اللہ وسایا
| اللہ وسایا | |
|---|---|
| پورا نام | اللہ وسایا |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 1945 ء |
| پیدائش کی جگہ | بہاولپور پاکستان |
| وفات | 1988 ء |
| اساتذہ | عبداللہ درخواستی ، نفیس الحسینی نفیس رقم |
| مذہب | اسلام، سنی |
| اثرات | عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما |
اللہ وسايا، ایک پاکستانی عالم دین اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ایک مرکزی رہنما ہیں۔
سیرت
اللہ وسایا 1945 میں بہاولپور میں ملک محمد رمضان کے ہاں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مدرسہ رفیق العلماء ، بستی فقیران سے حاصل کی۔ پھر اس نے جامعہ عباسیہ اب بہاولپور کی اسلامیہ یونیورسٹی اور جامعہ قاسم العلوم اور جامعہ مخزن العلم خانپور، رحیم یار خان سے عبداللہ درخواستی کے ماتحت جامعہ عباسیہ میں تعلیم حاصل کی۔ وہ 1968 میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سے منسلک ہو گئے۔ 1981 سے ہیڈ آفس ملتان میںعالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔
مولانا اللہ وسایا کی 12 جلدوں پر مشتمل معرکۃ الآراء کتاب احتساب ناصبیت کی اشاعت، تکفیری و ناصبی آگ بگولا
مکتبِ دیوبند سے تعلق رکھنے والےصاحب نظر اور جید عالم دین مولانا اللہ وسایا صاحب کہ جن کی ختم نبوت کے حوالے سے بھی بہت زیادہ خدمات ہیں ان دنوں تکفیریوں اور ناصبیوں کے ہاں شدید تنقید کی زد میں ہیں فقط تنقید کی زد میں نہیں انہیں،، گستاخ صحابہ،، قرار دیا جا رہا ہے یعنی،، گستاخ گستاخ ،، والے معاملے نے دیوبند کے بزرگ علماء کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے،معاملہ یہ ہے کہ انہوں نےاسلام میں ناصبیت کےرد پر 12جلدوں پہ مشتمل کتاب تالیف کی ہے جس کا نام احتساب ناصبیت ہے۔
جہاں آلِ محمدؑ کی عظمت اور مناقب کی بات آتی ہے، وہاں یہ تصویر خود ایک روشن تاریخ اور زندہ حقیقت کی گواہ ہے کہ سید سلیمان ندوی اور مولانا اسحاق مدنی جیسے عظیم اہل سنت اکابرین کا جو علمی کام باقی رہ گیا تھا، اللہ پاک نے وہ عظیم خدمت مولانا اللہ وسایا صاحب کے مبارک ہاتھوں سے مکمل کروا کر 12 عظیم الشان جلدوں کی صورت میں امت کے سامنے پیش کر دی ہے۔
سبحان اللہ !اگر آپ غور کریں تو یہ عظیم علمی کاوش کسی معجزے سے کم نہیں! آلِ رسولؑ کی محبت اور دینِ اسلام کی پاسداری کا یہ پیغام ہر سچے عاشقِ رسولؐ کے دل کو چھو لینے والا ہے۔
الله وسایا صاحب کی مرتب کردہ “ احتساب ناصبیت “ کی اشاعت کے بعد اٹھنے والے طوفانِ بدتمیزی نے یہ بات ایک دفعہ پھر ثابت کر دی ہے کہ یہ معاشرہ اخلاقیات کی انتہائی پستی میں گر چکا ہے، اور سب سے زیادہ پستی میں وہ گرے ہیں جو اپنے آپ کو بزعم خود اہل علم گردانتے ہیں،یہی کچھ اس سے قبل زاہد الراشدی صاحب کے معاملے میں دیکھنے کو ملا۔
اچھا نام کے ساتھ اپنے تئیں علامہ، مفتی اور تو اور خود ہی مولانا بھی لکھ رکھا ہے لیکن زبان اتنی غلیظ کہ پناہ بہ خدا۔اور اعتراضات اتنے بودے اور سطحی کہ حد ہی ہے۔طلقاء کو طلقاء نہ لکھا جائے گا تو کیا ان کی آزاد کردہ غلاموں کی حیثیت ختم ہو جائے گی،خاطی کو خاطی نہ کہیں تو کیا ان کی خطا ختم ہو جائے گی،باغی کو باغی نہ لکھیں تو کیا ان کی بغاوت پر پردہ پڑ جائے گا۔
الله تعالیٰ ان کی قبروں کو نور سے بھر دے جنہوں نے ناصبیت کا پردہ چاک کرنے میں اپنا حصہ ڈالا۔اور الله وسایا صاحب کو صحت والی زندگی عطا کرے تاکہ وہ ناصبیت کے ایوانوں میں اس طرح زلزلے برپا کرتے رہیں[1]۔
تعلیمی سرگرمیاں
- تحریک ختم نبوت(1934تا 2019 ، 10جلدیں مکمل )
- فراق یاران* (2006)
- تذکرہ شہیداسلام ( مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمہ اللہ)
- فتنہ قادیانیت کی نقاب کشائی
- قادیانیات کو پارلیمنٹ میں شکست
- احتساب قادیانیت 60 جلدیں
- محاسبہ قادیانیت 40 جلدیں
- تذکرہ حضرت خواجہ خان محمد
- تذکرہ حکیم العصر ( حضرت مولانا عبد المجید لدھیانوی رحمہ اللہ)
- تذکرہ مجاہدین ختم نبوت
- مصدقہ رپورٹ ( 5 جلدیں )
- آئینہ قادیانیت( یہ کتاب وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے نصاب کا حصہ ہے، ساتوے درجے میں پڑھائی جاتی یے-)
- حیات الانبیاء( 17 جلدیں )
حوالہ جات
- ↑ مولانا اللہ وسایا کی 12 جلدوں پر مشتمل معرکۃ الآراء کتاب احتساب ناصبیت کی اشاعت، تکفیری و ناصبی آگ بگولا-شائع شدہ از:2 اکتوبر 2026ء-اخذ شدہ بہ تاریخ:4 اکتوبر 2026ء