"غلام علی حداد عادل" کے نسخوں کے درمیان فرق
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
||
| سطر 30: | سطر 30: | ||
* آٹھویں دور میں مجلس کی ثقافتی کمیٹی کے رئیس؛ | * آٹھویں دور میں مجلس کی ثقافتی کمیٹی کے رئیس؛ | ||
* [[تهران|تہران]] کے عوام کے نمائندہ برائے مجلس شورای اسلامی در ادوار ششم، ہفتم، ہشتم و نہم؛ | * [[تهران|تہران]] کے عوام کے نمائندہ برائے مجلس شورای اسلامی در ادوار ششم، ہفتم، ہشتم و نہم؛ | ||
* فارسی زبان و ادب کی اکادمی کے | * فارسی زبان و ادب کی اکادمی کے سربراهی؛ | ||
* شورای عالی انقلاب فرهنگی کے رکن؛ | * شورای عالی انقلاب فرهنگی کے رکن؛ | ||
* مجمع تشخیص مصلحت نظام کے رکن؛ | * مجمع تشخیص مصلحت نظام کے رکن؛ | ||
* بنیاد سعدی کے | * بنیاد سعدی کے سربراه؛ | ||
* بنیاد دائرةالمعارف اسلامی کے | * بنیاد دائرةالمعارف اسلامی کے سربراه؛ | ||
* تنظیم برائے تحقیق و برنامهریزیِ آموزشی کے | * تنظیم برائے تحقیق و برنامهریزیِ آموزشی کے سربراه۔ | ||
وہ دانشگاه [[تهران|تہران]] کے شعبہ فلسفہ میں فیکلٹی ممبر اور دانشیار بھی رہے ہیں۔ | وہ دانشگاه [[تهران|تہران]] کے شعبہ فلسفہ میں فیکلٹی ممبر اور دانشیار بھی رہے ہیں۔ | ||
نسخہ بمطابق 13:18، 29 اپريل 2026ء
| غلامعلی حداد عادل | |
|---|---|
| پورا نام | غلامعلی حداد عادل |
| دوسرے نام | ڈاکٹر حداد عادل |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 1324 ش، 1946 ء، 1364 ق |
| پیدائش کی جگہ | ایران تهران |
| مذہب | اسلام، شیعه |
| مناصب | سیاست دان، یونیورسٹی پروفیسر، شاعر، مصنف |
غلامعلی حداد عادل، ایک ایرانی سیاست دان، عالم اور یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں۔ وہ ایران میں قدامت پسند حلقوں کی نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ حداد عادل اس سے قبل ساتویں دور میں مجلس شورای اسلامی کے پانچویں اسپیکر اور فارسی زبان و ادب کی اکادمی کے رئیس رہے ہیں۔ وہ اس وقت مجمع تشخیص مصلحت نظام اور تنظیم برائے تحقیق و برنامهریزیِ آموزشی کی کونسل کے رکن کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
زندگینامه
خاندان اور تعلیم
غلامعلی حداد عادل ۱۳۲۴ ش میں تہران میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے فلسفہ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ان کی اہلیہ طیبه ماہروزادہ ہیں جن کے پاس فلسفہ تعلیم و تربیت میں ڈاکٹریٹ ہے اور وہ ایران میں خواتین اور تعلیم و پرورش کے میدان کی اہم علمی و انتظامی شخصیات میں شمار ہوتی ہیں۔ اس جوڑے کے چار بچے ہیں: فریدالدین، آزادہ، زہرا اور بنت الہدی۔
انتظامی و سیاسی سوابق
حداد عادل نے متعدد انتظامی و سیاسی ذمہ داریاں نبھائی ہیں جن میں سے چند اہم یہ ہیں:
- وزارت تعلیم و پرورش کے معاون وزیر؛
- وزارت تعلیم و پرورش کے معاونِ تحقیق؛
- ساتویں دور میں مجلس شورای اسلامی کے اسپیکر؛
- آٹھویں دور میں مجلس کی ثقافتی کمیٹی کے رئیس؛
- تہران کے عوام کے نمائندہ برائے مجلس شورای اسلامی در ادوار ششم، ہفتم، ہشتم و نہم؛
- فارسی زبان و ادب کی اکادمی کے سربراهی؛
- شورای عالی انقلاب فرهنگی کے رکن؛
- مجمع تشخیص مصلحت نظام کے رکن؛
- بنیاد سعدی کے سربراه؛
- بنیاد دائرةالمعارف اسلامی کے سربراه؛
- تنظیم برائے تحقیق و برنامهریزیِ آموزشی کے سربراه۔
وہ دانشگاه تہران کے شعبہ فلسفہ میں فیکلٹی ممبر اور دانشیار بھی رہے ہیں۔
آثار
انہوں نے تربیتی اور اسلامی موضوعات پر متعدد تصنیفات پیش کی ہیں جن میں سے چند یہ ہیں:
- دانشنامه عربیِ جہانِ اسلام (غلامعلی حداد عادل کی زیر نگرانی)؛
- درسهایی از قرآن؛
- سحرخیزانِ تنہا؛
- فرهنگِ برهنگی و برهنگیِ فرهنگی۔
انتخاباتِ صدارت میں نامزدگی
حداد عادل نے دہم صدارتی انتخابات (۱۳۹۲ ش) میں ’’تقویٰ و تدبیر‘‘ کے نعرے کے ساتھ امیدوار کے طور پر حصہ لیا۔ ان کی اہلیت شورای نگهبان نے منظور کی۔ تاہم انہوں نے ۲۰ خرداد ۱۳۹۲ کو، انتخابات سے چار روز قبل، اپنی امیدوار ی سے دستبرداری اختیار کی اور رائے دہندگان سے درخواست کی کہ وہ اصولگرایان کے متفقہ امیدوار (سید ابراہیم رئیسی) کو ووٹ دیں۔
ثقافتی سرگرمیاں
سیاسی سرگرمیوں کے علاوہ، حداد عادل نے ایران کی ثقافت و ادب کے میدان میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ فارسی زبان و ادب کی اکادمی میں ان کی صدارت اس حوالے سے ایک اہم اقدام سمجھا جاتا ہے۔ وہ شاعر اور مصنف بھی ہیں اور متعدد آثار کے خالق ہیں۔ انہیں ۱۳۹۳ ش میں ’’جهادگرِ عرصۂ ثقافت و ہنر‘‘ کا تمغہ دیا گیا۔
اعزازات و افتخارات
- ۱۳۷۴ ش میں تعلیم و تربیت کا دوسرے درجے کا نشان؛
- ۱۳۹۳ ش میں ’’جهادگرِ عرصۂ ثقافت و ہنر‘‘ کا افتخاری نشان۔[1]
متعلقه مضامین
حوالہ جات
- ↑ حداد عادل، وبسایت تابناک، (زبان فارسی) تاریخ درج مطلب: نامعلوم، تاریخ مشاهدہ: ۲۹/اپریل/۲۰۲۶ء