مندرجات کا رخ کریں

نبوت

ویکی‌وحدت سے

نبوت سے مراد یہ عقیدہ ہے کہ خدا نے اپنی بات انسانوں تک پہنچانے کے لیے انہی میں سے کچھ افراد کو پیغمبر کے طور پر منتخب کیا ہے۔

حقیقت نبوت

لفظ «نبوت» لغت میں پیغمبری کے معنی میں آتا ہے اور لفظ «نبی» کا معنی پیغمبر ہے۔ مشہور قول کے مطابق ان دونوں الفاظ کی اصل «نبأ» ہے جس کے معنی خبر کے ہیں۔ راغب اصفہانی کے مطابق یہ خاص طور پر ایسی خبر کے لیے استعمال ہوتا ہے جو اہمیت رکھتی ہو، یعنی ایسی خبر جس میں بڑی منفعت ہو اور جس سے علم یا غالب گمان حاصل ہو۔ [1]

یہ خصوصیت مسئلہ نبوت میں موجود ہے؛ کیونکہ وہ خبریں جو انبیائے الٰہی علیہم السلام انسانوں تک پہنچاتے ہیں نہایت اعلیٰ درجے کی اہمیت رکھتی ہیں، اس لیے کہ انسان کی سعادت اور شقاوت اس بات پر موقوف ہے کہ وہ پیغمبروں کی خبروں کے ساتھ کس طرح کا برتاؤ کرتا ہے۔ اسی بنا پر شریعت کی اصطلاح میں پیغمبر اس شخص کو کہا جاتا ہے جو آسمانی اہم خبروں کو انسانوں تک پہنچائے۔

رسول اور نبی میں فرق

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبوت اور رسالت میں ملازمت ہے، یعنی جو شخص نبوت کے مقام پر فائز ہوتا ہے وہ رسالت اور پیغام رسانی کا منصب بھی رکھتا ہے۔ البتہ اس سے مراد یہ نہیں کہ نبوت اور رسالت یا نبی اور رسول مترادف الفاظ ہیں، بلکہ مقصود یہ ہے کہ علم کلام کی اصطلاح میں یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں۔ اس کی واضح دلیل یہ ہے کہ قرآن کریم جب نبوت عامہ کا ذکر کرتا ہے تو کبھی «نبی» اور کبھی «رسول» کا لفظ استعمال کرتا ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے:

۱. «کَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً فَبَعَثَ اللَّهُ النَّبِیِّینَ مُبَشِّرِینَ وَمُنذِرِینَ وَأَنزَلَ مَعَهُمُ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ» [2]

۲. «لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْکِتَابَ وَالْمِیزَانَ لِیَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ» [3]

پہلا نظریہ

جو کچھ بیان ہوا وہ علم کلام کے نقطۂ نظر سے نبوت اور رسالت کے مطالعے سے متعلق ہے، یعنی فلسفۂ نبوت و رسالت علم کلام کی رو سے ایک ہی ہے اور اس اعتبار سے نبی اور رسول کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ مذکورہ دو آیات اور دیگر آیات جن میں انبیاء علیہم السلام کی رسالت اور ماموریت بیان ہوئی ہے، پیغمبر اور رسول کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھتیں۔

البتہ چونکہ انبیائے الٰہی کے درمیان مراتب اور درجات کا فرق پایا جاتا ہے، اس لیے ممکن ہے کہ بعض قرآنی آیات یا روایات میں نبی اور رسول کے درمیان فرق بیان کیا گیا ہو، لیکن یہ فرق ان کی ذمہ داری یا ماموریت سے متعلق نہیں بلکہ دیگر صفات اور خصوصیات سے مربوط ہے۔ چنانچہ روایات میں آیا ہے: «رسول وہ ہے جو خواب اور بیداری دونوں حالتوں میں فرشتۂ وحی کو دیکھتا ہے اور اس کی آواز سنتا ہے، جبکہ نبی وہ ہے جو فرشتۂ وحی کو صرف خواب میں دیکھتا ہے اور بیداری میں صرف اس کی آواز سنتا ہے» [4]

قابلِ ذکر ہے کہ یہ روایات عموماً درج ذیل دو آیات کی تفسیر میں وارد ہوئی ہیں:

۱. «وَکَانَ رَسُولًا نَبِیًّا» [5]

۲. «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ وَلَا نَبِیٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّى أَلْقَى الشَّیْطَانُ فِی أُمْنِیَّتِهِ» [6]

پہلی آیت حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ہے اور دوسری تمام انبیاء علیہم السلام کے بارے میں ہے۔ دونوں آیات میں «رسول» اور «نبی» ان افراد کے لیے استعمال ہوئے ہیں جنہیں انسانوں تک الٰہی پیغامات پہنچانے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔

لہٰذا علم کلام کے اعتبار سے نبوت اور رسالت میں کوئی فرق نہیں۔ تاہم کلام کے ظاہر سے کسی حد تک فرق کا احساس ہوتا ہے، اسی لیے ائمہ طاہرین علیہم السلام سے اس بارے میں سوال کیا گیا اور انہوں نے وہی فرق بیان فرمایا جو پہلے ذکر کیا جا چکا ہے۔

دوسرا نظریہ

نبی اور رسول کے درمیان فرق کے بارے میں دوسرا نظریہ — جو اسلامی متکلمین اور مفسرین کے درمیان مشہور ہے — یہ ہے کہ رسول وہ پیغمبر ہے جسے لوگوں تک الٰہی پیغام پہنچانے کا حکم دیا گیا ہو، جبکہ نبی وہ پیغمبر ہے جو الٰہی پیغامات کا حامل ہوتا ہے، خواہ اسے ان کے ابلاغ کا حکم دیا گیا ہو یا نہ دیا گیا ہو۔[7][8][9][10]

دوسرے نظریے کا جائزہ

اس نظریے کے مطابق نبی اور رسول کے درمیان نسبت عموم و خصوص مطلق کی ہے؛ یعنی ہر رسول نبی بھی ہوتا ہے لیکن ہر نبی رسول نہیں ہوتا۔ یہ نظریہ اس بات سے بظاہر مختلف ہے جو ہم نے پہلے بیان کیا کہ علم کلام کی رو سے نبوت اور رسالت میں ملازمت ہے۔

تاہم یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس نظریے کا مقصد یہ نہیں کہ بعض انبیاء ایسے بھی تھے جو الٰہی پیغامات کے حامل تو تھے لیکن کبھی لوگوں تک ان کے ابلاغ کے لیے مامور نہیں ہوئے، کیونکہ ایسا فرض فلسفۂ نبوت — یعنی انسانوں کی ہدایت — کے خلاف ہے۔ بلکہ مقصود یہ ہے کہ بعض حالات میں کوئی شخص مقامِ نبوت رکھتا ہو لیکن ابھی مقامِ رسالت تک نہ پہنچا ہو، یعنی کسی وجہ سے اسے لوگوں تک پیغام پہنچانے کا حکم نہ ملا ہو۔

دوسرے لفظوں میں ممکن ہے کہ بعض انبیائے الٰہی رسالت پر مبعوث ہونے سے پہلے مقام نبوت رکھتے ہوں، یعنی عالم غیب سے ارتباط رکھتے ہوں اور انہیں کچھ معارف کی وحی بھی ہوتی ہو، لیکن انہیں ابھی لوگوں کی ہدایت اور ان معارف کے ابلاغ کا حکم نہ ملا ہو۔ ظاہر ہے کہ اس مرحلے میں وہ عام لوگوں کے نزدیک پیغمبر کے طور پر معروف نہیں ہوتے تھے، لیکن جب انہیں ہدایتِ بشر کی ذمہ داری دی جاتی تو وہ نبوت اور رسالت دونوں کے حامل ہوتے تھے۔ علم کلام کی اصطلاح میں جب نبوت کا لفظ استعمال ہوتا ہے تو یہی معنی مراد ہوتا ہے۔

نتیجہ یہ کہ علم کلام اور فلسفۂ نبوت کے لحاظ سے نبی اور رسول میں کوئی فرق نہیں، البتہ دوسرے پہلوؤں سے ان کے درمیان فرق بیان کیا جا سکتا ہے؛ جیسے وہ فرق جو روایات میں ذکر ہوا ہے یا وہ فرق جو بعض مفسرین اور متکلمین نے بیان کیا ہے۔

تیسرا نظریہ

بعض علماء نے نبی اور رسول کے درمیان فرق کو کتاب اور شریعت کی بنیاد پر بیان کیا ہے۔ ان کے مطابق نبی اور رسول اس لحاظ سے ایک جیسے ہیں کہ دونوں لوگوں کی ہدایت اور رہبری کے لیے مامور ہوتے ہیں؛ لیکن رسول وہ پیغمبر ہے جو مستقل شریعت اور آسمانی کتاب کا حامل ہو، جبکہ نبی وہ پیغمبر ہے جو مستقل شریعت اور کتاب نہ رکھتا ہو۔[11][12][13][14]

تیسرے نظریے کا جائزہ

یہ نظریہ اس لحاظ سے قابل قبول ہے کہ وہ ہدایت اور تبلیغ کو نبی اور رسول دونوں کی مشترک ذمہ داری قرار دیتا ہے، لیکن اس اعتبار سے کہ رسول کو صاحب شریعت اور صاحب کتاب قرار دے کر نبی سے جدا کیا جائے، اس کے لیے کوئی مضبوط دلیل موجود نہیں۔ بلکہ قرآن کریم اور روایات میں «نبی» اور «رسول» کے استعمالات اس نظریے کے مطابق نہیں ہیں۔

مثلاً قرآن کریم حضرت اسماعیل علیہ السلام کو رسول کہتا ہے، حالانکہ وہ مستقل کتاب اور شریعت کے حامل نہیں تھے:

«وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِسْمَاعِيلَ إِنَّهُ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَكَانَ رَسُولًا نَبِيًّا» [15]

اسی طرح قرآن کریم تمام اقوام کی طرف رسول بھیجے جانے کا ذکر کرتا ہے:

«وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ» [16]

حوالہ جات

  1. (النبأ خبر ذو فائده عظیمه یحصل به علم أو غلبه ظنٌ، و لا یقال للخبر فی الأصل نبأ حتی یتضمن هذه الأشیاء الثلاثه.)
  2. مفردات راغب، مادہ نبأ.
  3. بقره/سوره۲، آیه ۲۱۳.
  4. حدید/سوره۵۷، آیه ۲۵.
  5. اصول كافی، ج ۱، كتاب الحجه، باب الفرق بین الرسول و النبی.
  6. مریم/سوره۱۹، آیه ۵۱.
  7. حج/ سوره۲۲، آیه۵۲.
  8. تفسیر تبیان، ج ۷، ص ۳۳۱.
  9. مجمع البیان، ج ۴، ص ۹۱.
  10. تفسیر المنار، ج ۹، ص ۲۲۶ـ۲۲۵.
  11. تفسیر الجلالین، تفسیر آیه ۵۲، سوره حج.
  12. تفسیر كشاف، ج ۲، ص ۳۵۲ـ۱۶۵
  13. تفسیر بیضاوی، ج ۴، ص ۵۷.
  14. اسرار الحكم، ص ۳۹۵.
  15. سرمایه ایمان، صص ۸۶ـ۸۵.
  16. مریم/سوره۱۹، آیه ۵۴.