سید یحییٰ رحیم صفوی
| سید یحییٰ رحیم صفوی | |
|---|---|
| دوسرے نام | رحیم صفوی |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 331 ش |
| پیدائش کی جگہ | اصفهان ایران |
| وفات | 2020 ء |
| مذہب | اسلام، شیعہ |
| مناصب | سپاہ کی زمینی فورس کے کمانڈر ، سپاہ کے سربراہ کے نائب ، رہبرِ معظمِ انقلاب کے اعلیٰ فوجی مشیر اور معاون |
سید یحییٰ رحیم صفوی، ایک فوجی شخصیت، محقق، جامعہ کے استاد اور اسلامی جمہوریہ ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے اعلیٰ کمانڈروں میں سے ہیں۔ وہ 1331 ہجری شمسی میں صوبہ اصفہان کے ضلع لنجان کے باغ بہادران علاقے کے گاؤں ہمام میں پیدا ہوئے۔ رحیم صفوی دفاع مقدس (ایران۔عراق جنگ) کے دوران سپاہ کے اہم کمانڈروں میں شامل رہے اور 1376 سے 1386 ہجری شمسی تک سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سربراہ رہے۔ اس وقت وہ امام خامنہ ای کے عسکری امور کے اعلیٰ معاون اور مشیر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
سوانح حیات
سید یحییٰ رحیم صفوی 1331 ہجری شمسی میں اصفہان کے ضلع لنجان کے گاؤں ہمام میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنا بچپن اور نوجوانی اصفہان میں گزاری۔ 1350 ہجری شمسی میں انہیں تبریز یونیورسٹی میں ارضیات کے شعبے میں داخلہ ملا۔
دورانِ طالب علمی وہ شاہی حکومت کے خلاف سیاسی اور انقلابی سرگرمیوں سے وابستہ ہوئے اور اسلامی انقلاب ایران کی تشکیل میں فعال کردار ادا کیا۔ انہوں نے اپنی یادداشتوں میں تبریز میں ابتدائی تعلیم کے دوران ترکی زبان سے ناواقفیت کا ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ قیام کے دوران انہوں نے اس زبان پر عبور حاصل کر لیا تھا۔
تعلیم
رحیم صفوی نے سیاسیات اور جغرافیہ کے میدان میں متعدد علمی درجات حاصل کیے ہیں:
- تبریز یونیورسٹی سے ارضیات میں بیچلر ڈگری؛
- امام حسین (ع) یونیورسٹی سے سیاسی جغرافیہ میں ماسٹرز؛
- تربیت مدرس یونیورسٹی سے سیاسی جغرافیہ میں ڈاکٹریٹ۔
فوجی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ وہ علمی میدان میں بھی متحرک رہے اور تہران یونیورسٹی، شہید بہشتی یونیورسٹی، خوارزمی یونیورسٹی اور تربیت مدرس یونیورسٹی میں سیاسی جغرافیہ کے استاد کی حیثیت سے تدریس کرتے رہے ہیں۔
سرگرمیاں
انقلابی سرگرمیاں
اسلامی انقلاب ایران کی کامیابی سے قبل رحیم صفوی اصفہان اور تبریز میں انقلابی سرگرمیوں میں شریک رہے۔ انقلاب کی کامیابی کے بعد ابتدائی دنوں میں انہوں نے شہید علی صیاد شیرازی کے ساتھ مل کر اصفہان میں انقلابی قوتوں کی تنظیم اور دفاعی ڈھانچے کی تشکیل میں حصہ لیا۔
فوجی سرگرمیاں
دفاع مقدس کا دور
رحیم صفوی دفاع مقدس کے دوران سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے فعال کمانڈروں میں شامل تھے اور مختلف فوجی کارروائیوں میں شریک رہے۔ جنگ کے دوران انہوں نے سپاہ میں مختلف سطحوں پر متعدد اہم ذمہ داریاں سنبھالیں۔
سپاہ کی زمینی فوج کی کمان
1364 سے 1365 ہجری شمسی تک وہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی زمینی فوج کے کمانڈر رہے اور اس عرصے میں فوجی آپریشنز کی تنظیم میں اہم کردار ادا کیا۔
نائب کمانڈر ان چیف
1367 سے 1376 ہجری شمسی تک وہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے نائب کمانڈر ان چیف کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔
سپاہ کی سربراہی
1376 ہجری شمسی میں امام خامنہ ای کے حکم سے انہیں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ وہ دس سال تک اس منصب پر فائز رہے اور 1386 ہجری شمسی میں انہوں نے اپنی ذمہ داریاں محمد علی جعفری کے حوالے کیں۔
مسلح افواج کے اعلیٰ مشیر
سپاہ کی سربراہی سے فراغت کے بعد، انہیں رہبر انقلاب اسلامی کی جانب سے مسلح افواج کے امور میں اعلیٰ معاون اور مشیر مقرر کیا گیا، اور وہ اب تک اس عہدے پر فائز ہیں۔
تصانیف
رحیم صفوی نے سیاسی جغرافیہ، عسکری جغرافیہ اور تزویراتی مطالعات کے میدان میں متعدد کتابیں تصنیف اور ترجمہ کی ہیں، جن میں نمایاں کتابیں یہ ہیں:
- "سیاسی جغرافیہ کا نیا تعارف"؛ درہ میرحیدر کے ساتھ مشترکہ ترجمہ، جغرافیائی تنظیم کی اشاعت، 1379 ہجری شمسی؛
- "عسکری جغرافیہ کے اصول و مبانی"؛ جغرافیائی تنظیم کی اشاعت؛
- "ایران کا عسکری جغرافیہ"؛ پانچ جلدوں میں، جغرافیائی تنظیم کی اشاعت، 1378 تا 1381 ہجری شمسی؛
- "عالم اسلام، مستقبل کا منظرنامہ"؛ شکیب پبلی کیشنز، 1388 ہجری شمسی[1]۔
متعلقہ تلاشیں
حوالہ جات
- ↑ در مورد رحیم صفوی در ویکی تابناک بیشتر بخوانید-اخذ شدہ بہ تاریخ: 15 جون 2026ء