مندرجات کا رخ کریں

"اتحادیہ" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
ترجمه خودکار از ویکی فارسی
 
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
 
(2 صارفین 6 کے درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 1: سطر 1:
{{سانچہ:مذاہب اور فرقے
{{خانہ معلومات مذاہب اور فرقے
| عنوان = اتحادیہ  
| عنوان = اتحادیہ  
| تصویر =  
| تصویر =  
سطر 12: سطر 12:
}}
}}


'''اتحادیہ'''، صوفیانہ مذاہب میں سے ہے اور اس کا مطلب مکتب، مشرب یا صوفیانہ روش والا کوئی فرقہ ہے۔
'''اتحادیہ'''، صوفیانہ مذاہب میں سے ہے اور اس کا مطلب مکتب، مشرب یا صوفیانہ روش والا ایک فرقہ ہے۔
== عقائد ==
اس مکتب کے پیروان کا عتقیدہ ہے کہ جب انسان کی روح خالص ہو جائے اور نورِ معرفتِ الٰہی سے منور ہو جائے، تو وہ خانہِ دوئی (خدا اور انسان کے افتراق) سے نکل آتی ہے اور 'تو' ہونے اور 'میں' ہونے کے فاصلے مٹ جاتے ہیں۔


حقیقت کی کشف اس کے سوا کچھ نہیں کہ عارف اور معروف، عاشق اور معشوق آپس میں مل جائیں اور بندہ ہونے اور خدا ہونے کا فرق ختم ہو کر دونوں ایک ہو جائیں۔ قابل ذکر ہے کہ اتحادیہ کے غلات نے یہ افترا بعض اماموں پر لگایا<ref>محمد جواد مشکور، ''فرہنگ فرق اسلامی''، مشہد، انتشارات آستان قدس رضوی، سن ۱۳۷۲ ہجری شمسی، دوسرا ایڈیشن، ص ۲۳، عبارات میں وسیع ترمیم اور اصلاحات کے ساتھ۔</ref>.


محقق اردبیلی صوفیہ کے مذاہب کے بارے میں، جن کا جزو اتحادیہ بھی ہے، لکھتے ہیں: جان لو کہ صوفیہ کے مذاہب بہت ہیں اور بعض روایات کے مطابق، ان کی بنیاد چار مذاہب [[حلولیہ]]، اتحادیہ، [[واصلیہ]] اور عشاقیہ پر رکھی گئی ہے۔


== عقائد ==
وہ مزید لکھتے ہیں کہ بعض دیگر کے نزدیک صوفیہ کے مذاہب کے اصول چار مذاہب کے علاوہ تلفیقیہ اور رزاقیہ بھی ہیں اور بعض نے وحدتیہ کا اضافہ کر کے انہیں سات تک پہنچا دیا ہے۔  
اس مکتب کے پیروان کا اعتقاد ہے کہ جب انسان کی روح خالص ہو جائے اور نورِ معرفتِ الٰہی سے منور ہو جائے، تو وہ خانہِ دوئی (خدا اور انسان کے افتراق) سے نکل آتی ہے اور 'تو' ہونے اور 'میں' ہونے کے فاصلے مٹ جاتے ہیں۔ حقیقت کی کشف اس کے سوا کچھ نہیں کہ عارف اور معروف، عاشق اور معشوق آپس میں مل جائیں اور بندہ ہونے اور خدا ہونے کا فرق ختم ہو کر دونوں ایک ہو جائیں۔ قابل ذکر ہے کہ اتحادیہ کے غلات نے یہ افترا بعض اماموں پر لگایا<ref>محمد جواد مشکور، ''فرہنگ فرق اسلامی''، مشہد، انتشارات آستان قدس رضوی، سن ۱۳۷۲ ہجری شمسی، دوسرا ایڈیشن، ص ۲۳، عبارات میں وسیع ترمیم اور اصلاحات کے ساتھ۔</ref>. محقق اردبیلی صوفیہ کے مذاہب کے بارے میں، جن کا جزو اتحادیہ بھی ہے، لکھتے ہیں: جان لو کہ صوفیہ کے مذاہب بہت ہیں اور بعض روایات کے مطابق، ان کی بنیاد چار مذاہب [[حلولیہ]]، اتحادیہ، [[واصلیہ]] اور عشاقیہ پر رکھی گئی ہے۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ بعض دیگر کے نزدیک صوفیہ کے مذاہب کے اصول چار مذاہب کے علاوہ تلفیقیہ اور رزاقیہ بھی ہیں اور بعض نے وحدتیہ کا اضافہ کر کے انہیں سات تک پہنچا دیا ہے۔ یہ شخصیت آگے چل کر تمام دیدگاهوں کو رد کرتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ مذہبِ صوفیہ کے اصول دو فرقوں حلولیہ اور اتحادیہ پر استوار ہیں<ref>محقق اردبیلی، ''حدیقۃ الشیعۃ''، ص ۵۶۵۔</ref>.
 


یہ شخصیت آگے چل کر تمام نظریات  کو رد کرتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ مذہبِ صوفیہ کے اصول دو فرقوں حلولیہ اور اتحادیہ پر استوار ہیں<ref>محقق اردبیلی، ''حدیقۃ الشیعۃ''، ص ۵۶۵۔</ref>.


== اتحادیہ اور حلولیہ کے مشارب کی تفسیر ==
== اتحادیہ اور حلولیہ کے مشارب کی تفسیر ==
محقق اردبیلی ان دونوں فرقوں کے مشارب کے بارے میں لکھتے ہیں کہ حلولیہ کا اعتقاد ہے کہ خدا ہم میں حلول کر گیا ہے، لیکن اتحادیہ کا اعتقاد ہے کہ ہم خدا کے ساتھ ایک ہو جاتے ہیں اور خداوند تمام عرفا کے ساتھ ایک ہے<ref>ایضاً۔</ref>. محمد بن حسین رازی آبی نے بھی صوفیہ کو چھ فرقوں میں تقسیم کیا اور پہلے کو اتحادیہ बताया اور لکھا «صوفیہ کا پہلا فرقہ اتحادیہ ہے جو اتحاد کا دعویٰ رکھتے ہیں اور ان کے رئیس [[حلاجیہ|منصور حلاج]] تھے جو خدائی کے مدعی ہوئے۔ حلاج جادوگر تھا اور جادو میں مہارت رکھتا تھا۔ وہ عبداللہ بن ہلال کوفی کا شاگرد تھا اور عبداللہ زرقاء الیمامہ کا شاگرد تھا، ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے سجاح سے جادو سیکھا تھا اور سجاح مسیلمہ کذاب کے زمانے میں رہتی تھی جو نبوت کا مدعی تھا<ref>محمد بن حسین رازی آبی، ''تبصرۃ العوام''، ص ۱۲۲۔</ref>. عبدالمنعم حفنی نے اتحادیہ کو صوفیہ کے غلات میں سے گنا ہے<ref>عبدالمنعم حنفی، ''موسوعۃ الفرق و الجماعات و المذاهب و الاحزاب و الحرکات الاسلامیۃ''، ص ۴۴۔</ref>. لویی ماسینیون اتحادیہ کو [[زندقیہ]] بتاتا ہے<ref>جمعی از نویسندگان، ''دائرۃ المعارف الاسلامیۃ''، ج ۱۵، ص ۱۷۸۔</ref>.
محقق اردبیلی ان دونوں فرقوں کے مشارب کے بارے میں لکھتے ہیں کہ حلولیہ کا اعتقاد ہے کہ خدا ہم میں حلول کر گیا ہے، لیکن اتحادیہ کا اعتقاد ہے کہ ہم خدا کے ساتھ ایک ہو جاتے ہیں اور خداوند تمام عرفا کے ساتھ ایک ہے<ref>ایضاً۔</ref>.  


محمد بن حسین رازی آبی نے بھی صوفیہ کو چھ فرقوں میں تقسیم کیا اور پہلے کو اتحادیہ اور لکھا «صوفیہ کا پہلا فرقہ اتحادیہ ہے جو اتحاد کا دعویٰ رکھتے ہیں اور ان کے رئیس [[حلاجیہ|منصور حلاج]] تھے جو خدائی کے مدعی ہوئے۔


 
حلاج جادوگر تھا اور جادو میں مہارت رکھتا تھا۔ وہ عبداللہ بن ہلال کوفی  اور عبداللہ زرقاء الیمامہ کا شاگرد تھا، ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے سجاح سے جادو سیکھا تھا اور سجاح مسیلمہ کذاب کے زمانے میں رہتی تھی جو نبوت کا مدعی تھا<ref>محمد بن حسین رازی آبی، ''تبصرۃ العوام''، ص ۱۲۲۔</ref>. عبدالمنعم حفنی نے اتحادیہ کو صوفیہ کے غلات میں سے گنا ہے<ref>عبدالمنعم حنفی، ''موسوعۃ الفرق و الجماعات و المذاهب و الاحزاب و الحرکات الاسلامیۃ''، ص ۴۴۔</ref>. لویی ماسینیون اتحادیہ کو [[زندقیہ]] بتاتا ہے<ref>جمعی از نویسندگان، ''دائرۃ المعارف الاسلامیۃ''، ج ۱۵، ص ۱۷۸۔</ref>.
== مزید دیکھیے ==
* [[حلاجیہ|منصور حلاج]]
* [[حلولیہ]]
* [[واصلیہ]]
 
 
 
== حواشی ==
{{حوالہ جات}}
 
 
 
== ماخذ ==


* محمد جواد مشکور، ''فرہنگ فرق اسلامی''، مشہد، انتشارات آستان قدس رضوی، سن ۱۳۷۲ ہجری شمسی، دوسرا ایڈیشن، درج مطلب کی تاریخ: نامعلوم، مشاہدے کی تاریخ: ۱۶ دی ماہ ۱۴۰۴ ہجری شمسی۔   
* محمد جواد مشکور، ''فرہنگ فرق اسلامی''، مشہد، انتشارات آستان قدس رضوی، سن ۱۳۷۲ ہجری شمسی، دوسرا ایڈیشن، درج مطلب کی تاریخ: نامعلوم، مشاہدے کی تاریخ: ۱۶ دی ماہ ۱۴۰۴ ہجری شمسی۔   
سطر 48: سطر 39:
* محمد بن حسین رازی آبی، ''تبصرۃ العوام''، درج مطلب کی تاریخ: نامعلوم، مشاہدے کی تاریخ: ۱۶ دی ماہ ۱۴۰۴ ہجری شمسی۔  
* محمد بن حسین رازی آبی، ''تبصرۃ العوام''، درج مطلب کی تاریخ: نامعلوم، مشاہدے کی تاریخ: ۱۶ دی ماہ ۱۴۰۴ ہجری شمسی۔  


{{سانچہ:مذاہب اور فرقے}}
== متعلقہ تلاشیں ==
* [[حلاجیہ|منصور حلاج]]
* [[حلولیہ]]
* [[واصلیہ]]
 
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات}}


[[زمرہ:فرق و مذاهب]]
[[زمرہ:مذاہب اور فرقے]]
{{مذاہب اور فرقے}}
[[زمرہ:تصوف]]
[[زمرہ:تصوف]]
== ماخذ ==
<!-- TEMP_IW_START -->
[[ar:الاتحادية]]
[[en:Ittihadiya]]
[[fa:اتحادیه]]
<!-- TEMP_IW_END -->

حالیہ نسخہ بمطابق 14:52، 8 مئی 2026ء

اتحادیہ
ناماتحادیہ

اتحادیہ، صوفیانہ مذاہب میں سے ہے اور اس کا مطلب مکتب، مشرب یا صوفیانہ روش والا ایک فرقہ ہے۔

عقائد

اس مکتب کے پیروان کا عتقیدہ ہے کہ جب انسان کی روح خالص ہو جائے اور نورِ معرفتِ الٰہی سے منور ہو جائے، تو وہ خانہِ دوئی (خدا اور انسان کے افتراق) سے نکل آتی ہے اور 'تو' ہونے اور 'میں' ہونے کے فاصلے مٹ جاتے ہیں۔

حقیقت کی کشف اس کے سوا کچھ نہیں کہ عارف اور معروف، عاشق اور معشوق آپس میں مل جائیں اور بندہ ہونے اور خدا ہونے کا فرق ختم ہو کر دونوں ایک ہو جائیں۔ قابل ذکر ہے کہ اتحادیہ کے غلات نے یہ افترا بعض اماموں پر لگایا[1].

محقق اردبیلی صوفیہ کے مذاہب کے بارے میں، جن کا جزو اتحادیہ بھی ہے، لکھتے ہیں: جان لو کہ صوفیہ کے مذاہب بہت ہیں اور بعض روایات کے مطابق، ان کی بنیاد چار مذاہب حلولیہ، اتحادیہ، واصلیہ اور عشاقیہ پر رکھی گئی ہے۔

وہ مزید لکھتے ہیں کہ بعض دیگر کے نزدیک صوفیہ کے مذاہب کے اصول چار مذاہب کے علاوہ تلفیقیہ اور رزاقیہ بھی ہیں اور بعض نے وحدتیہ کا اضافہ کر کے انہیں سات تک پہنچا دیا ہے۔

یہ شخصیت آگے چل کر تمام نظریات کو رد کرتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ مذہبِ صوفیہ کے اصول دو فرقوں حلولیہ اور اتحادیہ پر استوار ہیں[2].

اتحادیہ اور حلولیہ کے مشارب کی تفسیر

محقق اردبیلی ان دونوں فرقوں کے مشارب کے بارے میں لکھتے ہیں کہ حلولیہ کا اعتقاد ہے کہ خدا ہم میں حلول کر گیا ہے، لیکن اتحادیہ کا اعتقاد ہے کہ ہم خدا کے ساتھ ایک ہو جاتے ہیں اور خداوند تمام عرفا کے ساتھ ایک ہے[3].

محمد بن حسین رازی آبی نے بھی صوفیہ کو چھ فرقوں میں تقسیم کیا اور پہلے کو اتحادیہ اور لکھا «صوفیہ کا پہلا فرقہ اتحادیہ ہے جو اتحاد کا دعویٰ رکھتے ہیں اور ان کے رئیس منصور حلاج تھے جو خدائی کے مدعی ہوئے۔

حلاج جادوگر تھا اور جادو میں مہارت رکھتا تھا۔ وہ عبداللہ بن ہلال کوفی اور عبداللہ زرقاء الیمامہ کا شاگرد تھا، ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے سجاح سے جادو سیکھا تھا اور سجاح مسیلمہ کذاب کے زمانے میں رہتی تھی جو نبوت کا مدعی تھا[4]. عبدالمنعم حفنی نے اتحادیہ کو صوفیہ کے غلات میں سے گنا ہے[5]. لویی ماسینیون اتحادیہ کو زندقیہ بتاتا ہے[6].

  • محمد جواد مشکور، فرہنگ فرق اسلامی، مشہد، انتشارات آستان قدس رضوی، سن ۱۳۷۲ ہجری شمسی، دوسرا ایڈیشن، درج مطلب کی تاریخ: نامعلوم، مشاہدے کی تاریخ: ۱۶ دی ماہ ۱۴۰۴ ہجری شمسی۔
  • عبدالمنعم حنفی، موسوعۃ الفرق و الجماعات و المذاهب و الاحزاب و الحرکات الاسلامیۃ، درج مطلب کی تاریخ: نامعلوم، مشاہدے کی تاریخ: ۱۶ دی ماہ ۱۴۰۴ ہجری شمسی۔
  • جمعی از نویسندگان، دائرۃ المعارف الاسلامیۃ، درج مطلب کی تاریخ: نامعلوم، مشاہدے کی تاریخ: ۱۶ دی ماہ ۱۴۰۴ ہجری شمسی۔
  • محمد بن حسین رازی آبی، تبصرۃ العوام، درج مطلب کی تاریخ: نامعلوم، مشاہدے کی تاریخ: ۱۶ دی ماہ ۱۴۰۴ ہجری شمسی۔

متعلقہ تلاشیں

حوالہ جات

  1. محمد جواد مشکور، فرہنگ فرق اسلامی، مشہد، انتشارات آستان قدس رضوی، سن ۱۳۷۲ ہجری شمسی، دوسرا ایڈیشن، ص ۲۳، عبارات میں وسیع ترمیم اور اصلاحات کے ساتھ۔
  2. محقق اردبیلی، حدیقۃ الشیعۃ، ص ۵۶۵۔
  3. ایضاً۔
  4. محمد بن حسین رازی آبی، تبصرۃ العوام، ص ۱۲۲۔
  5. عبدالمنعم حنفی، موسوعۃ الفرق و الجماعات و المذاهب و الاحزاب و الحرکات الاسلامیۃ، ص ۴۴۔
  6. جمعی از نویسندگان، دائرۃ المعارف الاسلامیۃ، ج ۱۵، ص ۱۷۸۔

ماخذ