محمدعلی جعفری
| محمدعلی جعفری | |
|---|---|
| پورا نام | محمدعلی جعفری |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 1958 ء |
| پیدائش کی جگہ | یزد ایران |
| مذہب | اسلام، شیعہ |
| اثرات | بیچلر انجینئرنگِ معماری (جامعہ تہران)، ماسٹر کمانڈ اینڈ اسٹاف (جامعہ امام حسین) |
| مناصب | سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر ان چیف، سپاہ پاسداران کی زمینی فورس کے کمانڈر، قرارگاہ غرب کے کمانڈر، قرارگاہ نجف کے کمانڈر، قرارگاہ قدس کے کمانڈر، سپاہ کی زمینی فورس کے نائب کمانڈر |
محمدعلی جعفری، جو عزیز جعفری کے نام سے بھی معروف ہیں، ایک ایرانی فوجی اور سیاست دان ہیں جو سنہ ۱۳۸۶ سے ۱۳۹۸ شمسی تک سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر ان چیف رہے۔ وہ ۱۳۳۶ شمسی میں یزد شہر میں پیدا ہوئے اور انہوں نے اپنی تعلیم انجینئرنگِ معماری اور فوجی قیادت کے شعبوں میں حاصل کی۔ جعفری نے دفاعِ مقدس کے دوران قرارگاہ غرب، قرارگاہ نجف اور قرارگاہ قدس کی قیادت کی اور تیپ عاشورا میں بھی خدمات انجام دیں۔ سنہ ۱۳۹۸ شمسی میں رہبرِ معظم انقلاب اسلامی کے حکم سے وہ سپاہ کی کمان سے سبکدوش ہوئے اور حسین سلامی ان کے جانشین مقرر ہوئے۔
سوانح حیات
محمدعلی جعفری ۱۰ شهریور ۱۳۳۶ کو یزد شہر میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد یزد کے روایتی معماروں میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے ڈپلومہ حاصل کرنے کے بعد سنہ ۱۳۵۴ شمسی میں دانشگاه تهران کے فائن آرٹس فیکلٹی میں داخلہ لیا اور انجینئرنگِ معماری کی تعلیم حاصل کی۔
جنگ ایران و عراق کے دوران سوسنگرد کے آپریشنوں کے درمیان شیخ غلامحسین بشردوست کی وساطت سے انہوں نے ان کی ایک بہن سے شادی کی۔ اس شادی سے دو بچے (ایک بیٹا اور ایک بیٹی) ہیں۔
سنہ ۱۳۵۷ شمسی میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ کے واقعے کے دوران وہ اسلامی طلبہ انجمن کے نمائندے کے طور پر علیرضا افشار کے ساتھ یرغمال بنانے والے گروہ میں شامل ہوئے۔ انقلاب کے بعد وہ سازمان بسیج مستضعفین کی مرکزی کونسل میں شامل ہوئے اور بعد میں انقلابِ ثقافتی کے پاسداران یونٹ اور سپاہ کے انٹیلی جنس شعبے سے وابستہ ہو کر استان کردستان بھیجے گئے۔ سپاہ پاسداران کے جنگی یونٹوں میں ان کی باضابطہ شمولیت خرداد ۱۳۶۰ میں ہوئی۔
دفاعِ مقدس میں کردار
ایران۔عراق جنگ کے دوران جعفری نے قرارگاہ غرب، قرارگاہ نجف اور کچھ عرصہ قرارگاہ قدس کی کمان سنبھالی۔ وہ ۱۳۶۹ سے ۱۳۷۱ شمسی تک سپاہ کی زمینی فورس کے نائب کمانڈر رہے اور ۱۳۷۱ سے ۱۳۸۴ تک تقریباً ۱۳ برس سپاہ کی زمینی فورس کے کمانڈر رہے۔
انہوں نے متعدد فوجی آپریشنوں میں شرکت کی جن میں آپریشن کربلائے ۴ اور کربلائے ۵ شامل ہیں اور انہی کارروائیوں کے دوران زخمی بھی ہوئے۔ جعفری کو آپریشن کربلائے ۴ کے منصوبہ سازوں میں شمار کیا جاتا ہے اور غیر متوازن (Asymmetric) جنگی حکمت عملی میں مہارت کے باعث انہیں "غیر متوازن جنگوں کے کمانڈر" کا لقب دیا گیا۔ تیپ عاشورا کی کمان اور سپاہ شوشتر کی نائب کمان بھی ان کی جنگی ذمہ داریوں میں شامل رہی۔
دفاع مقدس کے بعد کی سرگرمیاں
جنگ میں زخمی ہونے کے بعد صحت یاب ہونے پر جعفری سپاہ کے مرکزی ہیڈکوارٹر منتقل ہوئے اور کچھ عرصہ وہاں آپریشنز کے نائب سربراہ کے طور پر خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں وہ مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے نائب سربراہ مقرر ہوئے اور پھر سپاہ کی زمینی فورس کے کمانڈر بنے۔
انہوں نے ۱۳۷۱ شمسی میں معماری کی ڈگری مکمل کی اور بعد میں جامعہ امام حسین (ع) سے فوجی قیادت میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔
بین الاقوامی پابندیاں
یورپ نے ۲۳ فروردین ۱۳۹۰ (۱۳ اپریل ۲۰۱۱) کو ایک فیصلے کے تحت ۳۲ ایرانی حکام بشمول محمدعلی جعفری کو رکن ممالک میں داخلے سے منع کر دیا اور ان کے اثاثے یورپ میں منجمد کر دیے۔ اسی طرح امریکہ کے محکمہ خزانہ نے ۷ مهر ۱۳۸۹ کو ۱۳۸۸ کے واقعات سے متعلق مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزام میں ان پر پابندی عائد کی۔
سپاہ پاسداران کی کمان
جعفری کو ۲۶ اسفند ۱۳۸۶ کو رہبر انقلاب اسلامی کے حکم سے یحیی رحیم صفوی کے جانشین کے طور پر سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کا کمانڈر ان چیف مقرر کیا گیا۔
تیر ۱۳۹۶ میں تہران میں سپاہ محمد رسول اللہ (ص) کے کمانڈر کی تبدیلی کی تقریب کے دوران انہوں نے اعلان کیا کہ ان کی کمان مزید تین سال کے لیے بڑھا دی گئی ہے۔ تاہم ۱ اردیبهشت ۱۳۹۸ کو رہبر معظم انقلاب نے ایک حکم کے ذریعے حسین سلامی کو نیا کمانڈر ان چیف مقرر کیا اور جعفری کو قرارگاہ ثقافتی و اجتماعی بقیة اللہ الاعظم منتقل کر دیا گیا۔
میزائل اور ڈرون پروگرام کی پیشرفت
جعفری کی قیادت کے دوران سپاہ نے اپنی فضائی و خلائی فورس کے میزائل یونٹ کو مضبوط بنانے پر توجہ دی۔ اس عرصے میں خرمشہر، خلیج فارس، ہرمز، قیام، فاتح مبین، عماد، فاتح ۳۱۳، دزفول اور ذوالفقار جیسے بیلسٹک میزائل اور سومار و ہویزه کروز میزائل تیار کر کے عملی استعمال میں لائے گئے۔
اسی دوران سپاہ کی فضائیہ کا نام بدل کر "سپاہ کی فضائی و خلائی فورس" رکھا گیا اور امیرعلی حاجیزاده کو اس کا کمانڈر مقرر کیا گیا۔ جعفری کے مطابق میزائل صلاحیتوں کی ترقی رہبر انقلاب کی ہدایت کے تحت اور علاقائی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی تاکہ یورپ کو اشتعال نہ دلایا جائے۔
داعش کے خلاف کارروائیاں
جعفری کے دورِ قیادت میں سپاہ پاسداران کے مشیران کو شام بھیجا گیا تاکہ تکفیری گروہوں خصوصاً داعش کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔ ۱۳۹۶ شمسی کے موسم خزاں میں سپاہ قدس کے کمانڈر قاسم سلیمانی نے داعش کی علاقائی حکمرانی کے خاتمے کا اعلان کیا۔ جعفری نے اس حوالے سے کہا کہ داعش کی حکومت ختم ہو چکی ہے لیکن اس کی فکر اب بھی منتشر صورت میں موجود ہے اور اس کے خلاف گوریلا طرز کی کارروائیوں کے لیے تیار رہنا ضروری ہے۔
داخلی واقعات
۱۳۸۸ کے واقعات کے دوران سپاہ نے جعفری کی قیادت میں ملکی سلامتی برقرار رکھنے اور دشمن کی "نرم جنگ" کے مقابلے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس دوران جعفری نے انقلابی و اقداری نظریات اور مصالحتی رویوں کے درمیان تقابل پر زور دیا۔
اسی طرح ۱۴۰۰ اور ۱۴۰۲ شمسی میں، جب وہ قرارگاہ بقیة اللہ کے کمانڈر تھے، انہوں نے امر به معروف و نهی از منکر اور میٹرو و عوامی مقامات پر بے حجابی کے خلاف اقدامات پر زور دیا اور ۱۴۰۱ کے احتجاجات کو فتنہ قرار دیا[1]۔
کتاب "کالکهای خاکی"
کتاب «کالکهای خاکی» محمدعلی جعفری کی یادداشتوں کا مجموعہ ہے جس میں ان کے بچپن سے لے کر خرمشہر کی آزادی کے آپریشن تک کے واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ یہ کتاب تیر ۱۳۹۲ میں شائع ہوئی۔
کتاب ۱۱ متنی ابواب اور ایک باب تصاویر و دستاویزات پر مشتمل ہے اور کل ۶۴۰ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں بچپن، جامعہ میں تعلیم، انقلاب میں شمولیت، غیر متوازن جنگیں اور سوسنگرد و فتح خیبر کے آپریشن جیسے موضوعات شامل ہیں۔
اعزازات
- نشان فتح: خلیج فارس میں امریکی بحری اہلکاروں کی گرفتاری کے بعد دی گئی[2]؛
- جریدہ "فارن پالیسی" کی جانب سے دنیا کی ۵۰۰ بااثر ترین شخصیات کی فہرست میں شمولیت۔
متعلقہ موضوعات
منابع
- عزیز جعفری، ویب سائٹ اعتماد آن لائن، تاریخ اشاعت: ۵ آبان ۱۴۰۴ ش، تاریخ مشاہدہ:15/جون/2026ء۔
- عزیز جعفری، ویب سائٹ تابناک، تاریخ اشاعت: نامعلوم، تاریخ مشاہدہ: 15 /جون /2026ء۔