مندرجات کا رخ کریں

"چشتیه" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
«{{خانہ معلومات مذاہب اور فرقے | عنوان = چشتیه | تصویر = | تصویر کی وضاحت = | نام = چشتیه | عام نام = | تشکیل کا سال = | تشکیل کی تاریخ = | بانی = {{افقی باکس کی فہرست |شیخ ابو اسحاق چشتی}} | نظریہ = }} '''چشتیہ''' طریقتِ چشتیہ کے بانی شیخ ابو اسحاق چشتی ہیں، لیک...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
 
م Saeedi نے صفحہ مسودہ:چشتیه کو چشتیه کی جانب منتقل کیا
 
(ایک دوسرے صارف 2 کے درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 15: سطر 15:
قطب الدین کاکی، بابا فرید گنج شکر، نظام الدین اولیاء اور شیخ نصیر الدین چراغ دہلوی نے خواجہ معین الدین کے بعد سلسلہ چشتیہ کی قیادت کی۔
قطب الدین کاکی، بابا فرید گنج شکر، نظام الدین اولیاء اور شیخ نصیر الدین چراغ دہلوی نے خواجہ معین الدین کے بعد سلسلہ چشتیہ کی قیادت کی۔


اس سلسلے کا آغاز ابتدا میں افغانستان اور ماوراء النہر میں ہوا۔ پھر یہ ہندوستان اور پاکستان میں پھیل گیا اور آج بھی ان دونوں ممالک میں اس کے بہت سے پیروکار موجود ہیں۔
اس سلسلے کا آغاز ابتدا میں [[افغانستان]] اور ماوراء النہر میں ہوا۔ پھر یہ [[ہندوستان]] اور پاکستان میں پھیل گیا اور آج بھی ان دونوں ممالک میں اس کے بہت سے پیروکار موجود ہیں۔


== سلسله نسب طریقه چشتیه ==
== سلسله نسب طریقه چشتیه ==
شجرۂ نسبِ طریقتِ چشتیہ مختلف روایات کے مطابق درج ذیل طور پر ثبت کی گئی ہے:
شجرۂ نسبِ طریقتِ چشتیہ مختلف روایات کے مطابق درج ذیل طور پر ثبت کی گئی ہے:


الف) حضرت محمد ﷺ، حضرت علیؓ، حضرت امام حسنؓ، پھر حضرت مہدیؑ تک، اور کبھی حضرت امام جعفر صادقؑ سے بایزید بسطامی تک۔
الف) [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|حضرت محمد صل الله علیه وآله]] ، [[علی ابن ابی طالب|حضرت علی علیه السلام]]، حضرت [[حسن بن علی|امام حسن علیه السلام]]، پھر [[محمد بن حسن المهدی|حضرت مہدی عج]] تک، اور کبھی حضرت امام جعفر صادقؑ سے بایزید بسطامی تک۔


ب) حضرت علیؓ، حسن بصری، اور حسن بصری سے ایک شاخ حبیب عجمی تک اور دوسری عبدالواحد زید تک پہنچتی ہے۔ پھر عبدالواحد زید سے فضیل بن عیاض، اور ان سے ابراہیم ادہم، پھر حذیفہ مرعشی، ہبیرہ بصری، شیخ علو دینوری، شیخ ابواسحاق چشتی، اور ان سے شیخ ابواحمد چشتی، شیخ ابومحمد چشتی، شیخ مودود چشتی، حاجی شریف زندی چشتی، اور خواجہ عثمان هارونی چشتی و خواجه معین‌الدین سجزی.
ب) [[علی ابن ابی طالب|حضرت علی علیه السلام]]، حسن بصری، اور حسن بصری سے ایک شاخ حبیب عجمی تک اور دوسری عبدالواحد زید تک پہنچتی ہے۔ پھر عبدالواحد زید سے فضیل بن عیاض، اور ان سے [[ابراہیم ادہم]]، پھر حذیفہ مرعشی، ہبیرہ بصری، شیخ علو دینوری، شیخ ابواسحاق چشتی، اور ان سے شیخ ابواحمد چشتی، شیخ ابومحمد چشتی، شیخ مودود چشتی، حاجی شریف زندی چشتی، اور خواجہ عثمان هارونی چشتی و خواجه معین‌الدین سجزی تک پهنچتا هے.


== سلسله چشتیه کی قیادت ==
== سلسله چشتیه کی قیادت ==
سطر 32: سطر 32:


== سلسله کی ابتدا ==
== سلسله کی ابتدا ==
اس سلسلے کی ابتدا افغانستان اور ماوراء النہر میں ہوئی۔ بعد ازاں یہ ہندوستان اور پاکستان میں رائج ہوا، اور اس وقت ان دونوں ممالک میں اس کے بے شمار پیروکار موجود ہیں۔
اس سلسلے کی ابتدا [[افغانستان]] اور ماوراء النہر میں ہوئی۔ بعد ازاں یہ [[ہندوستان]] اور [[پاکستان]] میں رائج ہوا، اور اس وقت ان دونوں ممالک میں اس کے بے شمار پیروکار موجود ہیں۔


ایران میں، کئی برسوں کے بعد، حاج شیخ حسنعلی اصفہانی نخودکی (بندہ علی) سلسلۂ چشتیہ کے قطب بنے۔ وہ مشہد میں ارشاد و ہدایت فرماتے تھے اور عمر کے آخری ایام میں گاؤں نخودک میں مقیم ہو گئے۔ ان کے بعد ان کے فرزند آقا شیخ علی اصفہانی، جو طریقتی لقب «نجم الدین» سے معروف تھے، چشتیۂ ایران کے قطب مقرر ہوئے۔
[[ایران]] میں، کئی برسوں کے بعد، حاج شیخ حسنعلی اصفہانی نخودکی (بندہ علی) سلسلۂ چشتیہ کے قطب بنے۔ وہ [[مشهد|مشہد]] میں ارشاد و ہدایت فرماتے تھے اور عمر کے آخری ایام میں گاؤں نخودک میں مقیم ہو گئے۔ ان کے بعد ان کے فرزند آقا شیخ علی اصفہانی، جو طریقتی لقب «نجم الدین» سے معروف تھے، چشتیۂ ایران کے قطب مقرر ہوئے۔


== مشرب اعتقادی و مذهب فقهی ==
== مشرب اعتقادی و مذهب فقهی ==
سوفیائے چشتیہ فلسفی اعتبار سے ابتدا میں ابنِ عربی کے نظریۂ «وحدتِ وجود» کے پیرو تھے اور شریعت میں فقہِ حنفی کی اتباع کرتے تھے۔ اگرچہ وہ اہلِ سنت میں شمار ہوتے ہیں، لیکن اہلِ بیت اور حضرت علیؓ سے غیر معمولی محبت و عقیدت رکھتے ہیں۔ وہ خرقہ پوشی کی اصل حضرت محمد سے حضرت علیؓ تک پہنچاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ رسولِ اکرم نے معراج کی شب خداوند تعالیٰ سے «خرقۂ فقر» حاصل کیا اور اسے حضرت علیؓ کو عطا فرمایا۔ اسی بنا پر حضرت علیؓ کو خلافتِ کبریٰ کا حامل مانتے ہیں، اگرچہ ظاہری خلافت کے اعتبار سے انہیں چوتھا خلیفہ قرار دیتے ہیں۔⁴
سوفیائے چشتیہ فلسفی اعتبار سے ابتدا میں ابنِ عربی کے نظریۂ «وحدتِ وجود» کے پیرو تھے اور شریعت میں فقہِ [[حنفی]] کی اتباع کرتے تھے۔ اگرچہ وہ [[اہل سنت|اہلِ سنت]] میں شمار ہوتے ہیں، لیکن [[اہل بیت|اہلِ بیت]] اور [[علی ابن ابی طالب|حضرت علی]] سے غیر معمولی محبت و عقیدت رکھتے ہیں۔ وہ خرقہ پوشی کی اصل [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|حضرت محمد صل الله علیه وآله]] سے حضرت علی تک پہنچاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ رسولِ اکرم نے معراج کی شب خداوند تعالیٰ سے «خرقۂ فقر» حاصل کیا اور اسے حضرت علی کو عطا فرمایا۔ اسی بنا پر حضرت علی کو خلافتِ کبریٰ کا حامل مانتے ہیں، اگرچہ ظاہری خلافت کے اعتبار سے انہیں چوتھا خلیفہ قرار دیتے ہیں۔


چشتیہ کا ابتدائی مشرب ملامتی تھا۔ کہا جاتا ہے: «میں نے طریقِ ملامت میں احمد چشتی سے زیادہ قوی اور کامل کسی کو نہیں دیکھا» اور تمام چشتی اسی رنگ میں تھے۔ وہ لوگوں سے بے خوف، باطن سے پاک، معرفت و فراست میں چست تھے اور ان کے تمام احوال اخلاص اور ترکِ ریا پر مبنی تھے، اور وہ شریعت میں کسی قسم کی سستی روا نہیں رکھتے تھے۔⁵
چشتیہ کا ابتدائی مشرب ملامتی تھا۔ کہا جاتا ہے: «میں نے طریقِ ملامت میں احمد چشتی سے زیادہ قوی اور کامل کسی کو نہیں دیکھا» اور تمام چشتی اسی رنگ میں تھے۔ وہ لوگوں سے بے خوف، باطن سے پاک، معرفت و فراست میں چست تھے اور ان کے تمام احوال اخلاص اور ترکِ ریا پر مبنی تھے، اور وہ شریعت میں کسی قسم کی سستی روا نہیں رکھتے تھے۔


== سماع ==
چشتیہ سماع اور مزمار سے بھی خاص دلچسپی رکھتے تھے۔ قطب الدین بختیار کاکی جب حالتِ سماع میں تھے تو احمد جام ژندہ پیل کا ایک شعر پڑھا گیا، جس سے ان کی حالت بدل گئی، وہ بے ہوش ہو گئے اور ایک شب و روز تک اسی شعر پر سماع کرتے رہے، یہاں تک کہ اسی حال میں وفات پا گئے۔²
چشتیہ سماع اور مزمار سے بھی خاص دلچسپی رکھتے تھے۔ قطب الدین بختیار کاکی جب حالتِ سماع میں تھے تو احمد جام ژندہ پیل کا ایک شعر پڑھا گیا، جس سے ان کی حالت بدل گئی، وہ بے ہوش ہو گئے اور ایک شب و روز تک اسی شعر پر سماع کرتے رہے، یہاں تک کہ اسی حال میں وفات پا گئے۔²


== سماع ==
مجالسِ سماع اور قوالی عام اور خاص دونوں صورتوں میں منعقد ہوتی تھیں۔ عام مجالس عرسوں اور کبھی جمعرات کے دنوں میں منعقد ہوتیں، اور لوگ قوالوں کو نذرانے پیش کرتے تھے۔ البتہ محرم اور رمضان کے مہینے میں مجالسِ سماع معطل رہتی تھیں۔
مجالسِ سماع اور قوالی عام اور خاص دونوں صورتوں میں منعقد ہوتی تھیں۔ عام مجالس عرسوں اور کبھی جمعرات کے دنوں میں منعقد ہوتیں، اور لوگ قوالوں کو نذرانے پیش کرتے تھے۔ البتہ محرم اور رمضان کے مہینے میں مجالسِ سماع معطل رہتی تھیں۔


سطر 68: سطر 68:
«ذکرِ حلقہ» مسلسل اور مخفی طور پر «اللہ» کہنا ہے۔ اس کے علاوہ تین پایہ، چار ضربی اور چھ ضربی اذکار بھی ہیں، اور ایک ذکر ایسا ہے جس میں «لا الٰہ الا اللہ» کو مختصر کر کے «ہَ، ہَ، ہَ» کی صورت میں دل کے دائیں اور بائیں جانب ضرب دی جاتی ہے۔ یہ سب مجاہدات شمار ہوتے ہیں۔
«ذکرِ حلقہ» مسلسل اور مخفی طور پر «اللہ» کہنا ہے۔ اس کے علاوہ تین پایہ، چار ضربی اور چھ ضربی اذکار بھی ہیں، اور ایک ذکر ایسا ہے جس میں «لا الٰہ الا اللہ» کو مختصر کر کے «ہَ، ہَ، ہَ» کی صورت میں دل کے دائیں اور بائیں جانب ضرب دی جاتی ہے۔ یہ سب مجاہدات شمار ہوتے ہیں۔


مشاہدہ اور مکاشفہ کی تمہید «مراقبہ» ہے۔ مراقبہ میں شیخ کی صورت اور «لا الٰہ الا اللہ» کی تحریر کو لوحِ خیال میں تصور کیا جاتا ہے، اور خدا کو اپنے اعمال پر ناظر، دل میں حاضر اور اپنے قریب سمجھا جاتا ہے۔ مراقبہ کی مختلف اقسام بیان کی گئی ہیں، جیسے: حضور، قلبی، قربت، معیت، احاطت، افعال، صفات، فنا، ذاتی، شہود، وجودی، جمال، امانت، پیر، آئینہ، ہویت، ہیبت، وجہ اللہ، عرش، محاسبہ، فردانیت، صمدیت، وحدت اور کثرت وغیرہ۔³
مشاہدہ اور مکاشفہ کی تمہید «مراقبہ» ہے۔ مراقبہ میں شیخ کی صورت اور «لا الٰہ الا اللہ» کی تحریر کو لوحِ خیال میں تصور کیا جاتا ہے، اور خدا کو اپنے اعمال پر ناظر، دل میں حاضر اور اپنے قریب سمجھا جاتا ہے۔ مراقبہ کی مختلف اقسام بیان کی گئی ہیں، جیسے: حضور، قلبی، قربت، معیت، احاطت، افعال، صفات، فنا، ذاتی، شہود، وجودی، جمال، امانت، پیر، آئینہ، ہویت، ہیبت، وجہ اللہ، عرش، محاسبہ، فردانیت، صمدیت، وحدت اور کثرت وغیرہ۔


چشتیہ «یا فتاح» کے ذکر کو ستارے کی شکل میں دل پر تصور کرتے اور ایک سے چھ کونوں تک اسے نقش کرتے تھے۔ ان کے معمول کے اذکار میں روزانہ ستر مرتبہ «حسبنا اللہ و نعم الوکیل»، سوتے وقت آیت الکرسی، سحر کے وقت تسبیحاتِ حضرت فاطمہؓ، اور سورۂ کہف کی آخری آیت «قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ» کی تلاوت شامل تھی۔ رات میں بیدار ہونے کے بعد چودہ یا چار مرتبہ درود، نمازِ شب، اور تین سو ساٹھ مرتبہ «یا حی یا قیوم» حبسِ نفس کے ساتھ پڑھنا بھی ان کے اعمال میں شامل تھا۔ نمازِ فجر کے بعد سینے پر ہاتھ رکھ کر ستر مرتبہ «یا فتاح»، گیارہ مرتبہ «نادِ علی مظهر العجائب»، اور پھر ایک سو دس مرتبہ ذکرِ یونسیہ پڑھتے تھے۔¹
چشتیہ «یا فتاح» کے ذکر کو ستارے کی شکل میں دل پر تصور کرتے اور ایک سے چھ کونوں تک اسے نقش کرتے تھے۔ ان کے معمول کے اذکار میں روزانہ ستر مرتبہ «حسبنا اللہ و نعم الوکیل»، سوتے وقت آیت الکرسی، سحر کے وقت تسبیحاتِ حضرت فاطمہؓ، اور سورۂ کہف کی آخری آیت «قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ» کی تلاوت شامل تھی۔ رات میں بیدار ہونے کے بعد چودہ یا چار مرتبہ درود، نمازِ شب، اور تین سو ساٹھ مرتبہ «یا حی یا قیوم» حبسِ نفس کے ساتھ پڑھنا بھی ان کے اعمال میں شامل تھا۔ نمازِ فجر کے بعد سینے پر ہاتھ رکھ کر ستر مرتبہ «یا فتاح»، گیارہ مرتبہ «نادِ علی مظهر العجائب»، اور پھر ایک سو دس مرتبہ ذکرِ یونسیہ پڑھتے تھے۔


طالب کو مغرب اور عشاء کے درمیان چالیس یا اکتالیس مرتبہ «یا حی یا قیوم» کہنا چاہیے۔ چالیس راتوں تک ہر رات ایک ہزار ایک مرتبہ یہی ذکر قلب سے جاری کرنا ضروری تھا۔ ذکر شروع کرنے سے پہلے چودہ مرتبہ درود اور تین مرتبہ آیتِ نور، اور اختتام پر پھر چودہ مرتبہ درود پڑھا جاتا تھا۔ چالیس دن تک نمازِ فجر کے بعد سات درود اور ایک سو دس مرتبہ «یا قاہر العدو» یا «یا ولی الوالی» یا «یا مظهر العجائب یا مرتضیٰ» پڑھنا بھی معمول تھا۔
طالب کو مغرب اور عشاء کے درمیان چالیس یا اکتالیس مرتبہ «یا حی یا قیوم» کہنا چاہیے۔ چالیس راتوں تک ہر رات ایک ہزار ایک مرتبہ یہی ذکر قلب سے جاری کرنا ضروری تھا۔ ذکر شروع کرنے سے پہلے چودہ مرتبہ درود اور تین مرتبہ آیتِ نور، اور اختتام پر پھر چودہ مرتبہ درود پڑھا جاتا تھا۔ چالیس دن تک نمازِ فجر کے بعد سات درود اور ایک سو دس مرتبہ «یا قاہر العدو» یا «یا ولی الوالی» یا «یا مظهر العجائب یا مرتضیٰ» پڑھنا بھی معمول تھا۔
سطر 77: سطر 77:


== مرید اور مرشد ==
== مرید اور مرشد ==
مرید کے مختلف درجات ہیں: «سالک» یعنی راہِ طریقت کا مسافر، «واقف» یعنی وہ سالک جس نے سلوک میں کچھ توقف کیا ہو، اور «راجع»۔²
مرید کے مختلف درجات ہیں: «سالک» یعنی راہِ طریقت کا مسافر، «واقف» یعنی وہ سالک جس نے سلوک میں کچھ توقف کیا ہو، اور «راجع»۔


چشتیہ پیر سے وابستگی کو «تحکیم» کہتے ہیں، یعنی طالب مکمل طور پر پیر کے حکم کے تابع ہو اور بلا چون و چرا اس کے قول و فعل کی پیروی کرے۔ روایت ہے کہ نظام الدین اولیاء نے ایک لفظ کے اعراب اسی طرح پڑھے جیسے شیخ فرید الدین نے سکھائے تھے، اور فرمایا: «اگر سیبویہ بھی اس کے خلاف کہے، تب بھی میں وہی پڑھوں گا جو میرے شیخ نے فرمایا ہے۔»³
چشتیہ پیر سے وابستگی کو «تحکیم» کہتے ہیں، یعنی طالب مکمل طور پر پیر کے حکم کے تابع ہو اور بلا چون و چرا اس کے قول و فعل کی پیروی کرے۔ روایت ہے کہ نظام الدین اولیاء نے ایک لفظ کے اعراب اسی طرح پڑھے جیسے شیخ فرید الدین نے سکھائے تھے، اور فرمایا: «اگر سیبویہ بھی اس کے خلاف کہے، تب بھی میں وہی پڑھوں گا جو میرے شیخ نے فرمایا ہے۔»³


مرشد کے لیے ضروری ہے کہ وہ خود کسی پیر کا مرید رہا ہو، سلوک کی راہ طے کی ہو، صاحبِ آداب ہو، دنیاوی مال کی حرص نہ رکھتا ہو، نرمی اور سنجیدگی سے مریدوں کی تربیت کرے، سختی سے پرہیز کرے، زبان سے زیادہ اشارے سے نصیحت کرے، صرف رضائے الٰہی کے لیے مرید قبول کرے، اور جن چیزوں سے مرید کو روکتا ہے خود بھی ان سے بچتا ہو۔⁴
مرشد کے لیے ضروری ہے کہ وہ خود کسی پیر کا مرید رہا ہو، سلوک کی راہ طے کی ہو، صاحبِ آداب ہو، دنیاوی مال کی حرص نہ رکھتا ہو، نرمی اور سنجیدگی سے مریدوں کی تربیت کرے، سختی سے پرہیز کرے، زبان سے زیادہ اشارے سے نصیحت کرے، صرف رضائے الٰہی کے لیے مرید قبول کرے، اور جن چیزوں سے مرید کو روکتا ہے خود بھی ان سے بچتا ہو۔


خرقۂ چشتیہ دو قسم کا ہے: «خرقۂ ارادت» اور «خرقۂ تبرک»۔ خرقۂ ارادت حقیقی مریدوں کے لیے مخصوص ہے۔ خلافت تین طریقوں سے حاصل ہوتی ہے:
خرقۂ چشتیہ دو قسم کا ہے: «خرقۂ ارادت» اور «خرقۂ تبرک»۔ خرقۂ ارادت حقیقی مریدوں کے لیے مخصوص ہے۔ خلافت تین طریقوں سے حاصل ہوتی ہے:
سطر 88: سطر 88:
۳۔ شفاعت و توحید، یعنی کسی کی سفارش پر شیخ خلافت عطا کرے۔
۳۔ شفاعت و توحید، یعنی کسی کی سفارش پر شیخ خلافت عطا کرے۔


لکھا گیا ہے کہ چشتیہ تمباکو، بھنگ، حشیش، توتون اور شراب سے اجتناب کرتے ہیں۔ شیخِ چشتی کے لیے ضروری ہے کہ وہ مراحلِ مریدی طے کر چکا ہو، صاحبِ آداب، سخی، بے ریا، دنیاوی لالچ سے پاک، مہربان ہو، اور تربیت و تلقینِ ذکر میں زیادہ تر اشارے سے نصیحت کرے۔
لکھا گیا ہے کہ چشتیہ تمباکو، بھنگ، حشیش، توتون اور شراب سے اجتناب کرتے ہیں۔ شیخِ چشتی کے لیے ضروری ہے کہ وہ مراحلِ مریدی طے کر چکا ہو، صاحبِ آداب، سخی، بے ریا، دنیاوی لالچ سے پاک، مہربان ہو، اور تربیت و تلقینِ ذکر میں زیادہ تر اشارے سے نصیحت کرے۔<ref>پشمینه پوشان فرهنگ سلسله های صوفیه تحریر: علی سیدین ص 104 تا 112</ref>


== حوالہ جات ==
== حوالہ جات ==

حالیہ نسخہ بمطابق 13:26، 30 جون 2026ء

چشتیه
نامچشتیه
بانی
  • شیخ ابو اسحاق چشتی

چشتیہ طریقتِ چشتیہ کے بانی شیخ ابو اسحاق چشتی ہیں، لیکن اس صوفی سلسلے کے اصل مروج، خصوصاً برِصغیر میں، خواجہ معین الدین سجزی اجمیری چشتی ہیں۔ چشت کو ہرات کے قریب واقع دیہات میں شمار کیا گیا ہے، اور سجزی نسبت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ اصلًا سیستانی تھے۔

قطب الدین کاکی، بابا فرید گنج شکر، نظام الدین اولیاء اور شیخ نصیر الدین چراغ دہلوی نے خواجہ معین الدین کے بعد سلسلہ چشتیہ کی قیادت کی۔

اس سلسلے کا آغاز ابتدا میں افغانستان اور ماوراء النہر میں ہوا۔ پھر یہ ہندوستان اور پاکستان میں پھیل گیا اور آج بھی ان دونوں ممالک میں اس کے بہت سے پیروکار موجود ہیں۔

سلسله نسب طریقه چشتیه

شجرۂ نسبِ طریقتِ چشتیہ مختلف روایات کے مطابق درج ذیل طور پر ثبت کی گئی ہے:

الف) حضرت محمد صل الله علیه وآله ، حضرت علی علیه السلام، حضرت امام حسن علیه السلام، پھر حضرت مہدی عج تک، اور کبھی حضرت امام جعفر صادقؑ سے بایزید بسطامی تک۔

ب) حضرت علی علیه السلام، حسن بصری، اور حسن بصری سے ایک شاخ حبیب عجمی تک اور دوسری عبدالواحد زید تک پہنچتی ہے۔ پھر عبدالواحد زید سے فضیل بن عیاض، اور ان سے ابراہیم ادہم، پھر حذیفہ مرعشی، ہبیرہ بصری، شیخ علو دینوری، شیخ ابواسحاق چشتی، اور ان سے شیخ ابواحمد چشتی، شیخ ابومحمد چشتی، شیخ مودود چشتی، حاجی شریف زندی چشتی، اور خواجہ عثمان هارونی چشتی و خواجه معین‌الدین سجزی تک پهنچتا هے.

سلسله چشتیه کی قیادت

سلسلہ چشتیہ کے بانی شیخ ابو اسحاق چشتی ہیں، لیکن اس صوفی سلسلے کے اصل مروج، خصوصاً برِصغیر میں، خواجہ معین الدین سجزی اجمیری چشتی ہیں۔ چشت کو ہرات کے قریب واقع دیہات میں شمار کیا گیا ہے، اور سجزی نسبت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ اصلًا سیستانی تھے۔

خواجہ معین الدین ۵۳۷ ہجری میں پیدا ہوئے اور اپنے مریدوں کے درمیان سلطانِ ہند، خواجہ اجمیر، ولیِ ہند، خواجۂ خواجگان، خواجہ غریب نواز، خواجہ بزرگ اور خواجہ راستین کے القابات سے مشہور تھے۔ ان کا مزار، جو درگاہ شریف کے نام سے اجمیر (بھارت) میں واقع ہے، چشتیوں کی زیارت گاہ ہے اور اس کی زیارت کو “حجِ دوم” قرار دیا جاتا ہے۔ انہوں نے “انیس الارواح، حدیق المعارف، دلیل العارفین، رسالہ در آداب دم زدن، رسالہ در تصوف، رسالہ وجودیہ، کشف الاسرار، گنج الاسرار اور مکاتیب” جیسی کتب تصنیف کر کے اصولِ چشتیہ کی تدوین کی۔

خواجہ معین الدین کے بعد قطب الدین کاکی، بابا فرید گنج شکر، نظام الدین اولیاء اور شیخ نصیر الدین چراغ دہلوی نے سلسلہ چشتیہ کی قیادت کی۔ نصیر الدین کے عہد میں اس سلسلے کی ساکھ میں کمی آئی اور بظاہر اقطاب (مشائخ) کی کثرت اس کے زوال کا سبب بنی، یہاں تک کہ شیخ نصیر الدین نے فرمایا: “میں کس قابل ہوں کہ شیخی (پیری) کروں، آج کل تو یہ کام بچوں کا کھیل بن گیا ہے۔” انہوں نے اپنا جانشین (خلیفہ) مقرر کرنے سے انکار کر دیا اور وصیت کی کہ ان کا خرقہ، عصا اور مصلیٰ، جو عام طور پر خلیفہ کو دیا جاتا ہے، ان کے ساتھ ہی دفن کر دیا جائے۔

سلسله کی ابتدا

اس سلسلے کی ابتدا افغانستان اور ماوراء النہر میں ہوئی۔ بعد ازاں یہ ہندوستان اور پاکستان میں رائج ہوا، اور اس وقت ان دونوں ممالک میں اس کے بے شمار پیروکار موجود ہیں۔

ایران میں، کئی برسوں کے بعد، حاج شیخ حسنعلی اصفہانی نخودکی (بندہ علی) سلسلۂ چشتیہ کے قطب بنے۔ وہ مشہد میں ارشاد و ہدایت فرماتے تھے اور عمر کے آخری ایام میں گاؤں نخودک میں مقیم ہو گئے۔ ان کے بعد ان کے فرزند آقا شیخ علی اصفہانی، جو طریقتی لقب «نجم الدین» سے معروف تھے، چشتیۂ ایران کے قطب مقرر ہوئے۔

مشرب اعتقادی و مذهب فقهی

سوفیائے چشتیہ فلسفی اعتبار سے ابتدا میں ابنِ عربی کے نظریۂ «وحدتِ وجود» کے پیرو تھے اور شریعت میں فقہِ حنفی کی اتباع کرتے تھے۔ اگرچہ وہ اہلِ سنت میں شمار ہوتے ہیں، لیکن اہلِ بیت اور حضرت علی سے غیر معمولی محبت و عقیدت رکھتے ہیں۔ وہ خرقہ پوشی کی اصل حضرت محمد صل الله علیه وآله سے حضرت علی تک پہنچاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ رسولِ اکرم نے معراج کی شب خداوند تعالیٰ سے «خرقۂ فقر» حاصل کیا اور اسے حضرت علی کو عطا فرمایا۔ اسی بنا پر حضرت علی کو خلافتِ کبریٰ کا حامل مانتے ہیں، اگرچہ ظاہری خلافت کے اعتبار سے انہیں چوتھا خلیفہ قرار دیتے ہیں۔

چشتیہ کا ابتدائی مشرب ملامتی تھا۔ کہا جاتا ہے: «میں نے طریقِ ملامت میں احمد چشتی سے زیادہ قوی اور کامل کسی کو نہیں دیکھا» اور تمام چشتی اسی رنگ میں تھے۔ وہ لوگوں سے بے خوف، باطن سے پاک، معرفت و فراست میں چست تھے اور ان کے تمام احوال اخلاص اور ترکِ ریا پر مبنی تھے، اور وہ شریعت میں کسی قسم کی سستی روا نہیں رکھتے تھے۔

سماع

چشتیہ سماع اور مزمار سے بھی خاص دلچسپی رکھتے تھے۔ قطب الدین بختیار کاکی جب حالتِ سماع میں تھے تو احمد جام ژندہ پیل کا ایک شعر پڑھا گیا، جس سے ان کی حالت بدل گئی، وہ بے ہوش ہو گئے اور ایک شب و روز تک اسی شعر پر سماع کرتے رہے، یہاں تک کہ اسی حال میں وفات پا گئے۔²

مجالسِ سماع اور قوالی عام اور خاص دونوں صورتوں میں منعقد ہوتی تھیں۔ عام مجالس عرسوں اور کبھی جمعرات کے دنوں میں منعقد ہوتیں، اور لوگ قوالوں کو نذرانے پیش کرتے تھے۔ البتہ محرم اور رمضان کے مہینے میں مجالسِ سماع معطل رہتی تھیں۔

ملامتی رجحانات اور سماع سے وابستگی کی وجہ سے فقہائے شریعت ان کی مخالفت کرتے تھے، جس سے اس سلسلے کی مقبولیت کم ہونے لگی اور عوام میں بھی ان کے خلاف ناراضی پیدا ہوئی۔ یہاں تک کہ شیخ نصیر الدین، المعروف چراغِ دہلی اور ملقب بہ «ابوحنیفۂ ثانی»، نے اس سلسلے کو زوال سے بچانے کے لیے شریعت کے اصولوں پر سخت زور دیا۔ انہوں نے زمین بوسی، سماع اور مزمار کی رسموں کو منسوخ کر دیا۔ سید محمد گیسودراز نے بھی ابنِ عربی کے نظریۂ وحدتِ وجود سے رجوع کر کے سہروردی کے عقائد کو سلسلۂ چشتیہ کی بنیاد بنایا۔⁴

داخله کی شرایط

اس سلسلے میں داخلہ نسبتاً آسان شرائط کے ساتھ ہوتا ہے۔ بعض دوسرے طرق کے برخلاف، کسی رہبر پیر کی موجودگی ضروری نہیں۔ طالب، مرشد کی عدم موجودگی میں بھی اس سلسلے میں داخل ہو سکتا ہے۔ سید محمد گیسودراز، المعروف خواجہ بندہ نواز، کے زمانے میں مرید بنانے کے آداب نہایت سادہ ہو گئے تھے۔ وہ طالبوں کے لیے عام اجازت دیتے تھے۔ طالب وضو کرتا، ٹوپی زمین پر رکھتا اور پیر کا نام زبان پر جاری کرتا، پھر دو رکعت نماز ادا کرتا اور فقراء کو نیاز دیتا، اس طرح وہ خواجہ کے مریدوں میں شمار ہو جاتا۔

حتیٰ کہ طالب خواجہ سے دور رہتے ہوئے بھی روٹی، نمک اور تھوڑی سی شکر ایک برتن میں رکھ کر اسے اس نیت سے کسی ایسے دریا میں بہا دیتا جو سمندر سے متصل ہو۔ کہا جاتا تھا: «وہ چیز میرے [خواجہ بندہ نواز] تک پہنچ جاتی ہے، اور اسی لمحے طالبِ فقر میری مریدی میں قبول ہو جاتا ہے۔»¹

اس سے بھی آسان طریقہ یہ تھا کہ طالب غسلِ توبہ کرے، پھر غسلِ اویسی ادا کرے اور حضرت اویس قرنیؒ کی روح کو فاتحہ پیش کرے، تو وہ سلسلۂ چشتیہ میں شامل سمجھا جاتا تھا۔²

عورتیں بھی سلسلۂ چشتیہ میں شامل ہو سکتی تھیں، اگرچہ اس پر زیادہ اصرار نہیں کیا جاتا تھا۔ عورت مرید وضو کر کے، ہاتھ مکمل ڈھانپ کر اپنی انگلی پانی کے برتن میں رکھتی، اور دوسری طرف شیخ بھی اپنی انگلی پانی میں رکھ کر ذکر کی تلقین کرتا تھا۔³

خواجہ بندہ نواز سے پہلے سلسلۂ چشتیہ میں داخلہ سخت ریاضتوں اور مسلسل چلہ کشیوں کے ساتھ وابستہ تھا۔ طالبِ چشتی کو پچیس مسلسل چلے مکمل کرنا ہوتے تھے۔ وہ حبسِ نفس، اذکارِ نفی و اثبات («لا الٰہ» اور «الا اللہ»)، نمازِ شب، اذکارِ لسانی اور روزۂ وصال ادا کرتا تھا۔ روزۂ وصال میں ابتدا میں دو دن بعد افطار کرتا، پھر رفتہ رفتہ افطار کا وقفہ بڑھاتا اور بہت کم غذا پر اکتفا کرتا۔ روزانہ ہزار مرتبہ تہلیل اور استغفار پڑھتا تھا۔

تیسری رات غسل کر کے شیخ کے پاس آتا، سورۂ فاتحہ اور اخلاص پڑھتا، پھر مرشد اپنا دایاں ہاتھ مرید کے ہاتھ پر رکھ کر بیعت لیتا۔ اس کے بعد مرید خرقۂ فقر پہنتا اور ذکر کی تلقین حاصل کرتا۔

اذکار

چشتیہ کے اذکار میں «ذکرِ نفی و اثبات» اہم ہے۔ طالب کو «لا الٰہ» اور «الا اللہ» کو پانچ مرتبہ تصور کے قلم سے دل پر نقش کرنا ہوتا ہے۔ اسے «پانچ ضرب» کہا جاتا ہے، اور آگے بڑھنے پر «چھ ضرب» بھی کیا جا سکتا ہے۔¹

ذکرِ چار ضرب میں چند شرائط لازم تھیں، جن میں «برزخ، ذات، صفات، مدّ، شدّ، تحت اور فوق» شامل ہیں۔ برزخ سے مراد شیخ کی صورت، ذات سے وجودِ مطلقِ خداوندی، اور صفات سے حیات، علم، قدرت، ارادہ، سمع، بصر اور کلامِ الٰہی ہیں۔ «مدّ» یعنی «لا الٰہ» کو کھینچ کر پڑھنا، «شدّ» یعنی «الا اللہ» پر تشدید۔ «تحت» سے مراد ذکر کا آغاز بائیں گھٹنے سے کرنا اور «فوق» یہ کہ سانس روک کر قوت کے ساتھ «الا اللہ» کو دل پر وارد کیا جائے۔²

«ذکرِ حلقہ» مسلسل اور مخفی طور پر «اللہ» کہنا ہے۔ اس کے علاوہ تین پایہ، چار ضربی اور چھ ضربی اذکار بھی ہیں، اور ایک ذکر ایسا ہے جس میں «لا الٰہ الا اللہ» کو مختصر کر کے «ہَ، ہَ، ہَ» کی صورت میں دل کے دائیں اور بائیں جانب ضرب دی جاتی ہے۔ یہ سب مجاہدات شمار ہوتے ہیں۔

مشاہدہ اور مکاشفہ کی تمہید «مراقبہ» ہے۔ مراقبہ میں شیخ کی صورت اور «لا الٰہ الا اللہ» کی تحریر کو لوحِ خیال میں تصور کیا جاتا ہے، اور خدا کو اپنے اعمال پر ناظر، دل میں حاضر اور اپنے قریب سمجھا جاتا ہے۔ مراقبہ کی مختلف اقسام بیان کی گئی ہیں، جیسے: حضور، قلبی، قربت، معیت، احاطت، افعال، صفات، فنا، ذاتی، شہود، وجودی، جمال، امانت، پیر، آئینہ، ہویت، ہیبت، وجہ اللہ، عرش، محاسبہ، فردانیت، صمدیت، وحدت اور کثرت وغیرہ۔

چشتیہ «یا فتاح» کے ذکر کو ستارے کی شکل میں دل پر تصور کرتے اور ایک سے چھ کونوں تک اسے نقش کرتے تھے۔ ان کے معمول کے اذکار میں روزانہ ستر مرتبہ «حسبنا اللہ و نعم الوکیل»، سوتے وقت آیت الکرسی، سحر کے وقت تسبیحاتِ حضرت فاطمہؓ، اور سورۂ کہف کی آخری آیت «قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ» کی تلاوت شامل تھی۔ رات میں بیدار ہونے کے بعد چودہ یا چار مرتبہ درود، نمازِ شب، اور تین سو ساٹھ مرتبہ «یا حی یا قیوم» حبسِ نفس کے ساتھ پڑھنا بھی ان کے اعمال میں شامل تھا۔ نمازِ فجر کے بعد سینے پر ہاتھ رکھ کر ستر مرتبہ «یا فتاح»، گیارہ مرتبہ «نادِ علی مظهر العجائب»، اور پھر ایک سو دس مرتبہ ذکرِ یونسیہ پڑھتے تھے۔

طالب کو مغرب اور عشاء کے درمیان چالیس یا اکتالیس مرتبہ «یا حی یا قیوم» کہنا چاہیے۔ چالیس راتوں تک ہر رات ایک ہزار ایک مرتبہ یہی ذکر قلب سے جاری کرنا ضروری تھا۔ ذکر شروع کرنے سے پہلے چودہ مرتبہ درود اور تین مرتبہ آیتِ نور، اور اختتام پر پھر چودہ مرتبہ درود پڑھا جاتا تھا۔ چالیس دن تک نمازِ فجر کے بعد سات درود اور ایک سو دس مرتبہ «یا قاہر العدو» یا «یا ولی الوالی» یا «یا مظهر العجائب یا مرتضیٰ» پڑھنا بھی معمول تھا۔

چشتیہ کے نزدیک توبہ دو قسم کی ہے: «توبۂ عوام» اور «توبۂ خواص»۔ عوام کی توبہ گناہوں سے بچنے کے لیے، جبکہ خواص کی توبہ ماسویٰ اللہ سے دوری اختیار کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ نظام الدین چشتی نے توبہ کو «توبۂ حال» (گناہوں پر ندامت)، «توبۂ ماضی» (لوگوں کے حقوق ادا کرنا اور سابقہ لغزشوں کی تلافی)، اور «توبۂ مستقبل» (آئندہ گناہوں سے اجتناب) میں تقسیم کیا۔¹

مرید اور مرشد

مرید کے مختلف درجات ہیں: «سالک» یعنی راہِ طریقت کا مسافر، «واقف» یعنی وہ سالک جس نے سلوک میں کچھ توقف کیا ہو، اور «راجع»۔

چشتیہ پیر سے وابستگی کو «تحکیم» کہتے ہیں، یعنی طالب مکمل طور پر پیر کے حکم کے تابع ہو اور بلا چون و چرا اس کے قول و فعل کی پیروی کرے۔ روایت ہے کہ نظام الدین اولیاء نے ایک لفظ کے اعراب اسی طرح پڑھے جیسے شیخ فرید الدین نے سکھائے تھے، اور فرمایا: «اگر سیبویہ بھی اس کے خلاف کہے، تب بھی میں وہی پڑھوں گا جو میرے شیخ نے فرمایا ہے۔»³

مرشد کے لیے ضروری ہے کہ وہ خود کسی پیر کا مرید رہا ہو، سلوک کی راہ طے کی ہو، صاحبِ آداب ہو، دنیاوی مال کی حرص نہ رکھتا ہو، نرمی اور سنجیدگی سے مریدوں کی تربیت کرے، سختی سے پرہیز کرے، زبان سے زیادہ اشارے سے نصیحت کرے، صرف رضائے الٰہی کے لیے مرید قبول کرے، اور جن چیزوں سے مرید کو روکتا ہے خود بھی ان سے بچتا ہو۔

خرقۂ چشتیہ دو قسم کا ہے: «خرقۂ ارادت» اور «خرقۂ تبرک»۔ خرقۂ ارادت حقیقی مریدوں کے لیے مخصوص ہے۔ خلافت تین طریقوں سے حاصل ہوتی ہے: ۱۔ خلافتِ رحمانی، جو پیر کے الہام سے عطا ہوتی ہے؛ ۲۔ اجتہاد، یعنی اعمال دیکھ کر کسی کو خلافت کے لائق سمجھا جائے؛ ۳۔ شفاعت و توحید، یعنی کسی کی سفارش پر شیخ خلافت عطا کرے۔

لکھا گیا ہے کہ چشتیہ تمباکو، بھنگ، حشیش، توتون اور شراب سے اجتناب کرتے ہیں۔ شیخِ چشتی کے لیے ضروری ہے کہ وہ مراحلِ مریدی طے کر چکا ہو، صاحبِ آداب، سخی، بے ریا، دنیاوی لالچ سے پاک، مہربان ہو، اور تربیت و تلقینِ ذکر میں زیادہ تر اشارے سے نصیحت کرے۔[1]

حوالہ جات

  1. پشمینه پوشان فرهنگ سلسله های صوفیه تحریر: علی سیدین ص 104 تا 112