"بابا فرید الدین گنج شکر" کے نسخوں کے درمیان فرق
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| سطر 8: | سطر 8: | ||
| brith year = 1173ء | | brith year = 1173ء | ||
| brith date = | | brith date = | ||
| birth place = | | birth place =کھتوال | ||
| death year = 690 ھ | | death year = 690 ھ | ||
| death date = | | death date = | ||
| death place = ملتان | | death place = ملتان | ||
| teachers = | | teachers = خواجہ معین الدین چستی | ||
| students = | | students = | ||
| religion = [[اسلام]] بریلوی | | religion = [[اسلام]] بریلوی | ||
| سطر 167: | سطر 167: | ||
پشیمان ہوکر بابا جی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دعا کے طالب ہوئے۔ آپ نے کمال شفقت سے فرمایا شکر ہوجائے گی۔ چنانچہ وہ نمک شکر ہوگیا۔کہا جاتا ہے کہ اس دن سے آپ گنج شکر کے لقب سے مشہور ہوگئے۔ | پشیمان ہوکر بابا جی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دعا کے طالب ہوئے۔ آپ نے کمال شفقت سے فرمایا شکر ہوجائے گی۔ چنانچہ وہ نمک شکر ہوگیا۔کہا جاتا ہے کہ اس دن سے آپ گنج شکر کے لقب سے مشہور ہوگئے۔ | ||
== پنجاب کی طرف ہجرت == | |||
شعیب پنجاب میں وارد ہوئے تو غزنوی حکومت روبہ زوال تھی۔ تاہم اس وقت بھی لاہور، ملتان اور اچ اسلامی علوم کے مرکز شمار ہوتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ حکومت نے شعیب کو ان کی علمی فضیلت کے پیش نظر ملتان کا قاضی مقرر کر دیا۔ | |||
جہاں انہوں نے اس کی ایک اضافی بستی کوٹھیوال میں سکونت اختیار کر لی۔ شعیب کے تین بیٹوں میں سے منجھلے جمال الدین سلیمان تھے، جن کی شادی نزدیک ہی رہنے والے شیخ وجیہہ الدین خجندی کی بیٹی قرسوم سے کر دی گئی۔ فریدؒ انہی کے گھر 1173ء یا 1175ء میں پیدا ہوئے۔ | |||
پیدائش پر ان کا نام فرید الدین مسعود رکھا گیا۔ ’’گنج شکر‘‘ ان کا لقب ہے، جو بعد میں مشہور ہوا۔ | |||
فریدؒ کی ابتدائی تعلیم و تربیت ان کی والدہ قرسوم بی بی ہی نے کی، جو ایک نہایت دیندار خاتون تھیں۔ | |||
انہوں نے فرید کو نماز، روزے اور دوسری عبادات کاایسا پابند بنا دیا کہ وہ نوجوانی ہی میں عابد و زاہد مشہور ہوگئے۔ اٹھارہ سال کی عمر میں وہ تکمیلِ تعلیم کے لئے ملتان میں مولانا منہاج الدین کے مدرسے میں داخل ہوگئے۔ | |||
یہاں ایک دن آپ مدرسے کے صحن میں مصروف مطالعہ تھے کہ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی جو حضرت خواجہ معین الدین چشتی کے خلیفۂ بزرگ تھے، وہاں وارد ہوئے۔ | |||
دونوں ایک دوسرے سے ملے۔ اس پہلی ہی ملاقات میں فریدؒ حضرت بختیار کاکیؒ کی روحانی عظمت سے ایسے متاثر ہوئے کہ جب خواجہؒ دہلی چلنے لگے تو آپ ان کے ہمراہ ہو لئے اور دہلی پہنچ کر (جو 1192ء سے مسلمانوں کے تسلط میں آچکا تھا) ایک تقریب میں جہاں بہت سے مقامی مشائخ جمع تھے، ان سے بیعت ہوگئے۔ | |||
تازہ ترین | |||
حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر ؒ | |||
Sep 29, 2017 | |||
IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app | |||
بابا فریدؒ کے دادا شعیب ایک علمی خاندان کے فرد اور کابل کے رہنے والے تھے۔ وہ 12ویں صدی کے اواخر میں، غالباً غوریوں کے کابل پر حملہ آور ہونے کی وجہ سے ترکِ وطن کر کے قصور اور لاہور سے ہوتے ہوئے ملتان پہنچے اور پھر وہیں سکونت اختیار کر لی۔ | |||
شعیب پنجاب میں وارد ہوئے تو غزنوی حکومت روبہ زوال تھی۔ تاہم اس وقت بھی لاہور، ملتان اور اچ اسلامی علوم کے مرکز شمار ہوتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ حکومت نے شعیب کو ان کی علمی فضیلت کے پیش نظر ملتان کا قاضی مقرر کر دیا۔ جہاں انہوں نے اس کی ایک اضافی بستی کوٹھیوال میں سکونت اختیار کر لی۔ شعیب کے تین بیٹوں میں سے منجھلے جمال الدین سلیمان تھے، جن کی شادی نزدیک ہی رہنے والے شیخ وجیہہ الدین خجندی کی بیٹی قرسوم سے کر دی گئی۔ فریدؒ انہی کے گھر 1173ء یا 1175ء میں پیدا ہوئے۔پیدائش پر ان کا نام فرید الدین مسعود رکھا گیا۔ ’’گنج شکر‘‘ ان کا لقب ہے، جو بعد میں مشہور ہوا۔ | |||
فریدؒ کی ابتدائی تعلیم و تربیت ان کی والدہ قرسوم بی بی ہی نے کی، جو ایک نہایت دیندار خاتون تھیں۔ انہوں نے فریدؒ کو نماز، روزے اور دوسری عبادات کاایسا پابند بنا دیا کہ وہ نوجوانی ہی میں عابد و زاہد مشہور ہوگئے۔ اٹھارہ سال کی عمر میں وہ تکمیلِ تعلیم کے لئے ملتان میں مولانا منہاج الدین کے مدرسے میں داخل ہوگئے۔ یہاں ایک دن آپ مدرسے کے صحن میں مصروف مطالعہ تھے کہ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ جو حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کے خلیف�ۂ بزرگ تھے، وہاں وارد ہوئے۔ دونوں ایک دوسرے سے ملے۔ اس پہلی ہی ملاقات میں فریدؒ حضرت بختیار کاکیؒ کی روحانی عظمت سے ایسے متاثر ہوئے کہ جب خواجہؒ دہلی چلنے لگے تو آپ ان کے ہمراہ ہو لئے اور دہلی پہنچ کر (جو 1192ء سے مسلمانوں کے تسلط میں آچکا تھا) ایک تقریب میں جہاں بہت سے مقامی مشائخ جمع تھے، ان سے بیعت ہوگئے۔ | |||
حضرت خواجہ کاکیؒ نے فریدؒ کو اپنی خانقاہ ہی میں ایک حجرہ سکونت کے لئے دے دیا، جس میں آپ عبادت اور ریاضت میں مصروف رہتے اور گاہے گاہے اپنے مرشد کے روبرو حاضر ہو کر ان سے راہِ سلوک کے لئے ہدایات حاصل کرتے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت خواجہ معین الدین دہلی آئے تو وہ فریدؒ اور ان کی روحانی استعداد سے اس درجہ متاثر ہوئے کہ انہوں نے خواجہ کاکی سے فرمایا ’’بختیار تم نے ایک ایسے شہباز کو گرفتار کر رکھا ہے جس کا مقام سدرۃ المنتہیٰ سے بھی آگے ہے!‘‘ | |||
عوامی روایتوں اور تاریخ سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو شے فریدؒ کو دوسرے رہروانِ جادۂ سلوک سے ممیز کرتی ہے، وہ ان کی انتہائی سخت ریاضتیں اور مجاہدے ہیں۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ آغاز شباب سے لے کر بڑھاپے تک آپ نے سخت ریاضتیں کرنا کبھی ترک نہیں کیا۔ چلہ کشی اور رات رات بھر عبادات میں کھڑے رہنا، مستقل روزے رکھنا اور افطار پر بھی بہت تھوڑا کھانا اور محتاجوں کی دستگیری کے لئے اپنا آرام تج دینا آپ کا طریق رہا۔ ایک روایت یہ بیان کی جاتی ہے کہ ایک دفعہ بھوک کے اضطرار میں آپ نے کچھ کنکر اٹھا کر منہ میں ڈال لئے جو شکر کی طرح میٹھے ہوگئے تھے۔ آپ نے اس کا ذکر اپنے مرشد حضرت بختیار کاکیؒ سے کیا تو انہوں نے آپ کو ’’گنج شکر‘‘ کا لقب عنایت فرمایا، جو آج تک آپ کے نام کے ساتھ بولا جاتا ہے بلکہ بہت سے لوگ تو آپ کا نام ہی گنج شکر سمجھتے ہیں۔ ایک اور روایت جو اکثر بیان کی جاتی ہے، یہ ہے کہ آپ نے اپنے مرشد خواجہ کاکی کی ہدایت پر ایک دفعہ چلہ معکوس کھینچا یعنی چالیس دن ایک ویرانے میں درخت سے الٹے لٹک کر رات رات بھر عبادت کی۔ اگرچہ یہ ضروری نہیں کہ کسی شاعر کے تجرباتِ زندگی اس کے اشعار میں براہِ راست منعکس ہوں، لیکن ہو سکتا ہے کہ فریدؒ کا یہ شعر ایسے ہی جاں گسل چلوں کے متعلق ہو کیونکہ اس میں مذکورہ حالت، یعنی تلوؤں پر پرندوں کی ٹھونگیں سوائے الٹا لٹکے کسی اور صورت میں نہیں پڑ سکتیں۔ | |||
’’تن سکا، پنجر تھیا، تلیاں کھونڈن کاگ | |||
اجے سو رب نہ بوہڑیو، ویکھ بندے دے بھاگ!‘‘ | |||
اس طرح کے چلے اور ریاضتیں اسلامی طریق تو نہیں ہیں،لیکن کہا جاتا ہے کہ کبھی کبھی آپ کی ملاقات کے لئے ہندو جوگی بھی آجایا کرتے تھے۔ ہو سکتا ہے کہ کسی جوگی نے آپ کے سامنے اس قسم کی ریاضت کے فوائد بیان کئے ہوں اور آپ نے امتحان کی غرض سے اس پر عمل کر ڈالا ہو۔ مولانا اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں کہ اس نوع کے چلے اور حبس دم وغیرہ کی ریاضتیں دین اسلام کا تو کوئی حصہ نہیں ہیں لیکن ان کے کچھ نتائج طبعی طور پر پیدا ہونے لگتے ہیں، شرع نہ ان سے روکتی ہے نہ ان کی کوئی ترغیب دلاتی ہے۔ گوتم بدھ نے ایک مدت سخت ریاضتیں کیں اور پھر اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ سب بے فائدہ، بنجر اور بانجھ تھیں۔ ان مزمل اور مدثر لقب نبی نے، لاکھوں درود اور سلام ان پر ہوں، جو خود راتوں کو عبادت میں اتنا کھڑے رہتے کہ پاؤں سوج سوج جاتے، اپنے بعض صحابیوں کو لمبی نمازوں اور متواتر روزوں سے منع فرمایا اور کہا تم اس معاملے میں میری نقل نہ کرو کہ مجھے تو خدا کھلاتا پلاتا ہے۔ اس سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ہر شخص کو سخت ریاضت نفع نہیں دیتی۔ البتہ وہ رہبر جو اپنے مریدوں کی طبائع اور مخفی قوتوں کو پہچانتا ہو، انہیں اس راہ پر لگائے تو لگا بھی سکتا ہے۔ یہ بات نفسیات کے ماہر عام طور پر تسلیم کرتے ہیں کہ اذیت انسان کے خفیہ قوا کو بیدار کرتی ہے، لیکن کون سے خفیہ قوا؟ کیا انسان ہوا میں اڑنے لگتا ہے؟ کیا اس کی بصیرت اتنی ترقی کر جاتی ہے کہ وہ دوسروں کے دل کی بات جاننے لگتا ہے، کیا اسے براہ راست خدا، بندے اور کائنات کے تعلق کا مشاہدہ حاصل ہوجاتا ہے؟ کیا اس کے دل میں انسانیت کی محبت زیادہ ہوجاتی ہے؟ کیا اس کی قوت ارادی درجہ کمال کو چھونے لگتی ہے؟ یا کچھ اور؟ افسوس ہے کہ ہمیں ریاضتوں اور تقشف کا کوئی ذاتی تجربہ نہیں، اس لئے ہم ان کے نتائج کے متعلق دوسروں کی رائے ہی بتا سکتے تھے اور واللہ اعلم بالصواب کہہ کر اس قضیے کو ختم کرتے ہیں۔ | |||
معلوم نہیں کہ فریدؒ کب تک اپنے مرشد کی خدمت میں دہلی رہے، لیکن وہ اپنے پاس لوگوں کی بکثرت آمدورفت سے تنگ آگئے کیونکہ وہ ان کی عبادت کی یکسوئی میں خلل انداز ہونے لگ گئے تھے۔ چنانچہ آپ نے مرشد سے دہلی چھوڑ دینے کی اجازت چاہی، جو انہیں بادل نخواستہ دے دی گئی۔ ان کے روانہ ہونے سے پہلے مرشد نے مریدوں کے حلقے میں اعلان کیا کہ میری وفات پر فریدؒ ہی میرے جانشین ہوں گے۔ (آگے چل کر جب فریدؒ ان کی وفات پر دہلی پہنچے تھے تو قاضی حمید الدین ناگوری نے مرحوم خواجہؒ کا عصا، نعلین اور خرقہ جو روحانی وراثت کا نشان ہوتے ہیں، انہیں سونپ دیئے تھے۔ پھر وہ کچھ عرصہ اپنے مرشد کی گدی پر دہلی میں بیٹھے تھے، لیکن وہاں امراء کی سازشوں اور پرشور زندگی سے جلد ہی اکتا کر واپس چلے آئے تھے) دہلی سے رخصت ہو کر آپ ہانسی میں آن بسے، جو ان دنوں ایک چھاؤنی ہوتی تھی۔ آپ نے بارہ سال یا کچھ زیادہ مدت یہاں قیام فرمایا، لیکن جب خلقت یہاں بھی ان کے گرد جمع ہونے لگی تو وہاں سے اٹھ کر اپنے قدیم وطن ملتان آگئے، لیکن شہروں کے لوگ آپ کو کہاں چھوڑتے تھے۔ یہاں بھی دہلی اور ہانسی جیسا حال ہونے لگا تو آپ نے اجودھن کے قریب، جسے آج کل پاک پتن کہتے ہیں، ایک بے آباد جگہ اپنی سکونت کے لئے پسند کی اور اپنے اہل خانہ کی مدد سے یہاں پر ایک جماعت خانہ گارے اور کچی اینٹوں سے تعمیر کیا۔ حرم کعبہ کی طرح اس عمارت کی بنیادبھی نہایت بے سروسامانی میں رکھی گئی اور اسی کی طرح خدا نے اسے ایسی برکت دی کہ آج بھی وہ مرجع خلائق ہے۔ | |||
آپ کے جماعت خانے میں ہر خاص و عام کوآنے اور ٹھہرنے کی اجازت تھی، حالانکہ آپ ہی کے بعض ہم عصر مشائخ مثلاً بہاؤ الدین زکریاؒ صرف خاص خاص آدمیوں کو اپنے پاس ٹھہرنے کی اجازت دیتے تھے۔ فقراء سے ملاقات کا ایک دستور یہ ہے کہ ان کے پاس آنے والے لوگ کچھ نہ کچھ بطور نذرانہ یا ہدیہ انہیں پیش کرتے ہیں، جنہیں ’’فتوحات‘‘ کہا جاتا ہے۔ بابا فریدؒ انہیں جماعت خانے میں آنے والوں کے کھانے پینے اور گرد و نواح کے غریبوں اور مسکینوں کی حاجت روائی پر خرچ کردیتے اور خود اپنے اہل خانہ سمیت بڑی تنگی سے بسر کرتے۔ آپ اکثر روزہ رکھتے اور افطار پر ڈیلوں اور دوسرے جنگلی پھلوں اور خشک روٹی ہی کو کافی سمجھتے اور دل کو یوں تسلی دیتے: | |||
رکھی سکھی کھائے کے ٹھنڈا پانی پی | |||
ویکھ پرائی چوپڑی نہ ترساویں جی | |||
مریدوں کو بادشاہوں اور امیروں سے پرے رہنے کی تاکید کرتے ہوئے آپ کہتے ہیں کہ اگر ان سے ملنے ملانے کی خواہش رکھو گے تو اپنے آپ سے مہجور رہو گے، یعنی خودشناسی سے محروم ہو جاؤ گے: | |||
’’گر وصالِ شاہ می داری طمع | |||
از وصالِ خویشتن مہجور باش‘‘ | |||
آنسوؤں کا دوڑ کر کسی جانے والے کی آستین کو پکڑ لینا شاعرانہ تخیل کی نہایت عمدہ مثال ہے۔ ملاحظہ ہو بابا فرید کی یہ رباعی: | |||
دو شینہ شبم دل حزینم بگرفت | |||
و اندیشہ یارِ نازنینم بگرفت | |||
گفتم بسر و دیدہ روم بر درِ تو | |||
اشکم بدوید و آستینم بگرفت | |||
آپ کے ہندوی کلام میں سندھ سے ہند تک کی مقامی بولیوں کے لفظ ملتے ہیں۔ مولوی عبدالحق فریدؒ کے درجِ ذیل شعروں کو اردو کے پہلے معلوم شعر قرار دیتے ہیں: | |||
وقتِ صبح وقتِ مناجات ہے | |||
خیز دراں وقت کہ برکات ہے | |||
نفس مبادا کہ بگوید ترا | |||
خسپ چہ چیزی کہ ابھی رات ہے | |||
آپ کے کئی ہندوی شعر خالص پنجابی بولی اور لہجے میں ہیں اور ان کی تعداد باقی اشعار کے مقابلے میں میں بہت زیادہ ہے۔ ان میں سے بیشتر تو سکھوں کے مقدس آدگرنتھ میں شامل ہیں، لیکن کچھ ایسے بھی ہیں، جو اس میں نہیں۔ | |||
جماعت خانے میں کچھ ایسے فقراء بھی زیر تربیت رہے، جن کا نام آج تک اسلامی دنیا میں روشن ہے۔ ایک ان میں خواجہ نظام الدین اولیاءؒ تھے، جو کم عمری ہی میں اتنے علم و فضل والے شمار ہوتے تھے کہ ان کا آگے چل کر حکومت کے عمائد میں شامل ہونا متوقع تھا، لیکن انہوں نے بابا فریدؒ کے ساتھ فقر و فاقہ میں شریک رہنے کو ترجیح دی اور آخرکار آپ بابا کے جانشین مقرر ہوئے۔ حضرت امیر خسروؒ اور نصیر الدین چراغ دہلی انہی کے مرید تھے۔ بابا فریدؒ کے ایک اور خلیفہ علاؤ الدین صابرؒ تھے، جن کا مزار کلیر میں مرجع خلائق ہے۔ | |||
اکھیں ویکھ پتینیاں سن سن رینے کن | |||
ساکھ پکندی آئی آ، ہور کریندی ون! | |||
جیون ساکھ پک کر رنگ بدلنے لگی۔ باباؒ کی آخری بیماری میں ان کی عیادت کے لئے سید محمد کرمانی دہلی سے اجودھن پہنچے تو آپ نے ان کے سامنے حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ کو اپنا خلیفہ مقرر کیا اور اپنا خرقہ، مصلے اور عصا بطور نشانِ خلافت انہیں دیا کہ خواجہ کو پہنچا دیں۔ اسے قدرت کا کرناہی کہنا چاہئے کہ یہ اسی طرح ہوا جس طرح بہت سال قبل خواجہ بختیار کاکیؒ نے موت کے کنارے پہنچنے پر فریدؒ کی غیر حاضری میں اپنا خرقہ انہیں نشانِ خلافت کے طور پر بھجوایا تھا۔ اب خواجہ نظام الدینؒ حاضر نہیں اور بابا فریدؒ انہیں نشانِ خلافت بھجوا رہے ہیں۔ سن ہجری 664 کی 5 محرم تھی اور عیسوی سن 1265ء کی 17 اکتوبر کو بابا فریدؒ نے اس دارالفنا سے عالم بقاء کی جانب رحلت فرمائی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون | |||
ان کے عربی فارسی اشعار سے قطع نظر کر لیں توبابا فریدؒ کا باقی کلام ملتانی پنجابی میں ہے، جو اپنے نرم اور میٹھے لہجے کی وجہ سے شعر کے لئے ایک خاص طور پر موزون میڈیم ہے۔ جیسے ہم پہلے بھی کہہ آئے ہیں، بابا فریدؒ کا بڑا موضوع با شعور زندگی کا المیہ ہے۔ شک نہیں کہ چند ایک جگہ انہوں نے اپنی عبادتوں میں کشفِ حقیقت کی اہتزاز آور کیفیتوں کا ذکر کیا ہے، بعض جگہ راہِ وفا میں اپنے پرشوق اقدام کی بات کہی ہے اور کہیں کہیں اخلاق آموزی بھی کر ڈالی ہے، لیکن سچ یہی ہے کہ وہ باشعور انسان کی حیات کے المیے کے شاعر ہیں۔ پھر زندگی المیہ ہے تو اس سے بھی بڑا المیہ ہے کہ موت میں نہ صرف حسن، جوانی، مال و جاہ اور ان کا غرور بلکہ عقل و شعور کاچکا چوند کر دینے والا نور اور احساسات و جذبات عالیہ بھی معدوم اور صفر ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اسی لئے بابا فریدؒ کی حساس اور انسانیت دوست طبع نے انہی کو اپنا بڑا موضوع بنایاہے۔ جن ذہنی تصویروں کی مدد سے وہ اپنے موضوع کو ہم تک پہنچاتے ہیں۔ وہ پنجاب کی فضا کی خاص نمائندہ ہیں۔ وہ دریاؤں، ان کی طغیانیوں، بے پناہ ’’ڈھاہوں‘‘، بیڑیوں، ملاحوں، بیلوں، جنگلوں، جنگلی پھلوں، ماکھوں‘‘ اور ریگزاروں کے نقشے ہمارے سامنے لاتے ہیں اور ہم پہچاننے لگتے ہیں کہ ہزار سال پہلے بھی ہمارا یہ وطن کتنا پنجابی اور درد مند دلوں کا پروردگار تھا۔ | |||
بابا فریدؒ کا زمانہ آج سے آٹھ سو سال پہلے کا ہے، اس لئے ان کا کلام بھی اسی زمانے کی پنجابی میں ہے۔ اس قدیم زبان کے بہت سے لفظ آج اتنے غیر مانوس ہو چکے ہیں کہ عصر جدید کے کئی پنجابی بولنے والے انہیں سمجھ نہیں سکتے۔ مثلاً تھوڑے لوگ ہی جانتے ہوں گے کہ ’’دھن‘‘ کے معنی عورت اور ’’کڑی‘‘ کے معنی آواز یا صدا کے ہیں۔ دیکھئے کلام فریدؒ کا پہلا ہی شلوک: | |||
جت دہاڑے دھن وری ساہے لئے لکھاءِ۔۔۔ | |||
فریداؒ کڑی پوندی ای کھڑا نہ آپ مہاء (ا) | |||
حضرت بابا فرید نانک(1469ء سے 1538ء) کو صوفیانہ اور پند آموز کلام جمع کرنے کی بڑی لگن تھی۔ آپ ان کی تلاش میں ’’عصا ہتھ کتاب کچھ‘‘ دور دور کے سفر کیا کرتے تھے۔ اسی غرض سے آپ پاکپتن کے گدی نشین شیخ ابراہیم یا فریدؒ ثانی (تاریخ گدی نشینی 1533ء) سے بھی ملے تھے جنہوں نے بابا فریدؒ کا کلام آپ کو دیا جسے آپ نے گرنتھ صاحب میں شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ کسی تاریخ یا روایت سے معلوم نہیں ہوتا کہ آیا یہ کلام پہلے سے لکھا لکھایا بطور مسودہ آپ کو دے دیا گیا تھا یا آپ کو املا کرایا گیا تھا۔ یہ تو ظاہر ہے کہ اگر یہ مسودہ تھا تو خط فارسی ہی میں ہو گا اور اگر املا کرایا گیا تب بھی غالباً فارسی میں ہو گا کیونکہ بابا نانک ایک مدت سرکاری ملازمت میں رہ چکے تھے جہاں فارسی میں حساب کتاب رکھا جاتا تھا۔ | |||
بابا فریدؒ کے طویل فاقوں کی روایتیں بھی زبان زد خاص و عام ہیں۔ مشہور ہے کہ آپ نے اپنے گلے میں ایک کاٹھ کی روٹی لٹکا رکھی تھی جسے بھوک کے اضطراب میں آپ دانتوں سے کاٹ لیا کرتے تھے۔ آج بہت کم لوگ یہ مانیں گے کہ کوئی شخص محض لکڑی چاٹ کر زندہ رہ سکتا ہے۔ لیکن خود روایت کا بابا فریدؒ کے متعلق ہونا تو کسی نے کبھی نہیں جھٹلایا۔ | |||
روٹی میری کاٹھ دی لاون میری بھکھ | |||
جنھاں کھادی چوپڑی گھنے سہن گے دکھ | |||
بابا فریدؒ نے ایک بڑی لمبی عمر (تقریباً 92 سال) پائی۔ | |||
حضرت خواجہ کاکیؒ نے فریدؒ کو اپنی خانقاہ ہی میں ایک حجرہ سکونت کے لئے دے دیا، جس میں آپ عبادت اور ریاضت میں مصروف رہتے اور گاہے گاہے اپنے مرشد کے روبرو حاضر ہو کر ان سے راہِ سلوک کے لئے ہدایات حاصل کرتے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت خواجہ معین الدین دہلی آئے تو وہ فریدؒ اور ان کی روحانی استعداد سے اس درجہ متاثر ہوئے کہ انہوں نے خواجہ کاکی سے فرمایا ’’بختیار تم نے ایک ایسے شہباز کو گرفتار کر رکھا ہے جس کا مقام سدرۃ المنتہیٰ سے بھی آگے ہے!‘‘ | |||
عوامی روایتوں اور تاریخ سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو شے فریدؒ کو دوسرے رہروانِ جادۂ سلوک سے ممیز کرتی ہے، وہ ان کی انتہائی سخت ریاضتیں اور مجاہدے ہیں۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ آغاز شباب سے لے کر بڑھاپے تک آپ نے سخت ریاضتیں کرنا کبھی ترک نہیں کیا۔ چلہ کشی اور رات رات بھر عبادات میں کھڑے رہنا، مستقل روزے رکھنا اور افطار پر بھی بہت تھوڑا کھانا اور محتاجوں کی دستگیری کے لئے اپنا آرام تج دینا آپ کا طریق رہا۔ ایک روایت یہ بیان کی جاتی ہے کہ ایک دفعہ بھوک کے اضطرار میں آپ نے کچھ کنکر اٹھا کر منہ میں ڈال لئے جو شکر کی طرح میٹھے ہوگئے تھے۔ آپ نے اس کا ذکر اپنے مرشد حضرت بختیار کاکیؒ سے کیا تو انہوں نے آپ کو ’’گنج شکر‘‘ کا لقب عنایت فرمایا، جو آج تک آپ کے نام کے ساتھ بولا جاتا ہے بلکہ بہت سے لوگ تو آپ کا نام ہی گنج شکر سمجھتے ہیں۔ ایک اور روایت جو اکثر بیان کی جاتی ہے، یہ ہے کہ آپ نے اپنے مرشد خواجہ کاکی کی ہدایت پر ایک دفعہ چلہ معکوس کھینچا یعنی چالیس دن ایک ویرانے میں درخت سے الٹے لٹک کر رات رات بھر عبادت کی۔ اگرچہ یہ ضروری نہیں کہ کسی شاعر کے تجرباتِ زندگی اس کے اشعار میں براہِ راست منعکس ہوں، لیکن ہو سکتا ہے کہ فریدؒ کا یہ شعر ایسے ہی جاں گسل چلوں کے متعلق ہو کیونکہ اس میں مذکورہ حالت، یعنی تلوؤں پر پرندوں کی ٹھونگیں سوائے الٹا لٹکے کسی اور صورت میں نہیں پڑ سکتیں۔ | |||
’’تن سکا، پنجر تھیا، تلیاں کھونڈن کاگ | |||
اجے سو رب نہ بوہڑیو، ویکھ بندے دے بھاگ!‘‘ | |||
اس طرح کے چلے اور ریاضتیں اسلامی طریق تو نہیں ہیں،لیکن کہا جاتا ہے کہ کبھی کبھی آپ کی ملاقات کے لئے ہندو جوگی بھی آجایا کرتے تھے۔ ہو سکتا ہے کہ کسی جوگی نے آپ کے سامنے اس قسم کی ریاضت کے فوائد بیان کئے ہوں اور آپ نے امتحان کی غرض سے اس پر عمل کر ڈالا ہو۔ مولانا اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں کہ اس نوع کے چلے اور حبس دم وغیرہ کی ریاضتیں دین اسلام کا تو کوئی حصہ نہیں ہیں لیکن ان کے کچھ نتائج طبعی طور پر پیدا ہونے لگتے ہیں، شرع نہ ان سے روکتی ہے نہ ان کی کوئی ترغیب دلاتی ہے۔ گوتم بدھ نے ایک مدت سخت ریاضتیں کیں اور پھر اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ سب بے فائدہ، بنجر اور بانجھ تھیں۔ ان مزمل اور مدثر لقب نبی نے، لاکھوں درود اور سلام ان پر ہوں، جو خود راتوں کو عبادت میں اتنا کھڑے رہتے کہ پاؤں سوج سوج جاتے، اپنے بعض صحابیوں کو لمبی نمازوں اور متواتر روزوں سے منع فرمایا اور کہا تم اس معاملے میں میری نقل نہ کرو کہ مجھے تو خدا کھلاتا پلاتا ہے۔ اس سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ہر شخص کو سخت ریاضت نفع نہیں دیتی۔ البتہ وہ رہبر جو اپنے مریدوں کی طبائع اور مخفی قوتوں کو پہچانتا ہو، انہیں اس راہ پر لگائے تو لگا بھی سکتا ہے۔ یہ بات نفسیات کے ماہر عام طور پر تسلیم کرتے ہیں کہ اذیت انسان کے خفیہ قوا کو بیدار کرتی ہے، لیکن کون سے خفیہ قوا؟ کیا انسان ہوا میں اڑنے لگتا ہے؟ کیا اس کی بصیرت اتنی ترقی کر جاتی ہے کہ وہ دوسروں کے دل کی بات جاننے لگتا ہے، کیا اسے براہ راست خدا، بندے اور کائنات کے تعلق کا مشاہدہ حاصل ہوجاتا ہے؟ کیا اس کے دل میں انسانیت کی محبت زیادہ ہوجاتی ہے؟ کیا اس کی قوت ارادی درجہ کمال کو چھونے لگتی ہے؟ یا کچھ اور؟ افسوس ہے کہ ہمیں ریاضتوں اور تقشف کا کوئی ذاتی تجربہ نہیں، اس لئے ہم ان کے نتائج کے متعلق دوسروں کی رائے ہی بتا سکتے تھے اور واللہ اعلم بالصواب کہہ کر اس قضیے کو ختم کرتے ہیں۔ | |||
معلوم نہیں کہ فریدؒ کب تک اپنے مرشد کی خدمت میں دہلی رہے، لیکن وہ اپنے پاس لوگوں کی بکثرت آمدورفت سے تنگ آگئے کیونکہ وہ ان کی عبادت کی یکسوئی میں خلل انداز ہونے لگ گئے تھے۔ چنانچہ آپ نے مرشد سے دہلی چھوڑ دینے کی اجازت چاہی، جو انہیں بادل نخواستہ دے دی گئی۔ ان کے روانہ ہونے سے پہلے مرشد نے مریدوں کے حلقے میں اعلان کیا کہ میری وفات پر فریدؒ ہی میرے جانشین ہوں گے۔ (آگے چل کر جب فریدؒ ان کی وفات پر دہلی پہنچے تھے تو قاضی حمید الدین ناگوری نے مرحوم خواجہؒ کا عصا، نعلین اور خرقہ جو روحانی وراثت کا نشان ہوتے ہیں، انہیں سونپ دیئے تھے۔ پھر وہ کچھ عرصہ اپنے مرشد کی گدی پر دہلی میں بیٹھے تھے، لیکن وہاں امراء کی سازشوں اور پرشور زندگی سے جلد ہی اکتا کر واپس چلے آئے تھے) دہلی سے رخصت ہو کر آپ ہانسی میں آن بسے، جو ان دنوں ایک چھاؤنی ہوتی تھی۔ آپ نے بارہ سال یا کچھ زیادہ مدت یہاں قیام فرمایا، لیکن جب خلقت یہاں بھی ان کے گرد جمع ہونے لگی تو وہاں سے اٹھ کر اپنے قدیم وطن ملتان آگئے، لیکن شہروں کے لوگ آپ کو کہاں چھوڑتے تھے۔ یہاں بھی دہلی اور ہانسی جیسا حال ہونے لگا تو آپ نے اجودھن کے قریب، جسے آج کل پاک پتن کہتے ہیں، ایک بے آباد جگہ اپنی سکونت کے لئے پسند کی اور اپنے اہل خانہ کی مدد سے یہاں پر ایک جماعت خانہ گارے اور کچی اینٹوں سے تعمیر کیا۔ حرم کعبہ کی طرح اس عمارت کی بنیادبھی نہایت بے سروسامانی میں رکھی گئی اور اسی کی طرح خدا نے اسے ایسی برکت دی کہ آج بھی وہ مرجع خلائق ہے۔ | |||
آپ کے جماعت خانے میں ہر خاص و عام کوآنے اور ٹھہرنے کی اجازت تھی، حالانکہ آپ ہی کے بعض ہم عصر مشائخ مثلاً بہاؤ الدین زکریاؒ صرف خاص خاص آدمیوں کو اپنے پاس ٹھہرنے کی اجازت دیتے تھے۔ فقراء سے ملاقات کا ایک دستور یہ ہے کہ ان کے پاس آنے والے لوگ کچھ نہ کچھ بطور نذرانہ یا ہدیہ انہیں پیش کرتے ہیں، جنہیں ’’فتوحات‘‘ کہا جاتا ہے۔ بابا فریدؒ انہیں جماعت خانے میں آنے والوں کے کھانے پینے اور گرد و نواح کے غریبوں اور مسکینوں کی حاجت روائی پر خرچ کردیتے اور خود اپنے اہل خانہ سمیت بڑی تنگی سے بسر کرتے۔ آپ اکثر روزہ رکھتے اور افطار پر ڈیلوں اور دوسرے جنگلی پھلوں اور خشک روٹی ہی کو کافی سمجھتے اور دل کو یوں تسلی دیتے: | |||
رکھی سکھی کھائے کے ٹھنڈا پانی پی | |||
ویکھ پرائی چوپڑی نہ ترساویں جی | |||
مریدوں کو بادشاہوں اور امیروں سے پرے رہنے کی تاکید کرتے ہوئے آپ کہتے ہیں کہ اگر ان سے ملنے ملانے کی خواہش رکھو گے تو اپنے آپ سے مہجور رہو گے، یعنی خودشناسی سے محروم ہو جاؤ گے: | |||
’’گر وصالِ شاہ می داری طمع | |||
از وصالِ خویشتن مہجور باش‘‘ | |||
آنسوؤں کا دوڑ کر کسی جانے والے کی آستین کو پکڑ لینا شاعرانہ تخیل کی نہایت عمدہ مثال ہے۔ ملاحظہ ہو بابا فرید کی یہ رباعی: | |||
دو شینہ شبم دل حزینم بگرفت | |||
و اندیشہ یارِ نازنینم بگرفت | |||
گفتم بسر و دیدہ روم بر درِ تو | |||
اشکم بدوید و آستینم بگرفت | |||
آپ کے ہندوی کلام میں سندھ سے ہند تک کی مقامی بولیوں کے لفظ ملتے ہیں۔ مولوی عبدالحق فریدؒ کے درجِ ذیل شعروں کو اردو کے پہلے معلوم شعر قرار دیتے ہیں: | |||
وقتِ صبح وقتِ مناجات ہے | |||
خیز دراں وقت کہ برکات ہے | |||
نفس مبادا کہ بگوید ترا | |||
خسپ چہ چیزی کہ ابھی رات ہے | |||
آپ کے کئی ہندوی شعر خالص پنجابی بولی اور لہجے میں ہیں اور ان کی تعداد باقی اشعار کے مقابلے میں میں بہت زیادہ ہے۔ ان میں سے بیشتر تو سکھوں کے مقدس آدگرنتھ میں شامل ہیں، لیکن کچھ ایسے بھی ہیں، جو اس میں نہیں۔ | |||
جماعت خانے میں کچھ ایسے فقراء بھی زیر تربیت رہے، جن کا نام آج تک اسلامی دنیا میں روشن ہے۔ ایک ان میں خواجہ نظام الدین اولیاءؒ تھے، جو کم عمری ہی میں اتنے علم و فضل والے شمار ہوتے تھے کہ ان کا آگے چل کر حکومت کے عمائد میں شامل ہونا متوقع تھا، لیکن انہوں نے بابا فریدؒ کے ساتھ فقر و فاقہ میں شریک رہنے کو ترجیح دی اور آخرکار آپ بابا کے جانشین مقرر ہوئے۔ حضرت امیر خسروؒ اور نصیر الدین چراغ دہلی انہی کے مرید تھے۔ بابا فریدؒ کے ایک اور خلیفہ علاؤ الدین صابرؒ تھے، جن کا مزار کلیر میں مرجع خلائق ہے۔ | |||
اکھیں ویکھ پتینیاں سن سن رینے کن | |||
ساکھ پکندی آئی آ، ہور کریندی ون! | |||
جیون ساکھ پک کر رنگ بدلنے لگی۔ باباؒ کی آخری بیماری میں ان کی عیادت کے لئے سید محمد کرمانی دہلی سے اجودھن پہنچے تو آپ نے ان کے سامنے حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ کو اپنا خلیفہ مقرر کیا اور اپنا خرقہ، مصلے اور عصا بطور نشانِ خلافت انہیں دیا کہ خواجہ کو پہنچا دیں۔ اسے قدرت کا کرناہی کہنا چاہئے کہ یہ اسی طرح ہوا جس طرح بہت سال قبل خواجہ بختیار کاکیؒ نے موت کے کنارے پہنچنے پر فریدؒ کی غیر حاضری میں اپنا خرقہ انہیں نشانِ خلافت کے طور پر بھجوایا تھا۔ اب خواجہ نظام الدینؒ حاضر نہیں اور بابا فریدؒ انہیں نشانِ خلافت بھجوا رہے ہیں۔ سن ہجری 664 کی 5 محرم تھی اور عیسوی سن 1265ء کی 17 اکتوبر کو بابا فریدؒ نے اس دارالفنا سے عالم بقاء کی جانب رحلت فرمائی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون | |||
ان کے عربی فارسی اشعار سے قطع نظر کر لیں توبابا فریدؒ کا باقی کلام ملتانی پنجابی میں ہے، جو اپنے نرم اور میٹھے لہجے کی وجہ سے شعر کے لئے ایک خاص طور پر موزون میڈیم ہے۔ جیسے ہم پہلے بھی کہہ آئے ہیں، بابا فریدؒ کا بڑا موضوع با شعور زندگی کا المیہ ہے۔ شک نہیں کہ چند ایک جگہ انہوں نے اپنی عبادتوں میں کشفِ حقیقت کی اہتزاز آور کیفیتوں کا ذکر کیا ہے، بعض جگہ راہِ وفا میں اپنے پرشوق اقدام کی بات کہی ہے اور کہیں کہیں اخلاق آموزی بھی کر ڈالی ہے، لیکن سچ یہی ہے کہ وہ باشعور انسان کی حیات کے المیے کے شاعر ہیں۔ پھر زندگی المیہ ہے تو اس سے بھی بڑا المیہ ہے کہ موت میں نہ صرف حسن، جوانی، مال و جاہ اور ان کا غرور بلکہ عقل و شعور کاچکا چوند کر دینے والا نور اور احساسات و جذبات عالیہ بھی معدوم اور صفر ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اسی لئے بابا فریدؒ کی حساس اور انسانیت دوست طبع نے انہی کو اپنا بڑا موضوع بنایاہے۔ جن ذہنی تصویروں کی مدد سے وہ اپنے موضوع کو ہم تک پہنچاتے ہیں۔ وہ پنجاب کی فضا کی خاص نمائندہ ہیں۔ وہ دریاؤں، ان کی طغیانیوں، بے پناہ ’’ڈھاہوں‘‘، بیڑیوں، ملاحوں، بیلوں، جنگلوں، جنگلی پھلوں، ماکھوں‘‘ اور ریگزاروں کے نقشے ہمارے سامنے لاتے ہیں اور ہم پہچاننے لگتے ہیں کہ ہزار سال پہلے بھی ہمارا یہ وطن کتنا پنجابی اور درد مند دلوں کا پروردگار تھا۔ | |||
بابا فریدؒ کا زمانہ آج سے آٹھ سو سال پہلے کا ہے، اس لئے ان کا کلام بھی اسی زمانے کی پنجابی میں ہے۔ اس قدیم زبان کے بہت سے لفظ آج اتنے غیر مانوس ہو چکے ہیں کہ عصر جدید کے کئی پنجابی بولنے والے انہیں سمجھ نہیں سکتے۔ مثلاً تھوڑے لوگ ہی جانتے ہوں گے کہ ’’دھن‘‘ کے معنی عورت اور ’’کڑی‘‘ کے معنی آواز یا صدا کے ہیں۔ دیکھئے کلام فریدؒ کا پہلا ہی شلوک: | |||
جت دہاڑے دھن وری ساہے لئے لکھاءِ۔۔۔ | |||
فریداؒ کڑی پوندی ای کھڑا نہ آپ مہاء (ا) | |||
حضرت بابا فرید نانک(1469ء سے 1538ء) کو صوفیانہ اور پند آموز کلام جمع کرنے کی بڑی لگن تھی۔ آپ ان کی تلاش میں ’’عصا ہتھ کتاب کچھ‘‘ دور دور کے سفر کیا کرتے تھے۔ اسی غرض سے آپ پاکپتن کے گدی نشین شیخ ابراہیم یا فریدؒ ثانی (تاریخ گدی نشینی 1533ء) سے بھی ملے تھے جنہوں نے بابا فریدؒ کا کلام آپ کو دیا جسے آپ نے گرنتھ صاحب میں شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ کسی تاریخ یا روایت سے معلوم نہیں ہوتا کہ آیا یہ کلام پہلے سے لکھا لکھایا بطور مسودہ آپ کو دے دیا گیا تھا یا آپ کو املا کرایا گیا تھا۔ یہ تو ظاہر ہے کہ اگر یہ مسودہ تھا تو خط فارسی ہی میں ہو گا اور اگر املا کرایا گیا تب بھی غالباً فارسی میں ہو گا کیونکہ بابا نانک ایک مدت سرکاری ملازمت میں رہ چکے تھے جہاں فارسی میں حساب کتاب رکھا جاتا تھا۔ | |||
بابا فریدؒ کے طویل فاقوں کی روایتیں بھی زبان زد خاص و عام ہیں۔ مشہور ہے کہ آپ نے اپنے گلے میں ایک کاٹھ کی روٹی لٹکا رکھی تھی جسے بھوک کے اضطراب میں آپ دانتوں سے کاٹ لیا کرتے تھے۔ آج بہت کم لوگ یہ مانیں گے کہ کوئی شخص محض لکڑی چاٹ کر زندہ رہ سکتا ہے۔ لیکن خود روایت کا بابا فریدؒ کے متعلق ہونا تو کسی نے کبھی نہیں جھٹلایا۔ | |||
روٹی میری کاٹھ دی لاون میری بھکھ | |||
جنھاں کھادی چوپڑی گھنے سہن گے دکھ | |||
بابا فریدؒ نے ایک بڑی لمبی عمر (تقریباً 92 سال) پائی۔ | |||
== وصال == | == وصال == | ||
نسخہ بمطابق 19:35، 3 جولائی 2026ء
| بابا فرید الدین گنج شکر | |
|---|---|
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 1173ء |
| پیدائش کی جگہ | کھتوال |
| وفات | 690 ھ |
| وفات کی جگہ | ملتان |
| اساتذہ | خواجہ معین الدین چستی |
| مذہب | اسلام بریلوی، سنی |
| مناصب | صوفی، اور مبلغ اور سلسلۂ چستیہ کا سربراہ |
فرید الدین مسعود گنج شکر، بارہویں صدی کے مسلمان مبلغ اور صوفی بزرگ تھے اور ان کو قرون وسطی کے سب سے ممتاز اور قابل احترام صوفیا میں سے ایک کہا گیا ہے۔ ان کا مزار پاک پتن، پاکستان میں واقع ہے۔ آپ کا تعلق سلسلہ چشتیہ سے ہے اور آپ اہل سنت حنفی بزرگ گذرے ہیں۔ ان کا شمارر چشتیہ سلاسل کے معروف ترین بزرگان دین میں ہوتا ہے، سلسلہ چشتیہ میں سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز کے بعد سب سے زیادہ شہرت آپ ہی کے حصے میں آئی، آپ کے مریدین کی تعداد لاکھوں اور خلفا کی تعداد 700 ہے، چھ سو خلفا انسانوں میں اور سو خلفا جنات میں سے تھے، آپ مجذوب السالک تھے یعنی آپ کی روحانیت کے تین حصے جذب کے اور ایک حصہ سلوک پر مشتمل تھا۔
تعارف
فرید عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں ’’یکتا‘‘ ، ’’بے مثال‘‘ اور ’’لاثانی‘‘۔ بابا فریدؒ کا شمار چھٹی صدی ہجری کے کبار صوفیاء میں ہوتا ہے آپ کی پیدائش 584ھ بمطابق 1173ء میں کھتوال میں ہوئی۔
آپ کا نسب حضرت عمر فاروق سے ملتا ہے۔ آپ کابل کے بادشاہ فرخ شاہ کے خاندان سے تھے۔ آپ کے والد کا نام جمال الدین سلیمان جبکہ والدہ قرسم بی بی تھیں جو نہایت عابدہ و زاہدہ تھیں۔ آپ کے والد آپ کے بچپن میں ہی انتقال کرگئے تھے۔ والدہ محترمہ نے اس بچے کی تربیت کی اور اسے گوہر کامل بنادیا[1]۔
نام اور شجرہ نسب
آپ کا نام مسعود اور والدین کا نام سلیمان تھا اسی نسبت سے مسعود بن سلیمان کہلائے، آپ فاروقی ہیں، آپ کا شجرہ نسب عمر بن الخطاب سے جاملتا ہے۔
القابات
بابا فرید کی زندگی کے ہزار رنگ ہیں اور ہر رنگ الگ گفتگو کا تقاضا کرتا ہے۔ ان کا تعلق عوام سے تھا وہ عوامی ثقافت کے محافظ تھے۔ مساوات کے قائل تھے اور انسان دوستی کا درس دیتے تھے۔
پنجاب میں سید علی ہجویری (داتا گنج بخش) کے بعد جس صوفی بزرگ نے نمایاں مقام حاصل کیا وہ بابا فریدالدین ہیں۔ ان کا تعلق چشتیہ مکتب فکر سے تھا۔ تصوف کی چشتیہ روایت کا آغاز دسویں صدی عیسوی میں ہوا تھا۔
چشتیہ سلسلے کو مربوط اور منظم کرنے کا کارنامہ بابا فریدؒ نے انجام دیا۔ ان کی حیات، فلسفہ اور تعلیمات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خالق کائنات کی خوشنودی اور معرفت حق ان کا مقصود تھا۔ آپ کے 101 القابات مشہور تھے
جس میں خواجہ فرید، بابا فرید، مولانا فرید، منصور فرید، متوکل فرید، متقی فرید، معلم فرید، قطب المواحدین، شیخ فرید، شیخ فرید گنج شکر، جہاں گشت فرید، صوفی فرید، محقق فرید، عبداللہ فرید، حاجی الحاجات وغیرہ شامل ہیں۔
ابتدائی تعلیم
بابا فرید ملتان میں منہاج الدین کی مسجد میں زیر تعلیم تھے جہاں ان کی ملاقات جناب بختیار کاکی اوشی سے ہوئی اور وہ ان کی ارادت میں چلے گئے۔ اپنے مرشد کے حکم پر بین الاقوامی اور سماجی تعلیم کے لیے قندھار اور دوسرے شہروں میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد دلی پہنچ گئے۔
ابتدائی تعلیم والدہ ماجدہ سے حاصل کی۔ گیارہ برس کی عمر میں قرآن مجید حفظ کرلیا۔اسی زمانے میں آپ کی ذہانت اور نیکی کا چرچا پورے شہر میں ہوگیا۔ اپنے دور کے مروجہ ظاہری علوم کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد ملتان کا قصد کیا۔
مولانا منہاج الدین ترمذی سے فقہ کی معروف کتاب ’نافع‘ پڑھی اور علوم دینیہ حاصل کرنے کے بعد قندھار تشریف لے گئے وہاں پانچ برس قیام فرمایا۔ تفسیر، حدیث، فقہ، صرف و نحو اور منطق میں اعلیٰ قابلیت حاصل کی۔
بابا فرید ریاضت، عبادت، معاہدہ،فقر اور ترک وتجدید میں بے مثال تھے۔ اس کے بعد وہ دہلی روانہ ہوگئے اور اپنے مرشد کے زیر نگرانی روحانی تربیت کے مدارج طے کیے۔ انہوں نے کافی عرصہ ہانسی میں بھی قیام کیا۔
ہانسی کی تنہائی سے انہوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور صوفی ازم کی چاروں منازل عالم ناسوت، عالم ملکوت، عالم جبروت اور عالم لاہوت طے کیں۔ ہانسی کے 20 سالہ قیام کے دوران دینی علوم کے ساتھ ساتھ باطنی اور روحانی علوم بھی حاصل کیے۔ شریعت اور طریقت میں عروج حاصل کیا۔
ان کا چلۂ معکوس (چالیس دن تک کنویں میں الٹے لٹکے رہنا) کی روایت کا ذکر بھی ملتا ہے۔اپنے مرشد کے انتقال کے بعد چشتیہ سلسلے کے سربراہ بنے اور اجودھن میں رہائش پذیر ہوئے یہاں پر لوگ ان کے حلقہ ارادت میں داخل ہوئے۔
وہاں پر انہوں نے ایک جماعت خانے کی بنیاد رکھی جہاں پر ہر وقت بہت سے دانشور اور صوفی ہر وقت موجود رہتے تھے انہیں عربی، فارسی، پنجابی اور ملتانی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔
پیر طریقت
آپ نے قطب الاقطاب حضرت قطب الدین بختیار کاکی اوشی کے دست حق پر بیعت کی جو خواجہ معین الدین چشتی کے جانشین تھے۔
آپ کویہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ آپ کو بیک وقت آپ کے پیرو مرشد خواجہ قطب الدین بختیار کاکی سمیت سلطان الہند خواجہ معین الدین چشتی المعروف خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ نے بیک وقت روحانی قوت عطا کی اس موقع پر سلطان الہند نے تاریخی الفاظ ادا کیے کہ قطب الدین تم ایک شہباز کو زیر دام لائے ہو جس کے بعد آپ کو شہباز لامکاں کا لقب عطا ہوا کہ جس کا ٹھکانہ کہیں نہیں صرف سدرۃ المنتہیٰ پر ہے۔
مریدین خاص
- قطب عالم شیخ جمال الدین ہانسویؒ(محبوب ترین مرید)
- حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءمحبوب الٰہی (نظامی سلسلے کے بانی)
- حضرت مخدوم علاء الدین احمد صابر کلیری (صابری سلسلے کے بانی)
- حضرت خواجہ بدرالدین اسحاق (داماد)
- بابا منگھوپیرؒ(کراچی میں مدفون ہوئے)
- حضرت شمس الدین ترک پانی پتی (جنہیں آپ نے صابر کلیری کے ساتھ کردیا تھا)
- شیخ نجیب الدین متوکلؒ(بھائی)
= چار ہم عصر اولیائے کرام
حضرت شیخ بہا الدین زکریا ملتانی: آپ سہروردی سلسلے کے بزگ ہیں، ملتان میں مدفون ہوئے۔ بابا فرید الدین مسعود گنج شکر: صاحب عرس، آپ سے فریدی سلسلہ جاری ہوا، پاک پتن میں مدفون ہوئے۔ حضرت جلال الدین سرخ بخاری: نام سے ہی ظاہر ہے، آپ جلالی کیفیت کے حامل تھے حضرت عثمان بن مروندی المعروف حضرت لعل شہباز قلندر : آپ چاروں دوستوں میں سب سے کم عمر تھے، سیہون میں آپ کا مزار مرجع الخلائق ہے۔
درگاہ خاص حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء کے صاحب شجرہ خواجہ امین الدین نظامی کے مطابق آپ چاروں دوست تھے، سب سے کم عمر لعل شہباز قلندر تھے، آپ چاروں سہروردی سلسلے کے بانی پیر طریقت شیخ شہاب الدین سہرودری کی خدمت میں حاضری کے لیے بغداد روانہ ہوئے، نصف شب کو پہنچے، شیخ شہاب نے حضرت عثمان کو بلایا،
ان سے خدمت لی، سینے سے لگا کر علم منتقل کیا اور انہیں لعل شہباز قلندرؒبنادیا، بعدازاں باری باری تینوں بزرگوں کو بلایا اور اپنی تصنیف عوارف المعارف(تصوف کی شہرہ آفاق کتاب) کا درس دیا اور مراتب سے نوازا۔
بابا فرید نے اپنے چھ خلفا کبیر کو چھ علاقہ ولایت عطا کیے، قطب عالم شیخ جمال الدین ہانسوی کو ہانسی، خواجہ نظام الدین اولیاء کو غیاث پور(دلی)، مخدوم صابر کلیری کو کلیر شریف، منگھوپیر بابا کو کراچی کا علاقہ عطا کیا۔
جبکہ اپنے داماد شیخ بدر الدین اسحاق کو اپنے ساتھ رکھا جب کہ لعل شہباز قلندر کو سیہون شریف بھیجا، ہر خلفا کبیر کے ماتحت سوسو خلفا رکھے جو کہ چھ سو ہوئے جب کہ سو خلفا جنات میں سے تھے یوں 700 کی تعداد پوری ہوتی ہے۔
حضرت لعل شہباز قلندر بابا فرید کا بہت احترام کرتے تھے، آپ کے حکم پر لعل شہباز قلندر بابا منگھوپیر بابا سے ملنے کراچی تشریف لائے اس وقت یہ جگہ غیر آباد تھی، آپ کا مسکن ندی کنارے تھے، لعل شہاز قلندر ندی سے آپ کے گھر تک مگرمچھ پر سفر کرکے گئے،
بعدازاں آپ کے چند خلفا منگھوپیر بابا کی خدمت میں آئے تو آپ بھی اپنے پیرو مرشد شیخ لعل شہباز کی تقلید مگر مچھ پر سواری کرکے گئے بعدازاں وہ سارے مگر مچھ منگھوپیربابا کے مزار پررہ گئے اور انہیں وہاں کے مجاوروں نے باقاعدہ خوراک دی، ان ہی مگرمچھوں کی نسل کے مگر مچھ آج تک مزار کے احاطے میں موجود ہیں۔
اولادیں
آپ نے دو شادیاں کی، چھ اولاد نرینہ اور تین اولاد زرینہ پائیں
- شیخ بدرالدین سلیمان
- شیخ شہاب الدین گنج علم
- شیخ نظام الدین شہید
- شیخ یعقوب
- شیخ عبداللہ
- شیخ نصراللہ
- بی بی فاطمہ
- بی بی شریفہ
- بی بی مستورہ۔
گنج شکر کی وجہ تسمیہ
اس ضمن میں کتب تصوف میں چار روایتیں ہمیں ملتی ہیں۔ اول: روایت یہ ہے کہ بچپن میں آپ کی نماز کی عادت کوبرقرار کھنے کے لیے آپ کی والدہ قرسم خاتون آپ کے مصلے کے نیچے چپکے سے شکر رکھ دیا کرتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ جو بچہ نماز پڑھتا ہے اسےاللہ تعالیٰ شکر عطا کرتا ہے
ایک دن شکر رکھنا بھول گئیں لیکن غیب سے مصلے کےنیچے سے پھر بھی شکر نکل آئی جس پر قرسم خاتون کی آنکھیں بھر آئیں اور انہوں نے لاج رکھنے کا خدا کا شکر ادا کیا۔
دوسری: روایت یہ ہے کہ آپ درخت کےنیچے آرام فرما تھا کچھ تاجر چینی لے کر گزرے آپ کے استفسار کہہ دیا کہ یہ تو نمک ہے تو آپ نے فرمایا کہ نمک ہی ہوگا، بعد ازاں تاجر وں نے بازار پہنچ کر بوریاں کھولیں تو نمک ملا، واپس آکر معافی کے طلب گار ہوئے تو آپ نے فرمایا بوریوں میں چینی ہے تو چینی ہی ہوگی، بوریاں کھولی گئیں تو چینی نکلی۔
تیسری: روایت یہ ہے کہ آپ ضعف کے سبب رات کے اندھیرے میں ذکر الٰہی کرتے ہوئے گزرے اور گرپڑے ، منہ میں جو مٹی آئی وہ شکر بن گئی تو آپ کے پیرو مرشد نے آپ کو شکر گنج قرار دیا
چوتھی: روایت ہے کہ آپ نے پیرومرشد کے کہنے پر طے کے روزے رکھے، آپ پانچ سے چھ دن سے روزے سے تھے محض پانی سے روزہ رکھ رہے تھے، ضعف اور مدہوشی میں آپ نے مٹی اٹھا کر منہ میں ڈال لی جو چینی بن گئی[2]۔
خاندانی پس منظر
فرید الدین گنج شکر کا اصل نام مسعود اور لقب فرید الدین تھا۔ آپ کی ولادت 1173ء بہ مطابق 589ھ میں ہُوئی اور وصال1265ء بہ مطابق 666ھ میں ہوا۔ آپ کا خاندانی نام فرید الدین مسعود ہے اور والدہ کا نام قرسم خاتون اور والد محترم قاضی جلال الدین ہیں۔
بابا فرید پانچ سال کی عمر میں یتیم ہو گئے تھے آپ بغیر کسی شک و شبہ کے پنجابی ادب کے پہلے اور پنجابی شاعری کی بُنیاد مانے جاتے ہیں۔ آپ کا شمار برصغیر کے مُشہور بزرگوں میں ہوتا ہے جنھوں نے اسلام کی شمع جلائی اور صرف ایک اللہ کی دُنیا کی پہچان کروائی۔
بابا فرید584/ 1173 میں ملتان کے ایک قصبے کھوتووال میں پیدا ہوئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے آباء کابل کے فرخ شاہ کی اولاد میں سے تھے۔ کہتے ہیں کہ بابا فرید کے والد شیخ شعیب سلطان محمود غزنوی کے بھانجے تھے جو شہاب الدین غوری کے زمانے میں ملتان کے قصبہ کھوتووال میں آ کر آباد ہوئے۔
بعض روایات کے مطابق ان کے دادا ہجرت کر کے لاہور آئے اور اس کے بعد کچھ وقت قصور میں گزار کر کھوتوال چلے گئے۔
شاعری
بابا فریدالدین گنج شکر ایک صوفی شاعر ہیں۔ ان کی شاعری میں وہ تمام عنصر موجود ہیں جن کا تعلق اور جڑیں تصوف اور روحانیت سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے انسانی زندگی کے مسائل اور سماجیات کو اپنی شاعری کی بنیاد بنایا ہے۔
انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے اپنے دور میں موجود بہت سی سماجی برائیوں اور رسم و رواج کا بائیکاٹ کیا۔ انہوں نے اپنے پیرو مرشد کے حکم سے اجودھن (پاک پتن) کے ویرانے میں ایک بستی بسائی جو اب پاک پتن کے نام سے مشہور ہے۔
انہوں نے نسل انسانی کی وحدت کے عقیدے کو اختیار کیا۔ یہی وجہ تھی کہ ادنیٰ و اعلیٰ، عالم وجاہل، مفلس و منعم، ہندو اور مسلم، صوفی اور جوگی سب ان کے پاس آتے اور ان سے فیض پاتے تھے۔ ایک دفعہ کسی نے ان کو قینچی تحفے میں پیش کی تو انہوں نے کہا کہ مجھے سوئی اور دھاگہ دو کیونکہ میں کاٹنے کے لیے نہیں بلکہ جوڑنے کے لیے آیا ہوں۔
وہ ایک ایسے معاشرے کے بانی تھے جو برداشت، رواداری اور احترام انسانیت کے اصولوں کو ماننے والا تھا۔ وہ بین المذہی تفہیم کو فروغ دینے والے اور تنگ نظری سے بچ کر زندگی کا گُر سکھانے والے تھے۔
وہ عالم بھی تھے، لوگوں کے پیرو مرشد بھی تھے۔ باعمل صوفی بھی اور باشعور شاعر بھی۔ ان کی شاعری میں انسانی دکھ درد کو سمجھنے اور مداوا تلاش کرنے کی مخلصانہ سعی ملتی ہے۔ ان کی تعلیمات کا آغاز خاک سے ہوتا ہے۔ خاکساری سے ہوتا ہے۔
وہ بھٹکے ہوئے لوگوں کو بار بار بلاتے ہیں۔ انہیں رفتگان کی مثالیں دیتے ہیں۔ ایسی مثالیں جو اچانک نیند سے بیدار کردیتی ہیں۔
بہت سے شعار اور کافیاں بھی ان کے ساتھ منسوب ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جب بابافرید نے چلۂ معکوس کاٹا اسی دوران ایک کوا آیا اور آپ کے جسم پر چونچیں مارنے لگا آپ نے منع نہیں کیا لیکن جب اس نے آپ کی آنکھ پر چونچ ماری تو آپ نے فرمایا:
کاگا کُرنگ ڈھنڈولیا، ہگلا کھایا ماس
ایہہ دونینا مت چھوہیو، پریا دیکھن کی آس
اے کوے تو نے میرے بدن کا سارا گوشت نوچ کر کھا لیا ہے میں تم سے منت کرتا ہوں کہ یہ میری دو آنکھیں نہ کھانا کیونکہ مجھے اپنے پیا کو دیکھنے کی آس ہے۔
ان کی شاعری میں مواد، لفظ، معنی، زبان اور اسلوب کی وہ گہرائی پائی جاتی ہے جس نے ہر شخص کو متاثر کیا۔ اس تاثر میں مذہب، عقیدہ اور مزاج بھی رکاوٹ نہیں بن سکے۔
دیگر چشتی مفکرین کی طرح بابا فریدؒ بھی موسیقی کے شائق تھے۔ وہ فرماتے تھے کہ رحمت باری کا نزول تین مواقع پر ضرور ہوتا ہے [3]۔
چشتیہ سربراہ
مرشد کی وفات پر ان کو چشتیہ سنگت کا سربراہ بنایا گیا۔ وہ معین الدین چشتی اور قطب الدین بختیار کاکی کے بعد اس کے تیسرے سربراہ تھے۔ اور حضرت محبوبِ الٰہی خواجہ نظام الدین اولیاء کے مرشد تھے۔
عظیم صوفی بزرگ تھے جنھوں نے جاگیر ہونے کے باوجود اجودھن (پاکپتن) جو اس وقت کفرستان تھا، قبرستان میں اگنے والی جھاڑی (کری) سے ڈیلے حاصل کر کے پانی میں ابال کر کھاتے لیکن کبھی کسی سے مستعار شے لے کر نہ کھائی۔
انھوں نے دیگر علما کرام، صوفیا کرام، مشائخ اور درویشوں کی طرح محبت، بھائی چارے، امن و امان اور باہمی میل جول کا درس دیا جس سے متاثر ہو کر لوگوں نے اسلام قبول کیا۔
تعلیمات
بابا فرید کی تعلیمات بنیادی طور پر وہی ہیں جو ان سے دو صدیاں پہلے سید علی ہجویریؒ متعارف کرواچکے تھے ان کے ہاں بھی مذہبی قانون اور داخلی صوفیانہ صداقت میں ہم آہنگی پیدا کرنے کا رجحان غالب نظر آتا ہے۔
بابا فرید کی وجہ سے تصوف پنجاب میں ایک عوامی تحریک بن گیا تھا۔ وہ فرماتے تھے کہ صوفی وہ ہے جس کا ظاہر اور باطن صفات سے خارج نہ ہو۔ صوفی کے لیے دنیا کی آسائشوں اور بشریت کی گندگی سے محفوظ رہنا بھی ضروری ہے۔
وہ ایک چشمہ خیرو برکت تھے۔ اس چشمے سے فیض حاصل کرنے کے لیے خاص و عام کی کوئی تخصیص نہ تھی۔ آپ کی زندگی کا اولین مقصد اسلام کی تبلیغ تھا جس میں شب و روز مصروف رہتے تھے۔
آپ کی طبیعت میں بڑا توازن اور سکون تھا۔ انتہائی بدترین اشتعال کے سامنے بھی برہمی کا اظہار نہیں کرتے تھے۔ دوسروں کی خطائیں معاف کردیتے تھے۔ ہندو یوگی ان کی خانقاہ میں آتے تھے اور ان سے کسب فیض کرتے تھے۔
بابا فرید کشف و کرامات کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے اور نہ ہی ان کے پابند تھے۔ صاحب فضیلت بزرگ:
بابا فرید بہت صاحب فضیلت تھے جب انہوں نے شہرت حاصل کی اور دور دور تک ان کی کرامات کا ذکر ہونے لگا تو بہت سے بادشاہ اور امراء آپ کے معتقد ہوگئے۔ آپ کے کلام میں ایسی تاثیر تھی کہ گائوں کے گائوں آپ کے مرید ہوگئے تھے۔
بابا فرید کو شیرینی بہت پسند تھی اور شکر آپ کی پسندیدہ تھی مشہور ہے کہ ایک بار شکر کے بیوپاری گدھوں پر شکر کی بوریاں لادے ہوئے آپ کے سامنے سے گزر رہے تھے۔
آپ نے ان سے شکر کی قلیل مقدار خریدنی چاہی تو انہوں نے بہانہ بناکر شکر نہیں نمک ہے۔ آپ نے مسکرا کر فرمایا ٹھیک ہے نمک ہی ہوگا۔ وہ سوداگر جب منزل مقصود پر پہنچے اور بورے کھولے تو دیکھا سب شکر نمک میں تبدیل ہوچکی تھی۔
پشیمان ہوکر بابا جی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دعا کے طالب ہوئے۔ آپ نے کمال شفقت سے فرمایا شکر ہوجائے گی۔ چنانچہ وہ نمک شکر ہوگیا۔کہا جاتا ہے کہ اس دن سے آپ گنج شکر کے لقب سے مشہور ہوگئے۔
پنجاب کی طرف ہجرت
شعیب پنجاب میں وارد ہوئے تو غزنوی حکومت روبہ زوال تھی۔ تاہم اس وقت بھی لاہور، ملتان اور اچ اسلامی علوم کے مرکز شمار ہوتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ حکومت نے شعیب کو ان کی علمی فضیلت کے پیش نظر ملتان کا قاضی مقرر کر دیا۔
جہاں انہوں نے اس کی ایک اضافی بستی کوٹھیوال میں سکونت اختیار کر لی۔ شعیب کے تین بیٹوں میں سے منجھلے جمال الدین سلیمان تھے، جن کی شادی نزدیک ہی رہنے والے شیخ وجیہہ الدین خجندی کی بیٹی قرسوم سے کر دی گئی۔ فریدؒ انہی کے گھر 1173ء یا 1175ء میں پیدا ہوئے۔
پیدائش پر ان کا نام فرید الدین مسعود رکھا گیا۔ ’’گنج شکر‘‘ ان کا لقب ہے، جو بعد میں مشہور ہوا۔ فریدؒ کی ابتدائی تعلیم و تربیت ان کی والدہ قرسوم بی بی ہی نے کی، جو ایک نہایت دیندار خاتون تھیں۔
انہوں نے فرید کو نماز، روزے اور دوسری عبادات کاایسا پابند بنا دیا کہ وہ نوجوانی ہی میں عابد و زاہد مشہور ہوگئے۔ اٹھارہ سال کی عمر میں وہ تکمیلِ تعلیم کے لئے ملتان میں مولانا منہاج الدین کے مدرسے میں داخل ہوگئے۔
یہاں ایک دن آپ مدرسے کے صحن میں مصروف مطالعہ تھے کہ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی جو حضرت خواجہ معین الدین چشتی کے خلیفۂ بزرگ تھے، وہاں وارد ہوئے۔
دونوں ایک دوسرے سے ملے۔ اس پہلی ہی ملاقات میں فریدؒ حضرت بختیار کاکیؒ کی روحانی عظمت سے ایسے متاثر ہوئے کہ جب خواجہؒ دہلی چلنے لگے تو آپ ان کے ہمراہ ہو لئے اور دہلی پہنچ کر (جو 1192ء سے مسلمانوں کے تسلط میں آچکا تھا) ایک تقریب میں جہاں بہت سے مقامی مشائخ جمع تھے، ان سے بیعت ہوگئے۔
تازہ ترین حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر ؒ Sep 29, 2017
IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app
بابا فریدؒ کے دادا شعیب ایک علمی خاندان کے فرد اور کابل کے رہنے والے تھے۔ وہ 12ویں صدی کے اواخر میں، غالباً غوریوں کے کابل پر حملہ آور ہونے کی وجہ سے ترکِ وطن کر کے قصور اور لاہور سے ہوتے ہوئے ملتان پہنچے اور پھر وہیں سکونت اختیار کر لی۔ شعیب پنجاب میں وارد ہوئے تو غزنوی حکومت روبہ زوال تھی۔ تاہم اس وقت بھی لاہور، ملتان اور اچ اسلامی علوم کے مرکز شمار ہوتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ حکومت نے شعیب کو ان کی علمی فضیلت کے پیش نظر ملتان کا قاضی مقرر کر دیا۔ جہاں انہوں نے اس کی ایک اضافی بستی کوٹھیوال میں سکونت اختیار کر لی۔ شعیب کے تین بیٹوں میں سے منجھلے جمال الدین سلیمان تھے، جن کی شادی نزدیک ہی رہنے والے شیخ وجیہہ الدین خجندی کی بیٹی قرسوم سے کر دی گئی۔ فریدؒ انہی کے گھر 1173ء یا 1175ء میں پیدا ہوئے۔پیدائش پر ان کا نام فرید الدین مسعود رکھا گیا۔ ’’گنج شکر‘‘ ان کا لقب ہے، جو بعد میں مشہور ہوا۔ فریدؒ کی ابتدائی تعلیم و تربیت ان کی والدہ قرسوم بی بی ہی نے کی، جو ایک نہایت دیندار خاتون تھیں۔ انہوں نے فریدؒ کو نماز، روزے اور دوسری عبادات کاایسا پابند بنا دیا کہ وہ نوجوانی ہی میں عابد و زاہد مشہور ہوگئے۔ اٹھارہ سال کی عمر میں وہ تکمیلِ تعلیم کے لئے ملتان میں مولانا منہاج الدین کے مدرسے میں داخل ہوگئے۔ یہاں ایک دن آپ مدرسے کے صحن میں مصروف مطالعہ تھے کہ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ جو حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کے خلیف�ۂ بزرگ تھے، وہاں وارد ہوئے۔ دونوں ایک دوسرے سے ملے۔ اس پہلی ہی ملاقات میں فریدؒ حضرت بختیار کاکیؒ کی روحانی عظمت سے ایسے متاثر ہوئے کہ جب خواجہؒ دہلی چلنے لگے تو آپ ان کے ہمراہ ہو لئے اور دہلی پہنچ کر (جو 1192ء سے مسلمانوں کے تسلط میں آچکا تھا) ایک تقریب میں جہاں بہت سے مقامی مشائخ جمع تھے، ان سے بیعت ہوگئے۔ حضرت خواجہ کاکیؒ نے فریدؒ کو اپنی خانقاہ ہی میں ایک حجرہ سکونت کے لئے دے دیا، جس میں آپ عبادت اور ریاضت میں مصروف رہتے اور گاہے گاہے اپنے مرشد کے روبرو حاضر ہو کر ان سے راہِ سلوک کے لئے ہدایات حاصل کرتے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت خواجہ معین الدین دہلی آئے تو وہ فریدؒ اور ان کی روحانی استعداد سے اس درجہ متاثر ہوئے کہ انہوں نے خواجہ کاکی سے فرمایا ’’بختیار تم نے ایک ایسے شہباز کو گرفتار کر رکھا ہے جس کا مقام سدرۃ المنتہیٰ سے بھی آگے ہے!‘‘ عوامی روایتوں اور تاریخ سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو شے فریدؒ کو دوسرے رہروانِ جادۂ سلوک سے ممیز کرتی ہے، وہ ان کی انتہائی سخت ریاضتیں اور مجاہدے ہیں۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ آغاز شباب سے لے کر بڑھاپے تک آپ نے سخت ریاضتیں کرنا کبھی ترک نہیں کیا۔ چلہ کشی اور رات رات بھر عبادات میں کھڑے رہنا، مستقل روزے رکھنا اور افطار پر بھی بہت تھوڑا کھانا اور محتاجوں کی دستگیری کے لئے اپنا آرام تج دینا آپ کا طریق رہا۔ ایک روایت یہ بیان کی جاتی ہے کہ ایک دفعہ بھوک کے اضطرار میں آپ نے کچھ کنکر اٹھا کر منہ میں ڈال لئے جو شکر کی طرح میٹھے ہوگئے تھے۔ آپ نے اس کا ذکر اپنے مرشد حضرت بختیار کاکیؒ سے کیا تو انہوں نے آپ کو ’’گنج شکر‘‘ کا لقب عنایت فرمایا، جو آج تک آپ کے نام کے ساتھ بولا جاتا ہے بلکہ بہت سے لوگ تو آپ کا نام ہی گنج شکر سمجھتے ہیں۔ ایک اور روایت جو اکثر بیان کی جاتی ہے، یہ ہے کہ آپ نے اپنے مرشد خواجہ کاکی کی ہدایت پر ایک دفعہ چلہ معکوس کھینچا یعنی چالیس دن ایک ویرانے میں درخت سے الٹے لٹک کر رات رات بھر عبادت کی۔ اگرچہ یہ ضروری نہیں کہ کسی شاعر کے تجرباتِ زندگی اس کے اشعار میں براہِ راست منعکس ہوں، لیکن ہو سکتا ہے کہ فریدؒ کا یہ شعر ایسے ہی جاں گسل چلوں کے متعلق ہو کیونکہ اس میں مذکورہ حالت، یعنی تلوؤں پر پرندوں کی ٹھونگیں سوائے الٹا لٹکے کسی اور صورت میں نہیں پڑ سکتیں۔ ’’تن سکا، پنجر تھیا، تلیاں کھونڈن کاگ اجے سو رب نہ بوہڑیو، ویکھ بندے دے بھاگ!‘‘ اس طرح کے چلے اور ریاضتیں اسلامی طریق تو نہیں ہیں،لیکن کہا جاتا ہے کہ کبھی کبھی آپ کی ملاقات کے لئے ہندو جوگی بھی آجایا کرتے تھے۔ ہو سکتا ہے کہ کسی جوگی نے آپ کے سامنے اس قسم کی ریاضت کے فوائد بیان کئے ہوں اور آپ نے امتحان کی غرض سے اس پر عمل کر ڈالا ہو۔ مولانا اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں کہ اس نوع کے چلے اور حبس دم وغیرہ کی ریاضتیں دین اسلام کا تو کوئی حصہ نہیں ہیں لیکن ان کے کچھ نتائج طبعی طور پر پیدا ہونے لگتے ہیں، شرع نہ ان سے روکتی ہے نہ ان کی کوئی ترغیب دلاتی ہے۔ گوتم بدھ نے ایک مدت سخت ریاضتیں کیں اور پھر اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ سب بے فائدہ، بنجر اور بانجھ تھیں۔ ان مزمل اور مدثر لقب نبی نے، لاکھوں درود اور سلام ان پر ہوں، جو خود راتوں کو عبادت میں اتنا کھڑے رہتے کہ پاؤں سوج سوج جاتے، اپنے بعض صحابیوں کو لمبی نمازوں اور متواتر روزوں سے منع فرمایا اور کہا تم اس معاملے میں میری نقل نہ کرو کہ مجھے تو خدا کھلاتا پلاتا ہے۔ اس سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ہر شخص کو سخت ریاضت نفع نہیں دیتی۔ البتہ وہ رہبر جو اپنے مریدوں کی طبائع اور مخفی قوتوں کو پہچانتا ہو، انہیں اس راہ پر لگائے تو لگا بھی سکتا ہے۔ یہ بات نفسیات کے ماہر عام طور پر تسلیم کرتے ہیں کہ اذیت انسان کے خفیہ قوا کو بیدار کرتی ہے، لیکن کون سے خفیہ قوا؟ کیا انسان ہوا میں اڑنے لگتا ہے؟ کیا اس کی بصیرت اتنی ترقی کر جاتی ہے کہ وہ دوسروں کے دل کی بات جاننے لگتا ہے، کیا اسے براہ راست خدا، بندے اور کائنات کے تعلق کا مشاہدہ حاصل ہوجاتا ہے؟ کیا اس کے دل میں انسانیت کی محبت زیادہ ہوجاتی ہے؟ کیا اس کی قوت ارادی درجہ کمال کو چھونے لگتی ہے؟ یا کچھ اور؟ افسوس ہے کہ ہمیں ریاضتوں اور تقشف کا کوئی ذاتی تجربہ نہیں، اس لئے ہم ان کے نتائج کے متعلق دوسروں کی رائے ہی بتا سکتے تھے اور واللہ اعلم بالصواب کہہ کر اس قضیے کو ختم کرتے ہیں۔ معلوم نہیں کہ فریدؒ کب تک اپنے مرشد کی خدمت میں دہلی رہے، لیکن وہ اپنے پاس لوگوں کی بکثرت آمدورفت سے تنگ آگئے کیونکہ وہ ان کی عبادت کی یکسوئی میں خلل انداز ہونے لگ گئے تھے۔ چنانچہ آپ نے مرشد سے دہلی چھوڑ دینے کی اجازت چاہی، جو انہیں بادل نخواستہ دے دی گئی۔ ان کے روانہ ہونے سے پہلے مرشد نے مریدوں کے حلقے میں اعلان کیا کہ میری وفات پر فریدؒ ہی میرے جانشین ہوں گے۔ (آگے چل کر جب فریدؒ ان کی وفات پر دہلی پہنچے تھے تو قاضی حمید الدین ناگوری نے مرحوم خواجہؒ کا عصا، نعلین اور خرقہ جو روحانی وراثت کا نشان ہوتے ہیں، انہیں سونپ دیئے تھے۔ پھر وہ کچھ عرصہ اپنے مرشد کی گدی پر دہلی میں بیٹھے تھے، لیکن وہاں امراء کی سازشوں اور پرشور زندگی سے جلد ہی اکتا کر واپس چلے آئے تھے) دہلی سے رخصت ہو کر آپ ہانسی میں آن بسے، جو ان دنوں ایک چھاؤنی ہوتی تھی۔ آپ نے بارہ سال یا کچھ زیادہ مدت یہاں قیام فرمایا، لیکن جب خلقت یہاں بھی ان کے گرد جمع ہونے لگی تو وہاں سے اٹھ کر اپنے قدیم وطن ملتان آگئے، لیکن شہروں کے لوگ آپ کو کہاں چھوڑتے تھے۔ یہاں بھی دہلی اور ہانسی جیسا حال ہونے لگا تو آپ نے اجودھن کے قریب، جسے آج کل پاک پتن کہتے ہیں، ایک بے آباد جگہ اپنی سکونت کے لئے پسند کی اور اپنے اہل خانہ کی مدد سے یہاں پر ایک جماعت خانہ گارے اور کچی اینٹوں سے تعمیر کیا۔ حرم کعبہ کی طرح اس عمارت کی بنیادبھی نہایت بے سروسامانی میں رکھی گئی اور اسی کی طرح خدا نے اسے ایسی برکت دی کہ آج بھی وہ مرجع خلائق ہے۔ آپ کے جماعت خانے میں ہر خاص و عام کوآنے اور ٹھہرنے کی اجازت تھی، حالانکہ آپ ہی کے بعض ہم عصر مشائخ مثلاً بہاؤ الدین زکریاؒ صرف خاص خاص آدمیوں کو اپنے پاس ٹھہرنے کی اجازت دیتے تھے۔ فقراء سے ملاقات کا ایک دستور یہ ہے کہ ان کے پاس آنے والے لوگ کچھ نہ کچھ بطور نذرانہ یا ہدیہ انہیں پیش کرتے ہیں، جنہیں ’’فتوحات‘‘ کہا جاتا ہے۔ بابا فریدؒ انہیں جماعت خانے میں آنے والوں کے کھانے پینے اور گرد و نواح کے غریبوں اور مسکینوں کی حاجت روائی پر خرچ کردیتے اور خود اپنے اہل خانہ سمیت بڑی تنگی سے بسر کرتے۔ آپ اکثر روزہ رکھتے اور افطار پر ڈیلوں اور دوسرے جنگلی پھلوں اور خشک روٹی ہی کو کافی سمجھتے اور دل کو یوں تسلی دیتے: رکھی سکھی کھائے کے ٹھنڈا پانی پی ویکھ پرائی چوپڑی نہ ترساویں جی مریدوں کو بادشاہوں اور امیروں سے پرے رہنے کی تاکید کرتے ہوئے آپ کہتے ہیں کہ اگر ان سے ملنے ملانے کی خواہش رکھو گے تو اپنے آپ سے مہجور رہو گے، یعنی خودشناسی سے محروم ہو جاؤ گے: ’’گر وصالِ شاہ می داری طمع از وصالِ خویشتن مہجور باش‘‘ آنسوؤں کا دوڑ کر کسی جانے والے کی آستین کو پکڑ لینا شاعرانہ تخیل کی نہایت عمدہ مثال ہے۔ ملاحظہ ہو بابا فرید کی یہ رباعی: دو شینہ شبم دل حزینم بگرفت و اندیشہ یارِ نازنینم بگرفت گفتم بسر و دیدہ روم بر درِ تو اشکم بدوید و آستینم بگرفت آپ کے ہندوی کلام میں سندھ سے ہند تک کی مقامی بولیوں کے لفظ ملتے ہیں۔ مولوی عبدالحق فریدؒ کے درجِ ذیل شعروں کو اردو کے پہلے معلوم شعر قرار دیتے ہیں: وقتِ صبح وقتِ مناجات ہے خیز دراں وقت کہ برکات ہے نفس مبادا کہ بگوید ترا خسپ چہ چیزی کہ ابھی رات ہے آپ کے کئی ہندوی شعر خالص پنجابی بولی اور لہجے میں ہیں اور ان کی تعداد باقی اشعار کے مقابلے میں میں بہت زیادہ ہے۔ ان میں سے بیشتر تو سکھوں کے مقدس آدگرنتھ میں شامل ہیں، لیکن کچھ ایسے بھی ہیں، جو اس میں نہیں۔ جماعت خانے میں کچھ ایسے فقراء بھی زیر تربیت رہے، جن کا نام آج تک اسلامی دنیا میں روشن ہے۔ ایک ان میں خواجہ نظام الدین اولیاءؒ تھے، جو کم عمری ہی میں اتنے علم و فضل والے شمار ہوتے تھے کہ ان کا آگے چل کر حکومت کے عمائد میں شامل ہونا متوقع تھا، لیکن انہوں نے بابا فریدؒ کے ساتھ فقر و فاقہ میں شریک رہنے کو ترجیح دی اور آخرکار آپ بابا کے جانشین مقرر ہوئے۔ حضرت امیر خسروؒ اور نصیر الدین چراغ دہلی انہی کے مرید تھے۔ بابا فریدؒ کے ایک اور خلیفہ علاؤ الدین صابرؒ تھے، جن کا مزار کلیر میں مرجع خلائق ہے۔ اکھیں ویکھ پتینیاں سن سن رینے کن ساکھ پکندی آئی آ، ہور کریندی ون! جیون ساکھ پک کر رنگ بدلنے لگی۔ باباؒ کی آخری بیماری میں ان کی عیادت کے لئے سید محمد کرمانی دہلی سے اجودھن پہنچے تو آپ نے ان کے سامنے حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ کو اپنا خلیفہ مقرر کیا اور اپنا خرقہ، مصلے اور عصا بطور نشانِ خلافت انہیں دیا کہ خواجہ کو پہنچا دیں۔ اسے قدرت کا کرناہی کہنا چاہئے کہ یہ اسی طرح ہوا جس طرح بہت سال قبل خواجہ بختیار کاکیؒ نے موت کے کنارے پہنچنے پر فریدؒ کی غیر حاضری میں اپنا خرقہ انہیں نشانِ خلافت کے طور پر بھجوایا تھا۔ اب خواجہ نظام الدینؒ حاضر نہیں اور بابا فریدؒ انہیں نشانِ خلافت بھجوا رہے ہیں۔ سن ہجری 664 کی 5 محرم تھی اور عیسوی سن 1265ء کی 17 اکتوبر کو بابا فریدؒ نے اس دارالفنا سے عالم بقاء کی جانب رحلت فرمائی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ان کے عربی فارسی اشعار سے قطع نظر کر لیں توبابا فریدؒ کا باقی کلام ملتانی پنجابی میں ہے، جو اپنے نرم اور میٹھے لہجے کی وجہ سے شعر کے لئے ایک خاص طور پر موزون میڈیم ہے۔ جیسے ہم پہلے بھی کہہ آئے ہیں، بابا فریدؒ کا بڑا موضوع با شعور زندگی کا المیہ ہے۔ شک نہیں کہ چند ایک جگہ انہوں نے اپنی عبادتوں میں کشفِ حقیقت کی اہتزاز آور کیفیتوں کا ذکر کیا ہے، بعض جگہ راہِ وفا میں اپنے پرشوق اقدام کی بات کہی ہے اور کہیں کہیں اخلاق آموزی بھی کر ڈالی ہے، لیکن سچ یہی ہے کہ وہ باشعور انسان کی حیات کے المیے کے شاعر ہیں۔ پھر زندگی المیہ ہے تو اس سے بھی بڑا المیہ ہے کہ موت میں نہ صرف حسن، جوانی، مال و جاہ اور ان کا غرور بلکہ عقل و شعور کاچکا چوند کر دینے والا نور اور احساسات و جذبات عالیہ بھی معدوم اور صفر ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اسی لئے بابا فریدؒ کی حساس اور انسانیت دوست طبع نے انہی کو اپنا بڑا موضوع بنایاہے۔ جن ذہنی تصویروں کی مدد سے وہ اپنے موضوع کو ہم تک پہنچاتے ہیں۔ وہ پنجاب کی فضا کی خاص نمائندہ ہیں۔ وہ دریاؤں، ان کی طغیانیوں، بے پناہ ’’ڈھاہوں‘‘، بیڑیوں، ملاحوں، بیلوں، جنگلوں، جنگلی پھلوں، ماکھوں‘‘ اور ریگزاروں کے نقشے ہمارے سامنے لاتے ہیں اور ہم پہچاننے لگتے ہیں کہ ہزار سال پہلے بھی ہمارا یہ وطن کتنا پنجابی اور درد مند دلوں کا پروردگار تھا۔ بابا فریدؒ کا زمانہ آج سے آٹھ سو سال پہلے کا ہے، اس لئے ان کا کلام بھی اسی زمانے کی پنجابی میں ہے۔ اس قدیم زبان کے بہت سے لفظ آج اتنے غیر مانوس ہو چکے ہیں کہ عصر جدید کے کئی پنجابی بولنے والے انہیں سمجھ نہیں سکتے۔ مثلاً تھوڑے لوگ ہی جانتے ہوں گے کہ ’’دھن‘‘ کے معنی عورت اور ’’کڑی‘‘ کے معنی آواز یا صدا کے ہیں۔ دیکھئے کلام فریدؒ کا پہلا ہی شلوک: جت دہاڑے دھن وری ساہے لئے لکھاءِ۔۔۔ فریداؒ کڑی پوندی ای کھڑا نہ آپ مہاء (ا) حضرت بابا فرید نانک(1469ء سے 1538ء) کو صوفیانہ اور پند آموز کلام جمع کرنے کی بڑی لگن تھی۔ آپ ان کی تلاش میں ’’عصا ہتھ کتاب کچھ‘‘ دور دور کے سفر کیا کرتے تھے۔ اسی غرض سے آپ پاکپتن کے گدی نشین شیخ ابراہیم یا فریدؒ ثانی (تاریخ گدی نشینی 1533ء) سے بھی ملے تھے جنہوں نے بابا فریدؒ کا کلام آپ کو دیا جسے آپ نے گرنتھ صاحب میں شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ کسی تاریخ یا روایت سے معلوم نہیں ہوتا کہ آیا یہ کلام پہلے سے لکھا لکھایا بطور مسودہ آپ کو دے دیا گیا تھا یا آپ کو املا کرایا گیا تھا۔ یہ تو ظاہر ہے کہ اگر یہ مسودہ تھا تو خط فارسی ہی میں ہو گا اور اگر املا کرایا گیا تب بھی غالباً فارسی میں ہو گا کیونکہ بابا نانک ایک مدت سرکاری ملازمت میں رہ چکے تھے جہاں فارسی میں حساب کتاب رکھا جاتا تھا۔ بابا فریدؒ کے طویل فاقوں کی روایتیں بھی زبان زد خاص و عام ہیں۔ مشہور ہے کہ آپ نے اپنے گلے میں ایک کاٹھ کی روٹی لٹکا رکھی تھی جسے بھوک کے اضطراب میں آپ دانتوں سے کاٹ لیا کرتے تھے۔ آج بہت کم لوگ یہ مانیں گے کہ کوئی شخص محض لکڑی چاٹ کر زندہ رہ سکتا ہے۔ لیکن خود روایت کا بابا فریدؒ کے متعلق ہونا تو کسی نے کبھی نہیں جھٹلایا۔ روٹی میری کاٹھ دی لاون میری بھکھ جنھاں کھادی چوپڑی گھنے سہن گے دکھ بابا فریدؒ نے ایک بڑی لمبی عمر (تقریباً 92 سال) پائی۔ حضرت خواجہ کاکیؒ نے فریدؒ کو اپنی خانقاہ ہی میں ایک حجرہ سکونت کے لئے دے دیا، جس میں آپ عبادت اور ریاضت میں مصروف رہتے اور گاہے گاہے اپنے مرشد کے روبرو حاضر ہو کر ان سے راہِ سلوک کے لئے ہدایات حاصل کرتے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت خواجہ معین الدین دہلی آئے تو وہ فریدؒ اور ان کی روحانی استعداد سے اس درجہ متاثر ہوئے کہ انہوں نے خواجہ کاکی سے فرمایا ’’بختیار تم نے ایک ایسے شہباز کو گرفتار کر رکھا ہے جس کا مقام سدرۃ المنتہیٰ سے بھی آگے ہے!‘‘ عوامی روایتوں اور تاریخ سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو شے فریدؒ کو دوسرے رہروانِ جادۂ سلوک سے ممیز کرتی ہے، وہ ان کی انتہائی سخت ریاضتیں اور مجاہدے ہیں۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ آغاز شباب سے لے کر بڑھاپے تک آپ نے سخت ریاضتیں کرنا کبھی ترک نہیں کیا۔ چلہ کشی اور رات رات بھر عبادات میں کھڑے رہنا، مستقل روزے رکھنا اور افطار پر بھی بہت تھوڑا کھانا اور محتاجوں کی دستگیری کے لئے اپنا آرام تج دینا آپ کا طریق رہا۔ ایک روایت یہ بیان کی جاتی ہے کہ ایک دفعہ بھوک کے اضطرار میں آپ نے کچھ کنکر اٹھا کر منہ میں ڈال لئے جو شکر کی طرح میٹھے ہوگئے تھے۔ آپ نے اس کا ذکر اپنے مرشد حضرت بختیار کاکیؒ سے کیا تو انہوں نے آپ کو ’’گنج شکر‘‘ کا لقب عنایت فرمایا، جو آج تک آپ کے نام کے ساتھ بولا جاتا ہے بلکہ بہت سے لوگ تو آپ کا نام ہی گنج شکر سمجھتے ہیں۔ ایک اور روایت جو اکثر بیان کی جاتی ہے، یہ ہے کہ آپ نے اپنے مرشد خواجہ کاکی کی ہدایت پر ایک دفعہ چلہ معکوس کھینچا یعنی چالیس دن ایک ویرانے میں درخت سے الٹے لٹک کر رات رات بھر عبادت کی۔ اگرچہ یہ ضروری نہیں کہ کسی شاعر کے تجرباتِ زندگی اس کے اشعار میں براہِ راست منعکس ہوں، لیکن ہو سکتا ہے کہ فریدؒ کا یہ شعر ایسے ہی جاں گسل چلوں کے متعلق ہو کیونکہ اس میں مذکورہ حالت، یعنی تلوؤں پر پرندوں کی ٹھونگیں سوائے الٹا لٹکے کسی اور صورت میں نہیں پڑ سکتیں۔ ’’تن سکا، پنجر تھیا، تلیاں کھونڈن کاگ اجے سو رب نہ بوہڑیو، ویکھ بندے دے بھاگ!‘‘ اس طرح کے چلے اور ریاضتیں اسلامی طریق تو نہیں ہیں،لیکن کہا جاتا ہے کہ کبھی کبھی آپ کی ملاقات کے لئے ہندو جوگی بھی آجایا کرتے تھے۔ ہو سکتا ہے کہ کسی جوگی نے آپ کے سامنے اس قسم کی ریاضت کے فوائد بیان کئے ہوں اور آپ نے امتحان کی غرض سے اس پر عمل کر ڈالا ہو۔ مولانا اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں کہ اس نوع کے چلے اور حبس دم وغیرہ کی ریاضتیں دین اسلام کا تو کوئی حصہ نہیں ہیں لیکن ان کے کچھ نتائج طبعی طور پر پیدا ہونے لگتے ہیں، شرع نہ ان سے روکتی ہے نہ ان کی کوئی ترغیب دلاتی ہے۔ گوتم بدھ نے ایک مدت سخت ریاضتیں کیں اور پھر اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ سب بے فائدہ، بنجر اور بانجھ تھیں۔ ان مزمل اور مدثر لقب نبی نے، لاکھوں درود اور سلام ان پر ہوں، جو خود راتوں کو عبادت میں اتنا کھڑے رہتے کہ پاؤں سوج سوج جاتے، اپنے بعض صحابیوں کو لمبی نمازوں اور متواتر روزوں سے منع فرمایا اور کہا تم اس معاملے میں میری نقل نہ کرو کہ مجھے تو خدا کھلاتا پلاتا ہے۔ اس سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ہر شخص کو سخت ریاضت نفع نہیں دیتی۔ البتہ وہ رہبر جو اپنے مریدوں کی طبائع اور مخفی قوتوں کو پہچانتا ہو، انہیں اس راہ پر لگائے تو لگا بھی سکتا ہے۔ یہ بات نفسیات کے ماہر عام طور پر تسلیم کرتے ہیں کہ اذیت انسان کے خفیہ قوا کو بیدار کرتی ہے، لیکن کون سے خفیہ قوا؟ کیا انسان ہوا میں اڑنے لگتا ہے؟ کیا اس کی بصیرت اتنی ترقی کر جاتی ہے کہ وہ دوسروں کے دل کی بات جاننے لگتا ہے، کیا اسے براہ راست خدا، بندے اور کائنات کے تعلق کا مشاہدہ حاصل ہوجاتا ہے؟ کیا اس کے دل میں انسانیت کی محبت زیادہ ہوجاتی ہے؟ کیا اس کی قوت ارادی درجہ کمال کو چھونے لگتی ہے؟ یا کچھ اور؟ افسوس ہے کہ ہمیں ریاضتوں اور تقشف کا کوئی ذاتی تجربہ نہیں، اس لئے ہم ان کے نتائج کے متعلق دوسروں کی رائے ہی بتا سکتے تھے اور واللہ اعلم بالصواب کہہ کر اس قضیے کو ختم کرتے ہیں۔ معلوم نہیں کہ فریدؒ کب تک اپنے مرشد کی خدمت میں دہلی رہے، لیکن وہ اپنے پاس لوگوں کی بکثرت آمدورفت سے تنگ آگئے کیونکہ وہ ان کی عبادت کی یکسوئی میں خلل انداز ہونے لگ گئے تھے۔ چنانچہ آپ نے مرشد سے دہلی چھوڑ دینے کی اجازت چاہی، جو انہیں بادل نخواستہ دے دی گئی۔ ان کے روانہ ہونے سے پہلے مرشد نے مریدوں کے حلقے میں اعلان کیا کہ میری وفات پر فریدؒ ہی میرے جانشین ہوں گے۔ (آگے چل کر جب فریدؒ ان کی وفات پر دہلی پہنچے تھے تو قاضی حمید الدین ناگوری نے مرحوم خواجہؒ کا عصا، نعلین اور خرقہ جو روحانی وراثت کا نشان ہوتے ہیں، انہیں سونپ دیئے تھے۔ پھر وہ کچھ عرصہ اپنے مرشد کی گدی پر دہلی میں بیٹھے تھے، لیکن وہاں امراء کی سازشوں اور پرشور زندگی سے جلد ہی اکتا کر واپس چلے آئے تھے) دہلی سے رخصت ہو کر آپ ہانسی میں آن بسے، جو ان دنوں ایک چھاؤنی ہوتی تھی۔ آپ نے بارہ سال یا کچھ زیادہ مدت یہاں قیام فرمایا، لیکن جب خلقت یہاں بھی ان کے گرد جمع ہونے لگی تو وہاں سے اٹھ کر اپنے قدیم وطن ملتان آگئے، لیکن شہروں کے لوگ آپ کو کہاں چھوڑتے تھے۔ یہاں بھی دہلی اور ہانسی جیسا حال ہونے لگا تو آپ نے اجودھن کے قریب، جسے آج کل پاک پتن کہتے ہیں، ایک بے آباد جگہ اپنی سکونت کے لئے پسند کی اور اپنے اہل خانہ کی مدد سے یہاں پر ایک جماعت خانہ گارے اور کچی اینٹوں سے تعمیر کیا۔ حرم کعبہ کی طرح اس عمارت کی بنیادبھی نہایت بے سروسامانی میں رکھی گئی اور اسی کی طرح خدا نے اسے ایسی برکت دی کہ آج بھی وہ مرجع خلائق ہے۔ آپ کے جماعت خانے میں ہر خاص و عام کوآنے اور ٹھہرنے کی اجازت تھی، حالانکہ آپ ہی کے بعض ہم عصر مشائخ مثلاً بہاؤ الدین زکریاؒ صرف خاص خاص آدمیوں کو اپنے پاس ٹھہرنے کی اجازت دیتے تھے۔ فقراء سے ملاقات کا ایک دستور یہ ہے کہ ان کے پاس آنے والے لوگ کچھ نہ کچھ بطور نذرانہ یا ہدیہ انہیں پیش کرتے ہیں، جنہیں ’’فتوحات‘‘ کہا جاتا ہے۔ بابا فریدؒ انہیں جماعت خانے میں آنے والوں کے کھانے پینے اور گرد و نواح کے غریبوں اور مسکینوں کی حاجت روائی پر خرچ کردیتے اور خود اپنے اہل خانہ سمیت بڑی تنگی سے بسر کرتے۔ آپ اکثر روزہ رکھتے اور افطار پر ڈیلوں اور دوسرے جنگلی پھلوں اور خشک روٹی ہی کو کافی سمجھتے اور دل کو یوں تسلی دیتے: رکھی سکھی کھائے کے ٹھنڈا پانی پی ویکھ پرائی چوپڑی نہ ترساویں جی مریدوں کو بادشاہوں اور امیروں سے پرے رہنے کی تاکید کرتے ہوئے آپ کہتے ہیں کہ اگر ان سے ملنے ملانے کی خواہش رکھو گے تو اپنے آپ سے مہجور رہو گے، یعنی خودشناسی سے محروم ہو جاؤ گے: ’’گر وصالِ شاہ می داری طمع از وصالِ خویشتن مہجور باش‘‘ آنسوؤں کا دوڑ کر کسی جانے والے کی آستین کو پکڑ لینا شاعرانہ تخیل کی نہایت عمدہ مثال ہے۔ ملاحظہ ہو بابا فرید کی یہ رباعی: دو شینہ شبم دل حزینم بگرفت و اندیشہ یارِ نازنینم بگرفت گفتم بسر و دیدہ روم بر درِ تو اشکم بدوید و آستینم بگرفت آپ کے ہندوی کلام میں سندھ سے ہند تک کی مقامی بولیوں کے لفظ ملتے ہیں۔ مولوی عبدالحق فریدؒ کے درجِ ذیل شعروں کو اردو کے پہلے معلوم شعر قرار دیتے ہیں: وقتِ صبح وقتِ مناجات ہے خیز دراں وقت کہ برکات ہے نفس مبادا کہ بگوید ترا خسپ چہ چیزی کہ ابھی رات ہے آپ کے کئی ہندوی شعر خالص پنجابی بولی اور لہجے میں ہیں اور ان کی تعداد باقی اشعار کے مقابلے میں میں بہت زیادہ ہے۔ ان میں سے بیشتر تو سکھوں کے مقدس آدگرنتھ میں شامل ہیں، لیکن کچھ ایسے بھی ہیں، جو اس میں نہیں۔ جماعت خانے میں کچھ ایسے فقراء بھی زیر تربیت رہے، جن کا نام آج تک اسلامی دنیا میں روشن ہے۔ ایک ان میں خواجہ نظام الدین اولیاءؒ تھے، جو کم عمری ہی میں اتنے علم و فضل والے شمار ہوتے تھے کہ ان کا آگے چل کر حکومت کے عمائد میں شامل ہونا متوقع تھا، لیکن انہوں نے بابا فریدؒ کے ساتھ فقر و فاقہ میں شریک رہنے کو ترجیح دی اور آخرکار آپ بابا کے جانشین مقرر ہوئے۔ حضرت امیر خسروؒ اور نصیر الدین چراغ دہلی انہی کے مرید تھے۔ بابا فریدؒ کے ایک اور خلیفہ علاؤ الدین صابرؒ تھے، جن کا مزار کلیر میں مرجع خلائق ہے۔ اکھیں ویکھ پتینیاں سن سن رینے کن ساکھ پکندی آئی آ، ہور کریندی ون! جیون ساکھ پک کر رنگ بدلنے لگی۔ باباؒ کی آخری بیماری میں ان کی عیادت کے لئے سید محمد کرمانی دہلی سے اجودھن پہنچے تو آپ نے ان کے سامنے حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ کو اپنا خلیفہ مقرر کیا اور اپنا خرقہ، مصلے اور عصا بطور نشانِ خلافت انہیں دیا کہ خواجہ کو پہنچا دیں۔ اسے قدرت کا کرناہی کہنا چاہئے کہ یہ اسی طرح ہوا جس طرح بہت سال قبل خواجہ بختیار کاکیؒ نے موت کے کنارے پہنچنے پر فریدؒ کی غیر حاضری میں اپنا خرقہ انہیں نشانِ خلافت کے طور پر بھجوایا تھا۔ اب خواجہ نظام الدینؒ حاضر نہیں اور بابا فریدؒ انہیں نشانِ خلافت بھجوا رہے ہیں۔ سن ہجری 664 کی 5 محرم تھی اور عیسوی سن 1265ء کی 17 اکتوبر کو بابا فریدؒ نے اس دارالفنا سے عالم بقاء کی جانب رحلت فرمائی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ان کے عربی فارسی اشعار سے قطع نظر کر لیں توبابا فریدؒ کا باقی کلام ملتانی پنجابی میں ہے، جو اپنے نرم اور میٹھے لہجے کی وجہ سے شعر کے لئے ایک خاص طور پر موزون میڈیم ہے۔ جیسے ہم پہلے بھی کہہ آئے ہیں، بابا فریدؒ کا بڑا موضوع با شعور زندگی کا المیہ ہے۔ شک نہیں کہ چند ایک جگہ انہوں نے اپنی عبادتوں میں کشفِ حقیقت کی اہتزاز آور کیفیتوں کا ذکر کیا ہے، بعض جگہ راہِ وفا میں اپنے پرشوق اقدام کی بات کہی ہے اور کہیں کہیں اخلاق آموزی بھی کر ڈالی ہے، لیکن سچ یہی ہے کہ وہ باشعور انسان کی حیات کے المیے کے شاعر ہیں۔ پھر زندگی المیہ ہے تو اس سے بھی بڑا المیہ ہے کہ موت میں نہ صرف حسن، جوانی، مال و جاہ اور ان کا غرور بلکہ عقل و شعور کاچکا چوند کر دینے والا نور اور احساسات و جذبات عالیہ بھی معدوم اور صفر ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اسی لئے بابا فریدؒ کی حساس اور انسانیت دوست طبع نے انہی کو اپنا بڑا موضوع بنایاہے۔ جن ذہنی تصویروں کی مدد سے وہ اپنے موضوع کو ہم تک پہنچاتے ہیں۔ وہ پنجاب کی فضا کی خاص نمائندہ ہیں۔ وہ دریاؤں، ان کی طغیانیوں، بے پناہ ’’ڈھاہوں‘‘، بیڑیوں، ملاحوں، بیلوں، جنگلوں، جنگلی پھلوں، ماکھوں‘‘ اور ریگزاروں کے نقشے ہمارے سامنے لاتے ہیں اور ہم پہچاننے لگتے ہیں کہ ہزار سال پہلے بھی ہمارا یہ وطن کتنا پنجابی اور درد مند دلوں کا پروردگار تھا۔ بابا فریدؒ کا زمانہ آج سے آٹھ سو سال پہلے کا ہے، اس لئے ان کا کلام بھی اسی زمانے کی پنجابی میں ہے۔ اس قدیم زبان کے بہت سے لفظ آج اتنے غیر مانوس ہو چکے ہیں کہ عصر جدید کے کئی پنجابی بولنے والے انہیں سمجھ نہیں سکتے۔ مثلاً تھوڑے لوگ ہی جانتے ہوں گے کہ ’’دھن‘‘ کے معنی عورت اور ’’کڑی‘‘ کے معنی آواز یا صدا کے ہیں۔ دیکھئے کلام فریدؒ کا پہلا ہی شلوک: جت دہاڑے دھن وری ساہے لئے لکھاءِ۔۔۔ فریداؒ کڑی پوندی ای کھڑا نہ آپ مہاء (ا) حضرت بابا فرید نانک(1469ء سے 1538ء) کو صوفیانہ اور پند آموز کلام جمع کرنے کی بڑی لگن تھی۔ آپ ان کی تلاش میں ’’عصا ہتھ کتاب کچھ‘‘ دور دور کے سفر کیا کرتے تھے۔ اسی غرض سے آپ پاکپتن کے گدی نشین شیخ ابراہیم یا فریدؒ ثانی (تاریخ گدی نشینی 1533ء) سے بھی ملے تھے جنہوں نے بابا فریدؒ کا کلام آپ کو دیا جسے آپ نے گرنتھ صاحب میں شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ کسی تاریخ یا روایت سے معلوم نہیں ہوتا کہ آیا یہ کلام پہلے سے لکھا لکھایا بطور مسودہ آپ کو دے دیا گیا تھا یا آپ کو املا کرایا گیا تھا۔ یہ تو ظاہر ہے کہ اگر یہ مسودہ تھا تو خط فارسی ہی میں ہو گا اور اگر املا کرایا گیا تب بھی غالباً فارسی میں ہو گا کیونکہ بابا نانک ایک مدت سرکاری ملازمت میں رہ چکے تھے جہاں فارسی میں حساب کتاب رکھا جاتا تھا۔ بابا فریدؒ کے طویل فاقوں کی روایتیں بھی زبان زد خاص و عام ہیں۔ مشہور ہے کہ آپ نے اپنے گلے میں ایک کاٹھ کی روٹی لٹکا رکھی تھی جسے بھوک کے اضطراب میں آپ دانتوں سے کاٹ لیا کرتے تھے۔ آج بہت کم لوگ یہ مانیں گے کہ کوئی شخص محض لکڑی چاٹ کر زندہ رہ سکتا ہے۔ لیکن خود روایت کا بابا فریدؒ کے متعلق ہونا تو کسی نے کبھی نہیں جھٹلایا۔ روٹی میری کاٹھ دی لاون میری بھکھ جنھاں کھادی چوپڑی گھنے سہن گے دکھ بابا فریدؒ نے ایک بڑی لمبی عمر (تقریباً 92 سال) پائی۔
وصال
سلسلہ چشتیہ کے یہ آفتاب ولایت 95 سال کی عمر میں 5محرم الحرام 690ہجری کو علالت کے سبب دنیا سے پردہ فرما گئے، آپ کے وصال کے وقت آپ کے عزیز ترین محبوب خواجہ نظام الدین اولیاؒ آپ کے پاس نہ تھے جس طرح آپ اپنے پیرومرشد قطب الدین بختیار کاکی کے وصال کےوقت موجود نہ تھے۔
آپ کا مزار مبارک ملتان کے قریب پاک پتن شریف میں واقع ہے جہاں عرس نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے[4]۔
حوالہ جات
- ↑ ماخوذ از ماہنامہ دخترانِ اسلام، اگست 2021ء
- ↑ آفتاب ولایت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر کی زندگی پر ایک نظر-شائع شدہ از: 7 اکتوبر 2016ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 3 جولائی 2026ء
- ↑ بابا فریدالدین گنج شکرؒ - تحریک منہاج القرآن-شائع شدہ از: 14 اگست- 2021ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 3 جولائی 2026ء
- ↑ مضمون کی تیاری میں درج ذیل کتب سے مدد لی گئی، سیرالاولیاء: مولف حضرت امیر خورد کرمانیؒ،فوائدالفواد: مولف حضرت امیر العلا سنجریؒ،خیر المجالس: ملفوظات خواجہ نصیر الدین چراغ دہلی ؒ، کتاب سیرالاقطاب، شیخ اللہ دیا چشتی ،مترجم محمد علی جویا مراد آبادی، اللہ کے سفیر: تصنیف خان آصف