مندرجات کا رخ کریں

رشید احمد یوسف لوضیانوی

ویکی‌وحدت سے
رشید احمد یوسف لوضیانوی
پورا نامرشید احمد لوضیانوی
دوسرے ناممولانا رشید احمد لوضیانوی
ذاتی معلومات
پیدائش1932 ء
پیدائش کی جگہمشرقی پنجاب ہندوستان
وفات2000ء
یوم وفات18 اگست
وفات کی جگہکراچی پاکستان
مذہباسلام، سنی
مناصبمذہبی اسکالر

رشید احمد یوسف لودھیانوی، برصغیر ہند کے اسلامی علما میں سے تھے۔ ان کی تفسیر، فقہ، اصول اور شرعی علوم کے موضوعات پر ایک سو سے زیادہ کتابیں تصنیف و تالیف کی صورت میں موجود ہیں۔پاکستان سے تعلّق رکھنے والے ایک اسلامی اسکالر اور فقہی تھے اور آپ کے استاذ میں مفتی محمد شفیع اور سید عبد الحق نافع کاکا خیل نمایاں ہیں۔وہ جامعہ الرشید کراچی اور الرشید ٹرسٹ کے بانی تھے۔ وہ احسن الفتاوی اور دیگر کئی کتب کے مصنف ہیں۔ وہ جامعہ دارالہدی ٹھیڑھی میں شیخ الحدیث تھے آپ کے دروس بخاری بہت مشہور تھے بعد ازاں اپنے استاد مفتی شفیع عثمانی کے حکم پر دارالعلوم کراچی میں مدرس رہے آپ بیک وقت جامعہ دار العلوم کراچی کے مفتی،شیخ الحدیث اور امام تھے بعد ازاں آپ نے ایک اور ادارہ دارالافتاء والارشاد کے نام سے بنایا،بعد ازاں جامعۃ الرشید کی بنیاد رکھی جو ملک کا معروف ادارہ ہے اپ کے شاگردوں میں مفتی عبد الرحیم صاحب جو جامعۃ الرشید کراچی کے موجودہ سربراہ ہیں جنکو مفتی صاحب نے بیس سالہ طویل امتحان کے بعد اپنی زندگی میں اپنا نائب مقرر فرمایا، سر فہرست ہیں،اس کے علاوہ مفتی تقی عثمانی ،مفتی رفیع عثمانی ، مفتی محمد (شیخ الحدیث جامعۃ الرشید)، مفتی ابو لبابہ شاہ منصور،مفتی ابراہیم صادق آبادی، مفتی احتشام الحق آسیابادی، مفتی احمد ممتاز ،مفتی طارق مسعود نمایاں ہیں۔ آپ کا تعلق مجلس احرار اسلام کے ساتھ رہا۔ آپ نے 19 فروری 2002 میں کراچی میں انتقال فرمایا اور پاپوش قبرستان میں مدفون ہیں۔

پیدائش

وہ پندرہ جون ۱۹۳۲ء کو مشرقی پنجاب، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔

سرگرمیاں

۱۹۴۷ء میں انہوں نے پاکستان ہجرت کی۔ ۱۹۴۹ء میں وہ جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن سے وابستہ ہوئے۔ پاکستان میں انہوں نے ہفت روزہ ختم نبوت اور ماہنامہ بینات اور لولاک کے مدیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔

مولانا مفتی رشید احمد لدھیانوی دار العلوم دیوبند کے ممتاز فضلاءمیں سے تھے، شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی کے شاگرد تھے اور میرے والد محترم شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے دورۂ حدیث کے ساتھی تھے۔

تعلیمی سرگرمیاں

قیام پاکستان کے بعد انہوں نے کراچی کو اپنی علمی ودینی جولان گاہ بنایا اور بہت جلد ملک کے بڑے مفتیان کرام میں ان کا شمار ہونے لگا۔ وہ بلند پایہ مفتی تھے، اپنے معاصر مفتیان کرام سے بعض مسائل میں علمی بنیاد پر اختلاف بھی رکھتے تھے جیسا کہ ہر عالم اور مفتی کا حق ہے، ان کے کچھ تفردات بھی تھے جو علمی حلقوں میں موضوع بحث بنے رہتے تھے۔

لیکن ان کا علمی مقام اور ثقاہت ہمیشہ علمی حلقوں میں مسلم رہی اور ان کی علمی تحقیقات کو احترام کی نظر سے دیکھتے ہوئے اہل علم ان سے مسلسل استفادہ کرتے تھے۔ مگر مجھے ان کی جس ادا نے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ ان کا ذوقِ تربیت تھا اور اس کے ساتھ خدمت خلق کے جذبے کو عام کرنے کا اسلوب جس نے انہیں اپنے معاصر علماءکرام میں ایک نمایاں اور امتیازی حیثیت عطا کر دی تھی۔

مولانا مفتی رشید احمد لدھیانویؒ کے ساتھ میری عقیدت دو حوالوں سے ہے:

ایک حوالہ تو مشترک ہے کہ وہ ہمارے ملک کے نامو رمفتیان کرام میں سے تھے۔ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع اور مولانا سید محمد یوسف بنوری کے ساتھ ایک دور میں ایسے مفتیان کرام میں تیسرا بڑا نام مولانا مفتی رشید احمد لدھیانوی کا سامنے آتا تھا، جن سے مسائل معلوم کرنے کے لیے عامۃ الناس کی ایک بڑی تعداد تو رجوع کرتی ہی تھی۔

مگر ان بزرگوں کو ملک بھر کے علماءکرام میں بھی مراجع کی حیثیت حاصل تھی کہ علماءکرام او رمفتیان کرام اپنی الجھنوں اور علمی اشکالات کو دور کرنے کے لیے انہی سے رجوع کرتے اور رہنمائی حاصل کرتے تھے۔

جبکہ دوسرا حوالہ یہ ہے کہ میرے والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر اور حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانوی دورۂ حدیث کے ساتھی تھے اور دونوں نے غالباً سن ۱۹۴۱ء / ۱۹۴۲ء میں دار العلوم دیوبند میں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی اور دیگر اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کر کے اکٹھے سند فراغت حاصل کی تھی۔

شاگردوں کی تربیت

حضرت مفتی صاحب فقہ و افتاءکے شعبہ میں بلند پایہ استاذ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ماہر اور تجربہ کار روحانی مربی بھی تھے اور وہ اپنے تلامذہ کے تعلیمی معیار پر نظر رکھنے کے علاوہ ان کی اخلاقی اور روحانی تربیت کا اہتمام بھی کرتے تھے۔ مولانا اشرف علی تھانوی کا تربیت کا نظام بہت سخت تھا،

وہ اپنے مرید کی دینی یا دنیاوی وجاہت کا لحاظ رکھے بغیر اور اس کی رعایت کرنے کی بجائے تربیت کے قواعد وضوابط کی پابندی پر زیادہ توجہ دیتے تھے۔ اسی طرح کی جھلک حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانویؒ کے نظام تربیت میں بھی نظر آتی تھی۔

سماجی سرگرمیاں

مفتی صاحب مرحوم نے جس جرأت و حوصلہ کے ساتھ جہاد افغانستان کو سپورٹ کیا، مجاہدین کی سرپرستی اور پشت پناہی کی، طالبان کی اسلامی حکومت کی حمایت و امداد کا اہتمام کیا اور علماء اور دینی حلقوں کو حق کی حمایت کی طرف متوجہ کرنے میں مسلسل محنت کی، اس نے خیر القرون کے مجاہد علماء کرام کی یاد تازہ کر دی۔ اور ان کے قائم کردہ "الرشید ٹرسٹ" نے رفاہی میدان میں نمایاں کارنامے سرانجام دیے۔

سماجی خدمت اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے۔ بلکہ اگر دیکھا جائے تو علم کے حصول کے بعد اسلام کا دوسرا بڑا سبق ہی سماجی خدمت ہے۔ جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر غار حرا میں پہلی وحی نازل ہوئی تو اس میں پڑھنے اور تعلیم کی تلقین تھی۔

اور جب اس پہلی وحی کے بعد جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہلی بار گھر تشریف لائے تو ان کی زوجہ محترمہ ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے جس حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی اور گھبراہٹ کے ماحول میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حوصلہ دیا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سماجی خدمات تھیں۔

بخاری شریف کی روایت ہے کہ جب وحی کے پہلے تجربہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے تو ایک بالکل نئے تجربے کی وجہ سے کچھ گھبراہٹ تھی، اس پر ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے یہ کہہ کر تسلی دی کہ آپ پریشان نہ ہوں، اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز ضائع نہیں ہونے دیں گے۔

اس لیے کہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، محتاجوں کی مدد کرتے ہیں، بے سہارا لوگوں کا سہارا بنتے ہیں، نادار افراد کی کفالت کرتے ہیں اور مشکلات میں لوگوں کے ساتھی بنتے ہیں۔ گویا ام المؤمنینؓ نے فرمایا کہ سوشل ورکر کو اللہ تعالیٰ کبھی ضائع نہیں ہونے دیتے، اس لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی خدمت کرتا ہے۔

الرشید ٹرسٹ کا قیام

ہمارے دینی حلقوں میں دینی مدارس کی محنت اگرچہ خود ایک بہت بڑی سماجی اور تعلیمی خدمت کا درجہ رکھتی ہے، جس کا اعتراف صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنی نشری تقریر میں ان الفاظ کے ساتھ کیا تھا کہ یہ دینی مدارس سب سے بڑی این جی اوز ہیں جو لاکھوں طلبہ کونہ صرف مفت تعلیم فراہم کرتے ہیں بلکہ لاکھوں نادار افراد کو رہائش، خوراک اور علاج معالجہ کی سہولتیں بھی مہیا کرتے ہیں۔

لیکن اس کے باوجود تعلیم سے ہٹ کر دوسرے شعبوں میں سماجی خدمات کا دینی حلقوں میں جو خلا نظر آتا تھا جو غیر ملکی این جی اوز کے سماجی خدمات کے نیٹ ورک اور خاص طور پر پاکستان میں مسیحی مشنریوں کی سماجی سرگرمیوں کے پس منظر میں بہت زیادہ محسوس ہوتا تھا،

اللہ تعالیٰ نے اس خلا کو پر کرنے کی خدمت حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانویؒ سے لی اور مفتی صاحب نے ’’الرشید ٹرسٹ‘‘ کے ذریعے سماجی خدمات کے ان تمام شعبوں کی طرف اصحاب خیر کی توجہ دلائی جن کا تذکرہ ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سماجی خدمات کے حوالے سے بخاری شریف کی روایت میں کیا ہے۔

مجھے گزشتہ دنوں لندن جاتے ہوئے کراچی میں ایک دن رکنے کا موقع ملا اور جامعہ انوار القرآن آدم ٹاؤن نارتھ کراچی میں بخاری شریف کے اختتام کی سالانہ تقریب میں شرکت کے علاوہ حضر ت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانوی کے قائم کردہ اداروں میں حاضری کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔

دارالافتاء میں تو پہلے بھی حاضری ہو چکی ہے، مگر جامعۃ الرشید کے نام سے حیدرآباد جانے والے ہائی وے پر ایک بڑا اور معیاری دینی ادارہ دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی۔ آٹھ ایکڑ زمین میں جدید طرز کی خوبصورت تعمیرات کے ساتھ اساتذہ اور طلبہ کے لیے قیام و طعام کا معیاری انتظام دیکھا، جو آج کے دور کے کسی بھی جدید ترین تعلیمی ادارے کے معیار سے کم نہیں ہے۔

کھیل کے وسیع میدان اور خوبصورت سبزہ زاروں میں گھری ہوئی مسجد و مدرسہ کی عمارات کے علاوہ سوئمنگ پول میرے لیے حیرت اور خوشی کا باعث بنا، جو اساتذہ اور طلبہ کے لیے بنایا گیا ہے اور اسے دیکھ کر کسی فائیو اسٹار ہوٹل کے سوئمنگ پول کا گمان گزرتا ہے۔

حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانوی کے تلمیذ خاص مفتی عبدالرحیم صاحب کی نگرانی و انتظام میں جدید طرز کا یہ دینی مدرسہ ان بین الاقوامی اداروں کی خاص توجہ کا مستحق ہے جو دنیا بھر میں دینی مدارس کے خلاف شب و روز کردار کشی کی مہم میں مصروف رہتے ہیں۔

صحافتی سرگرمیاں

اس موقع پر مجھے روزنامہ ”اسلام“ کراچی اور ہفت روزہ ”ضرب مومن“ کے دفاتر میں جانے کا موقع بھی ملا۔ خالص مولویوں کو فرشی نشستوں پر ڈیسک رکھے ایک معیاری روزنامے کے لیے کام کرتے دیکھ کر تعجب بھی ہوا اور خوشی بھی کہ یہ تو خود میرے ایک دیرینہ خواب کی تعبیر ہے جو میں مدت سے دیکھ رہا ہوں۔

مگر سب سے زیادہ مسرت ’’الرشید ٹرسٹ‘‘ سے متصل بلڈ بینک دیکھ کر ہوئی جس کا حال ہی میں افتتاح ہوا ہے اور جس میں خون کے حصول، ٹیسٹ، حفاظت اور نادار افراد کو اس کی صحیح حالت میں مفت فراہمی کا نظم ونسق دیکھ کر حضرت مفتی صاحبؒ کے لیے بے ساختہ دل کی گہرائیوں سے دعائیں نکلیں۔

میں نے مغربی ممالک کے جدید ترین ہسپتال دیکھے ہیں لیکن جدید ترین مشینری، مہارت اور کارکردگی کے لحاظ سے مجھے ان کے مقابلہ میں اس بلڈ بینک میں کوئی کمی دکھائی نہیں دی۔ اللہ تعالیٰ حضرت مفتی صاحبؒ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں اور ملک کے دیگر دینی اداروں اور شخصیات کو بھی ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دیں[1]۔

علمی آثار

  • مالداروں سے محبت
  • شہادت حسین، محرم الحرام کے فضائل و مسائل – حضرات اہل بیت – حضرة سیدنا علی، معاویہ و حسنین رضی اللہ عنہم کی مبارک سیرت و مناقب – سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا موقف اور مقام و مرتبہ
  • محبت الٰہیہ
  • اسلام میں ڈاڑھی کا مقام
  • ارشاد القاری الی صحیح البخاری
  • حفاظت نظر
  • شرعی پردہ پر قرآنی احکام کی تفصیل
  • سود خور سے اللہ اور رسول کا اعلان جنگ
  • منکرات محرم
  • احسن الفتاوی (10 جلد)

[[2]۔

وفات

وہ اٹھارہ اگست ۲۰۰۰ء کو کراچی، پاکستان میں وفات پا گئے۔

رد عمل

آہ! حضرت مولانا مفتی رشید احمدؒ

ابھی حضرت مولانا عاشق الٰہی بلند شہری مہاجر مدنی کا صدمہ وفات قلب حسرت ناک سے جدا نہیں ہوا تھا کہ شہید امارت اسلامیہ افغانستان اور انقلاب طالبان کے عظیم مربی اور محسن حضرت مولانا مفتی رشید احمد بھی داغ مفارقت دے کر مولائے حقیقی سے جا ملے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

دنیا مسافر خانہ اور موت کی گاڑی کا پلیٹ فارم ہے۔ یہاں لاکھوں کے آنے جانے کا سلسلہ جاری ہے مگر کچھ ہستیاں اس سرائے کو نیکیوں کو چمنستان بنا کر یادگار چھوڑ جاتی ہیں۔ بلاشبہ حضرت مفتی صاحب اپنی ذات میں ایک انجمن باطل شکن تھے۔

بیک وقت مدرس، مفتی، محدث، مصلح، مجاہد، مدبر حق گو، بدعات شکن، شیخ ومرشد، قائد جہادی تنظیمات، حاتم غربا ومساکین اور انقلاب افغانستان کے سب سے بڑے سرپرست ، محافظ ومعاون تھے۔

ضرب مومن کے اجرا سے آپ نے دینی صحافت اور اصلاح عوام کی بے نظیر مثال پیش کی اور لاکھوں گم گشتگان کو راہ راست پر لائے۔ حجرۂ تنہائی میں بیٹھ کر نشتر پارک جیسے جلسوں میں لاکھوں کو زیارت کرائے بغیر ایسا جامع عقیدت پلایا اور شریعت محمدیہ کا پابند بنایا کہ بڑے بڑے اولیاء کرام کی یادیں تازہ ہو گئیں۔

50 ہزار فتوے جاری کرنے اور 60 کتابیں تصنیف فرمانے کے ساتھ آپ یقیناًولی کامل بھی تھے کہ ناظم آباد کی ایک چھوٹی سی قدیم مسجد اور معمولی مکان میں پوشیدہ رہ کر، مختلف شہروں اور ملکوں کے دورے کیے بغیرکروڑوں افراد سے اپنی عقیدت کا لوہا منوا لیا۔

لاکھوں گنہ گاروں کو تائب، نیکیوں کا متلاشی، شریعت وسنت اور ڈاڑھی اور پردے کا پابند بنایا۔ آپ کے اشاروں پر ہی نہیں، دعاؤں سے بھی مخیر حضرات کروڑوں کا سامان افغانستان کے یتامیٰ، مجاہدین اور طالبان کے لیے ٹرکوں اور ٹرالوں پر لے جاتے رہے۔

ایں سعادت بزور بازو نیست

تا نہ بخشد خدائے بخشندہ

مدرسہ قاسم العلوم اکوال تلہ گنگ کے مفتی مولانا الطاف الرحمن فاضل مدینہ یونیورسٹی کے والد محمد قاسم صاحب نے آپ کی کرامت کے طور پر مجھے بتایا کہ میں ۷۸ء میں اپنے بیٹے کو دار الافتا میں داخل کرانا چاہتا تھا مگر شرائط پوری نہ تھیں۔

یہ ورد پڑھتے ہوئے کراچی گیا کہ یا الٰہی کرم کر، سخت دل نرم کر۔ مفتی صاحب نے مولانا کو داخل کر کے فرمایا کہ آپ کے والد کی وجہ سے کر رہا ہوں۔ پھر والد صاحب سے فرمایا کہ مسلمان سخت دل نہیں ہوتا، مضبوط دل والا ہوتا ہے۔ یعنی ان کی قلبی کیفیت بطور کشف وکرامت اللہ نے معلوم کرا دی۔

احقر کا مفتی صاحب سے تلمذ برائے ہے۔ ۱۳۸۶ھ میں دورۂ حدیث شریف پڑھ کر مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ سے فارغ ہوا تو روحانی اصلاح کے لیے حضرت مولانا تھانوی رحمہ اللہ اور مولانا فضل الٰہی قریشی مسکین پوریؒ کے خلیفہ یادگار سلف حضرت مولانا محمد عبد اللہ بہلوی شجاع آبادی نور اللہ مرقدہ (وفات ۱۳۹۷ھ)سے بیعت کا تعلق قائم کیا اور رمضان وشعبان میں دورۂ تفسیر بھی پڑھا۔

وہاں ایک طالب علم نے مفتی صاحب کے دار الافتا کا تعارف کرایا تو احقر نے بذریعہ خط آپ سے رابطہ کیا۔ آپ نے فرمایا کہ ۷ شوال تک پہنچ جاؤ۔ میں خوش ہو کر گھر عید کے لیے تھمے والی ضلع میانوالی آیا۔ کراچی کا پہلا سفر تھا۔ والد مرحوم کی علالت اور کچھ اپنی سستی کی وجہ سے تین دن کی تاخیر سے ۱۰ شوال کی شام کو کراچی پہنچا۔

عشا کی نماز حضرت مفتی صاحب کے پیچھے اداکی۔ حضرت مفتی صاحب اصول کے بڑے پابند تھے۔ فرمایا تین دن لیٹ آئے ہو، داخلہ بند ہے۔ ہاں اگر کوئی ۷۵ روپے ماہانہ کے لحاظ سے تمہارا سال کا وظیفہ ادا کرنے پر راضی ہو تو گنجائش نکل آئے گی ورنہ بنوری ٹاؤن میں تخصص فی علوم الحدیث میں داخلہ لے لو۔

میرے مقدر میں آپ کی صحبت سے محرومی اور وارثان علامہ انور شاہ کشمیری حضرت علامہ محمد یوسف بنوری اور مولانا محمد ادریس بھٹی مدیر مسؤل بینات سے تلمذ کی سعادت لکھی تھی۔ انہی دنوں میں مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ جامعہ رشیدیہ ساہیوال سے ہر ماہ پڑھانے آیا کرتے تھے۔ وہاں داخلہ مل گیا۔ کبھی کبھی مفتی صاحب کی زیارت بھی ہو جاتی۔ پھر احقر کا سلسلہ تدریس وملازمت پنجاب میں ہی رہا۔

رمضان ۱۴۲۱ھ میں کراچی کے سفر کے موقع پر مفتی رشید احمد صاحبؒ کی زیارت کے لیے ناظم آباد گیا۔ عشا کی نماز میں آپ سے ملاقات ہوئی۔ انتہائی بارعب لباس اور بزرگانہ شان وشوکت حضرت تھانوی نور اللہ مرقدہ کی وضع قطع معلوم ہوئی۔ بالاخانہ پر بلایا۔ میں نے دل لگی سے اپنا تاثر سنا دیا۔ مسکرائے۔

میں نے ناکام طالب علمی کا حوالہ دیا تو اور خوش ہوئے اور فرمایا کہ میں جانتا ہوں۔ آپ پہلے بھی ملتے رہے ہیں۔ آپ کے مدح صحابہؓ اور رد رفض کے موضوع پر تصانیف سے واقف ہوں۔ دعا بھی دی۔ اپنی علمی وروحانی ضوفشانی سے احقر کو منور وسیراب فرماتے رہے۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ امارت اسلامیہ افغانستان کی شہادت کا غم لے کر جانے والے مفتی صاحب کو غریق رحمت فرمائے اور ان کی تمام دینی خدمات کو قبول فرمائے۔

رفتید ولے نہ از دل ما[3]۔

حوالہ جات

  1. خدمتِ خلق اور حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانویؒ-شائع شدہ از: 15 اکتوبر 2002ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 23 اگست 2026ء
  2. [https://besturdubooks.net/tag/mufti-rasheed-ahmad-ludhianvi-books/ Mufti Rasheed Ahmad Ludhianvi Books-اخذ شدہ بہ تاریخ: 23 اگست 2026ء
  3. آہ! حضرت مولانا مفتی رشید احمدؒ، حافظ مہر محمد میانوالوی-اخذ شدہ بہ تاریخ:23 اگست 2026ء