"راجہ ناصر عباس جعفری" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
م (Mahdipor نے صفحہ مسودہ:راجہ ناصر عباس جعفری کو راجہ ناصر عباس جعفری کی جانب بدون رجوع مکرر منتقل کیا)
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 14: سطر 14:
| religion = [[اسلام]]  
| religion = [[اسلام]]  
| faith = [[شیعہ]]
| faith = [[شیعہ]]
| works = مجلس وحدت مسلمین پاکستان
| works =  
| known for = مدرسہ حجت اسلام آباد
| known for = مدرسہ حجت اسلام آباد، مجلس وحدت مسلمین پاکستان
}}
}}
'''راجہ ناصر عباس جعفری''' (انگریزی میں: Raja Nasir Abbas Jafri) جسے علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے نام سے جانا جاتا ہے، [[پاکستان]] سے تعلق رکھنے والے ایک [[شیعہ]] عالم اور [[مجلس وحدت المسلمین پاکستان|مجلس وحدت مسلمین]] پارٹی کے سیکرٹری جنرل ہیں۔ پاکستان میں مذہبی تشدد کے عروج کے بعد اپنے ہم خیال افراد کے ایک گروپ کے تعاون سے انہوں نے مجلس وحدت مسلمین پارٹی بنائی۔ آپ پاکستان میں ابتدائی حاصل کرنے کے بعد اعلی تعلیم کے حصول کے لیے حوزہ علمیہ قم تشریف لائے اور اس حوزہ کے جید علماء اور اساتذہ کسب فیض کیا۔
'''راجہ ناصر عباس جعفری''' (انگریزی میں: Raja Nasir Abbas Jafri) جسے علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے نام سے جانا جاتا ہے، [[پاکستان]] سے تعلق رکھنے والے ایک [[شیعہ]] عالم اور [[مجلس وحدت المسلمین پاکستان|مجلس وحدت مسلمین]] پارٹی کے سیکرٹری جنرل ہیں۔ پاکستان میں مذہبی تشدد کے عروج کے بعد اپنے ہم خیال افراد کے ایک گروپ کے تعاون سے انہوں نے مجلس وحدت مسلمین پارٹی بنائی۔ آپ پاکستان میں ابتدائی حاصل کرنے کے بعد اعلی تعلیم کے حصول کے لیے حوزہ علمیہ قم تشریف لائے اور اس حوزہ کے جید علماء اور اساتذہ کسب فیض کیا۔

نسخہ بمطابق 08:34، 14 فروری 2024ء

راجہ ناصر عباس جعفری
راجہ ناصر عباس جعفری.jpg
دوسرے نامناصر ملت
ذاتی معلومات
پیدائش1970 ء، 1348 ش، 1389 ق
یوم پیدائش20 اگست
پیدائش کی جگہراولپنڈی، پاکستان
اساتذہ
مذہباسلام، شیعہ
مناصبمدرسہ حجت اسلام آباد، مجلس وحدت مسلمین پاکستان

راجہ ناصر عباس جعفری (انگریزی میں: Raja Nasir Abbas Jafri) جسے علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے نام سے جانا جاتا ہے، پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک شیعہ عالم اور مجلس وحدت مسلمین پارٹی کے سیکرٹری جنرل ہیں۔ پاکستان میں مذہبی تشدد کے عروج کے بعد اپنے ہم خیال افراد کے ایک گروپ کے تعاون سے انہوں نے مجلس وحدت مسلمین پارٹی بنائی۔ آپ پاکستان میں ابتدائی حاصل کرنے کے بعد اعلی تعلیم کے حصول کے لیے حوزہ علمیہ قم تشریف لائے اور اس حوزہ کے جید علماء اور اساتذہ کسب فیض کیا۔

تحریک انصاف سے سیاسی اتحاد کا مقصد

سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں علامہ راجہ ناصر نے لکھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ کامیاب اراکین اسمبلی کی مجلس وحدت المسلمین میں شمولیت کے فیصلے پر خوش آمدید کہتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے اتحاد کے اعلان پر مجلس وحدت المسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر نے سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ ہمارا روز اول سے یہ مؤقف بھی رہا ہے اور ہم نے اپنے عمل و کردار سے بھی یہ ثابت کیا ہے کہ ہم کسی جماعت پر بوجھ نہیں بنتے بلکہ مشکل وقت میں باوفا دوست بن کر ساتھ نبھاتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ ہمارا اتحاد، آزاد خارجہ پالیسی، داخلی خودمختاری، سرحدوں کے تحفظ، عالمی طاقتوں کی غلامی سے انکار، مسلم ممالک سے برادرانہ تعلقات اور گلگت بلتستان کے لیے آئینی حقوق کے حصول کے بیانیہ کی بنیاد پر ہے، جو خون کے آخری قطرے تک قائم رہے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں علامہ راجہ ناصر نے لکھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ کامیاب اراکین اسمبلی کی مجلس وحدت المسلمین میں شمولیت کے فیصلے پر خوش آمدید کہتے ہیں، مجلس وحدت المسلمین عمران خان کی اپنی جماعت ہے اور وہ اس جماعت کے حوالے سے جو چاہے فیصلہ کر سکتے ہیں، ہم اسے بلامشروط اور من وعن قبول کریں گے۔ علامہ راجہ ناصر نے لکھا کہ عمران خان کی قیادت میں پوری قوم مل کر وطن عزیز کو ایک آزاد، خود مختار اور باوقار ریاست بنانے میں بھرپور کردار ادا کرے گی [1]۔

سیاسی سرگرمیاں

پاکستان کی خودمختاری

چیئرمین مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے قومی انتخابات 2024ء میں پاکستان تحریک انصاف کی بھاری اکثریت کے ساتھ کامیابی پر عمران خان، مرکزی قائدین، صوبائی و ضلعی رہنماؤں اور کارکنوں کو تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے اپنے خلاف ہونے والے غیر قانونی ہتھکنڈوں کو عوامی طاقت سے ناکام بنایا ہے۔

اختیارات کے ناجائز استعمال اور ظالمانہ طرزِ عمل کا جس صبر و استقامت اور حوصلے کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کیا اور آئینی جدوجہد جاری رکھی، اس پر جماعت کا ہر کارکن لائق تحسین ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں سلام پیش کرتا ہوں ان ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کو جنہوں نے جرات مندی اور استقامت کے ساتھ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، لیکن حق کی حمایت سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹیں۔ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ پاکستان کی پچھتر سالہ تاریخ میں طاقت و اختیارات کے نشے میں عوامی خواہشات کے برعکس جو فیصلے کیے جاتے رہے 2024 کے الیکشن میں عوام نے انہیں بلاخوف وخطر مسترد کر دیا ہے۔

ایم ڈبلیو ایم پاکستان کے چیئرمین نے کہا کہ حالیہ الیکشن کے نتائج پر اثر انداز ہونے کی ہر کوشش، طاقتور طبقے اور مقتدر قوتوں کے گراف کو نہ صرف مزید گرا دے گی، بلکہ عوام کے سیاسی شعور میں اضافے اور اپنے آئینی حقوق کے لیے جدوجہد کے لیے سمت فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے اپنی آئینی طاقت کی شناخت کر لی ہے اور اسے منوا لیا ہے، ریاستی اداروں کو بھی اپنی آئینی حیثیت کو درک کرنا ہو گا اور اپنی حدود و قیود کا پابند رہنا ہو گا، پاکستان تحریک انصاف ایک مقبول ترین سیاسی جماعت اور عمران خان محبوب ترین رہنما بن کر سامنے آئے ہیں، 2024ء کے انتخابات میں پی ٹی آئی کی حاصل شدہ نشستیں عوام کے ضمیر کا فیصلہ ہے، اس فیصلے کو تبدیل کرنے کی کوئی بھی کوشش قطعاً کامیاب نہیں ہو گی، انتخابات کے نتائج میں رد وبدل اور دھاندلی اور آئین مخالف گھناؤنے جرم کے خلاف ہم عدالتوں میں جائیں گے، اگر عدالتوں پر اثرانداز ہونے کی کوئی کوشش کی گئی تو پھر ہر امیدوار اپنے ووٹرز کے ساتھ اپنے احتجاج کے آئینی حق کو استعمال کرنے کا فیصلہ محفوظ رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری قوم خود مختار پاکستان کے بیانیہ کی عملی شکل کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ہم سب نے مل کر ایک ایسے مضبوط اور مستحکم پاکستان کے خوابوں کی تکمیل کرنی ہے کہ جس کے ادارے ہر قسم کے استعماری دباؤ سے آزاد اور پاک ہوں، قوم کی قسمت کے فیصلے اسلام آباد میں ہوں ناکہ کہیں اور، جس کی داخلی خودمختاری، خارجہ پالیسی اس کے اپنے مفادات کے تابع ہو گی نہ کہ کسی بیرونی طاقت کی ڈکٹیشن کا عکاس ہو، آئینی اداروں کا وقار بلند ہو، پوری قوم کی ایک ہی آواز ہے کہ ہمیں غلامی قبول نہیں، آئیں سب مل کر وطن کو عظیم سے عظیم تر بنانے کا عہد کریں اور قدم بڑھا کر اپنی حقیقی منزل کی طرف گامزن ہوں [2]۔

گلگت بلتستان کی عوام کے مطالبات کو فوری منظور کیا جائے

چیئرمین مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے گندم سبسڈی ختم کرنے کے خلاف ستائیس روز سے جاری دھرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کی عوام کے مطالبات کو فوری منظور کرنے کے سوا حکومت کے پاس اور کوئی چارہ نہیں ہے، سر زمین بے آئین کے لیے گندم سبسڈی ختم کرنا بلا جواز ہے، سرد ترین موسم میں وسائل دینے کی بجائے عوام کے منہ سے روٹی کا نوالہ بھی چھینا جا رہا ہے، صوبائی حکومت سمیت وفاقی حکومت کا معاندانہ رویہ شرمناک ہے۔

چیئرمین مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے گندم سبسڈی ختم کرنے کے خلاف ستائیس روز سے جاری دھرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کی عوام کے مطالبات کو فوری منظور کرنے کے سوا حکومت کے پاس اور کوئی چارہ نہیں ہے، سر زمین بے آئین کے لیے گندم سبسڈی ختم کرنا بلا جواز ہے، سرد ترین موسم میں وسائل دینے کی بجائے عوام کے منہ سے روٹی کا نوالہ بھی چھینا جا رہا ہے، صوبائی حکومت سمیت وفاقی حکومت کا معاندانہ رویہ شرمناک ہے۔

آخر اربابِ اختیار غیر ذمہ دارانہ سلوک اور عدم توجہی سے عوام کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں، جی بی میں نام نہاد صوبائی سیٹ اپ مسلسل عوامی امنگوں کے بر خلاف اقدامات اٹھا رہا ہے، گلگت بلتستان کی عوامی حمایت سے محروم موجودہ صوبائی حکومت کے تاخیری حربے اس تحریک کو کمزور نہیں کر سکتے، الٹا خون جما دینے والی سردی میں احتجاج کرنے والوں کا دائرہ کار وسیع ہو گا اور عوام سے منفی ہتھکنڈوں سے پیش آنا شدید نفرت کا باعث بنے گا۔

انہوں نے کہا کہ پورے ملک کی صورت حال انتہائی مخدوش ہے، نا صرف سکردو کے عوام اپنے آئینی حقوق کی خاطر سڑکوں پر دھرنا دیئے بیٹھے ہیں اور ساری اپوزیشن مستعفیٰ ہونے کے لیے اپنے استعفے جمع کر چکی ہے بلکہ پارہ چنار کی مسافر گاڑیوں پر دہشت گردانہ حملوں میں قوم کی بیٹیوں اور بیٹوں کو سڑکوں پر والدین کے سامنے بے دردی سے قتل کیا جاتا ہے، تو کہیں صدائے احتجاج بلند کرتی ہوئی بلوچ بیٹیاں ایک ماہ سے شدید موسم کی سختیاں برداشت کرنے پر مجبور ہیں لیکن ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے، نو ماہ سے قوم کی بیٹیوں کو ذاتی انا کی تسکین کے لیے پابند سلاسل کیا گیا، عدالتی احکامات کی کھلم کھلا دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں، آئین وقانون کو ملک میں بے وقعت کر کے رکھ دیا گیا ہے، یہ روش نہ بدلی گئی تو ابتر ملکی صورتحال وطن عزیز کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے [3]۔

ایران اور پاکستان کا ماضی دوستی اور بھائی چارے کے لازوال رشتے سے عبارت ہے

چیئرمین مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے میڈیا سیل سے جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان اور ایران دو برادر ہمسایہ ممالک ہیں، جن کا ماضی دوستی اور بھائی چارے کے لازوال رشتے سے عبارت ہے، دونوں برادر ممالک کے درمیان کسی بھی قسم کا تناؤ یا کشیدگی مشترکہ اور موقع پرست دشمنوں کے ناپاک عزائم کی تقویت کا باعث بنے گا۔ انہوں نے میڈیا سیل سے جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان اور ایران دو برادر ہمسایہ ممالک ہیں، جن کا ماضی دوستی اور بھائی چارے کے لازوال رشتے سے عبارت ہے، دونوں برادر ممالک کے درمیان کسی بھی قسم کا تناؤ یا کشیدگی مشترکہ اور موقع پرست دشمنوں کے ناپاک عزائم کی تقویت کا باعث بنے گا۔

انہوں نے ایران پاکستان کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ عالمی منصوبہ ساز طاقتیں اسلام دشمنی میں پیش پیش اور موقع کی تلاش میں ہیں، دشمن کی شاطرانہ چالیں صبر وتحمل، حکمت اور بصیرت سے مل کر ناکام بنانی ہوں گی، تمام تنازعات کا بہترین حل سیاسی و سفارتی سطح پر مذاکرات کے ذریعے نکالا جانا چاہیئے۔

راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ دہشت گردی دونوں برادر ممالک کا مشترکہ مسئلہ ہے، جس سے نمٹنے کے لئے لاتعداد قربانیاں دی گئیں ہیں، اس طرح کے واقعات دونوں برادر ہمسایہ اسلامی ممالک کے دیرینہ اور تزویراتی تعلقات کو خراب کرنے کا باعث نہیں ہونے چاہیئے، اس وقت غزہ سنگین انسانی المیہ سے دوچار ہے، یہود و نصارٰی بے گناہ فلسطینیوں پر آگ و بارود کی بارش برسا رہے ہیں، مسلم امہ کی غیرت ایمانی کا تقاضا ہے کہ وہ اپنی تمام تر توجہ غزہ کے مسلمانوں پر مرکوز رکھیں، یہ وقت باہم الجھنے کا نہیں بلکہ مشترکہ دشمن کی چالوں کو سمجھنے اور انہیں ناکام بنانے کا ہے چیئرمین مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے میڈیا سیل سے جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان اور ایران دو برادر ہمسایہ ممالک ہیں، جن کا ماضی دوستی اور بھائی چارے کے لازوال رشتے سے عبارت ہے، دونوں برادر ممالک کے درمیان کسی بھی قسم کا تناؤ یا کشیدگی مشترکہ اور موقع پرست دشمنوں کے ناپاک عزائم کی تقویت کا باعث بنے گا [4]۔

مریکہ، اسرائیل و ملک دشمن قوتوں سے گٹھ جوڑ خطرے کی گھنٹی ہے

ایم ڈبلیو ایم پاکستان کے چیئرمین نے کہا کہ امریکہ، اسرائیل اور دیگر ملک دشمن قوتوں سے گٹھ جوڑ خطرے کی گھنٹی ہے، تکفیریت کو پروان چڑھایا جا رہا ہے، بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں ناامنی اور دہشت گردی کے پے در پے واقعات سے ان قوتوں کے مذموم عزائم صاف ظاہر ہیں، ملک کی تمام چھوٹی بڑی اکائیوں سے کھلے دل کے ساتھ ڈائیلاگ کرنا وقت کا تقاضا ہے۔ ایم ڈبلیو ایم کے چیئرمین نے 16 دسمبر 1971ء سانحۂ مشرقی پاکستان جیسے قومی سانحے کی مناسبت سے میڈیا سیل سے جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے، لیکن اس عمل کو روکنے کا واحد حل ایک قوم بننے میں ہی مضمر ہے، سانحۂ مشرقی پاکستان سے سبق نہیں سیکھا گیا اور اس ملک کو آج تک نت نئے تجربات کی بھینٹ چڑھایا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان آج بھی سیاسی، معاشی اور سماجی بے چینی کا شکار ہے، ہمارا ازلی دشمن ہم پر نظریں گاڑے ہوئے ہے، سن 71ء میں اس نے تعلیمی نصاب کے ذریعے مشرقی پاکستانیوں کی برین واشنگ کی تھی، آج وہ ہماری نئی نسل کو ثقافت اور تجارت کے نام پر ورغلا رہا ہے، اس کا امریکہ، اسرائیل اور دیگر ملک دشمن قوتوں سے گٹھ جوڑ خطرے کی گھنٹی ہے، تکفیریت کو پروان چڑھایا جا رہا ہے، بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں ناامنی اور دہشت گردی کے پے در پے واقعات سے ان قوتوں کے مذموم عزائم صاف ظاہر ہیں، ملک کی تمام چھوٹی بڑی اکائیوں سے کھلے دل کے ساتھ ڈائیلاگ کرنا وقت کا تقاضا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے دو لخت ہونے کے بعد بھی آرمی پبلک اسکول پشاور سمیت ملک میں کئی دلخراش واقعات رونما ہوئے ہیں لیکن ہمارے حکمران آج بھی اقتدار کی ہوس میں ملکی سالمیت و وقار کو پس پشت ڈال کر غلط سمت پر چل رہے ہیں، آئین پاکستان کی دھجیاں بکھیری جا رہی ہیں، عوام مہنگائی، غربت اور بے روزگاری کی چکی میں پس رہے ہیں، حکمران اپنی عیاشیوں میں مبتلا ہیں۔

کراچی سے گلگت بلتستان تک کرکٹ کے علاوہ اور کوئی اقدام پاکستانیوں کو ایک قوم نہیں بنا سکا، نیشن بلڈنگ کے حوالے سے آج تک کوئی سنجیدہ کوششیں نہیں کی گئیں، سیاسی جماعتوں کو ٹکڑوں میں اور صوبوں تک محدود کرنے کی پالیسی فیڈریشن کو کمزور کر رہی ہے، ماضی میں غیر آئینی اقدامات کا شکار جماعتیں بھی آج اسی مکروہ کھیل کا حصہ بن کر ایک جماعت کے خلاف کمر کسی ہوئی ہے، یہ ملک ہمارا ہے اس میں بسنے والے ہم سب ایک ہی گلستان کے پھول ہیں لیکن یہ دشمن کی آنکھ میں کھٹکتا ہے، لہٰذا ماضی کے ان اندوہناک قومی سانحات سے سبق سیکھتے ہوئے ملکی یکجہتی کےلئے مؤثر اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے [5]۔

فلسطین کی حمایت

مزاحمت نے چاروں طرف سے غاصب اسرائیل کو گھیر لیا ہے، قابض ریاست جلد ختم ہونے والی ہے، مقررین آزادی فلسطین ریلی

ایم ڈبلیو ایم اور آئی ایس او پاکستان کے تحت جنوبی پنجاب میں آزادی فلسطین ریلی کا انعقاد ہوا جس میں تمام مسالک کے علماء اور عمائدین سمیت عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

ایم ڈبلیو ایم اور آئی ایس او پاکستان کے تحت جنوبی پنجاب میں آزادی فلسطین ریلی کا انعقاد ہوا جس میں تمام مسالک کے علماء اور عمائدین سمیت عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

مزاحمت نے چاروں طرف سے غاصب اسرائیل کو گھیر لیا ہے، قابض ریاست جلد ختم ہونے والی ہے، مقررین

رپورٹ کے مطابق، آزادی فلسطین ریلی علی چوک، حسین آگاہی سے ہوتا ہوا گھنٹہ گھر چوک پر جلسے کی شکل اختیار کر گئی، ریلی میں منہاج آلقران، متحدہ موومنٹ پاکستان و دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین سمیت ہزاروں کی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔

سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے فلسطین مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی بزدل ہیں جو عام عوام کا قتل عام کر رہے ہیں، کہاں گئے انسانی حقوق عورتوں بچوں کے حقوق۔؟ غزہ میں امریکی اور برطانوی فوجی مارے جا رہے ہیں، پوری دنیا کے فرعون غزہ پر حملہ آور ہیں، خدا چاہتا ہے مظلومین، ظلم کے مقابلے میں فریاد بلند کریں، اس وقت دو طرح کی جبگ جاری ہے ایک اسلحے کی اور ایک بیانیے کی جنگ ہے، آپ نے بیانیے کی جنگ میں اسرائیل امریکہ کو شکست دے دی ہے، آج دنیا فلسطینیوں کے حق میں سراپا احتجاج ہے، اولیاء اللہ کی سرزمین پر مظلومین فلسطین کے حق میں نکلنے والوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔

مزاحمت نے چاروں طرف سے غاصب اسرائیل کو گھیر لیا ہے، قابض ریاست جلد ختم ہونے والی ہے، مقررین

انہوں نے مزید کہا کہ مزاحمت نے غاصب اسرائیل کو گھیر لیا ہے اور غاصب اسرائیل کا وجود جلد ختم ہونے والا ہے، دو ریاستی حل کے فارمولے کو سختی سے مسترد کرتے ہیں، ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم پر ملین مارچ کا فیصلہ کیا گیا ہے، پاکستان کی تاریخ میں ایسا ملین مارچ پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا ہو گا۔

سربراہ جمعیت علماء اسلام پاکستان ضیاء اللہ شاہ بخاری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی سفاکیت کو روکنے میں جہاں عالمی برادری ناکام ہے، وہاں اسلامی ممالک اور عرب لیگ بھی مکمل خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، آج جس طرح فلسطینی عوام کا قتل عام ہو رہا ہے حق بنتا تھا کہ تمام کلمہ گو متحد ہو کر اسرائیل کو واضح اور جرأت مندانہ پیغام دیتے، جنگ بندی کی قرارداد کو امریکہ کا ویٹو کرنا مسلم حکمرانوں کے منہ پر تماچہ ہے۔

مزاحمت نے چاروں طرف سے غاصب اسرائیل کو گھیر لیا ہے، قابض ریاست جلد ختم ہونے والی ہے، مقررین

ایم ڈبلیو ایم کے وائس چیئرمین علامہ سید احمد اقبال رضوی نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے حکمران اسرائیل نارملائزیشن کی شیطانی چالوں سے باز رہیں، ریاست صرف فلسطین ہے دو ریاستی فارمولہ مسترد کرتے ہیں، امریکہ کا تسلط دنیا پر کمزور ہو چکا ہے، دنیا کی مزاحمت اور بیداری نے امریکی ہیبت کو توڑ دیا ہے، اس وقت دنیا میں تمام قومیں فلسطین کے ساتھ ہیں، جبکہ حکمران طبقہ اسرائیل کی پشت پر نظر آتا ہے، آزادی فلسطین قریب ہے اور غاصب اسرائیل نابود ہو کر رہے گا۔

ایم ڈبلیو ایم کے جنرل سیکرٹری سید ناصر عباس شیرازی نے کہا کہ یہاں موجود بچے فلسطین کے بچوں کے ساتھ کھڑے ہیں، ملت پاکستان مظلومین فلسطین کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گی، گریٹر اسرائیل کا منصوبہ خاک میں مل گیا ہے، انسانی حقوق کے علمبراد کہلانے والے درندوں سے بھی بدتر نکلے، امریکہ اور یورپ کا چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے۔

مزاحمت نے چاروں طرف سے غاصب اسرائیل کو گھیر لیا ہے، قابض ریاست جلد ختم ہونے والی ہے، مقررین

انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینوں پر سلام ہو جنہوں نے یورپ و امریکہ کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے آشکار کر دیا، ساٹھ دنوں کی جنگ نے ثابت کیا کہ مزاحمت مظبوط ہے، ان تمام بچوں، عورتوں اور مردوں کو سلام پیش کرتے ہیں جو فلسطینوں کے لئے یورپ و امریکہ میں نکلے، پاکستان میں اسرائیل کے حق میں بیانیہ بنانے والے نظریہ پاکستان کے مخالف ہیں۔

جنوبی پنجاب کے صوبائی صدر علامہ سید اقتدار حسین نقوی نے کہا کہ ہم اہل غزہ کے مظلومین کے ساتھ کھڑے ہیں، آج انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر بھی دنیا کے نام نہاد حقوق انسانی کے دعویداروں نے مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے، امریکہ اسرائیل کی درندگی کی کھل کر حمایت کر رہا ہے اور اس سلسلے میں عالم اسلام کا کردار مایوس کن ہے [6]۔

پاکستان میں حماس کے نمائندے کی علامہ راجہ ناصر جعفری سے ملاقات

اسلام آباد، پاکستان میں اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے نمائندہ ڈاکٹر ناجی ابو زہیر نے ایم ڈبلیو ایم کے چیرمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

حوزه نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں فلسطینی سیاسی مزاحمتی تحریک حماس کے نمائندہ و مرکزی شوریٰ کے رکن ڈاکٹر ناجی ابو زہیر نے چیئرمین مجلسِ وحدت مسلمین پاکستان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

ڈاکٹر ابو زہیر نے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی آزادی فلسطین مارچ، ریلیوں، اجتماعات، کانفرنسز اور دیگر سرگرمیوں کو فلسطینی عوام کی طرف سے سراہتے ہوئے کہا کہ آپ ہمارے بیانیہ کی جنگ لڑ رہے ہیں، ہمارے عزت اور کرامت کے پیغام کو آگے بڑھا رہے ہیں اور ہمارے شہداء کے مقدس لہو کے پیغام بر ہیں۔ آپ ہمارے وجود کا حصہ اور فلسطین کی تحریک آزادی کا جز ہیں۔

اس موقع پر چیئرمین مجلس وحدت مسلمین نے فلسطینی کاز اور تحریک سے اپنی دلی وابستگی کی بابت آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم خون کے آخری قطرے تک آزادی فلسطین کے مقدس کاز سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

اس موقع پر مرکزی جنرل سیکرٹری جناب ناصر شیرازی نے معزز مہمان کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ ہم سیاسی، مذہبی جماعتوں، تاجر تنظیموں، سماجی گروہوں اور انسانی حقوق کے اداروں سے مکمل رابطے میں ہیں تاکہ فلسطین کا مسئلہ امت کے ہر فرد تک پہنچ سکے۔

انہوں نے کہا کہ ہم تمام حکومتی عہدیداروں اور ذمہ داران تک قائد اعظم کا آزادی فلسطین کا بیانیہ پہنچائیں گے جس میں اسرائیل کے غیر قانونی وجود کو کبھی تسلیم نہ کرنا شامل ہے اور یوں نظریہ پاکستان سے منافی کوئی بیانیہ ترویج کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، فلسطینی وفد نے مجلس وحدت مسلمین کی قیادت اور کارکنوں کا ایک بار پھر شکریہ ادا کرتے ہوئے پاکستان کے غیور عوام کی فلسطین کے لئے تاریخی حمایت کو سرمایہ قرار دیا۔

ملاقات میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی جنرل سیکرٹری سید ناصر عباس شیرازی، صدر مجلسِ علمائے مکتب اہلبیت علیہم السّلام علامہ سید حسنین عباس گردیزی اور مرکزی رہنما ایم ڈبلیو ایم ملک اقرار حسین بھی موجود تھے، [7]۔

بھوک ہڑتال

راجہ ناصر اور مجلس وحدت مسلمین پارٹی کے کچھ ارکان نے جمعہ 24 مئی 2015 سے بھوک ہڑتال کی۔ راجہ ناصر کی ہڑتال پاراچنار میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں چار شیعوں کی شہادت اور تڈیرہ اسماعیل خان و کراچی میں شیعوں کے قتل کے خلاف احتجاج کے بعد شروع ہوئی۔ نیز، شیعہ زمینوں پر قبضے کے خلاف احتجاج ہڑتال کرنے والوں کے دوسرے محرکات میں سے ایک تھا۔ اس بھوک ہڑتال میں اہل سنت علماء نے بھی شرکت کی۔

مطالبات

ملک کے مختلف حصوں میں پاکستانی شیعوں کے قتل کو روکنے کے لیے مناسب کارروائی؛ شیعوں کے تمام قتل عام جیسے کہ شکار پور، جیکب آباد وغیرہ کے کیس کا فوجی عدالت میں رجوع؛ ریاست پنجاب میں شیعہ عزاداری اجتماعات سے پابندیاں ہٹانا؛ تکفیری اور فرقہ وارانہ گروہوں کی سرگرمیوں پر پابندی؛ شیعوں کے حالیہ قتل عام کے خلاف خیبرپختونخوا کی ریاستی حکومت کے موثر اقدامات؛ پولیس فورس کے ہاتھوں پاراچنار شیعوں کے حالیہ قتل کی تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل؛ گلگت اور بلتستان میں حکومت کی طرف سے شیعہ اراضی پر قبضے کو روکا جائے اور تمام حاصل شدہ جائیدادوں کو واگزار کیا جائے [8]۔

رد عمل

قم میں مقیم شیعوں کی مرجع تقلید ناصر مکارم شیرازی کے حکم اور عالمی سیکرٹری جنرل محمد حسن اختری کی درخواست پر 19 اگست 1395ء کو راجہ ناصر عباس جعفری نے چھیاسی دن کے بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی۔

بھوک ہڑتال پر عالمی ردعمل

راجہ ناصر عباس جعفری کی ہڑتال پر دنیا بھر میں ردعمل اور مظاہر: قم میں شیعہ مرجع تقلید ناصر مکارم شیرازی نے پاکستان میں بعض شیعوں کی بھوک ہڑتال کا حوالہ دیتے ہوئے ایک بیان جاری کیا، اس ملک میں شیعوں پر ہونے والے ظلم و ستم پر افسوس کا اظہار کیا اور حکومت پاکستان سے کہا کہ وہ ایسے کام کرنے سے باز رہے جس سے اتحاد کو خطرہ ہو۔ مسلمان، دور رہیں۔ آیت اللہ حسین نوری ہمدانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کے شیعوں پر ظلم ہوا ہے اور انہوں نے پاکستانی حکام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ان دردناک واقعات پر فوری ایکشن لیں جو پاکستان میں بھوک ہڑتال کر رہے ہیں۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے شہروں ہیوسٹن اور سیٹل، واشنگٹن میں مسلمانوں نے راجہ ناصر کی ہڑتال کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ اہل بیت(ع) کی عالمی مجلس عاملہ کی سپریم کونسل کے نائب صدر قربان علی دری نجف آبادی نے ایک بیان میں راجہ ناصر کی ہڑتال کی حمایت کرتے ہوئے پاکستان کو شیعہ زمینوں کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ راجہ ناصر عباس جعفری کی بھوک ہڑتال کے بعد، متحدہ اسلامی پارٹی نے ایک بیان جاری کیا جس میں پاکستان میں شیعوں کے خلاف ظلم اور امتیازی سلوک کے خلاف احتجاج کیا گیا۔

شہید قاسم سلیمانی نے خود کو ولی فقیہ کے اندر فنا کردیا تھا

علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ شہید سلیمانی نے خود کو ولی فقیہ کے اندر فنا کردیا تھا۔ انہوں نے مقاومت کو بہت طاقت دی۔ مچھلی دینے کے بجائے جال بنانا سکھادیا یہی وجہ ہے کہ آج غزہ میں مقاومت بہت طاقتور ہے۔ غزہ میں اسرائیل ہی نہیں بلکہ مغرب اور امریکہ سارے مل کر لڑرہے ہیں لیکن سارے ہار رہے ہیں۔

محاذ مقاومت کے عظیم کمانڈر شہید جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کو چار سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود ان کی کوششیں فلسطینی قوم اور اسلامی مزاحمت کے قائدین کے دلوں میں زندہ ہیں، شہید سلیمانی نے فلسطین کی اسلامی مزاحمت کو ہر طرح سے مسلح کرنے میں اہم کردارادا کیا اور بہت سے علاقائی ماہرین کا خیال ہے کہ طوفان الاقصیٰ آپریشن میں فلسطینیوں کی آج کی فتوحات شہید قاسم سلیمانی کے منصوبوں کی مرہون منت ہیں، اس مسئلے پر فلسطینی اسلامی مزاحمت کے رہنماؤں کے بیانات میں واضح طور پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

اس سلسلے میں مہر کے نامہ نگار نے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری سے گفتگو کی جو درج ذیل ہے۔ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے مہر نیوز سے گفتگو میں کہا کہ شہید قاسم سلیمانی رضوان اللہ علیہ رہبر معظم کی حکمت عملی کو خطے میں ان کی منشا اور آرزو کے مطابق عملی کرتے تھے۔ وہ ولی فقیہ زمان میں ذوب تھا اسی لئے مکتب سلیمانی کہا گیا۔ ولی فقیہ کے آرمانوں اور آرزوں کو عملی شکل دینے کے لئے وہ مکتب بن گئے۔ ولایت فقیہ کے نفوذ کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو ہٹاتے تھے۔ یمن، لاطینی امریکہ یعنی براعظموں کو عبور کیا۔ ولی فقیہ کے نظام کا فرماندہ تھا۔ وہ ولی فقیہ کا ہمطراز تھا۔ ولایت فقیہ اس کی روح میں تھی۔ ایک دفعہ ملنے کے بعد ان کو نہیں بھول سکتے ہیں۔ مجھے اللہ نے بہت دفعہ ان سے ملاقات کی توفیق دی جو کئی گھنٹوں پر مشتمل ہوتی تھی۔ وہ جذاب شخصیت کے مالک تھے۔ ملکوں کے کلچر اور روایات سے آگاہ تھے۔ مسلمانوں اور غیر مسلمانوں سے بات کرنا جانتے تھے۔ ولی فقیہ کے ساتھ مرتبط ہونے کی وجہ سے ان کے سامنے کوئی ابہام نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ شہید قاسم سلیمانی نے خود کو ولی فقیہ کے اندر فنا کردیا تھا۔ انہوں نے مقاومت کو بہت طاقت دی۔ مچھلی دینے کے بجائے جال بنانا سکھادیا۔ آج غزہ میں مقاومت بہت طاقتور ہے۔ غزہ میں اسرائیل ہی نہیں بلکہ مغرب اور امریکہ سارے مل کر لڑرہے ہیں لیکن سارے ہار رہے ہیں۔ شہید سلیمانی نے ان کو ٹریننگ دی، ڈرون بنانا اور ٹنل بنانا سکھادیا۔ خود غزہ جاتے تھے۔ جب حاج قاسم شہید ہوئے تو اسماعیل ہنیہ نے ان کے جنازے پر کہا تھا کہ وہ القدس کے راستے کے شہید ہیں۔ اور سید مقاومت سید حسن نصراللہ نے ان کو شہید طریق القدس کہا تھا۔ انہوں نے حزب اللہ کو طاقتور بنادیا۔ اسرائیل آج اس سے خوفزدہ ہے۔ عراق اور شام میں امریکہ نے اربوں ڈالر لگادئے لیکن شکست ہوگئی۔ شہید سلیمانی میدان جنگ میں اولین صف میں ہوتے تھے۔ امریکی جنرل کی طرح آرام دہ کمرے میں رہ کر کمانڈ نہیں کرتے تھے۔ اتنی ہیبت تھی کہ جب ان کا نام سنتے تھے تو بھاگ جاتے تھے۔ یمنیوں کو اتنا طاقتور بنادیا کہ بڑے دشمن اور کئی ملکوں کے اتحاد کے سامنے پابرہنہ کھڑے ہوکر شکست دی آج اتنے طاقتور ہیں کہ یمن سے اسرائیل کو مارتے ہیں۔ سمندر کو اسرائیل کے لئے ناامن کردیا۔ حاج قاسم نے مقاومت کے سلسلے کو آپس میں جوڑا ہے۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ نے مزید کہا کہ حاج قاسم واقعا ایک عظیم انسان تھے۔ افغانستان ہو یا دیگر ممالک ان کو تحریک کو منظم کرنے کا فن آتا تھا۔ ایک دفعہ مل جائے تو سارا دن ساتھ بیٹھنے کا دل کرتا تھا۔ بہت جذاب شخص تھے۔ اب الحمداللہ ان کے جانشین جنرل اسماعیل قاآنی بھی ان کی طرح ہیں۔ آج جو کچھ ہورہا ہے اس کی کمانڈ وہی کررہے ہیں۔ بہت خاشع و خاضع انسان ہیں۔ اتنے سال حاج قاسم کے ماتحت رہ کر کام کیا۔ مجھے امید ہے کہ وہ ان کو آگے بڑھائیں گے۔ ایک دن آئے گا کہ ہم اسرائیل کا خاتمہ اور امریکہ کو ٹوٹتا دیکھیں گے۔ ہمیں یقین کرنا ہوگا کہ رہبر معظم نے جو کہا وہ ہوکر رہے گا۔ دنیا پر نیا نظام رائج ہوگا۔ امریکہ اور اسرائیل کا خاتمہ ہوکر رہے گا۔ ان کی حالت سوویت یونین سے بھی بدتر ہوگی [9]۔

حوالہ جات

  1. عالمی طاقتوں کی غلامی سے انکار پر عمران خان کے اتحادی رہینگے، islamtimes.org
  2. پوری قوم خودمختار پاکستان کے بیانیہ کی عملی شکل کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، hawzahnews.com
  3. گلگت بلتستان کی عوام کے مطالبات کو فوری منظور کیا جائے، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، hawzahnews.com
  4. ایران اور پاکستان کا ماضی دوستی اور بھائی چارے کے لازوال رشتے سے عبارت ہے، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، hawzahnews.com
  5. امریکہ، اسرائیل و ملک دشمن قوتوں سے گٹھ جوڑ خطرے کی گھنٹی ہے، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، hawzahnews.com
  6. مزاحمت نے چاروں طرف سے غاصب اسرائیل کو گھیر لیا ہے، قابض ریاست جلد ختم ہونے والی ہے، مقررین، hawzahnews.com
  7. hawzahnews.com
  8. اعتصاب غذای حجت الاسلام ناصر عباس جعفری وارد چهارمین روز شد، mehrnews.com
  9. شہید قاسم سلیمانی نے خود کو ولی فقیہ کے اندر فنا کردیا تھا، mehrnews.com