مندرجات کا رخ کریں

سید مجتبی خامنه‌ای

ویکی‌وحدت سے
سید مجتبی خامنه‌ای
پورا نامسید مجتبی خامنه‌ای
دوسرے نامآیت‌الله حاج سیدمجتبی خامنه‌ایسید مجتبی حسینی خامنه‌ای
ذاتی معلومات
پیدائش کی جگہایران مشهد
اساتذہاحمدی میانجی، رضا استادی، اوسطی، سید علی خامنه‌ای، شیخ جواد تبریزی، شیخ حسین وحید خراسانی، سید موسی شبیری زنجانی، آقا مجتبی تهرانی، شیخ محمد مؤمن قمی
مذہباسلام، شیعہ
اثراتعلمی مقالات فقه اور اصول کے موضوع پر
مناصبجمہوری اسلامی ایران]] کے تیسرے رہبر، حوزه کے عالی سطح کے مدرس اور استاد خارج فقه و اصول


سید مجتبی خامنه‌ای، جمہوری اسلامی ایران کے تیسرے رہبر ہیں جو عظیم مرجع اور رہبر آیت‌الله العظمی امام سید علی خامنه‌ای کی شهادت کے بعد اس منصب پر فائز ہوئے۔ آیت‌الله خامنه‌ای حوزه علمیه کے اعلیٰ دروس کے استاد اور فقه و اصول کے درس خارج کے صاحبِ کرسی ہیں۔ حوزوی علوم کے نظام میں مضبوط علمی نوآوریاں، خصوصاً فقه، اصول فقه اور رجال میں، اور اسلامی مدون علوم میں منظم فکری مبانی سے استفادہ اور ان مبانی کی پابندی کے ساتھ علمی تولیدات، نیز درس فقہ کے آغاز میں قرآن کریم کی آیات کی مختصر تفسیر، ان کی نمایاں خصوصیات میں شمار ہوتی ہیں۔

سوانح حیات

سید مجتبی خامنه‌ای، شہید رہبر اور مرجع آیت‌الله العظمی سید علی خامنه‌ای کے دوسرے فرزند ہیں۔ وہ سنہ 1348 ش میں مشہد مقدس میں پیدا ہوئے۔

تعلیم

انہوں نے ہائی اسکول کی تعلیم مدرسہ علوی میں مکمل کی اور حوزه علمیه کی ابتدائی دروس مدرسہ آیت‌الله مجتهدی تهرانی میں شروع کیے۔ سنہ 1368 ش میں تکمیلِ حوزوی تعلیم کے لیے قم گئے اور 1371 ش کے اوائل تک وہاں مقیم رہے۔ اس کے بعد پانچ سال کے لیے تهران واپس آئے اور وہیں اپنی حوزوی تعلیم جاری رکھی۔ سنہ 1376 ش میں انہوں نے شہیدہ بانو زہرا حدادعادل سے ازدواج کیا اور اسی سال مزید علمی و معنوی استفادہ کے لیے دوبارہ قم ہجرت کی۔

محاذ پر حاضری

آیت‌الله خامنه‌ای نے مقدس دفاع کے دوران لشکر حضرت محمد رسول‌الله (صلی‌الله علیه وآله) کے گردان حبیب کے مجاہدین کے ساتھ محاذِ جہاد میں شرکت کی۔

اساتذہ

آیت‌الله خامنه‌ای نے سطوحِ عالی کے دروس حضرات آیات احمدی میانجی، رضا استادی، اوسطی اور دیگر ممتاز اساتذہ حوزه علمیه قم سے حاصل کیے۔ درس خارج فقہ و اصول اپنے شہید والد شهید آیت‌الله العظمی خامنه‌ای کے علاوہ حضرات آیات عظام شیخ جواد تبریزی، شیخ حسین وحید خراسانی، سید موسی شبیری زنجانی، آقا مجتبی تهرانی اور شیخ محمد مؤمن قمی سے پڑھے۔ وہ سترہ برس سے زیادہ عرصہ تک مسلسل درس خارج فقہ و اصول میں شرکت کرتے رہے۔ عربی زبان میں علمی تقریرات کی پیشکش اور درس کے علاوہ علمی مباحث میں اشکال، نقد اور گفتگو کے ذریعے اساتذہ سے علمی پیگیری نے بعض بزرگ علماء کی خصوصی توجہ ان کی جانب مبذول کرائی۔

علمی نبوغ

ان کی فطری استعداد اور ذہانت، مسلسل کوشش، محنت، دقت اور علمی آزادی کے ساتھ مل کر حوزوی علوم کے نظام میں مضبوط علمی نوآوریوں کا سبب بنی، خصوصاً فقه، اصول اور رجال میں۔ اسلامی مدون علوم میں منظم فکری مبانی اور ان مبانی کی پابندی کے ساتھ علمی تحقیق ان کی نمایاں خصوصیات میں شمار ہوتی ہے۔

حکم شرعی کی حقیقت و ماہیت، حکم کے مراتب، احکام کے ملاکات، تعددِ حکم، قیود کی رجوعیت، حدیثی معارف کی منتقلی کا طریقہ اور فقہی کتب کے ارتقائی مراحل جیسے بنیادی مباحث میں ان کی ابتکارات نے ایک جامع علمی مکتب کی تشکیل میں مدد دی۔ اس علم کے اکابر فقہاء و اصولیین کے مکاتب، شیخ اعظم انصاری سے لے کر امام خمینی تک، پر ان کی گہری دسترس نے اس مکتب کو مزید غنا بخشا ہے۔ ائمہ اطہارؑ کے اصحاب کے آثار اور قدیم شیعه علماء کی آراء، خصوصاً “ارتکاز عصر معصومؑ” کے مسئلے اور اس کے استنباطی عمل میں کردار پر خصوصی توجہ ان کے علمی منہج کی نمایاں خصوصیات میں سے ہے۔

حوزہ میں تدریس

آیت‌الله خامنه‌ای نے تعلیم کے ساتھ ساتھ مسلسل تدریس بھی جاری رکھی۔ انہوں نے حوزہ کے ابتدائی دروس مدرسہ آیت‌الله مجتهدی تهران میں پڑھانا شروع کیے اور سنہ 1374 ش سے کتاب معالم کی تدریس کی۔ بعد ازاں آیت‌الله العظمی سید علی خامنه‌ای کی طرف سے حوزہ میں تحول کی ضرورت اور شهید صدر کی کتب کی اہمیت کے بارے میں تاکید کے بعد انہوں نے معالم کی تدریس ترک کرکے حلقاتِ شہید صدر کی تدریس شروع کی۔

سنہ 1376 ش میں قم ہجرت کے بعد انہوں نے حلقات کی تدریس اپنے ایک ہم بحث کے سپرد کر دی۔ سنہ 1377 ش میں قم میں بیت شریف امام خمینی میں رسائل اور مکاسب کی خصوصی تدریس کا آغاز کیا۔ کچھ عرصہ بعد نماز، تسبیحاتِ اربعہ، سجود اور رکوع کے موضوعات پر خصوصی درس خارج کا انعقاد کیا جس میں ان کے سابق شاگرد شریک ہوتے تھے۔

سنہ 1383 ش میں دوبارہ حلقات کی تدریس شروع کی اور 1384 ش اور 1385 ش میں قم کے ایک مدرسہ میں سطوح عالی (مکاسب) پڑھائے۔ سنہ 1386 ش میں ان کا درس مدرسه فیضیه منتقل ہوا اور سنہ 1387 ش میں قم میں آیت‌الله العظمی خامنه‌ای کے دفتر میں نماز پر خصوصی درس خارج منعقد ہوا۔ تعلیمی سال 1388 ش کے آغاز سے عمومی درس خارج فقہ اور 1389 ش سے رسمی طور پر درس خارج اصول شروع ہوا جو مبحث استصحاب کے آغاز تک جاری رہا۔

طریقۂ تدریس

وہ تدریس سے پہلے بحث کے مراحل اور اپنے علمی نظریات کو تحریری شکل دیتے اور تدریس کے بعد فقہی و اصولی مباحث کو خود مرتب کرتے تھے جن کی بعض جلدیں اشاعت کے لیے تیار ہیں۔ اگرچہ ان کے دروس کی تقریرات شاگردوں کی طرف سے اشاعت کے لیے تیار تھیں، مگر ان کی ذاتی عدم رغبت کے باعث ابھی تک عام طور پر شائع نہیں ہوئیں اور صرف بعض خاص علماء کے پاس موجود ہیں۔

علمائے سلف کے انداز پر درس کے وقت کا ایک حصہ شاگردوں کے ساتھ دوستانہ علمی نشستوں کے لیے مخصوص ہوتا تھا۔ ان کی ایک اہم ابتکار یہ تھی کہ درس فقہ کے آغاز میں قرآن کریم کی آیات کی مختصر تفسیر بیان کرتے تھے جس میں گہرے اور جدید تفسیری نکات شامل ہوتے تھے۔ شاگردوں کے اشکالات پر خصوصی توجہ، حتیٰ کہ درس کے بعد طویل گفتگو کے ذریعے، اور شاگردوں کو علمی طور پر فروعات پیش کرنے کی ترغیب دینا، تنقیدی صلاحیت اور استنباط کی مشق کو تقویت دینے میں اہم کردار ادا کرتا تھا[1]۔

جمہوری اسلامی ایران کے تیسرے رہبر

مجلس خبرگان رهبری کے ہنگامی اجلاس میں آیت‌الله سید مجتبی حسینی خامنه‌ای (حفظه الله) کو نظام جمهوری اسلامی ایران کے تیسرے رہبر کے طور پر منتخب اور متعارف کرایا گیا۔

بسم الله الرحمن الرحیم ملتِ شریف اور آزادہ ایران اسلامی؛ خدا کا سلام اور درود آپ پر ہو۔ مجلس خبرگان رهبری عظیم قائد حضرت آیت‌الله العظمی امام خامنه‌ای (قدس‌الله نفسه الزکیه) کی شہادت اور دیگر گرانقدر شہداء خصوصاً مسلح افواج کے بلند مقام کمانڈروں اور میناب شہر کے مدرسہ شجره طیبه کے طلباء کی شہادت پر تعزیت پیش کرتی ہے اور مجرمانہ امریکہ اور رژیم صهیونیستی کے وحشیانہ حملے کی شدید مذمت کرتی ہے۔

یہ مجلس اعلان کرتی ہے کہ رہبرِ انقلاب کی شہادت کی خبر کے فوراً بعد، جنگی حالات اور دشمن کی براہِ راست دھمکیوں کے باوجود، اور مجلس خبرگان کے دفاتر پر بمباری کے نتیجے میں بعض کارکنوں کی شہادت کے باوجود، اسلامی نظام کے نئے رہبر کے انتخاب کے عمل میں کوئی توقف نہیں کیا گیا۔ آئین کے تقاضوں کے مطابق فوری ہنگامی اجلاس کی تیاری کی گئی تاکہ ملک کو قیادت کے خلاء کا سامنا نہ ہو۔

مجلس خبرگان رهبری ولایت فقیه کے بلند مقام کو مدنظر رکھتے ہوئے اور انقلاب کے دونوں رہبروں کی 47 سالہ حکیمانہ قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اعلان کرتی ہے کہ آئین کی دفعہ 108 کے مطابق مکمل تحقیق و بررسی کے بعد آج کے ہنگامی اجلاس میں آیت‌الله سید مجتبی حسینی خامنه‌ای (حفظه‌الله) کو قاطع اکثریت کے ساتھ نظام جمهوری اسلامی ایران کے تیسرے رہبر کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔

آخر میں مجلس خبرگان ملتِ ایران خصوصاً حوزہ اور یونیورسٹی کے اہلِ علم کو قیادت کے ساتھ بیعت اور ولایت کے محور پر اتحاد برقرار رکھنے کی دعوت دیتی ہے[2]۔

والسلام علیکم و رحمه‌الله و برکاته مجلس خبرگان رهبری 1404/12/17

ردّ عمل

سپاه پاسداران انقلاب اسلامی

بسم الله الرحمن الرحیم يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَ أَطِيعُوا الرَّسُولَ وَ أُولِي الْأَمْرِ مِنْكُم. سوره =نساء آیه =59

ملتِ مؤمن ایران اسلامی؛ مجلس خبرگان رهبری کی جانب سےامام زمان (عجل‌الله تعالی فرجه الشریف) کے نائب عام اور ولایت فقیه|ولی فقیہ کے طور پر آیت‌الله سید مجتبی خامنه‌ای کے انتخاب پر ہم مبارکباد پیش کرتے ہیں اور خداوند متعال کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں نعمتِ ولایت عطا کی۔

ہم جامع الشرائط فقیه، جوان مفکر اور سیاسی و سماجی مسائل کے ماہر حضرت آیت‌الله سید مجتبی خامنه‌ای کے انتخاب پر تبریک پیش کرتے ہوئے اپنے احترام، ارادت اور اطاعت کا اعلان کرتے ہیں۔ یہ انتخاب انقلاب اسلامی کے ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے۔

سپاه پاسداران انقلاب اسلامی ولایت کا سپاہی ہونے کے ناطے مجلس خبرگان کے اس انتخاب کی مکمل حمایت کرتا ہے اور ولی فقیہ زمان حضرت آیت‌الله سید مجتبی خامنه‌ای کے احکامات کی اطاعت اور انقلاب اسلامی کی اقدار کے دفاع کے لیے آمادہ ہے۔

سپاه پاسداران انقلاب اسلامی 18 اسفند 1404

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

مآخذ