مندرجات کا رخ کریں

غیبت صغری

ویکی‌وحدت سے


غیبت صُغری اهل تشیع کے نزدیک ایک خاص اصطلاح ہے اور اس کا مطلب ہے مختصر مدت کے لیے نظروں سے اوجھل ہو جانا۔ شیعون کا عقیده ہے کہ غیبت صغری کے دور میں، حجت بن الحسن (مهدی) (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) نے خفیہ زندگی گزاری اور صرف ان کے چار خاص نائب، جو نواب اربعہ کے نام سے مشہور ہیں، شیعون کا حضرت سے رابطے کا ذریعہ تھے۔

زمانہ غیبت صغری

شیعہ علماء کے درمیان اس بات میں اختلاف ہے کہ غیبت صغری کا آغاز کب سے ہوا، اور یہ اختلاف دو نظریات پر منتج ہوتا ہے: ۱. پہلا نظریہ حضرت کی ولادت کے وقت سے متعلق ہے کہ غیبت صغری اسی وقت سے شروع ہوئی۔ یہ نظریہ شیخ مفید کا ہے اور وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت کی غیبت صغری ان کی ولادت سے شروع ہوئی اور اس وقت تک جاری رہی جب تک شیعیان کا ان سے خاص نائبوں کے ذریعے رابطہ منقطع نہیں ہو گیا۔ [1] شیخ طبرسی (م ۵۴۸ ق) نے بھی اسی بنیاد پر غیبت صغری کا زمانہ چوہتر (۷۴) سال ذکر کیا ہے۔ [2] ۲. دوسرا نظریہ یہ ہے کہ غیبت صغری حسن بن علی (عسکری)]] (علیہ‌السلام) کی شہادت یعنی سنہ ۲۶۰ قمری سے واقع ہوئی، یعنی چونکہ نواب اربعہ کا تعین امام حسن عسکری کی وفات کے بعد ہوا اور غیبت صغری و کبری کے درمیان امتیاز اسی وجہ سے ہے کہ صرف غیبت صغری میں ہی یہ نواب حضرت کے پیغامات پہنچانے کے ذمہ دار تھے، لہٰذا غیبت صغری امام حسن عسکری کی وفات اور پہلے خاص نائب کے تعین سے شروع ہوتی ہے۔ [3] اگر ہم ان دو نظریات کے درمیان فیصلہ کریں تو کہہ سکتے ہیں کہ اکثر امامیہ علماء دوسرے نظریہ کے پیروکار ہیں[4] اور یہ دور سنہ ۲۶۰ ہ‍.ق (۸۷۴ء) سے شروع ہو کر ۳۲۹ ہ‍.ق (۹۴۰-۱ء) پر ختم ہوا۔ [5]

مقام غیبت صغری

عامۃ الناس کا یہ عقیدہ ہے کہ امام زمان (عج اللہ تعالی فرجہ الشریف) کے غائب ہونے کی جگہ سامرا میں ایک تہہ خانہ (سرداب) ہے اور یہ داستان مشہور ہے کہ عباسی خلیفہ کے مامورین حضرت کو گرفتار کرنے کے لیے سامرا میں ان کے گھر پر حملہ آور ہوئے، لیکن امام تہہ خانے میں جا کر نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ تاہم شیعی مصادر میں تہہ خانے (سرداب) کا کوئی ذکر نہیں ہے، بلکہ یہ بات صرف اہل سنت کی کتب میں موجود ہے اور وہ اس نظریہ پر اصرار کرتے ہیں۔ [6] پس درحقیقت امام زمان (عج اللہ تعالی فرجہ الشریف) نے اپنے پاک والد کے جسدِ خاکی پر نماز پڑھانے اور انہیں دفنانے کے بعد اپنے گھر میں داخل ہوئے اور اس کے بعد کسی نے امام زمان کو لوگوں کے مجمع میں نہیں دیکھا۔ [7]

داستان سرداب (تہہ خانہ)

داستان سرداب اس طرح مشہور ہوئی کہ جس گھر کا ذکر کیا جاتا ہے، اس کے دو حصے تھے، جن میں سے ایک حصہ خواتین کے لیے مخصوص تھا۔ اس گھر کے نیچے ایک تہہ خانہ (سرداب) تھا جو گرم موسم میں گھر والے استعمال کرتے تھے۔ فطری طور پر یہ تہہ خانہ بھی گھر کے دیگر مقامات کی طرح امام ہادی اور امام حسن عسکری (علیہما السلام) کی موجودگی کی وجہ سے شیعیان کے نزدیک اہمیت رکھتا تھا، خاص طور پر جب کہ امام زمان بھی اس جگہ عبادت کرتے تھے۔ لہٰذا لوگوں کو اپنے اماموں سے جو محبت تھی، وہی محبت ان سے منسوب چیزوں سے بھی تھی۔ اس حساب سے سرداب میں حضرت کی غیبت کی بات محض ایک بہتان ہے اور شیعہ کے کسی بھی بڑے عالم کا ایسا عقیدہ نہیں ہے۔ [8]

غیبت صغری احادیث میں

ان روایات میں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اور ائمہ معصومین (علیہم‌السلام) سے نقل ہوئی ہیں، اصل غیبت اور اس کی دو اقسام (غیبت صغری و کبری) کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔جعفر بن محمد الصادق (علیہ‌السلام) نے اس سلسلہ میں فرمایا: «بیشک قائم کے لیے دو غیبتیں ہیں، پہلی غیبت میں وہ لوٹ آتے ہیں اور دوسری میں ان کا ٹھکانہ معلوم نہیں ہوتا؛ البتہ ہر سال حج کے موقع پر حاضر ہوتے ہیں اور لوگوں کو دیکھتے ہیں، مگر لوگ انہیں نہیں دیکھتے۔» «اِنَّ لِلْقائِمِ غَیبَتَینِ یرْجِعُ فِی اِحداهُما وَفِی الاُخْری لایدری اَینَ هُوَ یشْهَدُ المَواسِمَ یری الناسَ وَلا یرْونَهُ» [9] اس کے علاوہ دوسری روایات میں بھی دو غیبتوں میں سے ایک کے مختصر اور دوسری کے طویل ہونے کا ذکر آیا ہے۔ امام صادق (علیہ‌السلام) نے فرمایا: قائم کے لیے دو غیبتیں ہیں: ایک مختصر مدت کی اور دوسری طویل مدت کی۔ «لِلْقائِمِ غَیبَتانِ اِحْداهُما قَصِیرَةٌ وَالاُخْری طَوِیلَةٌ...»؛ [10] البتہ روایات میں لفظ "غیبت صغری" نہیں آیا، لیکن چونکہ اس غیبت کی مدت مختصر اور متعین تھی، اس لیے رفتہ رفتہ یہ عنوان مشہور و رائج ہو گیا۔

غیبت صغری اور غیبت کبری میں فرق

جس طرح غیبت کبری کی اپنی مخصوص خصوصیات ہیں، اسی طرح غیبت صغری کی بھی اپنی مخصوص خصوصیات ہیں جو اسے غیبت کبری سے ممتاز کرتی ہیں:

  • ۱. غیبت صغری جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، زمانی اعتبار سے ایک آغاز اور انجام رکھتی ہے اور اس لحاظ سے غیبت کبری سے مختلف ہے۔
  • ۲. غیبت صغری کے دور میں امام مکمل طور پر سب کی نظروں سے اوجھل نہیں تھے، بلکہ کچھ افراد خاص نائبین کی حیثیت سے حضرت سے براہِ راست رابطہ رکھتے تھے اور لوگوں کے سوالات اور خطوط حضرت تک پہنچاتے تھے اور حضرت کا جواب وصول کر کے مالکان تک پہنچاتے تھے۔ لیکن غیبت کبری میں امام مکمل طور پر نظروں سے اوجھل ہیں اور کوئی شخص خاص نائب کے طور پر موجود نہیں، اور نائبینِ عام بھی حضرت سے ملاقات کا دعویٰ نہیں کرتے اور باقی لوگوں کا وظیفہ بھی معلوم ہے۔ البتہ اس بات سے انکار نہیں کہ شاید بعض افراد غیبت کبری میں بھی حضرت سے ملاقات کر سکیں۔
  • ۳. غیبت صغری کے دور میں — چاروں سفیروں کے علاوہ — ممکن تھا کہ دوسرے افراد بھی حضرت کو دیکھیں اور پہچانیں؛ لیکن غیبت کبری میں صرف خاص افراد (انہیں دیکھ سکتے ہیں)، لیکن باقی لوگ انہیں نہیں دیکھتے اور اگر دیکھ بھی لیں تو پہچان نہیں سکتے۔

حوالہ جات

  1. شیخ مفید، الإرشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۳۴۰۔
  2. طبرسی، إعلام الوری بأعلام الهدی، ۱۴۱۷ق، ج۲، ص۲۵۹۔
  3. صدر سید محمد، تاریخ الغیبة الصغری، ۱۳۹۲ق، ص۳۴۱ بہ بعد۔
  4. شریف القرشی، حیاة الامام محمد المهدی(ع)، ص۱۱۴۔
  5. مکارم شیرازی، ناصر، دائرةالمعارف فقه مقارن، قم، ایران، ص۱۰۴
  6. صافی گلپایگانی، لطف‌اللہ، منتخب الاثر، ص۳۷۲۔
  7. شریف قریشی، باقر، حیاة امام المهدی، ص۱۱۵ - ۱۲۰۔
  8. آقایی، جباری، عاشوری، حکیم، درسنامه تاریخ عصر غیبت، ص۱۷۷۔
  9. نعمانی، الغیبة، ص ۱۷۵، ح ۱۵۔
  10. شیخ کلینی، کافی، ج ۱، ص ۳۴۰۔