مندرجات کا رخ کریں

محمد باقر مجلسی

ویکی‌وحدت سے
محمد باقر مجلسی
پورا ناممحمد باقر مجلسی
دوسرے نامعلامہ مجلسی
ذاتی معلومات
پیدائش۱۰۳۷ ق، 1628 ء، 1007 ش
پیدائش کی جگہاصفهان
وفات۱۱۱۰ ق، 1699 ء، 1078 ش
اساتذہمحمدتقی مجلسی، ملا صالح مازندرانی،فیض کاشانی، سید علی خان مدنی، ملا خلیل قزوینی
شاگردافندی اصفهانی، سید نعمت الله جزایری، ملا محمد رفیع گیلانی، میر محمد حسین خاتون آبادی
مذہباسلام، شیعه
اثراتبحارالانوار، مرآة العقول، حلیة المتقین، ملاذ الاخبار، جلاء العیون
مناصبمحقق، محدث، معروف شیعه عالم دین

محمد باقر مجلسی، محمد تقی مجلسی کے فرزند اور علامہ مجلسی کے نام سے معروف، گیارہویں صدی ہجری کے مشہور شیعه عالم اور مختلف اسلامی علوم جیسے تفسیر، حدیث، کلام، فقه، اصول، تاریخ، رجال اور درایه میں صاحبِ نظر تھے۔

انہوں نے 1090 ھ ق میں ملا محمد باقر سبزواری کی وفات کے بعد منصبِ شیخ الاسلامی سنبھالا اور اس منصب پر فائز رہتے ہوئے مختلف سیاسی و سماجی میدانوں میں ایران اور مذهب تشیع کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔ انہوں نے اپنے شاگردوں کے تعاون سے شیعہ احادیث کی عظیم موسوعہ بحار الانوار تألیف کی۔

سوانح حیات محمد باقر مجلسی

1037 ھ ق میں، جو جملہ جامع کتاب بحارالانوار. کے عددِ ابجد کے برابر ہے[1]، شہر اصفهان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محمدتقی مجلسی شیخ بهایی کے شاگرد تھے اور علوم اسلامی میں اپنے زمانے کے اکابر میں شمار ہوتے تھے۔ ان کے دادا کا نام مقصود علی مجلسی تھا اور والدہ صدرالدین محمد عاشوری کی صاحبزادی تھیں۔

چار سال کی عمر سے قبل ہی اپنے والد سے تعلیم حاصل کرنا شروع کی اور مساجد میں نماز کے لیے حاضر ہوتے تھے۔ جیسا کہ خود بیان کرتے ہیں: «الحمدلله رب العالمین کہ بنده در سن 4 سالگی همه این‌ها را می‌دانستم؛ یعنی خدا و نماز و بهشت و دوزخ و نماز شب می‌کردم در مسجد صفا و نماز صبح را به جماعت می‌کردم و اطفال را نصیحت می‌کردم به آیت و حدیث، به تعلیم پدرم رحمةالله علیه».یعنی:«الحمدلله رب العالمین که بنده در سن ۴ سالگی همه این‌ها را می‌دانستم؛ یعنی خدا و نماز و بهشت و دوزخ و نماز شب می‌کردم در مسجد صفا و نماز صبح را به جماعت می‌کردم و اطفال را نصیحت می‌کردم به آیت و حدیث، به تعلیم پدرم رحمةالله علیه» انہوں نے مختصر مدت میں اپنے دور کے تمام رائج علوم حاصل کر لیے[2]۔

اگرچہ ان کے والد علوم نقلی میں مہارت رکھتے تھے، مگر بعد میں وہ زیادہ تر احادیث کی شرح و تفسیر کی طرف مائل ہوگئے، چنانچہ مجلسی نے علوم نقلی اپنے والد سے حاصل کیے اور علوم عقلی آقا حسین خوانساری سے سیکھے۔

14 سال کی عمر میں ملاصدرا سے اجازتِ روایت حاصل کی۔ بعد ازاں علامه حسن علی شوشتری، امیرمحمد مومن استرآبادی، سید نعمت اللہ جزایری شیخ حرعاملی، ملا محسن استرآبادی، ملا محسن فیض کاشانی اور ملا صالح مازندرانی جیسے اساتذہ سے استفادہ کیا۔ انہوں نے صرف و نحو، معانی و بیان، لغت و ریاضی، تاریخ و فلسفہ، حدیث و رجال، درایہ، اصول، فقه اور کلام پر مکمل عبور حاصل کیا۔

1099 ھ ق میں آقا حسین خوانساری کی وفات کے بعد شاہ سلیمان صفوی کے دور میں ایران کے منصبِ ملاباشی پر فائز ہوئے، جو بادشاہ کے بعد ملک کا سب سے بڑا دینی منصب تھا۔ ان کی زندگی نہایت آراستہ تھی۔ سید نعمت اللہ جزایری نے لکھا ہے کہ ان کے خادماؤں کے لباس بھی قیمتی کشمیری کپڑے کے ہوتے تھے[3]۔

یہ بھی ذکر کیا جاتا ہے کہ شاہ سلطان حسین کے دربار سے قربت کے باعث انہوں نے بعض اوقات عقلی و استدلالی علوم کی مخالفت کی اور خدا کی ذات و صفات اور قضا و قدر جیسے مسائل میں غور و فکر سے منع کیا۔ اسی دور میں ملا صدرا کی تکفیر اور ملا صادق اردستانی کی اصفہان سے جلاوطنی کا ذکر ملتا ہے[4]۔

شاگردان محمد باقر مجلسی

مندرجہ ذیل شخصیات علامہ کے ممتاز شاگردوں میں شمار ہوتی ہیں:

  1. مولی ابراہیم جیلانی؛
  2. مولی محمد ابراہیم بواناتی؛
  3. میرزا ابراہیم حسینی نیشابوری؛
  4. ابوالبرکات بن محمد اسماعیل خادم مشهدی؛
  5. مولی ابوالبقاء؛
  6. ابو اشرف اصفهانی؛
  7. مولی محمد باقر جزی؛
  8. ملا محمد باقر لاهیجی؛
  9. شیخ بهاءالدین کاشی؛
  10. مولی محمد تقی رازی؛
  11. میرزا محمد تقی الماسی؛
  12. مولی حبیب اللہ نصرآبادی؛
  13. ملا حسین تفرشی؛
  14. محمد رضا اردبیلی؛
  15. محمد طاہر اصفهانی؛
  16. عبدالحسین مازندرانی؛
  17. سید عزیز اللہ جزائری؛
  18. ملا محمد کاظم شوشتری؛
  19. شیخ بهاءالدین محمد جیلی؛
  20. مولی محمود طبسی؛
  21. محمد یوسف قزوینی و ...[5].

خصوصاً سید نعمت اللہ جزایری کی ذہانت اور محنت نے علامہ کو متاثر کیا، چنانچہ انہوں نے ان کی مالی مدد کی اور چار سال تک اپنے گھر میں قیام دیا[6]۔ بعد میں انہیں مدرس مقرر کیا گیا[7]۔

زہد اور پارسائی

ایک نہایت اہم خصوصیت اس بزرگ مرد کی زندگی میں اُس کا زہد، پارسائی اور سادہ زیستی ہے۔ علامہ عہدِ صفوی میں زندگی گزار رہے تھے اور حکومتِ صفوی کے شیخ الاسلام تھے، یعنی ایک جملے میں کہیں تو پوری سلطنت کی سہولتیں ان کے اختیار میں تھیں، لیکن ان سب کے باوجود علامہ کی ذاتی زندگی نہایت زہد اور کامل سادگی میں گزرتی تھی۔[8]۔

منتقدین محمد باقر مجلسی

علی شریعتی کو محمد باقر مجلسی کے بڑے مخالفین میں شمار کیا گیا ہے[9]۔ تاہم شریعتی کے تام الاختیار وصی، محمدرضا حکیمی نے ان کی وفات کے بعد دعویٰ کیا کہ: میں نے شریعتی کو بحارالانوار کے بعض حصے دکھائے، جس کے بعد بحارالانوار اور علامہ مجلسی کے بارے میں ان کا نقطۂ نظر بدل گیا، اور انہوں نے مجھ سے اپنی کتب کی تدوین و اصلاح کی درخواست کی[10]۔

کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کے دوران 1,200,000 سے زیادہ سطور تحریر کیں، جو اگر ان کی عمر کے برسوں پر تقسیم کی جائیں تو ہر سال تقریباً 20,000 سطور بنتی ہیں[11]۔ علی شریعتی کے علاوہ، سید محسن امین اور سید محمدحسین طباطبایی بھی ان کے ناقدین میں شامل تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ اگرچہ بحارالانوار شیعہ کی عظیم ترین کتبِ حدیث میں شمار ہوتی ہے، تاہم اس کی تدوین کو نظرِ ثانی کی ضرورت ہے، اور مؤلف نے قلیل و مفید مواد کو بہت سے غیر معتبر اور کم ارزش مطالب کے ساتھ ملا دیا ہے، جس کے نتیجے میں کتاب ایسی آمیزش بن گئی ہے جس میں صحیح و غلط اس طرح مخلوط ہیں کہ ان کی تمییز اور استناد مشکل ہو جاتا ہے[12]۔

وفات

محمد باقر مجلسی 27 رمضان 1110 ھ ق کو 73 برس کی عمر میں اصفہان میں وفات پا گئے[13]۔ آقا جمال خوانساری نے نمازِ جنازہ پڑھائی[14]۔ انہیں مسجد جامع اصفهان کے قریب اپنے والد کے پہلو میں دفن کیا گیا[15]۔

حوالہ جات

  1. ریحانة الادب، محمد علی مدرس تبریزی: ج 5، ص 196 .
  2. سید مصلح‌الدین مهدوی، زندگی‌نامه علامه مجلسی، ج1، ص 55.
  3. آشنایی با بحار الانوار، ص 22.
  4. حسین سینا، «نگاهی به اندیشهٔ سیاسی شیعی در گذر زمان»، احیا-دفتر پنجم، ص 51، تهران: نشر یادآوران، 1370.
  5. زندگی‌نامه علامه مجلسی، ج 2، ص 4 و 115.
  6. نابغه فقه و حدیث، ص 94.
  7. زندگی‌نامه علامه مجلسی، ج 1، ص 180.
  8. «علامه مجلسی مداح حکومت صفویه یا مروج تعالیم دینی»، سؤال 13396.
  9. عبدالهادی حائری، نخستین رویارویی اندیشه گران ایران، ص 178-179.
  10. خدایا زین معما پرده بردار، هفته نامه صبح، 15 اسفند 1375.
  11. ملک الشعرابهار سبک‌شناسی جلد ۳.
  12. Brunner، Rainer. «مجلسی، محمدباقر». دانشنامه ایرانیکا.
  13. قمی، الکنی و الالقاب، ج3، ص149.
  14. روضاتی، ص61.
  15. قمی، همان.