مندرجات کا رخ کریں

"ابو سعیدیہ" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
ترجمه خودکار از ویکی فارسی
 
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 1: سطر 1:
{{سانچہ معلومات فرق و مذاهب
 
 
 
{{خانہ معلومات مذاہب اور فرقے
| عنوان = ابو سعیدیہ
| عنوان = ابو سعیدیہ
| تصویر =  
| تصویر =
| توضیح تصویر =  
| تصویر کی وضاحت =  
| نام =  
| نام = مغيريه (غلات)
| نام رایج =  
| عام نام = مغيريه (غلات)
| تاریخ شکل گیری =  
| تشکیل کا سال =
| قرن شکل گیری =
| تشکیل کی تاریخ =
| مبدأ شکل گیری =
| بانی = حسن بن بہرام الجنابی
| موسس = حسن بن بہرام الجنابی
| نظریہ =   
| عقیدہ =   
}}
}}
'''ابو سعیدیہ'''، حسن بن بہرام الجنابی المعروف بہ ابو سعید کے پیروکار جو «[[قرامطہ]]» کے بزرگان میں سے تھے。


'''ابو سعیدیہ'''، حسن بن بہرام الجنابی المعروف بہ ابو سعید کے پیروکار جو «[[قرامطہ]]» کے بزرگان میں سے تھے۔
== تفصیلی حال ==
== تفصیلی حال ==
ابن حوقل کہتا ہے کہ ابو سعید [[بصرہ]] میں آٹا بیچنے والا تھا۔ اسے عبداللہ کاتب کی طرف سے، جو حمدان قرمط کا داماد تھا، ابتدا فارس اور پھر 286 ہجری قمری میں موجودہ [[بحرین|بحرین]] یا احساء (''لاحساء'') بھیجا گیا اور اس علاقے میں لوگوں کو دعوت دینے کا حکم دیا گیا۔ دیہاتی عربوں کا ایک گروہ اور نیز «[[کیسانیہ|کیسانیہ]]» اور قرامطہ اس کے گرد جمع ہو گئے۔ ابو سعید نے اس گروہ سے ایک لشکر تیار کیا اور شہر «ہجر» کا جو احساء کا مرکز تھا، محاصرہ کیا اور اس پر قبضہ کر لیا۔ خلیفہ معتضد باللہ عباسی نے عباس بن عمر کی سرداری میں اس سے لڑنے کے لیے ایک لشکر بھیجا جو ابو سعید کے لشکر کے ہاتھوں شکست کھا گیا۔ اس کے بعد اس نے احساء (لاحساء)، قطیف اور بحرین کے دیگر شہروں پر قبضہ کر لیا۔ ابو سعید اپنے پیروکاروں میں «سید» کے لقب سے مشہور تھا اور بالآخر 301 ہجری قمری میں شہر ہجر میں اپنے صقلابی (سلاوی) غلام کے ہاتھوں حمام میں قتل ہوا۔
ابن حوقل کہتا ہے کہ ابو سعید [[بصرہ]] میں آٹا بیچنے والا تھا۔ اسے عبداللہ کاتب کی طرف سے، جو حمدان قرمط کا داماد تھا، ابتدا فارس اور پھر 286 ہجری قمری میں موجودہ [[بحرین|بحرین]] یا احساء (''لاحساء'') بھیجا گیا  


اس کے بعد اس کا بیٹا ابو طاہر سلیمان بن ابی سعید اس کی جگہ بیٹھا اور پورے بحرین (احساء) پر قابض ہو گیا اور 317 ہجری قمری میں [[مکہ]] پر حملہ کیا اور [[کعبہ]] کا دروازہ اکھاڑ پھینکا۔ اس نے یومِ ترویہ کو حاجیوں پر حملہ کیا اور ان میں سے کئی کو قتل کر دیا اور ان کی لاشیں [[چاہ زمزم]] میں پھینک دیں اور [[حجر الاسود|حجر الاسود]] کو اپنے ساتھ لے گیا。
اور اس علاقے میں لوگوں کو دعوت دینے کا حکم دیا گیا۔ دیہاتی عربوں کا ایک گروہ اور نیز «[[کیسانیہ|کیسانیہ]]» اور قرامطہ اس کے گرد جمع ہو گئے۔ ابو سعید نے اس گروہ سے ایک لشکر تیار کیا اور شہر «ہجر» کا جو احساء کا مرکز تھا، محاصرہ کیا اور اس پر قبضہ کر لیا۔


عبیداللہ مہدی کو جب حجر الاسود کی منتقلی کا علم ہوا، تو اس نے ابو طاہر کے نام ایک خط میں اس کی سخت سرزنش کی اور اس کے عمل کو برا قرار دیا اور اسے یاد دلایا کہ حجر الاسود کو کعبہ میں واپس کر دے۔ اس کے بعد ابو طاہر نے حجر الاسود کو کعبہ میں واپس کر دیا۔ ابو طاہر 332 ہجری قمری میں ایک عورت کے ہاتھوں مارا گیا جس نے چھت سے اس کے سر پر اینٹ پھینکی تھی۔ ناصر خسرو قبادیانی نے اپنی سفر نامہ میں احساء (''لاحساء'') اور فرقہ ابو سعیدیہ کے بارے میں اپنے مشاہدات یوں بیان کیے ہیں کہ لاحساء ایک ایسا شہر ہے جس کے گرد مٹی کے چار مضبوط قلعے ایک کے بعد ایک بنے ہوئے ہیں اور ہر دو دیواروں کے درمیان تقریباً ایک فرسخ کا فاصلہ ہے۔ اس شہر میں بڑے آب چشمے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس کا سلطان ایک شریف شخص تھا۔ تاہم اس نے اس علاقے کے لوگوں کو مسلمانیت سے روک دیا تھا اور کہا تھا کہ [[نماز]] اور [[روزہ]] کی ضرورت نہیں ہے، تاہم، ان [[مناسک حج|مناسک]] کی انجام دہی میں رکاوٹ نہیں ڈالتا تھا اور اس کے علاوہ، وہ [[محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیا)|پیغمبر (صلّی اللہ علیہ وآلہ)]] کی رسالت کا معترف تھا۔
خلیفہ معتضد باللہ عباسی نے عباس بن عمر کی سرداری میں اس سے لڑنے کے لیے ایک لشکر بھیجا جو ابو سعید کے لشکر کے ہاتھوں شکست کھا گیا۔ اس کے بعد اس نے احساء (لاحساء)، قطیف اور بحرین کے دیگر شہروں پر قبضہ کر لیا۔


ابو سعید لوگوں سے کہتا تھا کہ موت کے بعد، میں دوبارہ تمہارے پاس لوٹ آؤں گا۔ اس کی وصیت میں آیا ہے کہ مستقل طور پر میرے چھ بیٹے بادشاہی کو سنبھالے رکھیں اور رعیت کے ساتھ عدل و انصاف سے پیش آئیں اور آپس میں جھگڑا نہ کریں تاکہ میں دوبارہ لوٹ آؤں۔ اس کی قبر شہر لاحساء میں ہے<ref>محمد جواد مشکور، ''فرق اسلامی کا دائرہ المعارف''، مشہد، انتشارات آستان قدس رضوی، سن 1372 ہجری شمسی، دوسرا ایڈیشن، ص 17، عبارات میں وسیع ترمیم اور اصلاحات کے ساتھ۔</ref>.
ابو سعید اپنے پیروکاروں میں «سید» کے لقب سے مشہور تھا اور بالآخر 301 ہجری قمری میں شہر ہجر میں اپنے صقلابی (سلاوی) غلام کے ہاتھوں حمام میں قتل ہوا۔


اس کے بعد اس کا بیٹا ابو طاہر سلیمان بن ابی سعید اس کی جگہ بیٹھا اور پورے بحرین (احساء) پر قابض ہو گیا اور 317 ہجری قمری میں [[مکہ]] پر حملہ کیا اور [[کعبہ]] کا دروازہ اکھاڑ پھینکا۔


اس نے یومِ ترویہ کو حاجیوں پر حملہ کیا اور ان میں سے کئی کو قتل کر دیا اور ان کی لاشیں [[چاہ زمزم]] میں پھینک دیں اور [[حجر الاسود|حجر الاسود]] کو اپنے ساتھ لے گیا。


== مزید دیکھیں ==
عبیداللہ مہدی کو جب حجر الاسود کی منتقلی کا علم ہوا، تو اس نے ابو طاہر کے نام ایک خط میں اس کی سخت سرزنش کی اور اس کے عمل کو برا قرار دیا اور اسے یاد دلایا کہ حجر الاسود کو کعبہ میں واپس کر دے۔
* [[کعبہ]]
* [[چاہ زمزم]]
* [[حجر الاسود|حجر الاسود]]
* [[قرامطہ]]


اس کے بعد ابو طاہر نے حجر الاسود کو کعبہ میں واپس کر دیا۔ ابو طاہر 332 ہجری قمری میں ایک عورت کے ہاتھوں مارا گیا جس نے چھت سے اس کے سر پر اینٹ پھینکی تھی۔


ناصر خسرو قبادیانی نے اپنی سفر نامہ میں احساء (''لاحساء'') اور فرقہ ابو سعیدیہ کے بارے میں اپنے مشاہدات یوں بیان کیے ہیں کہ لاحساء ایک ایسا شہر ہے جس کے گرد مٹی کے چار مضبوط قلعے ایک کے بعد ایک بنے ہوئے ہیں اور ہر دو دیواروں کے درمیان تقریباً ایک فرسخ کا فاصلہ ہے۔ اس شہر میں بڑے آب چشمے ہیں۔


== حواشی ==
کہا جاتا ہے کہ اس کا سلطان ایک شریف شخص تھا۔ تاہم اس نے اس علاقے کے لوگوں کو مسلمانیت سے روک دیا تھا اور کہا تھا کہ [[نماز]] اور [[روزہ]] کی ضرورت نہیں ہے، تاہم، ان [[مناسک حج|مناسک]] کی انجام دہی میں رکاوٹ نہیں ڈالتا تھا اور اس کے علاوہ، وہ [[محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیا)|پیغمبر (صلّی اللہ علیہ وآلہ)]] کی رسالت کا معترف تھا۔
{{حوالہ جات}}
 


ابو سعید لوگوں سے کہتا تھا کہ موت کے بعد، میں دوبارہ تمہارے پاس لوٹ آؤں گا۔ اس کی وصیت میں آیا ہے کہ مستقل طور پر میرے چھ بیٹے بادشاہی کو سنبھالے رکھیں اور رعیت کے ساتھ عدل و انصاف سے پیش آئیں اور آپس میں جھگڑا نہ کریں تاکہ میں دوبارہ لوٹ آؤں۔ اس کی قبر شہر لاحساء میں ہے<ref>محمد جواد مشکور، ''فرق اسلامی کا دائرہ المعارف''، مشہد، انتشارات آستان قدس رضوی، سن 1372 ہجری شمسی، دوسرا ایڈیشن، ص 17، عبارات میں وسیع ترمیم اور اصلاحات کے ساتھ۔</ref>.


== ماخذ ==
== ماخذ ==
سطر 43: سطر 42:
* محمد جواد مشکور، ''فرق اسلامی کا دائرہ المعارف''، مشہد، انتشارات آستان قدس رضوی، سن 1372 ہجری شمسی، دوسرا ایڈیشن، تاریخ درج مطلب: نامعلوم، تاریخ مشاہدہ مطلب: 15 دی 1404 ہجری شمسی۔  
* محمد جواد مشکور، ''فرق اسلامی کا دائرہ المعارف''، مشہد، انتشارات آستان قدس رضوی، سن 1372 ہجری شمسی، دوسرا ایڈیشن، تاریخ درج مطلب: نامعلوم، تاریخ مشاہدہ مطلب: 15 دی 1404 ہجری شمسی۔  


{{فرق و مذاهب}}
== متعلقہ تلاشیں ==
* [[کعبہ]]
* [[چاہ زمزم]]
* [[حجر الاسود|حجر الاسود]]
* [[قرامطہ]]
 
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات}}


[[زمرہ:فرق و مذاهب]]
{{مذاہب اور فرقے}}
[[زمرہ:مذاہب اور فرقے]]

نسخہ بمطابق 14:09، 7 مئی 2026ء


ابو سعیدیہ
ناممغيريه (غلات)
عام ناممغيريه (غلات)
بانیحسن بن بہرام الجنابی

ابو سعیدیہ، حسن بن بہرام الجنابی المعروف بہ ابو سعید کے پیروکار جو «قرامطہ» کے بزرگان میں سے تھے۔

تفصیلی حال

ابن حوقل کہتا ہے کہ ابو سعید بصرہ میں آٹا بیچنے والا تھا۔ اسے عبداللہ کاتب کی طرف سے، جو حمدان قرمط کا داماد تھا، ابتدا فارس اور پھر 286 ہجری قمری میں موجودہ بحرین یا احساء (لاحساء) بھیجا گیا

اور اس علاقے میں لوگوں کو دعوت دینے کا حکم دیا گیا۔ دیہاتی عربوں کا ایک گروہ اور نیز «کیسانیہ» اور قرامطہ اس کے گرد جمع ہو گئے۔ ابو سعید نے اس گروہ سے ایک لشکر تیار کیا اور شہر «ہجر» کا جو احساء کا مرکز تھا، محاصرہ کیا اور اس پر قبضہ کر لیا۔

خلیفہ معتضد باللہ عباسی نے عباس بن عمر کی سرداری میں اس سے لڑنے کے لیے ایک لشکر بھیجا جو ابو سعید کے لشکر کے ہاتھوں شکست کھا گیا۔ اس کے بعد اس نے احساء (لاحساء)، قطیف اور بحرین کے دیگر شہروں پر قبضہ کر لیا۔

ابو سعید اپنے پیروکاروں میں «سید» کے لقب سے مشہور تھا اور بالآخر 301 ہجری قمری میں شہر ہجر میں اپنے صقلابی (سلاوی) غلام کے ہاتھوں حمام میں قتل ہوا۔

اس کے بعد اس کا بیٹا ابو طاہر سلیمان بن ابی سعید اس کی جگہ بیٹھا اور پورے بحرین (احساء) پر قابض ہو گیا اور 317 ہجری قمری میں مکہ پر حملہ کیا اور کعبہ کا دروازہ اکھاڑ پھینکا۔

اس نے یومِ ترویہ کو حاجیوں پر حملہ کیا اور ان میں سے کئی کو قتل کر دیا اور ان کی لاشیں چاہ زمزم میں پھینک دیں اور حجر الاسود کو اپنے ساتھ لے گیا。

عبیداللہ مہدی کو جب حجر الاسود کی منتقلی کا علم ہوا، تو اس نے ابو طاہر کے نام ایک خط میں اس کی سخت سرزنش کی اور اس کے عمل کو برا قرار دیا اور اسے یاد دلایا کہ حجر الاسود کو کعبہ میں واپس کر دے۔

اس کے بعد ابو طاہر نے حجر الاسود کو کعبہ میں واپس کر دیا۔ ابو طاہر 332 ہجری قمری میں ایک عورت کے ہاتھوں مارا گیا جس نے چھت سے اس کے سر پر اینٹ پھینکی تھی۔

ناصر خسرو قبادیانی نے اپنی سفر نامہ میں احساء (لاحساء) اور فرقہ ابو سعیدیہ کے بارے میں اپنے مشاہدات یوں بیان کیے ہیں کہ لاحساء ایک ایسا شہر ہے جس کے گرد مٹی کے چار مضبوط قلعے ایک کے بعد ایک بنے ہوئے ہیں اور ہر دو دیواروں کے درمیان تقریباً ایک فرسخ کا فاصلہ ہے۔ اس شہر میں بڑے آب چشمے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ اس کا سلطان ایک شریف شخص تھا۔ تاہم اس نے اس علاقے کے لوگوں کو مسلمانیت سے روک دیا تھا اور کہا تھا کہ نماز اور روزہ کی ضرورت نہیں ہے، تاہم، ان مناسک کی انجام دہی میں رکاوٹ نہیں ڈالتا تھا اور اس کے علاوہ، وہ پیغمبر (صلّی اللہ علیہ وآلہ) کی رسالت کا معترف تھا۔

ابو سعید لوگوں سے کہتا تھا کہ موت کے بعد، میں دوبارہ تمہارے پاس لوٹ آؤں گا۔ اس کی وصیت میں آیا ہے کہ مستقل طور پر میرے چھ بیٹے بادشاہی کو سنبھالے رکھیں اور رعیت کے ساتھ عدل و انصاف سے پیش آئیں اور آپس میں جھگڑا نہ کریں تاکہ میں دوبارہ لوٹ آؤں۔ اس کی قبر شہر لاحساء میں ہے[1].

ماخذ

  • محمد جواد مشکور، فرق اسلامی کا دائرہ المعارف، مشہد، انتشارات آستان قدس رضوی، سن 1372 ہجری شمسی، دوسرا ایڈیشن، تاریخ درج مطلب: نامعلوم، تاریخ مشاہدہ مطلب: 15 دی 1404 ہجری شمسی۔

متعلقہ تلاشیں

حوالہ جات

  1. محمد جواد مشکور، فرق اسلامی کا دائرہ المعارف، مشہد، انتشارات آستان قدس رضوی، سن 1372 ہجری شمسی، دوسرا ایڈیشن، ص 17، عبارات میں وسیع ترمیم اور اصلاحات کے ساتھ۔