"نصریه (غلات)" کے نسخوں کے درمیان فرق
Halimi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) م Saeedi نے صفحہ مسودہ:نصریه (غلات) کو نصریه (غلات) کی جانب منتقل کیا |
||
| (2 صارفین 8 کے درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے) | |||
| سطر 12: | سطر 12: | ||
| نظریہ = | | نظریہ = | ||
}} | }} | ||
'''نصیریہ'''، یا نصریت تیسری صدی ہجری قمری حضرت امام [[حسن بن علی بن محمد|حسن عسکری (علیہ السلام)]] کے دور میں پهر [[غیبت صغری]] کے دوران [[عراق]] میں وجود میں آئیں۔ محمد بن نصیر نمیری، جس نے اس فرقے کی بنیاد رکھی، ان لوگوں میں سے تھا جو امامین عسکریین (علیہما السلام) کے ساتھیوں کے حلقے میں اپنی حیثیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، “بابیت” (درِ امامت کا دعویٰ) اور دیگر مبالغہ آمیز دعوؤں کے ذریعے ایک جماعت کو اپنے گرد جمع کرنے میں کامیاب ہوا۔ ان کے نصف صدی بعد، حسین بن حمدان خصیبی، نصیریہ کا نمایاں چہرہ اور دوسرا بانی تھا، جس نے اسلامی دنیا کے دور دراز علاقوں میں سفر کر کے وسیع تعلیمات اور بھرپور تبلیغات کے ذریعے، نصیری تعلیمات کو [[تصوف]] کے اصولوں کے ساتھ ملا دیا۔ آخر کار، حلب میں حمدانی حکمرانوں اور خاص طور پر سیف الدولہ کے تحت ثقافتی تسامح والے ماحول میں، [[شام (شامات)|شام]] کے شمال میں ہجرت کر کے سوریہ میں اپنے وجود کے لیے مضبوط بنیادیں قائم کیں۔ | |||
==عقائد== | ==عقائد== | ||
زیادہ تر فرقوں اور مذاہب پر شائع ہونے والی کتابوں میں، نصیریہ کو غلات (جو فریقِ غلو سے ہیں) مذهب شیعه گروہ کے طور پر شمار کیا گیا ہے، جو ائمه اطهار خصوصاً [[علی بن ابی طالب | زیادہ تر فرقوں اور مذاہب پر شائع ہونے والی کتابوں میں، نصیریہ کو غلات (جو فریقِ غلو سے ہیں) مذهب شیعه گروہ کے طور پر شمار کیا گیا ہے، جو ائمه اطهار خصوصاً [[علی ابن ابی طالب|علی بن ابی طالب]]مولی الموحّدین کی الوہیت پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کے نام “نصیریہ” ہونے کی وجہ کے بیان میں، محمد بن نصیر نمیری کو اس نامگذاری کا سبب قرار دیا گیا ہے<ref>مصطفی خالقداد ہاشمی عباسی، ‘‘توضیح الملل، ترجمہ ملل و نحل شهرستانی’’، صفحہ 251محمدجواد مشکور، ‘‘فرهنگ فرق اسلامی’’، انتشارات آستان قدس رضوی، سال 1372 شمسی، دوسرا ایڈیشن، صفحہ 444عبدالرحمن بدوی، ‘‘مذاهب الاسلامیین’’، جلد 2، صفحہ 65۔</ref>. یا عبدالرحمن بدوی کے قول کے مطابق، بعض لوگ انہیں نصیر سے منسوب کرتے ہیں، جوحضرت علی (علیہ السلام) کے غلام تھے<ref>همان، ‘‘تاریخ اندیشههای کلامی در اسلام’’، ترجمہ حسین صابری، مشهد، انتشارات آستان قدس رضوی، صفحہ 395۔</ref>. | ||
== اس فرقے کو نصریه کیون کها گیا== | == اس فرقے کو نصریه کیون کها گیا== | ||
ہاشم عثمان، سوری علوی عالم، اوپر ذکر کردہ باتوں کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں: اس فرقے کے اصل کے بارے میں تین اقوال بیان کیے گئے ہیں: | ہاشم عثمان، سوری علوی عالم، اوپر ذکر کردہ باتوں کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں: اس فرقے کے اصل کے بارے میں تین اقوال بیان کیے گئے ہیں: | ||
یہ فرقہ محمد بن نصیر نمیری سے منسوب ہے، لیکن یہ قول غلط ہے؛ کیونکہ محمد بن نصیر سن 359 ہجری قمری (چوتھی صدی) میں فوت ہوئے، جبکہ اصطلاح “نصیریہ” 200 سال بعد، یعنی چھٹی صدی ہجری قمری کے آخر میں ظاہر ہوئی۔ | یہ فرقہ محمد بن نصیر نمیری سے منسوب ہے، لیکن یہ قول غلط ہے؛ کیونکہ محمد بن نصیر سن 359 ہجری قمری (چوتھی صدی) میں فوت ہوئے، جبکہ اصطلاح “نصیریہ” 200 سال بعد، یعنی چھٹی صدی ہجری قمری کے آخر میں ظاہر ہوئی۔ | ||
ان کے پیروکاروں کو “نمیریہ” کہا جاتا ہے، نہ کہ “نصیریہ”، جو | ان کے پیروکاروں کو “نمیریہ” کہا جاتا ہے، نہ کہ “نصیریہ”، جو عحضرت علی (علیہ السلام) کے غلام “نمیر” سے منسوب ہے، لیکن یہ قول بھی درست نہیں ہے، کیونکہ امیرالمؤمنینؑ کے نام پر کوئی غلام “نمیر” نہیں تھا۔ | ||
تیسرا نقطہ نظر یہ ہے کہ قرائن کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ نصیریہ “النصیریہ” (Nasarie) نامی پہاڑ سے منسوب ہیں، جہاں لوگ خاص عقائد کے ساتھ رہتے تھے اور تاریخی طور پر یہ فرقہ سن 488 ہجری قمری کے بعد موجود رہا ہے<ref>ہاشم عثمانی، ‘‘العلویون بین الاسطورة و الحقیقة’’، بیروت، موسسة الاعلمی للمطبوعات، صفحہ 30، 31، 32۔</ref>. | تیسرا نقطہ نظر یہ ہے کہ قرائن کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ نصیریہ “النصیریہ” (Nasarie) نامی پہاڑ سے منسوب ہیں، جہاں لوگ خاص عقائد کے ساتھ رہتے تھے اور تاریخی طور پر یہ فرقہ سن 488 ہجری قمری کے بعد موجود رہا ہے<ref>ہاشم عثمانی، ‘‘العلویون بین الاسطورة و الحقیقة’’، بیروت، موسسة الاعلمی للمطبوعات، صفحہ 30، 31، 32۔</ref>. | ||
==علوی نصریه نهین== | ==علوی نصریه نهین== | ||
موجودہ دور کے علوی علماء(جو سوریه ولبنان اور ترکیه مین مقیم هین) کی کتب سے جو معلومات ملتی ہیں، ان کے تمام عقائد [[شیعہ|اثنی عشری شیعہ]] کے عقائد سے مماثل ہیں۔ شیخ عزیز ابراهیم علوی لکھتے ہیں: "علوی درحقیقت امامیہ اثنی عشری شیعہ ہی ہیں۔ وہ فرض عبادات کو ادا کرتے ہیں؛ [[نماز]]، [[روزہ]] اور [[حج]] کو ایمان اور [[اسلام]] کی پابندی میں، جیسا کہ مناسب ہے اور خداوند نے [[قرآن]] میں حکم دیا ہے اور پاکیزہ سنت میں، جو [[محمد | موجودہ دور کے علوی علماء(جو سوریه ولبنان اور ترکیه مین مقیم هین) کی کتب سے جو معلومات ملتی ہیں، ان کے تمام عقائد [[شیعہ|اثنی عشری شیعہ]] کے عقائد سے مماثل ہیں۔ شیخ عزیز ابراهیم علوی لکھتے ہیں: "علوی درحقیقت امامیہ اثنی عشری شیعہ ہی ہیں۔ وہ فرض عبادات کو ادا کرتے ہیں؛ [[نماز]]، [[روزہ]] اور [[حج]] کو ایمان اور [[اسلام]] کی پابندی میں، جیسا کہ مناسب ہے اور خداوند نے [[قرآن]] میں حکم دیا ہے اور پاکیزہ سنت میں، جو [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم]] اور ائمه اطهار(ع)|ائمہ طہور علیہم السلام سے ثابت ہوئی ہے، جن میں سب سے پہلے علی ابن ابی طالب|امام علی بن ابی طالب (علیہ السلام) اور سب سے آخر میں حجت بن الحسن (مهدی)|محمد بن الحسن الحجة المہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) شامل ہیں۔ یہ احکام بغیر کسی تحریف، تبدیلی یا تبدیل کے قائم اور انجام پاتے ہیں۔ اگرچہ ہم بعض غلو آمیز شطحات (بالغیانہ اقوال) کا انکار نہیں کرتے، لیکن اس کی وجہ صدیوں تک غاروں اور پہاڑوں میں تنہائی، مدارس، علم و علماء، [[فقه]] اور حدیث نبوی سے دوری رہی ہے، خاص طور پر بادشاہوں اور عثمانی ترکوں کے ظلم کی وجہ سے۔ اس کے علاوہ، بعض مشایخ کے احکام کی بنا پر رازداری اور پوشیدگی کا عمل بھی اس میں شامل ہےعلی عزیز ابراهیم علوی، ‘‘العلویون بین الغلو و الفسلفة و التصوف و الشیعة’’، بیروت، انتشارات موسسة الاعلمی للمطبوعات، صفحہ 61۔ | ||
آیت اللہ جعفر سبحانی نے لکھا ہے: “علویوں کا کوئی خاص مذہب نہیں ہے جسے اہل بیتؑ کے مذہب سے ممتاز سمجھا جا سکے، بلکہ وہ امامیہ اور اثنی عشری شیعہ ہیں جن کے مذہبی اعمال اہل بیتؑ کے مذہب کے مطابق ہیں، اور وہ ہمیشہ شرعی معاملات اور دینی احکام میں انہی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ وہ صرف دو مسائل میں قدرے مختلف ہوتے ہیں۔” | آیت اللہ جعفر سبحانی نے لکھا ہے: “علویوں کا کوئی خاص مذہب نہیں ہے جسے اہل بیتؑ کے مذہب سے ممتاز سمجھا جا سکے، بلکہ وہ امامیہ اور اثنی عشری شیعہ ہیں جن کے مذہبی اعمال اہل بیتؑ کے مذہب کے مطابق ہیں، اور وہ ہمیشہ شرعی معاملات اور دینی احکام میں انہی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ وہ صرف دو مسائل میں قدرے مختلف ہوتے ہیں۔” | ||
| سطر 69: | سطر 68: | ||
اولاً: جن لوگوں کا ایک ہی عقیدہ، ایک ہی دین اور ایک ہی مذہب ہے، وہ سب اسی دین کے احزاب (گروہوں) سے تعلق رکھتے ہیں۔ ثانیاً: جن لوگوں کا پیروکار ایک ہی دین اور مذہب ہے، ان کو حق نہیں ہے کہ وہ بکھر جائیں یا گروہ بن جائیں۔ کیونکہ کسی جماعت اور مذہب و مسلک کے پیروکاروں کی کامیابی کی شرط مضبوط ایمان، تقویٰ، نیک عمل اور سب سے اہم بات اتحاد اور ہم آہنگی ہے<ref>ناصر مکارم شیرازی، ‘‘تفسیر نمونه’’، تهران، انتشارات دارالكتب الاسلامیة، جلد 4، صفحہ 433-434 (آیت 56/ مائدہ کے تحت)</ref>۔ لہذا، اتحاد نہ ہونا اور قبائلی طرز عمل شکست اور تباہی کا باعث بنتا ہے۔ | اولاً: جن لوگوں کا ایک ہی عقیدہ، ایک ہی دین اور ایک ہی مذہب ہے، وہ سب اسی دین کے احزاب (گروہوں) سے تعلق رکھتے ہیں۔ ثانیاً: جن لوگوں کا پیروکار ایک ہی دین اور مذہب ہے، ان کو حق نہیں ہے کہ وہ بکھر جائیں یا گروہ بن جائیں۔ کیونکہ کسی جماعت اور مذہب و مسلک کے پیروکاروں کی کامیابی کی شرط مضبوط ایمان، تقویٰ، نیک عمل اور سب سے اہم بات اتحاد اور ہم آہنگی ہے<ref>ناصر مکارم شیرازی، ‘‘تفسیر نمونه’’، تهران، انتشارات دارالكتب الاسلامیة، جلد 4، صفحہ 433-434 (آیت 56/ مائدہ کے تحت)</ref>۔ لہذا، اتحاد نہ ہونا اور قبائلی طرز عمل شکست اور تباہی کا باعث بنتا ہے۔ | ||
===عورتوں کو | ===عورتوں کو ارث سے محروم کرنا=== | ||
عورتوں کو | عورتوں کو ارث سے محروم کرنا اور شادی شدہ خاتون کے مهر کو اس کے ولی کا حق ماننا جبکه خداوند کریم اپنے آسمانی کتاب میں فرماتا ہے: ‘’‘{{متن قرآن|يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ ’‘’<ref>سوره=نساء|آیه=11</ref>.یعنی: “اللہ تمہیں تمہارے بچوں کے بارے میں یہ وصیت فرماتا ہے کہ لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہوگا۔”نتیجتاً، ہم دیکھتے ہیں کہ خداوند متعال نے عورتوں کو ارث سے محروم نہیں کیا ہے۔ | ||
===عام لوگ کا ان کے شیوخ کے ہاتھون بوسه لینا=== | ===عام لوگ کا ان کے شیوخ کے ہاتھون بوسه لینا=== | ||
| سطر 88: | سطر 87: | ||
نتیجہ یہ ہے کہ اگرچہ نصیریہ (شیعہ اثنی عشری) پر بعض رسوم و رواج پر تنقیدات وارد ہیں، لیکن ان کے عقائد اور احکام جعفری مذہب کے مطابق ہیں اور وہ دیگر شیعوں کی طرح ہیں۔ | نتیجہ یہ ہے کہ اگرچہ نصیریہ (شیعہ اثنی عشری) پر بعض رسوم و رواج پر تنقیدات وارد ہیں، لیکن ان کے عقائد اور احکام جعفری مذہب کے مطابق ہیں اور وہ دیگر شیعوں کی طرح ہیں۔ | ||
لیکن غالی نصیریہ اسلام اور جعفری مذہب سے خارج ہیں، اور ہم ائمہ اطہارؑ کی پیروی میں ان سے بیزاری اختیار کرتے ہیں. | لیکن غالی نصیریہ اسلام اور جعفری مذہب سے خارج ہیں، اور ہم ائمہ اطہارؑ کی پیروی میں ان سے بیزاری اختیار کرتے ہیں. | ||
== متعلقہ مضامین == | == متعلقہ مضامین == | ||
* [[ سوریه]] | * [[ سوریه]] | ||
* [[تصوف|تصوف]] | * [[تصوف|تصوف]] | ||
* [[ شیعه | * [[شیعہ|شیعه]] | ||
== حوالہ جات == | |||
==حوالہ جات== | {{حوالہ جات}} | ||
{{ | |||
== ماخذ == | == ماخذ == | ||
| سطر 107: | سطر 103: | ||
# سید جلال الدین محدث، شرح فارسی غُرر و دُرر ابوالفتح آمدی، دانشگاه تهران، سال 1373 شمسی، مواد درج کرنے کی تاریخ: بغیر تاریخ، مواد ملاحظہ کرنے کی تاریخ: 26 ذی قعدہ 1404 شمسی. | # سید جلال الدین محدث، شرح فارسی غُرر و دُرر ابوالفتح آمدی، دانشگاه تهران، سال 1373 شمسی، مواد درج کرنے کی تاریخ: بغیر تاریخ، مواد ملاحظہ کرنے کی تاریخ: 26 ذی قعدہ 1404 شمسی. | ||
# عثمان ہاشم ‘‘هل العلویون شیعة’’، بیروت، انتشارات مؤسسة الاعلمی للمطبوعات، سال 1414 ہجری قمری، پہلا ایڈیشن، مواد درج کرنے کی تاریخ: بغیر تاریخ، مواد ملاحظہ کرنے کی تاریخ: 26 ذی قعدہ 1404 شمسی. | # عثمان ہاشم ‘‘هل العلویون شیعة’’، بیروت، انتشارات مؤسسة الاعلمی للمطبوعات، سال 1414 ہجری قمری، پہلا ایڈیشن، مواد درج کرنے کی تاریخ: بغیر تاریخ، مواد ملاحظہ کرنے کی تاریخ: 26 ذی قعدہ 1404 شمسی. | ||
{{مذاہب اور فرقے}} | |||
[[زمرہ:مذاہب اور فرقے]] | |||
[[fa:شیعه]] | |||
حالیہ نسخہ بمطابق 23:21، 11 ستمبر 2026ء
| نصیریہ(غلات) | |
|---|---|
| نام | نصیریہ(غلات) |
| عام نام | نصیریہ(غلات) |
| بانی | محمد بن نصیر نمیری |
نصیریہ، یا نصریت تیسری صدی ہجری قمری حضرت امام حسن عسکری (علیہ السلام) کے دور میں پهر غیبت صغری کے دوران عراق میں وجود میں آئیں۔ محمد بن نصیر نمیری، جس نے اس فرقے کی بنیاد رکھی، ان لوگوں میں سے تھا جو امامین عسکریین (علیہما السلام) کے ساتھیوں کے حلقے میں اپنی حیثیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، “بابیت” (درِ امامت کا دعویٰ) اور دیگر مبالغہ آمیز دعوؤں کے ذریعے ایک جماعت کو اپنے گرد جمع کرنے میں کامیاب ہوا۔ ان کے نصف صدی بعد، حسین بن حمدان خصیبی، نصیریہ کا نمایاں چہرہ اور دوسرا بانی تھا، جس نے اسلامی دنیا کے دور دراز علاقوں میں سفر کر کے وسیع تعلیمات اور بھرپور تبلیغات کے ذریعے، نصیری تعلیمات کو تصوف کے اصولوں کے ساتھ ملا دیا۔ آخر کار، حلب میں حمدانی حکمرانوں اور خاص طور پر سیف الدولہ کے تحت ثقافتی تسامح والے ماحول میں، شام کے شمال میں ہجرت کر کے سوریہ میں اپنے وجود کے لیے مضبوط بنیادیں قائم کیں۔
عقائد
زیادہ تر فرقوں اور مذاہب پر شائع ہونے والی کتابوں میں، نصیریہ کو غلات (جو فریقِ غلو سے ہیں) مذهب شیعه گروہ کے طور پر شمار کیا گیا ہے، جو ائمه اطهار خصوصاً علی بن ابی طالبمولی الموحّدین کی الوہیت پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کے نام “نصیریہ” ہونے کی وجہ کے بیان میں، محمد بن نصیر نمیری کو اس نامگذاری کا سبب قرار دیا گیا ہے[1]. یا عبدالرحمن بدوی کے قول کے مطابق، بعض لوگ انہیں نصیر سے منسوب کرتے ہیں، جوحضرت علی (علیہ السلام) کے غلام تھے[2].
اس فرقے کو نصریه کیون کها گیا
ہاشم عثمان، سوری علوی عالم، اوپر ذکر کردہ باتوں کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں: اس فرقے کے اصل کے بارے میں تین اقوال بیان کیے گئے ہیں: یہ فرقہ محمد بن نصیر نمیری سے منسوب ہے، لیکن یہ قول غلط ہے؛ کیونکہ محمد بن نصیر سن 359 ہجری قمری (چوتھی صدی) میں فوت ہوئے، جبکہ اصطلاح “نصیریہ” 200 سال بعد، یعنی چھٹی صدی ہجری قمری کے آخر میں ظاہر ہوئی۔ ان کے پیروکاروں کو “نمیریہ” کہا جاتا ہے، نہ کہ “نصیریہ”، جو عحضرت علی (علیہ السلام) کے غلام “نمیر” سے منسوب ہے، لیکن یہ قول بھی درست نہیں ہے، کیونکہ امیرالمؤمنینؑ کے نام پر کوئی غلام “نمیر” نہیں تھا۔ تیسرا نقطہ نظر یہ ہے کہ قرائن کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ نصیریہ “النصیریہ” (Nasarie) نامی پہاڑ سے منسوب ہیں، جہاں لوگ خاص عقائد کے ساتھ رہتے تھے اور تاریخی طور پر یہ فرقہ سن 488 ہجری قمری کے بعد موجود رہا ہے[3].
علوی نصریه نهین
موجودہ دور کے علوی علماء(جو سوریه ولبنان اور ترکیه مین مقیم هین) کی کتب سے جو معلومات ملتی ہیں، ان کے تمام عقائد اثنی عشری شیعہ کے عقائد سے مماثل ہیں۔ شیخ عزیز ابراهیم علوی لکھتے ہیں: "علوی درحقیقت امامیہ اثنی عشری شیعہ ہی ہیں۔ وہ فرض عبادات کو ادا کرتے ہیں؛ نماز، روزہ اور حج کو ایمان اور اسلام کی پابندی میں، جیسا کہ مناسب ہے اور خداوند نے قرآن میں حکم دیا ہے اور پاکیزہ سنت میں، جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمه اطهار(ع)|ائمہ طہور علیہم السلام سے ثابت ہوئی ہے، جن میں سب سے پہلے علی ابن ابی طالب|امام علی بن ابی طالب (علیہ السلام) اور سب سے آخر میں حجت بن الحسن (مهدی)|محمد بن الحسن الحجة المہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) شامل ہیں۔ یہ احکام بغیر کسی تحریف، تبدیلی یا تبدیل کے قائم اور انجام پاتے ہیں۔ اگرچہ ہم بعض غلو آمیز شطحات (بالغیانہ اقوال) کا انکار نہیں کرتے، لیکن اس کی وجہ صدیوں تک غاروں اور پہاڑوں میں تنہائی، مدارس، علم و علماء، فقه اور حدیث نبوی سے دوری رہی ہے، خاص طور پر بادشاہوں اور عثمانی ترکوں کے ظلم کی وجہ سے۔ اس کے علاوہ، بعض مشایخ کے احکام کی بنا پر رازداری اور پوشیدگی کا عمل بھی اس میں شامل ہےعلی عزیز ابراهیم علوی، ‘‘العلویون بین الغلو و الفسلفة و التصوف و الشیعة’’، بیروت، انتشارات موسسة الاعلمی للمطبوعات، صفحہ 61۔ آیت اللہ جعفر سبحانی نے لکھا ہے: “علویوں کا کوئی خاص مذہب نہیں ہے جسے اہل بیتؑ کے مذہب سے ممتاز سمجھا جا سکے، بلکہ وہ امامیہ اور اثنی عشری شیعہ ہیں جن کے مذہبی اعمال اہل بیتؑ کے مذہب کے مطابق ہیں، اور وہ ہمیشہ شرعی معاملات اور دینی احکام میں انہی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ وہ صرف دو مسائل میں قدرے مختلف ہوتے ہیں۔”
علویون کا عقیده
علویون ایمان رکھتے ہیں کہ محمد بن عبد اللہ کی رسالت حق ہے، اور ان کے پرائے بھائی علی بن ابی طالبؑ اور ان کی نسل سے آنے والے بارہ اماموں کی امامت پر کوئی شک نہیں ہے۔ وہ شهادتین (لا الہ الا اللہ، محمّد رسول اللہ) کو دل اور ایمان سے پڑھتے ہیں، اور ان کے عقائد میں اللہ کی توحید، رسول اللہ ﷺ کی ولایت، اہل بیتؑ کی متابعت، اور نماز، روزہ، حج، زکات، جهاد فی سبیل اللہ، اور معاد (قیامت کے دن) پر یقین شامل ہے۔ ان کی کتاب قرآن ہے اور ان کے لیے قرآن کی شریعت کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔ ان کے اپنے بزرگ دینی رہنما ہیں جن کی مدد سے وہ دین کو پہچانتے ہیں اور اپنی مذہبی شعائر ادا کرتے ہیں۔ جو بات قرآن میں اشارہ نہیں کی گئی ہے، اسے چھوڑ دیتے ہیں… وہ رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی عملی طور پر نہیں کرتے اور اس کے کلام کی مخالفت نہیں کرتے، اور علم کو اہل بیتؑ ہی میں محدود سمجھتے ہیں اور ان کا اعتماد جعفر بن محمد الصادقؑ پر ہے۔ دینی بحثوں، تفسیر قرآن، فقہ اور فتویٰ میں… وہ خدا تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے[4]. سوری علویوں کے ایک ممتاز شخص شیخ عبدالرحمن الخیر لکھتے ہیں: اصول دین پانچ ہیں: توحید، عدل، نبوت، امامت اور معاد، اسی تعریف اور بنیاد پر جس پر شیعہ اثنی عشری ان پانچ اصولوں کے بارے میں متفق ہیں۔
توحید یعنی: ہم یکتا خدا کی موجودت پر یقین رکھتے ہیں جو دیدنی اور نہ دیدنی عالم کا خالق ہے۔ اس کی بادشاہت میں کوئی شریک نہیں، اور وہ کامل صفات سے موصوف ہے اور ناقص صفات سے منزہ ہے۔ عدل یعنی: ہم پر یقین ہے کہ خدا تعالیٰ عادل ہے اور ظلم سے پاک ہے۔ اس کے ہاتھ سے کوئی برا یا بے مقصد کام صادر نہیں ہوتا، اور وہ انسان کو اس چیز کا حکم نہیں دیتا جو اس کی طاقت اور وسع سے باہر ہو، اور صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جو اس کے فائدے میں ہو، اور صرف اسی چیز سے منع کرتا ہے جو اس کے نقصان میں ہو، حالانکہ زیادہ تر لوگ اپنی فساد اور اصلاح کو صحیح طرح نہیں پہچان پاتے۔
نبوت یعنی: ہم پر یقین ہے کہ خداوند متعال اپنے نیک بندوں کو رسالت کے لیے منتخب کرتا ہے تاکہ وہ اللہ کے پیغامات لوگوں تک پہنچائیں اور انہیں اس راستے کی رہنمائی کریں جس میں ان کی بھلائی پوشیدہ ہے، اور انہیں دنیا و آخرت کی بدبختیوں سے روکیں… ہم تمام انبیاء کی عصمت پر یقین رکھتے ہیں کہ وہ خطا، فراموشی، گناہ اور غلطی سے پاک ہیں، سواءِ ان کے کہ نبوت سے پہلے یا بعد میں۔
امامت یعنی: ہم پر یقین ہے کہ امامت ایک مقام ہے جو اللہ کی حکمت کے تقاضے اور انسانیت کے مفادات کے پیش نظر، انبیاء کے معاون کے طور پر، اللہ کی دعوت کو پھیلانے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ اور انبیاء کے بعد ائمہ کی قیامت کے بارے میں ہم یہ مانते ہیں کہ لوگوں کے درمیان دینی احکام کو نافذ کرنے، شرائع کو تبدیل اور تحریف سے بچانے، اور غلط تفسیروں سے محفوظ رکھنے کے لیے ہمیں ائمہ کی ضرورت ہے۔ اور حکمت اور اللہ کے فضل کا تقاضا یہ ہے کہ امام کو واضح نص سے مقرر کیا جائے، اور امام بالکل ویسا ہی معصوم ہو جیسا کہ پیامبر، تاکہ مومنین یقین کے ساتھ اس کے اقوال و اعمال کی پیروی کر سکیں۔ اور ہم پر یقین ہے کہ پیامبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد امام علی بن ابی طالب علیہ السلام ہیں، اور ان کے بعد ان کے بیٹے امام حسنؑ اور امام حسینؑ، اور پھر امام حسینؑ کی نسل سے نو افراد ہیں، جن میں سے آخری شخص مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) ہیں۔
معاد یعنی: ہم پر یقین ہے کہ موت کے بعد خدا تعالیٰ لوگوں کو ان کے اعمال کا حساب لینے کے لیے واپس لاتا ہے اور نیکی کرنے والے کو نیکیوں کے بدلے اور گناہگار کو گناہوں کے بدلے جزا دیتا ہے۔ اور ہم پر یقین ہے کہ قرآن میں جو آیا ہے اور جس میں حدیث کے ذریعے رسول اللہ ﷺ سے منقول ہے، وہ قیامت کے دن کی خبریں، نشور، بهشت، جهنم، آگ، عذاب، نعمت، صراط، میزان اور دیگر وہ تمام چیزیں ہیں جو اللہ کی کتاب اور صحیح احادیث میں ثابت ہوئی ہیں۔ لیکن فروع دین بہت زیادہ ہیں، اور ان میں سب سے اہم نماز، روزہ، زکات، حج اور جهاد ہیں۔
نصریه کا لفظ دو گروه پر اطلاق هوتا هے
مؤرخین کی لکھی ہوئی روایات کے مطابق: نصیریہ کا لفظ علویوں پر اطلاق هوتا هے [5]۔ جو عام طور پر شمالی لبنان، شام کے ساحلی علاقوں، الجبل الدروزی (علوی پہاڑ)، اسکندرون کے علاقوں اور ترکی کے بعض جنوبی حصوں میں مقیم ہیں [6]۔ اسی طرح نصیریہ کا لفظ غُلات پر بهی اطلاق هوتا هے جو [7]۔ جبکہ غالی نصیری غالباً پاکستان شبه قاره ہند کے اطراف میں آباد ہیں۔ لہذا، موضوع کو بہتر طریقے سے سمجھنے کے لیے، ہم ان دونوں گروہوں کے عقائد کا مختصراً تعارف کروائیں گے۔
غالی نصیریہ کے عقائد
یہ وہ گروہ ہے جنکے کے تعلیمات اور عقائد شیعہ، مسيحيت وغیرہ کے عقائد کا امتزاج ہیں‘‘ ان کی پیدائش کی تاریخ چوتھی صدی ہجری قمری ایک شخص “نصیر ببرمی” تک جاتی ہے[8].
غالی نصیریہ کے بنیادی عقائد
غالی نصیریوں کے بنیادی عقائد کو درج ذیل امور میں خلاصہ کیا جا سکتا ہے:
- علی بن ابی طالبؑ خدا ہیں یا خدا ان میں حلول فرما چکا ہے۔
- سلمان فارسیؒ علیؑ کے فرستادہ ہیں۔
- راز کی کلمہ تین حروف پر مشتمل ہے: ع (علی)، م (محمد) اور س (سلمان فارسی)۔
- ابن ملجم سے محبت، کیونکہ اس نے لاہوت (الٰہی ذات) کو ناسوت (جسمانی وجود) سے آزاد کر دیا تھا؛ لہذا، ابن ملجم پر لعنت بھیجنے والوں کو غلط راستے پر سمجھا جاتا ہے۔
- شراب نور ہے، اور اسی بنیاد پر انگور کے درخت کی بڑائی کی جاتی ہے اور اسے کھودنا [[گناه] شمار کیا جاتا ہے[9]۔
نصیریه شیعه اثنی عشری
یہی وہ علوی ہیں جو شمالی لبنان، شام کے ساحلی علاقوں، الجبل الدروزی (علوی پہاڑ)، اسکندرون کے علاقوں اور ترکی کے بعض جنوبی حصوں میں مقیم ہیں [10]۔ یہ گروہ امامیہ شیعہ اور جعفری فقہ (جعفری مذہب) کے پیروکار ہیں۔ لہذا، عقائد، فروع دین اور شرائع کے دلائل کے معاملے میں، وہ اثنی عشری شیعہ کی باتوں کے علاوہ کسی چیز کے قائل نہیں ہیں [11]۔ اس کے باوجود، ان پر کچھ تنقیدات وارد کی گئی ہیں جن میں سے کچھ ذیل میں بیان کی جا رہی ہیں۔
سوری علویون کا نقد
ان پر کچھ تنقیدات وارد کی گئی ہیں جن میں سے کچھ ذیل میں بیان کی جا رہی ہیں۔
اتحاد کی عدم موجودگی اور قبائلی رویہ
اتحاد کی عدم موجودگی اور قبائلی رویہ یہ اس صورت حال میں ہے جب خداوند متعال قرآن كریم میں فرماتا ہے: ‘’‘{{متن قرآن|وَاعتَصِموا بِحَبلِ اللَّهِ جَميعًا وَلا تَفَرَّقوا’‘’[12]. یعنی: “اللہ کے رسی کو سب مل کر پکڑ لو اور بکھر نہ جاؤ۔” اور ایک اور جگہ فرماتا ہے: ‘’‘متن قرآن|وَاعتَصِموا بِحَبلِ اللَّهِ جَميعًا وَلا تَفَرَّقوا ۚ’‘’[13]. اور ایک اور جگہ فرماتا ہے: ‘’‘متن قرآن|وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا فَإِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْغَالِبُونَ’‘’ [14]. یعنی: “جو اللہ، اس کے رسول اور مومنوں کی ولایت قبول کرتے ہیں، تو یقیناً وہی اللہ کے حزب (گروہ) ہیں جو غالب آئیں گے۔” ان دو پاک آیات سے واضح طور پر سمجھا جا سکتا ہے کہ: اولاً: جن لوگوں کا ایک ہی عقیدہ، ایک ہی دین اور ایک ہی مذہب ہے، وہ سب اسی دین کے احزاب (گروہوں) سے تعلق رکھتے ہیں۔ ثانیاً: جن لوگوں کا پیروکار ایک ہی دین اور مذہب ہے، ان کو حق نہیں ہے کہ وہ بکھر جائیں یا گروہ بن جائیں۔ کیونکہ کسی جماعت اور مذہب و مسلک کے پیروکاروں کی کامیابی کی شرط مضبوط ایمان، تقویٰ، نیک عمل اور سب سے اہم بات اتحاد اور ہم آہنگی ہے[15]۔ لہذا، اتحاد نہ ہونا اور قبائلی طرز عمل شکست اور تباہی کا باعث بنتا ہے۔
عورتوں کو ارث سے محروم کرنا
عورتوں کو ارث سے محروم کرنا اور شادی شدہ خاتون کے مهر کو اس کے ولی کا حق ماننا جبکه خداوند کریم اپنے آسمانی کتاب میں فرماتا ہے: ‘’‘{{متن قرآن|يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ ’‘’[16].یعنی: “اللہ تمہیں تمہارے بچوں کے بارے میں یہ وصیت فرماتا ہے کہ لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہوگا۔”نتیجتاً، ہم دیکھتے ہیں کہ خداوند متعال نے عورتوں کو ارث سے محروم نہیں کیا ہے۔
عام لوگ کا ان کے شیوخ کے ہاتھون بوسه لینا
ان کے شیوخ چاہتے ہیں کہ عام لوگ ان کے ہاتھ بوسیں۔ جب ہم روایات کی طرف دیکھتے ہیں، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اہل بیتؑ کی تعلیمات میں قبیلہ کے سربراہ ہونے کی وجہ سے بزرگ افراد کے ہاتھ بوسنا مذموم اور مسترد ہے، کیونکہ امام رضاؑ ایک حدیث میں فرماتے ہیں: “کوئی مرد دوسرے مرد کے ہاتھ نہ بوسے؛ کیونکہ کسی اور کے ہاتھ بوسنا اس کی عبادت کرنے کے مترادف ہے”[17].
شیوخ زکات کو اپنا خاص حق سمجھتے ہیں
ان کے شیخ زکات کو اپنا خاص حق سمجھتے ہیں۔لیکن قرآن کریم میں خداوند متعال نے زکات کے اخراجات کی فہرست درج ذیل بیان کی ہے:‘’‘{{متن قرآن|إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ ۖ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ’‘’ [18] یعنی: “صدقات صرف غریبوں، مساکین، ان لوگوں کے لیے ہیں جو ان پر مقرر ہیں، ان لوگوں کے دل جوڑنے کے لیے، غلاموں کی آزادی کے لیے، مقروضوں کے لیے، اللہ کی راہ میں اور راہ گیر کے لیے ہیں۔ یہ اللہ کا فرض ہے اور اللہ خوب جاننے والا، حکمت والا ہے۔”
علویون نماز جماعت قائم نہیں کرتے
ان کے شیخ نماز جماعت قائم کرنے کے اقدامات نہیں کرتے۔ حالانکہ خداوند سبحان نے قرآن کریم میں متعدد آیات میں نماز قائم کرنے کو ایک مومن کی نمایاں خصوصیات میں سے قرار دیا ہے۔[19]۔
واجبات میں سستی
واجبات میں سستی حالانکہ امام علیؑ واجبات کے بارے میں فرماتے ہیں: “کوئی عبادت واجبات کے انجام دینے جیسی نہیں ہے [20]۔ اور ایک اور جگہ فرماتے ہیں: “یقیناً خداوند سبحان نے تم پر چند فرض عوائد نافذ کیے ہیں، پس انہیں ضائع مت کرو [21]۔ نتیجہ یہ ہے کہ اگرچہ نصیریہ (شیعہ اثنی عشری) پر بعض رسوم و رواج پر تنقیدات وارد ہیں، لیکن ان کے عقائد اور احکام جعفری مذہب کے مطابق ہیں اور وہ دیگر شیعوں کی طرح ہیں۔ لیکن غالی نصیریہ اسلام اور جعفری مذہب سے خارج ہیں، اور ہم ائمہ اطہارؑ کی پیروی میں ان سے بیزاری اختیار کرتے ہیں.
متعلقہ مضامین
حوالہ جات
- ↑ مصطفی خالقداد ہاشمی عباسی، ‘‘توضیح الملل، ترجمہ ملل و نحل شهرستانی’’، صفحہ 251محمدجواد مشکور، ‘‘فرهنگ فرق اسلامی’’، انتشارات آستان قدس رضوی، سال 1372 شمسی، دوسرا ایڈیشن، صفحہ 444عبدالرحمن بدوی، ‘‘مذاهب الاسلامیین’’، جلد 2، صفحہ 65۔
- ↑ همان، ‘‘تاریخ اندیشههای کلامی در اسلام’’، ترجمہ حسین صابری، مشهد، انتشارات آستان قدس رضوی، صفحہ 395۔
- ↑ ہاشم عثمانی، ‘‘العلویون بین الاسطورة و الحقیقة’’، بیروت، موسسة الاعلمی للمطبوعات، صفحہ 30، 31، 32۔
- ↑ جعفر سبحانی، ‘‘بحوث فی الملل و النحل’’، قم، انتشارات موسسه امام صادق ـ علیه السّلام ـ، پہلا ایڈیشن، جلد 8، صفحہ 409۔
- ↑ عثمان ہاشم، ‘‘هل العلویون شیعة’’، بیروت، انتشارات مؤسسة الاعلمی للمطبوعات، سال 1414 ہجری قمری، پہلا ایڈیشن، صفحہ 10
- ↑ شریف یحیی الامین، ‘‘فرهنگنامه فرقههای اسلامی’’، ترجمہ محمد رضا موحدی، تهران، انتشارات باز، سال 1378 شمسی، پہلا ایڈیشن، صفحہ 202۔
- ↑ عثمان ہاشم، ‘‘هل العلویون شیعة’’، بیروت، انتشارات مؤسسة الاعلمی للمطبوعات، سال 1414 ہجری قمری، پہلا ایڈیشن، صفحہ 41۔
- ↑ محمدجواد مشکور، ‘‘فرهنگ فرق اسلامی’’، مقدمہ کاظم مدیر شانی چی کے ساتھ، مشهد، انتشارات آستان قدس رضوی، سال 1375 شمسی، تیسرا ایڈیشن، صفحہ 442۔
- ↑ علی ربانی گلپایگانی، ‘‘فرق و مذاهب كلامی’’، قم، انتشارات مركز جهانی علوم اسلامی، دوسرا ایڈیشن، 1381 شمسی، صفحہ 326
- ↑ محمدرضا موحدی، ‘‘فرهنگنامه فرقههای اسلامی’’، فارسی ترجمہ ‘‘معجم الفرق الإسلامية’’، مصنف شریف یحیی امین، صفحہ 202
- ↑ مصنفین کا ایک گروہ، '‘العلویون شیعة اهل البیت’'ـ علیهم السّلام ، نامعلوم مصنف، بیروت، انتشارات دار الصادق، صفحہ 16 تا 26 اور 78، 77
- ↑ سوره=آل عمران|آیه=103
- ↑ سوره=آل عمران|آیه=103
- ↑ سوره=مائده|آیه=56
- ↑ ناصر مکارم شیرازی، ‘‘تفسیر نمونه’’، تهران، انتشارات دارالكتب الاسلامیة، جلد 4، صفحہ 433-434 (آیت 56/ مائدہ کے تحت)
- ↑ سوره=نساء|آیه=11
- ↑ محمدباقر مجلسی، ‘‘بحارالانوار’’، تهران، انتشارات المكتبه الاسلامیة، سال 1386 ہجری قمری، جلد 78، صفحہ 345، حدیث 46‘‘كتاب الروضة’’، باب 26 مواعظ الرضا(علیهالسّلام)۔
- ↑ سوره=توبه|آیه=60
- ↑ عثمان ہاشم ‘‘هل العلویون شیعة’’، بیروت، انتشارات مؤسسة الاعلمی للمطبوعات، سال 1414 ہجری قمری، پہلا ایڈیشن، صفحہ 102-105
- ↑ سید جلال الدین محدث، ‘‘شرح فارسی غُرر و دُرر ابوالفتح آمدی’’، دانشگاه تهران، سال 1373 شمسی، جلد 6، صفحہ 365، حدیث 10552
- ↑ همان’’، جلد 2، صفحہ 572، حدیث 3597
ماخذ
- محمدجواد مشکور، ‘‘فرهنگ فرق اسلامی’’، انتشارات آستان قدس رضوی، سال 1377 شمسی، دوسرا ایڈیشن، مواد درج کرنے کی تاریخ: بغیر تاریخ، مواد ملاحظہ کرنے کی تاریخ: 26 ذی قعدہ 1404 شمسی.
- عبدالرحمن بدوی، ‘‘مذاهبالاسلامیین’’، مواد درج کرنے کی تاریخ: بغیر تاریخ، مواد ملاحظہ کرنے کی تاریخ: 26 ذی قعدہ 1404 شمسی.
- شریف یحیی الامین، ‘‘فرهنگنامه فرقههای اسلامی’’، ترجمہ محمد رضا موحدی، تهران، انتشارات باز، سال 1378 شمسی، پہلا ایڈیشن، مواد درج کرنے کی تاریخ: بغیر تاریخ، مواد ملاحظہ کرنے کی تاریخ: 26 ذی قعدہ 1404 شمسی.
- تقی شرف الدین، ‘‘النصیریه دراسة التحلیلیة’’، بیروت، سال 1983 عیسوی، مواد درج کرنے کی تاریخ: بغیر تاریخ، مواد ملاحظہ کرنے کی تاریخ: 26 ذی قعدہ 1404 شمسی.
- سید جلال الدین محدث، شرح فارسی غُرر و دُرر ابوالفتح آمدی، دانشگاه تهران، سال 1373 شمسی، مواد درج کرنے کی تاریخ: بغیر تاریخ، مواد ملاحظہ کرنے کی تاریخ: 26 ذی قعدہ 1404 شمسی.
- عثمان ہاشم ‘‘هل العلویون شیعة’’، بیروت، انتشارات مؤسسة الاعلمی للمطبوعات، سال 1414 ہجری قمری، پہلا ایڈیشن، مواد درج کرنے کی تاریخ: بغیر تاریخ، مواد ملاحظہ کرنے کی تاریخ: 26 ذی قعدہ 1404 شمسی.