ایران کے تیسرے رهبر(مقاله)

ایران کے تیسرے رہبر ایک مضمون کا عنوان ہے جو عالمِ اسلام کی شخصیات کی جانب سے ایران کے تیسرے رہبر، جمہوری اسلامی ایران کے رہنما، آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہای کے تعارف اور تعیین پر دیے گئے پیغامات اور ردِ عمل پر مشتمل ہے۔
انقلابِ اسلامی کے تیسرے رہبر
آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہای امامِ شہید کے دوسرے فرزند ہیں جو ستمبر 1969 میں مقدس شہر مشہد میں پیدا ہوئے۔ آپ کا بچپن 1979 تک زیادہ تر مشہد، قم اور تہران میں گزرا، تاہم والد کی جلاوطنی کے باعث اس کا ایک حصہ محروم علاقوں مثلاً سیستان و بلوچستان میں بھی گزرا۔
ابتدائی اور ثانوی تعلیم بھی مشہد اور تہران میں حاصل کی۔ پہلی مرتبہ سترہ برس کی عمر میں، دورانِ تعلیم، انہوں نے جنگی لباس پہنا اور حق کے باطل کے خلاف محاذوں کی طرف روانہ ہوئے۔ دورانِ جنگ انہوں نے سید مصطفیٰ حسینی کے نام سے ایک گمنام بسیجی کے طور پر لشکر محمد رسول اللہ اور لشکر سیدالشہداء میں شرکت کی اور چند کمانڈروں کے علاوہ کسی کو معلوم نہ تھا کہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر کے فرزند ہیں۔
انہوں نے کئی عسکری کارروائیوں میں حصہ لیا جن میں بیت المقدس 2، بیت المقدس 3، بیت المقدس 4، والفجر 10 اور مرصاد آپریشن شامل ہیں۔ کمانڈروں کے اعتراف کے مطابق، جن میں اُس وقت کے کمانڈر لشکر حضرت سیدالشہداء علی فضلی بھی شامل ہیں، وہ ایک نہایت بہادر، خطرہ مول لینے والے اور انتہائی کم توقع رکھنے والے فرد تھے۔
نئے رہبرِ انقلاب کی سیاسی شخصیت
وہ بھی بہت سے دیگر علما کی طرح ایسی شخصیت کے حامل تھے جن کی سیاسی شناخت مستقل تھی اور وہ کسی سیاسی جماعت یا گروہ کے رکن نہیں بنے، تاہم وہ سیاست سے باخبر اور سیاسی بصیرت رکھنے والے فرد ہیں۔ اسی مناسبت سے وہ اپنے شہید والد کے ایک مخلص معاون اور مشیر کے طور پر ان کے ساتھ رہے اور اپنے والد کے پہلو میں امتِ اسلامی کی قیادت اور رہنمائی کا طریقہ سیکھا۔ امید ہے کہ ان کی قیادت انقلاب کے پہلے دو رہبروں کے بلند اہداف کے تسلسل میں ایک نیا باب ثابت ہوگی اور خداوند متعال اور آخری حجتِ الٰہی حضرت امام عصر کی خصوصی عنایات ان پر اور ولایت دوست ایرانی قوم پر شامل رہیں گی۔[1]
میڈیا میں رد عمل
آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہای کا جمہوری اسلامی ایران کے تیسرے رہبر کے طور پر انتخاب علاقائی عرب میڈیا کی سرخیوں میں نمایاں رہا۔ بیشتر عرب ذرائع ابلاغ نے اس تبدیلی کو ایک تاریخی واقعہ اور جمہوری اسلامی ایران کے سیاسی ڈھانچے میں استحکام اور تسلسل کی علامت قرار دیا۔
المیادین نیٹ ورک
اس نے ایک تفصیلی رپورٹ شائع کرتے ہوئے آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہای کے انتخاب کو خطِ امام اور انقلاب اسلامی کی قیادت کے تسلسل میں ایک اہم واقعہ قرار دیا اور لکھا کہ یہ انتخاب مجلس خبرگان کی مکمل اتفاقِ رائے سے ہوا جس نے خطے کے لیے تہران کے سیاسی استحکام کا پیغام دیا۔
الجزیرہ نیٹ ورک
اپنی رپورٹ میں جمہوری اسلامی نظام میں قیادت کے خصوصی مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا کہ آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہای کا ایران کے نئے رہبر کے طور پر انتخاب ایران کے اقتدار کے ڈھانچے میں مشروعیت اور ہم آہنگی کے تسلسل کا ایک نیا باب رقم کرتا ہے۔
روزنامہ الشرق الاوسط
اس تبدیلی کے علاقائی پہلو پر توجہ دیتے ہوئے لکھتا ہے کہ ریاض اور اس کے عرب اتحادی تہران میں ہونے والی تبدیلیوں کو غور سے دیکھ رہے ہیں اور نئے رہبر کا انتخاب ایران کی علاقائی روابط میں ایک نیا راستہ کھول سکتا ہے۔
روزنامہ الجمهوریہ لبنان
نے قم کے علمی حلقوں میں آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہای کے مقام کا حوالہ دیتے ہوئے اس انتخاب کو جمہوری اسلامی ایران کے روایتی اقتداری ڈھانچے کے مطابق ایک فطری امر قرار دیا۔
خبری ویب سائٹ رأی الیوم
نے ایران کے اندرونی ردِ عمل کا ذکر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مختلف سیاسی دھڑوں کی جانب سے اس انتخاب کا وسیع استقبال نظام کے اندر ہم آہنگی کی علامت ہے۔
عراقی ذرائع ابلاغ جیسے السومریہ نیوز اور خبرگزاری الفرات
نے بھی اس تبدیلی کو سیاسی استحکام اور مقاومت کے محور کے تسلسل کے طور پر پیش کیا۔
مصری ذرائع ابلاغ جیسے الاهرام اور الیوم السابع
نے بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے حوالے سے اسے مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ برسوں کی اہم ترین سیاسی تبدیلیوں میں شمار کیا۔
ولی امرِ مسلمین کا پہلا پیغام

انقلاب اسلامی کے رہبر حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہای کا پہلا پیغام
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ما ننسخ من آیة او ننسها نأت بخیر منها او مثلها
السلام علیک یا داعی اللہ و ربانی آیاتہ السلام علیک یا باب اللہ و دیان دینہ السلام علیک یا خلیفة اللہ و ناصر حقہ السلام علیک یا حجة اللہ و دلیل ارادتہ السلام علیک ایہا المقدم المأمول السلام علیک بجوامع السلام السلام علیک یا مولای صاحب الزمان
ابتدا میں مجھے اپنے آقا کے حضور رہبرِ عظیم انقلاب سید علی حسینی خامنہای کی دردناک شہادت پر تعزیت پیش کرنی چاہیے اور حضرت سے ملتِ ایران بلکہ تمام مسلمانوں اور اسلام و انقلاب کے خادموں اور اسلامی تحریک کے شہداء کے لواحقین کے لیے دعائے خیر کی درخواست کرنی چاہیے۔
میری گفتگو کا دوسرا حصہ ملتِ ایران سے ہے۔ سب سے پہلے مجھے مجلس خبرگان کے فیصلے کے بارے میں اپنا موقف مختصراً بیان کرنا چاہیے۔ میں سید مجتبیٰ حسینی خامنہای بھی آپ کی طرح اسلامی جمہوریہ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کے ذریعے مجلس خبرگان کے فیصلے سے آگاہ ہوا۔ اس مقام پر بیٹھنا جہاں دو عظیم پیشواؤں خمینی کبیر اور شہید خامنہای بیٹھے، میرے لیے ایک نہایت دشوار امر ہے۔
میں نے شہادت کے بعد ان کے جسد کو دیکھا تو وہ استقامت کے ایک پہاڑ کی مانند تھے اور بتایا گیا کہ ان کے سالم ہاتھ کی مٹھی بند تھی۔ ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں اہلِ علم کو طویل عرصہ گفتگو کرنی ہوگی۔
اگر وہ عظیم نعمت ہم سے لے لی گئی تو اس کے بدلے ملتِ ایران کی عمار جیسی موجودگی اس نظام کو عطا ہوئی ہے۔ یہ بات یاد رکھیں کہ اگر آپ کی طاقت میدان میں ظاہر نہ ہو تو نہ قیادت اور نہ ہی کوئی ادارہ اپنی حقیقی کارکردگی دکھا سکے گا۔
اس حقیقت کے عملی ہونے کے لیے سب سے پہلے خداوند متعال پر توکل اور معصومین کی نورانی ہستیوں سے توسل ضروری ہے۔ دوم یہ کہ ملت کے درمیان وحدت کو نقصان نہ پہنچنے دیا جائے۔ سوم یہ کہ میدان میں مؤثر موجودگی برقرار رکھی جائے۔
اگر یہ اصول ملحوظ رکھے جائیں تو ملتِ ایران کے لیے عظمت کے دنوں تک پہنچنے کا راستہ ہموار ہوگا۔
میری گفتگو کا تیسرا حصہ ہمارے بہادر مجاہدین کے لیے تشکر پر مشتمل ہے جنہوں نے دشمن کی پیش قدمی کو روکا۔ عوام کی خواہش ہے کہ مؤثر اور دشمن کو پشیمان کرنے والا دفاع جاری رکھا جائے۔ تنگہ ہرمز کو بند کرنے کے امکان کو بھی ایک دباؤ کے آلے کے طور پر برقرار رکھا جانا چاہیے۔
میں جبهۂ مقاومت کے مجاہدین کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہم مقاومت کے ممالک کو اپنے بہترین دوست سمجھتے ہیں اور مقاومت کا محور انقلاب اسلامی کی اقدار کا لازمی حصہ ہے۔
چوتھے حصے میں میری گفتگو اُن لوگوں سے ہے جو گزشتہ چند دنوں میں کسی نہ کسی طرح متاثر ہوئے ہیں؛ خواہ وہ لوگ جنہوں نے اپنے کسی عزیز یا عزیزوں کی شہادت کا غم برداشت کیا ہو، یا وہ جو زخمی ہوئے ہوں، یا وہ افراد جن کے گھروں، املاک یا کاروبار کو نقصان پہنچا ہو۔
اس حصے میں سب سے پہلے میں شہدائے گرانقدر کے لواحقین کے ساتھ اپنی گہری ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔ یہ ہمدردی ایک مشترکہ تجربے کی بنیاد پر ہے جو میرا ان معزز خاندانوں کے ساتھ ہے۔ میرے والد کی شہادت کے علاوہ، جن کی جدائی کا غم ایک عمومی سانحہ بن چکا ہے، میں نے اپنی عزیز اور وفادار زوجہ کو بھی کھو دیا جس سے مجھے بڑی امیدیں وابستہ تھیں، اپنی فداکار بہن کو بھی کھو دیا جو اپنے والدین کی خدمت کے لیے وقف تھی اور آخرکار اپنے اجر کو پہنچ گئی، اس کے کمسن بچے کو بھی، اور اپنی دوسری بہن کے شوہر کو بھی جو ایک عالم اور شریف انسان تھے۔
میں نے ان سب کو شہداء کے قافلے کے حوالے کیا ہے۔ تاہم جو چیز مصائب پر صبر کو ممکن بلکہ آسان بناتی ہے، وہ صابرین کے لیے خداوند متعال کے قطعی اور یقینی وعدۂ اجر کی طرف توجہ ہے۔ لہٰذا صبر کرنا چاہیے اور خداوند حق (جلّ و علا) کی مدد اور لطف پر امید و اعتماد رکھنا چاہیے۔
دوسرے یہ کہ میں سب کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم آپ کے شہداء کے خون کا بدلہ لینے سے ہرگز دستبردار نہیں ہوں گے۔ ہمارا انتقام صرف انقلاب کے عظیم رہبر کی شہادت تک محدود نہیں ہے؛ بلکہ قوم کا ہر وہ فرد جو دشمن کے ہاتھوں شہید ہوتا ہے، انتقام کے لیے ایک مستقل معاملہ ہے۔ البتہ اس انتقام کا ایک محدود حصہ اب تک عملی صورت اختیار کر چکا ہے، لیکن جب تک یہ مکمل نہ ہو جائے یہ معاملہ باقی تمام معاملات کے ساتھ جاری رہے گا، اور خصوصاً ہمارے بچوں کے خون کے بارے میں ہماری حساسیت زیادہ ہوگی۔ اسی لیے وہ جرم جو دشمن نے جان بوجھ کر «مدرسہ شجرۂ طیبۂ میناب» اور اس جیسے دیگر واقعات میں کیا ہے، اس کارروائی میں ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔
تیسرے یہ کہ ان حملوں میں زخمی ہونے والے افراد کو لازماً مناسب طبی خدمات مفت فراہم کی جائیں اور انہیں بعض دیگر مراعات بھی دی جائیں۔ چوتھے یہ کہ جہاں تک موجودہ حالات اجازت دیں، گھروں، املاک اور ذاتی جائیداد کو پہنچنے والے مالی نقصانات کے ازالے کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں اور ان پر عملدرآمد ہو۔ یہ آخری دو امور معزز ذمہ داران کے لیے ایک لازمی فریضے کی حیثیت رکھتے ہیں، جنہیں انہیں نافذ کرنا ہوگا اور اس کی رپورٹ مجھے پیش کرنی ہوگی۔ وہ نکتہ جس کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں یہ ہے کہ بہر حال ہم دشمن سے ہرجانہ وصول کریں گے، اور اگر وہ انکار کرے تو ہم اپنی تشخیص کے مطابق اس کے اموال میں سے لے لیں گے، اور اگر وہ بھی ممکن نہ ہوا تو اسی قدر اس کے اموال کو تباہ کر دیں گے۔
کلام کے پانچویں حصے میں میری گفتگو علاقے کے بعض ممالک کے سربراہان اور مؤثر طبقات سے ہے۔ ہماری پندرہ ممالک کے ساتھ زمینی یا آبی ہمسائیگی ہے اور ہم ہمیشہ ان سب کے ساتھ گرمجوش اور تعمیری تعلقات کے خواہاں رہے ہیں اور ہیں۔ تاہم دشمن نے برسوں پہلے سے بتدریج ان میں سے بعض ممالک میں فوجی اور مالی اڈے قائم کیے تاکہ علاقے پر اپنی بالادستی کو یقینی بنا سکے۔
حالیہ حملے میں ان میں سے بعض فوجی اڈوں کو استعمال کیا گیا، اور ظاہر ہے کہ ہم نے بھی جیسا کہ ہم نے واضح طور پر پہلے خبردار کیا تھا، اور بغیر اس کے کہ ان ممالک کو کوئی نقصان پہنچائیں، صرف انہی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔ آئندہ بھی مجبوری کے تحت ہمیں یہ کام جاری رکھنا پڑے گا، اگرچہ ہم اب بھی اپنے اور اپنے ان ہمسایوں کے درمیان دوستی کی ضرورت پر یقین رکھتے ہیں۔
ان ممالک کو چاہیے کہ وہ ہمارے عزیز وطن پر حملہ کرنے والوں اور ہماری قوم کے افراد کے قاتلوں کے بارے میں اپنا موقف واضح کریں۔ میں انہیں مشورہ دیتا ہوں کہ جلد از جلد ان اڈوں کو بند کر دیں، کیونکہ اب تک یقیناً وہ سمجھ چکے ہوں گے کہ امریکہ کی طرف سے امن و سلامتی قائم کرنے کا دعویٰ محض جھوٹ تھا۔ اس سے وہ اپنی قوموں کے ساتھ، جو عموماً کفر کے محاذ کے ساتھ وابستگی اور اس کے تحقیر آمیز رویّے سے ناخوش ہیں، زیادہ مضبوط تعلق قائم کر سکیں گے اور ان کی دولت اور طاقت میں اضافہ ہوگا۔
میں پھر دہراتا ہوں کہ اسلامی جمہوریہ ایران خطے میں کسی قسم کی بالادستی یا استعمار قائم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا بلکہ تمام ہمسایوں کے ساتھ اتحاد اور گرم و مخلصانہ باہمی تعلقات کے لیے مکمل آمادگی رکھتا ہے۔
کلام کے چھٹے حصے میں میری مخاطبت ہمارے شہید رہبر سے ہے۔ اے رہبر! آپ کے رخصت ہو جانے سے سب کے دلوں پر گہرا زخم لگا ہے۔ آپ ہمیشہ اس انجام کے مشتاق تھے یہاں تک کہ آخرکار خداوندِ حق نے آپ کو یہ نعمت دسویں رمضان المبارک کی صبح قرآنِ کریم کی تلاوت کے دوران عطا فرمائی۔ آپ نے بہت سی مظلومیتوں کو اقتدار و بردباری کے ساتھ برداشت کیا اور کبھی پیشانی پر شکن نہیں لائے۔
بہت سے لوگوں نے آپ کی حقیقی قدر کو نہیں پہچانا، اور شاید طویل مدت گزرے گی جب مختلف پردے اور رکاوٹیں ہٹیں گی اور اس کی بعض جہتیں واضح ہوں گی۔ امید ہے کہ اس قرب کے مقام کے طفیل جو آپ کو انوارِ طیّبہ، صدیقین، شہداء اور اولیاء کے جوار میں حاصل ہوا ہے، آپ اب بھی اس ملت اور محاذِ مقاومت کی تمام قوموں کی پیشرفت کے بارے میں فکر مند ہوں گے اور ان کے لیے شفاعت فرمائیں گے، جیسا کہ اپنی دنیوی زندگی میں بھی آپ ایسا ہی کرتے تھے۔ ہم آپ سے عہد کرتے ہیں کہ اس پرچم کی سربلندی کے لیے جو محاذِ حق کا اصل پرچم ہے اور آپ کے مقدس مقاصد کے حصول کے لیے ہم پوری قوت کے ساتھ کوشش کریں گے۔
کلام کے ساتویں حصے میں میں ان تمام معزز حضرات کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے میری حمایت کی ہے، جن میں مراجع عظام تقلید اور مختلف ثقافتی، سیاسی اور سماجی شخصیات شامل ہیں، نیز عوام الناس جنہوں نے عظیم اجتماعات میں شرکت کرکے نظام کے ساتھ اپنی تجدیدِ بیعت کا اظہار کیا، اور اسی طرح تینوں قوّتوں کے ذمہ داران اور عارضی مجلسِ قیادت کا بھی ان کے حسنِ تدبیر اور اقدامات پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔
مجھے امید ہے کہ ان بابرکت ساعتوں اور ایام میں خداوندِ متعال کے خصوصی الطاف پوری ملتِ ایران بلکہ تمام مسلمانوں اور دنیا کے مستضعفین کو شاملِ حال ہوں گے۔ اور آخر میں میں اپنے آقا (عجّل اللّٰہ تعالیٰ فرجہ الشریف) سے درخواست کرتا ہوں کہ شب ہائے قدر اور ماہِ مبارک رمضان کے باقی ماندہ ایام و لیالی میں درگاہِ الٰہی (جلّ و علا) سے ہماری قوم کے لیے دشمن پر فیصلہ کن غلبہ، نیز عزت، فراخی اور عافیت، اور ان کے مرحومین کے لیے بلند مقامات اور اخروی عافیت کی دعا فرمائیں۔
والسلام علیکم و رحمة اللّٰہ و برکاتہ و تحیاتہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہای ۲۱ اسفند ۱۴۰۴ مطابق ۲۲ رمضان المبارک ۱۴۴۷ ہجری قمری[2]
پیغامات
پیغام حضرت آیت اللہ العظمیٰ نوری ہمدانی

بسم اللہ الرحمن الرحیم حضرت مستطاب آیت اللہ جناب آقای حاج سید مجتبیٰ خامنہای (دامت برکاته)
السلام علیکم
انقلاب اسلامی کے شہید رہبر اور اسلام کے بہادر کمانڈروں کی ایک جماعت نیز بے دفاع عوام کی شہادت پر تعزیت اور تبریک پیش کرتے ہوئے، میں خداوند متعال کا شکر ادا کرتا ہوں کہ ملت کے خبرگان نے، امت اسلامی کے امین ہونے کے ناطے، تمام ضروری شرائط اور ضوابط کو مدنظر رکھتے ہوئے اور یقیناً حضرت بقیة اللہ الاعظم (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی خصوصی عنایات کے ساتھ، جناب عالی کو — جو فقاہت، شجاعت، تقویٰ، زمانہ شناسی، مدیریت و تدبیر اور امام خمینیؒ اور شہید رہبر کے مکتب سے گہری وابستگی جیسی تمام ضروری خصوصیات کے حامل ہیں — اسلامی جمہوریہ ایران کے مقدس نظام کا رہبر منتخب کیا۔
یہ فیصلہ دشمنانِ ملت کے لیے ایک بار پھر مایوسی کا سبب بنا۔ میں اس حکیمانہ اور شایستہ انتخاب کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ولایتِ فقیہ کے اصول کی مکمل اطاعت کی ضرورت پر تاکید کرتا ہوں اور امت اسلامی، خصوصاً ایران کے مؤمن و انقلابی عوام اور ذمہ دار حکام سے درخواست کرتا ہوں کہ بصیرت اور اتحاد کے ساتھ رہبر انقلاب کے پیچھے حرکت کریں اور وحدت کے ذریعے انقلاب کے درخشاں راستے کو جاری رکھیں۔
آخر میں خداوند متعال سے دعا کرتا ہوں کہ جناب عالی کو صحت و عافیت کے ساتھ طول عمر اور اسلام و مسلمین کی خدمت کی مزید توفیق عطا فرمائے۔
پیغام حضرت آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ملتِ شریف ایران اور انقلاب اسلامی کے چاہنے والو!
الحمد للہ مجلس خبرگانِ رہبری نے اس حساس مرحلے پر بروقت فیصلہ کرتے ہوئے اپنے شرعی اور قانونی فریضے کو انجام دیا اور آیت اللہ حاج سید مجتبیٰ خامنہای (حفظہ اللہ) کو انقلاب اسلامی کا تیسرا رہبر منتخب کیا۔
اب مناسب ہے کہ عوام اور نظام کے ستون اس بہترین انتخاب کے ساتھ بیعت کریں اور اتحاد و استقامت کے ساتھ انقلاب کے نورانی راستے کو جاری رکھیں۔
میں شہید رہبر انقلاب، کمانڈروں اور مظلوم عوام کی شہادت پر دوبارہ تعزیت پیش کرتے ہوئے اس انتخاب پر مبارکباد دیتا ہوں اور خداوند متعال سے ایران اسلامی کی عزت و سربلندی اور دشمنوں کی ذلت کی دعا کرتا ہوں۔
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ قم — ناصر مکارم شیرازی ۱۸ اسفند ۱۴۰۴
پیغام حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی
گہرے رنج و غم کے ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران کے عظیم رہبر حضرت آیت اللہ خامنہای (رضوان اللہ علیہ) کی شہادت پر ایران کے شریف عوام اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو تعزیت پیش کرتا ہوں۔
ان کا بلند مقام اور اسلامی جمہوریہ کے نظام کی قیادت میں ان کا منفرد کردار سب پر واضح ہے۔
بلاشبہ دشمنوں نے ان کی شہادت اور ایران پر وسیع فوجی حملے کے ذریعے ایران کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے۔ توقع ہے کہ ایران کی عظیم قوم اس مشکل مرحلے میں اتحاد اور قومی ہم آہنگی کو برقرار رکھتے ہوئے دشمنوں کو ان کے مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دے گی۔
خداوند متعال سے اس مرحوم کے لیے بلند درجات اور تمام سوگواروں کے لیے صبر جمیل کی دعا کرتا ہوں۔
پیغام رئیس مجمع تشخیص مصلحت نظام آیت اللہ صادق آملی لاریجانی
مجاہد رہبر اور حکیم قائد حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہای کی شہادت اسلام کے لیے ایک عظیم نقصان اور امت اسلامی کے لیے دردناک مصیبت ہے۔
مجلس خبرگان کی جانب سے اس نازک مرحلے میں آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہای کا انتخاب عوام کے لیے تسلی اور انقلاب کے راستے کے تسلسل کی علامت ہے۔
امید ہے کہ ملت ایران کی استقامت اور منتخب رہبر کی تدبیر کے سائے میں دشمنوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔
پیغام صدرِ جمہوریہ ایران ڈاکٹر مسعود پزشکیان
بسم اللہ الرحمن الرحیم حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہای
آپ کا اسلامی جمہوریہ ایران کے تیسرے رہبر کے طور پر انتخاب ایک نئے دورِ عزت و اقتدار کی بشارت ہے۔ یہ انتخاب ملت کی وحدت اور استحکام کا مظہر ہے۔
ایران نے ہمیشہ مشکلات کا مقابلہ کیا ہے اور آج بھی قوم کے ایمان، دانش اور محنت کی بدولت مشکلات پر قابو پا لے گا۔ میں خداوند متعال سے آپ کی کامیابی اور ایران کے روشن مستقبل کی دعا کرتا ہوں۔
پیغام رئیس مجلس شورای اسلامی محمد باقر قالیباف
مجلس خبرگان کا یہ فیصلہ ملت ایران کے لیے تسلی کا باعث بنا اور دشمنوں کی امیدوں کو ناکام کر دیا۔
آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہای ایک متقی، شجاع، دانشمند اور دوراندیش رہبر ہیں جو انقلاب کے راستے کو قوت کے ساتھ آگے بڑھائیں گے۔ ہم سب پر لازم ہے کہ ولایت فقیہ کی حمایت کریں تاکہ ملک کو نقصان نہ پہنچے۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کا بیان
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے اپنے بیان میں آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہای کے انتخاب کو مبارکباد دیتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ ولایت فقیہ کے فرمانبردار سپاہی کے طور پر انقلاب کی اقدار کے دفاع اور دشمنوں کے مقابلے کے لیے ہمیشہ تیار رہیں گے۔
حزب اللہ لبنان کا بیان
حزب اللہ لبنان نے اپنے بیان میں آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہای کے انتخاب کو ایران اور امت اسلامی کے لیے مبارک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ انتخاب دشمنوں کے لیے واضح پیغام ہے کہ اسلامی انقلاب اپنی قیادت اور عوام کے ساتھ مضبوطی سے قائم ہے۔
حزب اللہ نے اپنے عہدِ وفاداری کی تجدید کرتے ہوئے رہبر انقلاب کی کامیابی اور اسلامی جمہوریہ ایران کی حفاظت کے لیے دعا کی۔
پیغام انصار اللہ یمن
انصار اللہ یمن کے رکن محمد الحوثی نے کہا:ہم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہای کے انتخاب پر ایران، اس کی قیادت اور عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ یہ انتخاب نظام اور ملت کی وحدت اور طاقت کی علامت ہے۔
پیغام جامعہ الصدرا الاسلامیہ پاکستان
جامعہ الصدرا الاسلامیہ پاکستان نے اپنے پیغام میں آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہای کی قیادت کو امت مسلمہ کے لیے ایک الٰہی نعمت قرار دیتے ہوئے ان کے ساتھ اپنی بیعت اور تعاون کا اعلان کیا اور دعا کی کہ ان کی رہنمائی میں عالم اسلام اتحاد، عدل اور معنویت کی طرف پیش قدمی کرے۔
متعلقہ مضامین
- تیسرے رہبرِ انقلابِ اسلامی، چینل “امامِ شہید”، وابستہ بہ پژوہشگاہ مطالعاتِ تقریبی، پلیٹ فارم ایتا، تاریخِ اشاعتِ مطلب: ۱۰ مارچ ۲۰۲۶، تاریخِ مشاہدۂ مطلب: ۱۰ مارچ ۲۰۲۶۔