سید ابوالحسن بنی صدر
| سید ابوالحسن بنی صدر | |
|---|---|
| دوسرے نام | بنی صدر |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | ۱۳۱۲ ش |
| یوم پیدائش | ۲ فروردین |
| پیدائش کی جگہ | باغچہ کبودرآہنگ، ہمدان |
| وفات | ۱۴۰۰ |
| وفات کی جگہ | ہسپتال سالپیٹریئر، پاریس |
| مذہب | اسلام، شیعہ |
| اثرات |
|
| مناصب |
|
سید ابوالحسن بنی صدر، ایرانی سیاست دان اور ماہر معاشیات تھے جنہیں جمہوریہ اسلامی ایران کا پہلا صدر مانا جاتا ہے۔ انہیں ۱۳۵۸ ہجری شمسی میں آزاد انتخابات میں صدر منتخب کیا گیا اور ۱۳۶۰ ہجری شمسی میں سیاسی نااہلی کی بنا پر عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
سوانح حیات
سید ابوالحسن بنی صدر ۱۳۱۲ ہجری شمسی میں شہر باغچہ کبودرآہنگ، ہمدان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد، سید نصراللہ بنی صدر، اس علاقے کے با اثر مذہبی رہنماؤں میں سے تھے۔ کبودرآہنگ میں ابتدائی اور متوسطہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد، انہوں نے ہائی اسکول شریعتی ہمدان سے ڈپلوما حاصل کیا اور پھر دانشگاه تهران میں معاشیات اور اسلامی قوانین کے شعبوں میں تعلیم حاصل کی۔
انہوں نے فرانسه کی جامعہ سوربون سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی حاصل کی اور اسی جامعہ میں تدریس بھی کی۔ انہوں نے ۱۳۳۹ ہجری شمسی میں عذرا حسینی سے شادی کی اور اس ازدواج سے تین بچے (دو بیٹیاں اور ایک بیٹا) ہوئے۔
بنی صدر نے ۱۳۴۱ ہجری شمسی میں جبهہ ملی ایران کی کانگریس میں فیکلٹی آف لا کے طالب علموں کے نمائندے کے طور پر شرکت کی اور جامعہ تہران میں جبهہ ملی کے طالب علموں کی تنظیم کی ذمہ داری سنبھالی۔
سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے انہیں دو بار گرفتار اور قید کیا گیا۔ ۱۳۴۲ کے واقعہ ۱۵ خرداد کے دوران بنی صدر زخمی ہوئے اور اس کے بعد انہوں نے ملک چھوڑ دیا اور مزید تعلیم کے لیے پاریس چلے گئے۔
نظریات
محاذ ملی سے قربت
یورپ میں اپنے قیام کے ابتدائی دور میں وہ محاذ ملی کے زیادہ قریب تھے اور اس محاذ کے سیاسی نشریات کے لیے لکھتے تھے۔ سال ۱۳۴۸ ہجری شمسی میں، فرانز فانون کی کتاب «زمین کے دوزخی» کا ترجمہ زبان فارسی میں کیا اور بتدریج صادق قطب زادہ، ابراہیم یزدی اور حسن حبیبی جیسی شخصیتوں کے ساتھ مل کر اسلامی ملی جدوجہد کا سلسلہ جاری رکھا۔ تحریک ملی کی ناکامی اور واقعات خرداد ۱۳۴۲ ہجری شمسی کے بعد، انہوں نے کوشش کی کہ مبارزے کے لیے نئے نظریات مرتب کریں۔
فکری اثرات
بنی صدر کی پاریس میں تعلیم معاشیات اور سرمایہ کاری کے شعبے میں تھی۔ بیری رابن اپنی مشہور کتاب "امریکی تجربہ اور ایران" میں لکھتے ہیں کہ پیرس میں وہ کتاب اور مکتب فکر "چھوٹا خوبصورت ہے" کی طرف مائل ہو گئے۔ یہ کتاب چھوٹی صنعتوں، معاشیات میں عوامی مداخلت اور خرد پیداوار کی حمایت کی وکالت کرتی تھی۔ ان کے اقتصادی کتابوں میں اس مکتب فکر کا اثر واضح ہے۔
امام خمینی سے رابطہ اور حکومتی نظریات
بنی صدر ۱۳۵۲ ہجری شمسی میں اپنے والد کی تدفین کی تقریب کے لیے نجف گئے اور وہاں امام خمینی سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات ایک طویل تعلق کی بنیاد بنی جو ۱۳۶۰ ہجری شمسی تک جاری رہا۔ امام نے انہیں حکومت اسلامی کے بارے میں سوچنے کی توصیه کی اور بنی صدر کی فکر کا نتیجہ کتاب "اسلامی حکومت کے بنیادی اصول اور ضوابط" کی تحریر تھی۔ انہوں نے اس پچاسی صفحات کی کتاب میں اسلامی حکومت اور اس کی فکری بنیادوں پر بحث کی، لیکن امام خمینی کی ولایت فقیه کا ذکر نہیں کیا۔
نظریہ معرفت
بنی صدر تقریباً ۱۳۵۱ ہجری شمسی سے یورپ اور امریکہ کی اسلامی انجمنوں کی یونین سے رابطہ قائم کیا اور عجیب و غریب مباحث کے طرح سے، جو درحقیقت سیاسی اسلام، انیسویں صدی کے ارتقائی فلسفوں اور تیسری دنیا کی قسم کی بائیں بازو کی سیاست کا ملغوبہ تھا، اظہار رائے کرنے لگے۔ بنی صدر نے بہار ۱۳۵۱ ہجری شمسی میں اپنا نظریہ معرفت "توحید کی بنیاد پر معرفت کا طریقہ" کے عنوان سے پیش کیا اور اس خود ساختہ طریقے کو "سائنسی" قرار دیا جس کا "استاد قرآن ہے"۔ بنی صدر اپنے طریقے کو تاریخ کے بہت سے مبہم اور حل نہ شدہ مسائل کا حل مانتے تھے اور یقین رکھتے تھے کہ ان کا طریقہ عالمی معاشیات کے مسائل حل کر دے گا۔
معاصر دور کے عظیم ترین فکر کا دعویٰ
بنی صدر خود کو ایک عالمی مفکر کی حیثیت سے دیکھتے تھے اور ارادہ رکھتے تھے کہ مارکسیسم کے مقابلے میں، جس کی طبقاتی تضاد کی بنیاد پر عمومی معرفت کا طریقہ تھا، توحید کی بنیاد پر جامع اور خاص معرفت کا طریقہ پیش کریں۔
انہوں نے دی ماہ ۱۳۵۸ میں انقلاب کونسل کے سیکرٹریٹ میں صدارتی انتخابات کے پہلے دور کے امیدواروں سے گفتگو کے لیے ہونے والے اجلاسوں میں اپنے خیالات کو "معاصر دور کا عظیم ترین فکر" اور اپنی کتاب "تضاد اور توحید" کو "صدی کا عظیم ترین اثر" قرار دیا۔ اس "سائنسی طریقے" سے مزید آشنائی کے لیے، کتاب تضاد اور توحید (یعنی وہی صدی کا عظیم ترین اثر) کے ایک اقتباس کا ذکر کرتے ہیں:
«انڈا ایک مجموعہ ہے جو اپنے ماحولیاتی اجزاء جیسے حرارت وغیرہ کے ساتھ اصول توحید کے تحت ایک مجموعہ بناتا ہے۔ اصول بعثت کی بنیاد پر، انڈا حرکت اور نشوونما پاتا ہے۔
انڈے کا داخلی ڈائنامزم اور جو چیز اسے حرکت اور نشوونما کی طرف کھینچتی ہے، وہ اصول امامت ہے۔ اگر انڈے کی حرکت اور نشوونما اصول عدل کے مطابق نہ ہو، تو انڈا سڑ جاتا ہے؛ اور اگر اس اصول کے مطابق ہو، تو انڈا چوزے میں تبدیل ہو جاتا ہے یا عبارتی طور پر اپنی معاد تک پہنچ جاتا ہے»۔
شریعتی کا اثر اور توحیدی معاشیات
بنی صدر کے اقتصادی نظریات پر شریعتی کا اثر بھی واضح تھا۔ بنی صدر نے معاشیات کے نقطہ نظر سے توحید کی توجیہ پیش کرتے ہوئے توحیدی معاشیات متعارف کرائی۔
بنی صدر کی کتاب "توحیدی معاشیات" اسی فکری کشمکش کا نتیجہ تھی۔ اس کتاب میں عجیب جملے موجود ہیں جو ان کی غیر منظم اور اصطلاحی طور پر التقاطی فکر کو اچھی طرح ظاہر کرتے ہیں۔ جملے جیسے «امامت پیداوار کے اضافے کو آلات اور معلومات کی صورت میں... اس طرح معاشرے میں تقسیم کرتی ہے کہ فردی صلاحیتیں زیادہ امکانات کا استعمال کرتے ہوئے پیداوار میں بہتر صلاحیتوں کے برابر ہونے کی کوشش کریں۔
دوسرے الفاظ میں اسلامی قیادت اور امامت کا بھاری کام یہ ہے کہ اقتصادی محرک قوتوں کی تباہی کو روکے» اور «اصول امامت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم سب کو مسلمان ہونے کے ناتے امام کا کردار ادا کرنا چاہیے» جو کہ اخیر الذکر مثال ان کی پروٹسٹنٹ فکر کی نشاندہی کرتی ہے۔
اقتصادی تفکرات میں «امامت و قیادت» کا تصور
ان کے اقتصادی تفکرات کا مرکزی ستون «امامت و قیادت» کا تصور تھا جس کے پاس بہت سی اختیارات تھیں اور وہ زمین اور قوت کار کی مالک تھی۔ عجیب تر بات یہ ہے کہ بنی صدر مختلف فکری مکاتب کے اس گڑبوڑ کو، جو ان کی تحریروں میں پکا تھا، ایک فکری کارنامہ سمجھتے تھے اور روزنامہ اطلاعات کے انٹرویو میں کہا تھا «اگر مجھے یہ کہنا ہو کہ میں کون ہوں، تو میں خود کو آپ کے سامنے یوں پیش کروں گا: میں معاصر دور کا عظیم ترین فکر ہوں... میں اسی تضاد اور توحید کو صدی کا عظیم ترین اثر مانتا ہوں جو میرا اپنا ہے»[1]۔
صدارت
۱۳۵۸ ہجری شمسی میں، بنی صدر ایران کے عوام کے منتخب کردہ صدر کے طور پر منتخب ہوئے۔ صدر کے طور پر، انہیں بہت سے چیلنجز کا سامنا تھا، جن میں جنگ ایران و عراق میں ان کی کارشکنیاں بھی شامل تھیں۔ امام خمینی نے ان کارشکنیوں کی بنا پر، ایک پیغام میں انہیں کمانڈر ان چیف کے عہدے سے برطرف کر دیا۔ اس برطرفی کے بعد، ۳۱ خرداد ۱۳۶۰ کو، مجلس شورای اسلامی نے سیاسی عدم کفایت کا منصوبہ منظور کرتے ہوئے، بنی صدر کو صدارت سے برطرف کر دیا۔
برطرفی کے بعد
برطرفی کے بعد، بنی صدر دہشت گرد گروہ منافقین میں شامل ہو گیا اور اسلامی جمہوریہ کے خلاف مسلحانه جدوجہد کی۔ محمدعلی رجایی کی صدارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد، وہ مسعود رجوی کے ہمراہ ملک سے فرار ہو گیا اور فرانسه چلا گیا۔
انتقال
سید ابوالحسن بنی صدر ۱۷ مہر ۱۴۰۰ کو ۸۸ سال کی عمر میں سالپیٹریئر ہسپتال پاریس میں انتقال کر گئے[2]。
مزید دیکھیے
حوالہ جات
ماخذ
- سوانح حیات: سید ابوالحسن بنی صدر (۱۳۱۲ - ۱۴۰۰)، ویب سائٹ ہم شہری، اشاعت کی تاریخ: ۱۷ مہر 1400، دیکھنے کی تاریخ: ۱۳ آبان 1404 ہجری شمسی。
- بنیصدر که بود و چه عقایدی داشت؟، پایگاه خبری رویداد ۲۴ ابوالحسن بنی صدر کون تھے اور ان کے کیا عقائد تھے؟، نیوز پورٹل رویداد ۲۴]، اشاعت کی تاریخ: ۲۳ دی 140۳، دیکھنے کی تاریخ: ۱۴ آبان 1404 ہجری شمسی۔