مندرجات کا رخ کریں

سنت

ویکی‌وحدت سے

سنّت سے مراد قول، فعل اور تقریرِ معصوم ہے۔ یہ ادلّۂ اربعہ میں شامل ہے اور قرآنِ کریم کے بعد فقہِ امامیہ میں اجتہاد کا دوسرا بنیادی ماخذ شمار ہوتی ہے۔

سنّت کا لغوی معنی

فارسی زبان میں سنّت کا مفہوم

فارسی زبان میں سنّت کے متعدد مترادفات پائے جاتے ہیں، جن میں یہ الفاظ شامل ہیں:آداب، آیین، رسم، رسوم، عرف، مذہب، راہ، روش، سیرت، ختنہ، ختنہ سوران۔ لغتِ دہخدا کے مطابق، سنّت کے معانی یہ ہیں: راہ اور روش، طریقہ، قانون، آیین، رسم اور نهاد، اور اس کی جمع سنن بیان کی گئی ہے۔[1]

عربی زبان میں سنّت کا مفہوم

طریحی کے نزدیک لغت میں سنّت کے معنی راہ اور طریقہ کے ہیں، اور اس کی جمع سنن آتی ہے۔[2]

اسی طرح ابنِ منظور اور زبیدی کے مطابق، سنّت کی اصل معنی طریق اور راستہ ہے، اور اس سے مراد وہ راستہ ہے جو پہلے انسانوں نے قائم کیا اور جو بعد میں آنے والوں کے لیے مسلک اور گزرگاہ بن گیا۔[3]

مزید برآں، زبیدی لکھتے ہیں:«والسنة: السیرة حسنة کانت أو قبیحة» [4]یعنی سنّت سیرت کو کہتے ہیں، خواہ وہ اچھی ہو یا بری۔ اس بنا پر، لغوی اعتبار سے سنّت میں اچھی اور بری دونوں قسم کی سیرت شامل ہو سکتی ہیں۔

صاحبِ تہذیبُ اللغہ لکھتے ہیں: «و السنة الطریقة المستقیمة المحمودة، ولذلک قیل: فلان من أهل السنة»[5] یعنی سنّت سے مراد سیدھا، پسندیدہ اور قابلِ ستائش راستہ ہے، اور اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص اہلِ سنّت میں سے ہے، یعنی وہ درست اور پسندیدہ طریقے پر قائم ہے۔

بعض اہلِ لغت کا یہ بھی خیال ہے کہ لفظ سنّت کی بنیادی جڑ عربوں کے اس محاورے سے ماخوذ ہے کہ وہ کہتے ہیں:«سنت الماء إذا والیت في صبّه» یعنی عرب پانی کے مسلسل اور پے در پے بہاؤ کو سنّت کہتے ہیں۔[6] چنانچہ اس لفظ کا بنیادی مفہوم تسلسل، دوام اور مسلسل جریان پر دلالت کرتا ہے۔

کیا سنّت محض طریقہ ہے یا اچھا طریقہ؟

سنّت ایک معنی میں راہ، طریقہ اور روش کے لیے استعمال ہوتی ہے۔[7] اسی بنا پر وہ طریقہ جس کی لوگ پیروی کریں اور جو ان کے لیے عادت بن جائے—خواہ وہ اچھا ہو یا بُرا— لغوی اعتبار سے سنّت کہلاتا ہے۔ سنّت کا یہ استعمال قرآنِ کریم میں بھی دونوں معنوں میں ہوا ہے۔

چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے:

«یُرِیدُ اللّٰهُ لِیُبَیِّنَ لَکُمْ وَیَهْدِیَکُمْ سُنَنَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَیَتُوبَ عَلَیْکُمْ ۗ وَاللّٰهُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ»[8] اس آیت میں پہلے لوگوں کی درست اور حق پر مبنی سنّتوں کی طرف رہنمائی مراد ہے۔

اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا گیا: «لَا یُؤْمِنُونَ بِهِ ۖ وَقَدْ خَلَتْ سُنَّةُ الْأَوَّلِینَ»[9] یہ آیت گزشتہ اقوام کے بُرے، غلط اور ہلاکت خیز طریقوں کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

البتہ بعض اہلِ لغت اور اہلِ علم کے نزدیک سنّت کا اطلاق خصوصی طور پر پسندیدہ اور نیک طریقے پر ہوتا ہے۔ اس معنی کی رو سے، سنّت سے مراد اچھی اور محمود روش ہے، اور اگر غلط یا ناپسندیدہ طریقہ مراد ہو تو اس کے ساتھ سیّئہ کی قید لگانا ضروری ہوتا ہے۔[10]

سنّتُ اللہ

کبھی کبھی سنّت کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف بھی کی جاتی ہے، جیسا کہ قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے: «فَلَمْ یَکُ یَنْفَعُهُمْ إِیمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِی قَدْ خَلَتْ فِی عِبَادِهِ وَخَسِرَ هُنَالِکَ الْکَافِرُونَ» [11]یعنی جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو ان کا ایمان انہیں کوئی فائدہ نہ دے سکا۔ یہ اللہ کی وہ سنّت ہے جو اس کے بندوں میں ہمیشہ سے جاری رہی ہے، اور اسی مقام پر کافر خسارے میں پڑ گئے۔

اس مفہوم کے مطابق، سنّت سے مراد وہ ثابت اور ناقابلِ تغیر قواعد و ضوابط ہیں جو انسانوں کی اجتماعی زندگی پر حاکم ہیں۔

قرآنِ کریم میں یہ استعمال اس آیت میں بھی ملتا ہے: «قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِکُمْ سُنَنٌ» [12]یعنی تم سے پہلے بھی بہت سی سنّتیں اور طریقے گزر چکے ہیں۔

قرآنِ مجید میں لفظ سنّت کبھی اللہ تعالیٰ کی طرف اور کبھی گزشتہ اقوام کی طرف منسوب ہوا ہے۔ چنانچہ فرمایا گیا: «سُنَّةَ اللّٰهِ الَّتِی قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیلاً» [13]یعنی یہ اللہ کی سنّت ہے جو پہلے سے چلی آ رہی ہے، اور تم اللہ کی سنّت میں ہرگز کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے۔

پس سنّتِ الٰہی درحقیقت اللہ تعالیٰ کی تدبیر اور تنظیمِ کائنات کا وہ پہلو ہے جو ہمیشہ جاری رہتا ہے اور جس میں کسی قسم کی تبدیلی یا تحویل ممکن نہیں۔ اس وسیع مفہوم میں سنّتِ الٰہی تمام موجودات کو اپنے دائرے میں لیتی ہے، جن میں انسان، اس کی فردی زندگی اور اس کی اجتماعی حیات سب شامل ہیں۔ ہر مخلوق پر، ہر زمانے میں اور ہر حالت میں، ایک یا ایک سے زیادہ سنّتِ الٰہی کارفرما ہوتی ہے۔

اسی بنا پر سنّتِ الٰہی کو دنیا اور انسان کے نظم و نسق کے وہ قوانین کہا جا سکتا ہے جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ کائنات اور انسانی معاشرے کی رہنمائی فرماتا ہے۔[14]

ایک اور تعبیر میں سنّتِ اللہ سے مراد اللہ تعالیٰ کے احکام، اوامر اور نواہی ہیں۔

ابنِ منظور کے مطابق: «وسنّةُ الله: أحکامُه وأمرُه ونهیُه» [15]یعنی اللہ کی سنّت سے مراد اس کے احکام، اس کے اوامر اور اس کی ممانعتیں ہیں۔

وہ مزید کہتے ہیں: «وسنَّ اللهُ سنّةً، أی بیَّن طریقاً قویماً» یعنی اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے ایک سنّت مقرر کی، یعنی سیدھا، درست اور مضبوط راستہ واضح کر دیا۔

سنّت کی اصطلاحی تعریف

اصطلاح میں سنّت سے مراد کسی شخص کا طریقۂ کار اور سیرت ہے جو اس کے قول، فعل اور تقریر سے معلوم ہو۔

مسلمانوں کے درمیان اس امر پر اتفاقِ رائے ہے کہ رسولِ اکرم(ص) کے اقوال، افعال اور تقریرات— عقلی دلائل کی بنیاد پر بھی اور قرآنی نصوص کی رو سے بھی—حجّت ہیں اور ان کی پیروی واجب ہے۔ قرآنِ کریم میں اس کی متعدد واضح دلیلیں موجود ہیں، مثلاً: «یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا أَطِیعُوا اللّٰهَ وَأَطِیعُوا الرَّسُولَ»[16] اے ایمان والو، اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو۔

اور فرمایا: «لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللّٰهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ»[17] یقیناً رسولِ اللہ میں تمہارے لیے بہترین نمونہ موجود ہے۔

اسی طرح ارشادِ باری تعالیٰ ہے: «وَمَا یَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ ۝ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْیٌ یُوحَىٰ»[18] اور وہ اپنی خواہش سے کچھ نہیں کہتے، بلکہ وہی کہتے ہیں جو وحی کے ذریعے نازل کیا جاتا ہے۔

اور ایک اور مقام پر فرمایا:«وَمَا آتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاکُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا» [19]رسو ل تمہیں جو کچھ دے، اسے لے لو، اور جس چیز سے روکے، اس سے رک جاؤ۔

ان تمام دلائل کی بنا پر رسولِ اکرم ﷺ کی سنّت حجّت ہے اور اس کی پیروی لازم ہے۔

تاہم، اگرچہ تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سنّتِ نبوی قابلِ اتباع اور حجّت ہے، لیکن اس نکتے پر اتفاق نہیں کہ رسولِ خدا(ص) کی حقیقی سنّت ہمیں کس طریقے سے اور کن واسطوں کے ذریعے پہنچتی ہے۔ یہی وہ بنیادی اختلافی نکتہ ہے جسے دونوں مکاتبِ فکر کے ہاں دینی مصادر کے باب میں تفصیل سے زیرِ بحث لانا ضروری ہے۔

اسی طرح یہ سوال بھی مستقل توجہ کا محتاج ہے کہ رسولِ اکرم(ص) کی سنّت کے علاوہ، کن اشخاص کی سنّت معتبر، قابلِ اعتماد اور حجّت سمجھی جا سکتی ہے۔ == شیعہ کے نزدیک سنّت == شیعہ اثنا عشریہ، بارہ ائمہ اور حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کو قرآنِ مجید کی بعض آیات کی بنیاد پر—جیسے: «یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا أَطِیعُوا اللّٰهَ وَأَطِیعُوا الرَّسُولَ وَأُولِی الْأَمْرِ مِنْكُمْ»[20]

اور آیۂ تطہیر، آیۂ ولایت وغیرہ— نیز رسولِ اکرم(ص) کی متواتر احادیث، مثلاً حدیثِ ثقلین، حدیثِ جابر اور دیگر روایات کی بنا پر معصوم مانتے ہیں۔

اسی بنا پر شیعہ، ان حضرات کے اقوال، افعال اور تقریرات کو سنّتِ نبوی کی تفسیر، تبیین اور تفریع قرار دیتے ہیں اور انہیں حجّت سمجھتے ہیں۔

حدیثِ متواترِ ثقلین، جیسا کہ کتاب حدیث الثقلین و مقامات اہل البیت (تصنیف: احمد ماحوزی) میں بیان ہوا ہے، رسولِ اکرم(ص) سے پچیس سے زائد صحابۂ کرام کے ذریعے نقل ہوئی ہے،

جن میں یہ حضرات شامل ہیں:

  • امام علی علیہ السلام،
  • ابوذر غفاری،
  • ابوسعید خدری،
  • زید بن ارقم،
  • زید بن ثابت،
  • جابر بن عبداللہ،
  • حذیفہ بن اسید،

اور حتیٰ کہ ابو ہریرہ۔[21]

آخرکار یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ شیعہ مکتبِ فکر میں سنّت کا اطلاق معصوم علیہ السلام کے قول، فعل اور تقریر پر ہوتا ہے۔[22].

حضرت امام علی علیہ السلام سے مروی ایک حدیث میں سنّت کی تعریف اس طرح بیان ہوئی ہے: اَلسُّنَّةُ وَاللّٰهِ سُنَّةُ مُحَمَّدٍ ﷺ، وَالْبِدْعَةُ مَا فَارَقَهَا، وَالْجَمَاعَةُ وَاللّٰهِ مُجَامَعَةُ أَهْلِ الْحَقِّ وَإِنْ قَلُّوا، وَالْفُرْقَةُ مُجَامَعَةُ أَهْلِ الْبَاطِلِ وَإِنْ كَثُرُوا۔[23]

یعنی: اللہ کی قسم، سنّت وہی ہے جو محمد (ص) کی سنّت ہے،اور بدعت وہ ہے جو اس سے جدا ہو۔ اور اللہ کی قسم، جماعت اہلِ حق کے ساتھ متحد ہونا ہے، چاہے وہ تعداد میں کم ہوں، اور تفرقہ اہلِ باطل کے ساتھ جمع ہونا ہے، چاہے وہ تعداد میں زیادہ ہوں۔

اہلِ سنت کے نزدیک سنّت کی اصطلاح

اہلِ سنت اس بات کے قائل ہیں کہ انہوں نے اپنا فقہ براہِ راست رسولِ اکرم(ص) سے اخذ کیا ہے، نہ کہ خلفائے اربعہ سے بطورِ مستقل ماخذ، اور نہ ہی ائمۂ اربعہ سے بطورِ شارع۔

اسی بنا پر اہلِ سنت کے نزدیک صحابۂ کرام اور ائمۂ اربعہ درحقیقت امت کے علماء اور مجتہدین تھے، جنہوں نے رسولِ اللہ(ص) کے اقوال و افعال کی بنیاد پر فقہی مسائل کو مرتب، منضبط اور مدوّن کیا۔

اہلِ سنت کے مطابق، ان مجتہدین نے کسی مسئلے میں اپنی جانب سے کوئی حکم وضع نہیں کیا مگر یہ کہ اس مسئلے کی اصل یا تو رسولِ خدا ﷺ کے کسی قول میں موجود ہو یا آپ ﷺ کے کسی فعل میں اس کی بنیاد پائی جاتی ہو۔

چنانچہ اس بنا پران کے مدوّن کردہ فقہ کی پیروی درحقیقت رسولِ اکرم (ص) ہی کی پیروی شمار ہوتی ہے۔ اور اگر بالفرض اہلِ سنت کے چاروں ائمہ میں سے کسی امام سے کوئی ایسا قول یا حکم منقول ہو جو سنّتِ رسول ﷺ کے خلاف ہو،

تو اہلِ سنت کے تمام علماء کے نزدیک وہ قول ناقابلِ قبول ہے، کیونکہ دین کی اصل بنیاد رسولِ اللہ ﷺ کی اتباع ہے۔ البتہ اہلِ سنت کے بعض علماء صحابۂ کرام کی سنّت کو بھی سنّتِ نبوی کی طرح حجّت قرار دیتے ہیں،[24] اور اہلِ سنت کے ایک گروہ کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ جس شخص پر صحابی ہونے کا اطلاق درست ہو جائے، وہ عادل شمار ہوتا ہے۔[25]

تقریبی ادبیات میں سنّت

تقریبی اور کلامی ادبیات میں سنّت اس عملی طریقے کو کہا جاتا ہے جو صاحبِ شریعت کے عمل کے مطابق ہو۔ اس معنی میں سنّت، بدعت کے مقابل قرار پاتی ہے، اور بدعت مسلمانوں کے نزدیک حرام سمجھی جاتی ہے۔ اہلِ سنت کے بعض حلقوں نے اس فہم کی بنیاد پر کہ دین کے تمام احکام ہی سنّت ہیں اور صرف اہلِ سنت ہی اس پر ایمان رکھنے والے اور عمل کرنے والے ہیں، غیر اہلِ سنت کو اہلِ بدعت قرار دیا اور بعض مواقع پر تکفیر تک کی ہے۔

البتہ اہلِ سنت کے بعض علماء نے بدعت کو بدعتِ حسنہ اور بدعتِ سیئہ میں تقسیم کیا تاکہ بعض صحابہ کے بعض اعمال کی توجیہ کی جا سکے، جس پر شیعہ علماء نے بھی اعتراض کیا اور خود اہلِ سنت کے بعض اکابر نے بھی اس تقسیم کو محلِ اشکال قرار دیا ہے۔

سنّت کا ایک متفق علیہ مفہوم یہ ہے کہ اس سے رسولِ اکرم(ص) کے قول، فعل اور تقریر مراد لی جائے، اور یہ مفہوم تمام مسلمانوں کے نزدیک مقبول اور واجب الاتباع ہے۔ تاہم مسلمانوں کے درمیان اختلاف اس بات میں ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ کی حقیقی سنّت تک رسائی کا درست طریقہ کیا ہے اور یہ کہ پیغمبر کے علاوہ کن افراد کو معصوم یا کم از کم عادل سمجھا جائے تاکہ ان کی سنّت بھی قابلِ اتباع قرار پا سکے۔

روایاتِ معصومین علیہم السلام میں سنّت کے معانی ائمۂ معصومین علیہم السلام کی روایات میں سنّت دو مختلف معنوں میں استعمال ہوئی ہے:

اوّل: وسیع اور اصولی معنی اس سے مراد وہ تمام امور ہیں جو رسولِ اکرم (ص) نے قرآن کے علاوہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے انسانی زندگی کے بہتر طریقۂ کار کی وضاحت کے لیے بیان فرمائے۔ اس استعمال میں سنّت کا مفہوم نہایت وسیع ہے اور دین کے تمام احکام چاہے وہ تکلیفی ہوں یا وضعی سب کو شامل کرتا ہے۔ اس معنی میں سنّت کے مقابل بدعت قرار پاتی ہے۔

دوم: مستحب اور مندوب کے معنی میں روایات میں سنّت کا ایک اور استعمال مستحب اور پسندیدہ عمل کے معنی میں ہے، اور یہ استعمال بھی روایات میں بکثرت پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر روایات میں آیا ہے: مسواک کرنا سنّت میں سے ہے اور یہ منہ کو پاکیزہ کرتی ہے: السواک هو من السنة، و مطهّرة للفم[26]

اسی طرح حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام لڑکے کے ختنہ کو سنّت قرار دیتے ہیں: خِتَانُ الْغُلَامِ مِنَ السُّنَّةِ [27] اسی مناسبت سے فارسی زبان میں ختنہ اور ختنہ سوران کو بھی سنّت کہا جاتا ہے۔

اور ایک روایت میں آیا ہے: یہ بھی سنّت میں سے ہے کہ ہر جمعہ محمد(ص) اور ان کے اہلِ بیت پر ہزار مرتبہ درود بھیجا جائے: من السنة أن تصلّی علی محمد و أهل بيته في كل جمعة ألف مرة[28]

اسلامی علوم کی اصطلاح میں سنت

سنت کے معنی ثقافت

غیر مذہبی مفہوم میں سنت عموماً جمع کی صورت میں اور آداب و رسوم کے مترادف کے طور پر استعمال ہوتی ہے، اور اس سے مراد وہ اعمال اور رویّے ہیں جو خاندان، قبیلے اور معاشرے میں قدیم زمانوں سے وراثت میں منتقل ہوتے آئے ہیں، جن کی انجام دہی کے لیے نہ کوئی منطقی دلیل موجود ہوتی ہے، نہ کوئی صریح حکم، اور نہ ہی کوئی مدوّن قانون۔ یہی وہ مفہوم ہے جو ثقافتی بشریات میں پیشِ نظر رکھا جاتا ہے۔[29]

سنت بمعنی عام ثقافت

سنت اُن اقدار، ہنجاروں، قواعد اور معیّن اصولوں پر مشتمل ہوتی ہے جو معاشرے کی جانب سے قبول کیے جاتے ہیں اور سماجی زندگی کے چاہیے اور نہ چاہیے کو واضح کرتے ہیں۔ سنت، ثقافت کی تشکیل کے بنیادی عناصر میں سے ہے، بلکہ کسی حد تک اسے ایک معاشرے کے افراد کے درمیان مشترک اقدار، ہنجاروں، عقائد اور افکار کی پیدائش کا اصل منبع بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس معنی میں سنت، ثقافت کے عمومی مفہوم کے ہم معنی ہے۔

سماجیات میں:

سنت سے مراد معاشرے کے وہ اخلاقی نمونے ہیں جو اُس معاشرے کی ثقافت میں پائیداری اختیار کر چکے ہوں اور نهادینه ہو گئے ہوں۔

دین کی سماجیات میں:

سنت اُن دینی احکامات اور اخلاقیات کے مجموعے کو کہا جاتا ہے جو مذہبی جماعتوں میں استحکام حاصل کر چکے ہوں۔

فقہِ اسلامی میں: سنت بمعنی مستحب، احکامِ خمسہ میں سے ایک

ہر وہ شرعی حکم جس کے انجام دینے پر ثواب ہو اور ترک کرنے پر گناہ یا سزا نہ ہو، سنت کہلاتا ہے۔ اس تعریف کے مطابق سنت احکامِ خمسۂ تکلیفی میں سے ایک ہے۔ فقہا کی اصطلاح میں سنت کی تعریف یہ ہے کہ تمام مسلمان رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کی عصمت پر ایمان رکھتے ہیں، لہٰذا آپ کا قول، فعل اور تقریر تمام مسلمانوں کے نزدیک سنت شمار ہوتا ہے۔ چونکہ شیعہ ائمہ اہلِ بیت علیہم السلام کی عصمت پر بھی عقیدہ رکھتے ہیں، اس لیے اُن کا قول، فعل اور تقریر بھی سنت میں شامل ہوگا۔ سنت کے ثبوت کا ذریعہ نقل ہے، جو دو قسم کی ہوتی ہے: متواتر اور غیر متواتر۔

اصولیین کی اصطلاح میں: سنت بمعنی حجتِ الٰہی کے اقوال، افعال اور تقریرات کا مجموعہ

کسی شخص کے قول، فعل اور تقریر کا وہ مجموعہ جو اس کی کسی رائے یا عمل سے موافقت کی نشاندہی کرے اور شرعی اعتبار سے دوسروں کے لیے حجت ہو، اس شخص کی سنت کہلاتا ہے۔ اسی طرح رسولِ اسلام کے تمام اقوال، افعال اور تقریرات کا مجموعہ، جن کی صحت پر شارع کی طرف سے شرعی حجت قائم ہو اور جن پر شارعِ مقدس کی رضامندی دلالت کرے، سنتِ نبوی کہلاتا ہے۔

احکامِ شرعی پر دلالت اور حجیت کے اعتبار سے سنت، قرآن کے بعد دوسرے درجے پر فائز ہے، کیونکہ ارشادِ الٰہی ہے: جو شخص رسول کی اطاعت کرے، اس نے حقیقت میں اللہ کی اطاعت کی۔[30] نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: اور جو کچھ رسول تمہیں دے، اسے لے لو، اور جس چیز سے وہ تمہیں منع کرے، اس سے باز رہو۔[31] اس طرح اللہ تعالیٰ نے رسول کے ساتھ مخالفت اور نزاع کی کوئی گنجائش باقی نہیں رکھی۔

علمِ حقوق میں: سنت بمعنی معاشرتی عرف کا مقبول قانون

بعض ممالک میں قانونی نظام کی بنیاد عرف کے رجوع سے قائم کی جاتی ہے، جسے کامن لا کہا جاتا ہے۔ اس تناظر میں عرف یا سنت سے مراد وہ چیز ہے جو کم از کم ایک یا دو نسلوں سے پہلے معاشرے میں رائج، لوگوں کے درمیان معروف اور عام طور پر مقبول رہی ہو۔ اس نقطۂ نظر کے مطابق وہ سنت جو قومی، مذہبی یا نسلی ملاحظات کی بنیاد پر وجود میں آئی ہو، عرفی رویّوں کی شناخت کا معیار بن سکتی ہے۔ البتہ اس تعریف میں زمانہ نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے، کیونکہ سنتیں مختلف تاریخی ادوار میں تبدیل ہو سکتی ہیں، اگرچہ عموماً کسی معاشرے پر حاکم سنت نسبتی پائیداری رکھتی ہے۔

سنت بمعنی دینی نگاہ، جدیدیت کے مقابل

اس مفہوم میں سنت اُس جوہر کی طرف اشارہ کرتی ہے جو انسان اور خدا کے درمیان تعلق کی توضیح کرتا ہے۔ سنت کی یہ تعبیر دین کے مفہوم کے ساتھ قرین ہے، اور دین و مدرنیّت کے باہمی تعارض کے مقام پر اس اصطلاح کو استعمال کیا جاتا ہے۔

سنت کا مفہوم، محافظہ کاری کے ساتھ نسبت میں

سنت کی ایک عام عوامی تعریف کے مطابق، سنت ماضی کی طرف رجوع اور موجودہ حالات کے تحفظ پر اصرار کا نام ہے۔ اس مفہوم میں سنت کو ایک قسم کی محافظہ کاری سمجھا جاتا ہے۔ اس اصطلاح کے تحت سنت ایک ایسی حقیقت ہے جو ماضی میں موجود رہی ہو اور جسے دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، یا معاشرے کو سابقہ حالات کی طرف واپس لے جانے کی خواہش پائی جاتی ہے۔ یہی سنت محافظہ کاری کی بنیادی اساس ہے جس کے تحفظ کے لیے محافظہ کار کوشاں رہتے ہیں۔ مدرنسٹ نقطۂ نظر سے سنت کا یہ مفہوم سماجی تبدیلی اور اصلاح کے مقابل قرار پاتا ہے۔

قیادت اور حاکم کی مشروعیت کے مباحث میں سنت

سنت، اقتدار کی دو دیگر اقسام یعنی کاریزماتک اقتدار اور قانونی اقتدار کے مقابل نہیں رکھی جاتی۔ اس اصطلاح میں سنت سے مراد وہ اقتدار ہے جو پہلے ہی عوام کی حمایت حاصل کر چکا ہو اور وقت کے ساتھ ساتھ تسلسل کے ساتھ برقرار رہا ہو۔

سنت اور عقلانیت کا باہمی تعلق

سنت اور عقلانیت کے باب میں مغربی مفکرین کے بیان کے مطابق، سنت کو احساسات اور غیرعقلانی یا عقل مخالف گزارات کے ایک مجموعے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جسے مدرنیّت کے مقابل ڈوگماٹزم کہا جاتا ہے، جبکہ مدرنیّت کا بنیادی محور خودبنیاد عقلانیت اور خردورزی ہے۔ اس نقطۂ نظر میں مدرنیّت کی عقلانیت کو ہر مقام پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔[32]

متعلقہ تلاشیں

حوالہ جات

  1. لغت‌نامه دهخدا
  2. فخرالدین الطریحی، مجمع البحرین، ج 6، ص 269.
  3. ابن منظور، لسان العرب، ج13، ص226و مرتضی زبیدی، تاج العروس، ج 18، ص 300
  4. مرتضی زبیدی، تاج العروس، ج 18، ص 300
  5. محمد الأزهری، تهذیب اللغة، ج 12، ص 210.
  6. ، محمد تقی الحکیم، السنة فی الشریعة الاسلامیة، ص7.
  7. (قرشی، سید علی اکبر، قاموس قرآن، تهران، دار الکتب الاسلامیة، ۱۳۷۱ ش، ششم، ج۳، ص۳۴۲.)
  8. (نساء،26)
  9. (حجر،13)
  10. [جرجانی، محمد ابن علی، کتاب التعریفات، ص۱۲۲.
  11. غافر، 85
  12. [آل عمران/۱۳۷]
  13. فتح آیه 23.
  14. احمد حامد مقدم، سنتهای اجتماعی در قرآن، ص14.
  15. لسان العرب، ج13، ص225
  16. نساء،59
  17. احزاب، 21
  18. (النجم: 3، 4)
  19. حشر، 7
  20. (النساء: ۵۹)
  21. نسائی‌، ‌‌السنن الکبری‌، ‌‌‌‌ج۵‌، ‌‌ص۴۵؛ طبرانی‌، ‌‌المعجم الکبیر‌، ‌‌‌‌ج۵‌، ‌‌ص۱۸۶؛ ترمذی‌، ‌‌سنن الترمذی‌، ‌‌‌‌ح ۳۸۷۶؛ حاکم نیشابوری‌، ‌‌المستدرک‌، ج۳‌، ص۱۱۰؛ احمد بن حنبل‌، ‌‌مسند احمد، ج۴‌، ص۳۷۱؛ احمد بن حنبل‌، ‌‌مسند احمد‌، ج۵‌، ‌‌صص ۱۸۳ و ۱۸۹؛ طبرانی‌، ‌‌المعجم الکبیر‌، ‌‌ج۵‌، ص۱۶۶؛ ترمذی‌، ‌‌صحیح ترمذی‌، ‌‌ج۵‌، ص۳۲۸؛ طبرانی‌، ‌‌المعجم الکبیر‌، ‌‌‌‌ج۳‌، ‌‌ص۶۶؛ طبرانی‌، ‌‌المعجم الاوسط‌، ج۵‌، ص۸۹؛ طبرانی‌، ‌‌المعجم الکبیر‌، ‌‌‌‌ج۳‌، ‌‌ص۱۸۰؛ احمد بن حنبل‌، ‌‌مسند احمد‌، ج۳‌، ‌‌صص ۱۳‌، ‌‌۱۷‌، ‌‌۲۶ و ۵۹؛ العقیلی‌، ‌‌ضعفاء الکبیر‌، ج۴‌، ص۳۶۲؛ البزار‌، ‌‌البحر الزخار‌، ص۸۸‌، ‌‌ح ۸۶۴؛ متقی هندی‌، ‌‌کنز العمال‌، ج۱۴‌، ص۷۷‌، ‌‌ح ۳۷۹۸۱؛ دارقطنی‌، ‌‌المؤتلف و المختلف‌، ج۲‌، ص۱۰۴۶؛ الهیثمی‌، ‌‌کشف الاستار‌، ج۳‌، ص۲۲۳‌، ‌‌ح ۲۶۱۷؛ ابن اثیر‌، ‌‌اسدالغابة‌، ج۳‌، ص۲۱۹‌، ‌‌ش ۲۹۰۷؛ البانی‌، ‌‌ظلال الجنة‌، ‌‌ح ۱۴۶۵؛ ینابیع المودة قندوزی، ج۱‌، ‌‌ص۱۰۶-۱۰۷ و عسقلانی، ابن‌حجر، الاصابه، ج۷‌، ‌‌ص۲۷۴-۲۴۵.
  22. مظفر، محمد رضا، اصول الفقه، قم، بوستان کتاب، ۱۴۱۵ه ق، ج۲، ص۶۳.
  23. (کتاب سلیم بن قیس الهلالی ج‏۲، ص ۹۶۴)
  24. (ر. ک شاطبی در الموافقات، ج ۴، ص ۷۴.)
  25. الاصابة فی تمییز الصحابة، ج ۱، ص ۱۶۲
  26. اصول کافی، ص ج 4، کتاب فضل العلم، باب الرد الی الکتاب و السنة
  27. الکافی (ط - الإسلامیة)؛ ج‏6؛ ص37
  28. وسائل الشیعه، ج 1، ص 347.
  29. امان الله قرایی مقدم، انسان‌شناسی فرهنگی (مردم‌شناسی فرهنگی)، (تهران: ابجد، 1382ش)، ص102.
  30. نساء/۸۰
  31. حشر/۷
  32. لغتنامهٔ دهخدا، سرواژهٔ «دگماتیسم»

منابع