مندرجات کا رخ کریں

"اثنی عشریہ" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
 
سطر 59: سطر 59:
==شیعہ اماموں کے نام==
==شیعہ اماموں کے نام==
شیعہ اثنی عشریہ کے بارہ اماموں کے نام درج ذیل ہیں:
شیعہ اثنی عشریہ کے بارہ اماموں کے نام درج ذیل ہیں:
۱- [[علی ابن ابی طالب|امام علی بن ابی طالب (علیہ السلام)]] شہادت، سال ۴۰ ہجری قمری۔
# [[علی ابن ابی طالب|امام علی بن ابی طالب (علیہ السلام)]] شہادت، سال ۴۰ ہجری قمری۔
۲- [[حسن بن علی|امام حسن بن علی (علیہ السلام)]] شہادت، سال ۴۹ ہجری قمری۔
# [[حسن بن علی|امام حسن بن علی (علیہ السلام)]] شہادت، سال ۴۹ ہجری قمری۔
۳- [[حسین بن علی|امام حسین بن علی (علیہ السلام)]] شہادت سال ۶۱ ہجری قمری۔
# [[حسین بن علی|امام حسین بن علی (علیہ السلام)]] شہادت سال ۶۱ ہجری قمری۔
۴- [[ علی بن حسین |امام علی بن حسین (علیہ السلام)]] شہادت سال ۹۵ ہجری قمری۔
# [[ علی بن حسین |امام علی بن حسین (علیہ السلام)]] شہادت سال ۹۵ ہجری قمری۔
۵- [[محمدبن علی|امام محمد باقر (علیہ السلام)]] شہادت سال ۱۱۵ ہجری قمری۔
# [[محمدبن علی|امام محمد باقر (علیہ السلام)]] شہادت سال ۱۱۵ ہجری قمری۔
۶- [[جعفر بن محمد|امام جعفر صادق (علیہ السلام)]] شہادت سال ۱۴۸ ہجری قمری۔
# [[جعفر بن محمد|امام جعفر صادق (علیہ السلام)]] شہادت سال ۱۴۸ ہجری قمری۔
۷- [[موسی بن جعفر|امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام)]] شہادت سال ۱۸۳ ہجری قمری۔
# [[موسی بن جعفر|امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام)]] شہادت سال ۱۸۳ ہجری قمری۔
۸- [[علی بن موسی|امام علیّ رضا (علیہ السلام)]] شہادت سال ۲۰۳ ہجری قمری۔
# [[علی بن موسی|امام علیّ رضا (علیہ السلام)]] شہادت سال ۲۰۳ ہجری قمری۔
۹- [[محمد بن علی بن موسی|امام محمد جواد (علیہ السلام)]] شہادت سال ۲۲۰ ہجری قمری۔
# [[محمد بن علی بن موسی|امام محمد جواد (علیہ السلام)]] شہادت سال ۲۲۰ ہجری قمری۔
۱۰- [[علی بن محمد|امام علیّ‌النقی (علیہ السلام)]] شہادت سال ۲۵۴ ہجری قمری۔
# [[علی بن محمد|امام علیّ‌النقی (علیہ السلام)]] شہادت سال ۲۵۴ ہجری قمری۔
۱۱- [[حسن بن علی بن محمد|امام حسن عسکری (علیہ السلام)]] شہادت سال ۲۶۰ ہجری قمری۔
# [[حسن بن علی بن محمد|امام حسن عسکری (علیہ السلام)]] شہادت سال ۲۶۰ ہجری قمری۔
۱۲- [[محمد بن حسن المهدی|امام محمد بن الحسن المہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف)]] «آغاز غیبت کبریٰ سال ۳۲۹ ہجری قمری۔
# [[محمد بن حسن المهدی|امام محمد بن الحسن المہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف)]] «آغاز غیبت کبریٰ سال ۳۲۹ ہجری قمری۔


==اثنی عشریہ اماموں کا مقام==
==اثنی عشریہ اماموں کا مقام==

حالیہ نسخہ بمطابق 01:43، 9 مئی 2026ء

اثنی عشریہ
ناماثنی عشریہ
عام نامدوازدہ امامی
نظریہبارہ اماموں کا اعتقاد

اثنی عشریہ، یا بارہ امامیہ، شیعہ فرقوں کے مجموعے میں سب سے بڑا فرقہ ہے۔ یہ فرقہ اعتقاد رکھتا ہے کہ اماموں کی تعداد بارہ ہیں جو علی بن ابی طالب سے شروع ہو کر محمد بن حسن پر ختم ہوتی ہے۔

نام گذاری کی وجہ

اصطلاح اثنی عشریہ ابتدا میں اصطلاح سبعیہ (سات امامیوں) کے مقابلے میں سامنے آئی۔ اثنی عشریہ اپنے اماموں کی تعداد کی درستگی میں جو بارہ ہیں، قرآنی آیات جیسے:

سانچہ:قرآن متن

سانچہ:قرآن متن

سانچہ:قرآن متن کا حوالہ دیتے ہیں۔

امامیہ کے نقطہ نظر سے امامت کی ضرورت کی وجوہات

اہل بیت کی امامت کی ضرورت پر امامیہ کی بعض وجوہات درج ذیل ہیں:

۱- امام میں عصمت کا واجب ہونا، کیونکہ اگر امام معصوم نہ ہو، تو احکام کی تبلیغ میں ان پر بھروسہ ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، غیر معصوم امام امامت اور مسلمانوں کی قیادت میں عدالت کے خلاف رفتار کر سکتا ہے۔ ۲- فتنہ اور اختلاف کے خاتمے کے لیے امام کی نصب ہے اور اگر امام لوگوں کی طرف سے منتخب کیا جائے، تو اختلاف میں اضافہ ہوگا۔ ۳- امامت کا مطلب خلافت ہے جو لازمی طور پر اللہ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ) کی طرف سے خلیفہ مقرر کیا جائے۔ ۴- رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ) کی سیرت اپنی حیات کے دوران مدینہ سے اپنی غیر موجودگی کے مواقع پر جانشین کے تعین پر رہی، لہذا، کیسے ممکن ہے کہ وہ اپنے بعد جانشین مقرر نہ کرتے۔

شیعہ اثنی عشری نص جلی کے قائل ہیں، یعنی جو لوگ «نص» اور امام کے واضح تعین کے قائل ہیں اور اعتقاد رکھتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ) نے «نص جلی» کے ذریعے یوم غدیر خم پر امام علی (علیہ السلام) کو اپنا جانشین منتخب فرمایا

اور صریح طور پر انہیں امت کی امامت پر مقرر فرمایا۔ وہ حضرت علی (علیہ السلام) کی امامت کی وجوہات قرآن اور سنت کی بنیاد پر یوں بیان کرتے ہیں:

سانچہ:قرآن متن یعنی: بے شک تمہارے ولی اللہ اور اس کا رسول اور وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور نماز قائم رکھتے ہیں اور زکات دیتے ہیں، جبکہ وہ رکوع کرنے والے ہیں۔ سانچہ:قرآن متن یعنی: آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی۔ سانچہ:قرآن متن یعنی: اے رسول! جو چیز آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل ہوئی ہے اسے پہنچا دیں اور اگر ایسا نہ کیا تو آپ نے اپنا پیغام نہیں پہنچایا! اللہ آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا۔ اور ایک اور آیت: سانچہ:قرآن متن یعنی: اگر اس کے خلاف وہ مل جائیں، تو بے شک اللہ ہی اس کا مددگار ہے اور جبرائیل اور مومنین نیکوکار اس کے مددگار ہیں۔ ایک اور آیت مباہلہ کی ہے جس میں فرمایا: سانچہ:قرآن متن یعنی: کہہ دیجئے! آؤ ہم اور تم اپنے بیٹوں، عورتوں اور اپنی جانوں (جو ہماری طرح ہیں) کو بلاتے ہیں، پھر ہم مباہلہ کرتے ہیں (ایک دوسرے پر لعنت بھیجتے ہیں) تاکہ جھوٹوں (اور کافروں) پر اللہ کی لعنت اور عذاب نازل کریں۔ کہا جاتا ہے: ان تمام آیات کا مقصد حضرت علی (علیہ السلام) کی ولایت ہے۔

نیز شیعہ اثنی عشری درج ذیل احادیث کا حوالہ دیتے ہیں: «أنت خلیفی من بعدی و أنت وصییّ »، یعنی تم میرے بعد میرے خلیفہ ہو، تم میرے وصی ہو۔ «و سلّموا علیه بامرة المؤمنین»، یعنی انہیں امیر المومنین کہہ کر سلام کرو۔ «و اقضاکم علیّ»، تم میں سب سے بہتر فیصلہ کرنے والے حضرت علی (علیہ السلام) ہیں۔

«و تعلّموا منه و لا تعلّموه، اسمعوا له و اطیعوه»، ان سے سیکھو اور انہیں مت سکھاؤ، ان کی بات سنو اور ان کی اطاعت کرو۔«و من کنت مولاه فعلیّ مولاه»، جس کا میں مولی ہوں، علی (علیہ السلام) بھی اس کے مولی ہیں۔ «انت منّی بمنزلة ہارون من موسیٰ الّا انه لا نبیّ بعدی» تم میرے پاس ویسے ہی ہو جیسے ہارون موسیٰ کے پاس تھے، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

اماموں کی میراث

«نص جلی» کے حامی کہتے ہیں کہ: حضرت علی (علیہ السلام) نے شہادت پانے سے پہلے، اپنی «کتاب» اور «ہتھیار» اپنے بیٹے، امام حسن (علیہ السلام) کے سپرد کر دیے اور اہل بیت اور شیعہ بزرگان کی موجودگی میں فرمایا: اے میرے بیٹے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ) نے مجھے فرمایا کہ میں تمہیں اپنا وصی بناؤں اور اپنی کتاب اور ہتھیار اسی طرح تمہیں سونپ دوں

جیسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ) نے مجھے عطا فرمائے۔ مجھے فرمایا کہ میں تمہیں توصیہ کروں کہ حق کی دعوت کے وقت، انہیں حضرت حسین (علیہ السلام) کے سپرد کرو۔

پھر حضرت حسین (علیہ السلام) کی طرف رخ کر کے کہا: رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ) نے آپ کو توصیہ کی ہے کہ امامت کی ودیعت اسی طرح اپنے بیٹے حضرت علی بن الحسین (ع) کے سپرد کریں اور حضرت علی بن الحسین (علیہ السلام) کے بارے میں فرمایا کہ وہ بھی امامت کی ودیعت اپنے بیٹے حضرت محمد بن علی (علیہ السلام) کے سپرد کریں۔

شیعہ اماموں کے نام

شیعہ اثنی عشریہ کے بارہ اماموں کے نام درج ذیل ہیں:

  1. امام علی بن ابی طالب (علیہ السلام) شہادت، سال ۴۰ ہجری قمری۔
  2. امام حسن بن علی (علیہ السلام) شہادت، سال ۴۹ ہجری قمری۔
  3. امام حسین بن علی (علیہ السلام) شہادت سال ۶۱ ہجری قمری۔
  4. امام علی بن حسین (علیہ السلام) شہادت سال ۹۵ ہجری قمری۔
  5. امام محمد باقر (علیہ السلام) شہادت سال ۱۱۵ ہجری قمری۔
  6. امام جعفر صادق (علیہ السلام) شہادت سال ۱۴۸ ہجری قمری۔
  7. امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) شہادت سال ۱۸۳ ہجری قمری۔
  8. امام علیّ رضا (علیہ السلام) شہادت سال ۲۰۳ ہجری قمری۔
  9. امام محمد جواد (علیہ السلام) شہادت سال ۲۲۰ ہجری قمری۔
  10. امام علیّ‌النقی (علیہ السلام) شہادت سال ۲۵۴ ہجری قمری۔
  11. امام حسن عسکری (علیہ السلام) شہادت سال ۲۶۰ ہجری قمری۔
  12. امام محمد بن الحسن المہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) «آغاز غیبت کبریٰ سال ۳۲۹ ہجری قمری۔

اثنی عشریہ اماموں کا مقام

شیعیان کا اعتقاد ہے کہ امام، نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ) کی طرح خداوند کی طرف سے ملہم ہوتے ہیں۔ ان کی قیادت عامہ ہوتی ہے اور ان کا مقام عام انسانوں کے مقام سے بلند تر ہوتا ہے۔

جس دن خداوند نے آدم کو پیدا کیا، اس دن سے اپنے برگزیدگان میں اپنا نور سرایت دیا، حضرت نوح، حضرت ابراهیم، حضرت موسی اور حضرت عیسی سے ہوتا ہوا حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ) خاتم الانبیاء تک پہنچا اور ان سے وہ نور ان کے اوصیاء یعنی ائمہ طاہرین (علیہم السلام) کی طرف منتقل ہوا

یہاں تک کہ بالآخر وہی الہی نور امام عصر (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) کی ذات میں تجلی کرتا ہے اور انہیں عام بشری سطح سے بلند تر کر دیتا ہے اور انہیں قادر بناتا ہے کہ صدیوں بلکہ ہزاروں سال بغیر کسی گزند اور آزار کے، کمزوری اور بڑھاپے کے بغیر، اور اس جسمانی بدن کے ساتھ زندگی کریں

جو عام انسان میں زوال اور فساد کا باعث بنتا ہے، یہاں تک کہ اپنے مقررہ وقت پر اور الہی حکم سے پردہ غیب سے باہر تشریف لائیں اور امام کا ظہور ہو۔ روایت «علامہ مجلسی» کے مطابق آن حضرت کے چہرے کا رنگ عربی اور گندم گوں ہے اور جسم یعقوب وار ہے اور ان کے گال پر کوکبِ دری جیسا تل ہے۔

قائم آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ) کا ظہور

شیعہ «اثنی عشریہ» کا اعتقاد ہے کہ خداوند کی قدرت اور اس کے فضل سے، حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) کچھ نشانیوں کے ظاہر ہونے کے بعد ظہور فرمائیں گے، اگرچہ آن حضرت کی عمر تیس سے چالیس سال کے درمیان معلوم ہوتی ہے۔

روایات کے مطابق، آن حضرت «مکہ» میں ظہور فرمائیں گے اور لوگ ان سے «رکن و مقام» کے درمیان بیعت کریں گے۔

حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) کے ظہور کی نشانیوں میں سے ایک حضرت عیسی (علیہ السلام) کا آسمان سے نزول ہے اور وہ دجال کو جو حضرت سے پہلے ظاہر ہوا ہوگا قتل کریں گے اور ان کے پیچھے نماز ادا کریں گے۔

حضرت مہدی کے زمانے میں «اصحابِ کہف» کئی ہزار سال کی نیند سے بیدار ہوں گے اور حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) انہیں سلام کریں گے اور وہ حضرت کا جواب دیں گے اور پھر گہری نیند میں چلے جائیں گے اور قیامت تک نہیں اٹھیں گے۔

حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) کے پاس جو امانتیں ہیں ان میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا تابوت سکینہ اور تورات و انجیل کی صحیح نسخے شامل ہیں اور جب آن حضرت انہیں یہود اور نصاریٰ کے سامنے پیش کریں گے تو وہ مسلمان ہو جائیں گے۔

پھر حضرت عیسی (علیہ السلام) ان کے حکم سے صلیب کو توڑیں گے اور سور کو قتل کریں گے اور گرجا گھروں کو ویران کریں گے اور چالیس سال بعد وفات پائیں گے۔ حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) دینِ برحق اسلام کو ظاہر کریں گے اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے، جیسا کہ وہ ظلم و ستم سے بھری ہوگی۔

آن حضرت کی خلافت کی مدت کے بارے میں اختلاف ہے، ان کی خلافت سات سال سے نو سال تک لکھی گئی ہے اور بعض روایات میں بیس سے چالیس سال بیان ہوا ہے۔

اثنا عشریہ فقہ کے مبادی

عموماً مسلمانان عالم شریعت اسلام کے قوانین و احکام کو دو بنیادی مصادر سے: قرآن، سنت، اور فرعی و تبعی مصادر سے: اجماع، قیاس و استحسان اور مصالح مرسلہ (اہل سنت کے ہاں) یا اجماع اور عقل (شیعیان کے ہاں) استنباط کرتے ہیں۔

قرآن

شیعہ اثنا عشریہ قرآن کی اس جامعیت کے قائل ہیں جو حضرت محمد (صلّی اللہ علیہ وآلہ) پر بغیر کسی کمی یا بیشی کے نازل ہوئی۔ وہ قرآن جو دو جلدوں کے درمیان ہے اور مسلمانوں کے ہاتھوں میں ہے، اور جو شخص اس کے سوا کوئی اور عقیدہ رکھے، وہ خطا پر ہے۔

سنت

رہی بات سنت اور احادیث رسول خدا (صلّی اللہ علیہ و آلہ) کی، تو شیعہ میں یہ ضروری ہے کہ یہ عترت کے ذریعے یا ایسے راویوں سے ملی ہو جو قابل اعتماد ہوں، یعنی راویوں کی سند ائمہ اطہار تک پہنچنی چاہیے۔

اگر کسی اور طریقے سے نقل ہوئی ہو تو راویوں کا شیعہ کے نزدیک قابل اعتماد ہونا ضروری ہے، ورنہ اس کی کوئی ارزش نہیں۔ امام صادق (علیہ السلام) سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:

ہم سے جو احادیث روایت کی جائیں، اگر وہ قرآن اور سنت پیغمبر (صلّی اللہ علیہ وآلہ) اور احادیث کی کسی دیگر گواہی کے مطابق نہ ہوں، تو ان پر یقین نہ کرو، کیونکہ مغیرة بن سعید جیسے لوگ جو «غلاة» میں سے تھے، نے ہماری باتوں کو اپنی اغراض کے ساتھ ملا دیا۔

کتب اربعہ

شیعہ کی قدیم احادیث کا مجموعہ چار کتابوں میں جمع کیا گیا ہے اور کتب اربعه کے نام سے معروف ہوا ہے۔ ان کتابوں کی بنیاد وہ اخبار ہیں جو ائمہ (علیہم السلام) سے ہم تک پہنچے ہیں اور زیادہ تر امام باقر اور امام صادق (علیہما السلام) تک منتہی ہوتے ہیں۔

ان دو بزرگوار اماموں کے مجلس میں بہت سے محدثین اور بزرگان اسلام شاگردی کرتے تھے۔ ان کی شاگردی اور ان دو اماموں کی صحبت کا نتیجہ شرایع اسلام پر تقریباً چار سو رسالوں کی تدوین کی صورت میں نکلا، جنہیں اصول اربعمائہ یعنی چار سو اصول کہا جاتا ہے۔

اس زمانے سے تقریباً تین سو ہجری تک جو کہ تقریباً دو سو سال کا عرصہ ہے، وہ شیعیان جو اماموں کی حضور سے دور تھے یا غیبت صغری کی وجہ سے امام غائب سے محروم تھے، ان چار سو رسالوں پر عمل کرتے تھے جن میں سے ہر ایک فقہ شیعہ کے ابواب میں سے کسی باب پر مشتمل تھا۔

شیخ مفید کے قول کے مطابق، محدثین امامیہ نے حضرت علی (علیہ السلام) کے زمانے سے لے کر امام حسن عسکری (علیہ السلام) کے عہد تک چار سو کتابیں تصنیف کی تھیں جنہیں وہ «اصول» کہتے تھے،

یہاں تک کہ تقریباً تین سو ہجری میں، ثقة الاسلام محمد‌بن‌ یعقوب کلینی (متوفی 329 ہجری قمری) جو کلین (جنوب مشرقی تہران میں فشاپویہ کا گاؤں) کے رہنے والے تھے، مسند فقاہت پر فائز ہوئے

اور پوری احتیاط کے ساتھ بیس سال کے عرصے میں ان چار سو «اصل» رسالوں کو جمع کر کے پانچ جلدوں میں، ایک جلد مواعظ میں، ایک جلد اصول دین میں اور تین جلدیں فروع دین میں، کتاب الکافی کے نام سے مرتب کیا جو تقریباً سولہ ہزار ایک سو ننانوے احادیث پر مشتمل ہے۔

البتہ شیخ کلینی کی کتابوں کا مجموعہ تقریباً بیس کتابیں ہیں۔ کلینی کے بعد، ایک اور فقیہ ابوجعفر محمد بن علی بن بابویہ قمی معروف بہ شیخ‌ صدوق (متوفی سال 381 ہجری قمری) جو ری میں مدفون ہیں، نے انہی چار سو رسالوں کی بنیاد پر کتاب من لا یحضره الفقیہ تصنیف کی

جس کے تمام اخبار پانچ ہزار نو سو تریسٹھ احادیث ہیں۔ شیخ صدوق کے بعد اور چند سال کے فرق سے، شیخ‌ طوسی (385- 460 ہجری قمری) کا دور شروع ہوا۔ انہوں نے انہی چار سو اصول کی بنیاد پر دو معروف کتابیں الاستبصار اور تہذیب الاحکام تصنیف کیں، جن میں سے پہلی پانچ ہزار پانچ سو گیارہ احادیث پر مشتمل ہے۔

اجماع

اجماع، مسلمانوں کے فقہی دلائل میں تیسری دلیل ہے جس کی سندیت پر شیعہ اور اہل سنت کی تمام فرقوں کا اجمالا اتفاق ہے۔ اصطلاح میں اجماع سے مراد کسی ایسے شرعی حکم پر جس کا حکم کتاب و سنت میں نہ آیا ہو، عصر کے علماء کا اتفاق ہے۔

جیسا کہ اشارہ کیا گیا، شیعہ کے نزد بھی اجماع «ادله‌ اربعه» میں سے ایک کے طور پر مستند ہے۔ البتہ اہل سنت اتفاق نظر اہل حل و عقد اور مراجع نافذ الحکم کو (نبوی روایت لا یجمع امتی علی خطا کی استناد سے) «حجت» جانتے ہیں، لیکن امامیہ اس اتفاق کو جو قول معصوم کا کاشف ہو (یعنی امام مجمعین میں شامل ہوں)، ملاک عمل اور حجت جانتے ہیں۔

علمائے مذهب‌ جعفری کے نظر سے: اجماع سے مراد شیعہ مجتہدین کا ہر شرعی امر پر اس طرح اتفاق ہے کہ وہ قول معصوم کا کاشف ہو، لہذا، اجماع کو اس اعتبار سے کہ وہ قول معصوم کا کاشف ہے،

«حجت» جانتے ہیں، کیونکہ شیعیان کا اعتقاد ہے کہ کوئی بھی عصر «امام معصوم» سے خالی نہیں ہوتا۔ لہذا، باب «لطف» سے خدا پر واجب ہے کہ جب اس کے بندے خطا کے راستے پر ہوں، تو امام کے ذریعے ان کی رہنمائی کرے۔

پس اگر کسی مسئلے پر «اجماع» ہو جائے اور کوئی مخالف قول ظاہر نہ ہو، تو یہ معصوم کی رضامندی کی دلیل ہے یا یہ کہ امام جمع میں موجود تھے یا یہ مسئلہ معصوم کی طرف سے القا کیا گیا ہے۔

قیاس

رہا معاملہ «قیاس» پر عمل کرنے کا جو اہل سنت و جماعت (سوائے فرقہ ظاہریہ کے) کے ہاں تشریع کے مصادر میں چوتھا اصل شمار ہوتا ہے، تو فقہ امامیہ میں یہ ممنوع ہے اور اس کی جگہ «عقل» نامی ایک دیگر اصل پر اعتماد کیا گیا ہے۔

حضرت صادق (علیہ السلام) سے روایت ہے کہ قیاس میرے دین سے خارج ہے، کیونکہ اصحاب قیاس نے پیمائش کے ذریعے علم حاصل کیا ہے اور اسی وجہ سے حقیقت سے دور ہو گئے ہیں اور یقیناً خدا کا دین قیاس سے درست نہیں ہوتا۔

فقہ شیعہ میں ایک قاعدہ ہے جسے قاعدہ ملازمہ کہا جاتا ہے کہ: «کلّما حکم به العقل حکم به الشرع و کلّما حکم به الشرع حکم به العقل» یعنی ہر چیز جس پر عقل حکم لگائے، شرع بھی اس پر حکم لگاتی ہے اور ہر چیز جس پر شرع حکم لگائے، عقل بھی اس پر حکم لگاتی ہے۔

فقہ جعفری

فقہ جعفری وہ فقہ ہے جو شیعوں کے چھٹے امام حضرت امام صادق (علیہ السلام) کی طرف منسوب ہے اور چونکہ آپ کی زندگی کا دورانیہ بنو امیہ کے آخری دور اور بنو عباس کے ابتدائی عہد سے مطابقت رکھتا تھا

اور امویوں اور عباسیوں کے درمیان اختلاف کی وجہ سے شیعوں کو کم مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا تھا، لہذا ایسے ماحول میں فقہ جعفری کو استوار ہونے اور ترقی کرنے کا موقع ملا۔

اس کے علاوہ، امام صادق (علیہ السلام) کی عمر دیگر اماموں (علیہم السلام) سے زیادہ طویل تھی۔

آپ نے اپنی طویل امامت کے دورانیے میں شیعہ امامیہ کی حالت کو منظم کرنے اور شیعہ فقہ کی تعلیم دینے میں کامیابی حاصل کی، اسی وجہ سے آپ کو «حبر الامة»، یعنی امت اسلام کا دانشمند اور آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ) کا «فقیہ» کہا گیا ہے۔

شیعہ کی زیادہ تر اعتقادی اور فقہی احادیث آپ ہی سے روایت کی گئی ہیں اور اسی سبب سے شیعہ فقہ کو «فقہ جعفری» اور آپ کے پیروان کے مذہب کو «مذہب جعفری» کا نام دیا گیا ہے۔

مدینہ میں آپ کے درس کے مجلس میں اسلام کے کئی بزرگان حاضر ہوتے اور آپ کی مجلس سے فیض یاب ہوتے تھے۔

امام کے مشہور ترین شاگردوں میں زرارہ بن اعین (متوفی سن 150 ہجری قمری)، محمد بن مسلم، ابوبصیر، برید بن معاویہ عجلی، فضیل بن یسار، معروف بن خربوذ، جمیل بن دراج، عبداللہ بن مسکان اور حماد بن عثمان... شامل تھے۔

امامیہ کے بعض خاص اعتقادات

امامیہ کے خاص اعتقادات جو انہیں اہل سنت و جماعت سے ممتاز کرتے ہیں، حضرت علی (علیہ السلام) اور ان کی اولاد جو امام معصومین (علیہم السلام) ہیں، ان کی «امامت و ولایت»؛ «عصمت» انبیاء اور اماموں کی، «تقیہ»، «بداء»، «متعه» اور رجعت ہے۔ اب بداء، متعہ اور رجعت کے بارے میں مختصراً کچھ مطالب بیان کیے جاتے ہیں۔

لغت اور اصطلاح میں بداء

لفظ «بَداء» مادہ «بدو» سے اسم مصدر ہے[1]۔ یہ لفظ لغت میں چند معنوں میں استعمال ہوا ہے: چھپے ہوئے سے ظاہر ہونا[2]، عدم سے کسی چیز کا ظاہر ہونا[3]، ارادے میں تبدیلی[4]

اور اصطلاح میں خداوند کی طرف سے کسی امر کے ظاہر ہونے کے معنوں میں ہے برخلاف اس کے جو متوقع تھا، جو درحقیقت پہلے کا محو ہونا اور دوسرے کا اثبات ہونا ہے اور خدا دونوں حادثوں سے آگاہ ہے[5]۔ شیعہ علماء کے تاکید کے مطابق، خداوند کے بارے میں بداء کا مطلب ان کی ارادے کی تبدیلی نہیں ہے، بلکہ یہ لفظ خدا کے حق میں غضب اور رضا کی طرح مجازی طور پر استعمال ہوتا ہے[6]۔

متعہ

متعہ ضم میم کے ساتھ تمتع اور بہرہ مندی کے معنوں میں ہے اور یہ نکاح منقطع مؤقت ہے جسے شیعہ عوام کی اصطلاح میں صیغہ کہا جاتا ہے۔ امامیہ متعہ کے حلال ہونے پر اس آیت: سانچہ:متن قرآن اور اہل بیت سے وارد روایات اور اس خصوص میں بعض صحابہ کرام کے نقل پر استناد کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ، متعہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ) کے زمانے میں جائز ٹھہرایا گیا تھا اور اس کی ممانعت اور نسخ کے دعویٰ کے بارے میں جو خیبر یا حجتہ الوداع میں ہونے کا کہا جاتا ہے، تردید کی گئی ہے اور یہی تردید باعث بنتی ہے کہ اس کی ممانعت کو نہی تنزیہی سمجھا جائے نہ کہ نہی تحریمی جو پہلے کے حکم حلت کے نسخ کا باعث بنے۔

اس کے علاوہ، شریعت اسلام میں قوانین سب کے لیے اور تمام زمانوں کے لیے ہیں اور اس میں بندوں کی مصلحتیں مدنظر رکھی گئی ہیں اور اس خصوص میں نکاح مؤقت اور متعہ کی تشریع زنا اور فساد سے روکنے والی ہے۔

متعہ کی صحت کی شرائط

متعہ کی صحت کے لیے کچھ چیزیں شرط ہیں۔ 1. عقد متعہ میں مدت کا ذکر ضروری ہے، لہذا اگر مدت ذکر نہ کی جائے تو عقد باطل ہو جاتا ہے، برخلاف عقد دائم کے۔ 2. عقد متعہ میں «مہر» کا تعین ضروری ہے، لہذا اگر مہر کی مقدار ذکر نہ کی جائے تو عقد باطل ہو جاتا ہے۔

3. عقد متعہ میں ہر ایسی شرط کا ذکر جائز ہے جو شرع کے مخالف اور مبہم نہ ہو۔ 4. متعہ میں طلاق ضروری نہیں ہے اور جب بھی مدت ختم ہو جائے یا شوہر باقی مدت معاف کر دے تو متعہ فسخ ہو جاتا ہے۔

5. متعہ میں عورت کو نفقہ کا حق حاصل نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ ارث پاتی ہے، سوائے اس کے کہ عقد کے ضمن میں شرط کیا گیا ہو۔ شیعہ کا اعتقاد ہے کہ متعہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ) کے زمانے میں جائز تھا اور پیامبر کے بعد عمر بن خطاب کے دور تک رائج رہا، لیکن انہوں نے اسے منع کر دیا۔

رجعت

رجعت فتح راء کے ساتھ، قیامت سے پہلے پیش آنے والا ایک واقعہ ہے۔ یہ مسئلہ شیعوں کے اعتقادات کا حصہ ہے اور اس کا مطلب بعض مردوں (خالص مومنین اور کافروں) اور نیز ان بعض افراد کا واپس آنا ہے

جن پر دنیاوی زندگی میں بڑا ظلم ہوا ہے تاکہ وہ دوبارہ دنیا میں آئیں اور وہ زندگی حاصل کریں جو ان کا حق ہے اور نیز مظلومین ان لوگوں سے الہی انتقام کے گواہ بنیں جنہوں نے ان پر ظلم کیا۔ رجعت ایک ایسا امر ہے جو حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) کے ظہور کے بعد واقع ہوگا۔

رجعت کے بارے میں قرآن کی بعض آیات سے استدلال کیا گیا ہے جن میں سے ایک واقعہ «اصحاب کهف» کا ہے جو تین سو سالہ نیند سے بیدار ہوئے تھے۔

شیعیان اثنی عشری اور اہل سنت کے اعمال میں اشتراکات و اختلافات

شیعیان اثنی عشری کے مذہبی اعمال اور اہل سنت کے مذہبی اعمال میں زیادہ فرق نہیں ہے۔

روزہ اور حج دونوں میں یکساں ہیں، لیکن بعض مسائل جیسے نماز اور وضو کے آداب میں اختلاف ہے اور اذان و اقامت میں «اشهد انّ علیّا ولی اللّه» کو تبرکاً (جزء کے طور پر نہیں) اور «حیّ علی الصلاة» کو اذان و اقامت کے فصول کا جزء سمجھتے ہیں۔

اثنی عشری چار سورتوں کو جن میں «آیہ سجودہ» موجود ہے نماز میں نہیں پڑھتے اور فقاع (جو کی شراب) کو مے (شراب) کی طرح حرام جانتے ہیں اور گدھے کا گوشت مکروه شمار کرتے ہیں۔ نکاح بغیر گواہ کے جائز جانتے ہیں، لیکن طلاق بغیر عادل گواہ کی موجودگی کے جائز نہیں جانتے اور اس آیت کے ظاہر پر استدلال کرتے ہیں: سانچہ:متن قرآن

اور کہتے ہیں: خدا تعالیٰ نے طلاق پر گواہوں کو شرط ٹھہرایا ہے نہ کہ نکاح پر اور ایک مجلس میں تین طلاق دینے کو جائز نہیں جانتے اور کہتے ہیں:

سانچہ:متن قرآن نیز شیعیان دوازده امامی نماز‌میت میں پانچ تکبیریں کہتے ہیں۔ اور رہی بات شیعیان کا اہل سنت و جماعت سے سب سے اہم اختلاف تو وہ رسول خدا کی جانشینی کے تعین کے بارے میں ہے جسے شیعیان اثنی عشری «نص جلی و خفی» کا نتیجہ جانتے ہیں

اور اہل سنت امت کے اختیار کا۔ اس بنیادی مسئلے کے علاوہ، شیعیان کا اہل سنت سے اختلاف بعض مدارک و ادلہ اجتہاد اور نیز اصول و فروع، عبادات و معاملات اور نکاح کے بعض قواعد میں ہے۔

شیعیان امامیہ کے نزد «قیاس» پر عمل کرنا حرام ہے، لیکن اہل سنت کی تمام فرقوں کے نزد (خوارج کے سوا) یہ مقبول ہے۔ فقہ کی بیشتر فروع کے مسائل میں، مذہب شیعیان امامیہ عموماً اہل سنت کے مذاہب اربعہ میں سے کسی ایک کے ساتھ موافق ہے،

لیکن ایسے مسائل بھی ہیں جو امامیہ کے منفردات میں سے ہیں، اگرچہ ان اکثر مسائل میں بھی صحابہ یا تابعین و اتباع میں سے کسی ایک فقیہ کا شیعیان کے ساتھ اتفاق ہے۔ بلکہ بعض اہل سنت و جماعت کے علماء نے اسی وجہ سے مذہب جعفری کو مذاہب اربعہ کے ساتھ پانچواں مذہب مانا ہے。

شیعیان کے اصول عقائد

لیکن شیعیان کے اصول عقائد توحید و نبوت و معاد و عدل و امامت ہیں۔ شیعیان امامیہ، صفت عدالت کو خداوند کی صفات ذاتیہ میں سے جانتے ہیں اور اس کی بنیاد کو «عقل» پر رکھتے ہیں نہ کہ مشیت پر، «امامت» وہ بنیادی اصل ہے جو شیعیان کو سنی سے جدا کرتی ہے۔

شیعیان کے اعتقاد کے مطابق، وحی کی ایک بیرونی و ظاہری صورت اور ایک داخلی و باطنی پہلو ہے جس سے پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ) دونوں پہلوؤں سے کمال درجے میں آگاہ تھے، کیونکہ حضرت ایک ہی وقت میں نبی بھی تھے اور ولی بھی。


نبوت پیغمبر کا ظاہری فریضہ یعنی وحی الہی کی پہنچانا تھا اور ولایت، باطنی فریضہ یعنی لوگوں کے لیے دین کے معنی کو آشکار کرنا تھا۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ) کی رحلت کے ساتھ نبوت کا دور ختم ہو گیا، لیکن «ولایت» کا دور امام کی شخصیت میں جاری رہا۔

امام وہ ہے جو ولایت کا فریضہ سنبھالتا ہے اور وہ فریضہ تین چیزوں سے تعلق رکھتا ہے: اسلامی معاشرے پر حکومت، فقہی و دینی مسائل کی بیان کردگی اور روحانی قیادت جو لوگوں کو باطنی معانی کی سمجھ کی طرف ہدایت کرتی ہے۔

ان تین الہی فرائض کی بنیاد پر، امام کا انتخاب عوام کی طرف سے جائز نہیں، بلکہ اس روحانی رہنما کو خداوند ہی مقرر کرے اور وہ امام معصوم ہوتا ہے جو غیب سے الہام یافتہ ہو کر لوگوں کی رہنمائی کرتا ہے۔

امام، عالم امکان کا قطب الرحیٰ اور شریعت کے حفظ و بقا کا ضامن ہے۔ تاہم، حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) لوگوں کی ظاہری نگاہوں سے پوشیدہ ہیں اور آخر‌الزمان کے سوا ظاہر نہیں ہوں گے۔

شیعیان کے نزدیک، امام غائب پیغمبر کی شخصیت کا تسلسل ہیں اور انہی کے ذریعے قرآن محفوظ رہتا ہے اور ان کے ظہور کے بغیر دنیوی حکومت ناقص ہے اور صرف ان کے دوبارہ ظہور کے ساتھ ہی «عدل‌ الهی» پر مبنی مطلوبہ کمال جو اسلام اپنی تعلیمات میں اس پر تکیہ کرتا ہے، قائم ہوگا۔

شیعہ امامیہ در ایران

مذہب شیعہ اثنی عشریہ تا پیش از صفویہ در ایران، ملک کا غیر سرکاری مذہب تھا اور ایک اقلیتی مذہب کی حیثیت رکھتا تھا۔ حتیٰ کہ چوتھی صدی ہجری قمری میں ایران کے بعض صوبوں پر حکومت کرنے والے اور شیعہ اثنی عشریہ کے معتقد آل بویہ کے سلاطین کی،

اس مذہب کو سرکاری بنانے کی کوششیں، بغداد کے خلفاء کی مخالفت کی وجہ سے جو ایران میں مذہبی اور سیاسی طور پر بہت بااثر تھے، کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکیں۔ 656 ہجری قمری میں بغداد کی خلافت کے ہلاکو خان مغول کے ہاتھوں زوال کے بعد، مغول کے ایل خانوں میں سے ایک کا نام سلطان محمد خدابندہ تھا جس نے عارضی طور پر مذہب شیعہ کو قبول کیا

اور سکوں پر اور خطبوں میں امامانِ شیعہ کے نام نقش اور ذکر کیے، باوجود اس کے یہ کام بھی مذہب شیعہ کے سرکاری ہونے کا باعث نہ بنا۔ لیکن شیعہ مذہب نے پس منظر میں ایران کے شہروں کی عوام کے درمیان اپنا نفوذ ہر روز بڑھایا

یہاں تک کہ آٹھویں صدی ہجری کے وسط میں سربداران نامی ایک شیعہ خاندان نے سبزوار شہر میں جس کی اکثریت شیعہ تھی، ایک اثنی عشری حکومت قائم کی اور سادات مرعشی نے بھی مازندران میں شیعہ حکومت تشکیل دی۔ قراقویونلو کے بادشاہوں میں سے جہان شاہ جو نویں صدی ہجری میں آذربائیجان میں حکومت کرتے تھے،

اپنے شیعہ ہونے پر فخر کرتے تھے۔ صفویہ کے ظہور سے پہلے، ایران کے بعض شہر جیسے قم، کاشان اور سبزوار شیعہ نشین شہروں کے طور پر مشہور تھے اور ان کی اکثریت اسی مذہب کی معتقد تھی۔ شاہ اسماعیل صفوی جو قزلباش صوفیوں کی ایک جماعت کے ہاتھوں جو شیعہ مذہب رکھتے تھے،

برسر اقتدار آیا تھا اور 907 ہجری قمری میں ایران کی سلطنت کے تخت پر بیٹھا، اور طاقتور عثمانی بادشاہ سلطان سلیم کے برعکس جو خلافتِ اسلام کے دعویٰ کے بہانے ایران کے مسلمانوں پر حکومت کرنے اور اس ملک کو نگل جانے کا ارادہ رکھتا تھا، نے بادشاہی کے آغاز ہی سے مذہب شیعہ کی رسمیت کو طریقِ سنت و جماعت کے متبادل کے طور پر اعلام کیا

اور اس مذہب کے پرچم کی بلندی کو اپنی حکومت کا شیوہ بنایا اور اذان و اقامت میں «اشہد ان علیاً ولی اللہ» اور «حی علی خیر العمل» کہنے کو عملی جامہ پہنایا۔ ایران کے اکثر اہل سنت جو شاہ اسماعیل کی تلوار کے خوف کے مارے تسلیم ہونے کے سوا کوئی چارہ نہ رکھتے تھے،

خواہی یا ناخواہی مذہب شیعہ کو قبول کر لیا اور تھوڑے ہی عرصے میں مذہب شیعہ اثنی عشری نے ایران کے بیشتر صوبوں ایران کو گھیر لیا اور اس وقت سے لے کر اب تک جو کہ تقریباً پانچ سو سال گزر چکے ہیں، شیعہ اثنی عشری ایران کی حکومت اور قوم کا سرکاری مذہب ہے۔

صفویہ نے مذہب شیعہ اثنی عشری کو سرکاری بنانے کے بعد تاکہ قدیم سنی معارف کے متبادل کے طور پر نئے معارف کو متعارف کرایا جا سکے، اس کوشش میں لگے کہ فقہاء کو جبل لبنان سے جو اس زمانے میں شیعہ معارف کا گہوارہ تھا

یا احساء اور بحرین سے جو خلیجِ فارس کے مغربی ساحل پر واقع ہے، شیعہ فقہ اور کلام کی تعلیم اور پیروی کے لیے ایران مدعو کریں اور شیخ حر عاملی اور بہاءالدین عاملی جیسے علماء ایران آئے اور علامہ مجلسی جیسے بزرگان علامہ مجلسی ان کے شاگردوں میں شمار ہوتے تھے[7]۔

متعلقہ تلاشیں

حوالہ جات

  1. ابن منظور، لسان العرب، ذیل لفظ «بدو»۔
  2. راغب اصفہانی، المفردات فی غریب القرآن، سن ۱۴۱۲ ق، ص ۱۱۳
  3. عبدالہادی فضلی، خلاصة علم الکلام، سن ۱۴۱۴ ق، ص ۱۰۵۔
  4. ابن فارس، معجم مقاییس اللغة، سن ۱۴۱۱ ق، ص ۲۱۲۔
  5. سید محمد حسین طباطبائی، المیزان فی تفسیر القرآن، ج ۱۱، ص ۳۸۱۔
  6. شیخ مفید، تصحیح اعتقادات الامامیة، ص ۶۷
  7. محمد جواد مشکور، فرہنگ فرق اسلامی، مشہد، اشاعتات آستان قدس رضوی، سال 1372 ہجری شمسی، چھپائی دوم، ص 24، عبارات میں وسیع ترمیم کے ساتھ۔