حماس اور صہیونی حکومت کے درمیان جنگ بندی معاہدے

    ویکی‌وحدت سے
    آتش20.jpg

    حماس اور صہیونی حکومت کے درمیان جنگ بندی معاہدے صہیونی میڈیا کے مطابق غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے تحت صہیونی یرغمالیوں کے بدلے میں 1000 فلسطینی آزاد ہوں گے جبکہ روزانہ 600 ٹرک امدادی سامان غزہ بھیجا جائے گا۔

    غزہ میں جنگ بندی کے روشن امکانات

    غزہ جنگ بندی ڈیل کے لیے کی جانے والی کوششیں حتمی مراحل میں داخل ہوچکی ہیں۔ دوحہ میں جاری غزہ جنگ بندی معاہدے کے مندرجات سامنے آگئے ہیں جن کا باضابطہ اعلان رواں ہفتے کے اختتام پر کیا جائے گا۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں جارحانہ کارروائیاں جاری رکھیں، حکام کے مطابق خواتین اور بچوں سمیت مزید 61 فلسطینیوں کو شہید کردیا گیا۔

    بلاشبہ غزہ میں جنگ بندی کے امکانات واضح ہوتے جا رہے ہیں، اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں جنگ بندی اور اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کی شرائط کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ یہ خبر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر جوبائیڈن رخصت ہونے والے ہیں اور ڈونلڈ ٹرمپ حلف اٹھانے والے ہیں۔ ٹرمپ نے پہلے خبردار کیا تھا کہ اگر 20 جنوری کو اقتدار سنبھالنے سے پہلے یرغمالیوں کو رہا نہ کیا گیا تو ’’سب کچھ تباہ ہو جائے گا۔‘‘ تازہ ترین پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے

    جب نیتن یاہو کو ممکنہ معاہدے کے حوالے سے اپنے حکمران اتحاد کے اندر سے شدید مخالفت کا سامنا ہے۔ نیتن یاہو کی اپنی لیکوڈ پارٹی کے کچھ ارکان کے علاوہ دائیں بازو کے دس ارکان نے انھیں جنگ بندی کی مخالفت کرتے ہوئے ایک خط بھیجا ہے۔

    دنیا کا ایک ایسا نقشہ پیش کیا تھا، جس میں فلسطین کا کوئی وجود نہیں دکھایا گیا

    یہ بات قابل ذکر ہے کہ حالیہ دنوں میں اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے دنیا کا ایک ایسا نقشہ پیش کیا تھا، جس میں فلسطین کا کوئی وجود نہیں دکھایا گیا، اس میں ان کے ارادے کو ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم اس وقت دنیا میں تقریبا 16ملین یہودی آباد ہیں اور تقریبا 9 سے 10 ملین یہودی امریکا اور کینیڈا میں رہائش پذیر ہیں جن کی امریکی پارلیمنٹ میں قابل ذکر تعداد اور نمایندگی ہے، لہٰذا اسرائیلی یہودی آسانی سے امریکا میں مستقل طور پر آباد ہوسکتے ہیں۔ مظلوم فلسطینیوں کو ان کے حقوق دیے جانے چاہئیں، جن میں روشن مستقبل بھی شامل ہے جو دہائیوں سے ظلم و جبر سہہ رہے ہیں۔

    ہولو کاسٹ میں سے بچ جانے والے اسرائیلی آباد کار، پناہ گزین کی حیثیت سے فلسطین میں آکر آباد ہوئے تھے ، لیکن انھوں نے مغربی طاقتوں کی پشت پناہی میں فلسطین پر قبضہ کر لیا۔ حقائق کے برعکس اسرائیلی قبضے کو تاریخی، علاقائی، مذہبی اور سیاسی نقطہ نظر سے غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے زمین، سرحدوں، بستیوں، سلامتی، پناہ گزینوں اور مختلف قومی بیانیوں کے بارے میں تمام اعلانیہ تنازعات جھوٹے من گھڑت اور بلاجواز ہیں۔

    حالیہ دنوں اقوام متحدہ نے فلسطین میں جاری اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انسانی بحرانوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے انسانی امداد مہیا کرنے کے لیے جنگ میں تھوڑا سا وقفہ کرنے کے لیے سیکیورٹی کونسل میں ایک قرارداد پیش کی تھی تا کہ انسانی امداد متاثرین کو پہنچ سکے جسے بدقسمتی سے صرف امریکا نے ویٹو کردیا تھا۔ سیکیورٹی کونسل 15 اراکین پر مشتمل ہے جس میں پانچ مستقل اراکین میں امریکا، روس اور چین شامل ہیں جب کہ 10 اراکین ہر دو سال کے لیے منتخب کیے جاتے ہیں المیہ یہ بھی ہے پانچ مستقل اراکین میں سے کوئی بھی کسی قرارداد کو ویٹو کر دے یعنی ووٹ خلاف ڈال دے تو وہ منظور نہیں کی جا سکتی۔

    اس وقت اسرائیل غزہ میں ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے۔ اسرائیل کا مسلسل اسپتالوں پر حملے کرنا جنگی جرم اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ دراصل اپنی ناکامیاں چھپانے کے لیے اسرائیل طبی مراکز کو نشانہ بنا رہا ہے، غزہ کے کسی بھی اسپتال کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا گیا۔ فلسطینی علاقوں میں حقوق کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی خصوصی نمایندہ فرانسسکا البانی نے انکشاف کرچکی ہیں کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث ہے۔ انھوں نے اپنی ایک رپورٹ ’’ نسل کشی کی اٹانومی‘‘ میں کہا کہ اس بات کے معقول شواہد موجود ہیں کہ اسرائیل نے غزہ میں نسل کشی کی متعدد کارروائیاں کی ہیں۔

    اس بات کے واضح اشارے ملے ہیں کہ اسرائیل نے نسل کشی کے بین الاقوامی کنونشن کے تحت درج پانچ میں سے تین کی خلاف ورزی کی ہے۔ اسرائیلی فوج غزہ میں مختلف گروپ کے ارکان کو قتل کرنے اور انھیں شدید جسمانی یا ذہنی اذیت پہنچانے میں ملوث رہی ہے۔ سلامتی کونسل کی جنگ بندی کی قرارداد منظور ہونے کے باوجود اسرائیل بلا ناغہ بے گناہ پریشان حال غزہ کے فلسطینیوں کا قتل عام کر رہا ہے۔

    یہ قتل عام کیسے رکے گا؟

    اب ایک اہم سوال یہ ہے کہ یہ قتل عام کیسے رکے گا؟ اگر امریکا اور مغربی ممالک، جو اسرائیلی جارحیت میں مددگار بنتے ہیں، دل سے چاہیں تو اسرائیل جنگ بندی کے لیے مجبور ہوجائے گا، کیونکہ اسرائیلی حکام نے اس بات کا اعتراف کر لیا ہے کہ وہ غزہ میں حماس کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے مقصد میں ناکام رہے ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہوسکتی کہ تمام مغربی ممالک اوریہاں تک کہ اسرائیل میں بھی صیہونی جارحیت کے خلاف عوام سڑکوں پر آگئے ہیں لیکن چند ممالک کو چھوڑ کر ان سبھی ممالک کے حکام کا ضمیر مرچکا ہے۔

    ان صہیونیوں کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت میں جنگی جرائم اور فلسطینی مسلمانوں کی نسل کشی کے ارتکاب پر فوری بنیادوں پر مقدمہ چلایا جائے اور ان کے مطابق انھیں سزا دی جائے۔ مزید برآں انھیں فلسطین پر غیر قانونی، قبضے کو فوری طور پر ختم کرنا ہوگا۔ اسرائیل میں بسنے والے فلسطینی افراد، خاص طور پر اسرائیل کے عرب شہری، جو اسرائیل کے تقریبا 23 فیصد آبادی پر مشتمل ہیں، برسوں سے مختلف قسم کے امتیازی سلوک کا سامنا کر رہے ہیں۔

    اس میں کوئی شک نہیں کہ فلسطین مسلمانوں کی سرزمین ہے چاہے فلسطینی علاقوں میں حکومت کی موجودہ تقسیم دو الگ الگ سیاسی پارٹیوں یا گروہوں جیسے غزہ کی پٹی میں حماس اور مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی (پی اے) کی طرف سے کی جائے۔ یہ کچھ معمولی اندرونی تاریخی، سیاسی اور نظریاتی عوامل کا نتیجہ ہے جنھیں امریکا، اسرائیل اور مغرب کی جانب سے غلط انداز میں پیش کیا جاتا ہے تا کہ دنیا کے سامنے فلسطینی مسلمانوں کے فلسطین پر حق کے دعوے کو کمزور کیا جا سکے۔

    غزہ کی پٹی 2007 سے حماس کے زیر کنٹرول ہے۔ مغربی کنارے پر صدر محمود عباس کی سربراہی میں فلسطینی اتھارٹی (پی اے) کا کنٹرول ہے۔ پی اے اوسلو معاہدے کے حصے کے طور پر قائم کیا گیا تھا اور اس میں حق حکمرانی محدود ہے۔دوسری جانب غزہ میں فلسطینیوں کی بڑی تعداد میں اموات اور تباہی اسرائیلی فوجیوں کو نفسیاتی طور پر متاثر کر رہی ہے، حال ہی میں درجنوں اسرائیلی فوجیوں نے غزہ میں لڑنے سے انکار کردیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق تقریباً 200 فوجیوں نے ایک خط پر دستخط کیے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ اگر حکومت جنگ بندی کو یقینی نہیں بناتی تو وہ لڑائی بند کردیں گے۔

    اسرائیلی فوجیوں نے 15 ماہ سے جاری غزہ جنگ کے دوران مختلف کارروائیوں کو غیر اخلاقی قرار دیا ہے جب کہ کچھ نے بیگناہ فلسطینیوں کی اموات اور گھروں کی تباہی کی گواہی دی ہے۔ اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج میں خود کشیوں کے واقعات اور ذہنی دباؤ کی شکایات میں بھی اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ مسئلہ فلسطین کا مستقل حل نکالا جائے کیونکہ اسرائیل نے نسل کشی کے گھناؤنے اقدامات کے بعد فلسطینیوں کے لیے کوئی راستہ نہیں چھوڑا۔

    موجودہ صورتحال میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو روکنا ساری دنیا کی مشترکہ ذمے داری ہے کیونکہ اسرائیل سنگین جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے۔ عام شہریوں، آبادیوں، اسپتالوں، صحافیوں کو نشانہ بنانا کھلم کھلا اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن کے ضابطوں کی خلاف ورزی ہے، اگر اسرائیل کی دہشت گردی کو نہ روکا گیا تو فلسطین کے بعد اردگرد کے دوسرے ممالک بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔

    غزہ میں متوقع عارضی جنگ بندی کو مستقل جنگ بندی کا پیش خیمہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ضروری ہے کہ اسرائیل کی اس بر بریت کے خاتمے کے لیے عالمی طاقتیں اور اقوام متحدہ اپنا کردار ادا کرے ۔ جب تک عالمی طاقتیں مستقل جنگ بندی کے لیے کوششیں نہیں کرتیں، غزہ میں مظالم نہیں رک سکتے اور صہیونی طاقتیں اپنے منصوبے جاری رکھیں گی۔

    دنیا کی بڑی اور اثر و رسوخ رکھنے والی حکومتوں کا اس وقت اسرائیل پر دباؤ ڈالنا انتہائی ضروری ہے کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کرے اور وہاں موجود شہریوں کے لیے آنے والی بیرونی امداد کا راستہ نہ روکے، اگر فلسطینیوں کی جاری نسل کشی نہ روکی جا سکی تو یہ انسانیت کی ناکامی ہوگی۔ عالمی انصاف، پرامن بقائے باہمی اور ہم آہنگی ناگزیر ہے، اس کے ساتھ ہی اقوام متحدہ کی مکمل از سر تنظیم نو کی ضرورت ہے کیونکہ لامحدود طاقتوں کا ارتکاز کچھ ہاتھوں میں ہے[1]۔

    غزہ میں مسلسل پندرہ ماہ کی نسل کشی کے بعد جنگ بندی معاہدےکا باضابطہ اعلان

    مرکز اطلاعات فلسطین، غزہ کی پٹی پر مسلسل پندرہ ماہ سے جاری نسل کشی اور اسرائیلی ننگی جارحیت کے بعد بالآخر فلسطینیوں اور قابض ریاست کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا ہے۔ قطری وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے بدھ کی شام اعلان کیا کہ غزہ کی پٹی میں فلسطینی مزاحمتی دھڑوں اور "قابض اسرائیل” کے درمیان 15 ماہ کی جنگ کے بعد جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔

    ان پندرہ ماہ میں قابض صہیونی فوج نے نہتے فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کی کارروائیوں کا ارتکاب کیا اور ہزاروں افراد اور زخمی کردیا گیا۔ قطری وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات میں شامل فریقین نے مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے بھرپور کوششیں کیں، اس معاہدے کے حصول میں اہم کردار ادا کرنے پر قطر کے شراکت داروں مصر اور امریکہ کا شکریہ ادا کیا۔

    انہوں نے وضاحت کی کہ معاہدے کے ایگزیکٹو پہلوؤں کو مکمل کرنے کے لیے آج رات کام جاری رہے گا۔ اگلے اتوار سے اس پر عمل درآمد شروع کیا جائے گا۔ فریقین کے درمیان جنگ بندی کی ثالثی کرنے والے تینوں ممالک معاہدے کی شرائط اور اس کے مکمل نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے مل کر کام کریں گے۔ جنگ بندی کے اعلان کے فوراً بعد غزہ کی پٹی خوشی کی لہر دوڑ گئی اور ہر طرف "اللہ اکبر" کے نعروں سے فضا گونج اٹھی۔ عوام نے مزاحمت اور اس کے افسانوی ثابت قدمی کی تعریف کی جس نے قابض دشمن کو معاہدے پر دستخط کرنے پر مجبور کیا۔

    غزہ کے لوگ اپنی زبردست خوشی کا اظہار کرنے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے، جس سے جنگ کے خاتمے، قبضے کو واپس لینے، غزہ کی پٹی کی تعمیر نو شروع کرنے، امداد کے داخلے کے لیے گزرگاہوں کو کھولنے، اور زخمیوں کو بیرون جانے کی اجازت دینے کی راہ ہموار ہوگی۔

    غزہ کی گلیوں میں جشن منانے والوں نے فلسطینی عوام کے شہداء کے خون پر اور ان مزاحمتی قائدین پر فخر کا اظہار کیا جنہوں نے طوفان الاقصیٰ کے معرکے کے دوران اپنی جانیں قربان کیں۔ عوام نے شہید رہنما یحییٰ السنوار، شہید رہنما اسماعیل ہنیہ، شہید رہنما صالح العاروری اور قائدین کے قافلے، جو سفاک قابض دشمن کے مقابلے میں ثابت قدمی، قربانی اور جنگ کی قیادت کی علامت تھے۔

    معاہدے تک پہنچنے کی تفصیلات

    اسرائیلی میڈیا نے بتایا کہ قابض اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کی تکمیل سے آگاہ کیا گیا جب کہ کئی فریقوں نے امید ظاہر کی کہ یہ جلد مکمل ہو جائے گا۔ چینل 12 اسرائیل نے ایک اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ مذاکرات میں ایک پیش رفت ہوئی ہے اور اسرائیل جلد ہی ڈیل کے معاہدے کو مکمل کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جبکہ چینل 13 اسرائیل نے اطلاع دی ہے کہ نیتن یاہو آج شام موجود اسرائیلی مذاکراتی وفد کے ارکان سے مشاورت کریں گے۔ معاریو اخبار نے ایک ذریعہ کے حوالے سے کہا کہ معاہدہ پر دستخط ہونے جا رہے ہیں۔

    ایکسیس نے ایک اسرائیلی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ غزہ کی پٹی میں زیر حراست افراد کے حوالے سے ایک معاہدے تک پہنچنے کے لیے دوحہ مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے، اور یہ کہ تازہ ترین وقت میں ان کے حوالے سے کل کسی معاہدے تک پہنچنے کے امکان کے بارے میں پر امید ہیں۔ مذاکرات قطری دارالحکومت دوحہ میں جاری ہیں جہاں وال سٹریٹ جرنل نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ مذاکرات کاروں نے غزہ پر کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش میں دوحہ میں اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دیں۔

    این بی سی نے باخبر حکام کے حوالے سے بتایا کہ غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ تکمیل کے قریب ہے۔ اسی تناظر میں دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے قریبی دو فلسطینی ذرائع نے بتایا کہ حماس اور اسلامی جہاد نے جنگ بندی کے معاہدے اور قیدیوں اور یرغمالیوں کے تبادلے کے معاہدے پر اتفاق کیا ہے۔

    ایک ذریعے نے اے ایف پی کو تصدیق کی ہے کہ "حماس اور اسلامی جہاد نے ثالثوں کو جنگ بندی کے معاہدے اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے حتمی مسودے کی منظوری سے آگاہ کیا ہے،” جب کہ ایک اور ذریعے نے بتایا کہ "حماس نے اسرائیل کو مثبت جواب دیا۔ اسرائیلی نشریاتی ادارے نے کہا کہ آج رات سیکورٹی اور سیاسی امور کی کابینہ کا اجلاس ہو سکتا ہے اور وزراء نے اپنے پروگراموں میں ردوبدل کر دیا ہے۔

    چینل 12 کے مطابق معاہدے میں پہلے دن 3، ساتویں دن 4 اور 14 ویں دن 3 قیدیوں کی رہائی کی شرط رکھی گئی ہے۔ معاہدے میں 28 ویں دن 3 اور 35 ویں دن 3 قیدیوں کی رہائی بھی شامل ہے جبکہ باقی کو آخری ہفتے میں رہا کیا جائے گا۔

    اسرائیلی تقسیم

    اسرائیلی ویب سائٹ "واللا” نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ اس معاہدے میں حماس کو ملنے والی رعایتوں کے حوالے سے سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ میں اختلاف ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے کہا کہ خبروں کے برعکس حماس نے ابھی تک اس معاہدے کے حوالے سے اپنا ردعمل نہیں دیا ہے تاہم اسرائیلی نشریاتی ادارے نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے نیتن یاہو کے دفتر کی تردید کرتے ہوئے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ حماس نے معاہدے کے اختتام پر مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ .

    وال سٹریٹ جرنل نے باخبر ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے انتہائی دائیں بازو کے ووٹوں کے بغیر اپنی حکومت کے اندر معاہدے کے لیے حمایت کو مضبوط کرنے میں پیش رفت کی ہے۔ اسی تناظر میں اخبار "اسرائیل ہیوم” نے کہا ہے کہ تبادلے کے معاہدے کے مذاکرات کے حوالے سے نیتن یاہو اور وزیر خزانہ بیزیل سموٹریچ اور وزیر دفاع یسرائیل کاٹز کے درمیان سہ فریقی ملاقات ہوئی۔

    اسرائیلی چینل 12 نے کہا کہ اسرائیلی حکومت میں رہنے کے لیے سموٹریچ کی شرط تبادلے کے معاہدے کے 42ویں دن کے بعد لڑائی میں واپس آنے کا عزم ہے۔ چینل نے مزید کہا کہ سموٹریچ نے انسانی امداد کو کم کرنے اور غزہ میں مستقل طور پر زمین پر قبضہ کرنے کی بھی شرط رکھی۔ سموٹریچ نے متوقع معاہدے پر اپنے موقف کے حوالے سے کہا کہ اب وہ جس چیز پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں وہ جنگ کے تمام اہداف کا حصول ہے۔

    چینل 12 نے اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر کے قریبی لوگوں کے حوالے سے بھی کہا کہ وہ ممکنہ طور پر حکومت سے دستبرداری کے بغیر تبادلے کے معاہدے پر اعتراض کریں گے۔ بن گویر نے "نیشنل گارڈ” کے نام سے ایک یونٹ قائم کرنے کی تقریب کے دوران کہا کہ حکومت میں ان کی پارٹی کی طاقت غیر ذمہ دارانہ سودوں کو روکنے کا نتیجہ تھی۔

    متوازی تناظر میں امریکی نیٹ ورک "سی این این” نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی صدر کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے لیے ایلچی اسٹیو وٹ کوف اور امریکی قومی سلامتی کونسل میں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے امور کے کوآرڈینیٹر بریٹ مک گرک نے ملاقات کی۔ مہر خبررساں ایجنسی کے مطابق، غزہ میں جنگ بندی کے لئے حماس اور غاصب صہیونی حکومت کے درمیان جاری مذاکرات کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آرہے ہیں[2]۔

    صہیونی چینل 12 نے غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے ممکنہ معاہدے کی تفصیلات جاری کی ہیں۔ معاہدے کی رو سے مختلف مراحل میں صہیونی یرغمالیوں کی رہائی عمل میں آئے گی۔ پہلے دن 3 یرغمالی، ساتویں دن 4، چودھویں دن 3، اکیسویں دن مزید 3، اٹھائیسویں اور پینتیسویں دن بھی 3، 3 یرغمالی رہا کیے جائیں گے جبکہ آخری ہفتے میں باقی یرغمالی آزاد کیے جائیں گے۔

    معاہدے کے پہلے مرحلے میں تقریباً 1000 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا تاہم اس مرحلے میں حماس کے اعلی درجے کے قیدی شامل نہیں ہوں گے۔ اسی مرحلے میں غزہ کو روزانہ 600 امدادی ٹرک فراہم کیے جائیں گے اور صہیونی فوج نتساریم کے علاقے سے پیچھے ہٹ جائے گی۔ صہیونی چینل نے مزید کہا کہ 22 ویں روز سے غزہ کے رہائشی شمالی علاقے میں واپس جاسکیں گے۔ صہیونی فوج زیادہ تر فیلادلفیا سے پیچھے ہٹ جائے گی البتہ کچھ فوجی وہاں موجود رہیں گے۔

    قطری اور مصری افواج پر مشتمل ایک ٹیم غزہ کے شمالی گزرگاہ پر گاڑیوں کی تلاشی لے گی۔ چینل12 کے مطابق معاہدے کا دوسرا مرحلہ 43 ویں روز شروع ہوگا اور 42 دن تک جاری رہے گا۔ عبرانی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ قطر کے وزیر اعظم جلد ہی ایک پریس کانفرنس میں غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کا باضابطہ اعلان کریں گے[3]۔

    نیتن یاہو نے حماس کے سامنے شکست کے معاہدے پر دستخط کر دیئے

    یاہو نتن.jpg

    اسرائیلی انتہا پسند رہنماؤں اور کارکنوں نے صیہونی حکومت اور فلسطینی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے درمیان جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ " نیتن یاہو" نے حماس کے سامنے شکست کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو پر ہتھیار ڈالنے اور حماس تحریک کو تباہ کرنے کے اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹنے کا الزام لگایا۔

    اسرائیل ہیوم اخبار کے رپورٹر ایریل کہانا نے کہا ہے کہ نیتن یاہو ایک سال اور تقریباً چار ماہ کی جنگ کے بعد حماس کو شکست دینے میں ناکام رہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے برے وقت میں معاہدہ قبول کیا اور حماس کے خلاف مکمل فتح اور اس کی تباہی کے اپنے دعوؤں کے باوجود انہوں نے یہ کام کیا۔

    اس صیہونی صحافی نے لکھا : "نتن یاہو نے پلک جھپکتے ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور پیچھے ہٹ گئے۔ " ایک صیہونی شدت سیاسی کارکن "ایڈم گولڈ" نے بھی کہا ہے کہ "صرف احمق اور حقیقت کی طرف سے آنکھیں بند کرنے والے ہی اس طرح کے واقعات کو خوبصورت بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔"[4]۔

    جنگ بندی معاہدہ فلسطینی عوام اور غزہ کے بہادر جانبازوں کی مزاحمت کا نتیجہ ہے

    فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) نے کہا ہے کہ جنگ بندی معاہدہ گزشتہ 15 مہینوں کے دوران فلسطینی عوام اور غزہ کے بہادر جانبازوں کی شاندار مزاحمت کا نتیجہ ہے۔ حماس نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ اور لڑائی کا خاتمہ فلسطینی عوام، مزاحمتی قوتوں، امت اسلامیہ اور دنیا بھر کے آزاد منش انسانوں کی کامیابی ہے۔

    بیان میں جنگ بندی کو آزادی اور وطن واپسی کے لیے جاری جدوجہد میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا گيا ہے۔ بیان میں آیا ہے کہ یہ معاہدہ غزہ کے صبر اور استقامت کے حامل لوگوں کے دفاع، اس قوم کے خلاف صیہونی دشمن کی جارحیت اور جنگ بند کرانے اور ان کے خلاف جاری خونریزی، قتل و غارت اور نسل کشی کے سیلاب کو روکنے کے حوالے سے حماس کے احساس ذمہ داری کو ظاہر کرتا ہے۔

    اس بیان میں حماس نے غزہ کے ساتھ یکجہتی، فلسطینی عوام کی حمایت اور صیہونی غاصب دشمن کے جرائم کو بے نقاب کرنے اور جنگ بندی کے حصول میں اپنا کردار ادا کرنے والے تمام عرب اور اسلامی ملکوں کی حکومتوں اور عوام کا شکریہ ادا کیا گيا ہے[5]۔

    طوفان الاقصی نے فلسطین کو تاریخی موڑ پر کھڑا کردیا/ایران کی حمایت کے شکرگزار ہیں

    حماس کے اعلی رہنما نے ایران اور مقاومتی تنظیموں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ طوفان الاقصی نے مسئلہ فلسطین کو تاریخی موڑ پر لاکھڑا کردیا ہے۔ مہر خبررساں ایجنسی کے مطابق، حماس کے سینئر رکن خلیل الحیہ نے غزہ کی حالیہ جنگ اور جنگ بندی معاہدے پر گفتگو کرتے ہوئے اس جنگ کو فلسطین کی تاریخ کا ایک اہم موڑ قرار دیا۔

    الحیہ نے کہا کہ ہم ان تمام افراد، ممالک اور تنظیموں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اس جنگ میں دفاعی طور پر ہماری حمایت کی، خاص طور پر مقاومت لبنان، یمنی بھائیوں اور اسلامی جمہوریہ ایران کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے فلسطینی مجاہدین اور شہداء، خصوصاً القسام بریگیڈز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگ میں مقاومت نے صہیونی حکومت پر ایک کاری ضرب لگائی۔ یہ جنگ تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔

    انہوں نے کہا کہ صہیونی حکومت کے جرائم ناقابل فراموش ہیں۔ ہماری مقاومت اور جدوجہد فلسطین کی آزادی تک جاری رہے گی۔ حماس کے رہنما نے مزید کہا کہ ہم اپنے ہیروز، القسام بریگیڈز اور دیگر تمام مزاحمتی گروہوں کے شکرگزار ہیں جنہوں نے جنگ کے آخری لمحے تک اپنی بہادری سے دنیا کو حیران کیا[6]۔

    فلسطینیوں کی مقاومت اور صبر نے صہیونی حکومت کو عقب نشینی پر مجبور کردیا

    غزہ میں جنگ بندی کی مناسبت سے رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ فلسطینیوں کی مقاومت اور صبر نے صہیونی حکومت کو عقب نشینی پر مجبور کردیا۔ مہر خبررساں ایجنسی کے مطابق، غزہ میں حماس اور غاصب صہیونی حکومت کے درمیان جنگ بندی ہوگئی ہے۔

    رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت العظمی سید علی خامنہ ای نے جنگ بندی کی مناسبت سے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ فلسطینیوں کی مقاومت اور صبر کی وجہ سے صہیونی حکومت اپنے مذموم عزائم میں ناکام اور عقب نشینی پر مجبور ہوگئی۔ دنیا کی مختلف زبانوں میں جاری ہونے والے اس پیغام میں رہبر معظم نے کہا ہے کہ آج دنیا والوں کو علم ہوگیا کہ غزہ کے عوام کے صبر اور فلسطینی مقاومت کی استقامت نے صہیونی حکومت کو عقب نشینی پر مجبور کردیا۔

    انہوں نے کہا کہ کتابوں میں لکھا جائے گا کہ ایک دن صہیونی گروہ نے انسانیت سوز جرائم کا ارتکاب کرتے ہوئے ہزاروں بچوں اور عورتوں کو قتل کردیا اور بالاخر خود شکست سے دوچار ہوگئے۔ پیغام کے اختتام پر "#غزہ_فاتح_ہے" لکھا ہے[7]۔

    اہل غزہ سرخرو ہوگئے، جنگ بندی معاہدہ اسرائیل کی ہی نہیں امریکا کی بھی شکست ہے

    غزہ جنگی بندی معاہدے پر بیان دیتے ہوئے امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ اسماعیل ہنیہ اور یحییٰ سنوار اپنے بھائیوں کی جیت کا نظارہ کر رہے ہونگے، شہداء بھی اہل غزہ کے جشن کا نظارہ کر رہے ہونگے۔ مہر خبررساں ایجنسی نے پاکستانی میڈیا کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے غزہ جنگی بندی معاہدے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اہل غزہ سرخرو ہوگئے۔

    یہ معاہدہ اسرائیل کی نہیں امریکا کی بھی شکست ہے۔ بدھ کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں وزیراعظم محمد بن عبد الرحمان بن جاسم الثانی نے غزہ جنگ بندی معاہدہ طے پانے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ جنگ بندی معاہدہ کروانے کے لیے قطر، مصر اور امریکا کی کوششیں کامیاب ہوگئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کا اطلاق 19 جنوری سے ہوگا، حماس اور اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے مراحل پر عمل درآمد کے حوالے سے کام جاری ہے۔ قطری وزیراعظم نے بتایا کہ معاہدے کے پہلے مرحلے میں دونوں طرف کے قیدیوں کی رہائی ہوگی۔ معاہدے کے پہلے مرحلے میں بے گھر افراد کی گھروں کو واپسی شامل ہے۔

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے غزہ جنگی بندی معاہدے پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو نے حماس کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا اعلان کیا تھا اور اب اسرائیل نے حماس کے سامنے جھک کر معاہدہ کیا۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ نیتن یاہو نے مشرق وسطیٰ کی تاریخ کی خونی جنگ کا آغاز کیا، آج اسی حماس کے سامنے جھک کر جنگ بندی کا معاہدہ کرنا پڑا، یہ صرف اسرائیل کی نہیں بلکہ امریکا کی بھی شکست ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ آج اہل غزہ سرخرو ہوگئے، اسماعیل ہنیہ اور یحییٰ سنوار اپنے بھائیوں کی جیت کا نظارہ کر رہے ہوں گے، شہداء بھی اہل غزہ کے جشن کا نظارہ کر رہے ہوں گے، شہید زندہ رہتے ہیں۔ اس جنگ کے 47 ہزار شہداء بھی زندہ رہیں گے[8]۔

    غزہ میں جنگ بندی، مختلف ممالک اور عالمی اداروں کی جانب سے خیر مقدم

    غزہ میں حماس اور صہیونی حکومت کے درمیان جنگ بندی کے بعد عالمی سطح پر مختلف اداروں اور ممالک نے خیر مقدم کیا ہے۔ مہر خبررساں ایجنسی کے مطابق، غزہ میں حماس اور صہیونی حکومت کے درمیان جنگ بندی کے لئے مذاکرات کے کئی دور ہونے کے بعد کل رات جنگ بندی ہوگئی ہے۔ عالمی سطح پر مختلف ممالک اور اداروں نے جنگ بندی کا خیر مقدم کیا ہے۔

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ ضروری ہے کہ یہ جنگ بندی ان سیکیورٹی اور سیاسی رکاوٹوں کو دور کرے جو غزہ کے تمام علاقوں تک امداد کی فراہمی میں حائل ہیں۔ تاکہ انسانی امداد کو وسیع پیمانے پر بڑھایا جاسکے اور زندگی بچانے والے فوری اقدامات کیے جاسکیں۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق فولکر ترک نے غزہ میں جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے اعلان پر گہری مسرت کا اظہار کیا اور اس کی پائیداری کی اہمیت پر زور دیا۔

    یورپی کمیشن کی صدر اورسولا فونڈیر لائن نے اسرائیل اور حماس سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاہدے پر مکمل عمل درآمد کریں۔ یہ معاہدہ خطے میں مستقل استحکام اور تنازع کے سفارتی حل کے لیے ایک پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ عالمی ریڈ کراس کمیٹی کی صدر مریانا اسپولیاریچ نے اعلان کیا کہ تنظیم غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد، قیدیوں کے تبادلے کو آسان بنانے اور غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کی فراہمی میں مدد کے لیے تیار ہے۔

    اردن نے غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اس معاہدے کی حمایت اور اس کا استقبال کرتے ہیں۔ مصری صدارت نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم قطر اور امریکہ کے ساتھ مل کر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ دونوں فریق معاہدے کے تمام مراحل کو مکمل طور پر نافذ کریں۔ برطانیہ نے کہا کہ ہم جنگ بندی میں مصر، قطر اور امریکہ کے کردار کی تعریف کرتے ہیں۔ ان ممالک نے غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی حمایت کے لیے ادا کیا۔

    لبنان کے عبوری وزیراعظم نجیب میقاتی نے غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ بندی فلسطینی عوام کی خونریز تاریخ کے اس باب کو بند کردے گی جو اسرائیل نے رقم کیا۔ امریکی وزیر دفاع لوئیڈ آسٹن نے غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے پر سختی سے عمل درآمد ہونا چاہیے۔

    سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے غزہ میں جنگ بندی کے اعلان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ ہم غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ یہ معاہدہ اسرائیل کی وحشیانہ جنگ کے مکمل خاتمے کا سبب بنے گا۔ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے بھی غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے پر اپنے ردعمل میں کہا کہ ابوظہبی غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی حمایت کرتا ہے[9]۔

    حوالہ جات

    1. غزہ میں جنگ بندی کے روشن امکانات- شائع شدہ از: 16 جنوری 2025ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 16 جنوری 2025ء۔
    2. غزہ میں مسلسل پندرہ ماہ کی نسل کشی کے بعد جنگ بندی معاہدےکا باضابطہ اعلان-شائع شدہ از: 16 جنوری 2025ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 16 جنوری 2025ء-
    3. حماس اور صہیونی حکومت کے درمیان جنگ بندی معاہدے کی تفصیلات-شائع شدہ از: 15 جنوری 2025ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 16 جنوری 2025ء۔
    4. صیہونی: نیتن یاہو نے حماس کے سامنے شکست کے معاہدے پر دستخط کر دیئے- شائع شدہ از: 16 جنوری 2025ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 16 جنوری 2025ء۔
    5. جنگ بندی معاہدہ فلسطینی عوام اور غزہ کے بہادر جانبازوں کی مزاحمت کا نتیجہ ہے: حماس- شائع شدہ از: 16 جنوری 2025ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 16 جنوری 2025ء۔
    6. طوفان الاقصی نے فلسطین کو تاریخی موڑ پر کھڑا کردیا/ایران کی حمایت کے شکرگزار ہیں، حماس- شائع شدہ از: 16 جنوری 2025ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 16 جنوری 2025ء۔
    7. فلسطینیوں کی مقاومت اور صبر نے صہیونی حکومت کو عقب نشینی پر مجبور کردیا، رہبر معظم- شائع شدہ از: 16 جنوری 2025ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 16 جنوری 2025ء۔
    8. اہل غزہ سرخرو ہوگئے، جنگ بندی معاہدہ اسرائیل کی ہی نہیں امریکا کی بھی شکست ہے، جماعت اسلامی پاکستان- شائع شدہ از: 16 جنوری 2025ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 16 جنوری 2025ء۔
    9. غزہ میں جنگ بندی، مختلف ممالک اور عالمی اداروں کی جانب سے خیر مقدم- شائع شدہ از: 16جنوری 2025ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 16 جنوری 2025ء۔