فرید الدین قادری
| فرید الدین قادری | |
|---|---|
| دوسرے نام | ڈاکٹر فرید الدین قادری |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 1918 ء، 1296 ش، 1335 ق |
| یوم پیدائش | 19 فروری |
| پیدائش کی جگہ | پاکستان، جھنگ |
| اساتذہ | شکیل مینائی و میر مینائی |
| مذہب | اسلام بریلوی، سنی |
| مناصب |
|
فریدالدین قادری ایک پاکستانی معالج، دینی عالم، ادیب اور سیاسی کارکن تھے، جو تحریکِ پاکستان میں شرکت اور 1945ء اور 1946ء کے انتخابات میں مسلم لیگ کے لیے سرگرم کردار کی وجہ سے معروف ہیں۔ وہ طاہر القادری کے والد تھے، جو منہاجُ القرآن کے بانی ہیں۔
سوانحِ حیات
فریدالدین قادری 1918ء میں پنجاب کے شہر جھنگ میں پیدا ہوئے۔ دینی اور طبی علوم کے حصول کے لیے انہوں نے لکھنؤ اور حیدرآباد دکن میں 12 برس قیام کیا۔ انہوں نے اپنی تعلیم لکھنؤ کے مقامی علمی مرکز میں جاری رکھی، جو اس دور میں ایشیا کے اہم ترین تعلیمی مراکز میں شمار ہوتا تھا۔ اس مرکز کی علمی ساکھ اس زمانے میں آکسفورڈ اور کیمبرج جیسی معروف جامعات سے تقابل کی جاتی تھی۔
ان کے فرزند شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری، بین الاقوامی ادارہ منہاجُ القرآن کے بانی ہیں، جبکہ ان کے پوتے ڈاکٹر حسن محی الدین قادری (صدر منہاجُ القرآن) اور ڈاکٹر حسین محی الدین قادری (سربراہ شعبۂ بین الاقوامی منہاجُ القرآن) ہیں۔
تعلیم
دوران طالب علمی انہیں جید علماء و مشائخ سے کسبِ علم وفیض کی سعادت میسر رہی۔ اس کی ایک طویل فہرست ہے۔ ڈاکٹر فرید الدین قادری نے متحدہ ہندوستان میں لکھنؤ فرنگی محل میں تعلیم حاصل کی جو اس وقت ایشیا کا ایک معروف ترین مرکزعلم و فن تھا۔ برصغیر میں اس دور میں فرنگی محل کی وہی علمی خصوصیت تھی جو آکسفورڈ اور کیمبرج کی ہے۔ آپ مسلسل 12 سال لکھنؤ اور حیدر آباد دکن میں حصولِ علم کے لئے قیام پذیر رہے اور علم و فضل کی منازل طے کرتے رہے۔
آپ علوم دینیہ کے ساتھ ساتھ علوم طب میں بھی اس وقت کے ماہر میڈیکل ایکسپرٹس اور اساتذہ سے تعلیم حاصل کرتے رہے۔ آپ نے لکھنؤ قیام کے دوران کنگ جارج میڈیکل کالج سے میڈیسن کی تعلیم اورڈگری حاصل کی۔
ڈاکٹر فرید الدین قادری ایک ممتاز عالم دین، ماہر نباض، میڈیسن ایکسپرٹ، مستند معالج اورایک خدا ترس سیاسی، سماجی رہنما تھے ان کی زندگی کا بڑا حصہ حصولِ علم اور خدمتِ انسانیت میں بسر ہوا۔ آپ کو عرب و عجم کے علماء، مشائخ، محدثین کی صحبت میں علم کے موتی سمیٹنے کا اعزاز حاصل ہے۔
آپ نے بغداد، مکہ و مدینہ، شام، لبنان، طرابلس، فلسطین، برصغیر پاک و ہند کے وقت کے عظیم محدثین، مجتہدین سے براہ راست کسب علم و فیض کیا۔ ڈاکٹر فرید الدین قادریؒ ایک ممتاز ادیب اور بلند پایہ صاحب دیوان شاعر بھی تھے۔ اس وقت لکھنؤ علم و ادب کا گہوارہ تھا، آپ زمانہ طالب علمی میں وہاں کی ادبی محافل کی زینت بنتے اور اہل علم و ادب اور اردو زبان کے جید اساتذہ کی والہانہ داد سمیٹتے۔ آپ شکیل مینائی اور میر مینائی کے براہ راست شاگرد تھے۔
سرگرمیاں
سیاسی سرگرمیاں
فریدالدین قادری نے 1945ء اور 1946ء میں برصغیر کے عام انتخابات کے دوران مسلم لیگ کے مقرر کے طور پر خدمات انجام دیں اور جھنگ میں مسلم لیگ کے امیدواروں کی کامیابی کے لیے سماجی بسیج میں مؤثر کردار ادا کیا۔ وہ 23 مارچ 1940ء کے تاریخی اجلاس میں بھی شریک تھے (مسلم لیگ کا وہ اجتماع جس میں قراردادِ لاہور منظور ہوئی اور جسے قیامِ پاکستان کے اسباب میں شمار کیا جاتا ہے) اور رہنماؤں کی صف میں موجود تھے۔
اس تقریب کی تصاویر تاریخی دستاویز کے طور پر محفوظ ہیں۔ ان کے علامہ محمد اقبال سے قریبی روابط تھے اور بیماری کے دوران وہ ان کی عیادت بھی کرتے رہے۔
علمی و سماجی سرگرمیاں
- دینی علوم کی تدریس اور علمی و ادبی محافل میں سرگرم شرکت؛
- 1947ء میں تقسیمِ ہند و پاکستان کے بعد لاہور میں مہاجرین کے کیمپوں میں مفت طبی خدمات کی فراہمی؛
- تعلیم اور سماجی خدمات کے شعبوں میں فعال کردار۔
اعزازات
ڈاکٹر فرید الدین قادریؒ تحریک پاکستان کا ایک عظیم نام
تحریک منہاج القرآن کے بانی و سرپرست شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے والد گرامی ڈاکٹر فرید الدین قادری کو تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ اور نظریہ پاکستان فاؤنڈیشن کی طرف سے تحریک پاکستان کے دوران گراں قدر خدمات انجام دینے پر گولڈ میڈل اور تعریفی سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا ہے۔ یہ گولڈ میڈل 3 فروری 2022ء کے روز صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے ڈاکٹر فرید الدین قادری کے پوتے اور شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے صاحبزادے ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے وصول کیا۔
تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ اور نظریہ پاکستان فاؤنڈیشن کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس پلیٹ فارم سے پاکستان کی تشکیل کیلئے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت میں جدوجہد کرنے والے ہیروں کو تلاش کر کے انہیں عزت سے نوازا جاتا ہے اور قومی سطح پر ان کی قربانیوں کا اعتراف کیا جاتا ہے۔ بلاشبہ یہی وہ نایاب ہیرے ہیں جن کی وجہ سے آج ہم آزاد فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں۔
بلاشبہ پوری قوم ان کی ممنون احسان ہے۔ اللہ رب العزت پاکستان بنانے والے ان قوم کے عظیم سپوتوں کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور جو حیات ہیں اللہ انہیں صحت و تندرستی کے ساتھ ہماری سروں پر سلامت رکھے اور نظریہ پاکستان اور تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کو قائم و دائم اور شاد و آباد رکھے۔
قومی خدمت انجام دینے والے ان ہیروز کی فہرست میں ایک نیا اضافہ ڈاکٹر فرید الدین قادری کا ہے۔ ڈاکٹر فرید الدین قادریؒ پیشے کے اعتبار سے میڈیسن ایکسپرٹ ڈاکٹر تھے لیکن ان کا زیادہ وقت درس تدریس اور خدمت خلق میں گزرا۔ تاریخ میں کچھ بیٹے عظیم باپ کی وجہ سے جانے جاتے ہیں اور کچھ باپ عظیم بیٹوں کی خدمات کی وجہ سے تاریخ میں اپنانام اور شناخت حاصل کرتے ہیں مگر یہاں باپ اور بیٹے دونوں اپنا اپنا ایک علمی مقام اور شناخت رکھتے ہیں۔
سیاسی سرگرمیاں
ڈاکٹر فرید الدین قادریؒ علم، ادب، انسانیت کی خدمت کے ساتھ ساتھ تحریک پاکستان کے بھی ایک بے تیغ نڈر سپاہی تھے۔ 1945ء اور 1946ء میں منعقد ہونے والے عام انتخابات میں انہوں نے مسلم لیگ کے امیدواروں کی کامیابی کے لئے دن رات محنت کی۔ اللہ نے آپ کو علم و فضل کے ساتھ ساتھ گفتگو اور تقریر کے فن اور سلیقے سے بھی نوازا تھا۔
اس لیے آپ جس محفل اور اجتماع میں بھی گویا ہوتے لوگوں کے دل اور ذہن بدل دیتے تھے۔ جھنگ کے مسلم لیگی امیدواروں کی کامیابی میں آپ کی انتخابی مہم میں کی جانے والی پر تاثیر اور بامقصد گفتگو کا مرکزی کردار رہا ہے جس کا اعتراف اس وقت کے ممتاز مسلم لیگی رہنما بڑے فخریہ انداز میں کیا کرتے تھے۔
محمد اقبال لاہوری سے ملاقات
ڈاکٹر فرید الدین قادری کو حکیم الامت علامہ محمد اقبال سے ملاقاتوں کا شرف بھی حاصل رہا ہے۔ آپ متعدد بار حکیم الامت کو ملنے کے لئے لاہور تشریف لائے۔ ایک موقع پر حکیم الامت علیل تھے اور ملاقاتوں کا سلسلہ معطل تھا مگر جب حکیم الامت کو ڈاکٹر فرید الدین قادری کی آمد کا بتایا گیا تو آپ نے علالت کے باوجود ان سے ملاقات کی اور یہ ملاقات ڈیڑھ گھنٹہ تک جاری رہی۔ حکیم الامت ڈاکٹر فرید الدین قادریؒ کے علمی مقام و مرتبہ سے آگاہ تھے۔
ڈاکٹر فرید الدین قادری کو 23 مارچ 1940ء کے منٹو پارک کے آل انڈیا مسلم لیگ کے تاریخ ساز اجتماع میں بھی شرکت کا اعزاز حاصل ہے۔ نہ صرف شرکت کا اعزاز حاصل ہے بلکہ آپ سٹیج پر بیٹھنے والے مرکزی قائدین کی صفوں میں تیسری صف میں بٹھائے گئے۔ اس کا تاریخی حوالہ فوٹو گرافس کی صورت میں بطور تاریخی دستاویز محفوظ ہے۔
ڈاکٹر فرید الدین قادری کو اللہ نے جہاں علم و فضل کی نعمت سے مالا مال کیا وہاں انہیں ایک درد مند دل سے بھی نوازا۔ برصغیر کی تقسیم کے اعلان کے بعد مہاجرین کی آمد اور آباد کاری ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔ مہاجرین کے لٹے پھٹے قافلے جب لاہور پہنچتے تو ان کا کوئی پرسان حال نہیں تھا۔ بیشتر بلوائیوں کے ہاتھوں شدید زخمی اور شدید سفری تکان کی وجہ سے مختلف بیماریوں میں مبتلا تھے۔ ڈاکٹر فرید الدین قادریؒ نے دن رات کے فرق کے بغیر مہاجر کیمپوں میں بطور معالج طبی خدمات انجام دیں اور اس کا کبھی کوئی معاوضہ نہ مانگا اورنہ قبول کیا۔
گولڈ میڈل اور تعریفی سرٹیفکیٹ

یہ بات باعثِ اطمینان ہے کہ ڈاکٹر فرید الدین قادری کو تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ اور نظریہ پاکستان فاؤنڈیشن کی طرف سے گولڈ میڈل اور تعریفی سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا ہے۔ یہاں یہ بات بھی اطمینان اور مسرت کے جذبات کے ساتھ ضبط تحریر میں لائی جاتی ہے کہ ڈاکٹر فرید الدین قادری نے ڈاکٹر طاہرالقادری کی صورت میں اُمت کو جو سپوت دیا ہے وہ بھی دن رات کی تفریق کے بغیر علم اور انسانیت کی خدمت میں مصروف عمل ہیں۔
ڈاکٹر طاہرالقادری نے فتنہ خارجیت اور اسلام کو انتہا پسندی اور تشدد کے ساتھ جوڑنے والوں کی باطل فکر کا قرآن و سنت کے مستند حوالہ جات کے ساتھ جو رد کیا ہے ان کی یہ علمی خدمت رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گی۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے اسلام کی امن فلاسفی کا احیاء کر کے نوجوانوں کو تکفیری فتنہ سے بچایا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے ادارے منہاج القرآن کے تحت سینکڑوں تعلیمی ادارے کام کررہے ہیں جن میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد طلباء و طالبات زیرتعلیم ہیں اور ان تعلیمی اداروں کی شناخت تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی ہے۔
یہ ادارے جدید علوم پڑھانے کے ساتھ ساتھ نظریہ اسلام اور نظریہ پاکستان کا پرچم بھی بلند رکھے ہوئے ہیں۔ جس طرح علمی و انسانی خدمت کا ڈاکٹر فرید الدین قادری کوئی معاوضہ قبول نہیں کرتے تھے اسی طرح ان کے فرزند شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری بھی اپنی دینی و علمی خدمت کا کوئی معاوضہ قبول نہیں کرتے اور ڈاکٹر فرید الدین قادری کی تیسری نسل خدمت دین کے جذبے سے سرشار دن رات مصروف عمل ہے۔
منہاج القرآن انٹرنیشنل کی سپریم کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر حسن محی الدین قادری جو دنیا کی ممتاز یونیورسٹیوں کے فارغ التحصیل ہیں دن رات دین کی خدمت میں مصروف ہیں۔ اسی طرح دنیا کی ممتاز یونیورسٹیوں کے فارغ التحصیل منہاج القرآن انٹرنیشنل کے صدر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری تعلیم کے شعبے میں دن رات کی تفریق کے بغیر خدمت انجام دے رہے ہیں۔ [1]۔
متعلقہ تلاشیں
حوالہ جات
- ↑ ڈاکٹر فرید الدین قادریؒ تحریک پاکستان کا ایک عظیم نام- شائع شدہ از: 7 فروری 2022ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 27 دسمبر 2025ء