"افطحیہ" کے نسخوں کے درمیان فرق
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) «{{خانہ معلومات مذاہب اور فرقے | عنوان = افطحیہ | تصویر = | تصویر کی وضاحت = | نام = افطحیہ | عام نام = افطحیہ (فطحیہ) | تشکیل کا سال = | تشکیل کی تاریخ = | نظریہ = وہ امام جعفر صادقؑ کے بڑے بیٹے عبداللہ افطح کی امامت کے قائل تھے۔ }} '''افطحیہ...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| سطر 9: | سطر 9: | ||
| نظریہ = وہ [[جعفر بن محمد|امام جعفر صادقؑ]] کے بڑے بیٹے عبداللہ افطح کی امامت کے قائل تھے۔ | | نظریہ = وہ [[جعفر بن محمد|امام جعفر صادقؑ]] کے بڑے بیٹے عبداللہ افطح کی امامت کے قائل تھے۔ | ||
}} | }} | ||
'''افطحیہ (فطحیہ) | '''افطحیہ'''(فطحیہ) [[شیعہ]] سے منسوب ایک فرقہ ہے۔ اس فرقے کے پیروکاروں کا عقیدہ تھا کہ [[جعفر بن محمد|امام جعفر صادقؑ]] کے بعد [[امامت]] آپ کے بڑے بیٹے عبداللہ افطح کو منتقل ہوئی ہے۔ بعض منابع کے مطابق اس فرقے کا نام اس کے ایک رہنما عبداللہ بن فطیح کوفی کی نسبت سے رکھا گیا ہے <ref>شیخ طوسی، اختیار معرفة الرجال، ج ۲، ص ۵۲۴</ref>۔ | ||
== لغوی معنیٰ == | == لغوی معنیٰ == | ||
حالیہ نسخہ بمطابق 01:46، 16 مئی 2026ء
| افطحیہ | |
|---|---|
| نام | افطحیہ |
| عام نام | افطحیہ (فطحیہ) |
| نظریہ | وہ امام جعفر صادقؑ کے بڑے بیٹے عبداللہ افطح کی امامت کے قائل تھے۔ |
افطحیہ(فطحیہ) شیعہ سے منسوب ایک فرقہ ہے۔ اس فرقے کے پیروکاروں کا عقیدہ تھا کہ امام جعفر صادقؑ کے بعد امامت آپ کے بڑے بیٹے عبداللہ افطح کو منتقل ہوئی ہے۔ بعض منابع کے مطابق اس فرقے کا نام اس کے ایک رہنما عبداللہ بن فطیح کوفی کی نسبت سے رکھا گیا ہے [1]۔
لغوی معنیٰ
لفظ "افطح" لغت میں اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کا سر یا پاؤں چوڑا ہو [2]۔ [3]۔ چونکہ عبداللہ کا سر یا پاؤں چوڑا تھا، اس لیے اسے "افطح" کہا گیا اور اس کے پیروکاروں کو "افطحیہ" یا "فطحیہ" کہا جانے لگا[4]۔ [5]۔ [6]۔
تاریخی پس منظر
منابع میں آیا ہے کہ عبداللہ، جو اسماعیل کے بعد امام جعفر صادقؑ کے بڑے بیٹے تھے، کہا کرتے تھے کہ امامت امامِ سابق کے سب سے بڑے بیٹے کو منتقل ہوتی ہے۔
امام جعفر صادقؑ نے فرمایا: جو شخص میری مجلس میں بیٹھے وہی امام ہے، اور امام کو صرف امام ہی غسل دیتا ہے، اور اس پر نماز بھی صرف امام ہی پڑھتا ہے، اور اس کی انگوٹھی بھی وہی پہنتا ہے، اور اسے دفن بھی امام ہی کرتا ہے، اور میں نے یہ تمام امور انجام دیے ہیں۔
شیخ مفید لکھتے ہیں کہ یہ بات کہ امامت صرف بڑے بیٹے میں ہوتی ہے، ایسی حدیث ہے جسے کسی نے بھی بغیر شرط کے روایت نہیں کیا، اور وہ شرط یہ ہے کہ جانشینِ امام ہر قسم کے عیب اور آفت سے پاک ہو۔ جبکہ عبداللہ بن جعفر عیب سے خالی نہیں تھے، کیونکہ وہ مذہب "مرجئہ" کے قائل تھے۔
یہ بھی نقل ہوا ہے کہ ایک دن عبداللہ امام جعفر صادقؑ کی خدمت میں حاضر تھے، تو امام خاموش رہے یہاں تک کہ وہ مجلس سے چلے گئے۔ اصحاب نے خاموشی کی وجہ پوچھی تو فرمایا کہ وہ "مرجئہ" میں سے ہے۔
تاہم، امام جعفر صادقؑ کی وفات کے بعد بہت سے اصحاب عبداللہ کی طرف مائل ہو گئے، سوائے چند افراد کے جو حقیقی امام کو پہچانتے تھے۔ جب انہوں نے عبداللہ میں علم نہ پایا تو اس کی پیروی سے انکار کر دیا۔
لیکن جو لوگ اس کی امامت پر یقین رکھتے تھے وہ اسی مذہب پر قائم رہے اور کہا کہ اس کے بعد اس کا بیٹا امام ہوگا۔ لیکن جب عبداللہ کا انتقال ہوا اور اس کا کوئی بیٹا نہ تھا، تو افطحیہ کی اکثریت اس کی امامت سے رجوع کر گئی اور امام موسیٰ بن جعفرؑ کی امامت کی طرف مائل ہو گئی۔
اس سے پہلے بھی عبداللہ کے زمانے میں ایک گروہ امام موسیٰ بن جعفرؑ کی امامت کا قائل ہو چکا تھا۔ نقل کیا گیا ہے کہ عبداللہ اپنے والد کی وفات کے بعد ستر دن سے زیادہ زندہ نہ رہے۔
عقائد
مامقانی اپنی کتاب "مقباس الہدایة" میں لکھتے ہیں کہ فطحیہ دو اعتبار سے دیگر شیعہ فرقوں کے مقابلے میں حق کے زیادہ قریب تھے۔ پہلی بات یہ کہ دیگر باطل مذاہب بعض ائمہ کا انکار کرتے تھے، جبکہ قطعی نصوص کے مطابق جو شخص ایک امام کا انکار کرے گویا اس نے تمام ائمہ کا انکار کیا۔
اس کے برعکس فطحیہ بارہ ائمہ کی امامت کے قائل تھے اور عبداللہ افطح کو امام جعفر صادقؑ اور ان کے بھائی امام موسیٰ کاظمؑ کے درمیان شمار کرتے تھے، اور فطحی اس وقت تک نہیں مرتا جب تک وہ اپنے زمانے کے امام کی معرفت حاصل نہ کر لے، جبکہ دیگر فرقے اپنے زمانے کے امام سے ناواقف تھے۔
دوسری بات یہ کہ دیگر باطل مذاہب جو بارہ ائمہ کے قائل نہ تھے، فطحیہ کی مانند نہ تھے، کیونکہ عبداللہ کی امامت ستر دن سے زیادہ نہ رہی اور اس کی وفات کے بعد اس کے پیروکار امام موسیٰ کاظمؑ کی امامت کی طرف رجوع کر گئے[7]۔
حوالہ جات
- ↑ شیخ طوسی، اختیار معرفة الرجال، ج ۲، ص ۵۲۴
- ↑ فخرالدین طریحی، مجمع البحرین، ج 3، ص 410
- ↑ ابن منظور، لسان العرب، ج 2، ص 545
- ↑ حسن بن موسی نوبختی، فرق الشیعة، ص 78
- ↑ محمد بن عمر بن عبدالعزیز کشّی، رجال الکشّی، ص 219
- ↑ ابوالحسن اشعری، مقالات الاسلامیین و اختلاف المصلین، ص 87
- ↑ محمدجواد مشکور، فرهنگ فرق اسلامی، مشهد، انتشارات آستان قدس رضوی، سال 1372 ش، چ دوم، ص 65، با ویرایش و دخل و تصرف در عبارات