مندرجات کا رخ کریں

"سید احمد سعید کاظمی" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
م Saeedi نے صفحہ احمد سعید کاظمی کو سید احمد سعید کاظمی کی جانب منتقل کیا
 
(ایک ہی صارف کا 6 درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 1: سطر 1:
{{Infobox person
| title =
| image =  سید احمد سعید کا.jpg
| name = سید احمد سعید کاظمی 
| other names = علامہ سعید کاظمی
| brith year = 1913ء 
| brith date = 13مارچ
| birth place = محلہ کٹکوئی شہر امروہہ (یوپی)
| death year = 1986ء
| death date = 4 جون
| death place = ملتان [[پاکستان]]
| teachers = {{افقی باکس کی فہرست |}}
| students =
| religion = [[اسلام]] دیوبندی
| faith = [[سنی]]
| works = {{افقی باکس کی فہرست| }}
| known for =  جمیعت علمائے پاکستان، تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان،دعوت اسلامی ، جماعت اہل سنت پاکستان جیسی تحریکوں کے بانی 
}}
'''سید احمد سعید کاظمی'''، (13 مارچ (1913ء تا 4 جون 1986ء) ایک متبحر عالم دین تھے۔ انہوں  نے تحریک [[پاکستان |پاکستان]] میں حصہ لیا اور جمیعت علمائے پاکستان، تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان،دعوت اسلامی اور جماعت اہل سنت پاکستان جیسی تحریکوں کے بانی تھے۔ آپ کی یادگار ادارہ جامعہ اسلامیہ عربیہ انوار العلوم ملتان ہے۔ آپ گیارہ سال اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں شیخ الحدیث کے عہدہ پر متمکن رہے۔آپ کی اھل سنت کے لیے گراں قدر خدمات ہیں۔
'''سید احمد سعید کاظمی'''، (13 مارچ (1913ء تا 4 جون 1986ء) ایک متبحر عالم دین تھے۔ انہوں  نے تحریک [[پاکستان |پاکستان]] میں حصہ لیا اور جمیعت علمائے پاکستان، تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان،دعوت اسلامی اور جماعت اہل سنت پاکستان جیسی تحریکوں کے بانی تھے۔ آپ کی یادگار ادارہ جامعہ اسلامیہ عربیہ انوار العلوم ملتان ہے۔ آپ گیارہ سال اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں شیخ الحدیث کے عہدہ پر متمکن رہے۔آپ کی اھل سنت کے لیے گراں قدر خدمات ہیں۔
== نام ونسب ==
== نام ونسب ==
سطر 42: سطر 61:


جماعت اہلسنت، جمعیت علمائے پاکستان اور دعوت اسلامی کو قائم کرنے ان کا خاص کردار ہے۔ انھوں نے بہاولپور اسلامیہ یونیورسٹی میں ایک طویل مدت تک بحیثیت شیخ الحدیث تدریسی فرائض سر انجام دیے۔
جماعت اہلسنت، جمعیت علمائے پاکستان اور دعوت اسلامی کو قائم کرنے ان کا خاص کردار ہے۔ انھوں نے بہاولپور اسلامیہ یونیورسٹی میں ایک طویل مدت تک بحیثیت شیخ الحدیث تدریسی فرائض سر انجام دیے۔
   
== قابل قدر خدمات ==
حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی کی ذات بابرکات علمی روحانی کمالات میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ ان کا ظاہر و باطن ایک سا تھا ۔ آپؒ کی ولادت 1332ھ بمطابق 1913ء کو امروہہ کے ایک علمی گھرانے میں ہوئی۔
آپ کے والد ماجد علامہ سید محمد مختار کاظمی اپنے وقت کے نامور علماء میں شمار ہوتے تھے۔ آپؒ کا سلسلہ نسب حضرت سیدنا امام موسیٰ کاظمؒ سے جا ملتا ہے چنانچہ اسی نسبت سے آپؒ کاظمی کہلاتے ہیں<ref>[https://urdu.dunyanews.tv/index.php/ur/Pakistan/444621 علامہ سید احمد سعید کاظمیؒ کی حیات بابرکات]-شائع شدہ از:22 جون 2018ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 20 اگست 2026ء</ref>۔
ابھی چند برس کے تھے کہ آپؒ کے والد گرامی دنیافانی سے پردہ فرما گئے۔ والد محترم کے وصال کے بعد آپ کے برادر اکبر علامہ سید محمد خلیل کاظمی محدث امروہی نے آپ کی تعلیم وتربیت کی ذمہ داری نبھائی۔
اس وقت کے جید علماء میں آپ نہایت ممتاز مقام کے حامل تھے اور ان دنو ں شاہ جہانپور کے مدرسہ جامعہ بحرالعلوم میں درس و تدریس فرما رہے تھے جس وجہ سے حضرت سیداحمد سعید کاظمیؒ کو حصول تعلیم میں کوئی دشواری درپیش نہ ہوئی اور صرف 16 برس کی قلیل مدت و عمر میں علوم و فنون سے فراغت حاصل کرکے سند حاصل کی۔
حضرت سید شاہ حسین اشرفی کچھوچھویؒ نے ایک پروقار تقریب میں صدر الافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی، علامہ نثار احمد کانپوری،ؒ جیسی جید علمی شخصیات کی موجودگی میں دستار بندی فرمائی۔ تعلیم سے فارغ ہو کر آپؒ 1929ء میں لاہور تشریف لائے۔ یہاں علامہ سید دیدار علی شاہ اور علامہ سید احمد ابوالبرکات ؒ جیسی عظیم اکابر ہستیوں کی صحبت آپؒ کو میسر آئی۔
ایک دن آپؒ لاہور کی تاریخی و قدیم درسگاہ جامعہ نعمانیہ دیکھنے گئے۔ وہاں علامہ حافظ محمد جمالؒ مسلم الثبوت کادرس دے رہے تھے۔ آپؒ درس میں بیٹھ گئے۔ جب آخر میں طلبہ سے سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا تو آپؒ نے بھی اس میں حصہ لیا۔ آپؒ کی دینی قابلیت اور ذہانت نے حافظ محمد جمال ؒکو اس قدر متاثر کیا کہ بعد میں انہوں نے تفصیلی گفتگو کر کے آپؒ کو جامعہ نعمانیہ میں مدرس کے عہدے کی پیشکش کی جسے آپؒ نے بخوشی قبول فرما لیا۔
آپؒ کا مسند تدریس پر رونق افروز ہونے اور علمی جاہ و جلال کا جلد ہی دور دور تک چرچا ہونے لگا اور عاشقان علم گروہ در گروہ یہاں آنے لگے۔ پھر وطن کی یاد نے آپؒ کو ستایا تو آپؒ آبائی علاقہ امروہہ چلے گئے اور وہیں مدرسہ محمدیہ حنفیہ میں درس وتدریس شروع فرما دی۔ تقریبا ً 4 برس بعد آپؒ اوکاڑہ کے حکیم جان عالم کے بے حد اصرار پر اوکاڑہ تشریف لے آئے۔ یہاں ایک سال درس وتدریس اور اشاعت اسلام میں مشغول رہے۔
ایک روز حضرت خواجہ غریب نواز ؒکے عرس پاک کے تقریبات میں شرکت کے لئے آپؒ ملتان حاضر ہوئے۔ یہاں آپؒ نے جو سحر انگیز خطاب فرمایا تو حاضرین کے دل نور معرفت سے جگمگا نے لگے، پھر خطاب سے متاثر ہو کر ملتان کے اکابر علماء و مشائخ نے آپؒ کو ملتان میں سکونت اختیار کرنے کی دعوت دی اور آپؒ نے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ملتان کو اپنا مسکن بنا لیا۔ یہاں اپنے گھر پر ہی درس و تدریس شروع کر دی۔
دور دراز سے لوگ حصول علم کی خاطر آنے لگے تو جگہ تنگ ہونے لگی۔ 1935ء میں ملتان میں آپؒ نے ایک عظیم الشان درسگاہ جامعہ انوارالعلوم کے نام سے قائم فرمائی اور تاحیات یہیں سے علم و فن کے گوہر لٹاتے رہے۔ آپؒ تحریک پاکستان کے موقع پر بھی علماء و مشائخ کے ہر اول دستہ میں شامل رہے۔ آپؒ نے اکابر علماء ومشائخ کی رفاقت میں قیام پاکستان کے لئے بھرپور سعی کی اور جگہ جگہ جلسے جلوس اور تحریر و تقریر کے ذریعہ قیام پاکستان کی راہ ہموار کی۔
آپؒ نے قرارداد پاکستان کی تجوید و توثیق کے لئے علماء ومشائخ کے ساتھ بنارس میں ہونے والی آل انڈیا سنی کانفرنس میں بھی شرکت کی۔ قیام پاکستان کے بعد آپؒ نے تحریک ختم نبوت میں بھی بھرپور حصہ لیا۔ آپؒ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی کی عظیم شخصیت اور ان کی تعلیمات سے بے حد متاثر تھے جس کا اثر آپؒ کی پوری زندگی پر محیط ہے۔ آپؒ کے علمی کارناموں میں سے ایک بڑا کارنامہ قرآن پاک کا اردو ترجمہ ہے جو کہ البیان کے نام سے معروف عام ہے۔ آپؒ کا وصال مبارک 25رمضا ن المبارک 1986ء کو ہوا<ref>تحریر: صاحب زادہ ذیشان کلیم معصومی</ref>۔
== سیاسی خدمات ==
== سیاسی خدمات ==


سطر 64: سطر 105:
* ارشد سعید کاظمی
* ارشد سعید کاظمی
* راشد سعید کاظمی
* راشد سعید کاظمی
== وفات ==
== طلباء سے محبت کا انداز ==
درجہ حدیث میں ہما رے ساتھ ایک حافظ صاحب تھے جو آنکھوں سے نابینا تھے ان کا نام غا لباََ ’’حبیب اللہ‘‘  تھا۔ حضرت امام اہل سنت مدرسہ انوار العلوم میں تشریف لا کر پڑھاتے تھے۔
 
جب طبیعت زیادہ ناساز ہوتی تو آپ طلبا کو گھر پرہی طلب فرمالیتے۔ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ حافظ حبیب اللہ کو کسی نے بتایا کہ آپ آج گھر پرہی پڑھائیں گے۔ یہ رکشے پر بیٹھے اور گھر پہنچے، وہاں سے کسی نے کہہ دیا کہ حضرت مدرسہ میں پڑھائیں گے۔
 
یہ مدرسہ میں آگئے، مدرسہ سے پھر پتا چلا کہ نہیں! گھر پر ہی پڑھائیں گے۔ یہ رکشہ پر بیٹھ کرپھر گھر پہنچ گئے۔دارالعلوم سے آپ کے گھر کا فاصلہ تقر یباََ دو کلومیٹر کا ہے۔
 
اس طرح چکر لگاتے ہوئے دیر ہو گئی اور پہلا سبق جو ’’ صحیح بخاری‘‘ کا تھا اس میں شریک نہ ہو سکے۔ دوسر ے سبق یعنی ’’ جامع ترمذی ‘‘میں شامل ہوئے اور کہنے لگے حضرت میں چونکہ نا بینا ہوں مجھے آنے جانے میں تکلیف بھی ہوئی اور میرے بارہ روپے بھی خرچ ہو گئے ہیں۔
 
آپ فرما دیا کریں کہ سبق کہاں پڑھائیں گے۔ حافظ صاحب کی یہ بات سن کر آپ نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور دس دس روپے کے چارنوٹ نکال کر حافظ صاحب کو دیئے اور تکلیف پر معذرت بھی فرمانے لگے۔
== امانت و دیانت کی مثال ==
ایک بار دور انِ کلاس آپ نے ’’اللہ دتہ‘‘ خادم سے فرمایا ’’خط والالفا فہ لے کرآو‘‘ وہ گئے اور مدرسہ کے دفتر سے لفافہ لے آئے۔ آپ نے پوچھا’’ کہاں سے لا ئے ہو؟ ‘‘ خادم نے عرض کیا کہ دفتر سے لایا ہوں۔
 
آپ نے فرمایا:’’دفترسے کیوں لائے ہو؟ خط تو میں نے ذاتی لکھنا ہے، مدرسہ کے لئے تو نہیں لکھنا‘‘۔چنانچہ آپ  نے جیب سے پیسے نکال کر دیے کہ جا کر دکان سے خط والا لفا فہ خرید لاؤ ، اور آپ نے وہ لفافہ استعمال کیا۔
== قوتِ حافظہ ==
آپ کو اللہ تعالیٰ نے بڑاذہن اور طاقت ور حافظہ عطا فرمایا تھا۔ایک بار ایک حدیث کا حوالہ دیا جلد نمبر، صفحہ نمبر اور کتاب کی طباعت کا سن اور مطبع کا نام بتا کر فرمایا حدیث کی یہ کتاب میں نے آج سے30 سال پہلے پڑھائی تھی۔
 
اْس کے بعد مجھے دوبارہ پڑھانے کا موقع نہیں ملا ،آپ بہرحال حوالہ نوٹ کر لیں۔ہم نے بعد میں لا ئبریری سے وہ کتاب لے کر حوالہ دیکھا تو بالکل وہی تھا۔نظر کی کمزوری کی وجہ سے بعض اوقات حدیث کی کتا ب آپ کے سامنے نہ ہوتی ،آپ وہ سبق اسی طرح پڑھاتے جس طرح کہ کتاب  سے پڑھا رہے ہوں۔   
== علامہ اقبال کی صدارت میں خطاب ==
امام کاظمی نے ایک دفعہ بتایا کہ میں جامعہ نعمانیہ لاہور میں پڑھاتا تھا۔1931ء میں بیرون موچی دروازہ لاہو رمیں جلسہ میلادالنبی تھا ،علامہ محمد اقبال کی صدارت تھی اور میری تقریر تھی۔
 
میں نے آپؐ کے نا م ’’محمد‘‘ کی فضیلت پر اڑھائی گھنٹے خطا ب کیا۔ اس دوران جب نظر گھما کر دیکھا تو [[محمد اقبال لاہوری|علامہ محمد اقبال]] کی آنکھو ں سے اشک جاری تھے۔ 


4 جون 1986ءبمطابق 25 [[رمضان|رمضان المبارک]] بروز بدھ 1406ء انکا انتقال ہوا۔ عوام کی بہت بڑی تعداد نے ان کی نماز جنازہ سپورٹس گراؤنڈ ملتان میں ادا کی اور انھیں شاہی مسجد عیدگاہ کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ 
خطاب سے فارغ ہو کر  میںپیچھے ہٹا تو علامہ اقبال کرسیِ صدارت سے اٹھے اور مجھے سینے سے لگا کر میرا ماتھا چوما اور فرمایا: نوجوان! تم نے تو میر ا ایمان تازہ کر دیا ہے<ref>[https://www.nawaiwaqt.com.pk/13-May-2022/1546712  علامہ سید احمد سعید کاظمی]-شائع شدہ از: 13 م‏ئی 2022ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 20 مئی 2026ء</ref>۔
 
== تبلیغی سرگرمیاں ==
== تبلیغی سرگرمیاں ==
معروف عالم دین، مفسر قرآن اور عظیم محدث علامہ سید احمد سعید کاظمی رحمۃ اللہ علیہ کی دینی علمی و تحقیقی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔آپ ترویج و تبلیغ دین کے ساتھ ساتھ عالمی اور ملکی سیاست پر گہری نظر رکھتے تھے اور شریعت و طریقت کے جامع ،علمی و عملی کمالات و محاسن سے مالا مال تھے۔  
معروف عالم دین، مفسر قرآن اور عظیم محدث علامہ سید احمد سعید کاظمی رحمۃ اللہ علیہ کی دینی علمی و تحقیقی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔آپ ترویج و تبلیغ دین کے ساتھ ساتھ عالمی اور ملکی سیاست پر گہری نظر رکھتے تھے اور شریعت و طریقت کے جامع ،علمی و عملی کمالات و محاسن سے مالا مال تھے۔  
سطر 109: سطر 172:


علامہ کاظمی رحمۃ اللہ علیہ نے ہمیشہ وجوہ اختلاف کو دور کرنے کی کوشش کی ہمیں ان کے مشن کو آگے بڑھانے کے لیے امت مسلمہ کی وحدت و اتحاد اور صحیح العقیدہ افراد کو منظم کرنے کے لیے علامہ کاظمی رحمۃ اللہ علیہ کی تقلید کرنا ہوگی۔ جمعیت علمائے پاکستان اور جماعت اہلسنت کے بانی حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی کے سالانہ عرس کی تقریبات چند روز بعد آستانہ عالیہ سعیدیہ کاظمیہ شاہی عید گاہ خانیوال روڈ ملتان میںشروع ہورہی ہیں۔
علامہ کاظمی رحمۃ اللہ علیہ نے ہمیشہ وجوہ اختلاف کو دور کرنے کی کوشش کی ہمیں ان کے مشن کو آگے بڑھانے کے لیے امت مسلمہ کی وحدت و اتحاد اور صحیح العقیدہ افراد کو منظم کرنے کے لیے علامہ کاظمی رحمۃ اللہ علیہ کی تقلید کرنا ہوگی۔ جمعیت علمائے پاکستان اور جماعت اہلسنت کے بانی حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی کے سالانہ عرس کی تقریبات چند روز بعد آستانہ عالیہ سعیدیہ کاظمیہ شاہی عید گاہ خانیوال روڈ ملتان میںشروع ہورہی ہیں۔
== وفات ==
4 جون 1986ءبمطابق 25 [[رمضان|رمضان المبارک]] بروز بدھ 1406ء انکا انتقال ہوا۔ عوام کی بہت بڑی تعداد نے ان کی نماز جنازہ سپورٹس گراؤنڈ ملتان میں ادا کی اور انھیں شاہی مسجد عیدگاہ کے پہلو میں دفن کیا گیا۔
== حوالہ جات==
{{حوالہ جات}}
{{پاکستان}}
{{پاکستانی علماء}}
[[زمرہ:شخصیات]]
[[زمرہ:پاکستان]]

حالیہ نسخہ بمطابق 16:32، 21 اگست 2026ء

سید احمد سعید کاظمی
پورا نامسید احمد سعید کاظمی
دوسرے نامعلامہ سعید کاظمی
ذاتی معلومات
پیدائش1913ء
یوم پیدائش13مارچ
پیدائش کی جگہمحلہ کٹکوئی شہر امروہہ (یوپی)
وفات1986ء
یوم وفات4 جون
وفات کی جگہملتان پاکستان
مذہباسلام دیوبندی، سنی
مناصبجمیعت علمائے پاکستان، تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان،دعوت اسلامی ، جماعت اہل سنت پاکستان جیسی تحریکوں کے بانی

سید احمد سعید کاظمی، (13 مارچ (1913ء تا 4 جون 1986ء) ایک متبحر عالم دین تھے۔ انہوں نے تحریک پاکستان میں حصہ لیا اور جمیعت علمائے پاکستان، تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان،دعوت اسلامی اور جماعت اہل سنت پاکستان جیسی تحریکوں کے بانی تھے۔ آپ کی یادگار ادارہ جامعہ اسلامیہ عربیہ انوار العلوم ملتان ہے۔ آپ گیارہ سال اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں شیخ الحدیث کے عہدہ پر متمکن رہے۔آپ کی اھل سنت کے لیے گراں قدر خدمات ہیں۔

نام ونسب

اسم گرامی: سید احمد سعید۔ کنیت: ابوالنجم۔ لقب: غزالیِ زماں، رازی دوراں، امام اہلسنت۔ آپ کا سلسلہ نسب 44 واسطوں سے سرورعالم تک پہنچتا ہے [1]۔

آپ رحمتہ اللہ علیہ حضرت امام سید موسیٰ کاظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد پاک سے ہیں, اس لئے’’کاظمی‘‘کہلاتے ہیں[2]۔

تاریخِ ولادت

آپ کی ولادت باسعادت بروزجمعرات 4؍ربیع الثانی 1331ھ ,مطابق 13؍مارچ 1913ء, بوقت صبح چار بجے, محلہ کٹکوئی شہر امروہہ (یوپی) میں ہوئی۔ سید احمد سعید کاظمی امروہہ بھارت میں جمعرات، 13 مارچ 1913 (04 ربیع الثانی 1331 ہجری کو پیدا ہوئے۔ احمد سعید ابھی بچے تھے۔

جب ان کے والد سید محمد مختار احمد شاہ کاظمی انتقال کر گئے۔ انکا نسب 35 پشتوں سے سیدنا امام موسی کاظم سے اور 42 پشتوں سے سیدنا علی علیہ السلام سے جا ملتا ہے۔ سیدنا امام موسی کاظم سے نسبت کی بنا پر انھیں کاظمی کہا جاتا ہے۔

غزالیِ زماں, رازی دوراں کی وجہ تسمیہ

سیدالمفسرین, رئیس المحدثین, وحید العصر, قدوۃ العلما حضرت علامہ و مولانا مفتی ابوالمحامد سید محمد اشرفی جیلانی کچھوچھوی المعروف محدث اعظم ہندعلیہ الرحمہ نے کثیر علمائے کرام ودانشوران کی موجودگی, اور جسمیں عوام کا بھی ایک جم غفیر موجودتھا, میں’’غزالیِ زماں, رازیِ دوراں‘‘کا خطاب عطا فرمایا۔

علماء کرام اور عوام نے فلگ شگاف نعروں کےساتھ حضرت محدث اعظم ہند علیہ الرحمہ کے قول کی تصدیق کی, اس وقت سے آج تک یہ لقب حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی علیہ الرحمہ کا عرف قرار پایا [3]۔

تحصیلِ علم

آپ ایک علمی خاندان کے روشن چراغ ہیں۔ آپ کا خاندان علم وفضل, زہد وتقویٰ میں پورے ہندوستان میں معروف تھا۔ بچپن میں والد گرامی کا سایۂ عاطفت سر سے اٹھ گیا۔ تمام تر تعلیم وتربیت اپنے برادر بزرگ, محدث جلیل حضرت علامہ مولانا سید محمد خلیل محدث امروہوی (علیہ الرحمہ) سے حاصل کی۔

آپ نے 16سال کی عمر میں 1348ھ مطابق 1929ء میں مدرسہ محمدیہ حنفیہ امروہہ سے سند فراغت حاصل کی۔

بیعت وخلافت

اپنے برادر بزرگ, محدثِ شہیر, عالمِ کبیر, استاذ العلما حضرت مولانا سید محمد خلیل چشتی صابری محدث امروہوی علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ میں بیعت ہوئے, اور خلافت سے مشرف کئے گئے[4]۔

تعلیم

ان کے والد کا 39 سال کی عمر میں اس وقت انتقال ہو گیا جب احمد سعید کاظمی صرف چھ سال کے تھے اس طرح ان کے سب سے بڑے بھائی محمد خلیل کاظمی نے اسے پالا۔

چونکہ ان کے خاندان کے تمام افراد اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے لہذا انھوں نے اپنی والدہ سے بنیادی تعلیم حاصل ک۔ بعد میں ان کے چچا نے انھیں حدیث کی سند اور تصوف کی تعلیم دی۔ وہ بہت ہی ابتدائی عمر میں اپنے علم کی وجہ سے معروف ہو گئے۔

علمی و دینی خدمات

اوائل 1935 میں وہ ملتان کی طرف ہجرت کر گئے۔ ملتان میں ،انھوں نے اپنے ہی گھر میں تدریس کا آغاز کیا۔ نومبر 1935 سے انھوں نے 18 سال تک لوہاری دروازے کے باہر مسجد حافظ فتح شیر، میں خطبہ دیا۔

سید سعید کاظمی نے حضرت چپ شاہ کی مسجد میں حدیث کا درس بخاری شریف کے بعد تکمیل مشکوۃ شریف شروع کیا۔ یہاں وہ جلد ہی اپنے علم کی وجہ سے عوام و خواص میں مشہور ہو گئے۔

جماعت اہلسنت، جمعیت علمائے پاکستان اور دعوت اسلامی کو قائم کرنے ان کا خاص کردار ہے۔ انھوں نے بہاولپور اسلامیہ یونیورسٹی میں ایک طویل مدت تک بحیثیت شیخ الحدیث تدریسی فرائض سر انجام دیے۔

قابل قدر خدمات

حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی کی ذات بابرکات علمی روحانی کمالات میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ ان کا ظاہر و باطن ایک سا تھا ۔ آپؒ کی ولادت 1332ھ بمطابق 1913ء کو امروہہ کے ایک علمی گھرانے میں ہوئی۔

آپ کے والد ماجد علامہ سید محمد مختار کاظمی اپنے وقت کے نامور علماء میں شمار ہوتے تھے۔ آپؒ کا سلسلہ نسب حضرت سیدنا امام موسیٰ کاظمؒ سے جا ملتا ہے چنانچہ اسی نسبت سے آپؒ کاظمی کہلاتے ہیں[5]۔

ابھی چند برس کے تھے کہ آپؒ کے والد گرامی دنیافانی سے پردہ فرما گئے۔ والد محترم کے وصال کے بعد آپ کے برادر اکبر علامہ سید محمد خلیل کاظمی محدث امروہی نے آپ کی تعلیم وتربیت کی ذمہ داری نبھائی۔

اس وقت کے جید علماء میں آپ نہایت ممتاز مقام کے حامل تھے اور ان دنو ں شاہ جہانپور کے مدرسہ جامعہ بحرالعلوم میں درس و تدریس فرما رہے تھے جس وجہ سے حضرت سیداحمد سعید کاظمیؒ کو حصول تعلیم میں کوئی دشواری درپیش نہ ہوئی اور صرف 16 برس کی قلیل مدت و عمر میں علوم و فنون سے فراغت حاصل کرکے سند حاصل کی۔

حضرت سید شاہ حسین اشرفی کچھوچھویؒ نے ایک پروقار تقریب میں صدر الافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی، علامہ نثار احمد کانپوری،ؒ جیسی جید علمی شخصیات کی موجودگی میں دستار بندی فرمائی۔ تعلیم سے فارغ ہو کر آپؒ 1929ء میں لاہور تشریف لائے۔ یہاں علامہ سید دیدار علی شاہ اور علامہ سید احمد ابوالبرکات ؒ جیسی عظیم اکابر ہستیوں کی صحبت آپؒ کو میسر آئی۔

ایک دن آپؒ لاہور کی تاریخی و قدیم درسگاہ جامعہ نعمانیہ دیکھنے گئے۔ وہاں علامہ حافظ محمد جمالؒ مسلم الثبوت کادرس دے رہے تھے۔ آپؒ درس میں بیٹھ گئے۔ جب آخر میں طلبہ سے سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا تو آپؒ نے بھی اس میں حصہ لیا۔ آپؒ کی دینی قابلیت اور ذہانت نے حافظ محمد جمال ؒکو اس قدر متاثر کیا کہ بعد میں انہوں نے تفصیلی گفتگو کر کے آپؒ کو جامعہ نعمانیہ میں مدرس کے عہدے کی پیشکش کی جسے آپؒ نے بخوشی قبول فرما لیا۔

آپؒ کا مسند تدریس پر رونق افروز ہونے اور علمی جاہ و جلال کا جلد ہی دور دور تک چرچا ہونے لگا اور عاشقان علم گروہ در گروہ یہاں آنے لگے۔ پھر وطن کی یاد نے آپؒ کو ستایا تو آپؒ آبائی علاقہ امروہہ چلے گئے اور وہیں مدرسہ محمدیہ حنفیہ میں درس وتدریس شروع فرما دی۔ تقریبا ً 4 برس بعد آپؒ اوکاڑہ کے حکیم جان عالم کے بے حد اصرار پر اوکاڑہ تشریف لے آئے۔ یہاں ایک سال درس وتدریس اور اشاعت اسلام میں مشغول رہے۔

ایک روز حضرت خواجہ غریب نواز ؒکے عرس پاک کے تقریبات میں شرکت کے لئے آپؒ ملتان حاضر ہوئے۔ یہاں آپؒ نے جو سحر انگیز خطاب فرمایا تو حاضرین کے دل نور معرفت سے جگمگا نے لگے، پھر خطاب سے متاثر ہو کر ملتان کے اکابر علماء و مشائخ نے آپؒ کو ملتان میں سکونت اختیار کرنے کی دعوت دی اور آپؒ نے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ملتان کو اپنا مسکن بنا لیا۔ یہاں اپنے گھر پر ہی درس و تدریس شروع کر دی۔

دور دراز سے لوگ حصول علم کی خاطر آنے لگے تو جگہ تنگ ہونے لگی۔ 1935ء میں ملتان میں آپؒ نے ایک عظیم الشان درسگاہ جامعہ انوارالعلوم کے نام سے قائم فرمائی اور تاحیات یہیں سے علم و فن کے گوہر لٹاتے رہے۔ آپؒ تحریک پاکستان کے موقع پر بھی علماء و مشائخ کے ہر اول دستہ میں شامل رہے۔ آپؒ نے اکابر علماء ومشائخ کی رفاقت میں قیام پاکستان کے لئے بھرپور سعی کی اور جگہ جگہ جلسے جلوس اور تحریر و تقریر کے ذریعہ قیام پاکستان کی راہ ہموار کی۔

آپؒ نے قرارداد پاکستان کی تجوید و توثیق کے لئے علماء ومشائخ کے ساتھ بنارس میں ہونے والی آل انڈیا سنی کانفرنس میں بھی شرکت کی۔ قیام پاکستان کے بعد آپؒ نے تحریک ختم نبوت میں بھی بھرپور حصہ لیا۔ آپؒ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی کی عظیم شخصیت اور ان کی تعلیمات سے بے حد متاثر تھے جس کا اثر آپؒ کی پوری زندگی پر محیط ہے۔ آپؒ کے علمی کارناموں میں سے ایک بڑا کارنامہ قرآن پاک کا اردو ترجمہ ہے جو کہ البیان کے نام سے معروف عام ہے۔ آپؒ کا وصال مبارک 25رمضا ن المبارک 1986ء کو ہوا[6]۔

سیاسی خدمات

اس دور میں برصغیر کے مسلمان اپنی آزادی کا مطالبہ کر رہے تھے اور ان کی بڑی پارٹی مسلم لیگ تھی۔ آپ نے آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کر لی۔ وہ مسلم لیگ کے منشور سے متاثر ہونے کی وجہ اس میں شامل ہوئے تھے۔

جنوبی پنجاب کے علاقے میں انھوں نے مسلمانوں کے درمیان میں سیاسی شعور پھیلانے اور مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے ان کو متحرک کرنے کے لیے کام کیا۔ ان کی قائد اعظم محمد علی سے کوئی ملاقات نہ ہوئی البتہ ان سے خط کتابت تھی۔

تصانیف

  • میلاد النبی
  • توحید اور شرک
  • گستاخ رسول کی سزا۔
  • شادی اور اولاد

انھوں نے دو نکاح کیے۔ پہلی زوجہ شادی کے بعد نو سال تک حیات رہیں۔ ان کے انتقال کے بعد ان کی بہن سے علامہ کاظمی نے نکاح کیا۔

آپ کے صاحبزادگان ہیں:

  • مظہر سعید کاظمی
  • سجاد سعید کاظمی
  • طاہر سعید کاظمی
  • حامد سعید کاظمی
  • ارشد سعید کاظمی
  • راشد سعید کاظمی

طلباء سے محبت کا انداز

درجہ حدیث میں ہما رے ساتھ ایک حافظ صاحب تھے جو آنکھوں سے نابینا تھے ان کا نام غا لباََ ’’حبیب اللہ‘‘ تھا۔ حضرت امام اہل سنت مدرسہ انوار العلوم میں تشریف لا کر پڑھاتے تھے۔

جب طبیعت زیادہ ناساز ہوتی تو آپ طلبا کو گھر پرہی طلب فرمالیتے۔ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ حافظ حبیب اللہ کو کسی نے بتایا کہ آپ آج گھر پرہی پڑھائیں گے۔ یہ رکشے پر بیٹھے اور گھر پہنچے، وہاں سے کسی نے کہہ دیا کہ حضرت مدرسہ میں پڑھائیں گے۔

یہ مدرسہ میں آگئے، مدرسہ سے پھر پتا چلا کہ نہیں! گھر پر ہی پڑھائیں گے۔ یہ رکشہ پر بیٹھ کرپھر گھر پہنچ گئے۔دارالعلوم سے آپ کے گھر کا فاصلہ تقر یباََ دو کلومیٹر کا ہے۔

اس طرح چکر لگاتے ہوئے دیر ہو گئی اور پہلا سبق جو ’’ صحیح بخاری‘‘ کا تھا اس میں شریک نہ ہو سکے۔ دوسر ے سبق یعنی ’’ جامع ترمذی ‘‘میں شامل ہوئے اور کہنے لگے حضرت میں چونکہ نا بینا ہوں مجھے آنے جانے میں تکلیف بھی ہوئی اور میرے بارہ روپے بھی خرچ ہو گئے ہیں۔

آپ فرما دیا کریں کہ سبق کہاں پڑھائیں گے۔ حافظ صاحب کی یہ بات سن کر آپ نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور دس دس روپے کے چارنوٹ نکال کر حافظ صاحب کو دیئے اور تکلیف پر معذرت بھی فرمانے لگے۔

امانت و دیانت کی مثال

ایک بار دور انِ کلاس آپ نے ’’اللہ دتہ‘‘ خادم سے فرمایا ’’خط والالفا فہ لے کرآو‘‘ وہ گئے اور مدرسہ کے دفتر سے لفافہ لے آئے۔ آپ نے پوچھا’’ کہاں سے لا ئے ہو؟ ‘‘ خادم نے عرض کیا کہ دفتر سے لایا ہوں۔

آپ نے فرمایا:’’دفترسے کیوں لائے ہو؟ خط تو میں نے ذاتی لکھنا ہے، مدرسہ کے لئے تو نہیں لکھنا‘‘۔چنانچہ آپ نے جیب سے پیسے نکال کر دیے کہ جا کر دکان سے خط والا لفا فہ خرید لاؤ ، اور آپ نے وہ لفافہ استعمال کیا۔

قوتِ حافظہ

آپ کو اللہ تعالیٰ نے بڑاذہن اور طاقت ور حافظہ عطا فرمایا تھا۔ایک بار ایک حدیث کا حوالہ دیا جلد نمبر، صفحہ نمبر اور کتاب کی طباعت کا سن اور مطبع کا نام بتا کر فرمایا حدیث کی یہ کتاب میں نے آج سے30 سال پہلے پڑھائی تھی۔

اْس کے بعد مجھے دوبارہ پڑھانے کا موقع نہیں ملا ،آپ بہرحال حوالہ نوٹ کر لیں۔ہم نے بعد میں لا ئبریری سے وہ کتاب لے کر حوالہ دیکھا تو بالکل وہی تھا۔نظر کی کمزوری کی وجہ سے بعض اوقات حدیث کی کتا ب آپ کے سامنے نہ ہوتی ،آپ وہ سبق اسی طرح پڑھاتے جس طرح کہ کتاب سے پڑھا رہے ہوں۔

علامہ اقبال کی صدارت میں خطاب

امام کاظمی نے ایک دفعہ بتایا کہ میں جامعہ نعمانیہ لاہور میں پڑھاتا تھا۔1931ء میں بیرون موچی دروازہ لاہو رمیں جلسہ میلادالنبی تھا ،علامہ محمد اقبال کی صدارت تھی اور میری تقریر تھی۔

میں نے آپؐ کے نا م ’’محمد‘‘ کی فضیلت پر اڑھائی گھنٹے خطا ب کیا۔ اس دوران جب نظر گھما کر دیکھا تو علامہ محمد اقبال کی آنکھو ں سے اشک جاری تھے۔

خطاب سے فارغ ہو کر میںپیچھے ہٹا تو علامہ اقبال کرسیِ صدارت سے اٹھے اور مجھے سینے سے لگا کر میرا ماتھا چوما اور فرمایا: نوجوان! تم نے تو میر ا ایمان تازہ کر دیا ہے[7]۔

تبلیغی سرگرمیاں

معروف عالم دین، مفسر قرآن اور عظیم محدث علامہ سید احمد سعید کاظمی رحمۃ اللہ علیہ کی دینی علمی و تحقیقی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔آپ ترویج و تبلیغ دین کے ساتھ ساتھ عالمی اور ملکی سیاست پر گہری نظر رکھتے تھے اور شریعت و طریقت کے جامع ،علمی و عملی کمالات و محاسن سے مالا مال تھے۔

صبر و قناعت کا پیکر اور فرمان رسالت ”الفقر فخری“ کا مظہر اتم اور مسلک اہلسنت کے پاسبان تھے ، جن سے ملت اسلامیہ کے دین و ایمان کی کھیتی سرسبز و شاداب تھی۔ اپنے تو خراج عقیدت و محبت پیش کرتے ہی ہیں، اغیار کو بھی آپ کے علوم و فنون میں دسترس تامہ کا اعتراف کرنا پڑتا تھا، ہر ایک علم میں بالخصوص علم حدیث میں آپ کو انتہا درجے کا کمال حاصل تھا۔

اس کا اندازہ آپ کے درس حدیث میں شامل افراد کے خیالات و مشاہدات سے کیاجاسکتا ہے کہ جب عشق و محبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے سرشار ہوکر درس حدیث کے لیے اپنی مسند پر رونق افروز ہوتے تو وقت کے جلیل القدر علماءو مشائخ کسب فیض کے لیے اس بحر بے کراں کے سامنے زانوے تلمذتہ کرنے کو سعادت اور آپ کی صحبت میں گذرے ہوئے چند لمحات کو سرمایہ افتخار سمجھتے۔

لوگ دوردراز سے اپنی علمی پیاس بجھانے اور روحانی تشنگی دور کرنے کے لیے حاضر ہوتے اور اس مرد حق آگاہ کی طرف سے رشد و ہدایت کے لعل و گوہر اور علم و عرفان کے لٹائے جانے والے انمول موتی جمع کرنے میں ہر وقت مصروف رہتے۔

عام و خاص افراد آپ کے حلقہ درس میں شرکت کے لیے ایسے بیتاب و قرار نظر آتے جیسے پیاسا کنویں کی طرف جانے کے لیے۔ درس و تدریس کی اہم ذمہ داری اور گوں نا گوں قومی و ملی خدمات سر انجام دینے کے ساتھ ساتھ آپ نے کتب و رسائل کی صورت میں بھی کثیر تعداد میں گوہر ہائے گراں مایہ صفحہ ہائے قرطاس پر بکھیرے جو آپ کے قرآن و حدیث فقیہ وتفسیر سیرو مناقب اور سلوک وتصوف میں گہرے مطالعہ کا نتیجہ اور آپ کی جلالت علمی کی روشن دلیل ہیں۔

آپ مراد آباد کے مضافاتی شہر امروہہ کے محلہ کٹکوئی کے ایک عالی نسب سید گھرانے کے سربراہ حضرت علامہ سیدمحمد مختار احمد شاہ صاحب کاظمی رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں 4ربیع الثانی 1331ھ پیدا ہوئے۔

ایام طفولیت میں ہی والد محترم کا سایہ سر سے اٹھ گیا تھا۔یہ سید گھرانہ اپنے علاقے میں اپنی شرافت و نجابت‘ فضل و کمال‘ علم و عرفان اور زہد و تقویٰ کی بنا پر غیر معمولی شہرت، عزت و توقیر کاحامل تھا۔ اس خاندان کا سلسلۂ نسب حضرت امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ سمیت 42 واسطوں سے ہوتا ہوا سیدنا حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم سے جاملتا ہے۔

اخلاقی خصوصیات

والد گرامی کی وفات کے بعدآپ کے پیرو مرشد اور برادر اکبر محدث زماں حضرت سید محمد خلیل کاظمی رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو اپنی آغوش تربیت میں لے لیا۔ چونکہ آپ کا گھرانہ علم و عمل کا گہوارہ تھا اور بچپن سے ہی آپ کی پیشانی سے آثار سعادت و کمال نمایاں تھے۔

اس لیے آپ نے اپنی تعلیم کا آغاز تو اپنی والدہ محترمہ سے کیا جبکہ حضرت خلیل ملت نے آپ کی غیر معمولی ذہنی استعداداور روحانی صلاحیت کو سامنے رکھتے ہوئے آپ کی ایسی علمی و عملی اور ظاہری و باطنی تربیت فرمائی کہ آپ علم و عمل کے آفتاب بن کر افق عام پر نمودار ہوئے۔

جامعہ نعمانیہ میں تدریس کے دوران آپ کے ذمہ درسِ نظامی کی مشہور کتابوں (نور الانوار، قطبی، شرح جامی وغیرہ) کی تدریس مقرر کی گئی، جس سے طلبہ کا میلان آپ کی طرف بڑھنے لگا۔ یہاں تک کہ ایک وقت میں اٹھائیس اسباق کی تدریس آپ کیساتھ متعلق ہو گئی۔

حضرت قبلہ سید نفیر عالم ہر سال ملتان میں خواجہ غریب نواز سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کا عرس منعقد کیا کرتے تھے، انھوں نے اس سلسلہ میں آپ کو وہاں تقریر کی دعوت دی

اور جب حضرت نفیر عالم نے آپ کی تقریر سنی تو دل وجان سے فدا ہو گئے اور تب سے ان کا پیہم اصرار رہا کہ آپ ملتان آ جائیں اور اہلیانِ ملتان کو مستفیض کریں۔ بالآخر 1935 ءکے اوائل میں آپ ملتان تشریف لے آئے۔

درس قرآن کریم

ملتان آنے کے بعد آپ نے اپنے رہائشی مکان میں ہی درس و تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا۔ متلاشیانِ حق اور تشنگانِ علم دور دور سے آ کر آپ کے چشمہ فیض سے سیراب ہوتے رہے۔ نومبر 1935 ءمیں آپ نے مسجد حافظ فتح شیر بیرون لوہاری دروازہ میں قرآن مجید کا درس شروع کیا۔

بعض بد بختوں نے اس درس کو ناکام کرنا چاہا چنانچہ علاقہ کے تمام مخالف علماءدرس میں شرکت کرتے اور دورانِ درس مختلف قسم کے اعتراض کیا کرتے تھے۔ مگراللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ ہمیشہ ناکام رہے۔

حضرت نے اٹھارہ سال کے طویل عرصہ کے بعد یہاں درسِ قرآن مکمل کیا۔ اسی اثناءمیں آپ نے عشاءکے بعد حضرت چپ شاہ صاحب کی مسجد میں درسِ حدیث شروع کیا اور پہلے مشکوٰة اور اس کے بعد بخاری شریف کا درس مکمل کیا۔

تحریک ختم نبوت میں بھر پور حصہ

زندگی بھر تحریک ختم نبوت میں بھر پور حصہ لیا۔ پاکستان بن جانے کے بعد آپ رحمۃ اللہ علیہ جمعیت کے ناظم اعلیٰ اور مسلم لیگ کے صوبائی کونسل کے رکن کی حیثیت سے قاضی مرید احمد صاحبزادہ سید محمود شاہ گجراتی‘ خواجہ عبد الحکیم صدیقی‘ محمد اسلام الدین کو ساتھ لے کر 17 جولائی بروز جمعرات 1952 ءکو قرارداد لکھی،

جس میں دوسرے مطالبات کے علاوہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ شامل تھا چنانچہ مسلم لیگ صوبائی کونسل کے اجلاس مورخہ 27 جولائی بروز سوموار 1952 ءکو یہ قرارداد آٹھ کے مقابلے میں دو سو چوراسی (284 ) ووٹوں کی اکثریت سے منظور ہو گئی۔

اس طرح قادیانیوں کے خلاف تحریک کے بانی آپ رحمۃ اللہ علیہ قرار پائے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ صوم و صلوٰة کے اس قدر پابند تھے کہ ڈاکٹروں کے مشورے کے باوجودآپ رحمۃ اللہ علیہ نے روزے رکھے جو ان کی عمر اور صحت کے اعتبار سے قابل قضا تھا۔

لیکن تقویٰ اور طہارت اور اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ و سلم سے وابستگی ہمیشہ ان کے سامنے رہی اور اس مرد حق نے روزے کے افطار کے بعد داعی اجل کو لبیک کہا۔ علامہ سید احمد سعید کاظمی رحمۃ اللہ علیہ نے علم کا جو خزانہ اپنی تصانیف اور شاگروں کی صورت میں چھوڑا ہے وہ ہمارے لیے گراں بہا اثاثہ ہے۔

علامہ کاظمی رحمۃ اللہ علیہ نے ہمیشہ وجوہ اختلاف کو دور کرنے کی کوشش کی ہمیں ان کے مشن کو آگے بڑھانے کے لیے امت مسلمہ کی وحدت و اتحاد اور صحیح العقیدہ افراد کو منظم کرنے کے لیے علامہ کاظمی رحمۃ اللہ علیہ کی تقلید کرنا ہوگی۔ جمعیت علمائے پاکستان اور جماعت اہلسنت کے بانی حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی کے سالانہ عرس کی تقریبات چند روز بعد آستانہ عالیہ سعیدیہ کاظمیہ شاہی عید گاہ خانیوال روڈ ملتان میںشروع ہورہی ہیں۔

وفات

4 جون 1986ءبمطابق 25 رمضان المبارک بروز بدھ 1406ء انکا انتقال ہوا۔ عوام کی بہت بڑی تعداد نے ان کی نماز جنازہ سپورٹس گراؤنڈ ملتان میں ادا کی اور انھیں شاہی مسجد عیدگاہ کے پہلو میں دفن کیا گیا۔

حوالہ جات

  1. ↑ حیاتِ غزالیِ زماں
  2. ↑ امام اہلسنت شیخ الحدیث حضرت علامہ ومولانا سید احمد سعید شاہ کاظمی علیہ الرحمہ کا مختصر تعارف-شائع شدہ از:19 اپریل 2023ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 20 اگست 2026ء
  3. ↑ حیاتِ غزالیِ زماں
  4. ↑ اسیر اشرف الاولیاء محمد ساجد حسین اشرفی
  5. ↑ علامہ سید احمد سعید کاظمیؒ کی حیات بابرکات-شائع شدہ از:22 جون 2018ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 20 اگست 2026ء
  6. ↑ تحریر: صاحب زادہ ذیشان کلیم معصومی
  7. ↑ علامہ سید احمد سعید کاظمی-شائع شدہ از: 13 م‏ئی 2022ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 20 مئی 2026ء