مندرجات کا رخ کریں

ابو الحسن علی بن عثمان

ویکی‌وحدت سے
نظرثانی بتاریخ 15:26، 10 جولائی 2026ء از Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں)
(فرق) → پرانا نسخہ | تازہ ترین نسخہ (فرق) | تازہ نسخہ ← (فرق)
ابو الحسن علی بن عثمان
پورا نامابو الحسن علی بن عثمان
دوسرے نامعلی ہجویری، داتا گنج بخش
ذاتی معلومات
پیدائش400 ھ
پیدائش کی جگہافغانستان
وفات464 ھ
وفات کی جگہلاہور پاکستان
اساتذہشیخ ابو العباس اشقانی، شیخ ابو جعفر محمد بن المصباح الصید لانی
مذہباسلام، سنی

ابو الحسن علی بن عثمان(پیدائش: نومبر 1009ء– وفات: 25 ستمبر 1072ء) جنہیں علی ہجویری لاہور کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جو امام حسن ابن علی کی براہ راست اولاد تھے اور ان کا شجرہ نسب آٹھ پشتوں پر حضرت علی تک جاتا ہے[1]۔ 11ویں صدی کے سنی مسلمان، غزنوی سلطنت کے صوفی، عالم دین اور مبلغ تھے۔ جو "کشف المحجوب" کی تالیف کے لیے مشہور ہوئے[2]۔ کہا جاتا ہے کہ علی ہجویری نے اپنی تبلیغ کے ذریعے جنوبی ایشیا میں اسلام کے پھیلاؤ میں "نمایاں" کردار ادا کیا، ایک مورخ نے انھیں "برصغیر پاک و ہند میں اسلام کو پھیلانے والی اہم ترین شخصیات میں سے ایک" کے طور پر بیان کیا ہے۔

موجودہ حالت

موجودہ دور میں، علی ہجویری کو علاقے کے روایتی سنی مسلمان لاہور، پاکستان کے مرکزی ولی کے طور پر مانتے ہیں اس کے علاوہ، وہ پورے جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ قابل احترام ولیوں میں سے ایک ہیں اور لاہور میں ان کا مقبرہ، جو داتا دربار کے نام سے مشہور ہے، جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ کثرت سے جانے والے مزارات میں سے ایک ہے[3]۔

اس وقت، یہ پاکستان کا سب سے بڑا مزار ہے "سالانہ زائرین کی تعداد اور مزار کے احاطے کے سائز میں،" صوفیانہ سلسلہ میں ان کا نام جنوبی ایشیا کے اسلامی معاشرے میں ایک "گھریلو نام" کی طرح جانا جاتا ہے 2016ء میں، حکومت پاکستان نے علی ہجویری کی تین روزہ عرس کے آغاز کی یاد میں 21 نومبر کو عام تعطیل کا اعلان کیا[4]۔

نام ونسب

آپ کا پورا نام شیخ سیّد ابو الحسن علی ہجویری ہے۔ کنیت ابو الحسن لیکن عوام و خواص سب میں "گنج بخش" یا "داتا گنج بخش" (خزانے بخشنے والا) کے لقب سے مشہور ہیں۔ آپ 400 ہجری میں غزنی شہر سے متصل ایک بستی ہجویر میں پیدا ہوئے۔

آپ کے والد بزرگوار کا اسم گرامی سید عثمان جلابی ہجویری ہے۔ جلاب بھی غزنی سے متصل ایک دوسری بستی کا نام ہے جہاں سید عثمان رہتے تھے۔ علی ہجویری، حضرت زید کے واسطے سے امام حسن کی اولاد سے ہیں [5]۔

اساتذہ

آپ کے اساتذہ میں شیخ ابو العباس اشقانی، شیخ ابو جعفر محمد بن المصباح الصید لانی، شیخ ابو القاسم عبد الکریم بن ہوازن القشیری، شیخ ابو القاسم بن علی بن عبد اللہ الگرگانی، ابو عبد اللہ محمد بن علی المعروف داستانی بسطامی، ابو سعید فضل اللہ بن محمد مہینی اور ابو احمد مظفر بن احمد بن حمدان کے نام ملتے ہیں [6]۔

شیخ ابو العباس اشقانی

شیخ ابو العباس اشقانی کے بارے میں حضرت علی ہجویری بیان کرتے ہیں کہ آپ علم اصول اور فروع میں امام اور اہل تصوف میں اعلٰی پایہ کے بزرگ تھے۔ مجھے آپ سے بڑی محبت تھی اور آپ بھی مجھ پر سچی شفقت فرماتے تھے۔

جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے، آپ کے مانند کوئی آدمی نہیں دیکھا۔ نہ آپ سے بڑھ کر شریعت کی تعظیم کرنے والا کوئی دیکھا۔ اکثر فرمایا کرتے: اشتھی عدماً لا وجود لہ۔ یعنی میں ایسی نیستی چاہتا ہوں جس کا کوئی وجود نہ ہو۔ یہ وہی بات ہے جو عمر فاروق نے فرمائی۔

آپ نے ایک مرتبہ ایک تنکا اٹھایا اور فرمایا: اے کاش میری ماں نے مجھے نہ جنا ہوتا۔ اے کاش میں یہ تنکا ہوتا۔ ایک دفعہ میں شیخ اشقاقی کے پاس آیا تو آپ پڑھ رہے تھے: "اللہ ایک مثال دیتا ہے، ایک غلام ہے جو دوسرے کا مملوک ہے اور کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا"۔ بار بار اسے پڑھ رہے تھے اور رو رہے تھے، حتٰی کہ آ پ بے ہوش ہو گئے۔ اور میں نے سمجھا کہ دنیا سے رخصت ہو گئے۔

میں نے عرض کیا، اے شیخ! یہ کیا حالت ہے؟ فرمایا کہ گیارہ سال ہو گئے ہیں، میرا ورد یہی ہے، اس سے آگے نہیں گزر سکا۔

شیخ ابو جعفر محمد بن المصباح الصید لانی

شیخ ابو جعفر محمد بن المصباح الصید لانی کے بارے میں فرماتے ہیں کہ آپ صوفیائے متاخرین میں منجلمہ روسائے متوصفین میں سے تھے۔ علم حقیقت میں بہت فصیح البیان تھے۔ حسین بن منصور کے طریق تصوف کی طرف مائل تھے۔ آپ کی بعض تصانیف میں نے ان سے پڑھی ہیں۔

شیخ ابو القاسم بن علی بن عبد اللہ الگرگانی

ابو القاسم بن علی بن عبد اللہ الگرگانی کے متعلق لکھتے ہیں کہ اپنے وقت میں بے نظیر تھے۔ وقت کے تمام طالبان حق کا آپ پر اعتماد تھا۔ علوم و فنون میں بہت ماہر تھے۔ آپ کا ہر مرید زیور علم سے آراستہ تھا۔ مجھ سے بہت احترام سے پیش آتے تھے۔

اور بہت توجہ سے بات سنتے تھے، حالانکہ میں آپ کے مقابلہ میں نو عمر بچہ تھا۔ ایک روز میں آپ کی خدمت میں بیٹھا تھا کہ میرے دل میں یہ خیال آیا کہ آپ مجھ سے اس قدر عاجزی اور انکسار سے پیش آتے ہیں۔

بغیر اس کے کہ میں کوئی بات کہوں، آپ نے فرمایا: اے میرے باپ کے دوست! خوب جان لے کہ میری یہ عاجزی اور انکسار تیرے لیے نہیں، میری یہ عاجزی احوال کے بدلنے والے کے لیے ہے اور یہ تمام طالبان حق کے لیے عام ہے۔

یاد رکھ کہ آدمی خیالات کی قید سے کبھی بھی رہائی حاصل نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے بندگی کرنا لازمی ہے۔ خدا کے ساتھ بندگی کی نسبت سے کام رکھ۔ اس ایک نسبت کے سوا دوسری تمام نسبتوں کو اپنے سے دور کر دے۔ آپ کی کتابیں مشکل ہیں۔

شیخ ابو القاسم بن ہوازن القشیری

ابو القاسم بن ہوازن القشیری کے حالات میں تحریر فرماتے ہیں کہ اپنے زمانہ میں نادرالوجود اور بلند مرتبہ بزرگ تھے۔ ہر فن میں آپ کی تصانیف محققانہ اور عمدہ ہیں۔ بے کار بحث و گفتگو اور لغو باتوں سے آپ بالکل الگ رہتے تھے۔

حسین بن منصور کے بارے میں صوفیا میں بحثیں ہوتیں۔ ایک گروہ کے نزدیک وہ مردود اور دوسرے کے نزدیک مقبول بارگاہ تھے۔ آپ فرماتے کہ اگر منصور ارباب معافی وحقیقت میں سے تھا تو کوئی چیز اسے خداوند کریم سے علاحدہ نہیں کر سکتی اور اگر خدا کی درگاہ سے مردود تھا تھو مخلوق میں سے کوئی اسے بارگاہ خداوندی میں مقبول نہیں بنا سکتا۔

ہم اسے حوالہء خدا کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایاَ ”جو خیال آئے اسے پاگلوں کی طرح بیان کرتے چلے جانا، ہے اور اس کا آخر سکوت ہے۔ اور جب آدمی درجہ تمکین کو پہنچ جاتا ہے تو گونگا ہو جاتا ہے“۔

ابو عبد اللہ محمد بن علی المعروف داستانی بسطامی

اپنے استاد ابو عبد اللہ محمد بن علی المعروف داستانی بسطامی کے متعلق فرماتے ہیں کہ آپ تمام علوم کے عالم اور درگاہ حق کے اہل حشمت میں سے تھے۔ بہت نیک خْلق تھے۔ آپ کا کلام مہذب اور اشارات لطیف ہیں۔

میں نے ان کی کتاب۔ معانی انفاس۔ کی چند جزیں ان سے سْنی ہیں۔ شیخ سہلکی بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ بسطام میں ٹڈی دل آیا۔ تمام درخت اور کھیت اس کے بیٹھنے کی وجہ سے سیاہ ہو گئے۔ لوگوں نے بہت شور مچایا۔

شیخ نے پوچھا، یہ لوگ کیا کر رہے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ ٹڈی دل آئی ہے اور لوگ سخت غمزدہ ہیں۔ شیخ اْٹھے اور کوٹھے پر تشریف لے گئے اور منہ آسمان کی طرف کیا۔ اْسی وقت ٹڈی اْڑ گئی اور عصر کی نماز تک ایک ٹڈی بھی کہیں نظر نہیں آتی تھی اور کسی کھیتی کا ایک پتہ تک بھی ضائع نہ ہوا۔

ابو سعید فضل اللہ بن محمد مہینی

ابو سعید فضل اللہ بن محمد مہینی کے ذکر میں لکھتے ہیں کہ آپ طریقت کے جمال اور وقت کے صاحب دبدبہ بادشاہ تھے اور تمام اہل زمانہ آپ کے گرویدہ تھے۔ تعلیم ابتدا میں ابو علی زاہد سے سرخس میں حاصل کی۔

ایک دن میں تین دن کا سبق لیتے اور تین دن اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہتے۔ آپ نے مسلسل ریاضت اور مجاہدہ کیا۔ یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو اعلیٰ مرتبہ پر پہنچایا۔ بہت شاہانہ زندگی بسر کرتے تھے۔ شیخ ابو مسلم فارسی نے مجھے بتایا کہ میری گودڑی بہت میلی کچیلی تھی۔

آپ کے پاس پہنچا، تو آپ بہت شاہانہ لباس میں تخت پر دراز تھے اور اوپر مصری دیبا کی چادر اوڑھے ہوئے تھے۔ میں نے یہ دیکھ کر دل میں خیال کیا کہ اس ٹھاٹھ کے ساتھ فقر کا دعویٰ بھی عجیب بات ہے۔

مجھے دیکھو کہ میں اس گودڑی میں فقر کا دعویٰ کرتا ہوں۔ لیکن میرے کوئی بات زبان پر لائے بغیر آپ نے فرمایا کہ تم نے یہ باتیں کس دیوان میں لکھی پائی ہیں؟ میں اس پر اپنے دل میں بہت شرمندہ ہوا۔ آپ نے فرمایا کہ؛ اَلَتّصَوَّفْ قَیَامْ القَلبِ مَعَ اللہِ، یعنی تصوف تو اللہ سے دل لگانے کا نام ہے۔

ایک دفعہ آپ نیشاپور سے طوس کو جا رہے تھے۔ راستے میں سرد گھاٹی پڑتی ہے۔ آپ اپنے پاؤں میں سردی محسوس کر رہے تھے۔ ساتھ جو درویش تھا وہ بیان کرتا ہے کہ میرے دل میں خیال آیا کہ اپنے رومال کے دو ٹکڑے کر کے آپ کے پاؤں پر لپیٹ دو۔

لیکن پھر خیال آیا کہ میرا رومال بہت اچھا ہے اسے ضائع کیوں کروں۔ لیکن میں نے کچھ کہا نہیں۔ طوس پہنچ کر ہم مجلس میں بیٹھے تھے کہ میں نے آپ سے سوال کیا۔ اے شیخ حقّانی! الہام اور وسوسہ میں کیا فرق ہے؟

آپ نے فرمایا کہ الہام تو وہ ہے جس نے تیرے دل میں یہ خیال پیدا کیا کہ اپنے رومال کر ابو سعید کے پاؤں کے گرد لپیٹ دوں تاکہ اس کے پاؤں کو سردی نہ لگے اور شیطانی وسوسہ وہ تھا جس نے تجھے ایسا کرنے سے روکا۔

ابو احمد مظفر بن احمد بن حمدان

ابو احمد مظفر بن احمد بن حمدان کے حالات میں لکھتے ہیں کہ آپ اولیاء کے رئیس اور صوفیوں کے ناصح تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ریاست ہی کے مسند پر آپ پر بھید کھولا اور کرامت کا تاج آپ کے سر پر رکھا۔

میں نے خود ان سے سنا کہ دوسرے لوگوں نے جو کچھ بیابانوں اور جنگلوں کی منزلیں قطع کر کے پایا مجھے اللہ تعالٰیٰ نے وہ چیزیں مسند اور بالا نشینی میں عطا فرمائی۔ فنا اور بقاء میں آپ کا کلام بہت اچھا ہے۔ میں ایک روز کرمان سے آپ کے پاس آیا۔ میرے کپڑے راستے کی گرد سے اَٹے ہوئے تھے۔

آپ نے مجھ سے کہا، کہو ابوالحسن کیا ارادہ ہے؟ میں نے کہا کہ میرا دل سماع کو چاہتا ہے۔ آپ نے اسی وقت انتظام کر دیا اور قوالوں کو بلایا، لڑکپن کا زمانہ تھا۔ پہلے ہی کلمات کے سماع سے بے قرار ہو گیا۔ کچھ وقفہ کے بعد جب میرا غلبہ اور جوش کچھ کم ہوا تو پوچھا، کہو، اس سماع سے کیا گزری؟ میں نے عرض کیا۔

اے شیخ! میں بہت خوش ہوا ہوں۔ فرمایا کہ ایک وقت تجھ پر ایسا آئے گا کہ یہ سماع اور کوے کی آواز تیرے لیے یکساں ہو جائے گی۔ سماع میں قوت اسی وقت تک ہے جب تک مشاہدہ حاصل نہیں ہوتا۔ دیکھو، کہیں اس کی عادت نہ کر لینا کہ تیری طبیعت کا جز بن جائے۔ اگر ایسا ہوا تو تو یہیں رہ جائے گا۔

تعلیم طریقت

طریقت میں آپ کے شیخ ابو الفضل محمد بن حسن ختلی ہیں۔ ان کے حالات قلمبند کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ طریقت میں میری اقتداء آپ ہی کے ساتھ ہے۔ تفسیر، حدیث اور تصوف تینوں کے آپ عالم تھے۔

تصوف میں آپ حضرت جنید کے مذہب پر تھے۔ حضرت شیخ حضرمی کے مرید اور حضرت سروانی کے مصاحب تھے۔ ساٹھ سال تک مخلوق سے گم اور پہاڑوں میں گوشہ نشین رہے۔ زیادہ تر قیام جبل لگام پر رہتا تھا۔

میں نے آپ سے زیادہ بارعب اور صاحب ہیبت کوئی شخص نہیں دیکھا۔ صوفیوں کے لباس سے ہمیشہ کنارہ کش رہے۔ ایک مرتبہ میں آپ کو وضو کرانے کے لیے آپ کے ہاتھوں پر پانی ڈال رہا تھا کہ میرے دل میں خیال آیا کہ میں ایک آزاد آدمی ہوں آخر میں ان پیروں کی کیوں غلامی کروں جو قسمت میں لکھا ہے وہ ضرور پورا ہو گا۔

آپ نے فرمایا، بیٹا کو خیال تیرے دل میں پیدا ہوا ہے میں اسے جانتا ہوں، ہر کام کا ایک سبب اور ذریعہ ہوتا ہے۔ یہ خدمت اور ملازمت آدمی کی بزرگی کا سبب بن جاتی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ حق تعالٰیٰ چاہتا ہے تو ایک سپاہی زادے کو تاج شاہی پہنا دیتا ہے۔


جس روز آپ کی وفات ہوئی تو آپ بانیاں اور دمشق کے درمیان پہاڑ پرواقع ایک گاؤں بیت الجن میں تھے اور آپ کا سر میری گود میں تھا۔ میرا دل سخت مضطرب اور تکلیف میں تھا، جیسے کہ ایسے محسن اور دوست کی علیحدگی کے خیال سے ہونا ہی چاہیے تھا۔

آپ نے فرمایا، بیٹا! میں اعتقاد کا مسئلہ بیان کرتا ہوں۔ اگر تو اپنے آپ کواس کے مطابق درست کر لے گا تو تیرے دل کی یہ تمام تکلیف دور ہو جائے گی۔ یہ بات یاد رکھ کہ اللہ عزل و جل کوئی کام الل ٹپ نہیں کرتا، وہ تمام حالات کو ان کے نیک وبد کا لحاظ رکھ کر پیدا فرماتا ہے۔

تیرے لیے لازم ہے کہ خدا کے فعل میں اس سے جھگڑا نہ کر اور جو کچھ وہ کرتا ہے۔ اس پر رنجیدہ نہ ہو۔ آپ نے ابھی اتنی بات فرمائی تھی کہ اپنی جان خداوند کریم کے سپرد کر دی۔۔

کسب روحانی کیلئے آپ (حضرت علی ہجویری) نے شام، عراق، فارس، قہستان، آزربائیجان، طبرستان، خوزستان، کرمان، خراسان،،وراء النہر اور ترکستان وغیرہ کا سفر کیا۔ ان ممالک میں بے شمار لوگوں سے ملے اور ان کی صحبتوں سے فیض حاصل کیا۔

صرف خراسان میں جن مشائخ سے آپ ملے ان کی تعداد تین سو ہے۔ ان کے بارے میں فرماتے ہیں کہ میں نے خراسان میں تین سو اشخاص ایسے دیکھے ہیں کہ ان میں سے صرف ایک سارے جہان کے لیے کافی ہے[7]۔

آپ کا طریق

آپ کے نزدیک صوفی صفا سے مشتق ہے۔ اور صفا کی اصل دل کو غیر اللہ سے منقطع اور دنیا غدار سے خالی کر کے اسے اللہ سے جوڑنا ہے۔ گویا اس کا مطلب اخلاص اور سچی محبت کے ساتھ خدا کی بندگی کی راہ اختیار کرنا ہے۔

نہ کہ کوئی خاص وضع قطع اختیار کرنا۔ آپ فرماتے ہیں؛ کہ طالب کو تمام احوال میں شرع اور علم کا پیرو ہونا چاہیے۔ کیونکہ سلطان علم سلطان حال پر غالب اور اس سے افضل ہے۔

چنانچہ آپ چالیس برس مسلسل سفر میں رہے لیکن کبھی نماز باجماعت ناغہ نہیں کی۔ اور ہر جمعہ کی نماز کے لیے کسی قصبہ میں قیام فرمایا۔ عام رہن سہن عام لوگوں کی طرح رکھتے۔ صوفیوں کی ظاہری رسوم اور وضع قطع سے آپ شیخ طریقت شیخ ابوالفضل محمد بن ختلی رحمۃ اللہ علیہ کی طرح ہمیشہ مجتنب رہے۔

بلکہ اس سے آپ کو ایک گونہ نفرت تھی اور ان چیزوں کو ریا کاری ونمائش اور معصیت کا نام دیتے تھے۔

نکاح

نکاح کے بارے میں آپ نے فرمایا کہ جو شخص مخلوق میں رہنا چاہے اس کے لیے نکاح کرنا شرط ہے۔ اور اگر بغیر نکاح کے اس کے زنا میں مبتلا ہو جانے کا اندیشہ ہو تو اس کے لیے نکاح فرض ہے۔

لیکن جو مخلوق سے الگ تھلگ رہتا ہو اس کے لیے مجرد ( کنوارا) رہنا اچھا ہے تا کہ اس کی وجہ سے کوئی نیک بخت پریشان نہ ہو اور وہ بھی یکسوئی کے ساتھ اللہ کی ملازمت کر سکے۔

آپ چونکہ اپنی عمر کا بیشتر حصہ سفر اور مسافرت ہی میں رہے۔ اس لیے آپ نے شادی نہیں کی بلکہ تجرد(کنوارا ) کی زندگی گزار دی۔ لیکن تجرد کے ہلاکت خیز خطرات کے سلسلے میں فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے گیارہ برس تزویج (نکاح) کی آفت سے بچایا۔

لیکن تقدیر کا لکھا سامنے آیا اور میں نے بن دیکھے ایک پری صفت کا دل و جان سے گرویدہ ہو گیا۔ اور ایک سال اس طرح اس میں مستغرق رہا کہ قریب تھا کہ میرا دین تباہ وبرباد ہو جاتا۔ لیکن اللہ تعالٰیٰ نے اپنے کمال لطف و مہربانی سے میرے دل پر عصمت و پاکیزگی کا فیضان فرمایا اور اپنی رحمت سے مجھے اس آفت سے نجات بخشی۔

لاہور میں آمد اور قیام

آپ اپنے مرشد کے حکم سے خدا کے دین کی تبلیغ و اشاعت کے لیے سلطان محمود غزنوی کے بیٹے ناصر الدین کے زمانے ؁1030تا1040ء میں لاہور تشریف لائے۔ آپ سے پہلے آپ کے پیر بھائی حسین زنجانی اس خدمت پر مامور تھے۔

اس لیے جب آپ کو لاہور آنے کا حکم ہوا تو آپ فرماتے ہیں کہ میں نے شیخ سے عرض کیا کہ وہاں حسین زنجانی موجود ہیں میری کیا ضرورت ہے؟ لیکن شیخ نے فرمایا، نہیں تم جاؤ۔ فرماتے ہیں کہ میں رات کے وقت لاہور پہنچا اور صبح کو حسین زنجانی کا جنازہ شہر سے باہر لایا گیا۔

تبلیغ و اشاعت دین کے سلسلے میں آپ نے برصغیر ہند کے دوسرے حصّوں کا بھی سفر کیا۔ چنانچہ آپ۔ کشف المحجوب۔ میں حضرت ابو حلیم حبیب بن اسلم راعی کے حالات میں لکھتے ہیں کہ شیخ رحمۃ اللہ علیہ کی اور بھی بہت سی روایتیں ہیں۔

وقت کی تنگی کی وجہ سے میں انھیں چھوڑتا ہوں اور مجھے یہ سخت دقت پیش آ رہی ہے کہ میری کتابیں غزنی میں ہیں اور میں ملک ہندوستان کے ایک گاؤں بھنور میں ہوں جو ملتان کے گرد و نواح میں واقع ہے۔ اور بالکل غیر جنسوں میں گرفتار ہوں۔

وصال

آپ کے وصال شریف کے بارے میں مورخین میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ چنانچہ سفینۃ الاولیاء میں دار شکوہ نے وصال باکمال 454ھ یا 464ھ ذکر کیا۔ غلام سرور لاہوری نے خزینۃالاولیاءمیں تاریخ وصال 464ھ یا 466ھ ہے۔ اے، آر نکلس مترجم کشف المحجوب کے نزدیک وصال باکمال 465ھ یا 469 کو ہوا۔

روضہ مبارک

آپ کا روضہ ناصر الدین مسعود کے بیٹے ظہیر الدین الدولہ نے تعمیر کروایا۔ اور خانقاہ کا فرش اور ڈیوڑھی جلال الدین اکبر بادشاہ 1555ء تا 1605 ء کی تعمیر ہیں۔ خواجہ معین الدین اجمیری 1639ء اور بابا فرید الدین گنج شکر نے کسب فیض کے لیے آپ کے مزار پر چلہ کشی کی اور معین الدین اجمیری نے چلہ کے بعد رخصت ہوتے وقت یہ شعر کہا؛۔ گنج بخش فیضِ عالم مظہر نورِ خُدا ناقصاں راپیرِ کامل، کاملاں را رہنما اسی سے آپ کی۔ گنج بخش۔ کے نام سے شہرت ہوئی۔

عرس

آپ کا عرس ہر سال اسلامی مہینہ صفر المظفر کی 18 سے 20 تاریخ تک منایا جاتا ہے۔

تصانیف

کشف المحجوب:علی ہجویری شاید سب سے زیادہ مشہور اس تحریر کے لیے ہیں جسے "فارسی میں تصوف پر قدیم ترین رسمی مقالہ" کے طور پر بیان کیا گیا ہے، معروف کشف المحجوب (پوشیدہ کی نقاب کشائی) یہ کام اپنے آپ کو آرتھوڈوکس تصوف کے مختلف پہلوؤں کے تعارف کے طور پر پیش کرتا ہے

اور اسلامی کمیونٹی کے عظیم ترین اولیاء کی سوانح حیات بھی فراہم کرتا ہے۔ کشف المحجوب علی ہجویری کی واحد تصنیف ہے جو آج تک باقی ہے۔ مصری صوفی عالم ابوالعظیم نے اس کام کا عربی میں ترجمہ کیا ہے۔

دیگر

آر اے نکلسن نے علی ہجویری کی تصانیف کی ایک مختصر فہرست فراہم کی (جن میں سے سبھی کشف المحجوب کو چھوڑ کر گم ہو گئے ہیں)، جس میں، دوسروں کے درمیان، درج ذیل غیر محفوظ شدہ تصانیف شامل ہیں۔

  • منہاج الدین (یہ کتاب اصحابِ صفہ کے مناقب پر تھی۔)
  • الرعایتہ الحقوق اللہ
  • کتاب الفناد
  • اسرار الحزق المؤنات
  • سحر القلوب
  • کتاب البیان لاہل العیان

شعر و شاعری

شعر و شاعری سے بھی آپ کو دلچسپی تھی اور آپ کا دیوان بھی تھا۔ کشف المحجوب میں اس کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے لکھا ہے کہ بعض لوگ دوسروں کی تصانیف کو اپنے نام سے منسوب کر کے شائع کر دیتے ہیں۔

چنانچہ ایک شخص نے مجھ سے میرے شعروں کا دیوان دیکھنے کے لیے مانگا اور پھر واپس نہیں کیا۔ اور اس کے شروع سے میرانام محو کر کے اپنے نام سے پیش کر دیا۔ چونکہ دیوان کا یہی ایک نسخہ تھا جو وہ لے گیا۔ اس لیے میں کچھ نہ کر سکا اور اس نے میری محنت کو برباد کر دیا۔

اسی طرح ایک اور شخص نے میری دوسری کتاب۔ منہاج الدین۔ جو میں نے تصوف پر تصنیف کی تھی، مجھ سے مانگی اور اس پر سے میرا نام مٹا کر عوام الناس میں اسے اپنے نام سے شائع کر دیا۔

علی ہجویری اور اقبال

علامہ اقبال کو آپ سے بے حد عقیدت تھی‘ اقبال اکثر آپ کے مزار پر روحانی فیض کے لیے حاصر ہوتے تھے۔ اقبال نے جب اپنا پہلا فارسی شعری مجموعہ اسرارِ خودی شائع کیا تو اُس میں ’حکایتِ نوجوانے از مرو کہ پیشِ حضرت سید مخدوم علی ہجویری آمدہ از ستم اعدا فریاد کرد‘ کے نام سے ایک باب شامل کیا۔

علامہ اقبال نے اس نظم میں آپ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ حضرت سید علی ہجویریؒ امت کے سردار ہیں' آپ کا مزار بہت بڑے بزرگ حضرت خواجہ معین الدین چشتی کے لیے مانند حرم ہے۔ پنجاب کی سر زمیں آپ کے دم سے زندہ ہو گئی' ہماری صبح آپ کے آفتاب سے منور ہوئی (مراد برصغیر میں اسلام آپ ہی کی بدولت پهیلا)۔

آپ کی برکت سے ہمارے ہاں وہی دور تازہ ہو گیا جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں اُس وقت کی اسلامی دںیا میں موجود تھا اور ان کے ارشادات سے دینِ حق کا شہرہ عام ہو گیا[8]۔

حوالہ جات

  1. علي بن عثمان الهجويري الجلابي أبي الحسن-اخذ شدہ بہ تاریخ: 10 جولائی 2026ء
  2. Huǧwīrī, ʿAlī Ibn-ʿUṯmān al-Ǧullābī al- -اخذ شدہ بہ تاریخ: 10 جولائی 2026ء
  3. Data Sahib Urs: Lahore district govt declares public holiday on Nov 21 -اخذ شدہ بہ تاریخ: 10 جولائی 2026ء
  4. Spiritual Teachings in Islam: A Study-اخذ شدہ بہ تاریخ: 10 جولائی 2026ء
  5. علامہ غلام سرور لاہورخزینۃ الاصفیاء233، سفینۃ الاولیاء146، کشف المحجوب مقدمہ 1
  6. [ DataGanjBakhsh.Com | Hazrat Data Ganj Bakhsh Lahore , Pakistan حضرت داتا گنج بخش]-اخذ شدہ بہ تاریخ: 10 جولائی 2026ء
  7. داتاگنج بخشؒ کس کس سے فیضیاب ہوئے!-شائع شدہ از: 8 اکتوبر 2020ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 10 جولائی 2026ء
  8. اقبال کی علما کرام سے عقیدت-شائع شدہ از: 9 نومبر 2023ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 10 جولائی 2026ء