"حسن محی الدین قادری" کے نسخوں کے درمیان فرق
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| سطر 15: | سطر 15: | ||
| religion = [[اسلام]] بریلوی | | religion = [[اسلام]] بریلوی | ||
| faith = [[سنی]] | | faith = [[سنی]] | ||
| works = {{افقی باکس کی فہرست|دستور المدينة المنورة والدستور الأمريكي والبريطاني والأوروبي (دراسة توثيقية تحليلية مقارنة)|دستورِ مدینہ اور فلاحی ریاست کا تصور (دستورِ مدینہ اور جدید دساتیرِ عالم کا تقابلی جائزہ)|محبتِ رسول کے تقاضے اور نصرتِ دین|وحدت و اجتماعیت اور ہماری تحریکی زندگی|تحریکی زندگی ميں نظم و ضبط (ایک قرآنی تمثیل)|خدمتِ دین کے تقاضے اور ہمارا کردار | | works = {{ افقی باکس کی فہرست|دستور المدينة المنورة والدستور الأمريكي والبريطاني والأوروبي (دراسة توثيقية تحليلية مقارنة)|دستورِ مدینہ اور فلاحی ریاست کا تصور (دستورِ مدینہ اور جدید دساتیرِ عالم کا تقابلی جائزہ)|محبتِ رسول کے تقاضے اور نصرتِ دین|وحدت و اجتماعیت اور ہماری تحریکی زندگی|تحریکی زندگی ميں نظم و ضبط (ایک قرآنی تمثیل)|خدمتِ دین کے تقاضے اور ہمارا کردار | ||
| known for = {{افقی باکس کی فہرست |چیئرمین، سپریم کونسل — منہاج القُرآن انٹرنیشنل (MQI) ([Minahj-ul-Quran International])|ڈین، فیکلٹی آف لاز اور ممبر، بورڈ آف گورنرز — منہاج یونیورسٹی لاہور ([Minahj-ul-Quran International])پٹرن — نظام المدارس پاکستان}} | | known for = {{افقی باکس کی فہرست |چیئرمین، سپریم کونسل — منہاج القُرآن انٹرنیشنل (MQI) ([Minahj-ul-Quran International])|ڈین، فیکلٹی آف لاز اور ممبر، بورڈ آف گورنرز — منہاج یونیورسٹی لاہور ([Minahj-ul-Quran International])پٹرن — نظام المدارس پاکستان}} | ||
}} | }} | ||
نسخہ بمطابق 15:29، 4 جنوری 2026ء
| حسن محی الدین قادری | |
|---|---|
![]() | |
| دوسرے نام | پروفیسر ڈاکٹر محی الدین قادری |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش کی جگہ | پاکستان، جھنگ |
| اساتذہ | یوسف بن اِسماعیل النبہانی |
| students = | religion = اسلام بریلوی | faith = سنی
| works =
- دستور المدينة المنورة والدستور الأمريكي والبريطاني والأوروبي (دراسة توثيقية تحليلية مقارنة)
- دستورِ مدینہ اور فلاحی ریاست کا تصور (دستورِ مدینہ اور جدید دساتیرِ عالم کا تقابلی جائزہ)
- محبتِ رسول کے تقاضے اور نصرتِ دین
- وحدت و اجتماعیت اور ہماری تحریکی زندگی
- تحریکی زندگی ميں نظم و ضبط (ایک قرآنی تمثیل)
- خدمتِ دین کے تقاضے اور ہمارا کردار
حسن محی الدین قادری عصر حاضر کی علمی شخصیت، مجددِ دین و ملت شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کے فرزند ارجمند ہیں۔ آپ نے اِبتدائی تعلیم لاہور کے معروف تعلیمی اداروں سے حاصل کی۔ آپ نے اپنے والد گرامی کی آغوشِ تربیت میں روحانی تربیت کے ساتھ ساتھ قدیم و جدید علوم بھی حاصل کیے۔ پنجاب یونی ورسٹی سے law graduation کی ڈگری لی۔ آپ نے جامعہ اسلامیہ منہاج القرآن لاہور سے سات سالہ علومِ شرعیہ (درسِ نظامی) کی تکمیل کی اور منہاج يونی ورسٹی سے عربی اور علومِ اِسلامیہ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ City University London سے management sciences میں MSc کی ہے، جب کہ City University London کے Cass Business School سے Organizational Behaviour and Devolopment میں تخصص کیا۔ آپ نے بیرونِ ملک یونی ورسٹیوں سے leadership، financial management اور organizational management کے موضوع پر مختلف کورسز بھی کیے ہیں۔
تعلیم و علمی پس منظر
ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کی علمی قابلیت بہت وسیع اور جامع ہے۔ انہوں نے مختلف ممالک اور اداروں سے اسلامی اور جدید تعلیم دونوں میں اعلیٰ ڈگریاں حاصل کی ہیں، جو ان کے فکری و عملی افق کی گہرائی واضح کرتی ہیں:
تعلیمی اسناد
- پی ایچ ڈی (اسلامی و مغربی آئینی قانون)– عرب لیگ یونیورسٹی، قاہرہ، مصر (2012) ([Minahj-ul-Quran International])
- ایم ایس سی (مینجمنٹ)– سِر جان کاس بزنس سکول، لندن سٹی یونیورسٹی (2005) ([Minahj-ul-Quran International] )
- بیچلر آف لاز (قانون)** – پاکستان کالج آف لاز، لاہور (2003) ([Minahj-ul-Quran International] )
- ماسٹرز (عربی و اسلامی علوم) – منہاج یونیورسٹی لاہور، پاکستان (1995–2002) ([Minahj-ul-Quran International])
یہ علمی سفر نہ صرف دینی تعلیم تک محدود رہا بلکہ مغربی قانونی اور مینجمنٹ موضوعات تک بھی پھیلا، جس سے ان کی علمی شخصیت میں توازن اور وسعت آئی۔ ([Minahj-ul-Quran International]
خدمات و عہدے
ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے مختلف علمی، تعلیمی اور فلاحی اداروں میں نمایاں خدمات سر انجام دی ہیں:
اہم عہدے:
- چیئرمین، سپریم کونسل — منہاج القُرآن انٹرنیشنل (MQI) ([Minahj-ul-Quran International])
- ڈین، فیکلٹی آف لاز اور ممبر، بورڈ آف گورنرز — منہاج یونیورسٹی لاہور ([Minahj-ul-Quran International])
- پٹرن — نظام المدارس پاکستان (NMP) ([Minahj-ul-Quran International])
- ہیڈ — کالج آف شریعہ و اسلامی علوم اور منہاج کالج برائے خواتین، لاہور ([Minahj-ul-Quran International])
- مختلف فلاحی منصوبوں اور مراکز کے بانی یا سرپرست([Minahj-ul-Quran International])
ان کی قیادت میں، منہاج القُرآن انٹرنیشنل نے نہ صرف تعلیمی بلکہ سماجی فلاح و بہبود کے شعبے میں بھی نمایاں اقدامات کیے ہیں۔ ([Minahj-ul-Quran International])
تحقیقی سوچ اور علمی موقف
ان کا علمی موقف اس بات پر مبنی ہے کہ:
- اسلامی اصولات کو عصری مسائل کے حل میں بروئے کار لایا جائے۔ ([Minahj-ul-Quran International])
- آئینِ مدینہ کے اصول انسانی حقوق، انصاف، اور سماجی نظم کے لیے نمائندہ ماڈل ہیں۔ ([Minahj-ul-Quran International])
- تعلیم صرف معلومات حاصل کرنا نہیں بلکہ کردارسازی اور اخلاقی تربیت کا ذریعہ ہے۔ ([Minahj-ul-Quran International])
نظریات و فکری رجحانات
ڈاکٹر حسن قادری کے نظریات میں درج ذیل نکات نمایاں ہیں:
تعلیم کا مقام
انہوں نے بارہا کہا ہے کہ:
- تعلیم قوموں کی ترقی کا ذریعہ ہے، جس سےجہالت، انتہا پسندی، اور معاشرتی بحرانوں کا خاتمہ ممکن ہے۔ ([Minahj-ul-Quran International])
- حقیقی تعلیم وہ ہے جو انسان کی شخصیت کو مکمل طور پر سنوارے، اخلاقی اور روحانی اقدار کو فروغ دے([cosis.edu.pk])
سماجی ہم آہنگی اور اخلاق
ان کے فکری افق میں تحمل، اعتدال، رواداری، اور دوسروں کے حقوق کا احترام بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تعلیم یافتہ معاشرہ ہی امن، بھائی چارہ اور اقتصادی ترقی کا ضامن ہے۔ ([cosis.edu.pk])
اسلامی پیغام اور روحانیت
ڈاکٹر حسن قادری نے روایتی اسلامی تعلیمات کو **اچھی اخلاقیات، امن، ایمان، اور عمل** کے تناظر میں پیش کیا ہے۔ ان کے نزدیک **سیرتِ انبیاءؑ اور اسلامی روحانیت** عوام کی فکری اور عملی رہنمائی کے لیے لازمی ہیں۔ ([Minahj-ul-Quran International]
دستور مدینہ مختلف الخیال طبقات کو متحد کرتا ہے
منہاج القرآن کی سپریم کونسل کے چیئرمین کا کویت بار کونسل میں خطاب کویت بار کونسل میں اٹارنی ایٹ لاء شریان الشریان اور خالد السفیان نے استقبال کیا
Dr Hassan Mohiuddin Qadri Discusses the Constitution of Medina as a Blueprint for Peace منہاج القرآن انٹرنیشنل کی سپریم کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کویت کے دورہ پر ہیں۔ انہوں نے خصوصی دعوت پر کویت بار کونسل سے خطاب کیا اور دستور مدینہ پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ دستور مدینہ بین المذاہب رواداری کے فروغ اور مختلف الخیال طبقات کو متحد کرتا ہے۔ میثاق مدینہ کی تائید 60 سے زائد قرآنی آیات اور ایک ہزار سے زائد احادیث مبارک میں کی گئی ہے۔ امن و آشتی کے فروغ و قیام کیلئے میثاق مدینہ آج بھی ٹھوس فکری بنیادیں فراہم کرتا ہے۔ تقریب کا اہتمام کویت کے اٹارنی ایٹ لاء شریان الشریان کی طرف سے کیا گیا تھا۔ کویت بار کونسل پہنچنے پر کویت لائرز سوسائٹی کے سیکرٹری جنرل اٹارنی ایٹ لاء خالد السفیان نے دیگر عہدیدار وکلا کے ہمراہ استقبال کیا۔
ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ سیاسی، سماجی، مذہبی حقوق کی فراہمی و تحفظ اور انصاف کے بول بالا کیلئے میثاق مدینہ ایک بہترین دستاویز ہے۔ میثاق مدینہ ایک ایسا ڈاکومنٹ ہے جس کے ذریعے ہر مسلمان فخر سے کہہ سکتا ہے کہ اسلام بنیادی انسانی حقوق کا محافظ اور عالمی امن کے قیام کا داعی دین ہے۔ حضور نبی اکرم نے میثاق مدینہ پر دستخط کر کے عملاً اس امر کی فکری بنیاد فراہم کی کہ مختلف الخیال طبقات سیاسی اعتبار سے ایک ریاست کے اندر اتحاد و اتفاق سے اپنی سماجی، اقتصادی و معاشرتی سرگرمیاں جاری رکھ سکتے ہیں۔
تقریب کے اختتام پر کویت لائرز سوسائٹی کے سیکرٹری جنرل نے کویت بار کونسل آمد اور دستور مدینہ کے فکر انگیز موضوع پر خطاب پر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نوجوان ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کی تحقیق اور علوم اسلامیہ کے گہرے مطالعہ کے معترف ہوئے ہیں۔ کویت لائرز سوسائٹی کی طرف سے ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کوکویت بار کونسل کے مختلف شعبہ جات اور دفاتر کا دورہ کروایا گیا اور انہیں کویت بار کونسل کی طرف سے یادگاری شیلڈ دی گئی۔
ڈاکٹر حسن محی الدین قادری عالم اسلام کی واحد شخصیت ہیں جنہوں نے دستور ریاست مدینہ کے تقابلی جائزے کے موضوع پر قاہرہ سے پی ایچ ڈی کر رکھی ہے انہوں نے عربی زبان میں مقالہ تحریر کیا جس کے انگریزی اور اردو زبان میں تراجم تکمیل کے آخری مرحلے میں ہیں۔ ریاست مدینہ کے موضوع پر یہ واحد ضخیم تحقیق ہے[1]۔
اساتذہ
ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کے اساتذہ میں عرب و عجم کی معروف شخصیات شامل ہیں۔ آپ نے بغداد، شام، مصر، یمن اور سوڈان کے جید شیوخ و اساتذہ اور معروف علمی وروحانی شخصیات سے اِکتسابِ فیض کرتے ہوئے تفسیر، حدیث، فقہ، تصوف، اُصول الدین، فلسفہ اور لغت میں اَعلیٰ درجے کی اِسناد اور اِجازات حاصل کی ہیں۔ آپ کو اِمام یوسف بن اِسماعیل النبہانی سے الشیخ حسین بن احمد عسیران اللبنانی کے صرف ایک واسطے سے شرفِ تلمذ حاصل ہے۔
آپ نے شام کے جید شیوخ و اساتذہ سے تفسیر، حدیث، فقہ، تصوف، اُصول الدین اور فلسفہ میں اعلیٰ درجے کی اسناد اور اجازات حاصل کیں۔ ان میں الشیخ عبد الرزاق الحلبی (فقہ حنفی پر اتھارٹی)، الشیخ دیب الکلاس (جوکہ فرید ملّت ڈاکٹر فرید الدین قادری قدس سرہ کے معاصر تھے) اور الدکتور رمضان البوطی شامل ہیں۔ علاوہ ازیں آپ نے العقیدۃ الاسلامیۃ اور عشرہ قراءات میں اتھارٹی کی حیثیت رکھنے والے الشیخ الشکری اللحفی سے عقیدے میں سند حاصل کی ہے۔
ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے شام کے کبار محدثین سے صرف 9 دن میں ”صحیح بخاری“ کا ختم کیا اور اس کی سند الشیخ فاتح الکتانی بن محمد بن مکی الکتانی سے لی اور انہی سے شرح المواهب اللدنیة اور شرح الموطأ للزرقانی کا ختم صرف 4 روز میں کیا۔ آپ الشیخ اسعد محمد سعید الصاغرجی کے پاس سبقاً سبقاً مختلف تفاسیر، شروحات اور کئی امہات الکتب پڑھتے رہے اور ان سے اجازات حاصل کیں۔
آپ کے دیگر مشائخ میں شام کے مفتیِ اَعظم الشیخ اُسامہ الرفاعی اور الشیخ محمد ہشام بن محمد ادیب بن عبد اللہ البرہانی شامل ہیں۔ مزید برآں آپ نے یمن، مصر اور سوڈان کی معروف علمی و روحانی شخصیات سے بھی اِکتسابِ فیض کیا ہے۔ آپ کو شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی معیت میں الشیخ حسین بن احمد عسیران سے حدیث مسلسل بالمصافحہ کی روایت لینے کا شرف بھی حاصل ہے اور يوں آپ پانچویں مصافح بنے ہیں۔
دستور مدینہ اور مغربی دساتیر کے تقابلی جائزہ
ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے مصر کی جامعۃ الدول العربیۃ (Arab League University) سے اِسلامی (دستورِ مدینہ) اور مغربی دساتیر کے تقابلی جائزے پر فقید المثال تحقیقی مقالہ لکھ کر PhD کی ڈگری حاصل کی ہے۔ آپ کے مقالہ کے نگران معروف دستوری و قانونی ماہر اور مصر کے سابق نائب وزیراعظم پروفیسر ڈاکٹر یحیی الجمل تھے جو جامعہ قاہرہ کے لاء کالج میں قانون کے پروفیسر رہے ہیں۔
ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے مقالہ میں یہ تحقیق پیش کی ہے کہ اِسلام کے ریاستی نظام اور دستورِ مدینہ کے حوالے سے چار اَنواع کی مختلف studies پائی جاتی ہیں۔ انہوں نے اپنے مقالہ میں دستورِ مدینہ کا کامل تجزیہ، تقابل، تفصیل و توضیح اور تشریح کی ہے اور امریکی وبرطانوی اور دیگر مغربی دساتیر کے constitutional principles کا Constitution of Madina سے تقابلی جائزہ لیا ہے۔
آپ نے دستورِ مدینہ کی مکمل تخریج و تحقیق اور اس کا استناد و اعتبار ثابت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ صرف دستور مدینہ ہی تمام آئینی و دستوری تقاضے پورے کرتا ہے اور اسی پر عمل پیرا ہو کر مسلم ممالک مثالی اسلامی فلاحی ریاستیں تشکیل دے سکتے ہیں۔ تحقیق کی دنیا میں آپ کا یہ تاریخی نوعیت کا مقالہ اب اردو، انگلش اور عربی تینوں زبانوں میں چھپ کر منظر عام پر آ گیا ہے۔
پاکستان میں جامعۃ الازہر کے فارغ التحصیل طلبا کے رابطہ دفتر
2010ء کے اوائل میں آپ کی خصوصی کاوشوں سے پاکستان میں جامعۃ الازہر کے فارغ التحصیل طلبا کے رابطہ دفتر - الرابطة العالمية لخریجی الأزهر (The World Association for Al-Azhar Graduates) - کی برانچ کا اِفتتاح ہوا، جس کے چیئرمین بھی آپ ہی تھے اور پاکستان میں اس کی میزبانی کا شرف منہاج یونی ورسٹی لاہور کو حاصل ہوا۔ یہ آپ کی خصوصی محنت کا ثمر ہے کہ اس برانچ کے بارے میں شیخ الازہر اور جامعہ ازہر کے دیگر شیوخ و اکابرین کا واضح موقف رہا کہ دنیا میں رابطہ دفتر کی کوئی اور برانچ پاکستانی برانچ کا مقابلہ نہیں کر سکی۔
ایک سال کے اندر اندر پاکستان برانچ نے سہ لسانی (عربی، انگلش، اردو) سہ ماہی شمارہ دعوة الأزهر بھی جاری کر دیا، جس کا بنیادی مقصد مسلمانوں اور مغربی دنیا کے مابین برداشت، بین المذاہب ہم آہنگی اور امن کو فروغ دینا تھا۔ جب کہ پاکستان برانچ نے آغاز میں ہی تین زبانوں میں ویب سائٹ بھی لانچ کی۔
علاوہ ازیں رابطہ دفتر کی برانچز میں سے یہ اعزاز بھی صرف پاکستان برانچ کو حاصل رہا کہ اس کے تحت ہونے والے تربیتی کورسز پاکستان اور بیرون پاکستان بھی منعقد ہوتے رہے ہیں۔ جامعۃ الازہر کے اشتراک سے کئی علمی و تحقیقی اور معاشرتی پروگرام، کانفرنسز اور سیمینارز منعقد کیے گئے۔
تعلیمی سرگرمیاں
ڈاکٹر حسن محی الدین قادری منہاج القرآن انٹرنیشنل کی سپریم کونسل کے چیئرمین ہیں۔ آپ منہاج یونی ورسٹی لاہور کے School of Law کے Dean کے طور پر بھی فرائض ادا کرتے ہیں۔ آپ منہاج یونی ورسٹی لاہور کے بورڈ آف گورنرز کے رُکن بھی ہیں۔ اسی طرح جامعہ اسلامیہ منہاج القرآن اور منہاج کالج برائے خواتین کی سرپرستی بھی کرتے ہیں۔ آپ قدیم و جدید علوم کے حامل دینی بورڈ ”نظام المدارس پاکستان“ کے چیئرمین بورڈ آف گورنرز ہیں۔
نیز آپ منہاج القرآن انٹرنیشنل کی فکری بنیادوں میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے فریدِ ملّت رِیسرچ اِنسٹی ٹیوٹ (FMRi) کی بھی سرپرستی فرماتے ہیں۔ آپ عالمی سطح پر سماجی و فلاحی خدمات سرانجام دینے والی منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے بھی سرپرست ہیں۔
مختلف ممالک میں منعقد ہونے والی کانفرنسز کی شرکت
مسلم ممالک کی نمائندگی کا حق ادا کرتے ہوئے آپ نے دنیا بھر میں مختلف ممالک میں منعقد ہونے والی کانفرنسز میں اپنی علمی و فکری ثقاہت کا سکہ منوایا ہے۔ ان میں اَقوامِ متحدہ (UN)، ورلڈ اکنامک فورم (WEF)، یونیسکو، واشنگٹن ڈی سی، کینیڈا، یوکے، پیرس، ڈنمارک، ناروے، نیدر لینڈز، جرمنی، اسپین، اٹلی، یونان، آسٹریلیا، مشرقی ایشیا، انڈونیشیا، کوالالمپور، سنگاپور، ساؤتھ کوریا، منیلا (فلپائن)، بنگلہ دیش، ایران اور اردن سرِ فہرست ہیں۔
اکانفرنسز میں ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے اسلام اور عصری چیلنجز، تصوف کی اہمیت، عالمی معیشت میں اخلاقی اقدار کی ضرورت و اہمیت، معاشی بڑھوتی (economic growth) میں شفافیت کے عملی اظہار میں حائل رکاوٹیں اور اُن کا حل، قرآن اور نظامِ حکومت، اسلام اور اعلیٰ اخلاقی اَقدار، بین المذاہب رواداری کا فروغ اور انتہا پسندی و دہشت گردی کا تدارک و کلی خاتمہ، انتہاء پسندانہ سوچ اور دہشت گردی کے خلاف شیخ الاسلام کے فتویٰ کے اثرات کی اہمیت، جہاد کی غلط اور حقیقی تعبیر، القاعدہ کے نام نہاد جہاد کی حقیقت، شہری زندگی میں درپیش مسائل اور اُن کا حل جیسے اہم موضوعات پر اظہار خیال کیا
علمی آثار
اور تحقیقی مقالات پیش کیے ہیں۔ اِن خطبات میں آپ نے مسلم تارکین وطن کے سامنے یہ اہم سوال بھی رکھا جس پر مغرب میں مسلمانوں کا مستقبل وابستہ ہے کہ کیا مسلمان مغربی سوسائٹی سے ہم آہنگ ہوئے بغیر اپنے وجود کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔
مطبوعہ علمی آثار
ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے مختلف موضوعات پر کتب بھی تحریر کی ہیں جن میں:
- دستور المدينة المنورة والدستور الأمريكي والبريطاني والأوروبي (دراسة توثيقية تحليلية مقارنة)
- دستورِ مدینہ اور فلاحی ریاست کا تصور (دستورِ مدینہ اور جدید دساتیرِ عالم کا تقابلی جائزہ)
- محبتِ رسول ﷺ کے تقاضے اور نصرتِ دین
- وحدت و اجتماعیت اور ہماری تحریکی زندگی
- تحریکی زندگی ميں نظم و ضبط (ایک قرآنی تمثیل)
- خدمتِ دین کے تقاضے اور ہمارا کردار
- سوشل میڈیا اور ہماری زندگی (فوائد و نقصانات)
- اِستحکامِ جماعت اور فکری وحدت
- فلسفۂ قل اور شانِ مصطفیٰ ﷺ
- رفیق اور رفاقت (ضابطۂ عمل برائے رُفقاء و اَراکین اور وابستگانِ تحریک)
- آدابِ اِختلاف (قرآن و حدیث اور آثار و اَقوال کی روشنی میں)
- The Constitution of Medina and the Concept of the Welfare State
- Parents’ Rights
- The Jewels of Glory (A Multifaceted Study of the Exalted Stations of Holy Prophet Muhammad ﷺ)
- Terrorist Rehabilitation
- Philosophy of Altruism & Minhaj-ul-Quran International
- Qur’an on Management (Harmonizing Timeless Wisdom with Modern Practices for Personal Development and Organizational Excellence
- شامل ہیں
غیر مطبوعہ آثار
Qur’an on Management and Leadership پر آپ کی کتب کی سیریز زیرِ طباعت ہے۔ علاوہ ازیں آپ کی کئی کتب زیرِ طبع ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہیں:
- مکاتیب الرسول ﷺ کی عصری معنویت
- عصرِ حاضر میں مراسلاتِ اَمن سے اِستفادہ کی صورتیں
- تذکرہ مشاہیرِ اِسلام
- تذکرۂ شیخ الاسلام (پندرہویں صدی ہجری کے مجدد اعظم)
- اَوصافِ قیادت
- اللغة العربية: أم اللغات (عربی زبان دیگر تمام زبانوں کا مبدأ اور منبع ہے)
- تفسیر سورۃ یوسف
- تفسیر سورۃ النباء
- Qur’an and Ring Theory
- Ethics and Prophetic Characteristics
- Political History of Islam
- Human Rights in Islam and the West
آپ علمی و ادبی میدان کے ساتھ ساتھ تحریکی و تنظیمی اور عملی میدان میں بھرپور حصہ لیتے ہیں۔ آپ کے قرآن حکیم کی منتخب سورتوں کے تفسیری لیکچرز مختلف ٹی وی چینلز پر باقاعدہ نشر ہو چکے ہیں۔ علاوہ ازیں آپ نے علم، میلاد النبی ﷺ اور قصص الانبیاء جیسے موضوعات پر قومی ٹی۔وی چینلز پر لیکچر سیریز بھی دی ہیں[2]۔
حوالہ جات
- ↑ دستور مدینہ مختلف الخیال طبقات کو متحد کرتا ہے: ڈاکٹر حسن قادری- شائع شدہ از: 13 اکتوبر 2023ء -اخذ شدہ بہ تاریخ: 4 جنوری 2026ء
- ↑ پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری (ایک تعارف)- اخذ شدہ بہ تاریخ: 4 جنوری 2026ء
