مندرجات کا رخ کریں

زہراء حداد عادل

ویکی‌وحدت سے
محمدباقر قالیباف
دوسرے نامبانو شهیده زهرا حداد عادل
ذاتی معلومات
پیدائش1979 ء، 1357 ش، 1398 ق
پیدائش کی جگہتہران
وفات کی جگہتہران
مذہباسلام، شیعہ
مناصبسماجی اور ثقافتی سرگرمیا، میڈیا کی ماہر

زہراء حداد عادل، شہیدہ خاتون، آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای (تیسرے رہبرِ اسلامی جمہوریہ ایران) کی اہلیہ اور آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای (دوسرے رہبرِ ایران) کی بہو تھیں۔ اگرچہ ان کا خاندان مذہبی اور سیاسی دونوں لحاظ سے ممتاز تھا اور وہ ابلاغِ عامہ (Communications) کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم یافتہ تھیں، مگر انہوں نے ایک پُرسکون اور میڈیا سے دُور زندگی اختیار کی۔ امریکی و اسرائیلی حملے کے دوران، جو "جنگِ رمضان" کے نام سے معروف ہے، وہ تہران میں شہید ہوئیں۔

سوانحِ حیات

زہرا حداد عادل ۱۳۵۸ ہجری شمسی (۱۹۷۹ء) میں تہران میں پیدا ہوئیں۔

خاندان

ان کے والد غلام علی حداد عادل ایران کے معروف قدامت پسند سیاسی رہنما، مجلسِ تشخیصِ مصلحتِ نظام کے رکن، سابق اسپیکرِ پارلیمنٹ (دورہٴ ہفتم)، اور فارسی زبان و ادب کی اکیڈمی کے سربراہ ہیں۔

ان کی والدہ طیبہ ماہروزادہ ہیں۔ وہ ایک مذہبی اور سیاسی خاندان میں پرورش پائیں، جہاں ان کے والد رہبرِ شہیدِ انقلاب کے قریبی مشیروں میں سے تھے۔

تعلیم

زہرا نے ابتدائی اور ثانوی تعلیم *مدرسہٴ فرہنگ* میں حاصل کی۔ انہوں نے دانشگاہِ علامہ طباطبائی سے ابلاغیات میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی، جس میں ان کا خصوصی شعبہ صحافت (Journalism) تھا۔

علاوہ ازیں وہ دانشگاہِ صدا و سیما (ایران براڈکاسٹنگ یونیورسٹی) کی فارغ التحصیل بھی تھیں۔

ازدواج اور اولاد

زہرا حداد عادل نے ۱۳۷۸ ہجری شمسی (تقریباً ۱۹۹۹ء) میں آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای (رہبرِ شہیدِ انقلاب کے دوسرے فرزند) سے نکاح کیا۔

یہ رشتہ ایران کے دو بااثر مذہبی و سیاسی خانوادوں میں ایک مضبوط رابطہ بن گیا۔ ان کے تین بچے ہیں:

  • محمد باقر
  • محمد امین
  • فاطمہ

سرگرمیاں

اگرچہ انہیں اپنے مقام اور خاندان کی نسبت سے میڈیا میں نمایاں ہونے کے مواقع حاصل تھے، لیکن انہوں نے ہمیشہ خاموش، باوقار اور غیرسیاسی طرزِ زندگی کو ترجیح دی۔ ان کی سرگرمیاں زیادہ تر سماجی اور ثقافتی دائرے تک محدود تھیں، اور وہ خبروں یا شہرت سے بچتی رہتی تھیں۔

ابلاغیات کے شعبے میں مہارت نے انہیں ایک مضبوط ثقافتی و خاندانی منتظم بنادیا تھا، مگر اُن کے بیشتر کام غیررسمی انداز میں اور پسِ پردہ ہوتے تھے۔

شہادت

زہرا حداد عادل اسفند ماہ ۱۴۰۴ ہجری شمسی (مارچ ۲۰۲۶ء) میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر وحشیانہ اور ہم آہنگ حملے کے دوران تہران میں شہید ہوئیں۔

اس "جنگِ رمضان" کے دوران ان کے ساتھ دیگر اہلِ خانہ بھی شہید ہوئے، جن میں مصباح الہدی باقری کنی (دامادِ رہبرِ شہیدِ انقلاب) اور ان کا ایک نواسہ بھی شامل تھا۔ ان کی شہادت ایران کے مذہبی اور سیاسی خاندانوں کے لیے ایک عظیم سانحہ تھی[1]۔

ردِ عمل

زہرا حداد عادل اور خاندانِ خامنہ ای کے دیگر افراد کی شہادت کی خبر نے ایرانی عوام، خصوصاً شہداء اور ایثارگروں کے خاندانوں میں غم و اندوہ کی لہر دوڑا دی۔

ان کے شوہر اور بچے شدید جنگی حالات کے باوجود ان کی یاد اور مشن کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے والد غلام علی حداد عادل نے اپنی شہیدہ بیٹی کی چہلم کے موقع پر ایک نظم لکھی جس کا عنوان تھا «زہرای من» (میری زہرا) ۔

«زهرای من»‌ ای نازنین که بی تو دلم غرق خون شده!باز آ، ببین که دل ز فراق تو، چون شده
مهتاب من! بتاب به شب‌های تار منره، بی حضور ماه تو، بی رهنمون شده
صبری که بود در دل من، کاستی گرفتدردی که بود، بی تو دمادم فزون شده
هر جا که چامه‌ای‌ست، سرود عزای توستهر جا که جامه‌ای، ز غمت نیلگون شده
اندوه، کوه کوه، شد انبوه در دلمشادی زِ در نیامده، از در برون شده
بگذار تا بگویم من بی تو کیستممرغی کز آسمان به زمین سرنگون شده
شمعی به یاد روی تو شب‌ها گریستهموجی ز پا فتاده، اسیر سکون شده
آزرده‌دل نشسته به کنجی غریب‌وارفرزانه‌ای که بی تو دچار جنون شده
زهرای من! شهید به‌خون‌خفتهٔ پدر!باز آ، ببین که بی تو دلم غرق خون شده ...

[2]۔

متعلقہ موضوعات

حوالہ جات

  1. درباره شهیده زهرا حداد عادل، همسر رهبر انقلاب/ متخصص رسانه اما به دور از حاشیه-شائع شدہ از:10 مارچ 2026ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 23 اپریل 2026ء
  2. سروده حدادعادل برای فرزند شهیدش- شائع شدہ از: 20مارچ 2026ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 23 اپریل 2026ء