مندرجات کا رخ کریں

حشمت کمال الہی

ویکی‌وحدت سے
حشمت کمال الہی
پورا نامحشمت کمال الہامی
دوسرے نامپروفیسر حشمت کمال الہامی
ذاتی معلومات
یوم پیدائش18 اگست
پیدائش کی جگہکواردو بلتستان پاکستان
وفات2020 ء
یوم وفات1 اگست
وفات کی جگہسکردو
مذہباسلام، شیعہ
مناصبپروفیسر، ادیب، شاعر اور محقق

حشمت کمال الہامی ، (18 اگست 1955ء – 1 اگست 2020ء) پاکستان کے معروف شاعر، ادیب، محقق اور ماہرِ تعلیم تھے، جن کا تعلق سکردو، بلتستان سے تھا۔ انہوں نے اردو، فارسی اور بلتی زبانوں میں شاعری و نثر کے ذریعے علمی و ادبی خدمات انجام دیں۔ وہ گورنمنٹ ڈگری کالج سکردو میں شعبۂ اردو کے صدر اور پرنسپل کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے تھے۔ ان کی ادبی تخلیقات میں رباعیاتِ کمال الہامی اور مثنوی بلتستان نامہ نمایاں ہیں۔ انہیں بلتستان کے ادبی و ثقافتی ورثے کو محفوظ کرنے اور اردو و بلتی ادب کے فروغ میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے یاد کیا جاتا ہے۔ ان کا انتقال یکم اگست 2020ء کو کورونا وائرس کے باعث ہوا۔

مقدمہ

دنیا میں آنے والا ہر انسان ایک روز اپنے خالق کی طرف لوٹ جاتا ہے، لیکن کچھ لوگ اپنے پیچھے ایسی یادیں، باتیں، کردار اور کارنامے چھوڑ جاتے ہیں، جو ان کی وفات کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی اصل زندگی ان کے علمی و ادبی آثار اور ان سے وابستہ لوگوں کے دلوں میں جاری رہتی ہے۔ پروفیسر حشمت علی کمال الہامی سے میری ملاقات اگرچہ مختصر تھی، لیکن اس نے میرے دل پر گہرے نقوش چھوڑے۔ ایک ایسے شاعر سے تعارف ہوا، جس کے اشعار میں اپنے ماحول کا درد بھی تھا اور اپنے خطے کی انفرادیت کا احساس بھی[1]

2019ء میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کی ڈاکومنٹری اور تاریخ کی تدوین کے سلسلے میں گلگت بلتستان جانے کا موقع ملا۔ ابتدائی چند روز ایک ہوٹل میں قیام رہا، جبکہ آخری دو راتیں برادر میثم کے دولت خانے پر بسر کرنے کا موقع ملا۔ رات کا وقت تھا۔ جس کمرے میں ٹھہرایا گیا، وہاں ایک الماری کتابوں سے بھری ہوئی تھی۔

کتابیں سامنے ہوں اور مطالعے کا شوق رکھنے والا شخص موجود ہو تو پھر بھلا خاموشی کیسے رہ سکتی ہے! بس، کتابوں کی ورق گردانی شروع کر دی۔ بیشتر کتابیں ایسی تھیں، جنہیں پہلے پڑھ چکا تھا یا وہ میری ذاتی لائبریری میں موجود تھیں۔

اسی دوران میری نظر "روحِ ادب" کے ایک خصوصی شمارے پر پڑی، جو پروفیسر حشمت علی کمال الہامی کے حوالے سے شائع ہوا تھا۔ یوں محسوس ہوا جیسے اندھیرے میں اچانک کوئی چراغ مل گیا ہو۔ میں نے اس سے پہلے نہ کمال الہامی صاحب کو پڑھا تھا اور نہ ہی ان کی شخصیت سے واقف تھا۔

شاعری شروع ہی سے میری کمزوری رہی ہے، اس لیے شمارہ ہاتھ میں آتے ہی مطالعے میں محو ہوگیا۔ جوں جوں پڑھتا جاتا، کمال الہامی صاحب کی شاعری اور شخصیت کا اسیر ہوتا جاتا۔ صبح بھی اسی شمارے کے مطالعے میں گزر گئی۔

ایک دعا جو طلب کے بغیر قبول ہوئی

صبح جب ہمارے میزبان ہمیں لینے آئے تو بتایا کہ آج کے شیڈول میں شام کے وقت کمال الہامی صاحب سے ملاقات بھی شامل ہے۔ یہ سن کر خوشی کی انتہا نہ رہی۔ ابھی رات ہی ان کی شاعری سے تعارف ہوا تھا اور اب ان سے بالمشافہ ملاقات ہونے جا رہی تھی۔

بلاشبہ یہ ایک ایسی دعا تھی، جو باقاعدہ مانگے بغیر قبول ہوگئی۔ شام کے وقت مفسرِ قرآن علامہ شیخ محسن علی نجفیؒ کے قائم کردہ ہسپتال میں جناب کمال الہامی صاحب سے ملاقات طے پائی۔ ہسپتال کی خوب صورت عمارت اپنے معمار کے اعلیٰ ذوق اور جمالیاتی حس کی آئینہ دار تھی۔

جب ہم وہاں پہنچے تو کمال الہامی صاحب ہمارے منتظر تھے۔ سرخ و سفید رنگ، مناسب داڑھی، درمیانہ قد اور قدرے بھاری بھرکم جسم کے ساتھ وہ ہمارے استقبال کے لیے موجود تھے۔ انہوں نے نہایت گرم جوشی سے مصافحہ کیا اور گلے ملے۔

میں نے انہیں بتایا کہ رات کو "روحِ ادب" کا خصوصی شمارہ پڑھ چکا ہوں۔ پھر اپنی بات کے ثبوت میں ان کا یہ شعر سنایا:

پہاڑی سلسلے چاروں طرف ہیں، بیچ میں ہم ہیں

مثالِ گوہرِ نایاب، ہم پتھر میں رہتے ہیں

شعر سننا تھا کہ وہ خوشی سے اچھل پڑے۔ کہنے لگے: "واہ! آپ کو تو شعر بھی یاد ہے!" میں نے عرض کیا کہ یہ شعر تو میرے نزدیک حسبِ حال ہے۔ بس، پھر کیا تھا! میں نے فوراً فرمائش کر دی کہ اس خصوصی شمارے کی ایک کاپی مجھے بھی عنایت کر دیں۔

انہوں نے وعدہ کیا کہ یہ شمارہ مہیا کر دیں گے۔ اس کے بعد ان سے بہت سی باتیں ہوئیں۔ ہمارے پورے دورے کے دوران یہ سب سے طویل انٹرویو تھا۔ گفتگو میں ان کی علمی، ادبی اور فکری زندگی کے کئی پہلو سامنے آئے۔

ہمارے ساتھی اور فوٹوگرافر اصغر گل کالا نے بتایا کہ کیمرے کی میموری ختم ہوچکی ہے اور بیٹری بھی جواب دے گئی ہے۔ اس ملاقات کی دو باتیں آج بھی میرے حافظے میں محفوظ ہیں، جو میرے علم کے مطابق کسی تاریخ یا کتاب میں درج نہیں ہوئیں۔

کمال الہامی صاحب نے بتایا کہ علامہ سید صفدر حسین نجفیؒ، علامہ آغا علی الموسویؒ اور علامہ مرتضیٰ حسین صدر الافاضلؒ کے بعد وہ چوتھے شخص تھے، جنہوں نے حضرت امام خمینیؒ کی تقلید اختیار کی تھی۔

انہوں نے ایک اور واقعہ سنایا کہ جب آئی ایس او کراچی نے عاشورہ کے جلوس میں نمازِ باجماعت ادا کرنے کا اعلان کیا تو کوئی بھی جماعت کی امامت و اقتدا کے لیے تیار نہ تھا۔ ایسے موقع پر کمال الہامی صاحب نے یہ سعادت حاصل کی۔ یہ دونوں واقعات ان کی مذہبی وابستگی، جرأتِ عمل اور دینی شعور کے اہم پہلو ہیں۔

"روحِ ادب" کا شمارہ اور محبت بھرا ہدیہ

نمازِ مغرب سے کچھ پہلے ہم نے اجازت طلب کی تو میں نے ایک مرتبہ پھر یاد دلایا کہ خصوصی شمارہ مجھے کیسے ملے گا، کیونکہ اگلے روز ہمیں گلگت کے لیے روانہ ہونا تھا۔ طے پایا کہ اگلی صبح ہم ان کے کالج جائیں گے، جہاں وہ "روحِ ادب" کا خصوصی شمارہ ہمیں عنایت کریں گے۔

رخصت کے وقت انہوں نے متعدد مرتبہ گلے مل کر اپنی محبت کا اظہار کیا اور وقت کی کمی کا گلہ کرتے رہے۔ ان کی گرم جوشی اور بے تکلفی نے پہلی ہی ملاقات میں اجنبیت کا احساس ختم کر دیا تھا۔اگلی صبح دس بجے ہم کالج کے گیٹ پر موجود تھے۔ فون پر رابطہ کیا تو انہوں نے اسٹاف روم میں آنے کو کہا۔

کالج خاصا بڑا تھا؛ پوچھتے پوچھتے مطلوبہ جگہ تک پہنچے۔ کمال الہامی صاحب اسٹاف روم کے باہر ہمارے منتظر تھے۔ ان کے ساتھ دو تین دوسرے اساتذہ بھی موجود تھے۔ سب سے پہلے انہوں نے ہماری خوب خاطر تواضع کی۔ ہماری طرف سے بار بار عرض کیا جاتا رہا کہ ہم ناشتہ کرکے آئے ہیں، لیکن ان کے خلوص کا تقاضا تھا کہ مہمانوں کی تواضع میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔

اس کے بعد وہ ہمیں اپنی کلاس میں لے گئے۔ وہاں پچاس ساٹھ طلبہ موجود تھے۔ سب نے کھڑے ہو کر استقبال کیا۔ کمال الہامی صاحب نے ہمارا تعارف کروایا اور فرمایا کہ اب نثار ترمذی صاحب طلبہ سے خطاب کریں گے۔

ایک تو مجھے تقریر کرنے کی عادت نہیں، دوسرے فی البدیہ گفتگو کا مرحلہ تھا۔ بہرحال، یہ مشکل مرحلہ بھی بامرِ مجبوری طے کیا۔ طلبہ کا شکریہ ادا کرنے کے بعد جب کلاس سے باہر نکلے تو میں نے ایک بار پھر خصوصی شمارے کا تقاضا کیا۔ انہوں نے اپنے تھیلے سے شمارہ نکالا۔

تاہم، مجھے دینے سے پہلے اس پر اپنے قلم سے محبت بھرے الفاظ تحریر کیے۔ وہ عبارت آج بھی میرے لیے ایک یادگار تحفے کی حیثیت رکھتی ہے: "ہدیۂ اخلاص و محبت بحضور محضر مبارک محترم المقام، قابلِ صد احترام، لائقِ صد افتخار، سزاوارِ صد تحسین، علم و تحقیق کے عاشق، حکمت و عرفان کے وآلہ و شیدا، ادب نواز و ادب پرور، سخن فہم و سخن سنج و نکتہ رس، محقق و مصنفِ روزگار، مایۂ ناز فلاحی شخصیت، نابغۂ روزگار، مردِ دانا، دوستِ گرامی قدر و عزیز المرتبت، عزت مآب جناب سید نثار علی ترمذی، مَدَّ ظِلُّہُمُ الْعَالِی وَدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ۔

منجانب: پروفیسر حشمت علی کمال الہامی سابق پرنسپل و صدر شعبۂ اردو و استادِ ادبیاتِ اردو، گورنمنٹ ڈگری کالج سکردو تاریخ: 9 جولائی 2019ء" سچی بات یہ ہے کہ میری اتنے القابات کے ساتھ کسی نے کبھی تعریف نہیں کی تھی، جتنی کمال الہامی صاحب نے اپنے قلم سے لکھ کر مجھے عطا کر دی۔ یہ ان کی محبت، فیاضی اور حوصلہ افزائی کا ایسا انداز تھا، جسے بھلانا ممکن نہیں۔

ایک وعدہ جو پورا نہ ہوسکا

گلگت بلتستان کے اس دورے سے واپس اسلام آباد پہنچا تو برادر ثاقب اکبر مرحوم سے شاعر کمال الہامی کا خصوصی تذکرہ کیا۔ ان کی شاعری، شخصیت اور اپنی ملاقات کے احوال سنائے۔ انہوں نے فرمایا کہ جب کمال الہامی صاحب اسلام آباد تشریف لائیں گے تو ان کے اعزاز میں ایک تقریب منعقد کریں گے۔ یہ خواہش دل میں محفوظ رہی۔ کمال الہامی صاحب سے واٹس ایپ پر رابطہ بھی قائم رہا، لیکن زندگی کو شاید یہ منظور نہ تھا کہ یہ ملاقاتیں کسی تقریب کی صورت اختیار کرتیں۔۔

بیماری کی خبر اور جدائی کا صدمہ

کرونا کے دنوں میں فیس بک کے ذریعے اطلاع ملی کہ کمال الہامی صاحب کرونا وائرس کے باعث ہسپتال میں داخل ہوگئے ہیں۔ احباب سے دعائے صحت کی درخواست کی گئی۔ ابھی چند ہی روز گزرے ہوں گے کہ ان کے وینٹی لیٹر پر منتقل ہونے کی خبر آگئی۔

دل سے ان کی صحت یابی کے لیے دعا نکلی۔ امید تھی کہ وہ اس بیماری سے صحت یاب ہو کر دوبارہ اپنے علمی و ادبی معمولات کی طرف لوٹ آئیں گے، لیکن ہماری دعاؤں کے باوجود وہ یکم اگست 2020ء کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

ان کی وفات کی خبر میرے لیے ذاتی صدمے سے کم نہ تھی۔ ایک ایسی شخصیت، جس سے پہلی ملاقات ہی میں قلبی تعلق قائم ہوگیا تھا، جس نے اپنی محبت اور شفقت سے یادوں کا ایک انمول سرمایہ عطا کیا تھا، اب ہمارے درمیان موجود نہیں تھی۔

ایسے مواقع پر نصیرالدین نصیرؒ کے یہ اشعار دل کی کیفیت کی ترجمانی کرتے محسوس ہوتے ہیں:

یہ صدمہ اگر نہ سہتے تو کیا کرتے

ہم تم سے جدا نہ رہتے تو کیا کرتے

تم ہی نے تو کہا تھا کہ ملو گے خوابوں میں

ہم جاگتے نہ رہتے تو کیا کرتے

روکا تھا بہت ہم نے اپنے ان آنسوؤں کو

یہ طوفان اگر نہ بہتے تو کیا کرتے

بے نام سا اک خوف تھا اس دل میں

چھپا ہواہم حالِ دل نہ کہتے تو کیا کرتے

اس نے ہی پھیر لیں نظریں ہم سے

نصیرؔ ہم خاموش نہ رہتے تو کیا کرتے

پروفیسر حشمت علی کمال الہامی، حالاتِ زندگی پیدائش اور ابتدائی تعلیم

پروفیسر حشمت علی کمال الہامی 18 اگست 1955ء کو محلہ ڈگنگ، کواردو، سکردو میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام حاجی وزیر غلام حیدر تھا۔ شاعری میں "کمال" تخلص اختیار کیا۔

انہوں نے پانچ سال کی عمر میں آخوند عبداللہ اور آخوند حسن سے قرآن مجید ناظرہ پڑھنا شروع کیا۔ اس کے بعد فارسی کی ابتدائی کتابیں، مثلاً "بعدِ حمد"، کریما، گلستان، بوستان اور تنبیہ الغافلین پڑھیں۔

اپنے نانا علامہ شیخ محمد جو سے انہوں نے ابواب الجنان، معراج السعادۃ، صرف و نحو، منطق اور جامع المقدمات کے دیگر دروس حاصل کیے۔ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے گاؤں کے پرائمری اسکول سے گیارہ سال کی عمر تک پرائمری کا امتحان بھی پاس کر لیا۔ دینی و ادبی علوم کا حصول1967ء میں اعلیٰ دینی تعلیم کے حصول کے لیے اس وقت کے لائل پور، موجودہ فیصل آباد، کا رخ کیا۔

وہاں مبلغِ اعظم مولانا محمد اسماعیل دیوبندیؒ، مولانا محمد اسحاق، مولانا سجاد اور دیگر اساتذہ سے مراثیِ انیس، بوستان اور عربی و فارسی کی بنیادی کتابیں پڑھیں۔ مدرسہ سلطان المدارس اور اورینٹل کالج خیرپور میں ایک سالہ قیام کے بعد حیدرآباد سندھ کے مدرسہ مشارع العلوم میں پانچ سال گزارے۔

اس عرصے میں انہوں نے مولانا سید محمد قاسم، مولانا ثمر حسن، مولانا سید صغیر حسین، مولانا عباس علی نجفی، مولانا سید علی رضوی، مولانا عاشق حسین اور دیگر اہلِ علم سے استفادہ کیا۔

ان کے نصاب میں عربی و فارسی ادب، عرفان، اخلاق جلالی، اخلاق ناصری، اخلاق محسنی، صرف و نحو، منطق، تفسیر و اصولِ تفسیر، فقہ و اصولِ فقہ، علمِ کلام، حکمت و فلسفہ، علمِ عروض، معانی و بیان اور علم الحدیث جیسی اہم علمی کتابیں شامل تھیں۔ انہوں نے یہ نصاب مکمل کرکے "اعتماد العلماء" کی سند حاصل کی۔

اسی دوران السنۂ شرقیہ بورڈ کے تحت فارسی میں منشی، منشی عالم اور منشی فاضل؛ عربی میں مولوی، مولوی عالم اور مولوی فاضل؛ جبکہ اردو میں ادیب، ادیب عالم اور ادیب فاضل کے امتحانات بھی پاس کیے۔

کراچی میں حصولِ علم کا طویل سفر 1974ء سے 1984ء تک

وہ حصولِ علم کے سلسلے میں کراچی میں مقیم رہے۔ اس دوران جامع امامیہ الواعظین سے فاضل درسِ نظامی کی سند حاصل کی۔ یہاں ادیبِ اعظم مولانا سید ظفر حسن امروہوی، مولانا بندہ حیدر، مولانا سید موسیٰ اور مولانا سید رضی جعفر سے فیض حاصل کیا۔

کراچی میں قیام کے دوران انہوں نے میٹرک، ایف اے، بی اے، ایم اے اردو، معارفِ اسلامیہ، فارسی اور عربی کے امتحانات پاس کیے۔ اردو لا کالج سے ایل ایل بی کیا اور ہمدرد طبیہ کالج میں چار سالہ نصاب مکمل کرکے فاضلِ طب و جراحت کی اسناد حاصل کیں۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ایم فل اور پی ایچ ڈی کے سلسلے میں تحقیقی و امتحانی مراحل بھی طے کیے، تاہم مقالہ مکمل نہ ہوسکا۔ حیدرآباد اور کراچی میں قیام کے دوران خانۂ فرہنگ ایران سے ابتدائی درجے سے ایم اے کی سطح تک جدید فارسی کی اسناد حاصل کیں۔ تہران یونیورسٹی سے لسانیات میں تین خصوصی ڈگریاں حاصل کرنے کا اعزاز بھی ان کے حصے میں آیا۔

ازدواجی زندگی اور اولاد

کمال الہامی صاحب 21 دسمبر 1972ء کو رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے۔ ان کے چار بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔ علمی و ادبی مصروفیات کے ساتھ خاندانی زندگی کی ذمہ داریاں نبھانا بھی ان کی شخصیت کا اہم پہلو تھا۔

تصنیف و تالیف اور ادبی خدمات پروفیسر کمال الہامی نے تقریباً بیالیس برسوں کے دوران نظم و نثر کی مختلف اصناف میں گراں قدر تخلیقی کام کیا۔ مختلف اخبارات میں ان کے تقریباً دو ہزار کالم شائع ہوئے۔ اس کے علاوہ متعدد تحقیقی مقالات، لاتعداد مضامین اور کئی درجن افسانے بھی ان کی قلمی کاوشوں میں شامل ہیں۔

ان کی ایک درجن نثری کتابیں اور ایک درجن شعری مجموعے زیرِ ترتیب بتائے جاتے ہیں۔ انہیں گلگت بلتستان کے پہلے رباعی نگار شاعر کی حیثیت سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی 534 رباعیات پر مشتمل کتاب "رباعیاتِ کمال الہامی" کو ایک منفرد ادبی و علمی کاوش قرار دیا جاتا ہے۔

ان کے مطابق یہ کسی بھی زبان میں اپنی نوعیت کی پہلی منظوم لغت اور انسائیکلوپیڈیا ہے۔ اسی طرح تقریباً تین ہزار اشعار پر مشتمل "مثنوی بلتستان نامہ" بلتستان کے علمی، تہذیبی اور ثقافتی ورثے کو منظوم انداز میں محفوظ کرنے کی ایک اہم کوشش ہے۔ ان سے منسوب دیگر تصانیف اور زیرِ ترتیب مجموعوں کے نام یہ ہیں:

دیگر کتب یہ ہیں۔

  • مکالات کمال الہامی
  • مضامین کمال الہامی
  • کمال الہامی کے افسانے
  • کمال الہامی کے انشائیے
  • مقدمات کلام الہامی
  • قطعات کمال الہامی
  • منظومات کمال الہامی
  • غزلیات کمال الہامی
  • کمال الہامی کی آزاد نظمیں
  • عرفانیات کمال الہامی
  • کمال الہامی کے بلتی کلام
  • کمال الہامی کے بلتی نثر پارے
  • کمال الہامی کے ہائیکو
  • متفرقات کمال الہامی

ان کی شخصیت اور فن پر جامعات کی سطح پر بھی تحقیقی کام ہوا۔ ان کے حالات و شاعری پر ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالات لکھنے کی کوششیں جاری رہیں۔ نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل)، اسلام آباد کی طالبہ خیرالنساء نے، جن کا تعلق سکردو سے بتایا جاتا ہے، "حشمت کمال الہامی: شخصیت اور شاعری" کے عنوان سے تحقیقی مقالہ تحریر کیا۔ شخصیت کے دیگر پہلو کمال الہامی صاحب کی شخصیت محض شاعری اور نثر تک محدود نہ تھی۔

رسائل کی ادارت، مختلف تنظیموں میں فعال کردار، طلبہ کی تربیت اور اپنے خاندان کی نگہداشت بھی ان کی زندگی کے اہم گوشے تھے۔ ان کے علمی و ادبی ذوق کے ساتھ تدریسی اور تربیتی سرگرمیاں ان کی ہمہ جہت شخصیت کی عکاسی کرتی ہیں۔

ان کی تحریروں میں اپنے خطے سے محبت، علم و ادب سے وابستگی اور انسانی اقدار سے لگاؤ کے پہلو نمایاں تھے۔ ان کا ادبی سرمایہ محفوظ کرنے، غیر مطبوعہ تحریروں کو جمع کرنے اور ان کی تصانیف کی اشاعت کے لیے منظم کوششیں کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

یادوں کی امانت اور اہلِ علم کی ذمہ داری

دنیا میں آنے والا ہر انسان ایک روز اپنے خالق کی طرف لوٹ جاتا ہے، لیکن کچھ لوگ اپنے پیچھے ایسی یادیں، باتیں، کردار اور کارنامے چھوڑ جاتے ہیں، جو ان کی وفات کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی اصل زندگی ان کے علمی و ادبی آثار اور ان سے وابستہ لوگوں کے دلوں میں جاری رہتی ہے۔

پروفیسر حشمت علی کمال الہامی سے میری ملاقات اگرچہ مختصر تھی، لیکن اس نے میرے دل پر گہرے نقوش چھوڑے۔ ایک ایسے شاعر سے تعارف ہوا، جس کے اشعار میں اپنے ماحول کا درد بھی تھا اور اپنے خطے کی انفرادیت کا احساس بھی۔

ایک ایسے استاد سے ملاقات ہوئی جو اپنے مہمانوں کی عزت افزائی اور طلبہ کی حوصلہ افزائی کو اپنا شیوہ بنائے ہوئے تھا اور ایک ایسے انسان سے تعلق قائم ہوا، جس نے چند ملاقاتوں میں محبت اور خلوص کی ایک انمٹ یادگار عطا کر دی۔

اب یہ ذمہ داری ان کے چاہنے والوں، شاگردوں، اہلِ قلم اور علمی و ادبی اداروں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ ان کے منتشر علمی و ادبی سرمائے کو جمع کریں، ان کی غیر مطبوعہ تصانیف کی اشاعت کا اہتمام کریں اور ان کی خدمات کو آنے والی نسلوں تک پہنچائیں۔

اللہ تعالیٰ مرحوم پروفیسر حشمت علی کمال الہامی کی مغفرت فرمائے، ان کی علمی و ادبی خدمات کو قبولیت عطا کرے، ان کے اہلِ خانہ، شاگردوں اور چاہنے والوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین[2]۔

وفات

پاکستان ایک مایہ ناز ادیب شاعر مصنف مترجم اور عظیم علمی سرمایہ سے محروم ہو گیا. حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ، بلتستان ایک ادیب شاعر مصنف مترجم اور عظیم علمی سرمایہ سے محروم ہو گیا.

پروفیسر حشمت کمال الہامی اچھےاخلاق بہترین کردار واعلی گفتار اور نیک صفات و خصوصیات کے مالک تھے،آپ منکسر المزاج سادہ طبیعت حلیم الطبع مہمان نواز اور غریب پرور انسان تھے۔

آپ کی علمی دینی اور ملی خدمات ناقابل فراموش ہیں ادبی محفل ہو یا جشن میلاد آپ زینت محفل اور رونق جلسہ تھے آپ کی نعتوں اور منقبتوں سے محفلیں مزین اور روحانی ہو جاتی تھیں۔

آپ جہاں ادیب اور شاعر تھے وہاں آپ قابل ترین معلم اور مربی بھی تھے آپ نے ہزاروں شاگردوں کو تعلیم و تربیت کے زیور سے آراستہ کر کےاعلی مقامات تک پہنچنے میں صدق دل سے راہنمائی کی۔


گلگت بلتستان میں آپ کی عزت اور نیک شہرت آپ کےاعلی اخلاق و کردار اور علمی خدمات کااعتراف ہے آپ کو علم اور علماء سے ایک خاص قسم کا لگاؤ تھا یہ آپ کی علم دوستی کی علامت تھی۔

کسی نے مولا علی علیہ السلام سے سوال کیا آپ کے ماننے والوں کی کیا نشانی ہے تو آپ نے فرمایا: میرے ماننے والے علم دوست ہیں یا عالم دوست ہیں آپ میں یہ دونوں نشانیاں موجود تھیں۔

آپ کو کتابوں سےبہت لگاؤ تھا کتب کا مطالعہ آپ کا پسندیدہ مشغلہ تھا علماء اور دانشوروں کی صحبت اور ہم نشینی کو ہر چیز پر ترجیح دیتے تھے آپ سے علمی گفتگو میں وقت کے گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوتا تھا بلخصوص شعر و شاعری کی بات چھڑجاتی تو رات دن میں بدل جاتی لیکن بات ختم نہ ہوتی۔

آپ کے اشعار بہت گہرے بامعنی ادب سے بھر پور اور حالات اور واقعات کی مکمل عکاسی کرتے ہیں۔ آپ نے شعر و شاعری کی طرف اہل علم کو متوجہ کیا اور نئے نئے شعراء کو متعارف کرایا اور گمنام شعراء جناب شیخ غلام حسین سحر جیسے شاعر چار زبانوں پر عبور رکھنے والے اور جناب حکیم جیسے بابائے بلتی کو متعارف کرایا یوں بلتستان علم و ادب کامرکز وگہوارہ بن گیا۔

شعر و شاعری اور ادب کی ترقی میں جہاں تمام اہل علم و دانش کا عمل دخل ہے وہاں کمال الہامی کی باکمال خدمات قابل ستائش و قابل تقلید ہے آپ کی رباعیات پر مشتمل کتاب یقینا ایک علمی ذخیرہ ہے اور آپ قوم وملت کا ایک عیظم علمی سرمایہ تھے۔

آپ کا تعلق ایک علمی ودینی خاندان سے تھا آپ بلتستان کواردوکے معروف عالم دین حجة الإسلام و المسلمین شیخ محمد جو اعلی اللہ مقامہ کے نواسے اور مایہ ناز عالم دین حجة الإسلام و المسلمین شیخ علی فاضلی مرحوم اور حجة الإسلام و المسلمین شیخ حسن فخر الدین کے بھتیجے تھے آپ کے دادا بھی کواردو کے اعلی اور معروف دینی خاندانوں میں سے تھے۔

آپ خیر پورکےمدرسہ سلطان المدارس اور کراچی کے مدرسہ جامعہ امامیہ کے فارغ التحصیل علماء میں سے تھے اسی لئے آپ کو دینی علوم پر مکمل دسترسی حاصل تھی، آپ نے اپنی پوری زندگی قوم و ملت کی خدمت اور تعلیم وتعلم میں گزاری ،کچھ عرصہ گلگت میں تعلیمی خدمات انجام دیتے رہیں پھر سکردو کے ڈگری کالج میں تدریسی فرائض انجام دیتے رہیں پھر آپ کالج کے پرنسپل کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہیں اور کچھ عرصہ قبل آپ رٹائرڈ ھوئے تھے،

تاہم آپ کی علمی فعالیت اسی طرح جاری تھی کہ داعی اجل کو لبیک کہتے ہوئے ایک دنیا کو روتا چھوڑ کر عالم بقا کی طرف کوچ کر گئے اللہ تعالی آپ کو اعلی علیین میں جوار رحمت اور اھلبیت اطہار علیہم السلام کی قربت میں جگہ عطا فرمائے ، مداحان محمد و آل محمد علیہم السلام میں قرار فرمائے ،شفاعت اھلبیت علیہم السلام سے بہرہ مند فرمائے اور منازل قبر وآخرت کو آسان فرمائے[3]۔

حوالہ جات

  1. ↑ تحریر: سید نثار علی ترمذی
  2. ↑ حشمت علی کمال الہامی، انمٹ یادیں اور علمی و ادبی میراث-شائع شدہ از:13 اکتوبر 2026ء-اخذ شدہ بہ تاریخ:13 اکتوبر 2026ء
  3. ↑ پاکستان کے مایہ ناز ادیب اور شاعر اہلبیت پروفیسر حشمت کمال الہامی انتقال کر گئے-شائع شدہ از:1 اگست 20202‏‏ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 13 اکتوبر 2026ء