پر ان کا یکساں اثر تھا، وہ حکومتی فیصلوں پر اثر انداز ہونے لگے تھے ۔

ان حالات میں بادشاہ کی ملکہ نور جہاں اور وزیر اعظم آصف جاہ (جو کہ ملکہ ہی کا بھائی تھا )اور دیگر ایرانی المذہب سرداروں نے بادشاہ کے کان بھرنا شروع کردیئے کہ مجددؒ ایک بڑی طاقت بن چکے ہیں اور اگر ان کے اثرات کو روکا نہ گیا وہ حکومت پر بھی قبضہ کر سکتے ہیں ، چنانچہ بادشاہ نے انہیں گوالیار کے قلعے میں نظر بند کر دیا ، جہا ں وہ ایک سال تک محبوس رہے ۔

اس دوران مجدد کے حلقہ ارادت کے امراء نے بادشاہ کی ا س غلط فہمی کو دور کردیا کہ مجددؒ کاارادہ تختِ حکومت پر قبضہ کرنے کا ہے۔ چنانچہ بادشاہ نے انہیں باعزت طور پر رہا کر دیا۔

مجدد دو قومی نظریے کے داعی اول

اکبر کے دین الہی کے سیاسی نقصانات میں سب سے بڑا نقصان یہ ہواکہ حکومت کا اسلامی تشخص ختم ہو کر رہ گیا اور عمومی طور پر حکومتی پالیسیوں کا جھکائو ہندوئوں کی طرف ہو گیا۔

جب کہ گمراہ صوفیوں نے وحدت الوجود کے جس فلسفے کو رواج دے رکھا تھااس کا منطقی نتیجہ بھی وحدتِ ادیان کی صورت میں نکلتا تھاجو ہندوازم کو بہت Suitکرتا تھا۔ ویسے بھی اس فلسفے میں مسلمان صوفیا اور بھگت کبیر ، رامانج اور گورونانک ایک ہی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں ۔

مجد نے کفر و اسلام ، شرک و توحید، ہدایت و گمراہی، خدا پرستی اور بت پرستی کو یکساں تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور صاف صاف اعلان کیا کہ اسلام او رہندوازم دو الگ الگ مذہب ہیں ۔ اسلام خدا اور پیغمبر کا دین ہے جبکہ ہندوازم شرک و بت پرستی کی دعوت دیتا ہے۔ اس لیے ہندوازم اسلام سے متصادم ہے ۔

یوں انہوں نے ہندوستان میں دو قومی نظریے کی پہلی اینٹ رکھی۔ انہوں نے اپنے مریدوں اور زیر اثر امراء کو اسلام اور ملتِ اسلامی کی حفاظت اور اسلامی تشخص بر قرار رکھنے کے لیے جد و جہد کرنے کی مسلسل ہدایت کی اور ہندوستان میں اسلام کے مستقبل کو تاریک ہو نے سے بچایا[2]۔

افکار و نظریات

ان کے افکار پر فلسفیانہ مباحث کا اثر نمایاں تھا، تاہم انہوں نے وحدت الشہود کے نظریے کو اختیار کیا [3]۔

وہ ان علماء پر تنقید کرتے تھے جو بدعت کو "حسنہ" اور "سیئہ" میں تقسیم کرتے تھے۔ ان کے نزدیک ہر بدعت گمراہی تھی اور سنت کی پیروی کو بنیادی حیثیت حاصل تھی۔ انہوں نے متعدد ایسے اعمال کا ذکر کیا جنہیں وہ بدعت قرار دیتے تھے، مثلاً:

  • صلاۃ الرغائب
  • صلاۃ الغوثیہ
  • عرس
  • میلاد
  • عاشورہ کی بعض رسومات

اسی طرح وہ قبروں سے متعلق بعض رسوم، رائج فاتحہ خوانی اور تدفین کے بعد اذان کو بھی بدعت شمار کرتے تھے۔

انہوں نے قبروں پر جانور ذبح کرنے کی سخت مخالفت کی اور اسے شرک قرار دیا۔ ان کے بقول:

"بہت سے جاہل لوگ اپنے بزرگوں، صالحین اور اولیاء کے نام پر جانور قبروں پر لے جا کر ذبح کرتے ہیں، حالانکہ یہ اسی قسم کی قربانی ہے جیسی مشرک لوگ جنات کو خوش کرنے یا ان کے غضب سے بچنے کے لیے پیش کرتے تھے۔" [4]۔

اسی طرح انہوں نے ان لوگوں کی بھی تردید کی جو یہ دعویٰ کرتے تھے کہ عقل، انبیاء اور وحی سے بے نیاز ہو کر تمام حقائق تک پہنچ سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا: "عقل یقیناً حجت ہے، لیکن وہ کامل اور جامع حجت نہیں ہے۔"

تصانیف

احمد سرہندی کی اہم تصانیف درج ذیل ہیں:

  • المکتوبات الربانیۃ (تین جلدوں میں)
  • آداب المرید
  • اثبات النبوۃ
  • اثبات الواجب
  • تعلیقات العوارض
  • المبدأ والمعاد
  • المعارف اللدنیۃ
  • المکاشفات الغیبیۃ [5]۔

دیگر علماء کی نظر میں

خواجہ محمد باقی باللہ ان کے بارے میں فرماتے ہیں: "ہمارے جیسے ہزاروں ستارے مٹ جائیں گے، لیکن ان کے آفتابِ علم و عرفان کی روشنی ہمیشہ باقی رہے گی۔ اگر ان کے استاد کی طرف سے صرف یہی ایک گواہی موجود ہوتی تو بھی ان کی عظمت و فضیلت کے لیے کافی تھی۔"

علامہ عبدالحکیم سیالکوٹی بھی ان کی بے حد تعریف کرتے تھے، ان کے مخالفین کی سخت تردید کرتے اور انہیں دوسری ہزاری کے مجدد قرار دیتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلے انہیں "مجددِ الفِ ثانی" کا لقب دینے والے بھی یہی تھے۔

ممتاز خلفاء اور مرید

ان کے معروف مریدوں اور خلفاء میں درج ذیل شخصیات شامل ہیں:

  • آدم بنوری
  • میر محمد نعمان بدخشی
  • شیخ تاج الدین ہندی، مصنف "الرسالۃ التاجیۃ"

احمد سرہندی پر تنقیدات اور اعتراضات

محمود غزنوی کے بعد جب وسطی ایشیاء کے حملہ آوروں نے ہندوستان پر قبضہ جمایا تو اپنے ساتھ حنفی فقہ اور تصوف لائے جو آسانی سے ہندوستان کے جوگی کلچر سے گھل مل گیا۔

اہل تصوف نے شیعوں کے خلاف بھی کتب لکھیں جن میں شیخ احمد سرہندی (متوفیٰ 1624ء) کی ”ردِ روافض“ اور شاہ عبدالعزیز دہلوی (متوفیٰ 1823ء) کی ”تحفہ اثنا عشریہ“ آج بھی شیعہ دشمنوں کے بغض و کینے کی آگ کو ایندھن فراہم کرتی ہیں۔ لکھنؤ کے علماء نے ان کتب کا مفصل تحقیقی جواب دیا ہے۔

ردِ روافض میں شیخ احمد سرہندی اپنے مریدوں کو دہشتگردی اور انسانیت کے خلاف جرائم پر اکساتے ہوئے لکھتے ہیں:

”علمائے ماوراء النہر نے فرمایا کہ جب شیعہ حضرات شیخین، ذی النورین اور ازدواج مطہرات کو گالی دیتے ہیں اور ان پر لعنت بھیجتے ہیں تو بروئے شرع کافر ہوئے۔

لہٰذا بادشاہِ اسلام اور نیز عام لوگوں پر بحکمِ خداوندی اور اعلائے کلمۃ الحق کی خاطر واجب و لازم ہے کہ ان کو قتل کریں، ان کا قلع قمع کریں، ان کے مکانات کو برباد و ویران کریں اور ان کے مال و اسباب کو چھین لیں۔ یہ سب مسلمانوں کیلئے جائز و روا ہے۔“ [6]۔

البتہ چونکہ شیخ احمد سرہندی کا اس وقت معاشرے پر اتنا اثر نہ تھا، مغل دور کا ہندوستان شہنشاہ اکبر کی حکمت عملی پر کاربند رہا۔ ان کے خیالات ان کی وفات کے سو سال بعد شاہ ولی اللہ اور انکے خاندان نے زیادہ مقبول بنائے۔

شاہ ولی الله نے شیخ احمد سرہندی کی کتاب ”ردِ روافض“ کا عربی میں ترجمہ بعنوان ”المقدمۃ السنیہ فی الانتصار للفرقۃ السنیہ“ کیا۔ ان خیالات کو عملی جامہ پہنانے کا سلسلہ 1820ء میں شروع ہوا جب سید احمد بریلوی نے اپنے مجاہدین کو امام بارگاہوں پر حملے کے لیے ابھارا۔ پروفیسر باربرا مٹکاف لکھتی ہیں:

”دوسری قسم کے امور جن سے سید احمد بریلوی شدید پرخاش رکھتے تھے، وہ تھے جو تشیع سے پھوٹتے تھے۔ انہوں نے مسلمانوں کو تعزیے بنانے سے خاص طور پر منع کیا، جو شہدائے کربلا کے مزارات کی شبیہ تھے اور جن کو محرم کے جلوسوں میں اٹھایا جاتا تھا۔ شاہ اسماعیل دہلوی نے لکھا:

’ایک سچے مومن کو طاقت کے استعمال کے ذریعے تعزیہ توڑنے کے عمل کو بت توڑنے کے برابر سمجھنا چاہئیے۔ اگر وہ خود نہ توڑ سکے تو اسے چاہئیے کہ وہ دوسروں کو ایسا کرنے کی تلقین کرے۔ اگر یہ بھی اس کے بس میں نہ ہو تو اسے کم از کم دل میں تعزیے سے نفرت کرنی چاہئیے۔‘

سید احمد بریلوی کے سوانح نگاروں نے، بلا شبہ تعداد کے معاملے میں مبالغہ آرائی کرتے ہوئے، سید احمد بریلوی کے ہاتھوں ہزاروں کی تعداد میں تعزیے توڑنے اور امام بارگاہوں کے جلائے جانے کاذکر کیا ہے۔“ [7]۔

بعض لوگ غلطی سے یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ شاید شیخ احمد سرہندی کے پر تشدد خیالات کی وجہ ان کا وحدت الوجود کے تصور سے دور ہو کر وحدت الشہود کا تصور پیش کرنا تھا۔ یہ بات درست نہیں ہے۔

شیخ احمد سرہندی کی تکفیری سوچ کو رواج دینے کا سہرا شاہ ولی اللہ اور ان کے بیٹوں کے سر جاتا ہے جو وحدت الوجود کے قائل تھے۔ شاہ ولی اللہ نے ”فیصلہ وحدۃ الوجود و الشہود“ کے عنوان سے رسالہ لکھ کر ان دونوں اصطلاحات کو ہم معنی قرار دیا۔

بعد ازاں ان کے بیٹے شاہ رفیع الدین دہلوی نے ”دمغ الباطل“ کے عنوان سے ایک مستقل کتاب لکھ کر اپنے والد کے موقف کی وضاحت کی۔ برصغیر کی تمام بڑی تکفیری جماعتیں انہی حضرات کی پیروکار ہیں۔

شیخ احمد سرہندی کی شدت پسندی کو ان کے معاصرین نے زیادہ قبول نہیں کیا تھا۔ حتیٰ کہ ان کو کوئی اہم شخصیت بھی نہیں سمجھا جاتا تھا اور ان کے معاصر عبد القادر بدایونی (متوفیٰ 1615ء) نے اپنی کتاب ”منتخب التواریخ“ میں ان کا نام بھی شامل نہیں کیا۔

اورنگزیب عالمگیر نے بھی اپنے ایک خط میں ان کا ذکر ایک گمراہ صوفی کے طور پر کیا ہے۔ ان کی شدت پسندی کو جدید دور میں شاہ ولی اللہ کے پیروکاروں کی وجہ سے زیادہ اہمیت ملی ہے، جنہوں نے ان کو مجدد الف ثانی کے لقب سے مشہور کر رکھا ہے۔

جو لوگ مسلم معاشروں میں شدت پسندی کے خلاف سرگرم ہونا چاہتے ہیں انہیں وحدت الوجود کے دھوکے میں نہیں آنا چاہئے۔ حماقت عام کر کے ظلم کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ شدت پسندی کو وحدت الوجود اور وحدت الشہود کی لفظی نزاع سے جوڑ کر جان چھڑا لینا درست نہیں ہے۔

یہ روش دہشتگردی کے اصلی اسباب جاننے کیلئے درکار محنت سے فرار کے سوا کچھ نہیں ہے۔ برصغیر کے صوفی آستانے ظلم و ناانصافی میں بادشاہوں کے سہولت کار رہے ہیں۔ بادشاہوں نے بھی ہمیشہ ان جہالت کدوں کو مددِ معاش کے نام پر وسیع جاگیروں سے نوازا ہے[8]۔

حوالہ جات

  1. الزرکلی, خیر الدین (أیار 2002 م). الأعلام - ج 7 (الطبعة الخامسة عشر). بیروت: دار العلم للملایین. صفحة 184
  2. ( بنت میاں محمد الیاس)مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی ؒ-شائع شدہ از: 5 اگست 2014ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 10 جولائی 2026ء
  3. الحدائق الوردیة فی حقائق أجلاء النقشبندیة، عبدالمجید بن محمد بن محمد الخانی، ص 180
  4. مکتوبات السرهندی، (41/35)
  5. إسماعیل البغدادی - هدیة العارفین - ج5 ص 165
  6. شیخ احمد سرہندی، ردِ روافض، صفحہ 35، مدنی کتب خانہ، گنپت روڈ، لاہور
  7. مخطوطات > المقدمة السنية في الانتصار للفرقة السنية .
  8. برصغیر میں شیعہ صوفی تعلقات-شائع شدہ از:24 مئی 2023ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 10 جولائی 2026ء