"اثریہ" کے نسخوں کے درمیان فرق
ترجمه خودکار از ویکی فارسی |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| سطر 1: | سطر 1: | ||
{{ | |||
| عنوان = | {{خانہ معلومات مذاہب اور فرقے | ||
| عنوان = اثریہ | |||
| تصویر = | | تصویر = | ||
| توضیح تصویر = | | توضیح تصویر = | ||
| نام = اثریہ | | نام = اثریہ | ||
| نام رایج = | | نام رایج = اثریہ | ||
| تاریخ شکل گیری = | | تاریخ شکل گیری = | ||
| قرن شکل گیری = | | قرن شکل گیری = | ||
| مبدأ شکل گیری = | | مبدأ شکل گیری = | ||
| موسس = | | موسس = | ||
| عقیدہ = قیاس کی مخالفت | | عقیدہ = قیاس کی مخالفت | ||
}} | }} | ||
'''فرقہ اثریہ''' ظاہراً ان شیعیان میں سے ہیں جو [[ابو حنیفہ]] اور ان کے مذہب کی مخالفت کرتے ہیں جو قیاس پر مبنی ہے، اور تاکہ [[حنفیہ]] اور [[اہل سنت]] کی طرف سے ایذاء کا نشانہ نہ بنیں، وہ [[شیطان|شیطان]] کا نام لے کر ابو حنیفہ کے بجائے انہیں دشنام اور اعتراض کا نشانہ بناتے ہیں۔ | |||
== عقائد == | |||
اثریہ کا اعتقاد ہے کہ ہر شرعی اور دینی امر جو اسلامی امت سے متعلق ہے، وہ مکمل طور پر [[قرآن]] میں بیان کیا گیا ہے اور نبوی اخبار میں واضح اور معین کیا گیا ہے۔ لہٰذا جو کچھ آیات اور [[روایات]] میں بیان نہیں ہوا، | |||
اسے کسی اور حکم کے حوالے سے قیاس کے ذریعے ثابت کرنے اور خود کو وسوسے میں ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے۔ لہٰذا ہمیں ایسی تکلیف اور قیاس کی کوئی ضرورت نہیں جس کی جڑ شیطانی فکر میں ہے، کیونکہ پہلی شخصیت جس نے قیاس کی بنیاد رکھی وہ [[ابلیس]] تھا | |||
جس کی گردن میں لعنت کا طوق پڑ گیا۔ ابلیس چونکہ خود [[جن]] میں سے تھا اور آگ سے پیدا کیا گیا تھا، وہ آگ کے جوہر کو نورانی اور مطلق حقیقت، اور مٹی کے جسم کو گندا اور تاریک جانتا تھا | |||
اور مغرورانہ کہتا تھا کہ آگ مٹی سے بہتر ہے اور جو وجود آگ سے پیدا کیا گیا ہے اس پر فرض نہیں کہ وہ مٹی کو سجدہ کرے۔ شیطان کا وسوسہ اور اس کا قیاس اس پر بھاری پڑا اور خداوند متعال کی بارگاہ سے اس کے اخراج کا سبب بنا | |||
اور اس کے فرشتہ ہونے کے پر و بال گر گئے اور وہ مسخ ہو گیا اور آسمانی ہونے سے زمینی ہو گیا۔ خداوند نے ابلیس کے بارے میں انواع امتحانات کیے تاکہ بالآخر اس کے اندر کی بات کھل جائے، | |||
اس لیے کہ وہ اپنی رائے سمجھنے کے پیچھے تھا اور قیاس کی پیروی کرتا تھا، کہ اگر وہ خداوند کے امر کا مطیع ہوتا اور اس کا فرمان مانتا تو خدا کی رحمت سے دور نہ ہوتا۔ اور اسی طرح ہم کہتے ہیں | |||
کہ قرآن اور خبر یعنی ([[حدیث]]) ہمیں کافی ہے، کیونکہ شرعی مسائل میں قیاس کی گنجائش نہیں اور ہر حکم جو قیاس سے ثابت ہو باطل ہوگا<ref>محمد جواد مشکور، ''فرہنگ فرق اسلامی''، مشہد، نشر آستان قدس رضوی، سن 1372 ہجری شمسی، چ دوم، ص 24، عبارات میں وسیع پیمانے پر ترمیم اور اصلاحات کے ساتھ۔</ref>。 | |||
== | == متعلقہ تلاشیں == | ||
* [[اہل سنت]] | * [[اہل سنت]] | ||
* [[حنفیہ ]] | * [[حنفیہ ]] | ||
* [[ابلیس]] | * [[ابلیس]] | ||
* [[جن]] | * [[جن]] | ||
* [[غلات]] | |||
* [[عینیہ|عینیہ]] | |||
== حوالہ جات == | |||
== حوالہ جات == | |||
{{حوالہ جات}} | {{حوالہ جات}} | ||
{{مذاہب اور فرقے}} | |||
[[زمرہ:مذاہب اور فرقے]] | |||
{{ | |||
[[زمرہ: | |||
نسخہ بمطابق 15:36، 9 مئی 2026ء
| اثریہ | |
|---|---|
| نام | اثریہ |
فرقہ اثریہ ظاہراً ان شیعیان میں سے ہیں جو ابو حنیفہ اور ان کے مذہب کی مخالفت کرتے ہیں جو قیاس پر مبنی ہے، اور تاکہ حنفیہ اور اہل سنت کی طرف سے ایذاء کا نشانہ نہ بنیں، وہ شیطان کا نام لے کر ابو حنیفہ کے بجائے انہیں دشنام اور اعتراض کا نشانہ بناتے ہیں۔
عقائد
اثریہ کا اعتقاد ہے کہ ہر شرعی اور دینی امر جو اسلامی امت سے متعلق ہے، وہ مکمل طور پر قرآن میں بیان کیا گیا ہے اور نبوی اخبار میں واضح اور معین کیا گیا ہے۔ لہٰذا جو کچھ آیات اور روایات میں بیان نہیں ہوا،
اسے کسی اور حکم کے حوالے سے قیاس کے ذریعے ثابت کرنے اور خود کو وسوسے میں ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے۔ لہٰذا ہمیں ایسی تکلیف اور قیاس کی کوئی ضرورت نہیں جس کی جڑ شیطانی فکر میں ہے، کیونکہ پہلی شخصیت جس نے قیاس کی بنیاد رکھی وہ ابلیس تھا
جس کی گردن میں لعنت کا طوق پڑ گیا۔ ابلیس چونکہ خود جن میں سے تھا اور آگ سے پیدا کیا گیا تھا، وہ آگ کے جوہر کو نورانی اور مطلق حقیقت، اور مٹی کے جسم کو گندا اور تاریک جانتا تھا
اور مغرورانہ کہتا تھا کہ آگ مٹی سے بہتر ہے اور جو وجود آگ سے پیدا کیا گیا ہے اس پر فرض نہیں کہ وہ مٹی کو سجدہ کرے۔ شیطان کا وسوسہ اور اس کا قیاس اس پر بھاری پڑا اور خداوند متعال کی بارگاہ سے اس کے اخراج کا سبب بنا
اور اس کے فرشتہ ہونے کے پر و بال گر گئے اور وہ مسخ ہو گیا اور آسمانی ہونے سے زمینی ہو گیا۔ خداوند نے ابلیس کے بارے میں انواع امتحانات کیے تاکہ بالآخر اس کے اندر کی بات کھل جائے،
اس لیے کہ وہ اپنی رائے سمجھنے کے پیچھے تھا اور قیاس کی پیروی کرتا تھا، کہ اگر وہ خداوند کے امر کا مطیع ہوتا اور اس کا فرمان مانتا تو خدا کی رحمت سے دور نہ ہوتا۔ اور اسی طرح ہم کہتے ہیں
کہ قرآن اور خبر یعنی (حدیث) ہمیں کافی ہے، کیونکہ شرعی مسائل میں قیاس کی گنجائش نہیں اور ہر حکم جو قیاس سے ثابت ہو باطل ہوگا[1]。
متعلقہ تلاشیں
حوالہ جات
- ↑ محمد جواد مشکور، فرہنگ فرق اسلامی، مشہد، نشر آستان قدس رضوی، سن 1372 ہجری شمسی، چ دوم، ص 24، عبارات میں وسیع پیمانے پر ترمیم اور اصلاحات کے ساتھ۔