انور علی اخوند زادہ
| انور علی اخوند زادہ | |
|---|---|
| دوسرے نام | شہید انور علی اخونزادہ |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش کی جگہ | پاکستان |
| وفات | 2002ء |
| یوم وفات | 23 نومبر |
| مذہب | اسلام، شیعہ |
| مناصب | تحریک جعفریہ پاکستان کے 1991سے لیکر1995تک مرکزی جنرل سیکرٹری |
انور علی اخوند زادہ، شہید انور علی اخونزادہ کا صدیوں سے پشاور کے کوچہ اخوند زادہ میں میں مقیم ایک معزز علمی و ادبی گھرانے سے تعلق تھا، جو کہ اپنی خاندانی شرافت و انسان دوستی کی بنا پہ آج بھی جانا اور پہچانا جاتا ہے،سات بہن بھائیوں میں آپ سب سے چھوٹے ہونے کی بنا پر بہت لاڈ اور نازو نعم سے پلے،اسی نازو نعم میں آپ کو اپنے والدین سے محبت و پیروی آل محمد علیہم السلام کی تربیت ملی، شہید انور علی اخونزادہ شہید قائد کے دیرینہ اور معتمد ساتھیوں میں سے تھے، آپ نے شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی رح کی قیادت میں قومیات میں بہت سرگرم حصہ لینا شروع کیا ، شہید قائد کی شہادت کے بعد جب قبلہ علامہ سید ساجد علی نقوی تحریک جعفریہ پاکستان کے سربراہ بنے تو ان کے ہمراہ بھی آخر روز تک سرگرمِ عمل رہے، آپ تحریک جعفریہ پاکستان کے 1991سے لیکر1995تک مرکزی جنرل سیکرٹری رہے۔
خاندان
آپ کے والد اخونزادہ قمر علی خیبر پختونخواہ کے معروف عزادار، نوحہ خوان اور ذاکر تھے، شہید انور علی اخونزادہ کے بڑے بھائی اخونزادہ ممتاز علی سول سروس سے ڈپٹی کمشنر ہو کے ریٹائر ہوئے،دوسرے بڑے بھائی اخونزادہ مختار علی نیر معروف شاعر اور دانشور ہیں۔
شہید انور علی اخونزادہ کا صدیوں سے پشاور کے کوچہ اخوند زادہ میں میں مقیم ایک معزز علمی و ادبی گھرانے سے تعلق تھا، جو کہ اپنی خاندانی شرافت و انسان دوستی کی بنا پہ آج بھی جانا اور پہچانا جاتا ہے،
سات بہن بھائیوں میں آپ سب سے چھوٹے ہونے کی بنا پر بہت لاڈ اور نازو نعم سے پلے،اسی نازو نعم میں آپ کو اپنے والدین سے محبت و پیروی آل محمد علیہم السلام کی تربیت ملی، آپ کے والد اخونزادہ قمر علی خیبر پختونخواہ کے معروف عزادار، نوحہ خوان اور ذاکر تھے، شہید انور علی اخونزادہ کے بڑے بھائی اخونزادہ ممتاز علی سول سروس سے ڈپٹی کمشنر ہو کے ریٹائر ہوئے،
دوسرے بڑے بھائی اخونزادہ مختار علی نیر معروف شاعر اور دانشور ہیں، شہید انور علی اخونزادہ شہید قائد کے دیرینہ اور معتمد ساتھیوں میں سے تھے، آپ نے شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی رح کی قیادت میں قومیات میں بہت سرگرم حصہ لینا شروع کیا۔
سیاسی سرگرمیاں
شہید قائد کی شہادت کے بعد جب قبلہ علامہ سید ساجد علی نقوی تحریک جعفریہ پاکستان کے سربراہ بنے تو ان کے ہمراہ بھی آخر روز تک سرگرمِ عمل رہے، آپ تحریک جعفریہ پاکستان کے 1991سے لیکر1995تک مرکزی جنرل سیکرٹری رہے،
آپ نے 1999 کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی نشست پر انتخابات میں بھی حصہ لیا۔شیعہ علما کونسل کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے تحریک کے سابق مرکزی سیکریٹری جنرل انور علی اخونزادہ کی 20 ویں برسی کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ
انور علی اخونزادہ کی شہادت ایک بہت بڑا سانحہ تھی جسے کسی صورت فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ایسے معتدل مزاج‘ مخلص اور محب وطن رہنما کا خون ناحق ارباب اقتدار کی گردنوں پر قرض ہے ۔
الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی مغفرت کے لئے خصوصی دعا کرتے ہوئے کہا کہ دور حاضر میں اسلامیان پاکستان کو اتحاد و وحدت کی جس قدر ضرورت ہے اس سے پہلے کبھی نہ تھی لہذا ہمیں باہمی اتحاد اور داخلی وحدت کو قائم رکھنے کے لئے اہم اقدامات کرنے ہوں گے ۔کیونکہ ملک کی موجودہ داخلی صورت حال انتہائی گھمبیر اور تشویشناک ہے۔
شہادت
23نو مبر کا دن تحریک جعفریہ پاکستان کے مرکزی رہنما شہید انور علی اخونزادہ ایڈووکیٹ کا یوم شہادت ہے شہید انور علی اخونزادہ ایڈووکیٹ کی شہادت ایک بہت بڑا سانحہ تھی جسے کسی صورت فراموش نہیں کیا جاسکتا آج سے بیس برس قبل 23 نومبر 2000تحریک جعفریہ پاکستان کے مرکزی رہنما شہید انور علی اخونزادہ ایڈووکیٹ کو پشاور کے کوہاٹی کے علاقے میں تکفیری دہشت گردوں نے گولیاں مار کر شہید کر دیا تھا۔
بعد ازاں نومبر 2004 پشاور میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے کالعدم لشکر جھنگوی کے مبینہ رکن شکیل کو انور علی اخونزادہ کے قتل کے مقدمے میں عمر قید کی سزا تھی عدالت کے جج نے اپنے فیصلہ سناتے ہوئے کالعدم لشکر جھنگوی کے مبینہ رکن شکیل کو اعتراف جرم کرنے کے بعد عمر قید کے علاوہ دو لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی [1] ۔
شہید انور علی اخونزادہ کی شہادت ایک بہت بڑا سانحہ تھی جسے کسی صورت فراموش نہیں کیا جاسکتا
پاکستان کو اتحاد و وحدت کی جس قدر ضرورت ہے اس سے پہلے کبھی نہ تھی،ہمیں باہمی اتحاد اور داخلی وحدت کو قائم رکھنے کیلئے اہم اقدامات کرنے ہونگے۔
راولپنڈی/اسلام آباد 22 نومبر 2020 ء( جعفریہ پریس پاکستان) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے تحریک کے سابق مرکزی سیکریٹری جنرل انور علی اخونزادہ کی 24 ویں برسی کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ انور علی اخونزادہ کی شہادت ایک بہت بڑا سانحہ تھی
جسے کسی صورت فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ایسے معتدل مزاج‘ مخلص اور محب وطن رہنما کا خون ناحق ارباب اقتدار کی گردنوں پر قرض ہے ۔علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ مکتب تشیع کی پوری تاریخ قربانیوں سے عبارت ہے
اور ارض پاک کی داخلی سلامتی اور وحدت کی خاطر بھی خاص طور پر کئی دہائیوں سے جانوں کے نذرانے پیش کئے گئے لہذا ان شہداءکے محبت کرنے والوں کو چاہیے کہ وطن عزیز کی وحدت و استحکام کے لئے ملک میں محروم و مظلوم طبقات کو درپیش مسائل کے حل ، انتہا پسندی اورفرقہ واریت کے خاتمے اورمعاشرتی مسائل کے حل کے لیے جدوجہد کریں۔
اس کے علاوہ پاکستان کو درپیش سب سے بڑے بحران یعنی انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے مکمل عزم اور جذبے کے ساتھ آگے بڑھتے رہیں چاہے اس راستے میں شہادت ہی کیوں نہ ہماری منزل قرار پائے۔قائد ملت جعفریہ پاکستان نے انور علی اخونزادہ کی قومی و ملی خدمات کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے
ان کی مغفرت کے لئے خصوصی دعا کرتے ہوئے کہا کہ دور حاضر میں اسلامیان پاکستان کو اتحاد و وحدت کی جس قدر ضرورت ہے اس سے پہلے کبھی نہ تھی لہذا ہمیں باہمی اتحاد اور داخلی وحدت کو قائم رکھنے کے لئے اہم اقدامات کرنے ہوں گے ۔کیونکہ ملک کی موجودہ داخلی صورت حال انتہائی گھمبیر اور تشویشناک ہے[2]۔
ملی پلیٹ فارم کے بانی رہنماؤں کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد نقوی

ملی پلیٹ فارم کی تاسیس و تشکیل میں سید وزارت نقوی ایڈووکیٹ کا اساسی رول رہا۔ انور اخونزادہ جیسے معتدل مزاج، مخلص اور محب وطن رہنما کی خدمات ناقابل فراموش ہیں، علامہ ساجد نقوی۔ مرحوم رہنماؤں کی ملی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے لواحقین، پسماندگان اور عقیدت مندوں سے تسلیت اور مرحومین کے علوِ درجات کی دعا کی۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے ملی پلیٹ فارم کے بانی رکن اور جنرل سیکرٹری سید وزارت حسین نقوی ایڈووکیٹ (گولڈ میڈلسٹ تحریک پاکستان) کی 9ویں اور تحریک کے مرکزی سیکریٹری جنرل انور علی اخونزادہ کی 25ویں برسی پر اپنے پیغام میں کہا
کہ سید وزارت نقوی نہ صرف تحریکِ پاکستان کے ممتاز رہنما اور گولڈ میڈلسٹ کی حیثیت سے جانے پہچانے جاتے تھے بلکہ وہ ممتاز قانون دان، سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیت کے طور پر بھی معروف تھے اور ہر مکتبہ فکر میں احترام اور قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔
اسی طرح انور علی اخونزادہ جیسے معتدل مزاج، مخلص اور متحرک رہنما کی شہادت ایک بہت بڑا سانحہ تھا جسے کسی صورت فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ ملی پلیٹ فارم کی تاسیس و تشکیل میں مرحوم کا اساسی رول ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، ملی امور میں ان کی سرگرم شرکت و خدمات لائقِ تحسین و قدردانی ہیں۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد نقوی کے مطابق سید وزارت نقوی مرحوم نے قائد مرحوم علامہ مفتی جعفر حسین، قائد شہید علامہ عارف الحسینی کے بعد ان کے ہمراہ بھی اپنی ملی و قومی ذمہ داریاں بطریقِ احسن انجام دیں۔
علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ ہماری پوری تاریخ قربانیوں سے عبارت ہے اور ارضِ پاک کی داخلی سلامتی اور وحدت کی خاطر بھی خاص طور پر کئی دہائیوں سے جانوں کے نذرانے پیش کئے جارہے ہیں۔
لہٰذا ان رہنماؤں کے قدردانوں کو چاہیے کہ وطن عزیز میں وحدت و استحکام کے لیے، ملک میں محروم و مظلوم طبقات کو درپیش مسائل، انتہاپسندی کے خاتمے، طبقاتی تقسیم، بدعنوانی، بے راہ روی اور معاشرتی مسائل کے حل کے لیے جدوجہد جاری رکھیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کو درپیش انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے مکمل عزم اور جذبے کے ساتھ آگے بڑھتے رہیں۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے انور علی اخونزادہ کی قومی و ملی خدمات کو زبردست الفاظ میں سراہتے ہوئے ان کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا کرتے ہوئے کہا کہ دورِ حاضر میں اسلامیانِ پاکستان کو اتحاد و وحدت کی جس قدر ضرورت ہے اس سے پہلے کبھی نہ تھی۔ لہٰذا ہمیں باہمی اتحاد کو قائم رکھنے کے لیے اہم اقدامات کرنے ہوں گے کیونکہ اس حوالے سے ملک کی موجودہ داخلی صورت حال انتہائی تشویشناک ہے[3]۔
حوالہ جات
- ↑ شہید انور علی اخونزادہ ایڈووکیٹ-اخذ شدہ بہ تاریخ: 3 جولائی 2026ء
- ↑ شہید انور علی اخونزادہ کی شہادت ایک بہت بڑا سانحہ تھی جسے کسی صورت فراموش نہیں کیا جاسکتا-شائع شدہ از: 23 نومبر 2024ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 3 جولائی 2026ء
- ↑ ملی پلیٹ فارم کے بانی رہنماؤں کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد نقوی-شائع شدہ از:22 نومبر 2025ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 3 جولائی 2026ء