سید محسن حکیم
| سید محسن حکیم | |
|---|---|
![]() | |
| پورا نام | آیت اللہ سید محسن طباطبائی حکیم |
| دوسرے نام | حکیم، ضیاء الصالحین |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | عید الفطر |
| یوم پیدائش | ۱۳۰۶ ہ، ۱۲۶۷ ش، ۱۸۸۹ء |
| پیدائش کی جگہ | نجف، عراق |
| وفات | ۱۳۹۰ ہ، ۱۳۴۸ ش، ۱۹۷۰ ء |
| یوم وفات | ۲۷ ربیع الاول |
| وفات کی جگہ | نجف |
| اساتذہ | اساتذہ محمد کاظم خراسانی |
| شاگرد | حسین وحید خراسانی، سید محمد باقر صدر، محمد تقی جعفری اور سید مصطفی خمینی |
| مذہب | اسلام، شیعہ |
| اثرات | تصانیف مستمسک العروة الوثقی، حقائق الاصول، نہج الفقاہة اور منہاج الصالحین |
| مناصب | نجف اشرف میں جماعت العلماء کا قیام |
سید محسن حکیم، آیت اللہ سید محسن طباطبائی حکیم ۱۳۰۶ سے ۱۳۹۰ ہجری تک کے ایک مجاہد شیعہ عالم، فقیہ، اصولی، امامیہ شیعہ کے مرجع تقلید اور حوزہ علمیہ نجف کے مدیر تھے۔ وہ میرزا محمد حسین نائینی کے شاگردوں میں شمار ہوتے تھے۔ سید حسین بروجردی کے انتقال کے بعد ۱۳۴۰ ہجری میں انہوں نے نو سال سے زیادہ عرصے تک شیعیان عالم کی عمومی مرجعیت کی ذمہ داری سنبھالی۔ انہوں نے اپنی بابرکت زندگی اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کے لیے وقف کر دی تھی اور عراق میں مدارس، کتب خانوں، مساجد اور دیگر علمی و دینی مراکز کی تعمیر و تاسیس پر خصوصی توجہ دی۔
آیت اللہ حکیم سیاسی اور سماجی سرگرمیوں میں ایک بہادر شخصیت تھے۔ اپنے علمی نظریات کے اظہار میں صراحت اور فتوے دینے میں ان کی جرأت کم نظیر تھی۔ وہ ایران کے حالات پر بھی گہری نظر رکھتے تھے اور خطوط، اعلانات اور ٹیلی گرام کے ذریعے امام خمینی کی قیادت میں ایران کے علما کی ان کوششوں کی حمایت کرتے تھے جو شاہی حکومت کے ظلم و جبر کے مقابلے میں جاری تھیں۔
سید محسن حکیم کی زندگی
سید محسن حکیم ۱۳۰۶ ہجری میں نجف میں ایک علمی خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید مہدی حکیم نجف کے علما میں شمار ہوتے تھے۔ محسن حکیم نے چھ سال کی عمر میں اپنے والد کو کھو دیا۔ ان کے دس بیٹے اور چار بیٹیاں تھیں۔ ان کے بیٹوں کے نام یوسف، محمد رضا، محمد مہدی، کاظم، محمد باقر، عبدالہادی، عبدالصاحب، علاء الدین، عبدالعزیز اور محمد حسین تھے۔
سید محسن حکیم کی زندگی کے آخری سال گھریلو نظر بندی، حوزہ علمیہ اور عراق کے شیعوں پر سختیوں اور ان کے مسلسل مزاحمت کے ساتھ گزرے۔ حسن البکر کی بغاوت کے بعد بعث پارٹی کی جانب سے سید محسن حکیم پر دباؤ مزید بڑھ گیا اور بعث پارٹی نے انہیں اپنے سامنے جھکانے کی کوشش کی۔
سید محسن طباطبائی حکیم بالآخر ۲۷ ربیع الاول ۱۳۹۰ ہجری کو ۸۴ سال کی عمر میں بغداد میں بیماری کے باعث وفات پا گئے۔ ان کے جسد خاکی کو بغداد سے کربلا اور پھر نجف تک بڑے شاندار انداز میں لے جایا گیا اور مسجد ہندی میں ان کی لائبریری کے قریب سپرد خاک کیا گیا۔
حکیم کہلانے کی وجہ
دسویں صدی ہجری میں سید علی، شاہ عباس صفوی کے خصوصی طبیب تھے۔ وہ بادشاہ کے ہمراہ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے نورانی روضے کی زیارت کے لیے نجف گئے۔
اس آسمانی شہر کی روحانی فضا نے دربار کے اس پاکیزہ دل طبیب کو اس قدر متاثر کیا کہ انہوں نے اہل نجف کی درخواست کو بے اختیار قبول کر لیا اور ہمیشہ کے لیے حضرت علی علیہ السلام کے آستانے کے خادم اور اس امام برحق کے حرم کے باشندوں کے طبیب بن گئے۔ اس طرح سید علی حکیم کے نام سے مشہور ہوئے اور یہ نام ہمیشہ کے لیے ان کی اولاد کے نام کے ساتھ یادگار بن گیا۔
آیت اللہ سید محسن حکیم کی تعلیم و تربیت
نجف کے اس یتیم بچے، سید محسن حکیمؒ کے والد کے انتقال کے بعد ان کے بڑے بھائی سید محمود نے ان کی سرپرستی اور تربیت کی۔ انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی کے چہرے سے یتیمی کے غم کو کم کرنے کی کوشش کی اور انہیں قرآنِ کریم حفظ کرنے اور اس کی قراءت کی طرف راغب کیا۔
سید محسن حکیمؒ نے نو سال کی عمر میں حوزۂ علمیہ کی تعلیم کا آغاز کیا۔ سید محمود ان کے اولین استاد تھے اور انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی کو ادب، منطق اور فقہ و اصول کے بعض ابتدائی مباحث پڑھائے۔
اس کے بعد سید محسن حکیمؒ نے شیخ صادق بن حاج مسعود بہبہانی اور شیخ صادق جواہر کے حلقۂ درس میں شرکت کی۔ وہ آخوند خراسانیؒ کی وفات سے تقریباً تین سال قبل اس عظیم فقیہ کے درسِ خارج میں حاضر ہونے میں کامیاب ہوئے۔
سن ۱۲۸۷ شمسی میں، آخوند خراسانیؒ کے انتقال کے زمانے میں، انہوں نے آقا ضیاء الدین عراقیؒ کے درس میں شرکت شروع کی اور ان کے اصولِ فقہ کے دو مکمل دوروں سے استفادہ کیا۔ اس کے بعد انہوں نے شیخ علی باقر جواہریؒ کے درسِ فقہ میں شرکت کی اور تقریباً پانچ سال تک اس بزرگ فقیہ کے علمی بحر سے فیض یاب ہوتے رہے۔
بعد ازاں سید محسن حکیمؒ، میرزا محمد حسین نائینیؒ کے شاگردوں میں شامل ہوئے۔ روحانی اور اخلاقی تربیت کے لیے انہوں نے عراق کے معروف حکیم و عارف سید محمد سعید حبوبیؒ سے بھی استفادہ کیا۔
سید محمد سعید حبوبیؒ، سید محسن حکیمؒ کی شخصیت میں ایک روشن اور تابناک مستقبل دیکھتے تھے، اسی لیے مختلف مواقع پر ان کی محنت، استقامت اور علمی صلاحیتوں کو سراہتے اور ان کے درخشاں مستقبل کی نوید دیتے تھے۔ وہ انہیں اپنی معنوی اور روحانی حمایت سے بھی نوازتے تھے۔
آیت اللہ سید محسن حکیم کے اساتذہ
آیت اللہ سید محسن حکیمؒ نے سن ۱۳۲۷ ہجری قمری میں حوزۂ علمیہ کے اعلیٰ دروس، یعنی درسِ خارج کا آغاز کیا۔ انہوں نے فقہ، اصول اور علمِ رجال جیسے علوم کو متعدد جلیل القدر علماء اور فقہاء سے حاصل کیا۔ ان کے اہم اساتذہ میں درج ذیل شخصیات شامل ہیں:
- آخوند ملا محمد کاظم خراسانی
- آقا ضیاء الدین عراقی
- شیخ علی جواہری
- میرزا محمد حسین نائینی
- ابو تراب خوانساری
ان بزرگ اساتذہ سے علمی استفادے کے نتیجے میں سید محسن حکیم نے فقہ و اصول کے میدان میں بلند مقام حاصل کیا اور درجۂ اجتہاد پر فائز ہوئے۔
اخلاق، عرفان اور روحانی تربیت کے سلسلے میں بھی انہوں نے متعدد بزرگ علماء اور عرفاء سے فیض حاصل کیا، جن میں:
- سید محمد سعید حبوبی
- باقر قاموسی
- سید علی قاضی طباطبائی
- ملا حسینقلی ہمدانی
- شیخ علی قمی شامل ہیں۔
آیت اللہ سید محسن حکیم کے شاگرد
آیت اللہ سید محسن حکیمؒ نے سن ۱۳۳۳ ہجری قمری میں جہاد سے واپسی کے بعد حوزۂ علمیہ کے دروسِ سطح کی تدریس شروع کی۔ پھر سن ۱۳۳۷ یا ۱۳۳۸ ہجری قمری سے فقہ و اصول کے درسِ خارج کا آغاز کیا۔
انہوں نے نصف صدی سے زیادہ عرصہ تدریس کے میدان میں گزارا اور اس دوران بے شمار علماء، فقہاء اور مجتہدین کی تربیت کی۔ ان کے بعض مشہور شاگرد درج ذیل ہیں:
- ان کے فرزند سید یوسف حکیم
- محمد تقی آل الفقیہ، لبنان کے معروف عالم
- سید اسماعیل صدر
- سید محمد تقی بحر العلوم
- شہید سید محمد باقر صدر
- محمد علی قاضی طباطبائی
- آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی
- آیت اللہ سید اسد اللہ مدنی
- علامہ محمد مہدی شمس الدین
- سید محمد حسین فضل اللہ
- آیت اللہ حسین وحید خراسانی
- امام موسیٰ صدر
- سید حسن خرسان
- سید حسین مکی عاملی
- محمد تقی تبریزی
- نصر اللہ شبستری
- آیت اللہ سید سعید حکیم
- خلیل قبلہ ای خوئی
یہ نام اس عظیم علمی مکتب کے اثر و رسوخ اور آیت اللہ حکیمؒ کی طویل علمی و تدریسی خدمات کی نمایاں دلیل ہیں۔
آیت اللہ سید محسن حکیم کی تصانیف
آیت اللہ سید محسن حکیم نے فقہ و اصول کی تدریس، حوزۂ علمیہ کی انتظامی ذمہ داریوں، دینی زعامت اور مرجعیت کے باوجود چالیس سے زیادہ علمی آثار تصنیف کیے۔ ان میں بعض مستقل تصانیف، بعض شروح اور بعض اہم فقہی کتابوں پر حواشی ہیں۔ ان کی چند اہم تصانیف درج ذیل ہیں:
مستمسک العروۃ الوثقیٰ
مستمسک العروۃ الوثقیٰ، کتاب العروۃ الوثقیٰ کی پہلی استدلالی شرح شمار ہوتی ہے۔ آیت اللہ حکیمؒ نے ابتدا میں اس کتاب کے مباحث کو اپنے درسِ خارجِ فقہ میں بیان کیا، جہاں العروۃ الوثقیٰ کو درس کا بنیادی محور بنایا گیا تھا، اور بعد میں ان مباحث کو مرتب کرکے کتابی شکل دی۔
اس کتاب میں آیت اللہ حکیم نے فقہی احکام کے دلائل کو نہایت سادہ، جامع اور مختصر انداز میں بیان کیا ہے۔ انہوں نے مختلف فقہی دلائل کا دقیق جائزہ لیا، ان کی تشریح کی اور جہاں ضروری ہوا وہاں ان پر علمی نقد بھی کیا۔
مستمسک العروۃ الوثقیٰ معاصر فقہاء کے نزدیک ایک اہم علمی مرجع شمار ہوتی ہے اور فقہی تحقیقات اور دروس میں اس سے کثرت سے استفادہ کیا جاتا ہے۔
حقائق الاصول
آیت اللہ سید محسن حکیم کی ایک اہم تصنیف حقائق الاصول ہے۔ یہ ان کے استاد آخوند خراسانیؒ کی معروف اور بنیادی اصولی کتاب کفایۃ الاصول کی شرح ہے۔
اس کتاب میں فقہ کے اصولی مباحث کو علمی اور تحقیقی انداز میں زیرِ بحث لایا گیا ہے، اور اس کے ذریعے آیت اللہ حکیمؒ کی اصولِ فقہ میں گہری بصیرت اور علمی مہارت نمایاں ہوتی ہے۔
نہج الفقاہۃ
نہج الفقاہۃ، شیخ مرتضیٰ انصاریؒ کی معروف فقہی کتاب المکاسب کی شرح اور حاشیہ ہے۔ اس کتاب کی پہلی جلد میں آیت اللہ حکیم نے بیع کے مباحث کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ انہوں نے مبحث عقدِ مُکرَہ تک کتاب المکاسب کی عبارتوں کی وضاحت اور تشریح کے ساتھ ان پر حواشی تحریر کیے ہیں۔
اس کے بعد انہوں نے اصل کتاب کی عبارتوں کو نقل کیے بغیر اس کے علمی اور فقہی مطالب کا تجزیہ اور تحقیق پیش کی ہے۔
اس کتاب کی دوسری جلد خیارات کے مباحث پر مشتمل ہے اور اس میں شیخ انصاریؒ کی علمی آراء پر تحقیق و حاشیہ نگاری کی گئی ہے۔
منہاج الصالحین
منہاج الصالحین آیت اللہ سید محسن حکیمؒ کی مفصل رسالۂ عملیہ ہے، جس میں فقہ کے مختلف ابواب سے متعلق ان کے فتاویٰ جمع کیے گئے ہیں۔
یہ کتاب عبادات، معاملات اور زندگی کے مختلف فقہی مسائل پر مشتمل ہے اور مقلدین اور دینی مسائل کے طالبین کے لیے ایک اہم فقہی مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔
دیگر آثار
آیت اللہ سید محسن حکیمؒ کی دیگر تصانیف اور علمی آثار میں درج ذیل کتابیں اور رسائل شامل ہیں:
- مختصر منہاج الصالحین
- منہاج الناسکین، جس میں حج کے مناسک اور تفصیلی احکام بیان کیے گئے ہیں۔
- مختصر منہاج الناسکین
- دلیل الناسک، جو آیت اللہ نائینیؒ کی کتابِ مناسکِ حج پر ایک استدلالی حاشیہ ہے۔
- دلیل الحاج
- شرح التبصرۃ، جو علامہ حلیؒ کی معروف کتاب *تبصرۃ المتعلمین* کی استدلالی شرح ہے۔
- حاشیۃ العروۃ الوثقیٰ
- شرح تشریح الافلاک، شیخ بہائیؒ کی علمِ ہیئت سے متعلق کتاب کی شرح۔
- بحث فی الدرایۃ
- اصول الفقہ
- شرح المختصر النافع، محقق حلیؒ کی کتاب المختصر النافع کی شرح۔ یہ آیت اللہ حکیمؒ کی اولین فقہی تصنیف شمار ہوتی ہے، جسے انہوں نے سن ۱۳۳۱ ہجری قمری میں تحریر کیا۔
- الحاشیۃ علی ریاض المسائل
- المسائل الدینیۃ
- تعلیقات علی تقریرات الخوانساری
- تقریرات درس الآقا ضیاء الدین العراقی
- رسالۃ فی ارث الزوجۃ، جس میں بیوی کے وراثتی احکام پر بحث کی گئی ہے۔
مرجعیت کے میدان میں سید محسن حکیم کی خدمات
آیت اللہ سید محسن حکیم نے اپنی مرجعیت کے دور میں علمی، دینی، ثقافتی اور سماجی میدانوں میں وسیع خدمات انجام دیں۔ ان کی اہم خدمات میں درجنوں مساجد، امام بارگاہوں، حسینیوں اور ثقافتی مراکز کی تعمیر، تعمیرِ نو اور مرمت شامل تھی۔
انہوں نے نجف اشرف میں ایک عوامی کتب خانہ مکتبۃ آیۃ اللہ الحکیم العامۃ کے نام سے قائم کیا۔ بعد میں اس کتب خانے کی شاخیں عراق کے مختلف شہروں کے علاوہ انڈونیشیا، ایران، بحرین، پاکستان، شام، لبنان، مصر اور ہندوستان جیسے ممالک میں بھی قائم کی گئیں۔
آیت اللہ حکیم نے مختلف دینی و ثقافتی رسائل اور مطبوعات کی مادی اور معنوی سرپرستی بھی کی۔ ان میں الاضواء، رسالۃ الاسلام، النجف، الایمان اور الثقافۃ الاسلامیۃ جیسے رسائل شامل تھے۔ اسی طرح انہوں نے "مِنْ هُدی النجف" کے عنوان سے شائع ہونے والی کتابوں اور رسائل کی بھی حمایت کی۔
وہ ان مصنفین، خطباء، ادباء اور شعراء کی بھی سرپرستی کرتے تھے جو اسلامی ثقافت کے فروغ کے لیے کام کرتے اور الحادی، کمیونسٹ یا منحرف افکار کا علمی مقابلہ کرتے تھے۔
آیت اللہ سید محسن حکیم مسلمانوں کے سماجی اور سیاسی مسائل کے حل اور فرقہ وارانہ و مذہبی اختلافات کے خاتمے میں مرجعیت کے بنیادی کردار کے قائل تھے۔ جہاں مسلمانوں کے مفاد کا تقاضا ہوتا، وہ واضح موقف اختیار کرتے اور مسائل کے حل کے لیے حکمت و تدبر کے ساتھ کوشش کرتے تھے۔
اس سلسلے میں ہندوستان کے علماء کے درمیان اختلافات ختم کرنے کے لیے ایک وفد بھیجنا، پاکستان میں مسلمانوں کے قتلِ عام کے خلاف احتجاج کرنا، لبنان میں المجلس الاسلامی الشیعی الاعلیٰ کے قیام کی حمایت کرنا اور مصر کی اخوان المسلمین کے حوالے سے موقف اختیار کرنا، ان کی اہم سرگرمیوں میں شامل تھا۔
آیت اللہ سید محسن حکیمؒ کی مرجعیت
میرزا محمد حسین نائینی کے سن ۱۳۱۵ شمسی میں انتقال کے بعد ان کے بعض مقلدین نے آیت اللہ سید محسن حکیم کی طرف رجوع کرنا شروع کیا۔ بعد ازاں سید ابو الحسن اصفہانیؒ کے سن ۱۳۲۵ شمسی میں انتقال کے بعد ان کی مرجعیت مزید مستحکم ہوگئی۔
پھر آیت اللہ سید حسین طباطبائی بروجردیؒ کے سن ۱۳۴۰ شمسی میں انتقال کے بعد، آیت اللہ سید محسن حکیم عالمِ تشیع کے سب سے مؤثر اور نمایاں مراجع میں شمار ہونے لگے۔
عبدالکریم قاسم کے عراق میں سن ۱۹۵۸ء کے انقلاب کے بعد اقتدار میں آنے اور کمیونسٹ افکار کے فروغ کے پس منظر میں، آیت اللہ حکیم نے کمیونزم کے خلاف اپنا مشہور فتویٰ صادر کیا:
"الشيوعية كفر وإلحاد" یعنی: کمیونزم کفر اور الحاد ہے۔
اس فتویٰ کے ذریعے انہوں نے عراق میں کمیونسٹ افکار اور ان کی سیاسی سرگرمیوں کے خلاف ایک واضح مذہبی اور فکری موقف اختیار کیا۔
واقعۂ مدرسۂ فیضیہ کے بعد موقف
نوروز ۱۳۴۲ شمسی میں مدرسۂ فیضیہ کے واقعے کے بعد آیت اللہ سید محسن حکیم نے ایران میں مقیم مراجع اور ممتاز علماء کو ایک ٹیلی گرام ارسال کیا اور انہیں عتباتِ عالیات کی طرف ہجرت کی دعوت دی۔ ان کے پیغام کا متن حسبِ ذیل تھا:
"بسم اللہ الرحمن الرحیم"
مسلسل دردناک واقعات اور افسوس ناک سانحات، جو قم کے جلیل القدر علماء اور روحانیت کے ساتھ پیش آ رہے ہیں، نے اہلِ ایمان کے دلوں کو مجروح کر دیا ہے اور مجھے بھی شدید رنج و صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔
"وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ" اور عنقریب ظالم جان لیں گے کہ وہ کس انجام کی طرف پلٹائے جائیں گے[1]۔
امید ہے کہ حضرات علماء اجتماعی طور پر عتباتِ عالیات کی طرف ہجرت فرمائیں تاکہ میں حکومت کے بارے میں اپنا موقف اور فیصلہ صادر کر سکوں۔
تاہم قم کے علماء نے اس تجویز کے جواب میں ہجرت کو مصلحت کے خلاف قرار دیا اور ایران میں موجود رہنے کو ضروری سمجھا۔
علمی اور دینی اداروں کی تعمیر
آیت اللہ سید محسن حکیمؒ کو مدارس، کتب خانوں، مساجد اور دیگر علمی و دینی مراکز کی تعمیر اور قیام سے خاص دلچسپی تھی۔
نجف اشرف میں ان کا مشہور کتب خانہ مکتبۃ الامام الحکیم اسلامی دنیا کے اہم اور جدید کتب خانوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ اس کے عراق کے مختلف علاقوں میں متعدد شاخیں قائم کی گئیں۔
ان کی ہدایت اور سرپرستی میں نجف، بغداد، بصرہ اور عراق کے دیگر علاقوں کے علاوہ مختلف اسلامی ممالک میں متعدد مدارس اور مساجد تعمیر کیے گئے۔
حوزہ ہائے علمیہ کی تنظیم و اصلاح میں خدمات
آیت اللہ سید محسن حکیمؒ کی زعامت کے دور میں شیعہ حوزاتِ علمیہ، خصوصاً حوزۂ علمیہ نجف نے مقداری اور معیاری اعتبار سے نمایاں ترقی کی۔ ان کی کوششوں سے حوزوی امور کی انتظامی تنظیم بھی پہلے سے بہتر ہوئی۔
اس سلسلے میں ان کے اہم اقدامات درج ذیل ہیں:
- طلبہ کی تعداد میں اضافے کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی اور کوشش کی گئی، یہاں تک کہ صرف حوزۂ نجف میں طلبہ کی تعداد تقریباً ۱۲۰۰ سے بڑھ کر ۸۰۰۰ تک پہنچ گئی۔
- مدرسۂ علومِ اسلامی کے قیام کے ذریعے حوزوی نصاب کو مزید وسعت دی گئی اور فلسفہ، علمِ کلام، تفسیر اور اقتصاد جیسے علوم کے دروس کو اہمیت دی گئی۔
- طلبہ کو الحادی افکار، خصوصاً مارکسزم اور دیگر مادی نظریات سے آگاہ کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی گئی، تاکہ وہ ان نظریات کو سمجھ کر علمی اور فکری انداز میں ان کا جواب دے سکیں۔
- حوزۂ علمیہ کی سرگرمیوں کو صرف نجف تک محدود رکھنے کے بجائے مختلف شہروں، دور دراز علاقوں اور دیگر ممالک تک وسعت دی گئی۔ پاکستان، سعودی عرب اور افریقی ممالک میں دینی مدارس اور حوزات کے فروغ پر خصوصی توجہ دی گئی۔
- غیر ملکی طلبہ کی تعلیم اور رہائش کے لیے بھی خصوصی انتظامات کیے گئے۔ مثال کے طور پر نجف میں ہندوستانی طلبہ کے لیے ایک مدرسہ اور افغانی و تبتی طلبہ کے لیے بھی مخصوص تعلیمی مراکز اور سہولیات فراہم کی گئیں۔
سیاست کے میدان میں سید محسن حکیم
آیت اللہ سید محسن حکیم سیاسی معاملات سے لاتعلق نہیں تھے۔ ان کا نظریہ تھا کہ اگر سیاسی امور میں مداخلت معاشرے کی اصلاح، عوامی مشکلات کے خاتمے اور لوگوں کی زندگیوں میں آسانی پیدا کرنے کا سبب بنے تو یہ ایک دینی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے جماعۃ العلماء فی النجف الاشرف کے قیام اور استحکام میں بنیادی کردار ادا کیا۔ یہ ایک دینی اور حوزوی سیاسی تنظیم تھی۔ آیت اللہ حکیمؒ بعض شرائط کے ساتھ اسلامی جماعتوں اور تنظیموں کے قیام کی بھی حمایت کرتے تھے۔
ملکی معاملات میں وہ حکومت کی غلط پالیسیوں کے خلاف احتجاج اور اصلاح کے لیے کوشش کو ضروری سمجھتے تھے۔ اس سلسلے میں ان کے چند اہم اقدامات درج ذیل ہیں:
سن ۱۹۶۳ء میں انہوں نے حکومت اور اس کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کے طور پر بغداد کا سفر کیا۔ یہ احتجاج عبدالسلام عارف کے دورِ حکومت میں مخالفین کی گرفتاریوں اور ان پر تشدد کے پس منظر میں تھا۔ انہوں نے حکومت کی فرقہ وارانہ پالیسیوں، مذہبی امتیاز اور اختلافات کو ہوا دینے کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ سن ۱۳۴۳ شمسی / ۱۹۶۴ء میں بعض تجارتی کمپنیوں کو قومی تحویل میں لینے کے قانون کی مخالفت کی، کیونکہ اس اقدام سے شیعہ برادری کی مالی اور اقتصادی طاقت کمزور ہونے کا خدشہ تھا۔
حکومتِ عارف نے شمالی عراق کے کردوں کے خلاف فوجی کارروائی کا فیصلہ کیا اور بعض اہلِ سنت علماء کے فتووں کی بنیاد پر کردوں کو حکومت کے خلاف بغاوت اور علیحدگی پسندی کا مرتکب قرار دیا۔ آیت اللہ سید محسن حکیمؒ نے اس جنگ کے خلاف واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کردوں کے خلاف جنگ کو ناجائز قرار دیا۔
ان کے اس موقف اور فتویٰ نے کرد عوام کے خلاف وسیع پیمانے پر خونریزی کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔
سید محسن حکیم کی سیاسی سرگرمیاں
حکیم کی سیاسی سرگرمیوں میں سے ایک اہم واقعہ جنگِ عظیم اوّل کے دوران پیش آیا۔ جب عثمانیوں نے اتحادی طاقتوں کے خلاف جنگ اور جہاد کا اعلان کیا تو 25 ذی الحجہ 1332 ہجری کو برطانوی افواج نے جنوبی عراق کی بندرگاہ فاو پر قبضہ کر لیا اور عراق کے دوسرے علاقوں پر بھی قبضہ کرنے کا ارادہ کیا۔
اس صورتحال میں عراق کے شیعہ علما نے دشمن کو ملک سے نکالنے کے لیے برطانوی افواج کے خلاف جہاد کا فتویٰ صادر کیا۔ برطانیہ کے خلاف عوامی جوش و خروش نے تمام شیعہ نشین شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور دسیوں ہزار رضاکار مجاہدین علما کے تین گروہوں کی قیادت میں محاذِ جنگ کی طرف روانہ ہوئے۔ سید محسن حکیم علما کے تیسرے گروہ میں شامل تھے۔
وہ اپنے مجاہد اساتذہ کی پیروی کرتے ہوئے درس و بحث کے علاوہ سیاسی امور پر بھی خصوصی توجہ دیتے تھے۔ ان سے پوچھا گیا:
"سیاست اور اس میں علما کی مداخلت کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟"
انہوں نے نہایت صراحت سے جواب دیا:"اگر سیاست سے مراد لوگوں کے امور کی اصلاح، صحیح عقلی اصولوں کی بنیاد پر ان کی فلاح و بہبود اور بندگانِ خدا کے آرام و آسائش کا انتظام ہے، تو اسلام سراسر یہی ہے اور اس کے علاوہ کچھ نہیں؛ اور علما کا کام بھی اسی کے سوا کچھ نہیں۔ لیکن اگر سیاست سے کوئی اور معنی مراد ہو تو اسلام اس سے بیگانہ اور دور ہے۔"
آیت اللہ حکیم اسلامی آزادی کی تحریکوں کی مدد میں بھی سرگرم تھے۔ وہ مسلمانوں کو اپنے فلسطینی بھائیوں کی مدد اور حمایت کی ترغیب دیتے تھے اور فلسطین اور بیت المقدس کی نجات کے لیے عالمِ اسلام کے اتحاد کے بارے میں متعدد اہم بیانات اور اعلانات جاری کیے۔
انہوں نے مصر پر برطانیہ، فرانس اور صہیونی حکومت کے سہ فریقی حملے کے خلاف عوامی مظاہروں کو روکنے کی عراقی حکومت کی پالیسی کی شدید مذمت کی۔ احتجاجاً انہوں نے نمازِ جماعت کی امامت سے بھی انکار کر دیا، یہاں تک کہ عراقی حکومت کو معذرت کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
اسی طرح جب صہیونی حکومت نے اچانک مصر، شام اور اردن پر حملہ کیا تو آیت اللہ حکیم نے ایک اعلامیے میں فرمایا:
"اب جبکہ صہیونی یہودیوں کے خلاف مسلمانوں کا جہاد شروع ہو چکا ہے، ضروری ہے کہ مکمل اور بھرپور تعاون کیا جائے اور دشمنِ اسلام کو یہ مہلت نہ دی جائے کہ وہ ہمارے بھائیوں کو قتل و غارت کا نشانہ بنائے۔ خداوندِ متعال ہمارے ساتھ ہے اور ہمیں جہاد کو وسیع کرنا چاہیے۔"
انہوں نے ستمبر 1969ء میں ایک ٹیلی گرام کے ذریعے صہیونیوں کی جانب سے مسجد الاقصیٰ کو آگ لگانے کے واقعے کی شدید مذمت کی اور تمام مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ پوری طاقت کے ساتھ بیت المقدس اور سرزمینِ فلسطین کو صہیونیوں کے قبضے سے آزاد کرانے کے لیے قربانی دیں اور اسلامی مقدسات کا دفاع کریں۔
سید محسن حکیم کی کمیونزم کے خلاف جدوجہد
حکیم کمیونزم کے سخت مخالف تھے۔ عراق میں عبدالکریم قاسم کی بغاوت اور 1958ء میں اس کے اقتدار میں آنے کے بعد کمیونسٹ نظریات کے فروغ اور ایسے قوانین کی منظوری کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوا جو فقہی احکام سے ہم آہنگ نہیں تھے۔ ان میں عراق کا قانونِ احوالِ شخصیہ بھی شامل تھا جو 1959ء میں منظور ہوا۔
آیت اللہ حکیم نے اس قانون کی منظوری پر باضابطہ احتجاج کیا اور علما و خطبا کو عوام کو اس کے مذہب مخالف پہلوؤں سے آگاہ کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے 1959ء میں دو تاریخی فتوے صادر کیے، جن میں کمیونسٹ پارٹی میں شمولیت کو شرعاً ناجائز قرار دیا اور اسے کفر و الحاد یا کفر و الحاد کی ترویج کے مترادف قرار دیا۔
اس فتویٰ کے بعد نجف کے دیگر علما نے بھی اسی نوعیت کے فتوے صادر کیے اور بالآخر عبدالکریم قاسم کو معذرت کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
امام خمینی کے مواقف کی حمایت
آیت اللہ العظمیٰ سید حسین بروجردی کے انتقال کے بعد، اپریل 1961ء میں سید محسن حکیم کو عالمِ تشیع کے عمومی مرجعیت کے مقام پر وسیع پیمانے پر قبول کیا گیا۔ کویت، عراق، ایران، بحرین، افغانستان، ہندوستان اور پاکستان کے کثیر تعداد میں شیعہ ان کی تقلید کرتے تھے۔
1962ء کے بعد ایران میں روحانیت اور محمد رضا شاہ کی حکومت کے درمیان پیش آنے والے سیاسی تنازعات اور واقعات میں آیت اللہ حکیم نے خطوط، بیانات اور ٹیلی گراموں کے ذریعے امام خمینی کی قیادت میں ایرانی علما کے موقف کی حمایت کی۔
انہوں نے انجمن ہائے ایالتی و ولایتی کے بل کو کافرانہ قوانین اور اسلام کے مقدس قوانین کے خلاف قرار دیا۔ اسی طرح اپریل 1963ء میں مدرسۂ فیضیہ پر ہونے والے حملے کی سخت مذمت کی اور ایران کے بڑے علما کو اجتماعی طور پر عتباتِ عالیات ہجرت کرنے کی تجویز دی، اگرچہ علما نے اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا۔
انہوں نے 15 خرداد 1342 شمسی کے عوامی قیام کو محمد رضا شاہ کی حکومت کی جانب سے کچلنے کی بھی شدید مذمت کی اور ایک ٹیلی گرام میں فرمایا:
"مجھے ایران کے خونین واقعات کی خبر ملی ہے، جو گزشتہ قریب کے واقعات کے زخموں کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ حکام کا مسلسل عوام کو کچلنے اور خوف زدہ کرنے کی پالیسی پر اصرار، ملک کے انتظام میں ان کی بے بسی کو ظاہر کرتا ہے۔
انہیں ایسی سیاسی روش سے ڈرنا چاہیے، کیونکہ یہ یقیناً انہیں زوال کے گڑھے میں دھکیل دے گی، اور بری تدبیر کا انجام خود اس کے اختیار کرنے والے کو بھگتنا پڑتا ہے۔ ہم اس نامناسب طرزِ عمل پر حکام کے خلاف اپنی شدید نفرت اور بیزاری تمام مومنین، خصوصاً طبقۂ علما تک پہنچاتے ہیں۔"
سید محسن حکیم کا فلسطین کے بارے میں موقف
1338 شمسی، یعنی تقریباً 1959ء، مسلمانوں کے لیے ایک نہایت افسوس ناک سال تھا۔ ایران کے شاہ نے بالآخر اپنی ظاہری پردہ داری ختم کرتے ہوئے صہیونی حکومت کو تسلیم کر لیا۔
اس موقع پر شیعہ مرجع آیت اللہ سید محسن حکیم نے تہران میں آیت اللہ بہبہانی کے نام ایک خط لکھ کر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے فلسطین کی آزادی کے لیے عوامی امداد اور تعاون کو سراہا اور مسلمانوں کے اسلام کی حقیقی تعلیمات سے دور ہونے کو مسئلۂ فلسطین کے بنیادی اسباب میں سے ایک قرار دیا۔
سید محسن حکیم کی زندگی کے آخری سال
حسن البکر کی بغاوت کے بعد بعث پارٹی، جسے متن میں اسلام مخالف نظریات رکھنے والی جماعت قرار دیا گیا ہے، نے آیت اللہ حکیم پر مزید دباؤ ڈالنے اور انہیں اپنی پالیسیوں کے سامنے جھکانے کی کوشش کی۔
ان کی زندگی کے آخری سال شدید پابندیوں، عملی طور پر گھریلو نظر بندی، حوزۂ علمیہ اور عراق کے شیعوں پر سختیوں اور ان تمام دباؤ کے مقابلے میں آیت اللہ حکیم کی مزاحمت سے عبارت تھے۔
سید محسن حکیم کا انتقال
سید محسن حکیم 27 ربیع الاول 1390 ہجری کو 84 برس کی عمر میں وفات پا گئے۔ ان کے جنازے میں لاکھوں افراد نے شرکت کی اور ان کا جنازہ بعثی حکومت کے خلاف ایک بڑے عوامی مظاہرے کی شکل اختیار کر گیا۔
ان کی نمازِ میت ان کے بڑے صاحبزادے سید یوسف حکیم نے پڑھائی۔ انہیں نجف اشرف میں اپنی قائم کردہ لائبریری کے قریب سپردِ خاک کیا گیا۔ انہوں نے نجف میں مسجد ہندی کے قریب، شارع الرسول کے ابتدائی حصے میں ایک کتب خانہ قائم کیا تھا اور ان کا مزار بھی اسی مقام پر واقع ہے۔
حوالہ جات
- ↑ سورۂ شعراء، آیت ۲۲۷
