مندرجات کا رخ کریں

احمد علی لاہوری

ویکی‌وحدت سے
احمد علی لاہوری
دوسرے ناممولانا احمد علی لاہوری
ذاتی معلومات
پیدائش1887ء
یوم پیدائش2 رمضان
پیدائش کی جگہقصبہ جلال، گوجرانوالہ، برٹش راج، موجودہ ضلع گوجرانوالہ، پنجاب، پاکستان
وفات1962ء
یوم وفات22 فروری
وفات کی جگہلاہور، ضلع لاہور، پنجاب، پاکستان
مذہباسلام، سنی
اثراترسوم الاسلامیہ، اسلام میں نکاح بیوگان، ضرورۃ القرآن، مخزن المرجان فی خلاصۃ القرآن
مناصبعالم دین، مفسر قرآن


احمد علی لاہوری ،شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوری (پیدائش: 24 مئی 1887ء – وفات: 23 فروری 1962ء) دیو بندی عالم دین، مفسر قرآن تھے۔

ولادت

آپ ضلع گوجرانوالہ کے ٹاؤن گکھڑ منڈی کے نزدیک قصبہ جلال میں رمضان المبارک 1304ھ بمطابق 24 مئی 1887ء کو پیدا ہوئے۔ شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری ان اولیاء اللہ میں سے ہیں جن کا نام آتے ہی بڑے بڑے علماء کرام اور بزرگ ہستیوں کے سر عقیدت ومحبت سے جُھک جاتے اور آنکھیں اشکبار ہوجاتی ہیں۔

حضرت لاہوری کا تعلق ان علمائِ حق سے ہے جو کہ تمام زندگی قال اللہ و قال الرسول کی صدا بلند کرتے اور لاکھوں لوگوں کو شرک و بدعت اور ضلالت و گمراہی کے گڑھوں سے نکال کر ان کے دلوں میں توحید الہٰی، عشق نبوی ؐ،حب صحابہ و اہل بیتؓ کی شمعیں روشن کیں۔

حضرت لاہوری کے والد شیخ حبیب اللہ گوجرانوالہ کے قریب جلال نامی قصبہ کے رہنے والے ایک نو مسلم ،انتہائی متقی اور دیندار تھے جبکہ آپ کی والدہ ماجدہ نہایت عابدہ، زاہدہ اورصالحہ عورت تھیں انہوں نے اپنے لخت جگر کو قرآن مجید خودپڑھایا

تعلیم

ابتدائی تعلیم اپنی والدہ محترمہ سے حاصل کی پھر خانقاہ امروٹ شریف میں مولانا عبید اللہ سندھی سے علوم شاہ ولی اللہ اور درس نظامی پڑھتے رہے بعد میں مدرسہ دارالارشاد (گوٹھ پیرجھنڈہ حیدرآباد، سندھ) میں 6 سال تک علوم دینیہ کی تکمیل کی اور.1907ء میں آپ فارح التحصیل ہوئے۔

اس کے بعد اس بچے کو سکول میں داخل کرادیا گیا، جہاں انہوں نے پانچویں جماعت تک تعلیم حاصل کی ۔ آپ کے والد نے اپنے لخت جگر کو سکول سے اُٹھواکر گوجرانوالہ کی جامع مسجد کے خطیب مولانا عبدالحق کے سپرد کر دیا۔

اس بچہ کو گوجرانوالہ آئے چندماہ ہی گزرے تھے کہ مولانا عبیداللہ سندھی دارالعلوم دیوبند سے اپنی تعلیم مکمل کرکے سند ھ جاتے ہوئے اپنی والدہ سے ملنے سیالکوٹ آئے ۔ آپ کی والدہ ماجدہ نے مولانا سندھی ؒکو شیخ حبیب اللہ کے قبول اسلام اور دیانت وتقویٰ کا بھی ذکر کیا۔

چنانچہ مولانا سندھی اپنی والدہ کے ہمراہ باہو چک آئے اور اپنے رشتہ کے بھائی سے ملے۔ اس وقت شیخ حبیب اللہ نے اپنے لختِ جگر کو حضرت سندھی ؒ کے حوالے کردیا۔ نوبرس کی عمر میں اس بچے کے سر سے والد کا سایہ اٹھ گیا۔ سندھ کے ولی کامل حضرت خلیفہ غلام محمد دین پوری کے حکم سے مولانا سندھی نے اس بچہ کی والدہ سے نکاح کرلیا۔

اس لحاظ سے مولانا سندھی اس بچہ کے سوتیلے والد بن گئے۔ کچھ عرصے بعد یہ بچہ اپنی والدہ کی شفقتوں سے بھی محروم ہوگیا۔چنانچہ مولانا سندھی نے خود ہی اس بچہ کو سلسلہ قادریہ میں داخل فرماکر تقویٰ وپرہیز گاری کی تلقین کے ساتھ کچھ اذکار بھی تعلیم کردیے ۔


مولانا سندھی نے ابتدائی صرف ونحو عربی وفارس کتب اس بچہ کوخود پڑھائیں ۔مولانا سندھی نے1901ء میں گوٹھ پیر جھنڈا ضلع سکھر میں مدرسہ دارالرشاد کی بنیاد رکھی تو ان کی زیرنگرانی اس بچہ نے چھ سال بعد درس نظامی مکمل کیا۔ اس مدرسہ دار الرشاد سے فارغ ہونے والوں میں پہلانام آپ کا ہے ۔

مولانا سندھی کی ہدایت پر اسی مدرسہ میںآپ نے تعلیم تدریس شروع کی۔ چنانچہ تین سال تک حضرت لاہوریؒ اسی مدرسہ میں درس نظامی کی تعلیم دیتے رہے۔ مولانا سندھیؒ نے اپنی پہلی زوجہ سے بیٹی کا نکاح مولانا احمدعلیؒ سے کردیا لیکن وہ ایک سال بعد ہی انتقال کر گئیں ۔اس کے بعد مولانا ابو محمد احمد کی صاحبزادی سے دسمبر1911ء میں آپکانکاح دارالعلوم دیوبند کی مسجد میں حضرت شیخ الہند مولانا محمودحسن دیوبندی ؒ نے پڑھایا۔

تدریس

فراغت کے بعد مدرسہ دارالارشاد میں مدرس مقرر ہوئے۔ تقریباً 3 سال تک تدریس میں مشغول رہے۔ پھر نواب شاہ کے ایک مدرسہ میں آ گئے۔ اس کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بھی تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے۔

مولانا سندھی کے دیوبند اور دھلی میں اقامت کے دوران دارالاشاد کا انتظام بھی مولانا احمد علی لاہوری کے پاس رہا اس کے بعد آپ نے نواب شاہ میں حضرت سندھی کے دو شاگردوں مولانا عبداللہ لغاری اور مولانا صالح محمد کے تعاون سے ایک دینی مدرسہ قائم کیا ۔

جمعیت الانصار دارالعلوم دیوبند کی تاسیس میں حصہ

حضرت مولانا عبیداللہ سندھی رحمتہ اللہ علیہ گوٹھ پیر جھنڈا ضلع نواب شاہ سے دوبارہ دارالعلوم دیوبند ( ہندوستان) چلے گئے اور وہاں جمعیت الانصار کی بنیادرکھی ۔ حضرت مولانا سندھی رحمتہ اللہ علیہ خود تحریر فرماتے ہیں۔

1909میں حضرت شیخ الہند رحمتہ اللہ علیہ نے مجھے دارالعلوم دیوبند طلب فرمایا اور مفصل حالات سن کر دیوبند رہ کر کام کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اس کے ساتھ سندھ کا بھی تعلق قائم رہے گا۔

میں چار سال تک جمعیتہ الانصار میں کام کرتا رہا۔ اس جمعیتہ کی بنیاد رکھنے میں مولانا محمد صادق سندھی ، مولانا ابو احمد اور عزیزی احمد علی (لاہوری) میرے ساتھ شریک تھے ۔

جمعیت الانصار کا مقصد ملک اور بیرون ملک میں موجود فضلائے دیوبند کومنظم کرنا تھا حضرت مولانا سندھی رحمتہ اللہ علیہ اور ان کے رفقاء کار کی کوششوں سے جمعیت الانصار بے حد مقبول ہوئی ۔ 15۔17اپریل1911ء کو مرادآباد میں جمعیت الانصار کے زیر اہتمام جلسے منعقد ہوئے جن میں تقریباً تیس ہزار مسلمانوں نے شرکت کی۔اتنا عظیم اجتماع پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔

تحریک خلافت میں حضرت لاہوری کاکردار

مولانا محمدشریف جالندھری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہم سے پہلے اللہ والے جو آئے وہ کام کرگئے ہم سے تو کچھ ہی نہیں ہورہا ،تحریک خلافت کازمانہ تھا اس میںحضرت لاہوری بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے تھے انگریز کے خلاف اس تحریک میںکام کرنا انتہائی مشکل تھا ۔

مولانا احمد علی لاہوری تحریک خلافت صوبہ پنجاب کے صدر تھے ان کی ذمہ داری جماعت کیلئے چندہ فراہم کرنا قرارپائی اللہ کا یہ نیک بندہ دن کوجماعت کاکام کرتااور،رات کو اللہ کے حضورسجدہ ریز ہوکر گڑگڑاتااور دعائیں مانگتااے بارِالہاہم سے جو کوتاہی ہوگئی ہے معاف فرماانہوں نے اللہ کے ایک نیک بندے کو منتخب کیاکہ وہ چندہ اکٹھا کرے ۔وہ خدا کا بندہ دو بندر لئے ’’گائوں گائوں‘‘ بستی بستی ‘‘نگرنگر’’گھومتا دن کو بندروں کاتماشا دکھا تا اور، رات کو گائوں کے باہر کسی گھنے درخت کے نیچے ڈیرہ جمالیتااس گائوں میں جماعت سے متعلق علما کو جب علم ہوتا کہ بندر والا گائوں میں آیا ہے تو رات کواس وقت جب گائوںوالے گہری نیند سوئے ہوتے اپنے کسی خاص آدمی کے ہاتھ روپوں کی تھیلیاں بھیج دیتے وہ شخص تھیلی وصول کر لیتا اور فجر کی نماز کے بعد اگلے گائوں روانہ ہوجاتا (تحریک کشمیرسے تحریک ختم نبوت تک359 ) سول نافرمانی اور حضرت لاہوری کی گرفتاری، 1931کومجلس احرار نے کشمیر کے مسئلے پر سول نافرمانی کی تحریک شروع کی۔امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری 15،اکتوبر 1931کو گرفتار ہوگئے۔ اس کے بعد مجلس احرار نے ڈکٹیٹرمقرر کرکے گرفتاریاں دینے کا سلسلہ شروع کیا ان دنوں تحریک احرار کے چھوتے ڈکٹیٹر مولانا احمدعلی لاہوری تھے ۔حضرت لاہوری کو13نومبر1931کی رات 2بجےان کے گھرشیرانولہ گیٹ سے گرفتارکرلیاگیا اس وقت سول نافرمانی کی تحریک میںپندرہ ہزار سے زائد رضاکار گرفتار ہوچکے تھے ۔ (کاروان احرار،1/224) جمعیت علمائے اسلام کی قیادت 1956میں جمعیت علمائے اسلام پاکستان کاقیام عمل میں آیاجس کے لئے حضرت مولانااحمدعلی لاہوری کو امیر اور مولانا احتشام الحق تھانوی کو ماظم اعلی منتخب کیاگیا۱۹۵۳کی تحریک ختم نبوت میں مولانا حتشام الحق تحریک سے الگ ہوئے دوسری طرف حکومت کی طرف سے تمام اکابر علماء کرام کوگرفتار کرکے جیلوں میں بند کر دیاگیا 1954 کو ایک بار پھر انتخاب عمل میں لایا گیا حضرت مولانا مفتی محمد حسن صاحب (جامعہ اشرفیہ) امیر منتخب ہوئے۔مفتی صاحب نے ضعف وعلالت کی وجہ سے حضرت مولانا مفتی محمدشفیع صاحب (دارالعلوم کراچی) کوقائم مقام امیر مقررکیالیکن یہ جماعت بھی بوجوہ فعال کردار ادانہ کرسکی ۔1956کو ملتان کی علماء کنونشن میں جمعیت علمائے اسلام کی نئی تنظیم سازی ہوئی جس میں حضرت مولانااحمدعلی لاہوری کوامیراور حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی کو ناظم اعلی منتخب کیا گیا مرکزی مجلس عاملہ کے فیصلے اور قراردادیں 16جون1958ء کو لاہور میں امیر مرکزی مولانا احمد علی صاحب کی صدارت میں مجلس عاملہ کا اجتماع منعقد ہوا۔ دو دن اس کے اجلاس ہوتے رہے۔ ان اجلاسوں میں مختلف مسائل پر ۳ قرار دادیں منطور کی گئیں ۔ اور متعدد فیصلوں میں ایک فیصلہ یہ بھی کیاگیا کہ1956کے پاکستان کے دستور میں جو غیر اسلامی دفعات ہیں ان کی نشاندہی کرکے ان کی جگہ اسلام کے مطابق ترمیمات تیار کی جائیں اور انہیں ایک رپورٹ کی صورت میں مکمل کیا جائے ۔ کمیٹی اس مقصد کے لئے ایک کمیٹی مولانا شمس الحق صاحب افغانی ، مولانا مفتی محمود، شیخ حسام الدین اور علامہ خالد محمود پر مشتمل مقرر کی گئی اور طے کیاگیا کہ22/23جون کو مردان میں یہ حضرات جمع ہو کر اس کام کو مکمل کریں ۔ کمیٹی نے مولانا مفتی محمود صاحب کو رپورٹ تیار کرنے کا اختیار دیدیا چنانچہ مفتی صاحب نے 1956کے دستور پر ایک فاضلانہ رپورٹ مرتب کی جو کتابی صورت میں تنقیدات و ترامیمات کے نام سے شائم ہوئی ۔(عہدسازقیادت66)

تصانیف

آپ نے قرآن پاک کا رواں رواں اردو ترجمہ کیا۔ اس کے علاوہ 34 چھوٹے چھوٹے رسالے تالیف کیے،

  • رسوم الاسلامیہ،
  • اسلام میں نکاح بیوگان،
  • ضرورۃ القرآن،
  • مخزن المرجان فی خلاصۃ القرآن
  • زبدۃ القرآن،
  • اصلی حنفیت،
  • رسول اللہﷺ کے وظائف،
  • میراث میں شریعت،
  • توحید مقبول،
  • فوٹو کا شرعی فیصلہ،
  • صد احادیث کا گلدستہ
  • فلسفہ روزہ

اہم کارنامے

آپ داستان تحریک آزادی ہند کے امین تھے، ہرملی مصیبت میں آپ نے قوم کا ساتھ دیا۔ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ مولانا عبید اللہ سندھی رحمہ اللہ کے زیر سرپرستی چلنے والی ریشمی رومال تحریک کے ایک سرگرم رکن تھے۔ تحریک کی ناکامی کے بعد آپ کو انگریز نے گرفتار کر کے شیرانوالہ دروازہ میں نظر بند کر دیا۔

تحریک ختم نبوت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ 1931ء میں میکلیگن انجینئری کالج لاہور کے انگریز پرنسپل نے پیغمبر اسلامﷺ کے خلاف نازیبا کلمات استعمال کیے تو آپ نے اس کے خلاف آواز اٹھائی۔ اس سلسلہ میں آپ کو گرفتار کر لیا گیا۔


اسلام کی ترقی کے لیے انجمن خدام الدین کا قیام عمل میں لایا، نظامۃ المعارف القرنیہ کے نام پر علما کرام اور جدید تعلیم یافتہ حضرات کی ایک مخلوط جماعت تیار کی جس کا مقصد حالات حاضرہ کے تقاضوں کے مطابق تنلیغی مشن چلانا تھا۔

گرفتاری

تحریک ریشمی رومال میں انگریز حکومت نے اس تحریک کے قائدین اور اس سے وابستہ کارکنان کوگرفتار کرنا شروع کیا تو مولانا احمدعلی لاہوری بھی گرفتار کر لیے گئے ۔مولانا احمد علی لاہوری کو گرفتار کرکے دہلی ،شملہ ،لاہور اور جالندھر کی مختلف حوالاتوں میں کئی ماہ گزارنے کے بعد مشروط رہائی ملی توآپ پر دہلی اور سندھ جانے پر پابندی لگادی گئی ۔

آپ لاہور میں پابند ضمانت ہو کر یہاں مقیم ہو گئے، جس وجہ سے آپ لاہوری کہلاتے ہیں۔ مسجد لائن سبحان والی شیرانوالہ دروازہ سے باہر مسجد میں حضرت مولانا پنجگانہ نماز ادا کرتے تھے۔ فاروق گنج کی طرف جاتے ہوئے جو مسجد ہے وہاں آپ نے درس قرآن شروع کیا پھر آہستہ آہستہ تبلیغ وارشاد کا سلسلہ بڑھنا شروع ہوگیا۔

تعلیمی سرگرمیاں

1922ء میں حکیم فیروز الدین کی تحریک پر آپ نے انجمن خدام الدین کی بنیاد رکھی جس کے تحت قرآن اور سنت بنویؐ کی اشاعت کو انجمن کا نصب العین قرار دیاگیا ۔1924ء میں انجمن خدام الدین کی زیر نگرانی مدرسہ قاسم العلوم کی بنیاد رکھی گئی جس کی عمارت کی رسم افتتاح علامہ شبیراحمد عثمانی کے ہاتھوں 1934ء میں ادا ہوئی۔

آپ نے عمربھر قرآن مجید کی لفظاً ومعناً خدمت کی (1935ئ)میں آپ نے حفظ ناظرہ کا اہتمام فرمایا۔آپ نے مسلمانوں کو قرآن مجید سمجھانے لیے روازانہ نماز فجر کے بعد ایک گھنٹہ درس قرآن رکھا ہوا تھا۔

جس میں مسلمان مردوں کے علاوہ علیحدہ باپردہ جگہ میں خواتین بھی شریک ہوتی تھیں ۔علوم عربیہ کے فارغ التحصیل علماء کے لیے قرآن کی تفسیرپڑھائی جاتی اور اس درس کی تکمیل کے بعد جو حضرات مزیدتعلیم حاصل کرنے کے خوہش مند ہوتے آپ انہیں چار ماہ میں فلسفہ، شریعت اورحضرت شاہ ولی اللہ ؒ کی مشہور کتاب ’’حجۃ البالغہ‘‘پڑھاتے 1940ء سے شروع ہونے والا یہ درس آپ کی زندگی کے آخری ایام تک جاری رہا۔

22اکتوبر 1956ء میں بحیثیت عالم دین انجمن حمایت اسلام کی جزل کونسل کے آپ رکن مقرر ہوئے۔ انجمن کے معاملات میں گہری دلچسپی لینے کی بناء پر مولانا لاہوری17نومبر1956ء کو انجمن کے نائب صدرتازیست اسی عہدے پر فائز رہے ۔1956ء میں جب تحریک ختم نبوت شروع ہوئی تو مولانا احمدعلی لاہوری نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

گرفتاری کے بعد آپ کو دوسرے علماء کے ساتھ ملتان جیل میں رکھا گیا۔مگر جب ملک فیروز خان بر سرِ اقتدار آئے تو آپ کو لاہور جیل میں منتقل کردیا گیا۔ بعد ازاں آپ کورہا کردیا گیا۔

جمعیت علماء اسلام مغربی پاکستان کا امیرمنتخب

اکتوبر 1956ء کو پاکستان کے جید علماء کی لاہور میں مشاورت ہوئی جس میں بالاتفاق مولانا احمد علی لاہوری کو جمعیت علماء اسلام مغربی پاکستان کا امیرمنتخب لیاگیا ۔ آپ آخری وقت تک اس عہدے پر فائز رہے ۔آپ کی رہنمائی میں صرف ایک سال کے قلیل عرصہ میں جمعیت علماء اسلام مغربی پاکستان میں 300شاخیںقائم ہوگئیں ۔

جون 1957ء میں جمعیت علماء اسلام کا رسالہ ترجمان اسلام لاہور سے آپ کی سر پرستی میں شائع ہونے لگا۔1955ء میں مولانا احمد علی لاہوری کی سرپرستی میں انجمن خدام الدین کی طرف سے’’خدام الدین‘‘نام سے ایک ہفت روزہ رسالہ جاری کیاگیا اوریہ رسالہ آج بھی جاری ہے ۔

وفات

ہر ذی روح اپنے رب کو راضی کرکے اس دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے۔ اس ضابطہ کے تحت مولانا احمدعلی لاہوریؒ23فروری1962ء بمطابق 17رمضان 1381ہجری کو 77سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔

یونیورسٹی گراؤنڈ میں آپ کی نماز جنازہ کی امامت آپ کے صاحبزادہ مولانا عبید اللہ انور نے پڑھائی ۔ افطاری کے وقت مولانا عبداللہ درخواستی ؒ ،مولانا عبیداللہ انورؒ ،حافظ حمید اللہ اور دیگر اکابرین نے آپ کی میت لحدِ خاک میں اتاری [1]۔

حوالہ جات

  1. ولی کامل مولانا احمد علی لاہوریؒ-شائع شدہ از: 17 فروری 2017ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 6 ستمبر 2026ء