"اتحادیہ" کے نسخوں کے درمیان فرق
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| (ایک ہی صارف کا ایک درمیانی نسخہ نہیں دکھایا گیا) | |||
| سطر 1: | سطر 1: | ||
{{ | {{خانہ معلومات مذاہب اور فرقے | ||
| عنوان = اتحادیہ | | عنوان = اتحادیہ | ||
| تصویر = | | تصویر = | ||
| سطر 47: | سطر 47: | ||
{{حوالہ جات}} | {{حوالہ جات}} | ||
[[زمرہ:مذاہب اور فرقے]] | |||
{{مذاہب اور فرقے}} | {{مذاہب اور فرقے}} | ||
[[زمرہ:تصوف]] | [[زمرہ:تصوف]] | ||
== ماخذ == | == ماخذ == | ||
حالیہ نسخہ بمطابق 14:52، 8 مئی 2026ء
| اتحادیہ | |
|---|---|
| نام | اتحادیہ |
اتحادیہ، صوفیانہ مذاہب میں سے ہے اور اس کا مطلب مکتب، مشرب یا صوفیانہ روش والا ایک فرقہ ہے۔
عقائد
اس مکتب کے پیروان کا عتقیدہ ہے کہ جب انسان کی روح خالص ہو جائے اور نورِ معرفتِ الٰہی سے منور ہو جائے، تو وہ خانہِ دوئی (خدا اور انسان کے افتراق) سے نکل آتی ہے اور 'تو' ہونے اور 'میں' ہونے کے فاصلے مٹ جاتے ہیں۔
حقیقت کی کشف اس کے سوا کچھ نہیں کہ عارف اور معروف، عاشق اور معشوق آپس میں مل جائیں اور بندہ ہونے اور خدا ہونے کا فرق ختم ہو کر دونوں ایک ہو جائیں۔ قابل ذکر ہے کہ اتحادیہ کے غلات نے یہ افترا بعض اماموں پر لگایا[1].
محقق اردبیلی صوفیہ کے مذاہب کے بارے میں، جن کا جزو اتحادیہ بھی ہے، لکھتے ہیں: جان لو کہ صوفیہ کے مذاہب بہت ہیں اور بعض روایات کے مطابق، ان کی بنیاد چار مذاہب حلولیہ، اتحادیہ، واصلیہ اور عشاقیہ پر رکھی گئی ہے۔
وہ مزید لکھتے ہیں کہ بعض دیگر کے نزدیک صوفیہ کے مذاہب کے اصول چار مذاہب کے علاوہ تلفیقیہ اور رزاقیہ بھی ہیں اور بعض نے وحدتیہ کا اضافہ کر کے انہیں سات تک پہنچا دیا ہے۔
یہ شخصیت آگے چل کر تمام نظریات کو رد کرتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ مذہبِ صوفیہ کے اصول دو فرقوں حلولیہ اور اتحادیہ پر استوار ہیں[2].
اتحادیہ اور حلولیہ کے مشارب کی تفسیر
محقق اردبیلی ان دونوں فرقوں کے مشارب کے بارے میں لکھتے ہیں کہ حلولیہ کا اعتقاد ہے کہ خدا ہم میں حلول کر گیا ہے، لیکن اتحادیہ کا اعتقاد ہے کہ ہم خدا کے ساتھ ایک ہو جاتے ہیں اور خداوند تمام عرفا کے ساتھ ایک ہے[3].
محمد بن حسین رازی آبی نے بھی صوفیہ کو چھ فرقوں میں تقسیم کیا اور پہلے کو اتحادیہ اور لکھا «صوفیہ کا پہلا فرقہ اتحادیہ ہے جو اتحاد کا دعویٰ رکھتے ہیں اور ان کے رئیس منصور حلاج تھے جو خدائی کے مدعی ہوئے۔
حلاج جادوگر تھا اور جادو میں مہارت رکھتا تھا۔ وہ عبداللہ بن ہلال کوفی اور عبداللہ زرقاء الیمامہ کا شاگرد تھا، ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے سجاح سے جادو سیکھا تھا اور سجاح مسیلمہ کذاب کے زمانے میں رہتی تھی جو نبوت کا مدعی تھا[4]. عبدالمنعم حفنی نے اتحادیہ کو صوفیہ کے غلات میں سے گنا ہے[5]. لویی ماسینیون اتحادیہ کو زندقیہ بتاتا ہے[6].
- محمد جواد مشکور، فرہنگ فرق اسلامی، مشہد، انتشارات آستان قدس رضوی، سن ۱۳۷۲ ہجری شمسی، دوسرا ایڈیشن، درج مطلب کی تاریخ: نامعلوم، مشاہدے کی تاریخ: ۱۶ دی ماہ ۱۴۰۴ ہجری شمسی۔
- عبدالمنعم حنفی، موسوعۃ الفرق و الجماعات و المذاهب و الاحزاب و الحرکات الاسلامیۃ، درج مطلب کی تاریخ: نامعلوم، مشاہدے کی تاریخ: ۱۶ دی ماہ ۱۴۰۴ ہجری شمسی۔
- جمعی از نویسندگان، دائرۃ المعارف الاسلامیۃ، درج مطلب کی تاریخ: نامعلوم، مشاہدے کی تاریخ: ۱۶ دی ماہ ۱۴۰۴ ہجری شمسی۔
- محمد بن حسین رازی آبی، تبصرۃ العوام، درج مطلب کی تاریخ: نامعلوم، مشاہدے کی تاریخ: ۱۶ دی ماہ ۱۴۰۴ ہجری شمسی۔
متعلقہ تلاشیں
حوالہ جات
- ↑ محمد جواد مشکور، فرہنگ فرق اسلامی، مشہد، انتشارات آستان قدس رضوی، سن ۱۳۷۲ ہجری شمسی، دوسرا ایڈیشن، ص ۲۳، عبارات میں وسیع ترمیم اور اصلاحات کے ساتھ۔
- ↑ محقق اردبیلی، حدیقۃ الشیعۃ، ص ۵۶۵۔
- ↑ ایضاً۔
- ↑ محمد بن حسین رازی آبی، تبصرۃ العوام، ص ۱۲۲۔
- ↑ عبدالمنعم حنفی، موسوعۃ الفرق و الجماعات و المذاهب و الاحزاب و الحرکات الاسلامیۃ، ص ۴۴۔
- ↑ جمعی از نویسندگان، دائرۃ المعارف الاسلامیۃ، ج ۱۵، ص ۱۷۸۔