مندرجات کا رخ کریں

"مغيريه (غلات)" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 12: سطر 12:


'''مغيريه (غلات)''' مغیرہ بن سعید عجلی کوفی (جو ابوعبد اللہ کی کنیت سے مشہور تھا) کے پیروکاروں کو ‘مغیریه’ کہا جاتا تھا، جو سن 119 ہجری میں قتل ہوا۔
'''مغيريه (غلات)''' مغیرہ بن سعید عجلی کوفی (جو ابوعبد اللہ کی کنیت سے مشہور تھا) کے پیروکاروں کو ‘مغیریه’ کہا جاتا تھا، جو سن 119 ہجری میں قتل ہوا۔
[[ابن اثیر]] مغیرہ کو میم پر ضمه، غین پر کسر اور یاء پر سکون کے ساتھ لکھتے ہین <ref>ابن اثیر، اللباب فی تهذیب الانساب، جلد 3، صفحہ 242.</ref>.
ابن اثیر مغیرہ کو میم پر ضمه، غین پر کسر اور یاء پر سکون کے ساتھ لکھتے ہین <ref>ابن اثیر، اللباب فی تهذیب الانساب، جلد 3، صفحہ 242.</ref>.


==پیدائش کی تاریخ==
==پیدائش کی تاریخ==

نسخہ بمطابق 16:33، 6 مئی 2026ء

مغيريه (غلات)
ناممغيريه (غلات)
عام ناممغيريه (غلات)
بانیمنسوب به مغیرہ بن سعید عجلی کوفی
نظریہغالی

مغيريه (غلات) مغیرہ بن سعید عجلی کوفی (جو ابوعبد اللہ کی کنیت سے مشہور تھا) کے پیروکاروں کو ‘مغیریه’ کہا جاتا تھا، جو سن 119 ہجری میں قتل ہوا۔ ابن اثیر مغیرہ کو میم پر ضمه، غین پر کسر اور یاء پر سکون کے ساتھ لکھتے ہین [1].

پیدائش کی تاریخ

دوسری صدی ہجری کے ابتدائی دور میں، وہ فرقے جو شیعون کی درمیان پیدا ہوئے، ان میں فرقہ زیدیه بھی شامل تھا۔ حضرت زید بن علی کی شہادت کے بعد یہ فرقہ متعدد ذیلی فرقوں میں تقسیم ہو گیا، حتیٰ کہ بعض لوگ اس فرقے سے نکل کر کسی دوسرے فرقے میں شامل ہو گئے یا اپنی رائے کے تحت نیا فرقہ قائم کیا۔ ان افراد میں سے ایک شخص جو ابتدا مین حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) کے ساتھ تھا اور بعد ازاں زیدی بن گئے[2]. پھر خود سے ایک نیا فرقہ تشکیل دیا وہ شخص مغیرہ بن سعید العجلی تھا۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے امام باقرؑ کے عقائد اور نظریات میں نفوذ کرنے کی کوشش کی، لیکن امام نے ان کی حقیقت کو جانتے ہوئے، اور یہ جان کر کہ وہ تشیع کے دشمن بن جائیں گے، ان کی اصل شخصیت کو اپنے فرزند امام حضرت جعفر بن محمد (علیہ السلام) اور اپنے اصحاب کو بتا دی [3]. تاکہ وہ ان سے بچیں۔ تاہم، مغیرہ نے جھوٹ، فریب اور احادیث میں تحریف کے ذریعے اپنے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط کیا اور مغیریه فرقہ کی بنیاد رکھ کر شیعوں کے درمیان اپنا انحرافی عمل جاری رکھا۔ آخر کار، خلیفہ خالد بن عبداللہ القسری کے دور حکومت میں، مغیرہ نے کوفہ میں بغاوت کی۔ ابتدا میں انہوں نے محمد بن عبداللّه بن حسن بن امام حسن کو مہدی قائم کے طور پر متعارف کرایا اور ان کے ظہور کی انتظار کی تبلیغ کی، اور پھر خود نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ یہاں تک کہ خالد بن عبداللہ القسری نے انہیں گرفتار کر لیا اور دارِ سزا پر لٹکا دیا، نیز ان کے پانچ ساتھیوں کو آگ میں جلایا گیا [4][5][6].

عقائد

مغیرہ بن سعید، دیگر غلات فرقے کی طرح عجیب و غریب دعویٰ کرتا تھا، جن میں سے کچھ کا ذکر کیا گیا ہے۔

  • وہ خود کو نبی ہونے کا دعویٰ کرتا تھا اور کہتا تھا کہ وہ “اسم اعظم” (خدا کا سب سے بڑا نام) جانا ہے۔
  • وہ اهل تجسیم تھا اور الحاد (اللہ کی نفی یا انکار) اور تجسیم (اللہ کو جسمانی شکل دینا) کے درمیان جمع کرتا تھا۔
  • چارون خلیفائے راشدین اور نیز صحابه نبی کریم ﷺ کے کے بارے میں مثبت نقطہ نظر نہیں تھا۔
  • وہ کہتا تھا کہ ان کا رب ایک نورانی وجود کی مانند ہے جس کا جسم اور دل ہے۔ اس کے اعضاء حروفِ ہجا کی شکل میں ہیں؛ اس کے قدم اس کے “الف” (A) جیسے ہیں، اس کی آنکھیں اس کی آنکھوں کی مانند ہیں۔ ان کا ماننا تھا کہ جب خداوند عالم کو پیدا کیا تو اس نے اپنا “اسم اعظم” استعمال کیا اور وہ اسم اس کے تاج پر مندرج ہو گیا۔ اس کے بعد اس نے اپنے انگلی سے بندوں کے اعمال، یعنی عبادات اور گناہوں، کو لکھا۔ جب اس نے دیکھا کہ ان کے گناہ زیادہ ہو گئے، تو اس میں پسینہ آ گیا۔ پس خداوند کے پسینے سے دو سمندر وجود میں آئے: ایک نمکین اور کھارا سمندر، اور دوسرا میٹھا اور خوش ذائقہ سمندر۔ پھر اس نے ان سمندروں کی طرف دیکھا اور اپنی سایہ کو دیکھا، جب اس نے اپنی سایہ کو پکڑنے کی کوشش کی تو وہ اس سے دور ہو گئی۔ خداوند نے اس سایہ کی آنکھیں نکال دیں تاکہ سایہ غائب ہو جائے۔ پھر اس نے اپنے دو آنکھوں سے سورج اور آسمان کو پیدا کیا، اور نمکین سمندر سے کافروں اور میٹھے سمندر سے مومنین کو تخلیق کیا۔

مغیرہ کی ایک اور عقیدہ یہ بھی تھی کہ انہوں نے فرات کے پانی اور کسی بھی نہر، چشمہ یا کنویں کے پانی کو اس میں نجاست گرنے کی صورت مین پی لینے کو حرام قرار دیا تها م[7].

متعلقہ تلاشیں

حوالہ جات

  1. ابن اثیر، اللباب فی تهذیب الانساب، جلد 3، صفحہ 242.
  2. مجلسی، محمدباقر، بحار الانوار، بیروت، نشر موسسہ الوفاء، سال 1404 ہجری قمری، جلد 46، صفحہ 251۔
  3. نعمان بن محمد تمیمی مغربی، دعائم الاسلام، مصر، نشر دار المعارف، سال 1385 ہجری قمری، جلد 1، صفحہ 49
  4. مشکور محمد جواد، فرهنگ فرق اسلامی، مشهد، نشر آستان قدس رضوی، سال 1372 شمسی، پہلا ایڈیشن، صفحہ 423 (عبارات میں ترمیم و اصلاح کے ساتھ)
  5. اشعری ابوالحسن، مقالات الاسلامیین و اختلاف المصلین، جلد 1، صفحہ 73سعد اشعری، المقالات و الفرق، صفحہ 74
  6. شیخ طوسی، اختیار معرفة الرجال، صفحہ 145۔
  7. شکور محمد جواد، فرهنگ فرق اسلامی، مشهد، نشر آستان قدس رضوی، سال 1372 شمسی، پہلا ایڈیشن، صفحہ 422 (عبارات میں ترمیم و اصلاح کے ساتھ)۔