سید قاسم اعظمی
سید قاسم اعظمی | |
---|---|
![]() | |
دوسرے نام | ڈاکٹرسید قاسم مہدی اعظمی |
ذاتی معلومات | |
پیدائش | 1957 ء، 1335 ش، 1376 ق |
یوم پیدائش | 1 ستمبر |
پیدائش کی جگہ | اعظم گڑھ ہندوستان |
وفات | 2025 ء، 1403 ش، 1446 ق |
یوم وفات | 26 فروری |
وفات کی جگہ | ہندوستان |
اساتذہ | سید سبظ حسن، سجاد باقر لاہوری |
مذہب | اسلام، شیعہ |
اثرات | شعور فرہنگ، شعور عروض، ترکی بہ ترکی |
مناصب | ادیب |
سید قاسم اعظمی اردو ادب کے درخشاں ستارے، معروف شاعر، ادیب، مفکر اور معلم، جو شاعری کی دنیا میں "شعور اعظمی" کے نام سے معروف تھے، آپ ہندوستانی ایک شیعہ شعر اور ادیب تھے، اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ ان کے انتقال کی خبر سے علمی و ادبی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ادبی اور خاندانی پس منظر
شعور اعظمی کا اصل نام قاسم مہدی تھا، جبکہ ان کا تاریخی نام سید کلیم اختر تھا۔ وہ یکم ستمبر 1957 کو اتر پردیش کے معروف ضلع اعظم گڑھ کے موضع چماواں میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق علم و ادب میں نمایاں مقام رکھنے والے خانوادے سے تھا۔ اردو کے معروف نقاد اور سیکڑوں عشقیہ و سماجی ناولوں کے خالق پروفیسر سید مجاور حسین، اردو کے استاد پروفیسر سجاد باقر لاہوری، اور ترقی پسند تحریک کے ابتدائی ستونوں میں شامل سید سبط حسن کے خانوادے کے فرد سید غلام مہدی ان کے والد تھے۔ سید غلام مہدی اپنے دور کے استاد شاعر تھے اور مہدی اعظمی کے تخلص سے شاعری کرتے تھے۔
شعری اور تعلیمی خدمات
شعور اعظمی کا شعری شعور ان کے والد کی تربیت کا مرہون منت تھا، جس کی بدولت وہ کم عمری میں ہی شعر و سخن کی جانب راغب ہو گئے۔ انہوں نے طبیہ کالج ممبئی سے ڈی یو ایم ایس کی ڈگری حاصل کی اور پیشے کے اعتبار سے معالج تھے، جو قدیم و جدید دونوں طریقۂ علاج میں مہارت رکھتے تھے۔ تاہم، طبیعت کے لحاظ سے وہ مشکل پسند تھے، اور یہی رجحان انہیں علم عروض جیسے پیچیدہ فن میں مہارت حاصل کرنے کی طرف لے گیا۔
لائف اچیومینٹ ایوارڈ سے نوازا گیا
عروس البلاد ممبئی گوونڈی جعفریہ امام بارگاہ میں عقد زہرا سلام اللہ علیہا کے عنوان سے ایک عظیم الشان جشن کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں استاذ الشعرا جناب ڈاکٹر شعور اعظمی کو ان کی قومی اور ادبی خدمات کو سراہتے ہوئے "لائف ٹائم اچیومینٹ ایوارڈ" سے نوازا گیا۔
جشن کے مقرر خصوصی پروفیسر سید ضامن علی محمد آبادی کا درمیان جشن زبردست بیان رہا انہوں نے اپنی عمدہ خطابت اور فضائل اہل البیت علیہم السلام سے مومنین کے قلوب کو منور فرمایا۔ سامعین کرام نے نعرۂ حیدری اور صلوات سے موصوف کی خوب سراہنا کی۔ یاد رہے کہ پروفیسر سید ضامن علی محمد آبادی ایک اچھے خطیب کے ساتھ ساتھ بہترین شاعر اور ادیب بھی ہیں۔
آپ نے درمیان تقریر فرمایا: جب قرآن کی آیت "مرج البحرین یلتقیان" کا نزول ہوا اور پیغمبر اسلام نے اس آیت کی تلاوت فرمایا تو " ایک صاحب کھڑے ہوئے اور کہا یا رسول اللہ (ص) اس آیت سے کیا مراد ہے؟ تو رسول اکرم (ص) نے فرمایا اس سے مراد علی اور فاطمہ ہیں ہیں۔ یہ دو سمندر علی و فاطمہ ہیں۔
پھر سوال ہوا یہ "بحرین" کیوں؟ فرمایا: یہ دو سمندر ہیں، گہرے سمندر ہیں اور سمندر بھی کس چیز کی؟ علم کی گہرائی ۔ پھر پیغمبر نے فرمایا: صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اس سے آگے بھی سنو "و بینھما برزخ لا یبغیان" ان دونوں کے درمیان ایک برزخ ہے، ایک حد ہے یہ دونوں ایک دوسرے کے خلاف کبھی بغاوت نہیں کرتے، اب سمجھ میں آیا کہ منبر پہ آکے سلونی کا دعویٰ کرنے والا گھر میں آکر جناب فاطمہ زہرا (س) سے مشورے کیوں کرتا تھا۔
اگر گھر میں آکر شہزادی سے مشورے کر رہا ہے تو کچھ تو راز ہوگا۔ کیوں نہ راز ہوتا۔۔۔۔ دو سمندر ہیں، برابر کے سمندر ہیں، کس چیز کے سمندر ؟ علم کے سمندر۔۔۔۔۔ یا علی (ع) آپ کو منبر ملا ہے دعویٰ کر دیجئے، اور فاطمہ کو وہ منبر نہیں ملا کہ دعویٰ کرتیں۔ عجب نہیں کہ اللہ آواز دے اے میری کنیز تو گھر میں رہ میں اس سلونی کے دعویٰ کرنے والے کو خود تجھ تک بھیجوں گا مشورے کرنے کے لئے تاکہ دنیا کو تیرے حلم و فہم اور عظمت کا ادراک ہو سکے۔ جشن کے بعد کنوینر اور بانئ جشن موج نظامت ساحل اعظمی نے پروفیسر سید ضامن علی محمد آبادی کی شال پوشی سے عزت افزائی فرمایا اور طول عمر و توفیقات افزون کی دعا فرمائی[1]۔
علم عروض اور تصنیفات
شعور اعظمی کا شمار ہندوستان کے استاد الشعراء میں ہوتا تھا۔ وہ علم عروض کے ماہر اور اردو شاعری کے ایک معتبر نام تھے۔ عروض پر ان کی کئی تصانیف منظرِ عام پر آئیں، اور انہوں نے اس فن کے ماہرین عربی عروض کے مشہور عالم خلیل ابن احمد اور فارسی کے علم کلام کے ماہر ناصر الدین الطوسی سے بھی علمی استفادہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عروض پر لکھی گئی کم از کم پچاس کتابوں کے نام انہیں ازبر تھے۔
ان کی تصنیف "عروض شعور" ممبئی یونیورسٹی کے بی اے کے نصاب میں شامل تھی، جبکہ "فرہنگِ شعور" ایم اے اردو کے نصاب میں شامل کی گئی تھی۔ اردو اکادمی اتر پردیش نے ان کی کتاب کو انعام سے نوازا اور منتخب کتاب قرار دیا[2]۔
شعری خدمات اور اثرات
شعور اعظمی کی شاعری میں فارسی، اردو، عربی اور ہندی کے الفاظ کا ایسا حسین امتزاج ملتا ہے جو ان کے کمال فن کا مظہر تھا۔ ان کے نوحے، سلام اور قصائد برصغیر کی معروف انجمنوں میں پڑھے جاتے تھے۔ ان کی اصلاحی شاعری نے کئی نسلوں کو فیض پہنچایا، اور ان کے اصلاحی مشوروں سے سیکڑوں شعراء نے اپنی شاعری کو نکھارا۔
وہ جامعہ امام امیرالمومنین علیہ السلام نجفی ہاؤس ممبئی کے استاد بھی تھے، جہاں انہوں نے کئی شاگردوں کی علمی اور ادبی تربیت کی۔ ڈاکٹر شعور اعظمی ایک ایک ایسے شاعر اور مصنف ہیں جن کی عروض پر بہت مستحکم گرفت ہے۔ اگر انہیں علم عروض کا کیڑا کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا۔
ڈاکٹر شعور اعظمی
اردو عروض کا ماہر
اردو عروض ایک نہایت مشکل فن ہے۔ ایک قادر الکلام شاعر بھی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ وہ عروض کا ماہر ہے۔ اس فن کی بنیادی معلومات نہ ہونے کے سبب بڑے بڑے شعراء کا کلام عروضی غلطیوں سے پاک نہیں رہ پاتا۔ چونکہ یہ ایک مشکل فن ہے اس لئے عروض کے ماہرین کی تعداد ہمیشہ کم رہی ہے۔ ڈاکٹر شعور اعظمی ایک ایک ایسے شاعر اور مصنف ہیں جن کی عروض پر بہت مستحکم گرفت ہے۔ اگر انہیں علم عروض کا کیڑا کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا۔ فن عروض میں ان کی مہارت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ عروض پر ان کی تحریر کردہ کتابیں ممبئی یونیورسٹی کے بی اے اور ایم اے کے نصاب میں شامل ہیں۔
شعور اعظمی کا ایک عروضی کارنامہ یہ بھی ہے کہ انہوں نےعروض و قافیہ کی اصطلاحات کی فرہنگ بھی ترتیب دی ہے۔ انہوں نے عظیم مرثیہ گو شاعر میر انیس پر کئے گئے اعتراضات کا منہہ توڑ جواب دیتے ہوئے ایک کتاب بھی تحریر کی ہے۔ وہ ایک قادر الکلام شاعر ہیں۔ ان کی مدحیہ شاعری کے دو مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے والد کے کلام کو بھی یکجا کر کے شائع کیا ہے۔ ڈاکٹر شعور اعظمی کے فن اور ادبی خدمات کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کرنے سے پہلے ان کے خاندانی پس منظر اور تعلیمی سفرکا ذکر کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔
کم عمری میں شاعری
شعور اعظمی کا شعری شعور ان کے والد کی تربیت کا ہی مرہون منت ہے۔ کم عمری میں ہی وہ شعرو سخن کی جانب راغب ہو گئے تھے۔ انہوں نے طبیہ کالج ممبئی سے ڈی یو ایم ایس کی ڈگری حاصل کی۔ وہ پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں، قدیم اور جدید دونوں طریقوں سے مریضوں کا علاج کرتے ہیں۔ طبیعت کے لحاظ سے شعور اعظمی مشکل پسند واقع ہوئے ہیں۔ یہ مشکل پسند طبیعت کا ہی طفیل ہے کہ عروض جیسے مشکل علم میں انہوں نے مہارت حاصل کی۔
انہوں نے علم عروض سے متعلق لا تعداد کتابوں کا مطالعہ کیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ عروض سے متعلق کم از کم پچاس کتابوں کے نام ان کے ذہن میں محفوظ ہیں۔ انہوں نے عربی اور فارسی کی عروض کی بھی واقفیت حاصل کی۔ انہوں نے عربی عروض کے ماہر خلیل ابن احمد اور فارسی کے علم کلام کے ماہر ناصر الدین الطوسی کی بصیرت اور لیاقت سے بھی کسب فیض کیا ہے۔
یونیورسٹی کے نصاب میں ان کی کتابیں
شعور اعظمی نے عروض پر دو بہت مفید اور گراں قدر کتابیں تحریر کی ہیں۔ ان کی کتابوں 'شعور عروض' اور 'فرہنگ شعور' کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 'شعور عروض' ممبئی یو نیورسٹی کے بی اے کے نصاب میں شامل ہے اور 'فرہنگ شعور' ممبئی یونیورسٹی کے ایم اے کے نصاب کا حصہ ہے، 'شعور عروض' میں شعور اعظمی نے شاعری کی ہے اس کی تعریف بیان کی ہے، انہوں نے اصول تقطیع۔عروض الحاقی، علم ھجا۔ علم صرف و نحو، علم قوافی کے بارے میں بتایا ہے۔ اشعار کے ذریعے سخن کے محاسن اور عیوب بیان کئے ہیں، کلام کی اصناف اور اقسام، رکن اور بحر کے بارے میں تفصیل سے بتایا ہے۔
انہوں نے اسی کتاب میں نثر کی اصناف اور اقسام کے بارے میں بھی بتایا ہے۔ 'فرہنگ شعور' شعور اعظمی کا عروضی کارنامہ ہے۔ اردو میں یہ اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہے۔ یہ عروض اور قافیہ کی اصطلاحات کی فرہنگ ہے۔ شعور اعظمی کی عروضی مہارت اور علم کلام و بیان پر ان کی دسترس پر ممبئی یونیورسٹی کے اردو شعبہ کے صدر قمر صدیقی کا کہنا ہے کہشعور اعظمی کے روپ میں ہم بالمشافہ اردو سے مل سکتے ہیں۔ عام عروضیوں کی طرح شعور اعظمی کی تحریر میں گھنا پن نہیں ہوتا۔عروضی مسائل پر وہ واضح اور مدلل موقف رکھتے ہیں۔
فن عروض کو اپنے استفادہ کے لئے حاصل کریں
'فرہنگ شعور' میں شعور اعظمی اہل زبان سے یہ اپیل کرتے ہیں کہ فن عروض کو اپنے استفادہ کے لئے حاصل کریں دوسروں پر کیچڑ اچھالنے کے لئے نہیں۔ 'فرہنگ شعور' میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ جس طرح کسی لغت میں کوئی لفظ آسانی سے ڈھونڈا جاسکتا ہے اسی طرح عروض و قوافی کی اصطلاحیں بھی آسانی سے ڈھونڈی جا سکیں۔ یہ کتاب عروض کی بنیادی باتیں جاننے والوں کے لئے بہت مفید ہے۔ اس میں عروض کی اصطلاحوں اور بحروں کی اقسام بھی بتائی گئی ہیں۔
اس کتاب کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مرکب بحریں کون سی ہیں۔ مفرد بحریں کون سی ہے۔ حرف روی کسے کہتے ہیں۔ ردف کیا ہوتا ہے۔ کسی شعر کی تقطیع کےاصول کیا ہوتے ہیں۔ شعور اعظمی سخنوروں کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ عروض کے بحر بے کراں کی تہوں میں اترنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اساتذہ کے کلام کا مطالعہ کرنے سے یہ بات سمجھ میں آجائے گی کہ دس بارہ بحروں اور دس بارہ زحافات سے زیادہ یاد رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
مرثیہ نگار میر انیس کی شان میں کلیم الدین احمد کی ہزہ گوئی کا منہہ توڑ جواب
ایک اور کانامہ جو شعور اعظمی نے انجام دیا ہے وہ عظیم مرثیہ نگار میر انیس کی شان میں کلیم الدین احمد کی ہزہ گوئی کا منہہ توڑ جواب ہے۔ شعور اعظمی نے وہ فرض کفایہ ادا کیا ہے جس کی ادائے گی ہر محب اردو اور ہر عاشق انیس پر واجب تھی۔ کلیم الدین احمد کی کتاب 'میر انیس' 1988 میں بہار اکیڈمی نے کلیم الدین احمد کے انتقال کے پانچ برس کے بعد شائع کی۔ کلیم الدین کی بد گوئی اور دریدہ دہنی کا جواب دینے کی کسی قلمکار نے اس لئے ضرورت محسوس نہیں کی کیونکہ صاحب معاملہ ہی دنیا میں موجود نہیں تو جواب بے اثر ہو جاتا، لیکن شعور اعظمی نے اس کے بر عکس فیصلہ کیا۔
مطالعے کا کوئی متبادل نہیں ہے
صدر ڈاکٹر عبداللہ امتیاز نے کہا کہ شعور اعظمی بھلے اپنے بارے میں کچھ بھی کہیں ،لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے ہمارے سامنے تاریخ پیش کی ہے۔ ممبئی یونیورسٹی شعبہ اردو کے تحت میرا ادبی سفرکے عنوان پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے مشہور بزرگ شاعر،عروض داں اور ناقد ڈاکٹر شعور اعظمی نے واضح طور پر کہاکہ مطالعے کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ واضح رہےشعبہ اردو نے گزشتہ سال سے میرا ادبی سفر کے عنوان سے یہ سلسلہ شروع کیا ہے۔
مذکورہ تقریب کی صدارت ڈاکٹر عبداللہ امتیاز احمد (صدر شعبہ اردو مینی یو نیورسٹی) نے کی اور مہمان خصوصی ڈاکٹر سکینہ خان ، ( شعبۂ فارسی، ممبئی یو نیورسٹی) تھیں۔ اس تقریب میں شعور اعظمی نے اپنا تعارف تعلیمی سفر اور ممبئی میں بزرگوں کی علمی وادبی صحبتوں سے استفادہ پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے اپنا ادبی سفر کا احوال بیان کیا۔
انہوں نے کہا کہ مطالعے کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ اپنے ادبی سفر روداد بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر شعور اعظمی نے ممبئی کے مشاعروں ،نشستوں، ممبئی کے کتب خانوں ممبئی کے ادبا و شعرا اور ادبی حلقوں پر کچھ اس انداز میں گفتگو کی کی گزشتہ پچاس سال کے ممبئی میں اردو علمی وادبی منظر نامہ کو پیش کردیا اور ان کی۔منظر کشی کی اور وہ زمانہ نظروں کے سامنے گردش کرنے لگا۔
مہمان خصوصی شعبہ فارسی کی صدر سکینہ خان نے بھی شعور اعظمی کے انداز کی ستائش کی اور متاثرکن انداز میں کہاکہ ایسا ماحول پیدا کرنے کی ہمیں کوشش کرنا چاہئیے ۔اپنی صدارتی خطبہ میں ڈاکٹر عبداللہ امتیاز صدر شعبہ اردو ممبئی یونیورسٹی نے کہاکہ شعور اعظمی بھلے اپنے بارے میں کچھ بھی کہیں ،لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے ہمارے سامنے تاریخ پیش کی ہے اور اپنے تجربات کو پیش کیا جوکہ اہم مواد ہے ۔
انہوں نے کہاکہ شعور اعظمی کا شمار استاد شاعروں میں ہوتا ہے اور یہ آج یہ نمایاں ہوچکا ہے۔انہوں نے کہاکہ مطالعے کے بغیر کچھ نہیں ہوتا ہے اور وہ ضروری ہے۔آج بھی وہ چھ گھنٹہ تک مطالعہ کیا جاتا ہے اور اس پر عمل کرتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیئے ۔
اس تقریب میں شہر سے کثیر تعداد میں شہر اردو داں طبقہ سے تعلق رکھنے والی۔اہم شخصیت موجود تھیں جن میں دیوریا یوپی کے ڈاکٹر ذاکر حسین،عرفان جعفری،صحافی جاوید جمال الدین،ڈاکٹر سلیم خان،شعبۂ اردو کے طلبہ اور اساتذہ جناب کمتر انو گھڑے، ڈاکٹر احرار اعظمی ، ڈاکٹر تابش خان اور محترمہ تقیسم حسین نے شرکت کی ۔ تقریب کی نظامت شعبہ کے استاذ ڈاکٹر قمر صدیقی نے کی۔ عرفان جعفری نے شعبہ اردو یونیورسٹی کا شکریہ ادا کے اس طرح کا سلسلہ شروع کیا اور میرا خیال میں یہ جو سلسلہ ہے یہ ہندوستان کی کسی بھی ادارے میں نہیں ہوتے ہیں[3]۔
ترکی بہ ترکی
انہوں نے 'ترکی بہ ترکی' کے نام سے 464 صفحات پر مشتمل کتاب اس لئے تحریر کی کہ اگر جواب نہ دیا گیا تو آنے والی نسلیں میر انیس کی شان میں کلیم الدین احمد کی بکواس کو درست مان لیں گی۔ میر انیس کی شاعری اور شخصیت پر کلیم الدین احمد کے معاندانہ جذبے کے تحت کئے گئے اعتراضات کا انہی کی زبان میں جواب دیکر شعور اعظمی نے اردو شاعری پر میر انیس کے احسانات کا کسی حد تک قرض اتارنے کی کوشش کی ہے۔ 'ترکی بہ ترکی' تحریر کرکے شعور اعظمی نے اردو ادب کے ناقدین کو بھی یہ باور کرایا کہ تنقید میں متانت اور اصولوں کی پاسداری ضروری ہے۔ بنیادی اصولوں کو پامال کرنے والی تنقید، تنقید نہیں ہوتی بلکہ تنقیص ہوتی ہے۔
جہاں تک شعور اعظمی کی شاعری کا معاملہ ہے تو عروض کے ماہر ہونے کے باوجود ان کی شاعری بوجھل نہیں ہے۔ ان کے یہاں آمد ہی آمد ہے عروضی مجبوریوں کے تحت آورد نہیں ہے۔ شاعری میں بھی ان کی جدت فکر نظر آتی ہے۔ بنت پیغمبر بی بی فاطمہ زہرا کی شان میں قصائد اور منقبتوں کو انہوں نے 'شعور مودت' کے عنوان کے تحت یکجا کیا ہے۔ دختر رسول اللہؐ کی شان میں ان کے یہ اشعار ملاحظہ کیجئے۔ کتنی سادگی کے ساتھ شعور اعظمی نے ان کی فضیلتیں بیان کی ہیں۔
ہیں نبی خیر البشر خیر النسا ہیں فاطمہ
صنف نسواں میں مثال مصطفی ہیں فاطمہ
خدا راضی، نبی راضی رہیں جس کی تلاوت سے
مودت کا وہ قرآں ہے ثنائے فاطمہ زہرا
اے مسلماں وقت آخر مصطفیٰ کا یاد کر
اذن لیتی ہے قضا بنت شہ لالوک سے[4]۔
ادبی دنیا کا ناقابلِ تلافی نقصان
شعور اعظمی کا شمار ان ہستیوں میں ہوتا تھا جو ساری زندگی علم کے متلاشی رہے۔ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول "علم حاصل کرو مہد سے لحد تک" پر عمل پیرا تھے۔ ان کے انتقال سے اردو ادب کو ایک ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے، جسے مدتوں پورا نہیں کیا جا سکے گا۔
حوالہ جات
- ↑ ممبئی میں جشن عقد حضرت زہرا (س)؛ استاذ الشعراء ڈاکٹر شعور اعظمی کو لائف اچیومینٹ ایوارڈ سے نوازا گیا- شائع شدہ از: 23 جون 2023ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 26 فروری 2025ء۔
- ↑ نباض ادب ڈاکٹر سید قاسم مہدی شعور اعظمی انتقال کر گئے- شائع شدہ از: 26 فروری 2025ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 26 فروری 2025ء۔
- ↑ مطالعے کا کوئی متبادل نہیں ہے : ڈاکٹر شعور اعظمی- شائع شدہ از: 10 ستمبر 2023ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 26 فروری 2025ء۔
- ↑ جمال عباس فہمی،علم عروض کا کیڑا ہیں ڈاکٹر شعور اعظمی-شائع شدہ از: 6 مارچ 2023ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 26 فروری 2025ء۔