مندرجات کا رخ کریں

"جمهوری اسلامی ایران کی فوج" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
(کوئی فرق نہیں)

نسخہ بمطابق 10:35، 5 مئی 2026ء

جمهوری اسلامی ایران کی فوج
پارٹی کا نامجمهوری اسلامی ایران کی فوج
بانی پارٹیامام خمینی
پارٹی رہنماامیر سرلشکر علی شهبازی، امیر سرلشکر محمد سلیمی، سرلشکر عطاء‌الله صالحی، امیر سرلشکر سید عبدالرحیم موسوی.
مقاصد و مبانی
  • مقدّس نظامِ اسلامی کی خودمختاری اور ارضی حدود کی حفاظت

جمهوری اسلامی ایران کی فوج (ارتش)؛ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی اور اسلامی جمہوریہ ایران کی پولیس فورس کے ساتھ مل کر اسلامی جمہوریہ کے مقدّس نظام کے فوجی ستونوں میں سے ایک کے طور پر شمار ہوتی ہے۔ یہ ادارہ سال ۱۳۵۸ ش میں امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے حکم سے تشکیل دیا گیا، اور ہر سال چہارشنبہ، ۲۹ فروردین کے دن ان کی جانب سے اس کی تشکیل کی مناسبت سے “روزِ ارتش” کا نام دیا گیا۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کے آرٹیکل ۱۴۳ کے مطابق، مقدّس نظامِ اسلامی کی خودمختاری اور ارضی حدود کی حفاظت کی ذمہ داری ارتش پر ہے۔ ارتش چار حصّوں پر مشتمل ہے: زمینی فوج، فضائیہ (نیروی ہوائی)، بحریہ (نیروی دریائی) اور فضائی دفاع (پدافندِ ہوائی)۔

سید عبدالرحیم موسوی نے امام خامنہ ای کے حکم سے ۳۰ مرداد ۱۳۹۶ ش سے، جمهوری اسلامی ایران کی کل فوج (ارتش) کی کمان سنبھالے۔

ضرورت اور اہمیت

اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کے آرٹیکل 143 کے مطابق، جمهوری اسلامی ایران کی فوج (ارتش) کی ذمہ داری اسلامی جمہوری نظام کی آزادی اور علاقائی سالمیت کی حفاظت کرنا ہے۔

اسی اصل کے مطابق، جمهوری اسلامی ایران کی فوج ایک اسلامی، مکتبی اور عوامی فوج ہے جسے ایسے افراد کو خدمت میں قبول کرنا چاہیے جو اہل اور شائستہ ہوں، اسلامی انقلاب کے مقاصد پر ایمان رکھتے ہوں اور ان کے تحقق کی راہ میں فداکاری کے لیے تیار ہوں[1]۔

تاریخ

اسلامی انقلاب ایران کی کامیابی کے بعد فوج کو تحلیل کرنے کا مسئلہ اٹھایا گیا جس کے باعث فوج کے اندر بدانتظامی پیدا ہوئی۔ اسی دوران مخالفِ انقلاب گروہوں نے عوام کو فوجی چھاؤنیوں پر حملوں کے لیے اکسایا اور ان کی جانب سے متعدد حملے بھی کیے گئے۔

ایسی صورتحال میں امام خمینی نے 16 اپریل 1979 کو ایک پیغام میں اعلان کیا:

روزِ بدھ 18 اپریل کو ارتش کا دن قرار دیا جاتا ہے۔ اس دن معزز فوج بڑے شہروں میں مکمل سازوسامان کے ساتھ پریڈ کرے اور اسلامی جمہوریہ کی حمایت، ملتِ عظیم ایران کے ساتھ اپنی وابستگی اور ملک کی آزادی اور سرحدوں کے تحفظ کے لیے اپنی آمادگی اور فداکاری کا اعلان کرے۔[2]۔

امام خمینی کے اس تاریخی حکم کے بعد 1998 تک چیف آف جوائنٹ اسٹاف فوج میں سب سے اعلیٰ فوجی منصب رکھتے تھے اور اس وقت کی تینوں افواج کے درمیان ہم آہنگی اسی مرکز کے ذریعے انجام پاتی تھی۔

پہلی بار 1998 میں سپریم کمانڈر حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے ارتش کے لیے مستقل کمان کی ضرورت کو ضروری قرار دیا۔ ارتش کے پہلے کمانڈر کی تقرری کے حکم میں، جو میجر جنرل شہبازی کے نام جاری کیا گیا، یوں کہا گیا:

جمهوری اسلامی ایران کی فوج نے چاہے دفاع مقدس کے زمانے میں ہو یا اس کے بعد کے برسوں میں، خدا کے فضل سے تجربات اور مختلف صلاحیتوں کا ایک عظیم ذخیرہ اپنے اندر جمع کیا ہے اور نمایاں صلاحیتوں کو ابھرنے کا موقع دیا ہے۔ اب ارتش کے تنظیمی اور عملی امور کو مزید آسان بنانے کے لیے، چاہے وہ تعمیر و مرمت کے منصوبوں، آلات کی دیکھ بھال، تحقیقی سرگرمیوں اور عمارتوں و ورکشاپوں کی تجدید سے متعلق ہوں، یا تربیت اور عسکری اقدامات کے میدان میں، اور نیز سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کامیاب تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، ضروری ہے کہ جمهوری اسلامی ایران کی فوج کے لیے ایک مستقل کمان قائم کی جائے۔ لہٰذا اس حکم کے ذریعے میں آپ کو، جو قابل قدر انتظامی اور انقلابی خدمات کے حامل ہیں اور فوج کے لیے بڑی خدمات انجام دے چکے ہیں، جمهوری اسلامی ایران کی فوج کا کمانڈر مقرر کرتا ہوں۔[3]

شعبه جات

جمهوری اسلامی ایران کی فوج چار بنیادی شعبوں پر مشتمل ہے: زمینی فوج، فضائیہ، بحریہ اور فضائی دفاع۔

زمینی فوج (نزاجا)

اسلامی انقلاب ایران کی کامیابی کے بعد ملک کے مختلف شعبوں میں، خصوصاً فوج میں، بنیادی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ فوج کے اندر موجود انقلابی عناصر، جن میں سے اکثر گزشتہ برسوں میں بھی فوج کے اندر انقلابی اور مذہبی افراد کی رہنمائی کرتے رہے تھے، ملک کی صورتحال اور سرحدی علاقوں میں پیدا ہونے والی بدامنی کے پیش نظر، اس وقت جب عراق کی حکومت نے ایران پر حملہ شروع کیا اور فوجی دستے مطلوبہ نظم و ہم آہنگی سے محروم تھے، دشمن کے مقابلے کے لیے آگے بڑھے۔

جمهوری اسلامی ایران کی زمینی فوج نے آٹھ سالہ ایران۔عراق جنگ کے دوران دشمن افواج کے خلاف 45 بڑے اور مؤثر فوجی آپریشن انجام دیے۔ ان میں سے اکثر کے نتیجے میں ملک کے قبضہ شدہ علاقوں کا بڑا حصہ آزاد ہوا اور عراق کی جنگی مشین کو شدید اور ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔

ان فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ اس فورس کے خودکفالت جہاد کے مخلص اور فداکار کارکنان نے دیگر جنگی دستوں کے ساتھ مل کر نہ صرف جنگی سازوسامان کی مرمت اور بحالی کا کام انجام دیا بلکہ ضروری پرزوں کی تیاری کے ذریعے مسلح افواج کو نہایت اہم خدمات فراہم کیں۔

تعلیمی اور تربیتی میدان میں بھی متعدد اقدامات کیے گئے تاکہ زمینی فوج کو ایک منظم اور جدید علمی بنیادوں پر استوار قوت میں تبدیل کیا جا سکے۔

ایران۔عراق جنگ کے خاتمے کے تقریباً 25 سال بعد، جمهوری اسلامی ایران کی زمینی فوج نے جنگ میں استعمال ہونے والے آلات اور وسائل کی تعمیر و مرمت کے مرحلے سے گزر کر ماہرین اور انجینئروں کی مدد سے مختلف قسم کے فوجی ہتھیار اور سازوسامان ڈیزائن اور تیار کرنے میں کامیابی حاصل کی اور خودکفالت کے مرحلے تک پہنچ گئی۔

افرادی قوت کے لحاظ سے بھی، متعہد، مؤمن اور تعلیم یافتہ افراد کے انتخاب اور بھرتی کے ذریعے ملک اور اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کے دفاع کے لیے تیار دستے تربیت کیے گئے ہیں[4]۔

فضائیہ (نہاجا)

1979 میں پہلوی حکومت کے زوال کی علامات ظاہر ہونے لگیں تو اس زمانے میں فضائیہ کے اندر پیدا ہونے والی دراڑوں اور اندرونی بے چینی کی وجہ سے یہ فورس دیگر فوجی شعبوں کے مقابلے میں جلد ہی پہلوی حکومت سے الگ ہو کر انقلاب کی تحریک سے جا ملی۔ خصوصاً اس فورس کے ہمافران نے فضائیہ کے افراد کو انقلاب کی طرف مائل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ابتدا میں فضائیہ کی قیادت کی سطح پر بعض جلد بازی میں کی جانے والی تقرریوں کے باعث احتجاج اور ہڑتالوں کی لہر پیدا ہوئی، تاہم جب عراق کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع ہوئی تو حالات میں نسبتی استحکام پیدا ہوگیا۔

جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی سب سے اہم مسئلہ دشمن کے حملوں کا جواب دینا اور عراقی طیاروں کی ایران کی فضائی حدود میں مزید پروازوں کو روکنا تھا۔

جنگ کے پہلے ہی دن فضائیہ کے بہادر کمانڈروں، جیسے شہید محمد جواد فکوری، کی کوششوں سے ایران کی فضائیہ نے تقریباً 200 طیارے پرواز کے لیے تیار کیے اور ان میں سے 140 طیاروں کو عراق کی حدود میں داخل کر کے دشمن کی جارحیت کا مؤثر جواب دیا اور انہیں ایران کی فضائی حدود میں مزید حملوں سے روکنے میں کامیابی حاصل کی۔

اسی دوران پروازی عملے کی تیاری، طیاروں کی مرمت اور دیکھ بھال اور اسپیئر پارٹس کی فراہمی بھی اہم مسائل میں شامل تھے، جبکہ عراق کو بڑی طاقتوں کی حمایت اور ایران کے خلاف پابندیاں بھی دو بڑے چیلنج تھے۔

مغربی محققین نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ انقلاب کے بعد ایران کی فضائیہ نے اسپیئر پارٹس کی کمی کے باعث زمین پر کھڑے بہت سے طیاروں کو انہی قسم کے دیگر طیاروں کے پرزوں کے استعمال سے دوبارہ فعال بنانے میں کامیابی حاصل کی۔

انقلاب سے پہلے ایران کی فضائیہ کے پاس 450 سے زیادہ جدید جنگی طیارے موجود تھے، جن میں اس زمانے کے جدید ترین لڑاکا طیارے F-14 ٹام کیٹ بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ تقریباً پانچ ہزار تربیت یافتہ پائلٹ بھی موجود تھے۔ 1979 میں زمینی اور بحری افواج کے مقابلے میں یہ فورس زیادہ ترقی یافتہ تھی اور تیسری دنیا کی فضائی افواج میں اس کی مثال کم ملتی تھی۔ اس کے علاوہ تقریباً 76 ہیلی کاپٹر اور زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کے 15 اسکواڈرن بھی اس کی طاقت کا حصہ تھے۔ ان جنگی طیاروں میں 166 طیارے F-5، 190 فینٹم اور 77 ٹام کیٹ شامل تھے۔

جنگ کے دوران فضائیہ کے اہداف

جمهوری اسلامی ایران کی فضائیہ نے اپنے ماہر اور تجربہ کار سپاہیوں، خصوصاً پائلٹوں اور دیگر اہلکاروں کی مدد سے جنگ کے ابتدائی لمحات ہی سے متعدد آپریشنوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل کرتے ہوئے یہ کوشش کی کہ عراقی طیاروں کو زمین پر محدود کر کے فضائی برتری حاصل کی جائے، تاکہ درج ذیل مقاصد حاصل کیے جا سکیں:

  • زمینی دستوں کی تنظیمِ نو اور ابتدائی دفاعی منصوبہ بندی کے لیے وقت فراہم کرنا۔
  • عقبی محاذ سے زمینی افواج کو جنگی علاقوں تک منتقل کرنا۔
  • دشمن کی جنگی طاقت کو کمزور کرنا اور اس کی فضائی حمایت کو محدود کرنا۔
  • حساس اور اہم قومی مراکز پر ممکنہ فضائی حملوں کی دشمن کی صلاحیت کو کم کرنا۔

ان اہداف کے حصول کے لیے فضائیہ نے فضائی برتری حاصل کرتے ہوئے آپریشنل پہل اپنے ہاتھ میں لی اور اپنے لڑاکا بمبار طیاروں کے حملوں کو دشمن کے بکتر بند اور پیادہ دستوں، میکانائزڈ یونٹوں، توپ خانے، تاکتیکی ہیڈکوارٹرز، رسد کے مراکز، فوجی قافلوں اور مواصلاتی راستوں پر مرکوز کر دیا۔

اس کے نتیجے میں عراق کی فوج، جو اس تعطل سے نکلنے کے لیے کوئی راستہ تلاش کر رہی تھی، شہروں پر حملوں اور رہائشی علاقوں کو اسکاد میزائلوں سے نشانہ بنانے کی طرف مائل ہو گئی۔

فوجی آپریشنوں میں فضائیہ کا کردار

ایران۔عراق جنگ کے دوران فضائیہ کی ایک اہم ذمہ داری بحری آپریشنوں میں بھی نمایاں رہی۔ خاص طور پر 28 نومبر 1980ء کو بحریہ کے ساتھ مشترکہ کارروائی کے دوران عراق کے سات لڑاکا طیارے، سات میزائل بردار گشتی کشتیاں اور ایک ہزار ٹن وزنی فوجی جہاز تباہ کر کے خلیج فارس میں غرق کر دیے گئے، جو دفاع مقدس کی تاریخ میں ایک اہم کامیابی کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

بعد کے مراحل میں فضائیہ نے محاصرہ آبادان توڑنے کے آپریشن میں لڑاکا طیاروں کے استعمال، فضائی تصویربرداری اور جنگی علاقوں کی تاکتیکی نگرانی کے ذریعے دشمن کی قوت، نقل و حرکت اور تعیناتیوں کے بارے میں جامع معلومات فراہم کیں۔ یہ معلومات کمانڈروں کو فراہم کی گئیں اور اکتوبر 1981ء میں یہ آپریشن مکمل کامیابی کے ساتھ انجام پایا۔

آپریشن طریق القدس، جو بستان کی آزادی اور چزابه کے درّے کے تحفظ کے لیے انجام دیا گیا، میں فضائیہ کے پائلٹوں نے روزانہ درجنوں پروازیں کر کے دشمن کی اگلی صفوں کو نشانہ بنایا۔ اس کے بعد انہوں نے معلوماتی نگرانی، فضائی آتش کی منصوبہ بندی، مواصلاتی راستوں کی بندش، دشمن کے دستوں کو الگ کرنا، زمینی افواج کو قریبی فضائی مدد فراہم کرنا اور دشمن کے اجتماع کے مراکز کو تباہ کرنے جیسی ذمہ داریاں انجام دیں۔ اسی کے ساتھ انہوں نے عملیاتی علاقوں کے عقب میں فضائی دفاع اور مختلف بلندیوں پر فضائی تحفظ بھی فراہم کیا۔

آپریشن فتح المبین میں بھی فضائیہ نے فضائی دفاع کی ذمہ داری سنبھالی۔ اس دوران عراق کے قبضے میں موجود میزائل سائٹس نمبر 4 اور 5 اور دہلاوان ریڈار اسٹیشن آزاد کرائے گئے اور ایران کی فضائیہ نے عراقی فضائیہ کے 27 طیارے مار گرائے۔

اس کے بعد آپریشن بیت المقدس میں، جب عراق کی زمینی افواج کی نئی تعیناتی اور طاقت کے باعث ایران کو زیادہ وسیع فضائی حملوں اور دفاعی اقدامات کی ضرورت محسوس ہوئی، ایران کی فضائیہ نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کر کے عراقی منصوبوں کو ناکام بنا دیا۔ ایرانی پائلٹوں کی قریبی فضائی حمایت کے نتیجے میں خرمشہر آزاد ہو گیا۔

مجموعی طور پر جمهوری اسلامی ایران کی فضائیہ نے ایران۔عراق جنگ کے دوران اپنے سپاہیوں کی بہادری، استقامت اور قربانیوں کے ذریعے وطن اور دین اسلام کے دفاع میں نمایاں خدمات انجام دیں اور متعدد شہداء، زخمیوں اور اسیران کی قربانی پیش کی۔

فوجی تنظیم کو تمام مطلوبہ میدانوں میں آگے بڑھانا، مؤمن اور انقلابی افراد سے استفادہ کرنا، نوجوان صلاحیتوں کو موقع فراہم کرنا اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ساتھ تمام شعبوں میں مخلصانہ تعاون کرنا آپ کی پہلی ذمہ داری ہے۔[5]

بحریہ (نداجا)

22 بہمن 1357 ش (11 فروری 1979) کو انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد بحریہ میں ایک عظیم تبدیلی آئی۔ تعلیمی خودکفالت کی پالیسی کے تحت بیرونِ ملک طلبہ کی اجتماعی اعزامی اسکیم کو روک دیا گیا اور امام خمینی یونیورسٹی آف میری ٹائم سائنسز قائم کی گئی، جس میں چار فیکلٹیاں شامل تھیں: جہاز رانی اور کمانڈ، الیکٹریکل انجینئرنگ و الیکٹرانکس اور بحری مواصلات، میرین مکینیکل انجینئرنگ، اور میرین مینجمنٹ و کمسری۔

خصوصی تربیتی مراکز کو انزلی اور رشت میں بھی وسعت دی گئی اور بحریہ کے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کی بنیاد رکھی گئی۔

جنگ تحمیلی کے آغاز کے ساتھ ہی اسلامی جمہوریہ ایران کی بحریہ عراقی افواج کے حملے سے ہرگز غافل نہیں ہوئی، بلکہ 7 آذر 1359 ش (28 نومبر 1980ء) کو ایک بڑے بحری آپریشن کے ذریعے عراق کے جنگی جہازوں کو نشانہ بنایا، البکر اور الامیہ کے تیل پلیٹ فارم تباہ کیے، بصرہ، فاو اور ام‌القصر کی بندرگاہوں کا مکمل بحری محاصرہ کیا اور جنگ کے اختتام تک دشمن کے طیاروں اور ہیلی کاپٹروں سے سمندر میں مسلسل برسرِپیکار رہی۔

آٹھ سالہ جنگ تحمیلی کے دوران بحریہ نے دس ہزار تجارتی جہازوں کو ایرانی بندرگاہوں تک اسکارٹ کیا، جن میں سے صرف چند سو دشمن کے میزائل حملوں کا نشانہ بنے، جو بحری جنگوں میں ایک نہایت درخشاں کارکردگی سمجھی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خلیج فارس، بحیرۂ عمان اور شمالی بحرِ ہند کی سمندری مواصلاتی لائنوں کی سلامتی کو مسلسل برقرار رکھا گیا۔

29 فروردین 1367 ش (18 اپریل 1988) کو جمهوری اسلامی ایران کی بحریہ نے خلیج فارس میں امریکا کی بحری اور فضائی افواج کے ساتھ ایک غیر مساوی معرکے میں شرکت کی۔ اگرچہ اس معرکے میں ناوشکن سہند اور ناوچہ جوشن غرق ہوئے، لیکن امریکی بحریہ کو بھی نمایاں نقصانات اٹھانے پڑے، جن میں ناوشکن سیموئل بی رابرٹس کا بارودی سرنگ سے متاثر ہونا، ایک لاجسٹک جہاز کا غرق ہونا اور ایک امریکی ہیلی کاپٹر کا مار گرایا جانا شامل تھا، جو علاقائی جنگوں میں کم نظیر واقعات میں شمار ہوتے ہیں[6]۔

فضائی دفاع

انقلاب اسلامی کی شاندار کامیابی کے بعد فضائی دفاعی علاقوں کی کمانڈ کو مرکزی فضائی دفاعی تنظیم سے حذف کر دیا گیا اور فضائی دفاعی گروپس کو بڑی تعداد میں براہِ راست فضائی دفاعی کمانڈ کے تابع کر دیا گیا۔ اس دور میں ملک بھر کے بلند مقامات پر مختلف اور متعدد ریڈار نصب کیے گئے، جس سے پورے ملک کو نسبتاً مکمل ریڈاری کوریج فراہم ہوئی۔ علاوہ ازیں، قابلِ ذکر تعداد میں متحرک ریڈار بھی ’’ٹیکٹیکل ریڈار گروپ‘‘ کے تحت منظم کیے گئے تاکہ ممکنہ محاذوں پر تعینات کیے جا سکیں۔

فضائی ریڈار طیاروں (آواکس) کے استعمال اور جدید کمپیوٹرائزڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورک کی تشکیل کا عمل روک دیا گیا، اور فضائی دفاعی کمانڈ آخری منظور شدہ تنظیمی ڈھانچے کے ساتھ جنگ میں داخل ہوئی۔ جنگ کے دوران متعدد نئے یونٹس عملیاتی کیے گئے۔

جنگ کے دوران اور اس کے بعد، آٹھ سالہ دفاع مقدس کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورک کی تشکیل، آبزرویشن بٹالینز اور کندھے سے فائر ہونے والے میزائل یونٹس کی تنظیم، نئے ریڈاری، میزائل اور توپخانہ سسٹمز کا اضافہ اور مختلف بلندیوں پر ملک گیر ریڈاری کوریج کی تکمیل جیسے اقدامات انجام دیے گئے۔

فضائی دفاعی نظام ’’اس-200‘‘، ’’ایف ایم-80‘‘ وغیرہ کو 1370 تا 1390 ش (تقریباً 1991 تا 2011) کی دہائیوں میں مرحلہ وار اسلامی جمہوریہ ایران کے فضائی دفاعی ڈھانچے میں شامل کیا گیا۔

تعلیمی میدان میں بھی ماہر اور تعلیم یافتہ افرادی قوت کی فراہمی کے لیے فضائیہ اور فضائی دفاع کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک فضائی یونیورسٹی کے قیام کا منصوبہ تیار کیا گیا۔ یہ منصوبہ سپریم کمانڈر اور سپریم کونسل آف کلچرل ریولوشن کی منظوری اور شہید ستاری کی کاوشوں کے بعد 15 آبان 1367 ش (6 نومبر 1988ء) کو اُس وقت کے صدر مملکت کی جانب سے باضابطہ افتتاح کیا گیا۔ اس یونیورسٹی کا فیکلٹی آف ایئر کمانڈ اینڈ کنٹرول انجینئرنگ فضائی دفاع کی ضروریات کے مطابق مختلف شعبوں، جیسے فائٹر کنٹرول، میزائل آپریشنز اور آپریشنل انٹیلی جنس میں طلبہ کو تعلیم و تربیت فراہم کرتا ہے۔

1990ء کی دہائی کے اواخر میں جنگی حکمت عملی میں تبدیلی اور فضائی معرکوں کی بڑھتی ہوئی اہمیت نیز اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف خطرات میں اضافے کے پیش نظر، فضائی دفاع کو ترجیحی حیثیت دی گئی۔ سپریم کمانڈر کی ہدایات کے مطابق 10 شهریور 1387 ش (31 اگست 2008) کو ملک کی فضائی حدود کے دفاع کے لیے تمام مسلح افواج کی فضائی دفاعی صلاحیتوں سے استفادہ کرتے ہوئے ایک نئی ساخت کے ساتھ فضائی دفاعی قرارگاہ کو منظم اور مضبوط بنایا گیا۔ بعد ازاں یہ دن یومِ فضائی دفاع کے طور پر منایا جانے لگا۔

اس سے قبل 1371 ش (1992ء) میں سپریم کمانڈر کی ہدایات کے تحت قرارگاہ پدافند ہوایی خاتم الانبیاء (ص) کو ارتش اور سپاہ کی فضائی دفاعی سرگرمیوں میں ہم آہنگی کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ نئی تنظیمی ساخت میں، فضائیہ کے فضائی دفاعی یونٹس کو مکمل طور پر اس قرارگاہ کے حوالے کر کے ان پر مکمل کمانڈ قائم کی گئی، اور انٹیلی جنس و ریکانیسنس، ریڈار، میزائل، توپخانہ، آبزرویشن اور سپورٹ سسٹمز کو ایئر ڈیفنس کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم (ADOC - SOC - CRC - CP) کے ذریعے مربوط کیا گیا۔ ملک کے تمام فضائی دفاعی ہتھیار اور یونٹس بدستور اسی قرارگاہ کے عملیاتی احکامات کے تحت کام کرتے ہیں[7]۔

کمانڈرز

1377 ش (1998) سے قبل اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج چیف آف جوائنٹ اسٹاف کے زیر نگرانی تھی، جن کے نام درج ذیل ہیں:

  • شہید سپہبد ولی‌الله قرنی
  • شہید سرلشکر ولی‌الله فلاحی
  • سرلشکر محمدهادی شادمهر
  • سرلشکر ناصر فربد
  • سرلشکر محمدحسین شاکر
  • سرلشکر قاسمعلی ظهیرنژاد
  • سرتیپ اسماعیل سهرابی
  • سرلشکر علی شهبازی

مہر 1377 ش (اکتوبر 1998) سے سپریم کمانڈر آیت‌الله خامنه‌ای نے فوج کے لیے علیحدہ کمانڈر انچیف کے منصب کو ضروری قرار دیا۔ اس کے بعد سے اب تک کے کمانڈرز یہ ہیں[8]:

  • امیر سرلشکر علی شهبازی: 8 مہر 1377 ش (30 ستمبر 1998) تا 1 خرداد 1379 ش (21 مئی 2000)
  • امیر سرلشکر محمد سلیمی: 1379 ش تا 1384 ش (2000 تا 2005)
  • سرلشکر عطاء‌الله صالحی: 1384 ش تا 1396 ش (2005 تا 2017)
  • سرلشکر سید عبدالرحیم موسوی: 30 مرداد 1396 ش (21 اگست 2017)

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

مآخذ