"ابراہیمیہ (پیروان ابراہیم بن موسی بن جعفر)" کے نسخوں کے درمیان فرق
ترجمه خودکار از ویکی فارسی |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| سطر 1: | سطر 1: | ||
{{ | |||
{{خانہ معلومات مذاہب اور فرقے | |||
| عنوان = ابراہیمیہ (پیروان ابراہیم بن موسی بن جعفر) | | عنوان = ابراہیمیہ (پیروان ابراہیم بن موسی بن جعفر) | ||
| تصویر = | | تصویر = | ||
| | | تصویر کی وضاحت = | ||
| نام = | | نام = ابراہیمیہ (پیروان ابراہیم بن موسی بن جعفر) | ||
| نام | | عام نام = ابراہیمیہ (پیروان ابراہیم بن موسی بن جعفر) | ||
| | | تشکیل کا سال = | ||
| | | تشکیل کی تاریخ = | ||
| | | بانی = ابراہیم بن موسی بن جعفر | ||
| | | نظریہ = | ||
}} | }} | ||
'''ابراہیمیہ''' ابراہیم بن موسی بن جعفر کے پیروکار ہیں۔ وہ ابتدا میں محمد بن ابراہیم بن اسماعیل معروف بہ ابن طباطبا کے داعیان میں سے تھے اور ان کے بعد یمن میں امامت کے مدعی بن گئے۔ | '''ابراہیمیہ''' ابراہیم بن موسی بن جعفر کے پیروکار ہیں۔ وہ ابتدا میں محمد بن ابراہیم بن اسماعیل معروف بہ ابن طباطبا کے داعیان میں سے تھے اور ان کے بعد [[یمن]] میں امامت کے مدعی بن گئے۔ | ||
== تاریخ == | |||
محمد بن ابراہیم بن اسماعیل معروف بہ ابن طباطبا، کوفہ سے خروج اور ابوالسرایا کی ان سے بیعت کے بعد، ان سادات میں سے جنہیں انہوں نے اپنے جانب سے اسلام کے بعض ممالک کی حکومت پر بھیجا، | |||
ابراہیم بن موسی بن جعفر تھے جو [[علی بن موسی|علی بن موسی رضا]] کے بھائی تھے۔ انہوں نے انہیں [[یمن]] کی ولایت پر مقرر کیا<ref>مشکور محمد جواد، فرہنگ فرق اسلامی، مشہد، نشر آستان قدس رضوی، سن 1372 ہجری شمسی، پہلی اشاعت، ص 13، عبارات میں ترمیم و اصلاح کے ساتھ</ref>۔ | |||
سید مرتضی علمالهدی بزرگ متکلم اور سید رضی [[نہج البلاغہ(کتاب)|نہج البلاغہ]] کے مؤلف انہی کی نسل سے ہیں<ref>اندلسی ابن حزم، جمہرہ انساب العرب، بیروت، نشر دار الکتب العلمیہ، پہلی اشاعت، سن 1403 ہجری قمری، ص 63</ref>۔ | |||
شیخ مفید اور فضل بن حسن طبرسی کی تصریح کے مطابق، ابراہیم بن موسی بہادر اور کریم شخص تھے۔ محمد باقر مجلسی کی نظر میں بھی ابراہیم بن موسی ایک قابل تعریف شخصیت تھے<ref>مجلسی محمد باقر، بحار الانوار، بیروت، نشر مؤسسہ الوفاء، سن 1404 ہجری قمری، ج 48، ص 303</ref>۔ | |||
== ابراہیم بن موسی کا قیام == | |||
محمد بن ابراہیم معروف بہ ابن طباطبا نے سن 198 ہجری قمری میں قیام کیا۔ اس قیام میں ابراہیم بن موسی ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔ ابن طباطبا کی وفات کے بعد، ابراہیم بن موسی محمد بن محمد بن زید سے جا ملے | |||
اور ان کی جانب سے یمن پر قبضہ کرنے کے لیے مامور ہوئے<ref>اصفہانی، علی بن حسین ابوالفرج، مقاتل الطالبین، بیروت، نشر دار المعارف، ص 435</ref><ref>دائرۃ المعارف تشیع، ج 1، ص 1۔</ref>۔ | |||
ایک اور روایت میں آیا ہے کہ جب ابوالسرایا نے قیام کیا اور عراق میں ان کا اور طالبیان کا کام زور پکڑ گیا، اس وقت ابراہیم بن موسی اور ان کے خاندان کے کچھ افراد [[مکہ]] میں تھے، اور جب ابراہیم کو ابوالسرایا اور عراقی طالبیان کی خبر ملی، تو وہ اپنے خاندان کے کچھ افراد کے ساتھ مکہ سے نکلے | |||
اور یمن کی طرف روانہ ہو گئے۔ اس وقت اسحاق بن موسی عباسی نامی شخص [[مأمون عباسی|مأمون]] کی جانب سے یمن کا حاکم تھا۔ جب اسے ابراہیم بن موسی کے یمن آنے اور صنعاء کے قریب پہنچنے کی خبر ہوئی، | |||
تو وہ تمام سوار اور پیدل فوج کے ساتھ جو اس کے پاس تھی [[نجدیہ]] کی طرف روانہ ہوا، اور یمن ابراہیم بن موسی کے لیے خالی چھوڑ دیا، کیونکہ وہ ان سے لڑنے سے پریشان تھا۔ | |||
کیونکہ اس نے اپنے چچا داود بن عیسی کے تجربے سے فائدہ اٹھایا جو مکہ اور [[مدینہ]] میں تھا، اور اس کی طرح عمل کیا، اور مکہ کی طرف چلا گیا یہاں تک کہ مشاش کے علاقے میں ڈیرے ڈالے، اور وہ مکہ داخل ہونا چاہتا تھا، لیکن مکہ کے علویوں نے اسے داخل ہونے سے روک دیا۔ | |||
اسحاق بن موسی کی ماں جو مکہ میں تھی اور علویوں کے ڈر سے چھپی ہوئی تھی، خفیہ طور پر اپنے بیٹے کے کیمپ میں جا ملی<ref>طبری ابوجعفر محمد بن جریر، تاریخ الامم و الملوک، بیروت، نشر دار التراث، سن 1387 ہجری قمری، دوسری اشاعت، ج 8، ص 536</ref>۔ | |||
== ابراہیم بن موسیٰ بن جعفر کی شکست کی کیفیت == | == ابراہیم بن موسیٰ بن جعفر کی شکست کی کیفیت == | ||
جب ابوالسرایا مارا گیا، حسن بن سہل [[مدائن]] گیا اور عبدالله بن سعید جرشی کو محمد بن حسن سے لڑنے بھیجا اور حمدویہ بن علی بن عیسیٰ بن ماہان کو یمن بھیجا جس پر ابراہیم کا قبضہ تھا۔ | جب ابوالسرایا مارا گیا، حسن بن سہل [[مدائن]] گیا اور عبدالله بن سعید جرشی کو محمد بن حسن سے لڑنے بھیجا اور حمدویہ بن علی بن عیسیٰ بن ماہان کو یمن بھیجا جس پر ابراہیم کا قبضہ تھا۔ | ||
ابراہیم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس سے لڑائی کی جبکہ دونوں طرف سے جانیں جا رہی تھیں۔ پھر ابراہیم بن موسیٰ یمن سے مکہ کے ارادے سے نکلا اور یزید بن محمد جو مکہ کا حاکم تھا، نے اسے روکنے کے لیے مکہ کے گرد خندق کھودی۔ | |||
ابراہیم مکہ پہنچا اور یزید بن محمد اور اس کے ساتھی اس کے سامنے کھڑے ہوئے۔ ابراہیم بن موسیٰ نے اپنے کچھ ساتھیوں کو بھیجا تاکہ وہ پہاڑ کی طرف سے مکہ میں داخل ہوں۔ ابراہیم کے مکہ میں داخل ہونے اور اس شہر پر قبضہ کرنے اور وہاں ٹھہرنے کے بعد، یزید وہاں سے بھاگ گیا۔ | |||
اسی سال یہ ہوا کہ مامون نے امام رضا (علیہ السلام) کو مدینہ سے خراسان لایا۔ مامون نے پیر کے روز ساتویں تاریخ ماہ رمضان سن 201 ہجری کو اپنے بعد ولی عہد بن کر اس سے بیعت کی | |||
اور لوگوں کو سیاہ پوشی کی بجائے سبز پوشی کا حکم دیا اور اطراف و نواحی کو اس کا حکم لکھا اور امام رضا (علیہ السلام) کے لیے بیعت لی اور ان کے نام پر منبروں پر خطبہ پڑھا گیا اور دینار و درہم کے سکے | |||
ان ہی کے نام پر ڈھالے گئے اور کوئی ایسا نہ بچا جس نے سبز لباس نہ پہنا ہو سوائے اسماعیل بن جعفر بن سلیمان بن علی ہاشمی کے جو بصرہ میں مامون کا عامل تھا اور اس نے سبز لباس پہننے سے انکار کیا اور اسے بیعت کی خلاف ورزی بتایا اور اپنی نافرمانی کا اظہار کیا۔ | |||
مامون نے بھی عیسیٰ بن یزید جلودی کو [[بصره]] کی طرف بھیجا اور جب وہ بصرہ کے قریب پہنچا تو اسماعیل بغیر لڑے بھاگ گیا اور جلودی بصرہ میں داخل ہوا اور وہاں ٹھہرا اور اسماعیل حسن بن سہل کے پاس گیا، حسن نے اسے قید کیا | |||
اور اس کے بارے میں [[مأمون عباسی|مامون]] سے حکم مانگا۔ مامون نے لکھا کہ اسے مرو بھیجا جائے، جب وہ مرو کے قریب پہنچا تو مامون نے حکم دیا کہ اسے گرگان واپس لے جایا جائے اور وہاں قید کیا جائے۔ | |||
وہ گرگان میں قید رہا یہاں تک کہ کچھ عرصے بعد جیل سے آزاد ہو گیا۔ مامون نے امام رضا (علیہ السلام) کی بیعت کا حکم عیسیٰ جلودی کے ساتھ مکہ بھیجا اور جلودی (شعار) سبز اور رضا کی بیعت کے ساتھ مکہ پہنچا اور ابراہیم اس کے استقبال کے لیے دوڑا اور مکہ کے لوگوں نے امام رضا (علیہ السلام) سے بیعت کی اور سبز لباس پہنا۔ سن 202 میں ابراہیم بن موسیٰ بن جعفر مامون کے حکم سے امیر حج بنا<ref>مسعودی، ابوالحسن علی بن حسین بن علی، مروج الذهب و معادن الجوهر، قم، نشر دار الهجره، اشاعت دوم، سن 1409 ہجری، ج3، ص441</ref> | |||
اور لوگوں کو اپنے بھائی امام رضا (علیہ السلام) سے بیعت کی دعوت دیتا تھا<ref>طبری، ابوجعفر محمد بن جریر، تاریخ الامم و الملوک، ج8، ص567.</ref>۔ جب ابراہیم مکہ میں تھا، حمدویہ بن علی نے نافرمانی کی اور مامون نے یمن کی حکومت ابراہیم بن موسیٰ کے سپرد کی اور جلودی کو حکم دیا کہ وہ جنگ میں ابراہیم کی مدد کرے۔ | |||
لیکن جلودی ابراہیم کے ساتھ نہ گیا اور ابراہیم حمدویہ کے بیٹے کی کمان میں اس کی فوج کی شکست کے بعد صنعاء روانہ ہوا، لیکن اس بار حمدویہ خود ابراہیم کے مقابلے میں صف آرا ہوا اور ان کے درمیان سخت جنگ ہوئی جس میں ابراہیم کے بہت سے ساتھی مارے گئے اور ابراہیم بھاگ گیا اور مکہ واپس آ گیا<ref>یعقوبی احمد بن ابی یعقوب بن جعفر بن وہب، تاریخ یعقوبی، بیروت، نشر دار صادر، ج2، ص449 و 450،</ref>۔ | |||
== ابراہیم کی وفات == | == ابراہیم کی وفات == | ||
ابراہیم ان واقعات کے بعد مامون کے خلاف سرگرم ہو گیا یہاں تک کہ جلودی نے اسے پکڑ لیا اور [[بغداد]] بھیج دیا اور وہاں زہر سے مارا گیا۔ لیکن ایک روایت کے مطابق ابراہیم نے خود امان مانگی اور امام رضا (علیہ السلام) کی سفارش سے امان لی اور بغداد میں تھا یہاں تک کہ اسے زہر دے کر مار دیا گیا<ref>دائرہ المعارف تشیع، ج1، ص1.</ref>. | ابراہیم ان واقعات کے بعد مامون کے خلاف سرگرم ہو گیا یہاں تک کہ جلودی نے اسے پکڑ لیا اور [[بغداد]] بھیج دیا اور وہاں زہر سے مارا گیا۔ لیکن ایک روایت کے مطابق ابراہیم نے خود امان مانگی اور امام رضا (علیہ السلام) کی سفارش سے امان لی اور بغداد میں تھا یہاں تک کہ اسے زہر دے کر مار دیا گیا<ref>دائرہ المعارف تشیع، ج1، ص1.</ref>. | ||
== متعلقہ تلاشیں == | |||
* [[کعبہ]] | |||
* [[چاہ زمزم]] | |||
* [[حجر الاسود|حجر الاسود]] | |||
* [[قرامطہ]] | |||
== حوالہ جات == | |||
{{حوالہ جات}} | |||
{{مذاہب اور فرقے}} | |||
[[زمرہ:مذاہب اور فرقے]] | |||
{{ | |||
[[ | |||
نسخہ بمطابق 14:37، 7 مئی 2026ء
| ابراہیمیہ (پیروان ابراہیم بن موسی بن جعفر) | |
|---|---|
| نام | ابراہیمیہ (پیروان ابراہیم بن موسی بن جعفر) |
| عام نام | ابراہیمیہ (پیروان ابراہیم بن موسی بن جعفر) |
| بانی | ابراہیم بن موسی بن جعفر |
ابراہیمیہ ابراہیم بن موسی بن جعفر کے پیروکار ہیں۔ وہ ابتدا میں محمد بن ابراہیم بن اسماعیل معروف بہ ابن طباطبا کے داعیان میں سے تھے اور ان کے بعد یمن میں امامت کے مدعی بن گئے۔
تاریخ
محمد بن ابراہیم بن اسماعیل معروف بہ ابن طباطبا، کوفہ سے خروج اور ابوالسرایا کی ان سے بیعت کے بعد، ان سادات میں سے جنہیں انہوں نے اپنے جانب سے اسلام کے بعض ممالک کی حکومت پر بھیجا،
ابراہیم بن موسی بن جعفر تھے جو علی بن موسی رضا کے بھائی تھے۔ انہوں نے انہیں یمن کی ولایت پر مقرر کیا[1]۔
سید مرتضی علمالهدی بزرگ متکلم اور سید رضی نہج البلاغہ کے مؤلف انہی کی نسل سے ہیں[2]۔
شیخ مفید اور فضل بن حسن طبرسی کی تصریح کے مطابق، ابراہیم بن موسی بہادر اور کریم شخص تھے۔ محمد باقر مجلسی کی نظر میں بھی ابراہیم بن موسی ایک قابل تعریف شخصیت تھے[3]۔
ابراہیم بن موسی کا قیام
محمد بن ابراہیم معروف بہ ابن طباطبا نے سن 198 ہجری قمری میں قیام کیا۔ اس قیام میں ابراہیم بن موسی ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔ ابن طباطبا کی وفات کے بعد، ابراہیم بن موسی محمد بن محمد بن زید سے جا ملے
اور ان کی جانب سے یمن پر قبضہ کرنے کے لیے مامور ہوئے[4][5]۔
ایک اور روایت میں آیا ہے کہ جب ابوالسرایا نے قیام کیا اور عراق میں ان کا اور طالبیان کا کام زور پکڑ گیا، اس وقت ابراہیم بن موسی اور ان کے خاندان کے کچھ افراد مکہ میں تھے، اور جب ابراہیم کو ابوالسرایا اور عراقی طالبیان کی خبر ملی، تو وہ اپنے خاندان کے کچھ افراد کے ساتھ مکہ سے نکلے
اور یمن کی طرف روانہ ہو گئے۔ اس وقت اسحاق بن موسی عباسی نامی شخص مأمون کی جانب سے یمن کا حاکم تھا۔ جب اسے ابراہیم بن موسی کے یمن آنے اور صنعاء کے قریب پہنچنے کی خبر ہوئی،
تو وہ تمام سوار اور پیدل فوج کے ساتھ جو اس کے پاس تھی نجدیہ کی طرف روانہ ہوا، اور یمن ابراہیم بن موسی کے لیے خالی چھوڑ دیا، کیونکہ وہ ان سے لڑنے سے پریشان تھا۔
کیونکہ اس نے اپنے چچا داود بن عیسی کے تجربے سے فائدہ اٹھایا جو مکہ اور مدینہ میں تھا، اور اس کی طرح عمل کیا، اور مکہ کی طرف چلا گیا یہاں تک کہ مشاش کے علاقے میں ڈیرے ڈالے، اور وہ مکہ داخل ہونا چاہتا تھا، لیکن مکہ کے علویوں نے اسے داخل ہونے سے روک دیا۔
اسحاق بن موسی کی ماں جو مکہ میں تھی اور علویوں کے ڈر سے چھپی ہوئی تھی، خفیہ طور پر اپنے بیٹے کے کیمپ میں جا ملی[6]۔
ابراہیم بن موسیٰ بن جعفر کی شکست کی کیفیت
جب ابوالسرایا مارا گیا، حسن بن سہل مدائن گیا اور عبدالله بن سعید جرشی کو محمد بن حسن سے لڑنے بھیجا اور حمدویہ بن علی بن عیسیٰ بن ماہان کو یمن بھیجا جس پر ابراہیم کا قبضہ تھا۔
ابراہیم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس سے لڑائی کی جبکہ دونوں طرف سے جانیں جا رہی تھیں۔ پھر ابراہیم بن موسیٰ یمن سے مکہ کے ارادے سے نکلا اور یزید بن محمد جو مکہ کا حاکم تھا، نے اسے روکنے کے لیے مکہ کے گرد خندق کھودی۔
ابراہیم مکہ پہنچا اور یزید بن محمد اور اس کے ساتھی اس کے سامنے کھڑے ہوئے۔ ابراہیم بن موسیٰ نے اپنے کچھ ساتھیوں کو بھیجا تاکہ وہ پہاڑ کی طرف سے مکہ میں داخل ہوں۔ ابراہیم کے مکہ میں داخل ہونے اور اس شہر پر قبضہ کرنے اور وہاں ٹھہرنے کے بعد، یزید وہاں سے بھاگ گیا۔
اسی سال یہ ہوا کہ مامون نے امام رضا (علیہ السلام) کو مدینہ سے خراسان لایا۔ مامون نے پیر کے روز ساتویں تاریخ ماہ رمضان سن 201 ہجری کو اپنے بعد ولی عہد بن کر اس سے بیعت کی
اور لوگوں کو سیاہ پوشی کی بجائے سبز پوشی کا حکم دیا اور اطراف و نواحی کو اس کا حکم لکھا اور امام رضا (علیہ السلام) کے لیے بیعت لی اور ان کے نام پر منبروں پر خطبہ پڑھا گیا اور دینار و درہم کے سکے
ان ہی کے نام پر ڈھالے گئے اور کوئی ایسا نہ بچا جس نے سبز لباس نہ پہنا ہو سوائے اسماعیل بن جعفر بن سلیمان بن علی ہاشمی کے جو بصرہ میں مامون کا عامل تھا اور اس نے سبز لباس پہننے سے انکار کیا اور اسے بیعت کی خلاف ورزی بتایا اور اپنی نافرمانی کا اظہار کیا۔
مامون نے بھی عیسیٰ بن یزید جلودی کو بصره کی طرف بھیجا اور جب وہ بصرہ کے قریب پہنچا تو اسماعیل بغیر لڑے بھاگ گیا اور جلودی بصرہ میں داخل ہوا اور وہاں ٹھہرا اور اسماعیل حسن بن سہل کے پاس گیا، حسن نے اسے قید کیا
اور اس کے بارے میں مامون سے حکم مانگا۔ مامون نے لکھا کہ اسے مرو بھیجا جائے، جب وہ مرو کے قریب پہنچا تو مامون نے حکم دیا کہ اسے گرگان واپس لے جایا جائے اور وہاں قید کیا جائے۔
وہ گرگان میں قید رہا یہاں تک کہ کچھ عرصے بعد جیل سے آزاد ہو گیا۔ مامون نے امام رضا (علیہ السلام) کی بیعت کا حکم عیسیٰ جلودی کے ساتھ مکہ بھیجا اور جلودی (شعار) سبز اور رضا کی بیعت کے ساتھ مکہ پہنچا اور ابراہیم اس کے استقبال کے لیے دوڑا اور مکہ کے لوگوں نے امام رضا (علیہ السلام) سے بیعت کی اور سبز لباس پہنا۔ سن 202 میں ابراہیم بن موسیٰ بن جعفر مامون کے حکم سے امیر حج بنا[7]
اور لوگوں کو اپنے بھائی امام رضا (علیہ السلام) سے بیعت کی دعوت دیتا تھا[8]۔ جب ابراہیم مکہ میں تھا، حمدویہ بن علی نے نافرمانی کی اور مامون نے یمن کی حکومت ابراہیم بن موسیٰ کے سپرد کی اور جلودی کو حکم دیا کہ وہ جنگ میں ابراہیم کی مدد کرے۔
لیکن جلودی ابراہیم کے ساتھ نہ گیا اور ابراہیم حمدویہ کے بیٹے کی کمان میں اس کی فوج کی شکست کے بعد صنعاء روانہ ہوا، لیکن اس بار حمدویہ خود ابراہیم کے مقابلے میں صف آرا ہوا اور ان کے درمیان سخت جنگ ہوئی جس میں ابراہیم کے بہت سے ساتھی مارے گئے اور ابراہیم بھاگ گیا اور مکہ واپس آ گیا[9]۔
ابراہیم کی وفات
ابراہیم ان واقعات کے بعد مامون کے خلاف سرگرم ہو گیا یہاں تک کہ جلودی نے اسے پکڑ لیا اور بغداد بھیج دیا اور وہاں زہر سے مارا گیا۔ لیکن ایک روایت کے مطابق ابراہیم نے خود امان مانگی اور امام رضا (علیہ السلام) کی سفارش سے امان لی اور بغداد میں تھا یہاں تک کہ اسے زہر دے کر مار دیا گیا[10].
متعلقہ تلاشیں
حوالہ جات
- ↑ مشکور محمد جواد، فرہنگ فرق اسلامی، مشہد، نشر آستان قدس رضوی، سن 1372 ہجری شمسی، پہلی اشاعت، ص 13، عبارات میں ترمیم و اصلاح کے ساتھ
- ↑ اندلسی ابن حزم، جمہرہ انساب العرب، بیروت، نشر دار الکتب العلمیہ، پہلی اشاعت، سن 1403 ہجری قمری، ص 63
- ↑ مجلسی محمد باقر، بحار الانوار، بیروت، نشر مؤسسہ الوفاء، سن 1404 ہجری قمری، ج 48، ص 303
- ↑ اصفہانی، علی بن حسین ابوالفرج، مقاتل الطالبین، بیروت، نشر دار المعارف، ص 435
- ↑ دائرۃ المعارف تشیع، ج 1، ص 1۔
- ↑ طبری ابوجعفر محمد بن جریر، تاریخ الامم و الملوک، بیروت، نشر دار التراث، سن 1387 ہجری قمری، دوسری اشاعت، ج 8، ص 536
- ↑ مسعودی، ابوالحسن علی بن حسین بن علی، مروج الذهب و معادن الجوهر، قم، نشر دار الهجره، اشاعت دوم، سن 1409 ہجری، ج3، ص441
- ↑ طبری، ابوجعفر محمد بن جریر، تاریخ الامم و الملوک، ج8، ص567.
- ↑ یعقوبی احمد بن ابی یعقوب بن جعفر بن وہب، تاریخ یعقوبی، بیروت، نشر دار صادر، ج2، ص449 و 450،
- ↑ دائرہ المعارف تشیع، ج1، ص1.