مندرجات کا رخ کریں

سید محمد عباس شوستری

ویکی‌وحدت سے


سید محمد عباس شوستری
پورا نامسید عباس موسوی شوشتری
دوسرے ناممفتی سید محمد عباس شوستری
ذاتی معلومات
پیدائش1224 ء
پیدائش کی جگہشوشتر ایران
اساتذہ
  • مولوی عبد القوی
  • مولوی عبد القدوس
  • ملا حسن
  • مولوی قدرت علی
شاگرد
  • مولانا سید ابو الحسن بن سید علی بن سید صفدر رضوی
  • سید محمد صاحب جونپوری
  • سید حامد حسین موسوی نیشاپوری
  • سید حیدر علی
  • سید علی محمد بن سلطان العلما
مذہباسلام، شیعہ
اثرات
  • تفسیر سورہ رحمن (عربی)
  • تفسیر سورہ ق (عربی)
  • تفسیر آیت سیجنبہا الاتقی (عربی)و...
مناصب
  • فقیہ
  • مرجع اور مجتہد

سید محمد عباس شوشتری ، مفتی سید محمد عباس شوستری (1224-1306 ھ) برصغیر پاک و ہند کے شیعہ کنتوری خاندان کے صاحب اجتہاد، فقیہ، متکلم، دنیائے ادبیات عرب کی معروف شخصیت تھے۔ آپ سید حامد حسین موسوی صاحب عبقات الانوار اور سید ناصر حسین معروف ناصر الملت کے استاد اور سید العلما آیت اللہ سید حسین علیین کے شاگرد تھے۔ 300 کے قریب کتابیں تالیف کیں۔ اس زمانے کے شیعہ حوزۂ علمیہ نجف تک آپ کی شہرت کا چرچا تھا۔ لکھنؤ میں فوت ہونے کے بعد غفران مآب کے امام باڑے میں دفن ہوئے۔

نسب نامہ

آپ کا نسب 17 پشتوں کے واسطے سے حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام سے ملتا ہے۔ آپ کے جد امجد سید محمد جعفر 1210ھ میں شوشتر سے لکھنؤ آئے۔

آیت اللہ سید نعمت اللہ جزائری آپ ہی کے خاندان کے بزرگ علما میں سے ہیں۔ آپ کے والد کا نام سید علی اکبر تھا جو نہایت منکسر اور عبادت گزار ہونے کے ساتھ ساتھ صاحب تالیف بھی تھے۔ ہندوستان میں یہ خاندان سادات نوریہ اور کنتوری خاندان کے نام سے معروف ہے۔

اہم واقعات

  • شاہی وظیفہ مفتی صاحب کیلئے 1258 ہجری میں محمد علی شاہ مرحوم شاہ اودھ کی طرف سے علمی قدردانی کے بدلے میں مناسب وظیفہ مقرر ہوا۔ اسی زمانے میں جواہر عبقریہ تصنیف کی۔
  • 20 جمادی الاول 1259 ہجری کو مفتی صاٖحب کے تحریری رسالے کی ترغیب کی بدولت مدرسہ شاہی قائم ہوا اور تین سال اس میں مشغول تدریس رہے۔
  • 1264 ھ ہجری قضاوت کا عہدہ قبول کیا۔ محکمے کیلئے قوانین مرتب کئے۔
  • 1274 ھ میں واقعہ غدر پیش آیا مفتی صاحب قصبہ زید پور تشریف لے گئے اور دو تین مہینے وہاں‌ قیام کیا۔
  • 1276 ھ میں آب و ہوا موافق نہ ہونے کی بنا پر کلکتہ سے چھٹی پر واپس آ گئے۔
  • 1298 ھ میں دوبارہ کلکتہ آئے۔ یہاں انہیں افتخار العلما اور تاج العلما کا لقب دیا گیا۔
  • ملکہ وکٹوریہ کی جانب سے شمس العلما کا خطاب ملا۔
  • 1306 ھ کے اوائل میں لکھنؤ واپس آ گئے اور وفات تک یہیں رہے [1]۔

اساتذہ

  • مولوی عبد القوی
  • مولوی عبد القدوس
  • ملا حسن
  • مولوی قدرت علی
  • مولوی عبد العلی
  • مرزا حکیم عوض علی
  • مرزا علی خان
  • مرزا حسن علی خان
  • سید حسین بن سید دلدار علی نقوی غفرآن مآب

شاگرد

مفتی صاحب کے شاگردوں کی تعداد بہت زیادہ ہے ہم یہاں چند ایک اسما کے ذکر پر اکتفا کرتے ہیں:

  • سید مہدی شاہ کشمیری: 14 رجب سن 1233 ھ میں ولادت ہوئی اور 1314 ھ 25 جمادی الثانی منگل کو وفات پائی۔
  • مولانا سید ابو الحسن بن سید علی بن سید صفدر رضوی
  • سید محمد صاحب جونپوری
  • سید حامد حسین موسوی نیشاپوری
  • سید حیدر علی
  • سید علی محمد بن سلطان العلما
  • سید علی جواد
  • مرزا محمد علی کشمیری لکھنؤی
  • سید نقی صاحب
  • سید ناصر حسین ناصر الملت
  • حکیم مرزا محمد مہدی ۔

علمی خدمات

چار پانچ برس کی عمر میں قرآن اور ابتدائی تعلیم سنی مسلک کے عالم دین مولوی عبد القوی کے پاس مکمل کی۔ سریع الفہمی کی بدولت تین دن حروف تہجی پڑھنے کے بعد ہی پند نامہ سعدی پڑھا۔

ساتویں برس کے بعد مولوی عبد القدوس صاحب کے شاگرد ہوئے۔ ملا حسن صاحب شرح معلم سے مصباح شروع کی اس کے بعد مولوی قدرت علی صاحب کے شاگرد ہوئے۔ مولوی عبد العلی سے کتب معقولات و حساب و فلسفہ ہئیت و ہندسہ پڑھا۔

بارہ سال کی کم عمری میں ملا حسن حمد اللہ پر ایسے مفید حواشی لکھے جو سن کے لحاظ سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ چودہ سال کی عمر میں فارغ التحصیل ہوئے اور کتب بینی کا سلسلہ شروع ہوا۔

آتھ سال کے سن میں ایک روز ایک طالب علم نے فوائد ضیائیہ معروف بہ شرح جامی کا نہایت مشکل مسئلہ دریافت کیا۔ آپ نے فورا اسے سمجھا دیا۔ طالب علم نے کہا: میں نے فوائد ضیائیہ تیرہ مرتبہ اس شہر کے علما سے پڑھی ہے لیکن کسی نے اس مسئلے کو حل نہیں کیا۔

اب میں آپ سے پڑھوں گا۔ آپ کی حاضر جوابی کا اس واقعہ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے: آپ نے سات سال کی عمر میں سُلّم العلوم کے شارح مولوی عبد القدوس کے پاس مصباح پڑھی۔ وہ بعض اوقات اپنے مذہبی تعصب کی بنا پر گمراہی کی گفتگو بھی کرتا۔

ایک مرتبہ مفتی صاحب کی موجودگی میں کسی نے اس سے پوچھا کہ مولانا کیا بات ہے کہ ہم سنیوں سے لوگوں کو شیعہ ہوتے تو دیکھتے ہیں لیکن کبھی کسی شیعہ کو سنی ہوتے نہیں دیکھا۔ عبد القدوس نے جواب دیا۔

اہل سنت حضرات اس طیب و طاہر غذا کی مانند پاک ہیں کہ جو فضلے میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور فضلہ غذا میں دوبارہ تبدیل نہیں ہوتا ہے۔ مفتی صاحب نے اپنے استاد سے مخاطب ہو کر کہا: آپ کی اس دلیل (یعنی کسی چیز کے فضلہ بن جانے کے بعد اس کا پاکیزگی میں تبدیل ہونا ممکن نہیں ہے) کے مطابق خلفائے ثلاثہ کہ جو پہلے کافر و ناپاک تھے پس وہ طہارت اسلام کی طرف منقلب نہیں ہوئے ہونگے۔

یہ سن کر عبد القدوس متحیر و پریشان ہو گیا۔[10] طالب علمی کے زمانے میں تحصیل علم کا اس قدر شوق تھا کہ ضروری کاموں پر بھی تحصیل علم کو ترجیح دیتے یہانتک کہ کھانے پینے اور اصلاح خط وغیرہ کو وقت کا ضیاع سمجھتے تھے۔ دسترخوان پر اگر پہلے روٹی آگئی تو سالن کا انتظار کئے بغیر اسے کھانا شروع کر دیتے تا کہ جلدی فراغت ہو جائے اور کتب بینی میں تاخیر نہ ہو۔

تحصیل علم طب

مولوی عبدالقوی صاحب کی ترغیب و تشویق کی بدولت فن طب کا شوق ہوا لہذا موجز اور اقصرائی کی کتب مرزاحکیم عوض علی کے پاس پڑھیں۔ نفیسی، شرح اسباب قانون کو طبیب الملوک مرزا علی خان اور مسیح الدولہ مرزا حسن علی خان سے پڑھا۔

کچھ عرصہ تک مطب بھی کیا یہانتک کہ فن طب میں بہرہ تام حاصل ہوا۔ آخر کار طب کی تعلیم دینا شروع کی اور بہت سے شاگرد کامل طبیب کی صورت میں نکلے۔ ایک روز مطالعہ کے دوران یہ حدیث الطبیبب ضامن ولو کان حاذقا (طبیب مریض کا ضامن ہے

اگرچہ وہ حاذق ہی کیوں نہ ہو) نظر سے گزری تو طبابت سے کنارہ کشی اختیار کی اور پھر ساری زندگی کسی کا علاج نہیں کیا۔ بہرحال مولوی عبدالقوی، مولوی قدرت علی اور مولوی عبدالقدوس سے کتب درسیہ ختم کیں۔ اٹھارہ برس کی عمر میں ایک قوی عالم دین بن چکے تھے۔ اسی سن تک چند رسالے بھی تالیف کئے [2]۔

فقہی دروس

اٹھارھویں برس سید العلما سید حسین بن سید دلدار علی نقوی کے شرائع الاسلام کے دروس میں اپنے برادر زادہ سید ہادی کے ساتھ شرکت شروع کی اور فقہ کی ریاض المسائل سمیت کتب پڑھیں۔ اکیسویں برس علم تجوید کی تکمیل کا شوق ہوا تو اس عہد کے مشہور قاریوں سے پڑھنے کے بعد اس فن میں کمال حاصل کیا۔

مفتی صاحب کو سید حسین علیین نے اجازۂ روایت اور اجازۂ اجتہاد دیا۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ لکھنؤ کے ایک شخص محمد بن محد امان مفتی صاحب کے درس میں شریک ہوتے تھے۔ انہیں جاہ و عظمت اور صاحب علم کہلوانے کا شوق تھا۔

مفتی صاحب کی بعض کتب کا مسودہ بھی انکے پاس تھا۔ ان میں سے ایک نور الابصار فی مسائل الاصول والاخبار بھی تھی۔ آخرکار وہ عراق گئے تو وہاں کے مراجع عظام کو اپنے نام سے یہ دکھا کر جناب شیخ ابو محمد حسن بن حسین آل عصفور، آقا شیخ خلف بن علی بن الحسین آل عصفور، آقا حسن بن الشیخ جعفر، آقا حسن الزکی، شیخ سلیمان بن احمد بن عبد الجبارع، سید کاظم بن سید قاسم رشتی اور جناب شیخ محمد حسن نجفی صاحب جواہر الکلام سے اجازے لکھوائے۔

حقیقت میں یہ تمام اجازے بھی مفتی صاحب کے ہی ہیں چونکہ نور الابصار فی مسائل الاصول والاخبار کے اصل مؤلف مفتی سید محمد عباس ہیں۔

تفسیر

  • تفسیر سورہ رحمن (عربی)
  • تفسیر سورہ ق (عربی)
  • تفسیر آیت سیجنبہا الاتقی (عربی)
  • انوار یوسفیہ تفسیر سورہ یوسف (عربی)
  • حواشی قرآن (عربی)
  • حسناء عالیہ المہر فی تفسیر سورہ الدہر. (فارسی)[3]۔

حدیث

ترجمۃ الاربعین: چالیس حدیثوں کی فارسی شرح سیف مسلول: جامع الاصول سے بعض احادیث کا استخراج کر کے کلام فرمایا ہے (عربی) نزع القوس من روضۃ الفردوس: روضۃ الفردوس کی چند احادیث کے متعلق گفتگو ہے۔ ترصیع الجواہر: جواہر سینہ سے احادیث قدسیہ کی تلخیص۔ (عربی) جواہر الکلام ملقب با نہار الانوار: کافی کی اصول دین سے متعلق احادیث کی لطیف شرح ہے۔ (عربی) التقاط اللئالی من الامالی: امالی صدوق کی منتخب احادیث (عربی) روح الایمان۔ اصول دین کے متعلق چالیس حدیثوں کی شرح۔ (عربی) [4]۔

علم کلام

روائح القرآن فی فضائل امنا الرحمن۔ (عربی): حضرت علی بن ابی طالب و ذریت ائمہ طاہرین کے مناقب اور دشمنان اہل بیت کے مطاعن کے بیان میں ایک عظیم الشان کتاب ہے۔

ایک سو اکتیس آیتیں اہل سنت کی معتبر روایات و تفاسیر کی کتب سے بیان کی ہیں۔علامہ حلی کی کشف الحق و نہج الصدق میں مذکور آیات پر فضل بن روز بہان کے اعتراضات کا جواب دیا ہے۔

کتاب کے مقدمے میں بسم اللہ الرحمن الرحیم اور اھدنا الصراط المستقیم کی نفیس تفیسر اور کتاب کے آخر میں علامہ حلی کی کتاب اور اس کتاب میں موجود 9 فرق بیان کئے ہیں۔ 1257ھ میں 110 آیتوں پر ختم کر دی پھر اس میں باقی آیات کا اضافہ کیا۔ 1271ھ میں مکمل ہوئی اور 1277ھ میں چھپی اور 1278ھ میں اس کی طبع ختم ہو گئی۔

اس کتاب کا نام روح القرآن رکھا گیا بعد میں روائح القرآن رکھا گیا۔

نجف اشرف میں حجت الاسلام آقای شیخ مرتضی انصاری شوستری نے اس کتاب کے بارے میں کہا یہ کتاب ہمارے لئے فخر کا باعث ہے۔

خداوند عالم اس کتاب کے فیوض کو ہمیشہ تا قیام قیامت بسیط برقرار رکھے جو مذہب حق کا قلعہ مستحکم اور خزانہ ہے۔ شعلہ جوالہ: احراق مصاحف کے متعلق نادر لطیف کتاب (عربی )

آتش پارہ: ترجمہ شعلہ جوالہ بزبان فارسی۔ بغیۃ الطالب فی اسلام ابی طالب (عربی ): حضرت ابو طالب کا مسلم و ناجی ہونا ثابت کیا ہے۔

جواہر عبقریہ: تحفہ اثنا عشریہ کے باب غیبت امام عصر کا لاجواب جواب ہے۔ (فارسی) جواب منتہی الکلام: یہ مسودات پانچ جلدوں میں مرتب ہیں (فارسی) روح الجنان فی مطاعن عثمان (عربی)

دلیل قوی (فارسی) : اپنے استاد مولوی عبد القوی نے بیماری کے دوران خواب میں اصحاب خمسہ کو دیکھا۔ اسکے بعد اپنے استاد کیلئے اسے تصنیف کیا۔ یہ ایران میں بھی چھپ چکی ہے۔

مقتل عثمان (عربی) تائید الاسلام: مسیحیون کے سوالات کا جواب (اُردو) مطرفیہ فی الرد علی المتصوفہ (عربی) نصر المومنین ملقب بمقام محمود: رد شبہات یہود مشتمل برمضامین لطیف و تحقیقات انیق (فارسی)


درہ بہیتہ در مبحث تقیہ۔ رسالہ رجعت منابرالاسلام: نصائح، مواعظ اور اخلاق پر مشتمل دو جلدیں ہیں۔ (عربی) مواعظ لقمانیہ: اس میں حضرت لقمان کے مواعظ جمع کر کے شرح کی ہے۔


رسائل مواعظ: 3 جلد ایک رسالہ مولوی مہدی شاہ صاحب، دوسرا رسالہ مولوی سید اصغر حسین پاروی اور تیسرا رسالہ مولوی سید رفیق علی کیلئے تالیف کیا۔ موعظہ حسنہ۔ مجالس المواعظ 5 جلد (اردو) رسالہ برد سرہ ابواب الجنان

فقہ و اصول

شریعت غرّا: یہ کتاب فقہ استدلالی کے مطالب عالیہ کو بالتزام سجع دقاقبہ قالب فصاحت میں ڈھالا ہے۔ بحث اموات تک ہے۔ موت کی وجہ سے نامکمل رہی۔ (زبان عربی) رشحۃ الافکار فی تحدید الاکرار: یہ رسالہ وجیزہ لائق (سید حسین علیین) کے مبحث کُر کی شرح ہے۔ (عربی)

اساور عسجدیہ علی مبحث الفوریہ: زمانہ تحصیل علم میں معالم الاصول کی بحث فوریت پر بطور حاشیہ لکھا۔ (عربی)

استحضار۔ نور الابصار فی مسائل الاصول والاخبار۔ (عربی) کتاب القضا: منصب اقتا کے زمانہ میں یہ کتاب احکام قضا کے متعلق لکھی تھی۔(عربی) نبراس فی حجیۃ القیاس (عربی) جلجلۃ السحاب فی حجیۃ ظواہر الکتاب:جناب سید العلماء نے اس کی بیحد مدح تقریظ میں لکھی ہے۔(1263ھ)

فوح العبیر فی الاحباط والتکفیر۔ صفحۃ الماس فی الارتماس: غسل ارتماسی کے آنی الحصول یا تدریجی الاصول ہونے کی تحقیق۔

  • سماء مدرار فی الاصول و الاخبار۔ ناتمام رہ گئی (عربی)
  • روض اریض فی منجزات المریض۔ (عربی)
  • معراج المومنین۔ در طہارت و صلواة (فارسی)
  • بناء الاسلام فی احکام الصیام (فارسی)
  • تحفہ حسینیہ فی حل عبارة من الصومیہ (عربی)
  • طریق جعفری۔ مسائل کا جواب (اُردو)
  • صلواة النار (فارسی)
  • لسان الصباح۔ تحقیق وقت صبح۔ (عربی)
  • اقبال خسروی دربیان طہارت وصلوة (بزبان اُردو)
  • حواشی درہ منظومہ (عربی)
  • تعلیقہ انیقہ: حواشی شرح لمعہ بر مباحث مشکلہ (عربی)
  • استقبال: حاج سید باقر رشتی کے رسالے تحفۃ الابرار کی بحث قبلہ پر بسیط حاشیہ ہے (فارسی)

منطق وفلسفہ وہیئت وہندسہ

  • تعلیقہ حسناء حواشی ملاحسن بر شرح سُلّم
  • حواشی شرح سلم ملا حمد اللہ
  • حواشی تحریر اقلیدس
  • جواب انتقاض انعکاس خاصتین۔
  • ترجمہ صدرا شرح ہدایت الحکمۃ تا فلکیات۔
  • حواشی ملا جلال
  • رسالہ در جواب شبہ ابن کیمونہ.

صرف ونحو، معانی وبیان وعروض، ادب اور طب میں تقریبا 60 تالیفات اور متفرقات میں 14 تالیفات لکھیں۔[36] ان میں سے کئی کتب اپنی نظیر آپ کی مصداق ہیں

ازدواج

مفتی صاحب کی پہلی شادی میرن صاحب کی صاحب زادی سے ہوئی جو مختار الدولہ وزیر اول نواب آصف الدولہ کے خاندان سے تھیں۔ دوسری شادی حاج آغا عباس علی صاحب مرحوم اصفہانی الاصل کی دختر کے ساتھ ہوئی۔ تیسری شادی عسکری صاحب کی دختر سے ہوئی۔

اولاد

پہلی شادی سے مولانا سید محمد صاحب عرف وزیر صاحب اور حاجی سید حسن صاحب تھے ان کے علاوہ بھی متعدد اولادیں ہوئیں مگر وہ سب کمسنی میں فوت ہو گئیں ایک صاحبزادی البتہ سن رشد کو پہنچی جن کا عقد سید عبد الجواد صاحب کے ساتھ ہوا کچھ عرصہ کے بعد وہ بھی لاولد فوت ہوئیں۔

دوسری بیوی سے مولوی سید حسین صاحب صابر، مولوی سید امیر حسن صاحب اور مولوی سید نور الدین اور تین صاحبزادیاں ہوئیں دیگر اولادیں صغر سنی میں فوت ہوگئیں۔ تیسری بیوی سے دو صاحبزادے مفتی سید محمد علی صاحب اور مفتی احمد علی صاحب اور ایک صاحبزادی ہیں[5]۔

حوالہ جات

  1. آقا بزرگ تہرانی، الذریعہ الی تصانیف الشیعہ، دار الأضواء، لبنان (سافٹ وئیر اہل البیت)
  2. محسن امین عاملی، اعیان الشیعہ، ناشر: دار التعارف للمطبوعات بيروت، لبنان۔(سافٹ وئیر اہل البیت)
  3. مرزا محمد ہادی عزیز لکھنوی، تجلیات تاریخ عباس، نظامی پریس وکٹوریہ اسٹریٹ لکھنو (انڈیا)
  4. سید اعجاز حسین، کشف الحجب و الاستار، مكتبہ آيت اللہ العظمى مرعشي نجفي قم۔(سافٹ وئیر اہل البیت)
  5. مفتی سید محمد عباس شوستری-اخذ شدہ بہ تاریخ: 28 جون 2026ء