محمد بن علی بن موسی

ویکی‌وحدت سے
امام جواد.jpg

محمد بن علی بن موسی جو امام جواد اور امام محمد تقی (195-220 ہجری) کے نام سے مشہور ہیں شیعہ اثناعشریہ کے نویں امام ہیں۔ ان کی کنیت ابوجعفر ہے۔ انہوں نے 17 سال تک امامت کی اور 25 سال کی عمر میں شہید ہوئے ۔ آپ شیعوں کے ائمہ میں سے ایک ہیں، آپ اپنی شہادت کے وقت سب سے کم عمر امام تھے۔ اپنے والد کی شہادت کے وقت ان کی کم عمری نے امام رضا علیہ السلام کے بعض اصحاب کو آپ کی امامت میں شک پیدا کیا۔ بعض نے عبداللہ بن موسیٰ کو امام کہا اور بعض نے مذہب واقفیہ میں شمولیت اختیار کی لیکن ان میں سے اکثر نے محمد بن علی علیہ السلام کی امامت کو قبول کیا۔ امام جواد علیہ السلام کا شیعوں سے رابطہ زیادہ تر ان کے وکیلوں کے ذریعے اور خطوط کی صورت میں ہوتا تھا۔ نویں امام کی امامت کے دوران، اہل حدیث ، زیدیہ ، واقفیہ وغیرہ متحرک تھے۔ انہوں نے شیعوں کو ان کے عقائد سے آگاہ کیا اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے سے منع کیا اور شرفاء پر لعنت بھیجی۔ امام جواد علیہ السلام کے علمی مسائل پر اسلامی فرقوں کے علما کے ساتھ علمی بحثیں، جیسے کہ شیخوں کا مقام اور فقہی مسائل جیسے چور کا ہاتھ کاٹنے کا حکم اور حج کے احکام، مشہور و معروف موضوعات میں شمار ہوتے ہیں۔

نسب، کنیت اور لقب

محمد بن علی بن موسی بن جعفرعلیہ السلام پیغمبر اکرم کے نویں امام ہیں جو جواد آئمہ کے نام سے مشہور ہیں۔ ان کا سلسلہ نسب پہلے شیعہ رہنما امام علی علیہ السلام سے ملتا ہے۔ ان کے والد امام رضا علیہ السلام شیعہ شیعوں کے آٹھویں پیشوا ہیں۔ اس کی ماں ایک ہینڈ میڈ تھی اور اس کا نام سبیکہ نوبیہ تھا۔ ان کی کنیت ابو جعفر اور ابو علی ہیں۔ منابع میں انہیں ابو جعفر ثانی کے نام سے یاد کیا گیا ہے تاکہ ابو جعفر اول امام باقر کے ساتھ الجھن کا شکار نہ ہوں [1].

نویں امام کے مشہور لقب میں سے ایک جواد اور ابن رضا ہیں۔ ان کے لقب میں طاعی، ذکی، قنے، رازی، مختار، متوکل، مرتضیٰ اور مطجبرہ شامل ہیں۔

سوانح عمری

امام جواد علیہ السلام 195 ہجری میں مدینہ میں پیدا ہوئے۔ ان کی پیدائش کے دن اور مہینے کے بارے میں اختلاف ہے۔ اکثر منابع نے ان کی ولادت ماہ رمضان میں شمار کی ہے۔ بعض روایات کے مطابق جواد الائمہ کی ولادت سے پہلے بعض واقفیوں نے کہا تھا کہ علی بن موسیٰ امام کیسے ہوسکتے ہیں جب کہ ان کی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی۔ چنانچہ جب امام جواد کی ولادت ہوئی تو امام رضا علیہ السلام نے انہیں شیعوں کے لیے مبارک ولادت قرار دیا۔ تاہم، آپ کی ولادت کے بعد بھی، بعض واقفیوں نے امام رضا علیہ السلام کی طرف ان کی انتساب کا انکار کیا۔ وہ کہتے تھے کہ جواد علیہ السلام چہرے کے لحاظ سے اپنے والد سے مشابہت نہیں رکھتے، یہاں تک کہ وہ چہرے کے ماہرین کو لے آئے اور وہ امام جواد علیہ السلام کو امام رضا علیہ السلام کا بیٹا ہونے پر یقین آگیا۔

محمد بن علی بن موسی الرضاؑ شیعوں کے نویں پیشوا اور اپنے جد امجد کی امت کے ہدایت کے لئے خدا کی طرف سے انتخاب ہوئے۔ کلینی، شیخ مفید اور شیخ طوسی نے ماہ مبارک رمضان، 195 ہجری کو آپ کی ولادت کا مہینہ قرار دیا ہے. آپؑ پچیس سال کی عمر میں 220 ہجری کو شہر بغداد میں شہید ہوئے۔ آپؑ کی امامت اور جانشینی کی مدت سترہ سال ہے۔ آپ کی والدہ کنیز،‌اور ان کا نام سبیکہ اور نوبہ کے ر ہنے والی تھیں۔ حضرت امام رضاؑ کی عمر مبارک کے چالیس سال گزر چکے تھے لیکن کوئی اولاد نہ تھی اور یہ بات شیعوں کےلئے کافی پریشان کن تھی کیونکہ حضرت رسول خدا اور ائمہؑ سے جو روایات نقل ہوئی تھیں اس کی روشنی میں نویں امامؑ آٹھویں امامؑ کے ہی فرزند ہوں گے. لہذا انہیں اس بات کا سخت انتظار تھا کہ خداوند عالم حضرت امام رضاؑ کو جلد ایک فرزند سے نوازے، اس لئے کبھی امام رضاؑ کی خدمت میں شرفیاب ہو کر اس بات کی درخواست کر تے تھے کہ وہ خدا سے دعا مانگیں کہ خداوند عالم انہیں ایک فرزند عنایت فرمائے لیکن امامؑ ان کو تسلی دیتے تھے کہ " خدواند عالم مجھے ایک فرزند عطا کرے گا اور وہ میرے بعد امام ہو گا"۔ بعض روایات کے مطابق 10 رجب 195ھ کو امام محمد تقی ؑ کی ولادت ہوئی [2]۔

آپ کی ولادت شیعوں کے لئے باعث خوشی

آپ کی ولادت شیعوں کے لئے خوشی و مسرت اور ایمان و اعتقاد میں استحکام کا سبب قرار پائی کیونکہ ولادت میں تاخیر کی وجہ سے بعض شیعوں جو شک و شبہات پیدا ہو رہے تھے وہ ختم ہو گئے۔ امام جوادؑ کی والدہ کا اسم گرامی "سبیکہ" تھا لیکن امام رضاؑ نے آپ کا نام "خیزران" رکھا۔ آپ رسول خدا کی زوجہ محترمہ جناب "ماریہ قبطیہ" کے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔

امام رضاؑ کی ہمشیرہ جناب حکیمہ کا بیان ہے کہ امام محمد تقیؑ کی ولادت کے موقع پر میرے بھائی نے مجھ سے کہا کہ میں خیزران کے پاس رہوں۔ ولادت کے تیسرے دن نو مولود نے آنکھیں کھولیں، آسمان کی طرف دیکھا اور داہنے بائیں نگاہ کی اور فرمایا: اشہد ان لاالہ الا اللہ و اشہد ان محمدا رسول اللہ یہ دیکھ کر میں سخت حیران ہوئی اور اپنے بھائی کی خدمت میں حاضر ہوئی، جو کچھ دیکھا تھا اسے بیان کیا۔ امامؑ نے فرمایا :" جو چیزیں اس کے بعد دیکھو گی وہ اس سےکہیں زیادہ عجیب ہوں گی" ۔ "أَخْبَرَنِی أَبُو الْقَاسِمِ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یعْقُوبَ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِی عَنْ أَبِی یحْیى الصَّنْعَانِی قَالَ‏ كُنْتُ عِنْدَ أَبِی الْحَسَنِ فَجِی‏ءَ بِابْنِہ أَبِی جَعْفَرٍ وَہوَ صَغِیرٌ فَقَالَ ہذَا الْمَوْلُودُ الَّذِی لَمْ یولَدْ مَوْلُودٌ أَعْظَمُ عَلَى شِیعَتِنَا بَرَكَةً مِنْہ‏"۔

"ابو یحیی صنعانی" کا بیان ہے کہ میں امام رضا ؑ کی خدمت اقدس میں تھا، ‌اتنے میں امام جوادؑ،‌جو اس وقت کم سن تھے،‌امامؑ کی خدمت میں لائے گئے۔ امامؑ نے فرمایا :"یہ وہ مولود ہے جس سے زیادہ مبارک تر کوئی مولود شیعوں کے لئے دنیا میں نہیں آیا ہے"۔

"نوفلی" کا بیان ہے کہ جس وقت امام رضاؑ خراسان تشریف لے جار ہے تھے اس وقت میں نے امامؑ کی خدمت میں عرض کیا کہ میرے لائق کوئی خدمت یا کوئی پیغام تو نہیں ہے؟ فرمایا "تم پر واجب ہے کہ میرے بعد میرے فرزند "محمد" کی پیروی کرو اور میں ایسی سفر پر جا رہا ہوں جہاں سے میری واپسی نہیں ہوگی"۔

امام رضا ؑ کے کاتب " محمد بن ابی عباد " کا بیان ہے کہ حضرت ہمیشہ اپنے فرزند " محمد " کو کنیت سے یاد فرماتے تھے۔ جس وقت امام جوادؑ کا خط آتا تھا تو آپ فرماتے تھے کہ "ابو جعفر نے مجھے یہ لکھا ہے" اور جس وقت (امام کے حکم سے) ابو جعفر کو خط لکھتا تھا تو امام بہت ہی بزرگی اور احترام کے ساتھ ان کو مخاطب فرماتے تھے۔ امام جوادؑ کے جو خطوط آتے تھے وہ فصاحت و بلاغت اور ادب کی خوبصورتی سے بھر پور ہوتے تھے۔ " محمد بن عباد " ‌سے روایت ہے کہ میں نے حضرت امام رضا کو فرماتے سنا کہ : "میرے بعد میرے خاندان میں ابو جعفر میرے وصی اور جانشین ہوں گے "۔ "معمر بن خلاد " کی روایت ہے کہ : امام رضاؑ نے کسی چیز کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تمہیں کس چیز کی ضرورت ہے یہ بات مجھ سے سنو۔ یہ ابو جعفر ہیں یہ میرے جانشین ہیں ‍‌‍‌ان کو میں نے اپنی جگہ قرار دیا ہے (یہ تمہارے تمام سوالات اور مسا‏ئل کا جواب دیں گے) ہم اس خاندان سے ہیں جہاں بیٹا باب سے (حقا‏ئق و معارف کی) بھر پور میراث حاصل کرتا ہے۔(مطلب یہ ہے کہ اسرار و رموز امامت ایک امام دوسرے امام سے حاصل کرتا ہے اور یہ خصوصیت صرف امامون کے لئے مخصوص ہے۔ ا‏ئمہؑ کے دوسرے فرزندوں سے نہیں)۔

خیرانی نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ میں خراسان میں حضرت امام رضاؑ کی خدمت اقدس میں موجود تھا۔ ‍‏‎‎‎ایک شخص نے حضرت سے دریافت کیا کہ اگر آپ کو کو کو‏‏ئی حادثہ پیش آجائے تو اس وقت ہم کس کی طرف رجوع کریں ؟ فرمایا:" میرے فرزند ابو جعفر کی طرف”۔ سا‏ئل امام محمد تقی ؑ کے سن و سال کو کافی نہیں سمجھ رہا تھا (اور یہ سوچ رہا کہ شاید ایک بچہ امامت کی ذمّہ داریوں کو نہیں نبھا سکتا ہے)

اس وقت امام رضاؑ نے ارشاد فرمایا کہ:" خداوند عالم نے جناب عیسیؑ کو رسالت و نبوت کے لئے منتخب فرمایا جبکہ ان کا ‎‎سن ابو جعفر کے سن سے کم تھا:عبد اللہ بن جعفر کا بیان ہے کہ میں صفوان بن یحیی کے ہمراہ امام رضاؑ کی خدمت میں شرفیاب ہوا۔ امام تقیؑ بھی وہاں تشریف فرماتھے اس وقت آپ تین سال کے تھے۔ ہم نے امام رضاؑ سے پوچھا اگر کو‏ئی حادثہ پیش آجائے تو اس صورت میں آپ کا جانشین کون ہوگا۔؟ امامؑ نے ابو جعفر کی طرف اشارہ کرتے ہو‎ئے فرمایا۔ میرا یہ فرزند۔ عرض کیا۔ اسی سن و سال میں؟ فرمایا : ہاں اسی عمر میں۔ خداوند عالم نے جناب عیسی کو اپنی حجت قرار دیا جبکہ وہ تین سال کے بھی نہیں تھے۔

ازواج

امام محمد تقی کی شادی مامون عباسی کی بیٹی ام فضل سے سنہ 202 ھ یا سنہ 205 ھ میں ہوئی۔ بعض مآخذ کے مطابق احتمالا امام رضاؑ کے سکونتِ خراسان کے دوران ایک بار آپؑ نے ان سے ملنے کی غرض سے خراسان کا سفر کیا تھا۔ اسی وقت مامون نے اپنی بیٹی کا نکاح آپؑ سے کیا۔ اہل سنت مورخ ابن کثیر کے مطابق امام محمد تقی کے ساتھ مامون کی بیٹی کا خطبۂ نکاح 8 سال سے بھی کم عمر میں حضرت امام رضاؑ کی حیات میں پڑھا گیا تھا لیکن شادی اور رخصتی سنہ 215 ہجری میں تکریت میں ہوئی [3].

یہ شادی مامون کی درخواست پر ہوئی۔ مامون کا مقصد یہ تھا کہ ان سے پیدا ہونے والا بچہ پیغمبر اکرم (ص) و امام علی کی نسل سے ہو۔ کتاب الاشاد میں شیخ مفید کے نقل کے مطابق، مامون نے امام محمد تقی کی علمی شخصیت و اپنے شوق کی وجہ سے اپنی بیٹی کا عقد امام سے کیا۔ البتہ بعض محققین کا ماننا ہے کہ اس شادی کا مقصد سیاسی تھا، منجملہ ایک مقصد یہ تھا کہ وہ چاہتا تھا کہ اس کے ذریعہ امام (ع) اور شیعوں سے ان کے رابطے کو کنٹرول کرے۔ یا خود کو علویوں کا چاہنے والا پیش کرے اور انہیں اپنے خلاف قیام سے روک سکے۔ مامون کے قریبی بعض عباسیوں نے اس شادی کے خلاف اعتراض کیا انہیں ایسا لگا کہ کہیں ایسا نہ ہو حکومت عباسیوں کے ہاتھ سے نکل کر علویوں کے ہاتھ میں نہ چلی جائے۔ امامؑ نے اس کے لئے حضرت زہرا کا مہر یعنی 500 درہم قرار دے کر اس رشتے کو منظور کیا۔ اس شادی سے امامؑ کی کوئی اولاد نہیں ہوئی[4].

آپؑ کی دوسری زوجہ سمانہ مغربیہ تھیں۔ وہ ایک کینز تھیں جنہیں خود امام کے حکم سے خریدا گیا تھا۔ امام کی تمام اولاد کی والدہ یہی زوجہ ہیں۔

اولاد

شیخ مفید کے مطابق امام جواد کے چار بچے تھے: علی، موسی، فاطمہ اور امامہ۔ بعض لڑکیاں امام کو حکیمہ، خدیجہ اور ام کلثوم قرار دیتی ہیں۔ بعض حالیہ منابع میں ام محمد، زینب اور میمونہ کو امام علی نقی(ع)، ابو احمد موسی ٰ مبرقع، حسین، عمران اور چار بیٹیوں فاطمہ، حکیمہ، خدیجہ اور ام الکلام کی بیٹیوں کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ بعض نے امام جواد کی اولاد کی تعداد کو تین بیٹوں میں شمار کیا ہے: امام علی نقی، موسٰی مبرقع، یحیی اور پانچ بیٹیاں فاطمہ، حکیمہ، خدیجہ، بہگت اور بریح۔

شہادت

عباسی حکومت نے امام محمد تقی کو دو بار بغداد بلایا۔ مامون کے زمانے میں پہلا سفر زیادہ طویل نہیں تھا۔ دوسری مرتبہ 28 محرم الحرام 28 ہجری کو معتقم عباسی کے حکم پر بغداد میں داخل ہوئے اور اسی سال ذوالقعدہ یا ذوالحجہ میں بغداد میں شہید ہوئے۔ آپ کی شہادت کا دن زیادہ تر منابع میں ذی القعدہ کا آخری دن ہے، لیکن بعض منابع میں آپ کی شہادت کی تاریخ 5 ذی الحجہ یا 6 ذی الحجہ بتائی گئی ہے۔ ان کے جسد خاکی کو کاظمین میں قریش کے مقبرے میں ان کے دادا موسیٰ بن جعفر کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ گواہی کے وقت ان کی عمر 25 سال تھی۔ چنانچہ شہادت کے وقت وہ سب سے کم عمر شیعہ امام تھے [5]۔

بعض نے ان کی شہادت کی وجہ ابن ابی داؤد (متوفی 160-240ھ) (بغداد کے قاضی) کی معتقم کی موجودگی میں کی گئی شہادت کو قرار دیا ہے۔ اس کی وجہ چور کا ہاتھ کاٹنے کے بارے میں امام کی رائے کو قبول کرنا تھا، جس نے ابن ابی داؤد اور بہت سے فقہاء اور درباریوں کو شرمندہ کیا تھا[6].

شیعوں کے نویں رہنما کو شہید کرنے کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض منابع کے مطابق معتقم کو ان کے ایک وزیر کے سیکرٹری نے زہر دے کر شہید کر دیا تھا۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ معتصم نے اسے ام الفضل کے ذریعے زہر دیا تھا۔ مسعودی کہتے ہیں کہ تیسری صدی ہجری کے مورخین معتصم اور جعفر بن مامون محمد بن علی(ع) کو قتل کرنے کے بارے میں سوچ رہے تھے۔ چونکہ جواد آئمہ کی ام الفضل سے کوئی اولاد نہیں تھی اس لیے مامون کی وفات کے بعد مامون کے بیٹے جعفر نے اپنی بہن (ام الفضل) کو محمد بن علی کو زہر دینے کے لیے اکسایا۔ انہوں نے مل کر انگوروں میں زہر چھڑک کر امام(ع) کو کھایا۔ امام(ع) کو زہر دینے کے بعد ام فضل کو افسوس ہوا اور وہ رونے لگی لیکن امام(ع) نے انہیں بتایا کہ آپ کو ایک ایسی آفت کا سامنا کرنا پڑے گا جس کا علاج ممکن نہیں ہے۔ ام الفضل کے ہاتھوں شہید ہونے کے بارے میں دیگر روایات بھی موجود ہیں [7]۔

ایک دوسری روایت کے مطابق، جب لوگوں نے معتصم کے ہاتھوں پر بیعت کر لی تو اس نے والی مدینہ عبد الملک زیات کو خط لکھا اور اسے حکم دیا کہ وہ امام (ع) کو ام الفضل کے ہمراہ بغداد روانہ کرے۔ جب امام بغداد میں وارد ہوئے تو اس نے ظاہری طور پر امام کا احترام کیا اور امام و ام الفضل کے لئے تحائف بھیجے۔ اس روایت کے مطابق معتصم نے پرتقال کا شربت اپنے غلام کے ذریعہ جس کا نام اسناش تھا، امام کے پاس بھیجا۔ اس نے امام سے کہا کہ خلیفہ نے یہ شربت بعض بزرگان منجملہ احمد بن ابی ‌داود و سعید بن خضیب کو پلایا ہے اور حکم دیا ہے کہ آپ بھی یہ شربت پی لیں۔ امام نے فرمایا: میں اسے شب میں نوش نہیں کروں گا۔ لیکن اس نے اصرار کیا کہ یہ ابھی ٹھنڈا ہے بعد میں یہ گرم ہو جائے گا تو امام نے اسے نوش کر لیا اور اسی کی وجہ سے آپ کی شہادت واقع ہوئی[8]۔

شیخ مفید زہر سے آپ کی شہادت کے سلسلہ میں تردید کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں یہ چیز میرے لئے ثابت نہیں ہے تا کہ میں اس کی شہادت دے سکوں۔ بعض نے شیخ کی اس عبارت سے جو انہوں نے بعض دوسرے ائمہ کے لئے بھی استعمال کی ہیں، یہ اخذ کیا ہے کہ وہ امام تقی (ع) کی شہادت کے قائل نہیں تھے اور ان کے لحاظ کے امام کی موت طبیعی طور پر واقع ہوئی ہے۔ البتہ بعض شیعہ محققین نے اس روایت «ما مِنّا إلّا مقتولٌ شهیدٌ» [9]۔ سے استناد کرتے ہوئے اور اسی طرح سے ان شواہد کو ذکر کرتے ہوئے جو امام کی شہادت کی طرف اشارہ کرتے ہیں، شیخ مفید کی اس بات کی توجیہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں چونکہ وہ بغداد میں قیام پذیر تھے اور اس بات کے پیش نظر کہ عباسی حکومت میں مکتب اہل بیت (ع) اور شیعوں کے خلاف جو فضا حاکم تھی، اس میں شیخ صراحت کے ساتھ شیعہ عقاید اور امام محمد تقی (ع) کی شہادت کے بارے میں اظہار نظر نہیں کر سکتے تھے لہذا انہوں نے اس مورد میں تقیہ کیا ہے۔ یہ احتمال بھی ذکر ہوا ہے کہ زیادہ منابع ان کی دسترس میں نہ ہونے اور منابع اصلی تک رسائی حاصل کرنے میں سختی کی وجہ سے یہ مطالب ان تک نہیں پہچ سکے ہیں۔

امامت کا دور

امام رضا کی شہادت کے بعد سنہ 203 ہجری قمری میں امام جواد امامت کے منصب پر فائز ہوئے۔ ان کی امامت کی عمر 17 سال تھی جو دو عباسی خلفاء مامون عباسی اور معتصم العباسی کی خلافت کے ساتھ مطابقت رکھتی تھی۔ تقریبا 15 سال مامون کی خلافت (198-218 ہجری) میں اور دو سال معتصم کی خلافت (218-227 ہجری) میں گزرے۔ سنہ 220 ہجری قمری میں ان کی شہادت کے بعد امامت ان کے بیٹے امام ہادی(ع) کو منتقل کر دی گئی [10]۔

شیعہ نقطہ نظر سے امام کا تعین صرف پچھلے امام کے نص اور مشورے سے ہوتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر امام کو اپنے بعد امام کا تعین ایک واضح جملے سے کرنا ہوگا۔ امام رضا نے متعدد مواقع پر محمد بن علی کی امامت کا اعلان اپنے اصحاب کے سامنے کیا تھا۔ کافی کی ہر کتاب، رہنمائی، ووری کے اعلان اور بہارالنور میں محمد بن علی کی امامت کے مشورے کے بارے میں بابی موجود ہے، جنہوں نے بالترتیب 14، 11، 9 اور 26 احادیث نقل کی ہیں۔ امام رضا کے اصحاب میں سے امام رضا نے ان سے اپنے جانشین کے بارے میں پوچھا تو امام رضا نے اپنے بیٹے جواد کی طرف ہاتھ سے اشارہ کیا۔ انہوں نے ایک حدیث میں یہ بھی کہا ہے کہ یہ ابو جعفر ہی ہیں جنہوں نے ان کی جگہ لی اور میرا عہدہ ان کے حوالے کر دیا [11]۔

بچپن میں امامت اور شیعوں کی آشفتگی

امام جواد اس وقت امامت پر پہنچے جب ان کی عمر تقریباً 8 سال تھی۔ اپنی کم عمری کی وجہ سے شیعوں میں حضرت رضا علیہ السلام کے بعد امام کے بارے میں اختلاف پیدا ہو گیا تھا۔ بعض نے امام رضا کے بھائی عبداللہ بن موسیٰ کی پیروی کی لیکن جلد ہی انہوں نے انہیں امامت کے لائق نہ سمجھا اور ان سے منہ موڑ لیا۔ ان میں سے بعض نے حضرت رضا علیہ السلام کے دوسرے بھائی احمد بن موسیٰ کی طرف رجوع کیا اور بعض نے واقفیہ میں شمولیت اختیار کی۔ البتہ علی بن موسیٰ الرضا کے اکثر اصحاب اپنے بیٹے جواد کی امامت پر یقین رکھتے تھے۔ ذرائع نے اس فرق کی وجہ جواد آئمہ کا بچپن بتایا ہے۔ نوبختی کے نزدیک اس اختلاف کی وجہ یہ تھی کہ وہ پختگی کو امامت کی شرط سمجھتے تھے۔ بلاشبہ یہ مسئلہ امام رضا علیہ السلام کے زمانے میں اٹھایا گیا تھا۔ حضرت رضا نے جواد الامام کی جوانی کی پرورش کرنے والوں کے جواب میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کو بچہ قرار دیا اور فرمایا: جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبوت ملی تو ان کی عمر میرے بیٹے کی عمر سے کم تھی۔

نیز امام جواد کے بچپن کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کرنے والوں کے جواب میں قرآن کی آیات کو حضرت یحیی کی بچپن میں نبوت اور جھولے میں حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں بیان کیا گیا ہے۔ ان لوگوں کے جواب میں جنہوں نے اس کی عمر کا مسئلہ اٹھایا ، اس نے سلیمان کی جانشینی کو داؤد کے پاس بچپن میں ذکر کیا اور کہا ، جب سلیمان بچہ تھا اور بھیڑوں کو چراتا تھا تو داؤد اس کا جانشین ہوا ، لیکن بنی اسرائیل کے علماء نے اس سے انکار کیا [12]۔

شیعوں سے رابطہ

امام جواد علیہ السلام خفیہ تنظیم کے ذریعے شیعوں سے رابطے میں تھے۔ بغداد، کوفہ، اہواز، بصرہ، ہمدان، قم، رے، سیستان اور بُست سمیت اسلامی سرزمین میں اس کے نمائندے تھے۔ ان کے وکلاء کی تعداد 13 بتائی جاتی ہے۔ وہ شیعوں کے حقائق امام جواد علیہ السلام تک پہنچاتے تھے۔ ہمدان میں ابراہیم بن محمد ہمدانی اور بصرہ کے علاقوں میں ابو عمرو حوزہ رسول اللہ کی نمائندگی کے انچارج تھے۔ صالح بن محمد بن سہل نے قم میں اپنے اوقاف کی دیکھ بھال کی۔

زکریا بن آدم قمی، عبدالعزیز بن مہتدی اشعری قمی، صفوان بن یحییٰ، علی بن مہزیار اور یحییٰ بن ابی عمران امام جواد علیہ السلام کے دیگر وکیلوں میں سے تھے۔ بعض مصنفین نے بعض شواہد کا حوالہ دیتے ہوئے محمد بن فراج روخجی اور ابو ہاشم جعفری کو اپنے وکیل کے طور پر شامل کیا ہے۔ احمد بن محمد سیاری نے بھی وکیل ہونے کا دعویٰ کیا۔ لیکن اس کے دعوے کو رد کرتے ہوئے امام نے شیعوں سے کہا کہ وہ اسے حقائق نہ بتائیں۔

کہا گیا ہے کہ امام جواد علیہ السلام نے دو وجوہات کی بنا پر شیعوں کے ساتھ رابطے کے لیے خفیہ طریقہ کار کا استعمال کیا۔

  • یہ حکمران آلات کے کنٹرول میں تھا۔
  • اس نے غیر حاضری کی مدت کے لیے بنیاد رکھی۔

شیعوں کے نویں رہنما نے بھی حج کے دوران شیعوں سے ملاقات اور گفتگو کی۔ بعض محققین کا خیال ہے کہ امام رضا کے خراسان کے سفر نے اپنے ائمہ کے ساتھ شیعہ تعلقات کو وسعت دی تھی۔ لہذا خراسان، رے اور بست اور سجستان کے شیعہ حج کے دوران امام کی زیارت کرتے تھے [13]۔

شیعوں کو خط لکھنے کے ذریعے بھی منسلک کیا گیا تھا۔ انہوں نے اپنے خطوط میں زیادہ تر فقہی معاملات میں سوالات اٹھائے اور امام(ع) نے ان کے جوابات دیئے۔ موسوعۂ امام الجواد میں امام کے باپ اور بیٹے کے علاوہ 63 افراد کے نام جمع کیے گئے ہیں جن کے ساتھ پیغمبر اکرم(ص) کی رفاقت ہے۔ کچھ خطوط شیعوں کے ایک گروہ کے جواب میں لکھے گئے تھے

روایات اور مباحث

عزیز اللہ عطاردی کے مطابق امام جواد سے فقہی، تفسیری اور نظریاتی مسائل میں تقریبا 250 احادیث نقل ہوئی ہیں۔ بعض دوسرے ائمہ معصومین(ع) کے مقابلے میں ان سے منقولہ احادیث کی عدم موجودگی کو شہادت کے وقت قابو میں اور کم عمری قرار دیا گیا ہے [14]۔

امام محمد تقی نے اپنی امامت کے دوران عباسی دربار کے بعض فقہاء سے کئی بار بحث کی۔ تاریخی روایات سے پتہ چلتا ہے کہ ان میں سے کچھ مباحثے مامون اور معتصم کے درباریوں کی درخواست پر نویں شیعہ رہنما کو آزمانے کے مقصد سے منعقد کیے گئے تھے ، اور اس کے نتیجے میں حاضرین حیران اور تالیاں بجانے لگے تھے [15]۔

ذرائع نے جواد الامام سے 9 مباحثے اور گفتگو کی اطلاع دی ہے، ان میں سے چار یحییٰ بن اکثم کے ساتھ تھے اور ایک بغداد کی عدالتوں کے جج احمد بن ابی داؤد کے ساتھ تھا۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان کی عبداللہ بن موسیٰ، ابو ہاشم جعفری، عبدالعظیم حسنی اور معتصم سے گفتگو ہوئی تھی۔

ان مباحث کا موضوع حج، طلاق، چوری کی حد اور دوسرے موضوعات جیسے بارہویں امام کے اصحاب کی خصوصیات، پہلے دو خلفاء (الشخین) کے فضائل اور اللہ کے اسماء و صفات سے متعلق فقہی بحثیں تھیں [16].

فقہ کے موضوع پر بحث

امام محمد تقی علیہ السلام کی سب سے اہم بحث جو بغداد میں مامون عباسی کے زمانے میں ہوئی وہ عباسی دربار کے ایک فقیہ یحییٰ ابن اکثم کے ساتھ بحث تھی۔ بعض شیعہ منابع کے مطابق اس بحث کی وجہ عباسی رہنماؤں کی جانب سے ام الفضل سے شادی کی تجویز پر اعتراض تھا۔ اپنے فیصلے کی درستی کو ثابت کرنے کے لیے مامون نے انہیں ائمہ کے علم کی جانچ کرنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے قبول کیا اور اس نبی کو جانچنے کے لیے ایک مباحثہ کا اہتمام کیا۔

بحث میں یحییٰ نے سب سے پہلے ایک خفیہ شخص کے بارے میں فقہی مسئلہ اٹھایا جو کسی جانور کا شکار کرتا تھا۔ امام جواد نے یحییٰ بن اختر سے پوچھا کہ اس مسئلہ کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنے سے آپ کا کیا مطلب ہے؟ یحیٰی بن اختر جواب میں بے بس ہو گئے۔ اس کے بعد امام جواد نے اس مسئلے کا جواب مختلف صورتوں میں دیا

امام کا جواب سننے کے بعد عباسی درباریوں اور علماء نے فقہ میں ان کی مہارت کا اعتراف کیا۔ کہا گیا ہے کہ بحث کے بعد مامون نے کہا: میں اس نعمت پر خدا کا شکر گزار ہوں کہ جو میں نے سوچا تھا وہی ہو گیا۔

خلفاء کے بارے میں مناظرہ

شیعہ روایت کے ذرائع کے مطابق، محمد تقی (ع) نے یحیی ابن اکثم کے ساتھ ایک مجلس میں ابوبکر اور عمر کے فضائل کے بارے میں بحث کی جس میں مامون اور متعدد فقہا اور درباریوں نے شرکت کی۔

حواله جات

  1. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۱، ص۴۹۲؛ مسعودی، اثبات الوصیہ، ۱۴۲۶ق، ص۲۱۶
  2. فرمان علی سعیدی، امام محمد تقی ؑ (جواد الائمہؑ) کی سیاسی زندگی پر ایک نظر-ur.hawzahnews.com-شائع شدہ از: 12فروری 2023ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 8 جون 2024ء۔
  3. مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۲۷۳؛ طبرسی، اعلام الوری، ۱۴۱۷ق، ج۲، ص۹۱
  4. یعقوبی، تاریخ الیعقوبی، دارصادر، ج۲، ص۴۵۵
  5. ابن ابی الطلج، تاریخ امیہ، ۱۴۰۶ق، ص۱۳
  6. عیاشی، التفسیر، ۱۳۸۰ق، ج۱، ص۳۲۰
  7. اشعری، المقلۃ و الفرق، ۱۳۶۱ق، ص۹۹/ طبرسی، اعلان الوری، ۱۴۱۷ق، ج۲، ص۱۰۶، فتح نیشابوری، روضۃ الوائزن، ۱۳۷۵ق، ص۱، ص۲۴۳
  8. مجلیسی، بہارلانوار، ۱۴۰۳ق، ۱۹۱۴ء، ج۵۰، ص۱۳، ۱۷
  9. ابن شہر آشوب، مناقب الابی طالب، علامہ پبلیکیشنز، ج۴، ص۳۹۱
  10. مفید، الرشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۲۹۵
  11. مفید، الارشاد، ۱۴۱۳، ج۲، ص۲۶۶
  12. نوبختی، فرق الشیعہ، ۱۴۰۴ق، ص۹۰
  13. جعفریان، شیعہ ائمہ کی فکری اور سیاسی زندگی، ۲۰۰۲ء، ص۴۹۴
  14. پشوائی، سرہ پشویان، 1379، ص 562
  15. سید ابن طاووس، منہج الدعوات، 1411ھ، ص 39-42
  16. طبرسی، الاحتجاج، ۱۴۰۳ق، ص۴۴۱-۴۴۹؛ میانجی، مکاتیب الائمہ (ع)، ج۵ ص۳۸۱٬۴۲۷