"احمد علی لاہوری" کے نسخوں کے درمیان فرق
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| سطر 2: | سطر 2: | ||
{{خانہ معلومات شخصیت | {{خانہ معلومات شخصیت | ||
| title = احمد علی لاہوری | | title = احمد علی لاہوری | ||
| image = | | image = احمد علی لاہوری.jpg | ||
| name = | | name = | ||
| other names = مولانا احمد علی لاہوری | | other names = مولانا احمد علی لاہوری | ||
نسخہ بمطابق 14:45، 7 ستمبر 2026ء
| احمد علی لاہوری | |
|---|---|
| دوسرے نام | مولانا احمد علی لاہوری |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 1887ء |
| یوم پیدائش | 2 رمضان |
| پیدائش کی جگہ | قصبہ جلال، گوجرانوالہ، برٹش راج، موجودہ ضلع گوجرانوالہ، پنجاب، پاکستان |
| وفات | 1962ء |
| یوم وفات | 22 فروری |
| وفات کی جگہ | لاہور، ضلع لاہور، پنجاب، پاکستان |
| مذہب | اسلام، سنی |
| اثرات | رسوم الاسلامیہ، اسلام میں نکاح بیوگان، ضرورۃ القرآن، مخزن المرجان فی خلاصۃ القرآن |
| مناصب | عالم دین، مفسر قرآن |
احمد علی لاہوری ،شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوری (پیدائش: 24 مئی 1887ء – وفات: 23 فروری 1962ء) دیو بندی عالم دین، مفسر قرآن تھے۔
ولادت
آپ ضلع گوجرانوالہ کے ٹاؤن گکھڑ منڈی کے نزدیک قصبہ جلال میں رمضان المبارک 1304ھ بمطابق 24 مئی 1887ء کو پیدا ہوئے۔ شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری ان اولیاء اللہ میں سے ہیں جن کا نام آتے ہی بڑے بڑے علماء کرام اور بزرگ ہستیوں کے سر عقیدت ومحبت سے جُھک جاتے اور آنکھیں اشکبار ہوجاتی ہیں۔
حضرت لاہوری کا تعلق ان علمائِ حق سے ہے جو کہ تمام زندگی قال اللہ و قال الرسول کی صدا بلند کرتے اور لاکھوں لوگوں کو شرک و بدعت اور ضلالت و گمراہی کے گڑھوں سے نکال کر ان کے دلوں میں توحید الہٰی، عشق نبوی ؐ،حب صحابہ و اہل بیتؓ کی شمعیں روشن کیں۔
حضرت لاہوری کے والد شیخ حبیب اللہ گوجرانوالہ کے قریب جلال نامی قصبہ کے رہنے والے ایک نو مسلم ،انتہائی متقی اور دیندار تھے جبکہ آپ کی والدہ ماجدہ نہایت عابدہ، زاہدہ اورصالحہ عورت تھیں انہوں نے اپنے لخت جگر کو قرآن مجید خودپڑھایا
تعلیم
ابتدائی تعلیم اپنی والدہ محترمہ سے حاصل کی پھر خانقاہ امروٹ شریف میں مولانا عبید اللہ سندھی سے علوم شاہ ولی اللہ اور درس نظامی پڑھتے رہے بعد میں مدرسہ دارالارشاد (گوٹھ پیرجھنڈہ حیدرآباد، سندھ) میں 6 سال تک علوم دینیہ کی تکمیل کی اور.1907ء میں آپ فارح التحصیل ہوئے۔
اس کے بعد اس بچے کو سکول میں داخل کرادیا گیا، جہاں انہوں نے پانچویں جماعت تک تعلیم حاصل کی ۔ آپ کے والد نے اپنے لخت جگر کو سکول سے اُٹھواکر گوجرانوالہ کی جامع مسجد کے خطیب مولانا عبدالحق کے سپرد کر دیا۔
اس بچہ کو گوجرانوالہ آئے چندماہ ہی گزرے تھے کہ مولانا عبیداللہ سندھی دارالعلوم دیوبند سے اپنی تعلیم مکمل کرکے سند ھ جاتے ہوئے اپنی والدہ سے ملنے سیالکوٹ آئے ۔ آپ کی والدہ ماجدہ نے مولانا سندھی ؒکو شیخ حبیب اللہ کے قبول اسلام اور دیانت وتقویٰ کا بھی ذکر کیا۔
چنانچہ مولانا سندھی اپنی والدہ کے ہمراہ باہو چک آئے اور اپنے رشتہ کے بھائی سے ملے۔ اس وقت شیخ حبیب اللہ نے اپنے لختِ جگر کو حضرت سندھی ؒ کے حوالے کردیا۔ نوبرس کی عمر میں اس بچے کے سر سے والد کا سایہ اٹھ گیا۔ سندھ کے ولی کامل حضرت خلیفہ غلام محمد دین پوری کے حکم سے مولانا سندھی نے اس بچہ کی والدہ سے نکاح کرلیا۔
اس لحاظ سے مولانا سندھی اس بچہ کے سوتیلے والد بن گئے۔ کچھ عرصے بعد یہ بچہ اپنی والدہ کی شفقتوں سے بھی محروم ہوگیا۔چنانچہ مولانا سندھی نے خود ہی اس بچہ کو سلسلہ قادریہ میں داخل فرماکر تقویٰ وپرہیز گاری کی تلقین کے ساتھ کچھ اذکار بھی تعلیم کردیے ۔
مولانا سندھی نے ابتدائی صرف ونحو عربی وفارس کتب اس بچہ کوخود پڑھائیں ۔مولانا سندھی نے1901ء میں گوٹھ پیر جھنڈا ضلع سکھر میں مدرسہ دارالرشاد کی بنیاد رکھی تو ان کی زیرنگرانی اس بچہ نے چھ سال بعد درس نظامی مکمل کیا۔ اس مدرسہ دار الرشاد سے فارغ ہونے والوں میں پہلانام آپ کا ہے ۔
مولانا سندھی کی ہدایت پر اسی مدرسہ میںآپ نے تعلیم تدریس شروع کی۔ چنانچہ تین سال تک حضرت لاہوریؒ اسی مدرسہ میں درس نظامی کی تعلیم دیتے رہے۔ مولانا سندھیؒ نے اپنی پہلی زوجہ سے بیٹی کا نکاح مولانا احمدعلیؒ سے کردیا لیکن وہ ایک سال بعد ہی انتقال کر گئیں ۔اس کے بعد مولانا ابو محمد احمد کی صاحبزادی سے دسمبر1911ء میں آپکانکاح دارالعلوم دیوبند کی مسجد میں حضرت شیخ الہند مولانا محمودحسن دیوبندی ؒ نے پڑھایا۔
تدریس
فراغت کے بعد مدرسہ دارالارشاد میں مدرس مقرر ہوئے۔ تقریباً 3 سال تک تدریس میں مشغول رہے۔ پھر نواب شاہ کے ایک مدرسہ میں آ گئے۔ اس کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بھی تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے۔
تصانیف
آپ نے قرآن پاک کا رواں رواں اردو ترجمہ کیا۔ اس کے علاوہ 34 چھوٹے چھوٹے رسالے تالیف کیے،
- رسوم الاسلامیہ،
- اسلام میں نکاح بیوگان،
- ضرورۃ القرآن،
- مخزن المرجان فی خلاصۃ القرآن
- زبدۃ القرآن،
- اصلی حنفیت،
- رسول اللہﷺ کے وظائف،
- میراث میں شریعت،
- توحید مقبول،
- فوٹو کا شرعی فیصلہ،
- صد احادیث کا گلدستہ
- فلسفہ روزہ
اہم کارنامے
آپ داستان تحریک آزادی ہند کے امین تھے، ہرملی مصیبت میں آپ نے قوم کا ساتھ دیا۔ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ مولانا عبید اللہ سندھی رحمہ اللہ کے زیر سرپرستی چلنے والی ریشمی رومال تحریک کے ایک سرگرم رکن تھے۔ تحریک کی ناکامی کے بعد آپ کو انگریز نے گرفتار کر کے شیرانوالہ دروازہ میں نظر بند کر دیا۔
تحریک ختم نبوت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ 1931ء میں میکلیگن انجینئری کالج لاہور کے انگریز پرنسپل نے پیغمبر اسلامﷺ کے خلاف نازیبا کلمات استعمال کیے تو آپ نے اس کے خلاف آواز اٹھائی۔ اس سلسلہ میں آپ کو گرفتار کر لیا گیا۔
اسلام کی ترقی کے لیے انجمن خدام الدین کا قیام عمل میں لایا، نظامۃ المعارف القرنیہ کے نام پر علما کرام اور جدید تعلیم یافتہ حضرات کی ایک مخلوط جماعت تیار کی جس کا مقصد حالات حاضرہ کے تقاضوں کے مطابق تنلیغی مشن چلانا تھا۔
گرفتاری
تحریک ریشمی رومال میں انگریز حکومت نے اس تحریک کے قائدین اور اس سے وابستہ کارکنان کوگرفتار کرنا شروع کیا تو مولانا احمدعلی لاہوری بھی گرفتار کر لیے گئے ۔مولانا احمد علی لاہوری کو گرفتار کرکے دہلی ،شملہ ،لاہور اور جالندھر کی مختلف حوالاتوں میں کئی ماہ گزارنے کے بعد مشروط رہائی ملی توآپ پر دہلی اور سندھ جانے پر پابندی لگادی گئی ۔
آپ لاہور میں پابند ضمانت ہو کر یہاں مقیم ہو گئے، جس وجہ سے آپ لاہوری کہلاتے ہیں۔ مسجد لائن سبحان والی شیرانوالہ دروازہ سے باہر مسجد میں حضرت مولانا پنجگانہ نماز ادا کرتے تھے۔ فاروق گنج کی طرف جاتے ہوئے جو مسجد ہے وہاں آپ نے درس قرآن شروع کیا پھر آہستہ آہستہ تبلیغ وارشاد کا سلسلہ بڑھنا شروع ہوگیا۔
تعلیمی سرگرمیاں
1922ء میں حکیم فیروز الدین کی تحریک پر آپ نے انجمن خدام الدین کی بنیاد رکھی جس کے تحت قرآن اور سنت بنویؐ کی اشاعت کو انجمن کا نصب العین قرار دیاگیا ۔1924ء میں انجمن خدام الدین کی زیر نگرانی مدرسہ قاسم العلوم کی بنیاد رکھی گئی جس کی عمارت کی رسم افتتاح علامہ شبیراحمد عثمانی کے ہاتھوں 1934ء میں ادا ہوئی۔
آپ نے عمربھر قرآن مجید کی لفظاً ومعناً خدمت کی (1935ئ)میں آپ نے حفظ ناظرہ کا اہتمام فرمایا۔آپ نے مسلمانوں کو قرآن مجید سمجھانے لیے روازانہ نماز فجر کے بعد ایک گھنٹہ درس قرآن رکھا ہوا تھا۔
جس میں مسلمان مردوں کے علاوہ علیحدہ باپردہ جگہ میں خواتین بھی شریک ہوتی تھیں ۔علوم عربیہ کے فارغ التحصیل علماء کے لیے قرآن کی تفسیرپڑھائی جاتی اور اس درس کی تکمیل کے بعد جو حضرات مزیدتعلیم حاصل کرنے کے خوہش مند ہوتے آپ انہیں چار ماہ میں فلسفہ، شریعت اورحضرت شاہ ولی اللہ ؒ کی مشہور کتاب ’’حجۃ البالغہ‘‘پڑھاتے 1940ء سے شروع ہونے والا یہ درس آپ کی زندگی کے آخری ایام تک جاری رہا۔
22اکتوبر 1956ء میں بحیثیت عالم دین انجمن حمایت اسلام کی جزل کونسل کے آپ رکن مقرر ہوئے۔ انجمن کے معاملات میں گہری دلچسپی لینے کی بناء پر مولانا لاہوری17نومبر1956ء کو انجمن کے نائب صدرتازیست اسی عہدے پر فائز رہے ۔1956ء میں جب تحریک ختم نبوت شروع ہوئی تو مولانا احمدعلی لاہوری نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
گرفتاری کے بعد آپ کو دوسرے علماء کے ساتھ ملتان جیل میں رکھا گیا۔مگر جب ملک فیروز خان بر سرِ اقتدار آئے تو آپ کو لاہور جیل میں منتقل کردیا گیا۔ بعد ازاں آپ کورہا کردیا گیا۔
جمعیت علماء اسلام مغربی پاکستان کا امیرمنتخب
اکتوبر 1956ء کو پاکستان کے جید علماء کی لاہور میں مشاورت ہوئی جس میں بالاتفاق مولانا احمد علی لاہوری کو جمعیت علماء اسلام مغربی پاکستان کا امیرمنتخب لیاگیا ۔ آپ آخری وقت تک اس عہدے پر فائز رہے ۔آپ کی رہنمائی میں صرف ایک سال کے قلیل عرصہ میں جمعیت علماء اسلام مغربی پاکستان میں 300شاخیںقائم ہوگئیں ۔
جون 1957ء میں جمعیت علماء اسلام کا رسالہ ترجمان اسلام لاہور سے آپ کی سر پرستی میں شائع ہونے لگا۔1955ء میں مولانا احمد علی لاہوری کی سرپرستی میں انجمن خدام الدین کی طرف سے’’خدام الدین‘‘نام سے ایک ہفت روزہ رسالہ جاری کیاگیا اوریہ رسالہ آج بھی جاری ہے ۔
وفات
ہر ذی روح اپنے رب کو راضی کرکے اس دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے۔ اس ضابطہ کے تحت مولانا احمدعلی لاہوریؒ23فروری1962ء بمطابق 17رمضان 1381ہجری کو 77سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔
یونیورسٹی گراؤنڈ میں آپ کی نماز جنازہ کی امامت آپ کے صاحبزادہ مولانا عبید اللہ انور نے پڑھائی ۔ افطاری کے وقت مولانا عبداللہ درخواستی ؒ ،مولانا عبیداللہ انورؒ ،حافظ حمید اللہ اور دیگر اکابرین نے آپ کی میت لحدِ خاک میں اتاری [1]۔
حوالہ جات
- ↑ ولی کامل مولانا احمد علی لاہوریؒ-شائع شدہ از: 17 فروری 2017ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 6 ستمبر 2026ء
{{Navboxes | title =ابو الاعلی مودودی | titlestyle = background: #FFEC8B | list =