"لیاقت بلوچ" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 42: سطر 42:
ان کا ماننا ہے کہ عالم اسلام کو اقتصادی جہت سمیت کئی شعبوں میں عملی حل کی ضرورت ہے جس کا آغاز پاکستان نے کوالالمپور کانفرنس میں کیا تھا لیکن بدقسمتی سے پاکستان کے حکمرانوں نے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی جو کہ ایک غلط اقدام تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پاکستان کو اس کی تلافی کے لیے اس میدان میں ایک کانفرنس منعقد کرنا چاہیے۔
ان کا ماننا ہے کہ عالم اسلام کو اقتصادی جہت سمیت کئی شعبوں میں عملی حل کی ضرورت ہے جس کا آغاز پاکستان نے کوالالمپور کانفرنس میں کیا تھا لیکن بدقسمتی سے پاکستان کے حکمرانوں نے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی جو کہ ایک غلط اقدام تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پاکستان کو اس کی تلافی کے لیے اس میدان میں ایک کانفرنس منعقد کرنا چاہیے۔


پاکستان منصورہ سے جاری بیان کے مطابق [[جماعت اسلامی پاکستان|جماعت اسلامی]] کے نائب امیر نے کہا کہ پاکستان، [[ایران]]، سعودی عرب اور [[افغانستان]] متحد ہوکر مقبوضہ [[فلسطین]] کی آزادی کیلئے جوہری کردار ادا کرسکتے ہیں، اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سکیورٹی کونسل کی قراردادوں اور اقدامات کا کوئی نتیجہ نہیں۔
حوزہ نیوز کے رپورٹ کے مطابق نائب امیر جماعتِ اسلامی، مجلسِ قائمہ سیاسی قومی امور کے صدر لیاقت بلوچ نے اسلام آباد میں ایرانی صدر کے اعزاز میں ایرانی سفیر کے استقبالیہ میں شرکت کی۔ لاہور میں ایرانی قونصل جنرل سے ملاقات کی اور قم (ایران) سے آقائے سلمان نقوی کی سربراہی میں پاکستان آئے وفد سے ملاقات کی۔
لیاقت بلوچ نے اسلامی جمہوریہ ایران کے [[غزہ|غزہ فلسطین]] پر جرات مندانہ موقف اور اقدام کی تحسین کی اور اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر ابراہیم رئیسی کے دورہ پاکستان کا خیرمقدم کرتے ہوئے اِسے تاریخ ساز قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان، ایران، سعودی عرب اور افغانستان متحد ہوکر مقبوضہ فلسطین کی آزادی کے لیے جوہری کردار ادا کرسکتے ہیں۔
انہوں نے  نے میڈیا انٹرویو میں کہا کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سکیورٹی کونسل کی قراردادوں اور اقدامات کا کوئی نتیجہ نہیں۔ [[اسرائیل]] کے ہر جبر، ظلم اور انسانی قتلِ عام کی امریکہ، برطانیہ اور بعض دیگر ممالک کھل کر حمایت کر رہے ہیں۔ امریکہ نے اقوامِ متحدہ میں فلسطین کی مستقل رکنیت کی قرارداد ویٹو کرکے انسانیت سوز جرائم میں اسرائیل کی سرپرستی پر ایک بار پھر مہرِ تصدیق ثبت کردی ہے اور اقوامِ متحدہ کو عملاً مفلوج اور اپنے مفادات کا غلام ادارہ ثابت کیا ہے۔
عالمی برادری کو فلسطینیوں کی نسل کشی پر مبنی اقدامات روکنے پر آمادہ کرنے کے لیے [[اسلام|عالمِ اسلام]] کی قیادت کو بے حسی، بزدلی اور مفادات کی غلامی ترک کرکے دوٹوک اور جراتمندانہ کردار ادا کرنا ہوگا، وگرنہ اسلامی دنیا کی مفاداتی، بزدلی پر مبنی خاموشی اور مصلحت آمیزی عالمِ اسلام کے لیے مزید مشکلات اور بحرانوں کا سبب بن جائے کی <ref>[https://ur.hawzahnews.com/news/398413/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D8%A7%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86-%D8%B3%D8%B9%D9%88%D8%AF%DB%8C-%D8%B9%D8%B1%D8%A8-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A7%D9%81%D8%BA%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D9%85%D8%AA%D8%AD%D8%AF-%DB%81%D9%88%DA%A9%D8%B1-%D9%85%D9%82%D8%A8%D9%88%D8%B6%DB%81-%D9%81%D9%84%D8%B3%D8%B7%DB%8C%D9%86 پاکستان، ایران، سعودی عرب اور افغانستان متحد ہوکر مقبوضہ فلسطین کی آزادی کے لیے جوہری کردار ادا کرسکتے ہیں] -ur.hawzahnews.com-شائع شدہ از:25اپریل 2024ء-اخذ شدہ بہ تاریخ:3مئی 2024ء۔</ref>۔
== حوالہ جات ==
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات}}
{{حوالہ جات}}

نسخہ بمطابق 15:18، 3 مئی 2024ء

لیاقت بلوچ
لیاقت بلوچ.jpg
پورا ناملیاقت بلوچ
ذاتی معلومات
پیدائش1952 ء، 1330 ش، 1370 ق
یوم پیدائش9 دسمبر
پیدائش کی جگہپنجاب، پاکستان
مذہباسلام، سنی
مناصبجماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی جنرل سیکریٹری

لیاقت بلوچ پاکستان کے سیاست دان اور جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی عہدہ دار ہیں۔

سوانح عمری

لیاقت بلوچ 9 دسمبر 1952ء کو پیدا ہوئے۔ انھوں نے ایل ایل بی اور ایم اے (ابلاغ عامہ) کی ڈگری جامعہ پنجاب سے حاصل کی ۔ وہ زمانہ طالب علمی سے ہی سیاست میں داخل ہو گئے۔ [1]

سیاسی سرگرمیان

1977ء میں اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے مرکزی صدر منتخب ہوئے۔ 1985ء، 1990ء اور 2002ء میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ لیاقت بلوچ اس وقت جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی جنرل سیکریٹری ہیں اور لاہور میں رہائش پزیر ہیں۔

ایران، افغانستان، پاکستان کے درمیان اتحادپر گفتگو

ایران 2018 میں، انسٹی ٹیوٹ آف سنٹرل ایشیا اینڈ افغانستان اسٹڈیز نے پاکستان کی چند اہم مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں اور سینئر اراکین کے ایک وفد کی میزبانی کی۔

جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر مولانا لیاقت بلوچ, جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سیکرٹری جنرل علامہ مقصود احمد سلفی، جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سینئر رکن مولانا طاہر حبیب , پاکستان شیعہ علماء کونسل کے جنرل سیکرٹری حجۃ الاسلام عارف حسین وحیدی محقق، مصنف اور البصیرہ انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ اور قومی یکجہتی کونسل کے نیشنل ایگزیکٹو سیکرٹری سید ثاقب اکبر نقوی، جمعیت علمائے پاکستان کے سیکرٹری جنرل پیر سید محمد صفدر شاہ گیلانی ، پیر سید ہارون علی گیلانیکی زیر قیادت جمعیت ہدیۃ الہدیٰ کےسینئر رکن رضیت بالله اور مجلس وحدت مسلمین کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل ناصر شیرازی پر مشتمل جو وفد شہید قاسم سلیمانی کی شہادت کے موقع پر ایرانی عوام سے اظہار ہمدردی کے لیے ایران آیا۔ اسے اداہ ایران شرقی کی جانب سے ایک اجلاس میں شرکت کی دعوت دی، جہاں لیاقت بلوچ نے پاکستان اور خطے میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینے پر اتفاق کیا۔ اس ملاقات میں قومی یکجہتی کونسل آف پاکستان کے اراکین نے سردار سلیمانی کی شہادت کے موقع پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے خطے اور پاکستان میں ہونے والی پیش رفت پر اپنے خیالات کا اظہار کیا [2]

ایران کے لیے اتحاد کا پیغام

لیاقت بلوچ 2.JPG

اس وفد کے سربراہ کی حیثیت سے انہوں نے کہا کہ اس وقت جب کہ امریکہ نے اسلامی جمہوریہ اور عالم اسلام کو شیطانی حملوں کا نشانہ بنایا ہے، اس وفد نے اسلامی اتحاد کا پیغام دینے کے لیے ایران کا سفر کیا ہے۔ جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت پر تعزیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسے حملے قوموں کو مزید زندہ کرتے ہیں۔

ان کے مطابق ایک طویل عرصے سے یہ خطہ ایک ایسی سرزمین بن چکا ہے جہاں دنیا کے نوآبادکار اداکار بن چکے ہیں۔ پہلے برطانیہ اور پھر سوویت یونین نے افغانستان پر تسلط جمانے کی کوشش کی جو دونوں ناکام رہے اور اب امریکہ خطے میں داخل ہو کر ہزاروں افغانوں کو ہلاک کر چکا ہے۔ لیکن اب اس کے پاس مذاکرات کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ لگتا ہے امریکہ کی شکست کا وقت آگیا ہے۔

اگرچہ ہم پوری اسلامی دنیا کا اتحاد چاہتے ہیں لیکن اس خطے میں افغانستان، ایران اور پاکستان کے درمیان اسٹریٹجک اتحاد بہت ضروری ہے، جو دشمن کی سازش کو ناکام بنا سکتا ہے اور اس کے لیے ان ممالک کے سربراہان کو انتظامات کرنے کی ضرورت ہے.

ہم پاکستان میں اسلامی جمہوری نظام کا قیام چاہتے ہیں لیکن حکام اس معاملے پر عمل نہیں کرتے اور یہی وجہ ہے کہ یہ عوام کی حمایت سے محروم ہے اور یہ ملک اپنا انقلابی کردار ادا نہیں کر سکتا۔

کشمیر کے مسلمان عوام پر ہندوستان کے تسلط کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، انہوں نے کشمیر کے بارے میں عالم اسلام کے ٹھوس موقف کے فقدان پر افسوس کا اظہار کیا اور کشمیر کے بارے میں اسلامی جمہوریہ کے اصولی موقف پر شکریہ ادا کیا۔

ان کا ماننا ہے کہ عالم اسلام کو اقتصادی جہت سمیت کئی شعبوں میں عملی حل کی ضرورت ہے جس کا آغاز پاکستان نے کوالالمپور کانفرنس میں کیا تھا لیکن بدقسمتی سے پاکستان کے حکمرانوں نے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی جو کہ ایک غلط اقدام تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پاکستان کو اس کی تلافی کے لیے اس میدان میں ایک کانفرنس منعقد کرنا چاہیے۔

پاکستان منصورہ سے جاری بیان کے مطابق جماعت اسلامی کے نائب امیر نے کہا کہ پاکستان، ایران، سعودی عرب اور افغانستان متحد ہوکر مقبوضہ فلسطین کی آزادی کیلئے جوہری کردار ادا کرسکتے ہیں، اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سکیورٹی کونسل کی قراردادوں اور اقدامات کا کوئی نتیجہ نہیں۔

حوزہ نیوز کے رپورٹ کے مطابق نائب امیر جماعتِ اسلامی، مجلسِ قائمہ سیاسی قومی امور کے صدر لیاقت بلوچ نے اسلام آباد میں ایرانی صدر کے اعزاز میں ایرانی سفیر کے استقبالیہ میں شرکت کی۔ لاہور میں ایرانی قونصل جنرل سے ملاقات کی اور قم (ایران) سے آقائے سلمان نقوی کی سربراہی میں پاکستان آئے وفد سے ملاقات کی۔

لیاقت بلوچ نے اسلامی جمہوریہ ایران کے غزہ فلسطین پر جرات مندانہ موقف اور اقدام کی تحسین کی اور اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر ابراہیم رئیسی کے دورہ پاکستان کا خیرمقدم کرتے ہوئے اِسے تاریخ ساز قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان، ایران، سعودی عرب اور افغانستان متحد ہوکر مقبوضہ فلسطین کی آزادی کے لیے جوہری کردار ادا کرسکتے ہیں۔

انہوں نے نے میڈیا انٹرویو میں کہا کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سکیورٹی کونسل کی قراردادوں اور اقدامات کا کوئی نتیجہ نہیں۔ اسرائیل کے ہر جبر، ظلم اور انسانی قتلِ عام کی امریکہ، برطانیہ اور بعض دیگر ممالک کھل کر حمایت کر رہے ہیں۔ امریکہ نے اقوامِ متحدہ میں فلسطین کی مستقل رکنیت کی قرارداد ویٹو کرکے انسانیت سوز جرائم میں اسرائیل کی سرپرستی پر ایک بار پھر مہرِ تصدیق ثبت کردی ہے اور اقوامِ متحدہ کو عملاً مفلوج اور اپنے مفادات کا غلام ادارہ ثابت کیا ہے۔

عالمی برادری کو فلسطینیوں کی نسل کشی پر مبنی اقدامات روکنے پر آمادہ کرنے کے لیے عالمِ اسلام کی قیادت کو بے حسی، بزدلی اور مفادات کی غلامی ترک کرکے دوٹوک اور جراتمندانہ کردار ادا کرنا ہوگا، وگرنہ اسلامی دنیا کی مفاداتی، بزدلی پر مبنی خاموشی اور مصلحت آمیزی عالمِ اسلام کے لیے مزید مشکلات اور بحرانوں کا سبب بن جائے کی [3]۔

حوالہ جات