"سید بابر علی" کے نسخوں کے درمیان فرق
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| سطر 1: | سطر 1: | ||
{{Infobox person | |||
| title = | |||
| image = سید بابر علی.jpg | |||
| name = سید بابر علی | |||
| other names = | |||
| brith year=1926 ء | |||
| brith date =30 جون | |||
| birth place = لاہور [[پاکستان]] | |||
| death year = | |||
| death date = | |||
| death place = | |||
| teachers = | |||
| students = | |||
| religion = [[اسلام]] | |||
| faith = [[شیعہ]] | |||
| works = | |||
| known for = تاجر، مخیر اور سابقہ نگراں وزیر خزانہ پاکستان | |||
}} | |||
'''سید بابر علی'''، (انگریزی: Syed Babar Ali) ایک [[پاکستان|پاکستانی]] تاجر، مخیر اور سابقہ نگراں وزیر خزانہ پاکستان ہیں۔ وہ پیکیجز لمیٹڈ اور لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کے بانی ہیںلمز کے نام سے آپ واقف ہوں گے، اور مشہور ملک پیک لمیٹڈ جو آج Nestlé Pakistan ہے، وہ بھی آپ نے ہی قائم کی۔ اگر آپ لاہور سے ہیں تو پیکجز مال کا چکر بھی ضرور لگایا ہوگا۔ ان تینوں بڑے ناموں کے پیچھے ایک ہی شخصیت ہے - ملتِ جعفریہ پاکستان کے ہیرو اور لیونگ لیجنڈ سید بابر علی، جو اس وقت 99 سال کے ہیں۔ | '''سید بابر علی'''، (انگریزی: Syed Babar Ali) ایک [[پاکستان|پاکستانی]] تاجر، مخیر اور سابقہ نگراں وزیر خزانہ پاکستان ہیں۔ وہ پیکیجز لمیٹڈ اور لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کے بانی ہیںلمز کے نام سے آپ واقف ہوں گے، اور مشہور ملک پیک لمیٹڈ جو آج Nestlé Pakistan ہے، وہ بھی آپ نے ہی قائم کی۔ اگر آپ لاہور سے ہیں تو پیکجز مال کا چکر بھی ضرور لگایا ہوگا۔ ان تینوں بڑے ناموں کے پیچھے ایک ہی شخصیت ہے - ملتِ جعفریہ پاکستان کے ہیرو اور لیونگ لیجنڈ سید بابر علی، جو اس وقت 99 سال کے ہیں۔ | ||
== سوانح عمری == | == سوانح عمری == | ||
| سطر 60: | سطر 79: | ||
ہندؤں کی چھوڑی ہوئی ایک جننگ فیکٹری خرید کی۔یوں سید بابر علی دیکھتے ہی دیکھتے کاٹن ایکسپورٹ میں آگئے۔انکے کاروبار میں اضافہ ہوتا گیا۔ایک موقع پر 1949میں انہیں کاٹن ایکسپورٹ میں دولاکھ روپے کا خسارا ہوا۔اس پر انہیں بہت افسوس ہوا مگر انکے والد نے انہیں حوصلہ دیا۔دو لاکھ روپے1949میں بہت بڑی رقم تھی<ref>[https://dailypakistan.com.pk/09-Sep-2020/1181078 تجارت وصنعت میں سید بابر علی کا دیومالائی کردار (2)]-شائع شدہ از: 9 ستمبر 2020ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 19 ستمبر 2026ء</ref>۔ | ہندؤں کی چھوڑی ہوئی ایک جننگ فیکٹری خرید کی۔یوں سید بابر علی دیکھتے ہی دیکھتے کاٹن ایکسپورٹ میں آگئے۔انکے کاروبار میں اضافہ ہوتا گیا۔ایک موقع پر 1949میں انہیں کاٹن ایکسپورٹ میں دولاکھ روپے کا خسارا ہوا۔اس پر انہیں بہت افسوس ہوا مگر انکے والد نے انہیں حوصلہ دیا۔دو لاکھ روپے1949میں بہت بڑی رقم تھی<ref>[https://dailypakistan.com.pk/09-Sep-2020/1181078 تجارت وصنعت میں سید بابر علی کا دیومالائی کردار (2)]-شائع شدہ از: 9 ستمبر 2020ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 19 ستمبر 2026ء</ref>۔ | ||
== حوالہ جات == | |||
{{حوالہ جات}} | |||
{{پاکستان}} | |||
[[زمرہ:شخصیات]] | |||
[[زمرہ:پاکستان]] | |||
نسخہ بمطابق 15:55، 19 ستمبر 2026ء
| سید بابر علی | |
|---|---|
| پورا نام | سید بابر علی |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 1926 ء |
| یوم پیدائش | 30 جون |
| پیدائش کی جگہ | لاہور پاکستان |
| مذہب | اسلام، شیعہ |
| مناصب | تاجر، مخیر اور سابقہ نگراں وزیر خزانہ پاکستان |
سید بابر علی، (انگریزی: Syed Babar Ali) ایک پاکستانی تاجر، مخیر اور سابقہ نگراں وزیر خزانہ پاکستان ہیں۔ وہ پیکیجز لمیٹڈ اور لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کے بانی ہیںلمز کے نام سے آپ واقف ہوں گے، اور مشہور ملک پیک لمیٹڈ جو آج Nestlé Pakistan ہے، وہ بھی آپ نے ہی قائم کی۔ اگر آپ لاہور سے ہیں تو پیکجز مال کا چکر بھی ضرور لگایا ہوگا۔ ان تینوں بڑے ناموں کے پیچھے ایک ہی شخصیت ہے - ملتِ جعفریہ پاکستان کے ہیرو اور لیونگ لیجنڈ سید بابر علی، جو اس وقت 99 سال کے ہیں۔
سوانح عمری
سید بابر علی 30 جون 1926ء کو لاہور کے ایک رئیس سید کاروباری خاندان میں پیدا ہوئے۔ 1945 میں کشتی پر بیٹھ کر امریکہ پڑھائی کے لیے روانہ ہوئے۔ مگر ایک سال بعد ہی واپس آگئے۔ اس ایک سال میں بھی انہوں نے کچھ وقت پڑھائی اور امریکہ کا روڈ ٹرپ لگانے میں گزارا۔
دینی خدمات
ایک دن مجلس میں بیٹھے ہوئے ان کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ اگر مجھے اللہ نے بیٹا عطا کیا تو میں اس کا نام ضرور حیدر علی رکھوں گا۔ آج حیدر علی ہی پیکجز گروپ سنبھال رہے ہیں۔ لاہور میں بہت سارے امام بارگاہ آپ کے خاندان کی فنڈنگ سے بنے تھے۔
اقتصادی سرگرمیاں
پاکستان میں دو انقلابی کاروبار - پیکجز اور ملک پیک - کا سہرا سید بابر علی کے سر جاتا ہے۔ کس طرح سے انہوں نے سویڈن اور فن لینڈ کے امیر کاروباری خاندانوں سے تعلقات بنائے اور ان سے پاکستان میں کاروبار کروایا، وہ ایک الگ داستان ہے۔
تعلیمی سرگرمیاں
ان کے دیگر بڑے ادارے ٹیٹرا پیک پاکستان، ٹرائی پیک فلمز، IGI انشورنس، IGI انویسٹمنٹ بینک ہیں، اور وہ کوکا کولا بیوریجز پاکستان، سانوفی اور سیمنز پاکستان کے چیئرمین بھی رہے۔
کہتے ہیں سید بابر علی ادارہ ساز نہیں خود ایک ادارہ ہیں۔ مگر ان کی سب سے بڑی کامیابی LUMS کا قیام تھا۔ جب انہوں نے ایک تعلیمی ادارہ بنانے کا فیصلہ کیا تو پہلے انگلینڈ کا دورہ کیا اور بعد میں امریکہ کا سفر اختیار کیا۔ اس دوران انہوں نے بہت لوگوں سے ملاقات کی، یونیورسٹیز دیکھیں اور بالآخر فیصلہ کیا کہ اس ادارے کی بنیاد امریکی سسٹم پر رکھی جائے گی۔
1985 میں اپنے دوست صنعتکاروں کے ساتھ مل کر انہوں نے LUMS بنایا۔ اگرچہ عام تصور یہی ہے کہ لمز میں ممی ڈیڈی برگر بچے پڑھتے ہیں لیکن دراصل اس کے بنانے میں کاروباری سوچ سے زیادہ فلاحی سوچ شامل تھی۔
لمز بہت عرصے سے ایسے طلاب پیدا کر رہا ہے جو انٹرنیشنل لیول پر انڈین، چینی اور دیگر قوموں سے مقابلہ کر سکتے ہیں۔ جامعات کی رینکنگ میں لمز ہمیشہ پاکستان میں پہلے نمبر پر آتا ہے۔ == علم ہی ہماری پہچان ہے == اتفاق کی بات ہے غلام اسحاق خان یونیورسٹی (GIKI) اور فاسٹ یونیورسٹی (FAST) کے بانی بھی شیعہ کاروباری شخصیت محترم آغا حسن عابدی مرحوم تھے، آپ نے UBL بینک کے علاوہ دنیا کے تیسرے عظیم ترین بینک BCCI کی بنیاد بھی رکھی اور ایٹمی پروگرام میں حکومت پاکستان کی بے شمار مدد کی۔
اسی طرح حبیب یونیورسٹی اور فاطمیہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کا قیام بھی خوجہ شیعہ اثنا عشری جماعت نے رکھا ہے۔
بے شک جب تک لمز باقی رہے گا پاکستانی عوام ملت جعفریہ کے اس ہیرو کو یاد رکھیں گے۔ کیونکہ علیؑ کے شیعوں کی پہچان صرف علم و عمل سے ہے۔
بانی پرو چانسلر سید بابر علی کو خراج عقیدت
" ان کا چہرہ سورج کی طرح چمک رہا تھا۔ بڑھاپے میں جوانی کی تازگی تھی۔ ان کے ہونٹوں پر ہستی کا پوشیدہ راز تھا، ان کا علم باطنی آگ سے ہم آہنگ تھا۔‘‘ علامہ اقبال
سید بابر علی کی دلچسپیوں اور کارناموں کا مکمل تعین کرنا ایک آسان کام نہیں ہے۔ ایک نامور صنعت کار، ایک فلاحی اور انسان دوست شخصیت ہیں۔بصیرت اور علم کے قومی سرپرست ہیں۔مختصراً وہ ایک فرد نہیں بلکہ اپنی ذات میں ایک مکمل ادارہ ہیں۔
تیس سال پہلے وہ معاشرے میں موجود تفریق کو دیکھنے کے لیے کافی دور اندیش تھے اور انھوں نے اپنی بلند پایہ سوچ اور نظریے کے ذریعے اس تفریق کو عملی طور پرختم کیا۔ اسی تناظر میں سید بابر علی نے لمز کے قیام کے بارے میں سوچا اور عالمی معیارکی اکیڈمی کے طور پر لمز کی بنیاد رکھی تھی۔
وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے تھے کہ پاکستان بھر کے طلباء اپنی مالی حیثیت، مذہب یا ذات سے قطع نظر اپنے تعلیمی مقاصد کو حاصل کر سکیں۔ملک بھر میں بکھری خام قابلیت تک پہنچنے کیلئے انہوں نے وسیع مالی امداد اور نیشنل آؤٹ ریچ پروگرام (این او پی) کی صورت میں اپنی خواہش اور جذبے کا اظہار کیا،
جو ان کے دیرینہ اقدامات ہیں۔ان کی محنت، دلچسپی اور مسلسل کاوشیں پروگرام کی ترقی اور ارتقاء کا باعث بنی ،جس نے بنیادی طور پر ہمارے قابل اور سند یافتہ گریجویٹس کی غیرمعمولی کامیابیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے۔
لمز اور NOPسینٹر کے ساتھ کام کرنے والوں نے ہمیشہ محسوس کیا ہے کہ NOPمیں سید بابر علی کے کردار کو بیان کرنے کے لیے الفاظ کم پڑ جائیں گے۔انہوں نے نہ صرف سیکڑوں طالب علموں کی حوصلہ افزائی کی ہے بلکہ بنیادی طور پر ان میں معاشرے کی بہتری کیلئے ہر ممکنہ قدم اٹھانے کیلئے اپنے جیسا جذبہ پیدا کیا ہے۔
NOPاسکالرز اور مالی امداد پر تعلیم حاصل کرنے والے طلباء جو دنیا میں جا کر اپنے سماج اور اپنی قوم کی بہتری میں اپنا حصہ ڈالنے کے طریقے تلاش کرتے ہیں۔یہی اسکالرز سید بابر علی کے پاکستان کے ہر طبقے کو بااختیار بنانے کے بے مثال عزم کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
سید بابر علی جس چمک اور احساس کا اظہار کرتے ہیں وہ احساس اور چمک سید بابر علی کے سائے میں کھڑے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ ہم نے سید بابر علی کے سائے میں رہتے ھوۓ اس احساس کو بخوبی محسوس کیا ہے، جس نے ہمیں ان کا گرویدہ بنا لیا ہے۔ ہم ان کی تمام کاوشوں کو سلام پیش کرتے ہیں اوربخوبی جانتے ہیں کہ ان کا ہر عمل آنے والی نسلوں کو متاثر کرتا رہے گا۔ "زیرِ افلاک ہیں بسے کچھ ایسے ذی روح
قطرہ ملے جو ان میں تو لہر کی بنے نمود
جو رو ئے زمین احساس کا دریا ہیں بنے
یہ ایسے اعلیٰ وصف و کردار ہیں بنے"
"دوسروں سے سیکھنا"
سید بابر علی کی سوانح عمری "کمال ہم نشین" آج ہی خریدیں! دنیا میں وہ ایک صنعتی سلطنت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ اس کتاب میں، انہوں نے اپنی زندگی کی کہانی سے پردہ اٹھایا ہے جس کا خلاصہ انہیں ایک تعلیمی ماہر کے طور پر پیش کرتا ہے۔
اس کتاب کو خریدنے کے لیے، براہ مہربانی یہاں آرڈر دیں ۔اس کتاب سے حاصل ہونے والی تمام آمدنی لمز نیشنل آؤٹ ریچ پروگرام کے لیے وقف ہے[1]۔
تجارت وصنعت میں سید بابر علی کا دیومالائی کردار
دیانت اور وفا کے اس قحط میں یقینا اور بھی بڑے بڑے صنعتکار اور بزنس منتظم ہونگے۔مگر سید بابر علی کا اپنا ہی مقام ہے۔
والدین نے انکی پیدائش پر بجا طور پر”ببر شیر“کا خطاب دیا تھا۔وہ1926میں لاہور میں پیدا وئے۔سید مراتب علی کے فرزند ہیں۔قیام پاکستان کے وقت انکے خاندان کی فیروز پور کے علاوہ لاہور میں کافی جائیداد تھی اور نقد بھی بہت کچھ تھا۔ ملک میں انڈسٹری توتھی ہی نہیں۔
صرف اوکاڑہ میں برلا اور لائلپور میں سری رام کی کاٹن ٹیکسٹائل ملیں تھیں۔حکومت نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ کاروبار کریں۔چنانچہ انہوں نے ایک آئل مل حیدر آباد میں خریدی۔یہاں بنولے کا تیل نکالا جاتا تھا۔سید بابرعلی کی سرکردگی میں یہ آئل مل ترقی کے مراحل طے کرتی ہوئی ایک دن وزیر علی انڈسٹریز کے نام سے مشہور ہوئی۔
ہندؤں کی چھوڑی ہوئی ایک جننگ فیکٹری خرید کی۔یوں سید بابر علی دیکھتے ہی دیکھتے کاٹن ایکسپورٹ میں آگئے۔انکے کاروبار میں اضافہ ہوتا گیا۔ایک موقع پر 1949میں انہیں کاٹن ایکسپورٹ میں دولاکھ روپے کا خسارا ہوا۔اس پر انہیں بہت افسوس ہوا مگر انکے والد نے انہیں حوصلہ دیا۔دو لاکھ روپے1949میں بہت بڑی رقم تھی[2]۔
حوالہ جات
- ↑ بانی پرو چانسلر سید بابر علی کو خراج عقیدت-اخذ شدہ بہ تاریخ:19 ستمبر 2026ء
- ↑ تجارت وصنعت میں سید بابر علی کا دیومالائی کردار (2)-شائع شدہ از: 9 ستمبر 2020ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 19 ستمبر 2026ء