مندرجات کا رخ کریں

باره امامی ( اثنا عشری)

ویکی‌وحدت سے
باره امامی( اثناعشری)
نامباره امامی
عام ناماثناعشریُ، امامیه
نظریہباره ائمه علیهم اسلام کی امامت، خلافت اور عصمت پر اعتقاد

باره امامی یا اثنا عشریہ، شیعہ فرقوں میں سب سے زیادہ پیروکار رکھنے والا فرقہ ہے۔ اس فرقے کے ماننے والے بارہ اماموں پر ایمان رکھتے ہیں، جن کا آغاز حضرت علی علیہ السلام سے ہوتا ہے اور اختتام محمد بن حسن المہدی علیہ السلام (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) پر ہوتا ہے۔

نام گذاری کی وجه

اصطلاح اثنا عشریہ ابتدا میں سبعیہ (سات اماموں کے قائلین) کے مقابلے میں رائج ہوا۔ اثنا عشریہ اپنے اماموں کی تعداد، جو بارہ ہے، کے درست ہونے پر قرآنِ مجید کی متعدد آیات سے استدلال کرتے ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:

وَ بَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيبًا [سورۂ مائدہ، آیت 12]

وَ قَطَّعْنَاهُمُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أَسْبَاطًا أُمَمًا [سورۂ اعراف، آیت 160]

إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا [سورۂ توبہ، آیت 36]

اثنا عشریہ ان آیات کو اس بات کی تائید کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ عدد بارہ، الٰہی نظام اور ہدایت کے تسلسل میں ایک نمایاں اور بامعنی حیثیت رکھتا ہے۔

امامیہ کے نزدیک امامت کی ضرورت پر دلائل

امامیہ کے نزدیک اهل بیت (ع) کی امامت کے ضروری ہونے کے چند اہم دلائل درج ذیل ہیں:

1- امام کا معصوم ہونا ضروری ہے، کیونکہ اگر امام معصوم نہ ہو تو احکامِ الٰہی کے ابلاغ میں اس پر اعتماد باقی نہیں رہتا۔ مزید یہ کہ غیر معصوم امام، مسلمانوں کی امامت اور قیادت میں عدل کے خلاف عمل کر سکتا ہے۔

2- امام کا تقرر فتنہ و اختلاف کے خاتمے کے لیے ہوتا ہے، اور اگر امام کا انتخاب لوگوں کے ذریعے کیا جائے تو یہ اختلاف میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔

3- امامت دراصل خلافتِ الٰہی ہے، لہٰذا لازم ہے کہ امام کا تعین خداوندِ متعال اور رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب سے ہو۔

4- رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت یہ تھی کہ اپنی حیات میں جب بھی مدینہ سے باہر تشریف لے جاتے تو اپنے لیے جانشین مقرر فرماتے تھے، لہٰذا یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ اپنے بعد کے لیے کسی جانشین کا تعین نہ فرماتے۔

شیعہ اثنا عشریہ نصِّ جلی کے قائل ہیں، یعنی وہ لوگ جو امام کے واضح اور صریح تعین کے معتقد ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غدیرِ خم کے دن نصِّ جلی کے ذریعے حضرت علی علیہ السلام کو اپنا جانشین مقرر فرمایا اور صراحت کے ساتھ امت کی امامت ان کے سپرد کی۔

وہ قرآن و سنت کی روشنی میں حضرت علی علیہ السلام کی امامت کے دلائل اس طرح بیان کرتے ہیں:

إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَ رَسُولُهُ وَ الَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَ يُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَ هُمْ رَاكِعُونَ [سورۂ مائدہ، آیت 55] یعنی: تمہارا ولی اللہ ہے، اس کا رسول ہے اور وہ مومنین ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالتِ رکوع میں زکوٰۃ دیتے ہیں۔

الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَ أَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي [سورۂ مائدہ، آیت 3] یعنی: آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی۔

يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَ إِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَ اللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ [سورۂ مائدہ، آیت 67] یعنی: اے رسول! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو، اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو تم نے اس کی رسالت ادا نہیں کی، اور اللہ تمہیں لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا۔

اسی طرح ایک اور آیت میں ارشاد ہے: وَ إِن تَظَاهَرَا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَ جِبْرِيلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ [سورۂ تحریم، آیت 4] یعنی: اگر وہ اس کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کریں تو بے شک اللہ، جبرئیل اور صالح مومنین اس کے مددگار ہیں۔

اسی طرح آیتِ مباہلہ میں فرمایا گیا: فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَ أَبْنَاءَكُمْ وَ نِسَاءَنَا وَ نِسَاءَكُمْ وَ أَنفُسَنَا وَ أَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ [سورۂ آلِ عمران، آیت 61] یعنی: کہہ دیجیے آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں اور تم اپنے بیٹوں کو، ہم اپنی عورتوں کو اور تم اپنی عورتوں کو، اور ہم اپنے نفسوں کو اور تم اپنے نفسوں کو، پھر مباہلہ کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت قرار دیں۔

امامیہ کہتے ہیں کہ ان تمام آیات کا مصداق حضرت علی علیہ السلام کی ولایت ہے۔

اسی طرح شیعہ اثنا عشریہ درج ذیل احادیث سے بھی استدلال کرتے ہیں:

“أنت خلیفی من بعدی و أنت وصیّی” یعنی: تم میرے بعد میرے جانشین ہو اور تم میرے وصی ہو۔

“وسلّموا علیہ بإمرة المؤمنین” یعنی: انہیں امیرالمؤمنین کہہ کر سلام کرو۔

“أقضاکم علیّ” یعنی: تم میں سب سے بہترین قاضی علی علیہ السلام ہیں۔

“تعلّموا منه و لا تعلّموه، اسمعوا له و أطیعوه” یعنی: ان سے سیکھو، انہیں سکھانے کی کوشش نہ کرو، ان کی بات سنو اور ان کی اطاعت کرو۔

“من کنت مولاه فعلیّ مولاه” یعنی: جس کا میں مولا ہوں، علی علیہ السلام بھی اس کے مولا ہیں۔

“أنت منّی بمنزلة هارون من موسی إلّا أنه لا نبیّ بعدی” یعنی: تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ سے تھی، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

ائمۂ کرام کی وراثت

نصِّ جلی کے ماننے والوں کے مطابق حضرت علی علیہ السلام نے اپنی شہادت سے پہلے اپنی کتاب اور تلوار اپنے صاحبزادے امام حسن علیہ السلام کے سپرد کیں۔ اس موقع پر اہلِ بیت اور شیعہ کے معززین بھی موجود تھے۔ آپ نے فرمایا:

اے میرے بیٹے! رسولِ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں تمہیں اپنا جانشین مقرر کروں اور اپنی کتاب اور تلوار تمہیں سونپ دوں، بالکل اسی طرح جیسے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ امانتیں مجھے عطا فرمائی تھیں۔

مزید یہ کہ آپ نے مجھے تاکید فرمائی تھی کہ جب حق کی طرف بلاوے کا وقت آئے تو تم یہ امانتیں حضرت حسین علیہ السلام کے حوالے کر دینا۔

اس کے بعد حضرت علی علیہ السلام نے حضرت حسین علیہ السلام کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہیں بھی یہ وصیت فرمائی ہے کہ تم امامت کی امانت اپنے فرزند حضرت علی بن الحسین علیہ السلام کے سپرد کرنا۔

اور حضرت علی بن الحسین علیہ السلام کے بارے میں فرمایا کہ وہ بھی اسی امانتِ امامت کو اپنے فرزند حضرت محمد بن علی علیہ السلام کے حوالے کریں۔

شیعہ اثنا عشریہ کے بارہ امام کے نام

شیعہ اثنا عشریہ کے بارہ ائمہ کے نام درج ذیل ہیں:

  1. امام علی بن ابی طالبؑ — شہادت: 40 ہجری قمری
  2. امام حسن بن علیؑ — شہادت: 49 ہجری قمری
  3. امام حسین بن علیؑ — شہادت: 61 ہجری قمری
  4. امام علی بن حسینؑ (زین العابدین) — شہادت: 95 ہجری قمری
  5. امام محمد باقرؑ — شہادت: 115 ہجری قمری
  6. امام جعفر صادقؑ — شہادت: 148 ہجری قمری
  7. امام موسیٰ کاظمؑ — شہادت: 183 ہجری قمری
  8. امام علی رضاؑ — شہادت: 203 ہجری قمری
  9. امام محمد جوادؑ — شہادت: 220 ہجری قمری
  10. امام علی نقیؑ (ہادی) — شہادت: 254 ہجری قمری
  11. امام حسن عسکریؑ — شہادت: 260 ہجری قمری
  12. امام محمد بن الحسن المہدیؑ —(عجّل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف)

آغازِ غیبتِ کبریٰ: 329 ہجری قمری

ائمۂ اثنا عشریہ کا مقام و مرتبہ

شیعہ اس عقیدے کے حامل ہیں کہ ائمۂ کرام علیہم السلام، رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح اللہ تعالیٰ کی جانب سے الہام یافتہ ہوتے ہیں۔ وہ عام انسانوں کی طرح نہیں بلکہ عمومی دینی و دنیوی قیادت کے حامل اور ایک بلند و برتر مقام پر فائز ہیں۔

شیعہ اثنا عشری کے عقیدہ کے مطابق، جس دن اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا، اسی دن سے اپنی نورِ الٰہی کو اپنے برگزیدہ بندوں میں جاری فرمایا۔ یہ نور حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام سے ہوتا ہوا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، جو خاتم الانبیاء ہیں، تک پہنچا۔

پھر اسی نور کو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان کے اوصیاء، یعنی ائمۂ طاہرین علیہم السلام میں منتقل کیا گیا، یہاں تک کہ آخرکار یہی نورِ الٰہی امامِ عصر، حضرت مہدی (عجّل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے وجودِ مبارک میں جلوہ گر ہوا۔

یہی نورِ الٰہی امامِ زمانہ علیہ السلام کو عام انسانوں کے درجے سے بلند کرتا ہے اور انہیں اس بات کی قدرت عطا کرتا ہے کہ وہ صدیوں بلکہ ہزاروں برس تک، بغیر کسی نقصان، اذیت، کمزوری یا بڑھاپے کے، جسمانی وجود کے ساتھ زندہ رہیں؛ حالانکہ یہی جسم عام انسانوں میں زوال اور فنا کا باعث بنتا ہے۔

یہ سب اس لیے ہے کہ مقررہ وقت پر اور اللہ کے حکم سے وہ پردۂ غیب سے ظاہر ہوں اور امامتِ الٰہی کا ظہور عمل میں آئے۔

علامہ مجلسیؒ کی روایت کے مطابق، حضرت امام مہدی علیہ السلام کا رنگ عربی، گندمی ہے، جسم حضرت یوسف علیہ السلام جیسا مضبوط و متناسب ہے، اور آپ کے رخسار پر ایک روشن تل ہے جو چمکتے ہوئے ستارے کی مانند نظر آتا ہے۔

ظہورِ قائمِ آلِ محمد (ص)

شیعہ اثنا عشریہ کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کے خاص لطف و کرم سے حضرت امام مہدی (عجّل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) بعض مخصوص نشانیوں کے ظاہر ہونے کے بعد قیام فرمائیں گے، اور اس وقت آپ کی عمر بظاہر تیس سے چالیس برس کے درمیان معلوم ہوگی۔

روایات کے مطابق، حضرت مہدی علیہ السلام مکہ مکرمہ میں ظہور فرمائیں گے، اور لوگ رکن اور مقام کے درمیان آپ کے ہاتھ پر بیعت کریں گے۔

آپ کے ظہور کی اہم نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے۔ وہ اس دجّال کو قتل کریں گے جو امام مہدی علیہ السلام کے ظہور سے پہلے ظاہر ہو چکا ہوگا، اور پھر حضرت مہدی علیہ السلام کی اقتدا میں نماز ادا کریں گے۔

امام مہدی علیہ السلام کے زمانے میں اصحابِ کہف اپنی ہزاروں سالہ نیند سے بیدار ہوں گے۔ حضرت مہدی علیہ السلام انہیں سلام کریں گے، وہ آپ کے سلام کا جواب دیں گے، اور اس کے بعد دوبارہ گہری نیند میں چلے جائیں گے اور قیامت تک دوبارہ بیدار نہیں ہوں گے۔

ان مقدس امانتوں میں سے جو حضرت مہدی علیہ السلام کے پاس موجود ہوں گی، حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تابوتِ سکینہ اور تورات و انجیل کے مستند اور اصل نسخے شامل ہیں۔ جب حضرت مہدی علیہ السلام یہ کتابیں یہود و نصاریٰ کے سامنے پیش کریں گے تو وہ اسلام قبول کر لیں گے۔

اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام، امام مہدی علیہ السلام کے حکم سے صلیب کو توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، کلیساؤں کو منہدم کریں گے، اور پھر چالیس برس زندگی گزارنے کے بعد وفات پائیں گے۔

حضرت امام مہدی علیہ السلام دینِ حق اسلام کو پوری دنیا میں ظاہر کریں گے اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے، جیسا کہ اس سے پہلے وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔

حضرت مہدی علیہ السلام کی خلافت کی مدت کے بارے میں روایات میں اختلاف پایا جاتا ہے: بعض میں سات سے نو سال بیان ہوئی ہے، جبکہ بعض دیگر روایات میں بیس سے چالیس سال تک کا ذکر ملتا ہے۔


فقہِ اثنا عشریہ کے بنیادی مصادر

عام طور پر دنیا کے مسلمان شریعتِ اسلامیہ کے قوانین اور احکام کو دو بنیادی مصادر سے اخذ کرتے ہیں: قرآن اور سنت۔ اور ان کے علاوہ چند ثانوی و تبعی مصادر بھی ہیں؛ چنانچہ اہلِ سنت کے نزدیک اجماع، قیاس، استحسان اور مصالحِ مرسلہ معتبر ہیں، جبکہ شیعہ کے نزدیک اجماع اور عقل کو ثانوی مصادر کی حیثیت حاصل ہے۔

قرآن

شیعہ اثنا عشریہ قرآن کی جامعیت کے قائل ہیں اور اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ قرآنِ مجید بغیر کسی کمی یا زیادتی کے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوا۔

جو قرآن آج مسلمانوں کے پاس، دو جلدوں کے درمیان محفوظ ہے، وہی بعینہٖ وہی قرآن ہے جو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوا تھا، اور جو شخص اس کے برخلاف کوئی عقیدہ رکھتا ہے وہ گمراہی میں مبتلا ہے۔

سنت

رہی بات سنت اور رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث کی، تو شیعہ اثنا عشریہ کے نزدیک وہی حدیث معتبر ہے جو اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کے ذریعے نقل ہوئی ہو، یا ایسے راویوں کے ذریعے پہنچی ہو جو شیعہ کے نزدیک قابلِ اعتماد ہوں۔

یعنی حدیث کی سند کا سلسلہ ائمۂ اطہار علیہم السلام تک پہنچنا چاہیے، اور اگر کسی اور ذریعے سے روایت ہوئی ہو تو اس کے تمام راویوں کا شیعہ معیار کے مطابق معتبر ہونا ضروری ہے، ورنہ ایسی روایت کی کوئی شرعی حیثیت نہیں۔

امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: جو احادیث ہماری طرف منسوب کی جاتی ہیں، اگر وہ قرآن اور سنتِ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق نہ ہوں، اور ان کی تائید میں کوئی اور معتبر حدیث بھی موجود نہ ہو، تو انہیں قبول نہ کرو؛ کیونکہ مغیرہ بن سعید جیسے افراد، جو غالیوں میں سے تھا، ہماری باتوں کو اپنے ذاتی اغراض کے ساتھ ملا دیا کرتے تھے۔

کتبِ اَربعہ

شیعہ کے قدیم حدیثی ذخیرے کو چار بنیادی کتابوں میں جمع کیا گیا ہے، جو کتبِ اَربعہ کے نام سے مشہور ہیں۔ ان کتابوں کی بنیاد ان روایات پر ہے جو ائمۂ اہلِ بیت علیہم السلام سے ہم تک پہنچی ہیں، اور ان کی اکثریت امام محمد باقر اور امام جعفر صادق علیہما السلام پر منتہی ہوتی ہے۔

ان دونوں عظیم ائمہ کے علمی حلقوں میں بے شمار محدثین، راویانِ حدیث اور اکابرِ اسلام نے شاگردی اختیار کی۔ ان دو حضرات کی صحبت اور علمی استفادے کا نتیجہ یہ نکلا کہ احکامِ شریعت سے متعلق تقریباً چار سو رسائل مدوّن ہوئے، جنہیں اصولِ اَربعمِئہ (چار سو اصول) کہا جاتا ہے۔

اس زمانے سے لے کر تقریباً سن 300 ہجری تک، جو قریب دو سو برس پر محیط ہے، وہ شیعہ جو ائمۂ معصومین علیہم السلام کی براہِ راست حاضری سے محروم تھے، یا غیبتِ صغریٰ کے سبب امامِ غائب تک رسائی نہیں رکھتے تھے، انہی چار سو رسائل پر عمل کرتے رہے۔ ان میں سے ہر رسالہ فقہِ شیعہ کے ابواب میں سے کسی ایک باب پر مشتمل تھا۔

شیخ مفید کے بقول، امامیہ کے محدثین نے حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے زمانے سے لے کر امام حسن عسکری علیہ السلام کے عہد تک چار سو کتابیں تصنیف کی تھیں، جنہیں اصول کہا جاتا تھا۔

یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا یہاں تک کہ تقریباً سن 300 ہجری میں ثقة الاسلام محمد بن یعقوب کلینی (متوفی 329 ہجری قمری)، جو کلین کے رہنے والے تھے (جو آج فشافویہ، جنوب مشرقی تہران کا علاقہ ہے)، فقاہت و حدیث کے منصب پر فائز ہوئے۔ انہوں نے نہایت دقت اور علمی احتیاط کے ساتھ بیس برس کی محنت کے بعد ان چار سو اصولی رسائل کو جمع کیا اور انہیں پانچ جلدوں میں مرتب کیا:

  • ایک جلد: مواعظ
  • ایک جلد: اصولِ دین
  • تین جلدیں: فروعِ دین

اس مجموعے کو انہوں نے الکافی کا نام دیا، جس میں سولہ ہزار ایک سو انیس (16119) احادیث شامل ہیں۔ قابلِ ذکر ہے کہ شیخ کلینی کی مجموعی تصانیف کی تعداد تقریباً بتیس کتابوں پر مشتمل ہے۔

شیخ کلینی کے بعد ایک اور عظیم فقیہ و محدث، ابوجعفر محمد بن علی بن بابویہ قمی، جو شیخ صدوق کے نام سے مشہور ہیں (متوفی 381 ہجری قمری، مدفون شہرِ ری)، نے انہی اصولِ اَربعمِئہ کی بنیاد پر کتاب من لا یحضره الفقیه تصنیف کی۔ اس کتاب میں پانچ ہزار نو سو تریسٹھ (5963) احادیث جمع کی گئیں۔

شیخ صدوق کے بعد چند ہی برسوں میں شیخ طوسی (385–460 ہجری قمری) کا دور شروع ہوا۔ انہوں نے بھی انہی چار سو اصولی رسائل کو بنیاد بنا کر دو مشہور کتابیں تصنیف کیں:

الاستبصار — جس میں پانچ ہزار پانچ سو گیارہ (5511) احادیث شامل ہیں تہذیب الاحکام یوں یہ چار کتابیں، یعنی الکافی، من لا یحضره الفقیه، تہذیب الاحکام اور الاستبصار، شیعہ امامیہ کے حدیثی سرمائے کی اساس قرار پائیں اور کتبِ اَربعہ کے نام سے معروف ہو گئیں۔

اجماع

اجماع فقہِ اسلامی کے دلائل میں تیسرا بنیادی دلیل شمار ہوتا ہے، اور شیعہ نیز اہلِ سنت کے تمام مکاتب فکر اجمالی طور پر اس کی اصل حجّیت پر متفق ہیں۔

اصطلاحِ فقہ میں اجماع سے مراد یہ ہے کہ کسی ایک دور کے علماء کسی ایسے شرعی مسئلے کے حکم پر متفق ہو جائیں جس کا صریح حکم قرآن اور سنت میں وارد نہ ہوا ہو۔

جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، شیعہ امامیہ کے نزدیک بھی اجماع، ادلّۂ اَربعہ (قرآن، سنت، اجماع، عقل) میں سے ایک معتبر دلیل ہے۔

البتہ اہلِ سنت کے نزدیک اہلِ حل و عقد اور نافذ الحکم مراجع کا محض اتفاقِ رائے—نبی اکرم (ص) کی اس روایت کی بنا پر کہ «میری امت گمراہی پر جمع نہیں ہو سکتی»—خود بہ خود حجت سمجھا جاتا ہے۔

اس کے برعکس، امامیہ اس اجماع کو حجت مانتے ہیں جو قولِ معصوم کا کاشف ہو، یعنی وہ اتفاق جس میں درحقیقت امامِ معصوم علیہ السلام کا قول شامل ہو یا اس کی طرف رہنمائی کرتا ہو۔

مکتبِ جعفری کے علماء کے نزدیک:اجماع سے مراد یہ ہے کہ شیعہ مجتہدین کسی شرعی امر پر اس انداز سے متفق ہوں کہ وہ اتفاق قولِ معصوم کا پتہ دے۔

لہٰذا اجماع کو بذاتِ خود نہیں، بلکہ قولِ معصوم کے کاشف ہونے کی حیثیت سے حجت قرار دیا جاتا ہے۔

اس کی بنیاد شیعہ کے اس عقیدے پر ہے کہ کوئی زمانہ امامِ معصوم سے خالی نہیں ہوتا۔ چنانچہ قاعدۂ لطف کے مطابق اللہ تعالیٰ پر لازم ہے کہ جب اس کے بندے خطا کے راستے پر پڑنے لگیں تو وہ امام کے ذریعے ان کی ہدایت فرمائے۔

پس اگر کسی مسئلے میں اجماع قائم ہو جائے اور اس کے برخلاف کوئی رائے ظاہر نہ کی جائے، تو یہ اس بات کی دلیل ہوتا ہے کہ:

  • یا تو امامِ معصوم اس مجمع میں موجود تھے،
  • یا یہ حکم امام ہی کی جانب سے القا ہوا،
  • یا کم از کم یہ کہ امامِ معصوم اس رائے سے راضی تھے۔

اسی بنا پر امامیہ کے نزدیک اجماع، قولِ معصوم تک رسائی کا ایک معتبر ذریعہ اور فقہی استنباط کی ایک اہم دلیل شمار ہوتا ہے۔

قیاس

لیکن قیاس پر عمل—جو اہلِ سنت و جماعت (فرقۂ ظاہریہ کے علاوہ) کے نزدیک مصادرِ تشریع میں چوتھا اصل شمار ہوتا ہے—فقہِ امامیہ میں ممنوع ہے۔ اس کے مقابلے میں شیعہ امامیہ ایک اور اصل پر اعتماد کرتے ہیں، جسے عقل کہا جاتا ہے۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:قیاس دینِ الٰہی کا حصہ نہیں ہے؛ کیونکہ قیاس کرنے والوں نے علم کو اندازوں اور تشبیہات کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش کی، اسی وجہ سے وہ حقیقت سے دور ہو گئے، اور اللہ کا دین قیاس کے ذریعے درست نہیں ہو سکتا۔

فقہِ شیعہ میں ایک معروف اصول پایا جاتا ہے جسے قاعدۂ ملازمہ کہا جاتا ہے، اور وہ یہ ہے: «کُلُّما حَكَمَ بِهِ العَقلُ حَكَمَ بِهِ الشَّرعُ، وَكُلُّما حَكَمَ بِهِ الشَّرعُ حَكَمَ بِهِ العَقلُ»

یعنی: جس چیز کا حکم عقل دیتی ہے، اسی کا حکم شرع بھی دیتی ہے، اور جس چیز کا حکم شرع دیتا ہے، عقل بھی اسی کا حکم کرتی ہے۔

اسی بنیاد پر فقہِ امامیہ میں قیاس کو حجت تسلیم نہیں کیا گیا، کیونکہ وہ ظنّ اور تخمین پر قائم ہے، جبکہ عقلِ قطعی—جو شرع کے ہم آہنگ اور اس کا کاشف ہو—فقہی استنباط میں ایک معتبر اور مضبوط دلیل کی حیثیت رکھتی ہے۔

فقہِ جعفری

فقہِ جعفری اس فقہ کو کہا جاتا ہے جو شیعۂ اثنا عشری کے چھٹے امام، حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی طرف منسوب ہے۔ چونکہ آنحضرت کی حیاتِ مبارکہ کا زمانہ بنی اُمیہ کے آخری دور اور بنی عباس کے ابتدائی عہد سے ہم زمانہ تھا، اور اس عرصے میں امویوں اور عباسیوں کے باہمی سیاسی اختلافات کے باعث شیعوں کو نسبتاً کم مزاحمت کا سامنا تھا، اس لیے ایسے ماحول میں فقہِ جعفری کو باقاعدہ بنیادیں فراہم ہوئیں اور اسے نشوونما کا موقع ملا۔

اس کے علاوہ، امام جعفر صادق علیہ السلام کی عمرِ مبارک دیگر ائمۂ اطہار علیہم السلام کے مقابلے میں طویل تھی۔ آپ نے اپنے طویل دورِ امامت میں نہ صرف شیعۂ امامیہ کے فکری و تنظیمی ڈھانچے کو نظم و ترتیب عطا کی، بلکہ فقہِ شیعہ کی باقاعدہ تعلیم و تدوین کا عظیم فریضہ بھی انجام دیا۔

اسی وجہ سے آپ کو «حَبرُ الاُمّة» (امتِ اسلام کے عظیم عالم) اور «فقیہِ آلِ محمد ﷺ» کے معزز القابات سے یاد کیا جاتا ہے۔

شیعہ کے اکثر اعتقادی اور فقہی احادیث حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام ہی سے مروی ہیں، اور یہی سبب ہے کہ شیعہ فقہ کو «فقہِ جعفری» کہا جاتا ہے اور آپ کے پیروکاروں کے مذہب کو «مذہبِ جعفری» کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔

مدینۂ منورہ میں منعقد ہونے والی امام صادق علیہ السلام کی درسگاہ میں اسلام کے بڑے بڑے علماء اور اکابر حاضر ہوتے تھے اور اس بحرِ علم سے استفادہ کرتے تھے۔

آپ کے مشہور اور ممتاز شاگردوں میں درج ذیل حضرات شامل ہیں:

  • زرارہ بن اعین (وفات: 150 ہجری قمری)،
  • محمد بن مسلم،
  • ابوبصیر،
  • بُرید بن معاویہ عجلی،
  • فضیل بن یسار،
  • معروف بن خربوذ،
  • جمیل بن درّاج،
  • عبداللہ بن مسکان،
  • اور حمّاد بن عثمان

— رحمہم اللہ —

یہی وہ عظیم علمی مکتب ہے جس نے فقہِ امامیہ کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں اور جس کی برکات آج تک شیعہ فقہ و اصول میں نمایاں طور پر جاری و ساری ہیں۔

امامیہ کے بعض خاص اعتقادات

امامیہ کے مخصوص اعتقادات، جو انہیں اہلِ سنت و جماعت سے ممتاز کرتے ہیں، درجِ ذیل ہیں:

  • حضرت علی علیہ السلام اور آپ کی اولادِ طاہرین—یعنی ائمۂ معصومین علیہم السلام—کی امامت و ولایت؛
  • انبیاء اور ائمہ کی عصمت؛
  • تقیہ؛
  • بداء؛
  • متعه؛
  • اور رجعت۔

اب ذیل میں بداء، متعه اور رجعت کے بارے میں اختصار کے ساتھ توضیح پیش کی جاتی ہے۔

بداء: لغوی اور اصطلاحی معنی

لفظ «بداء» مادّہ «بدو» سے اسمِ مصدر ہے۔[1] لغت میں یہ لفظ متعدد معانی میں استعمال ہوا ہے، جیسے:

  • چھپی ہوئی چیز کا ظاہر ہو جانا،[2]
  • عدم سے کسی شے کا ظاہر ہونا،[3]
  • اور قصد و ارادے میں تبدیلی۔[4]

اصطلاحِ کلام میں بداء سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے کسی ایسے امر کا ظاہر ہونا جو ظاہری طور پر توقع کے خلاف ہو؛ حالانکہ حقیقت میں یہ پہلے حکم کا محو ہونا اور دوسرے کا اثبات ہونا ہے، اور اللہ تعالیٰ دونوں ہی مراحل اور تمام حالات سے کامل طور پر آگاہ ہوتا ہے۔[5]

علمائے شیعہ کی تصریحات کے مطابق، بداء کو اللہ تعالیٰ کے حق میں ارادہ کی تبدیلی کے معنی میں نہیں لیا جا سکتا، کیونکہ خداوندِ متعال کا علم اور ارادہ ازلی و ابدی اور ہر نقص سے منزّہ ہے۔

بلکہ بداء کا اطلاق اللہ کے بارے میں مجازی طور پر کیا جاتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے غضب اور رضا کے الفاظ خداوندِ متعال کے لیے حقیقی انسانی معانی میں نہیں، بلکہ مجازاً استعمال ہوتے ہیں۔

لہٰذا بداء کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر کسی ایسے امر کو ظاہر فرماتا ہے جو ان کے اندازے کے خلاف ہوتا ہے، نہ یہ کہ خدا کے علم یا ارادے میں کوئی نئی بات پیدا ہو جائے—کیونکہ وہ ابتدا ہی سے ہر شے کا عالم ہے۔[6]

متعہ

متعہ (میم کے ضمّہ کے ساتھ) لغت میں تمتع اور فائدہ اٹھانے کے معنی میں آتا ہے، اور فقہی اصطلاح میں اس سے مراد نکاحِ منقطع (عارضی شادی) ہے، جسے شیعہ عوام کی زبان میں عموماً صیغہ کہا جاتا ہے۔

شیعۂ امامیہ متعہ کے حلال ہونے پر قرآنِ کریم کی اس آیت سے استدلال کرتے ہیں: ﴿فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِیضَةً ۚ وَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِيمَا تَرَاضَيْتُمْ بِهِ مِنْ بَعْدِ الْفَرِيضَةِ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا﴾

(سورۂ نساء، آیت 24)

اور نیز اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام سے مروی متعدد روایات، نیز بعض صحابۂ رسول (ص) سے منقول آثار کو اس سلسلے میں دلیل قرار دیتے ہیں۔

اس کے علاوہ یہ بات مسلّم ہے کہ متعہ کا جواز عہدِ رسولِ اکرم (ص) میں موجود تھا۔ جہاں تک اس کے بارے میں خیبر یا حجۃ الوداع کے موقع پر نہی اور نسخ کے دعوے کا تعلق ہے، تو اس میں شدید اختلاف اور تردید پائی جاتی ہے۔ یہی تردید اس بات کا سبب بنتی ہے کہ متعہ سے متعلق جو نہی نقل کی گئی ہے، اسے نہیِ تنزیہی پر محمول کیا جائے، نہ کہ نہیِ تحریمی پر، جو پہلے سے ثابت حکمِ حِلّیت کے نسخ کا باعث بنے۔

مزید برآں، شریعتِ اسلام کے احکام تمام انسانوں اور ہر زمانے کے لیے ہیں، اور ان میں بندگانِ خدا کے مصالح اور مفاسد کو پیشِ نظر رکھا گیا ہے۔ اسی تناظر میں نکاحِ موقت (متعہ) کی تشریع، زنا اور اخلاقی فساد کی روک تھام کا ایک مؤثر ذریعہ ہے اور انسانی معاشرے میں عفت اور نظم کو برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔

متعہ کے صحّت کے شرائط

نکاحِ متعہ کی صحّت کے لیے چند بنیادی شرائط ہیں:

مدّت کا ذکر

عقدِ متعہ میں مدّت کا واضح طور پر ذکر کرنا لازم ہے؛ لہٰذا اگر مدّت بیان نہ کی جائے تو عقد باطل ہو جاتا ہے۔ یہ حکم نکاحِ دائم کے برخلاف ہے، جس میں مدّت کا ذکر شرط نہیں۔

مہر (مہریہ) کی تعیین

عقدِ متعہ میں مہر کی مقدار کا متعین ہونا ضروری ہے؛ پس اگر مہر ذکر نہ کیا جائے تو عقد باطل شمار ہوگا۔

شرائطِ ضمنِ عقد

عقدِ متعہ میں ہر وہ شرط جو شریعت کے خلاف نہ ہو اور مجہول (غیر واضح) نہ ہو جائز ہے۔

طلاق کا نہ ہونا

متعہ میں طلاق کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جیسے ہی مقررہ مدّت پوری ہو جائے، یا شوہر باقی مدّت کو بخش دے، عقدِ متعہ خود بخود ختم (فسخ) ہو جاتا ہے۔

نفقہ اور وراثت

عقدِ متعہ میں عورت کو نفقہ کا حق حاصل نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ وراثت پاتی ہے، الا یہ کہ یہ حقوق صراحت کے ساتھ ضمنِ عقد شرط کیے گئے ہوں۔

شیعۂ امامیہ کا یہ عقیدہ ہے کہ متعہ عہدِ رسولِ خدا(ص) میں جائز تھا، اور وفاتِ رسول (ص) کے بعد بھی ایک مدت تک—حضرت عمر بن خطاب کے دور تک—اس پر عمل ہوتا رہا، لیکن بعد میں انہوں نے اسے ممنوع قرار دیا۔ امامیہ کے نزدیک یہ ممانعت نصِ قطعیِ شرعی پر مبنی نہیں، بلکہ ایک اجتہادی و حکومتی فیصلہ تھا؛ اسی لیے فقہِ جعفری میں متعہ کی اصل حِلّیت برقرار سمجھی جاتی ہے۔

رجعت

رجعت (راء کے فتحہ کے ساتھ) قیامت سے پہلے پیش آنے والا ایک واقعہ ہے۔

یہ مسئلہ عقائدِ شیعۂ امامیہ میں شمار ہوتا ہے، اور اس سے مراد یہ ہے کہ بعض مردے—

  • خالص مومنین
  • خالص کافرین
  • اور نیز بعض ایسے افراد جن پر دنیاوی زندگی میں بہت بڑا ظلم ہوا ہو،

دوبارہ دنیا میں لوٹائے جائیں گے۔

رجعت کا مقصد یہ ہے کہ: بعض مومنین کو وہ دنیوی زندگی نصیب ہو جو ان کا حق تھی مگر انہیں نہ مل سکی، اور مظلوم لوگ اپنی آنکھوں سے ان ظالموں پر الٰہی انتقام کو واقع ہوتے ہوئے دیکھیں جنہوں نے ان پر ظلم کیا تھا۔ شیعۂ امامیہ کے عقیدے کے مطابق رجعت، ظہورِ حضرت امام مہدیؑ (عجّل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے بعد واقع ہوگی، اور یہ واقعہ قیامتِ کبریٰ سے پہلے انجام پائے گا۔

رجعت کے امکان اور وقوع پر قرآنِ کریم کی بعض آیات سے استدلال کیا گیا ہے۔

ان میں سے ایک مشہور مثال اصحابِ کہف کا واقعہ ہے، جو تین سو برس کی طویل نیند کے بعد بیدار کیے گئے۔

یہ قرآنی واقعہ اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے مردوں کو دوبارہ زندہ کرنا اور انہیں دنیا میں لوٹانا بالکل ممکن ہے۔

شیعۂ اثناعشریہ اور اہلِ سنت کے اعمال میں اشتراکات اور اختلافات

شیعۂ اثناعشریہ کے مذہبی اعمال، مجموعی طور پر، اہلِ سنت و جماعت کے مذہبی اعمال سے بہت زیادہ مختلف نہیں ہیں۔

مثلاً روزہ اور حج دونوں میں یکساں ہیں، البتہ بعض امور جیسے نماز کی ہیئت، وضو کے آداب اور اذان و اقامت میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

اذان اور اقامت میں شیعۂ اثناعشریہ

«أَشْهَدُ أَنَّ عَلِيًّا وَلِيُّ اللّٰهِ» کو تبرّکاً کہتے ہیں، جزءِ اذان کے طور پر نہیں، اور «حَيَّ عَلَى الصَّلَاة» کو اذان اور اقامت کے فصول میں شمار کرتے ہیں۔ شیعہ اثناعشریہ ان چار سورتوں کو جن میں آیۂ سجدہ ہے، نماز میں تلاوت نہیں کرتے۔ اسی طرح فقّاع (جو سے بنی ہوئی مخصوص شراب) کو شراب (خمر) کی طرح حرام سمجھتے ہیں، اور گدھے کے گوشت کو مکروہ قرار دیتے ہیں۔

شیعہ فقہ کے مطابق گواہوں کے بغیر نکاح جائز ہے، لیکن عادل گواہوں کے بغیر طلاق جائز نہیں۔ اس پر وہ قرآنِ کریم کی اس آیت سے استدلال کرتے ہیں: ﴿فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ﴾

(سورۂ طلاق، آیت 2)

اور کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے طلاق پر گواہ بنانے کا حکم دیا ہے، نہ کہ نکاح پر۔ اسی طرح شیعۂ امامیہایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دینے کو جائز نہیں مانتے، اور اس پر اس آیت سے استدلال کرتے ہیں: ﴿اَلطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾

(سورۂ بقرہ، آیت 229)

نیز شیعۂ اثناعشریہ نمازِ میّت میں پانچ تکبیریں کہتے ہیں۔

بنیادی اختلاف

شیعہ اور اہلِ سنت کے درمیان سب سے بنیادی اور اہم اختلاف

رسولِ خدا(ص)کے جانشین کی تعیین کے مسئلے میں ہے۔

شیعۂ اثناعشریہ کے نزدیک خلافت و امامت نصِّ جلی اور نصِّ خفی سے ثابت ہے، جبکہ اہلِ سنت کے نزدیک یہ معاملہ امت کے اختیار اور انتخاب پر موقوف ہے۔ اس بنیادی اختلاف کے علاوہ، شیعہ اور سنی کے درمیان بعض مصادرِ استنباط، دلائلِ اجتہاد، اور اصول و فروع، عبادات، معاملات اور نکاح کے بعض مسائل میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔

قیاس اور فقہی امتیازات قیاس پر عمل فقہِ امامیہ میں حرام ہے، جبکہ اہلِ سنت کے تمام مکاتبِ فکر (خوارج کے سوا) میں قابلِ قبول ہے۔ باوجود اس کے، فقہی فروع کے اکثر مسائل میں فقہِ جعفری کا موقف اکثر اوقات اہلِ سنت کے چاروں فقہی مذاہب میں سے کسی ایک کے موافق ہوتا ہے۔ البتہ بعض مسائل ایسے بھی ہیں جو امامیہ کے منفرد مسائل میں شمار ہوتے ہیں،

اگرچہ ان میں سے اکثر میں صحابہ، تابعین یا تبعِ تابعین کے کسی نہ کسی فقیہ کا قول شیعہ کے موقف کے مطابق مل جاتا ہے۔

اسی بنا پر اہلِ سنت و جماعت کے بعض علماء نے فقہِ جعفری کو چار معروف فقہی مذاہب کے ساتھ پانچواں فقہی مذہب بھی تسلیم کیا ہے۔

شیعۂ اثنا عشری کے اصولِ عقائد

شیعۂ امامیہ کے اصولِ عقائد یہ ہیں: توحید، نبوت، معاد، عدل اور امامت۔

شیعۂ امامیہ، صفتِ عدل کو ذاتِ خداوندی کی صفات میں شمار کرتا ہے اور اس کی بنیاد کو عقل پر قائم سمجھتا ہے، نہ کہ محض مشیتِ الٰہی پر۔

اسی طرح امامت وہ بنیادی اصل ہے جو شیعہ کو اہلِ سنت سے ممتاز اور جدا کرتی ہے۔

عقیدۂ شیعہ کے مطابق، وحی کے دو پہلو ہیں:

ایک ظاہری اور بیرونی پہلو اور دوسرا باطنی اور اندرونی پہلو رسولِ اکرم (ص) ان دونوں پہلوؤں سے درجۂ کمال تک آگاہ تھے، کیونکہ آپ(ص) بیک وقت نبی بھی تھے اور ولی بھی۔

نبوت، پیغمبر کی ظاہری ذمہ داری تھی، یعنی وحیِ الٰہی کو لوگوں تک پہنچانا؛ اور ولایت، ان کی باطنی ذمہ داری تھی، یعنی دین کے باطنی معانی کو لوگوں پر آشکار کرنا۔

رسولِ خدا(ص) کی وفات کے ساتھ نبوت کا دور ختم ہو گیا،لیکن ولایت کا سلسلہ امام کی ذات میں جاری رہا۔

امام کا مقام اور ذمہ داریاں

امام وہ ہستی ہے جو ولایت کی ذمہ داری سنبھالتی ہے، اور یہ ذمہ داری تین امور سے متعلق ہے:

  • اسلامی معاشرے پر حکومت اور قیادت
  • فقہی اور دینی مسائل کی توضیح و تبیین
  • روحانی رہبری، تاکہ لوگ دین کے باطنی معانی تک رسائی حاصل کر سکیں

ان تینوں الٰہی ذمہ داریوں کی بنیاد پر،

امام کا انتخاب عوام کے اختیار میں نہیں ہو سکتا، بلکہ یہ خداوندِ متعال کا کام ہے کہ وہ اس روحانی رہبر کو مقرر کرے۔

یہ امام معصوم ہوتا ہے،

عالمِ غیب سے الہام یافتہ ہوتا ہے

اور لوگوں کی ہدایت و رہبری کا فریضہ انجام دیتا ہے۔

امام، عالمِ امکان کا قطبُ الرَّحیٰ

اور شریعت کے تحفظ اور بقا کا ضامن ہے۔

اس کے باوجود، حضرت امام مہدیؑ (عجّل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف)

لوگوں کی ظاہری نگاہوں سے پوشیدہ ہیں

اور آخر الزمان کے سوا ظاہر نہیں ہوں گے۔

شیعہ عقیدے کے مطابق، امامِ غائب، شخصیتِ رسول(ص) کا تسلسل ہے، اور انہی کے ذریعے قرآن محفوظ رہتا ہے۔ ان کے ظہور کے بغیر: دنیوی حکومت ناقص رہتی ہے، اور صرف ان کے دوبارہ ظہور کے ساتھ ہی وہ کامل مطلوب نظام قائم ہوگا جو عدلِ الٰہی پر مبنی ہے اور جس پر اسلام اپنی تعلیمات میں خاص زور دیتا ہے۔

ایران میں شیعۂ امامیہ کی تاریخ

مذہبِ شیعۂ اثناعشریہ صفوی دور سے قبل ایران میں ملکی سطح پر سرکاری مذہب نہیں تھا، بلکہ ایک اقلیتی مذہب کی حیثیت رکھتا تھا۔

چوتھی صدی ہجری میں، آلِ بویہ کے بعض سلاطین، جو ایران کے کچھ علاقوں پر حکومت کرتے تھے اور خود شیعۂ اثناعشریہ کے پیروکار تھے، اس مذہب کو سرکاری حیثیت دلانے کی کوشش کرتے رہے، لیکن بغداد کے خلفاء کی سخت مخالفت کے باعث—جن کا ایران میں گہرا دینی اور سیاسی اثر و رسوخ تھا—یہ کوششیں بارآور نہ ہو سکیں۔

656 ہجری قمری میں ہلاکو خان مغول کے ہاتھوں خلافتِ بغداد کے زوال کے بعد، مغل ایلخانوں میں سے ایک، سلطان محمد خدابندہ (اولجایتو) نے عارضی طور پر مذہبِ تشیع قبول کیا اور سکّوں پر اور خطبوں میں ائمۂ شیعہ کے نام درج کروائے، لیکن اس اقدام کے باوجود بھی شیعہ مذہب کو سرکاری حیثیت حاصل نہ ہو سکی۔

اس کے باوجود، شیعہ مذہب نے پردۂ خفا میں ایران کے مختلف شہروں کے عوام میں اپنا دائرۂ اثر بتدریج وسیع کرنا جاری رکھا، یہاں تک کہ آٹھویں صدی ہجری کے وسط میں ایک شیعہ خاندان جسے سربداران کہا جاتا ہے، نے سبزوار میں—جہاں اکثریتی آبادی شیعہ تھی—ایک اثناعشری حکومت قائم کر لی۔

اسی طرح ساداتِ مرعشی نے مازندران میں ایک شیعی حکومت کی بنیاد رکھی۔

نویں صدی ہجری میں قراقویونلو حکمرانوں میں سے جہان شاہ، جو آذربائیجان پر حکومت کرتا تھا، اپنے شیعہ ہونے پر فخر کرتا تھا۔

صفویوں کے ظہور سے پہلے، ایران کے بعض شہر—جیسے قم، کاشان اور سبزوار—شیعہ آبادی کے مراکز کے طور پر مشہور تھے، اور ان کے اکثر باشندے مذہبِ تشیع کے پیروکار تھے۔

صفوی دور اور تشیع کی سرکاری حیثیت

شاہ اسماعیل صفوی، جو قزلباش صوفیوں کے ایک گروہ کی مدد سے—جو خود شیعہ عقیدہ رکھتے تھے—اقتدار میں آئے،

907 ہجری قمری میں تختِ شاہی ایران پر متمکن ہوئے۔

اس وقت سلطان سلیم عثمانی، جو خلافتِ اسلامیہ کا دعویدار تھا، ایران پر غلبہ حاصل کر کے اس ملک کو اپنی سلطنت میں ضم کرنا چاہتا تھا۔

شاہ اسماعیل نے، اس عثمانی خطرے کے مقابلے میں، اپنی حکومت کے آغاز ہی سے

اہلِ سنت و جماعت کے طریقے کے بجائے مذہبِ شیعۂ اثناعشریہ کو ایران کا سرکاری مذہب قرار دیا

اور اسی مذہب کی ترویج و اعتلاء کو اپنی ریاستی پالیسی بنایا۔

اسی دور میں: اذان اور اقامت میں «أشهد أن عليّاً وليّ الله» اور «حيّ على خير العمل» کہنے کو رائج کیا گیا۔ ایران کے اکثر سنی باشندے، جو شاہ اسماعیل کی تلوار کے خوف کے باعث مزاحمت کی طاقت نہیں رکھتے تھے، رضا کارانہ یا جبرًا (یعنی خوشی سے یا زبردستی) مذہبِ تشیع قبول کرنے پر مجبور ہو گئے۔

چند ہی عرصے میں شیعۂ اثناعشریہ ایران کے اکثر علاقوں میں پھیل گیا،

اور تب سے لے کر آج تک—یعنی تقریباً پانچ سو برسوں سے—

مذہبِ شیعۂ اثناعشریہ، ایران کی ریاست اور قوم کا سرکاری مذہب چلا آ رہا ہے۔

علمی بنیادوں کی مضبوطی

صفوی حکمرانوں نے تشیع کو سرکاری مذہب قرار دینے کے بعد اس امر کی کوشش کی کہ

پرانے سنی معارف کی جگہ شیعی فقہی و کلامی معارف کو رائج کیا جائے۔ اسی مقصد کے لیے انہوں نے: جبلِ عامل (لبنان)—جو اس زمانے میں علومِ شیعہ کا مرکز تھا— اور احساء و بحرین (خلیجِ فارس کے مغربی ساحل پر واقع علاقے) سے شیعہ فقہاء اور علماء کو ایران دعوت دی، تاکہ وہ

فقہ، حدیث اور علمِ کلامِ شیعہ کی تعلیم و تدوین کا فریضہ انجام دیں۔ چنانچہ شیخ حُرّ عاملی اور شیخ بہاءالدین عاملی (شیخ بهایی) جیسے جلیل القدر علماء ایران آئے، اور بعد میں علامہ محمد باقر مجلسی انہی اکابر علماء کے نمایاں شاگردوں میں شمار ہوئے۔[7]

متعلقه تلاشیں

حوالہ جات

  1. ابن منظور، لسان العرب، ذیل واژه «بدو».
  2. راغب اصفهانی، المفردات فی غریب القرآن، سال ۱۴۱۲ ق، ص ۱۱۳
  3. عبدالهادی فضلی، خلاصة علم الکلام، سال ۱۴۱۴ ق، ص ۱۰۵.
  4. ابن فارس، معجم مقاییس اللغة، سال ۱۴۱۱ ق، ص ۲۱۲.
  5. سید محمد‌حسین طباطبایی، المیزان فی تفسیر القرآن، ج ۱۱، ص ۳۸۱.
  6. شیخ مفید، تصحیح اعتقادات الامامیة، ص ۶۷
  7. محمد‌جواد مشکور، فرهنگ فرق اسلامی، مشهد، انتشارات آستان قدس رضوی، سال 1372 ش، چ دوم، ص 24، با ویرایش گسترده عبارات.